تازہ ترین

ایوانِ عدل سے سوال ہے

بھارت کے عدالتی نظام بچوں کو انصاف فراہم نہیں کر پاتے ہیں،اس کے تین اہم پہلو ہیں: پہلا معاملات کا درج نہ ہونا، دوسرا معاملے درج ہونے کے باوجود ان پر فیصلہ ہونے میں بہت تاخیر ہونا اور تیسرا عدالتی عمل کے آخر میں تقریباً 70 فیصد معاملات میں کسی کا مجرم ثابت نہ ہونا۔تصور کریں کسی نہ کسی نے تو بچوںکے ساتھ جرم کا ارتکاب کیا ہے،بچے اس کا اظہار کر رہے ہیں اور مقدمات سامنے آ رہے ہیںلیکن جب 70 فیصد لوگ جرائم کے بعد آزاد ہو جا رہے ہیں تو بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کیسے کی جائے گی؟    اقوام متحدہ میں پائیدار ترقیاتی اہداف کو تیار کرنے میں بھارت کا بہت اہم کردار ہے۔ یہ اہداف (16) پائیدار ترقی کے لئے پرامن  معاشرے کو فروغ دینے، تمام کے لئے انصاف تک رسائی فراہم کرنے اور تمام سطحوں پر موثر، احتساب اور باضابطہ اداروں کو تخلیق کرنے کا عزم شامل ہیں۔یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ

مسلسل مزاحمت اور بدلتی وفاداریاں

گورنرراج نافذ ہونے کے بعد شاہراہوں ، دکانوں ، چائے خانوں ، شادی بیاہ کی تقاریب اور نجی مجلسوں میں مزاحمتی تحریک کے اُتار چڑھاو ، فورسز کی زیادتیوں ، قتل و غارت گری ، عسکری معرکوں اور برصغیر کے سیاسی اُلٹ پھیر پر کم اور اس بات پر زیادہ گفتگو اور بحث ہوتی رہی کہ گورنر راج کب تک قائم رہ سکتا ہے ،نئی حکومت کے قیام کے کتنے امکانات ہیں ،کن سیاسی پارٹیوں کے درمیان اتحاد ہوسکتا ہے اور وزیر اعلیٰ کا عہدہ کس کے مقدر میں ہے ۔ہر روز کوئی نہ کوئی نیا خیال سامنے آتا تھا یانئی پیشن گوئی گشت کرنے لگتی اور لوگ ایک دوسرے سے اس کی صداقت دریافت کرنے میں مصروف رہتے ۔پہلے اس خیال کی ہوا اُڑی کہ پی ڈی پی دو پھاڑ ہورہی ہے اور ایک حصہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ حکومت بنائے گا لیکن جب ایسا نہ ہوا تو ایک روز اچانک یہ پیشن گوئی عام ہوئی کہ کانگریس پی ڈی پی کے ساتھ حکومت بنانے جارہی ہے ۔کچھ روز یہ بحث و مباحثے کا

جیّد اقبال شناس

اُستاد محترم پروفیسر بانہالی صاحب ایک حساس شاعر، ایک دردمنداور ایک عالی ظرف انسان، بلند پایہ ادیب اور ایک اسلامی دانشور ہیں ۔ تو ازن اُن کی شخصیت کا ایک اہم جُز ہے ۔ آپ تقریباً تین دہائیوں تک جامعہ کشمیر کے شعبۂ کشمیری اور سنٹرل ایشن اسٹیڈیز میں کلیدی عہدوں پر فائزرہ کر علم و ادب کے گُل بوٹے کھلاتے رہے ۔ علاوہ ازیں کئی سال تک اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی کشمیر یونیورسٹی میں جُز وقتی طور پر یہاں کے ایم۔فل اورپی ۔ ایچ۔ڈی سکالرس کو اقبال کا فارسی کلام بھی پڑھاتے رہے۔ اقبالیات میں پروفیسر مرغوب صاحب کو ایک مقام حاصل ہے۔انہوں نے اپنی تین مُستقل کتابوں کے ذریعہ علامہ کو خالص شاعرِ اسلام اور مفِکر ملّت کی حیثیت سے پیش کرنے کی ایک کامیاب علمی کوشش کی ہے۔ اب تک اُردو ،کشمیری ،انگریزی اور فارسی زبان وادب میں اُن کی درجنوں کتابیں،جرائد اور مضامین شائع ہو کر علمی وادبی حلقوں میں دادِ تح

مخلوط سر کار تحلیل۔۔۔ مگر کیوں؟

بی جے پی ،پی ڈی پی اتحاد کے لئے ساڑھے تین برس کی مدت کو بھی طویل عرصہ مانا جاسکتا ہے کیونکہ دونوں پارٹیوں کے ’’اتحاد‘‘ میں لاجک یعنی عقلی ومنطقی دلائل کم تھے اور اقتدار کی ہوس اور حاکمیت کا شوق بہت زیادہ کارفرما تھا۔ یہ کوئی دیوانے کی بڑ یا افسانوی بات نہیں بلکہ تاریخ کی ایک ستم ظریفی ہے کہ ہندوستان مدتِ مدید سے کانگریس کے زیر سایہ حکومت کے اخلاقی دیو الیہ پن ، بدعنوانیوں ، گراں بازاری، اقرباء پروری ، بے روزگاری، سماجی بحرانوںاور ایسی کئی دیگر بیماریوں کی وجہ سے ایک سیاسی متبادل کی شدید ضرورت محسو س کر رہا تھا۔ بی جے پی نے بروقت آنکھیں کھولے دیکھا کہ عوام کو بڑی بے تابی کے ساتھ ایک نئے سیاسی متبادل کی تلاش ہے،اس نے موقع، موسم اور دستور غنیمت جان کر خود کو عوام میں مسیحا کے طور متعارف کرایا،انہیں’’ اچھے دنوں‘‘ کے سبز باغ دکھا ئے ،انہیں &r