تازہ ترین

تین چشم کشا عالمی رپورٹیں !

 دلی جہاں بین الاقوامی رائے عامہ کواپنی ہم نوا بنانے کے لئے اپنی جمہوریت کے قصیدہ خوانیاں بڑے کرو فر سے بیان کرتی رہی ہے، وہیں حالیہ تین عالمی رپورٹیں سامنے آنے پر عالمی اداروں نے حقیقت کا آئینہ دکھایاہے۔بلاشبہ یہ تینوں رپورٹس دلی کے لئے چشم کشاہے ۔ان رپورٹوںمیں سب سے پہلے امریکی سی آئی اے کی طرف سے 19جون 2018بدھ کوامریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ورلڈ فیکٹ بک کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کی فرقہ پرست ہندو تنظیم آر ایس ایس کی شاخوں وشو ا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کودہشت پھیلانے والی تنظیمیں ہیں اور ان تنظیموں کے باعث بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ یہ انتہاپسند تنظیمیںاس قدر بااثر اور طاقت ور ہو چکی ہیں کہ بھارتی قانون بھی ان کے آگے بے بس ہے ۔رپورٹ میں کہاگیاکہ ان دونوں ہندوانتہاپسند تنظیموں کودہشت گردی کی فہرست میں شامل کیاگیاہے ۔رپورٹ میں کہاگیاکہ یہ دو

گمشدہ ستارے

 راولپورہسرینگر کے ایک گھر میں بہار کی ایک صبح کو کچھ ایسا ہوا جس سے گھر کے مکین حیران ہوئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک اجنبی ان کے باغیچے میں کچھ بو رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اُسے ٹوکتے وہ وہاں سے چل دیا۔ کچھ دن بعد ان کو پتہ چلا کہ یہ اجنبی تحریک آزادیٔ کشمیر کا ایک جانا مانا لیڈر رگھوناتھ ویشنوی ہیں جو قوم کے مالیوں سے مایوس ہوکر گھر گھر جاکر اپنے  پسندیدہ پھولوں کی خوشبو بکھیرتا ہے۔ 1977ء کو جب محی الدین قرہ نے  پولٹکل کانفرنس کو زندہ درگور کر کے مرارجی کے ’’چرن سپرش ‘ ‘ کئے تو ویشنوی صاحب نے ،جو اس تنظیم کے وائس چیرمین تھے ،نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی۔ وہ30 ء کی دہائی سے ہی تحریک سے وابستہ ہوگئے تھے ۔ وہ نیشنل کانفرنس کی بنیادی ممبروں میں شمار کئے جاتے لیکن 1943ء میں شیخ عبداللہ سے اختلاف کے باعث وہ مستعفی ہوئے اور 1953ء میں پاکستان نواز 

مخلوط سرکار کا منطقی انجام

 کشمیرکے سیاسی افق پر ایک بڑا تغیر حال ہی میںاس وقت ہوا جب پی ڈی پی۔ بھاجپا پر مشتمل مخلوط حکومت یکایک گرگئی ،اسی کے ساتھ ریاستی آئین کی دفعہ ۹۲؍ کے تحت ۲۰ جون ۲۰۱۸ء کو گورنر این این ووہرا نے حکومت کی زمام ِ کار سنبھالی۔ یہ چوتھی مرتبہ ہے جب گورنر این این ووہرا حکومت سنبھال رہے ہیں۔آج تک کل ملا کر آٹھ مرتبہ کشمیر میں گورنر راج نافذکیاگیا ہے ۔ کشمیر ہمیشہ سیاسی زلزلوں کی زد میںرہا ہے لیکن تازہ سیاسی زلزلہ خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے گھٹ بندھن سے بنی مخلوط حکومت اوائل سے ہی ڈگمگارہی تھی مگر جیسے تیسے اس نے قریبا ً ساڑھے تین سال تک کا م کاج چلایا۔پی ڈی پی کا بی جے پی سے مل کر مخلوط سرکار بنانا اس علاقائی جماعت کی ایک بڑی سیاسی غلطی تھی۔۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۴ء کو اسمبلی کے جوالیکشن نتائج سامنے آئے ،اُن کی رُو سے ۸۷؍ نشستوں والے ایوان میں پی ڈی پی نے ۲۸؍ بی جے پی ن

