تازہ ترین

سری نگر میں انتخابی عمل کا فلاپ شو!

مسئلہ کشمیر کی بھول بھلیوں میںیہ حقیقت عیاں ہے کہ بھارت نے اِس مسلے کو بھارتی جمہوریت اور چناؤ کی سیاست کو در پیش رکھ کے اپنے حق میں حل کرنے کی کوشش کی لیکن حال ہی میں ہوئے پارلیمانی چناؤ کے نتائج نے انتخابی سیاست سے متعلق بھارتی دعوؤں کا پول کھول دیا۔بھارت کا دعویٰ رہا ہے کہ انتخابات میں لوگوں کی شمولیت ریاستی دعوؤں کی پشت پناہی ہے ۔ ریاست کا دعو یٰ ہے کہ لو گوں کی اکثریتی شمولیت کا مفہوم بھارتی جمہوری اداروں پہ لوگوں کے اعتماد کی دلیل ہے۔ ثانیاََ لوگوں کی شمولیت سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق  لوگوں کی رائے جاننے کیلئے جس رائے شماری کا تعین ہوا تھااُس کی نفی ہوتی ہے ۔بالفاظ دیگر انتخابی عمل رائے شماری کا قابل قبول نعم البدل ہے ۔کوئی مانے یا کوئی نہ مانے اور سچ تو یہ ہے کہ عالمی سیاسی و سفارتی بازار میں جمہوریت و الیکشن کا یہ سکہ اِس حد تک چل نکلا کہ گر چہ سبھی نہیں ال

میر واعظ عمر کی ایک یادگارتقریر

 نوٹ : یہ تحریرہاوڑ یونیورسٹی امریکہ میں پاکستان ہاوڑ فورم(PHF) کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام سے حریت چیرمین جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کا ویڈیو لنک کے ذریعہ خطاب کا متن پر مشتمل ہے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ  دوستو! سب سے پہلے میں Pakistan Havard Forum  (PHF)کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے مجھے  اس موقر ومحترم مجمع ٔ سامعین کے سامنے اپنے خیالات کے اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ واقعی مجھے آپ کے سامنے بیٹھ کر آپ سے تبادلۂ خیال کرنے اور سیاسی معاملات پر اپنا نقطہ نگاہ پیش کرنے میں بڑی مسرت ہوتی لیکن چونکہ میں گزشتہ ایک مہینے سے اپنی رہائش گاہ واقع سری نگر میں نظربند کر دیا گیا ہوں ،ا س لئے آپ سے بذریعہ ویڈیو لنک مخاطب ہو نے کا شرف پارہوں۔ میرے اوپر بے جا قدغنیں اور پابندیاں عائد کرنا حکومت کا معمول بن چکا ہے ۔ پچھلے 27؍سال سے حک

عالمی یومِ کتب’’میرامطالعہ‘‘

جس طرح جسمانی غذا کی ضروریات کے لئے کھاناپینالازم ہے اورروحانی ارتقاء کے لئے عبادات اہم ہے،اسی طرح علمی ضروریات کے لئے مطالعہ اہمیت رکھتاہے۔ مشہور چینی مقولہ ہے’’جس روزکوئی شخص اپنے مطالعہ اورمعلومات میںاضافہ نہیںکرتا وہ دن اس کے لئے بے کارجاتاہے‘‘۔ ترقی یافتہ قوموں کے عروج میںجوعوامل ہوتے ہیں ، ان میں اہم چیز ان کاکثرت مطالعہ ہوتاہے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاںذوق ِمطالعہ کارجحان کم ہوتا جارہاہے۔ حالانکہ قرآن وحدیث میںعلم حاصل کرنے پرکافی زوردیاگیاہے۔ عرب نیوزمیںچھپی ایک تحقیق سے پتہ چلتاہے کہ جہاں اوسطاً ایک امریکی سال میںگیارہ کتابیں؛ایک برطانوی ۷کتابیںپڑھتاہے،وہی ایک عرب سال میں اوسطاً صرف ایک چوتھائی صفحہ کامطالعہ کرتاہے۔  اہل علم کی زندگی کا حسین ترین باب ان کامطالعہ ہوتاہے ۔عرفان احمدکی مرتب کردہ کتاب ’’میرامطالعہ‘‘ عالم اسلام

کتب بینی !

کتابوںکے عالمی دن کاآغاز۱۶۱۶ء میںاسپین سے ہوا۔اسپین کے شمال مشرق کیٹولینامیںہرسال ۲۳؍مارچ سے ۲۵؍مارچ تک لوگ اپنے احباب کوگلاب کے پھول پیش کرتے اورمشہورناول،شیکسپئیرؔکے ڈرامے ایک دوسرے کوسناتے تھے۔رفتہ رفتہ یہ روایت دوسرے علاقوںمیںبھی مروج ہوگئی اوراس نے کتابوںکے عالمی دن کی شکل اختیارکرلی۔۱۹۹۵ء میںاقوام متحدہ کے ادارے یونیسکوکی جنرل کونسل کااجلاس فرانس میںہوا،جس میںاس ادارے نے۲۳؍اپریل کو’’ورلڈبک ڈے اینڈکاپی رائٹس ڈے‘‘قراردیا،جس کے بعددنیاکے کئی ممالک نے اسے منانے کاآغازکیا۔ برصغیرکی علمی روایت ہمیشہ علم وآگہی کے چراغوں سے روشن رہی ہے۔ حالات وواقعات کے حوالے سے اچھے برے موسم آئے،خزاں اوربہاروںنے بھی ڈیرے ڈالے،طوفان اوربادوباراںنے بھی اپنا سکہ جمایا لیکن یہ چراغ اپنی حفاظت خودکرتے رہے۔علمی سفرایک مسلسل جدوجہدکانام ہے۔ہرانسان کابنیادی حق ہے کہ وہ تعلیم کے ز