تازہ ترین

زائرینِ حر مین شریفین سے

 اسلام کے فرائض میں سے ایک مستقل فرض بیت ا للہ کا حج ہے جو بندے پر عقل و بلوغ اور اسلام کے بعد صحت و تند رستی اور مالی وسعت کی حال میں فرض ہے۔حج کے ار کان، میقات سے احرام باندھنا، عرفات میں ٹھہر نااور خا نہ کعبہ کی زیارت و طواف وغیرہ کر نا اس پر سب کا اجماعِ اُمت ہے۔ بغیر احرام کے حرم شریف کے حدود میںداخل نہیں ہو نا چا ہیے۔ حرم کو حرم اس لیے کہا جاتاہے کہ یہ معابد ابراہیم  ؑہے اور امن وحر مت کی جگہ ہے، سب سے اول مسجد جو خدائے تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی گئی وہ ہے جو مکہ میں ہے یعنی کعبہ شریف وہ مبارک گھر ہے۔ اس میں مغفرت و رحمتِ خداوندی کی ہمہ وقت بارشیں ہیں اور سارے جہان کے لیے سیدھی راہ اور ہدایت کی یہی خانہ خدابنیاد ہے۔ سب رسولوںؑ کا، صحابوں ؓکا ،ولیوں کا اور مسلمانوں کا مشترکہ قبلہ الصلوٰۃ ہے، اس میں اللہ سبحا نہُ تعالیٰ کی بے شمار نشانیاں پنہاں وعیاں ہیں۔ قرآن مجید میں

منظوم سفرنامۂ حج

 سرگذشتِ مختصر ہے حجِ بیت اللہ کی یعنی رودادِ سفر ہے حجِ بیت اللہ کی سایہ افگن ہو گئی جب مجھ پہ شامِ زندگی آرزوئے حجِ بیت اللہ دل میں جاگ اٹھی اپنے خالق سے دعاجُو روز و شب رہتا تھا میں سننے والا ہے جو سب کی، اس سے بس کہتا تھا میں قرعہ اندازی میں فضلِ رب سے نام آیا نکل ہو گیا سجدہ کناں پیشِ خدائے لم یزل جامہٴ احرام باندھا ساز و ساماں کچھ لیا گھر سے پھر لبیک کہتا سر خوشی میں چل دیا سن بیاسی کے ستمبر میں بوقتِ سہ پہر رُخ مری پرواز کا تھا میری منزل تھی جدھر شام کو جدہ پہنچ کر عازمِ مکہ ہوا مولدِ ختم الرسلؐ یعنی سوئے اُم القریٰ غرق سیلِ سر خوشی تھا دل در اثنائے سفر اشک امڈ آتے تھے اکثر آنکھ ہو جاتی تھی تر اپنے اک ناچیز بندہ پر خدا کا یہ کرم عزت و اکرام سے لے جا کے دکھلایا حرم الغرض گیارہ بجے شب داخلِ مکہ ہوا

مناظرہ بازیاں وحدتِ اُمت کے منافی

عالم  اسلام عصر رواں میں نہایت ہی پریشان کن اور تشویشناک حالات سے دوچار ہے۔ امت مسلمہ ہر جگہ اغیار اور دشمنوں کی زد میں ہے ۔ فلسطین سے لے کر وطن عزیز تک کلمہ خوان ریشہ دوانیوں اور مار دھاڑ کے تختہ ٔ  مشق ہیں۔ ایک طرف اغیار کی سازشیں ہیں ، دوسری طرف اندرونی اختلافات اورسرپھٹول امت کو پارہ پارہ کرر ہے ہیں ۔اُمت کے فکری ، تہذیبی ، سیاسی ، معاشرتی ،اقصادی اور تعلیمی مسائل کے حل پر کمر کسنے کی بجائے سطحی اور فروعی مسائل میں الجھ کر اپنی توانائیاں ضائع کی جا رہی ہے اور ہر مکتبہ فکر اور جماعت صرف اپنے مسلک اور مشرب کی بالا دستی چاہتی ہے ۔ دین کی اصل بنیادوں کوچھوڑ کر جزئیات کو اصل دین تصور کیاجاتا ہے ، تفرقات اور تکفیر بازیاں بڑے پیمانے پر عام کی جارہی ہے،کوئی کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے اور نہ ہی ایک دوسرے کو برداشت کیا جا رہا ہے۔ ان حوالوں سے ہمارے وطن عزیز کے حالات دوسرے مسلم مل