گرینڈالائنس اب ایک مجبوری

 عنوان کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ایک تہمید طولانی بھی مجبوری ہے ۔چند ماہ بعد ہی کاشت کار باغات اور کھیتوں میں اس سال کی فصل کاٹ رہے ہونگے۔ ظاہر ہے شالی کی کٹائی، دُھنائی وغیرہ اور میوہ جات کی پیکنک ایک محنت طلب کام ہے جسکے لئے افرادی قوت اور مناسب ماحول درکار ہے۔ یہ وہ وقت ہوگا جب پاکستان میں نئی حکومت کا اعلان ہوچکا ہوگا، اور حکومت ہند جموں کشمیر میں گورنر راج میں توسیع یا انتخابات کے انعقاد یا کسی درمیانی راستہ سے متعلق تذبذب میں مبتلا ہوگی۔ پاکستان میں عمران خان کو اقتدار ملے یا کوئی مخلوط حکومت قائم ہوجائے، لیکن یہ طے ہے کہ کشمیر پالیسی تب تک جمود کا ہی شکار رہے گی جب تک فوجی قیادت اور سول حکومت کے درمیان ایک طرح کی ورکنگ ریلیشنشپ قائم نہیں ہوتی۔ اِدھر آر ایس ایس نے ملک گیر سطح پر معیشت، رام مندر، یکساں سول کوڈ، لو جہاد، گٔو رکھشا یا تبدیلیٔ مذہب جیسے نعروں کی جگہ کشمیر کو اپنا

من کی آنکھیں

کیامن کی آنکھیں ہوتی ہیں ؟ شاید ہوتی ہیں کیونکہ اگر ایسا کہا جائے کہ آنکھوںکی روشنی سے محروم ایک نابینا شخص انشاء پرداز ،داستان طراز ، مورخ،فلسفی ،ماہر تعلیم ،معاشری مصلح ،صحافی ،یونیورسٹی کا ریکٹر ،وزیر تعلیم اور مصنف و محقق تھا تو بہت سارے پڑھنے والے یقین نہیں کریں گے اور لکھنے والے کی صحت پر شک بھی کرسکتے ہیں جو لازمی ہے کیونکہ یہ بات ہی کچھ عجیب سی لگتی ہے، مگر یہ بہر حال ایک حقیقت ہے کہ اسلامی دنیا میں ایک ایسی ہی شخصیت ابھی کچھ عرصہ قبل تک مشرقی وسطیٰ میں موجود تھی جس کی صلاحیتوں ،علمی تبحر اور بے انتہا خدا داد ذہانت و فطانت کے آگے سارا یورپؔ بھی معترف ہونے کے علاوہ عش عش کرتا نظر آتا تھا ۔یہ ڈبل ڈاکٹریٹ !جی ہاں دو بار پی ایچ ڈی کرنے والی عظیم شخصیت مصرؔ کے طہٰ حسین تھے۔ ڈاکٹر طہٰ حسین1889ء میں مصر کے ایک گائوں حجاجہ میں پیدا ہوئے ۔اُن کے والد ایک روایتی پرانی طرز کے دیہا

’’اعراف‘‘

شہبازراجوروی کو جموں وکشمیر کے شعری افق پہ طلوع ہوئے ایک طویل مدت  ہوچکی ہے ۔انھوں نے اپنی علمی ،ادبی وشعری کاوشوں سے نہ صرف اپنے خطہ پیر پنچال کا نام روشن کیا ہے بلکہ ریاست جموں وکشمیر کے چند نمائندہ شعرا کی کہکشاں میں ان کا شعری قد اپنے شعری وقار سے خاصا تابندہ اور نمایاں ہے۔شاہباز راجوروی کے حوالے سے یہ بات ہم اردو والوں کے باعث افتخار بھی ہے اور باعث حیرت بھی کہ وہ اردو، انگریزی، فارسی،کشمیری،پہاڑی اور گوجری زبانیں نہ صرف جانتے ہیں بلکہ ان میں خاص کر اردو،کشمیری، پہاڑی اور گوجری میں ان کی ادبی تخلیقات ان کی ہمہ جہت لسانی شعور وادراک کا ایک ٹھوس ثبوت بھی ہیں ۔اردو میں ان کے تحقیقی وتنقیدی مضامین کا مجموعہ’’انداز نظر‘‘دو شعری مجموعے’’لمحے لمحے‘‘ اور ’’اعراف‘‘کشمیری میں ان کے چھ شعری مجموعے،پہاڑی میں ایک شعری