تازہ ترین

گائے پر انتہا پسندانہ سیاست!

اس وقت ہندوستانی مسلمان تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں، کہنے کو تو ہندوستان ستر سال پہلے آزاد ہوا تھا، مگر ہندوستانی مسلمان پہلے بھی غلام تھے اور آج بھی غلام ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے وہ انگریزوں کے نشانہ پر تھے اور آج ہندو انتہاء پسندوں کے نشانے پر، اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو پھر مسلمانوں کی خون ریزی کی ایک لمبی اور اندوہناک داستان پڑھنے کو ملے گی۔ زیادہ دور مت جایئے۔ پچھلی چند دہائیوں پر ہی نظر ڈالئے، جیسا کہ مالیگائوں کا بم دھماکہ ہو یا اجمیر شریف، مکہ مسجد حیدر آباد اور سمجھوتہ ایکسپریس کے بم دھماکے ہوں اور یاپھر گودرا ٹرین کے پُر اسرار طریقے سے جلائے جانے کی بنا پر گجرات کے نہتے اور بے قصور مسلمانوں کا قتل عام، یہ تب کی بات ہے کہ جب گجرات کے وزیر اعلیٰ، آج کے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی تھے اور جس قتل عام پر اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری نے کہا تھا کہ گجرات

محکمہ تعلیم کے حکام سے چند گزارشات

اس بات سے سبھی لوگ واقف ہیں کہ تعلیم کا مقصد لکھنے پڑھنے تک ہی محدود نہیں ہے یا چند کتب ، مضامین اور فنون میں طلبہ کی مہارت پیدا کردینے تک محدود رکھنے سے تعلیم کا مقصد فوت ہوجاتا ہے. ہمارے معاشرہ میں عموماً تعلیم برائے معاش ہی تعلیم کا بنیادی مقصد بنایا گیا ہے یا کچھ لوگ تعلیم کے مقصد کو تعلیم برائے علمیت ہی کے قائل نظر آتے ہیں لیکن یہ تعلیم کا بنیادی اور جامع مقصد نہیں ہے بلکہ اس میں اگر مزید وسعت دی جائے تو تعلیم کے مقاصد میں یہ رجحانات ہوتے ہیں کہ بچہ بڑا ہوکر مملکت کا اچھا شہری بنے اور اپنے حقیقی مالک کا صالح بندہ بنے. یعنی تعلیم کے ذریعے طلبہ کی شخصیت کے تمام پہلوؤں (ذہنی و جسمانی ، عملی و اخلاقی ، جذباتی و روحانی) کی ہم آہنگ نشوونما اور متوازن ارتقا ہیں. امام غزالی علیہ رحمہ "احیاء العلوم " میں تعلیم کے مقصد کے بارے میں رقمطراز ہے ."تعلیم کا مقصد یہی نہیں ہونا

مرحوم میرواعظ مرحوم لون

 یہ سال 1963ء کی بات ہے کہ موئے مقدس کی تحریک میں میر واعظ خاندان کے چشم و چراغ ایک مرد حق،بے باک وبہادر، صاحب بصیرت اور اہل علم جناب میر واعظ کشمیر مولانا محمد فاروق صاحب مرحوم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا ۔ کشمیر ی عوام سے تازہ دم قائد کو کم سنی میں ہی زبردست حوصلہ افزائی اور محبتیں ملیں ۔ مرحوم میر واعظ کشمیر مولانا محمد فاروق صاحب نے اپنی ایک سیاسی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے وجود میںلائی۔ اگست 1965میں مولانا مرحوم گرفتار ہوئے اور ڈھائی سال طویل ابتلاء و آزمائش گزار کرر ہا کئے گئے ۔ موصوف نے عزم و ایثار اور عالی ہمتی کا مظاہرہ کر کے اسیری کی زندگی خندہ پیشانی کے ساتھ گذار ی اور رہائی کے بعد تحریک آزادی جاری و ساری رکھنے کا عزم بالجزم کیا۔ ان دنوں شیخ عبداﷲ کی قیادت میں محاذ رائے شماری تحریک جموں کشمیر میں جاری و ساری تھی۔ بر صغیر کی سیاست کے چکر میں 1971ء میں &

21؍مئی ۔۔۔دو ہستیوں سے جدائی !

  21 مئی کی دحشت زدگی نے جہاں  1990ء میںبرصغیر ہند و پاک کی فلک شگاف بلندیوں پہ ہمالیہ کی گود میں واقع وادی کشمیر میںمیر واعظ خاندان کے چشم و چراغ اور اُس زمانے کے میر واعظ کشمیر مولانا محمد فاروق کی شمع حیات کو ہمیشہ کیلئے گولیوں کی بوچھاڑ میں خاموش کیا، وہی ایک ہی سال کے بعد 21 مئی 1991ء کے دن خون آشامی کی ایک اور واردات میں بھارت کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا ایک دحشت انگیز بم دھماکے میں جنوبی ہندوستان میں ساحل سمندر کے قریب و جوار میں سیاسی قتل کیا گیا ۔مولانا فاروق اور راجیو گاندھی دونوں ہی جوانی کی دہلیز کو پار کر کے درمیانہ عمر کی سرحدوں کو چھو رہے تھے جہاں اُن سے توقعات وابستہ ہو چکی تھیں کہ شاید دور شباب میں اگر اُن سے نا دانستہ سیاسی لغز شیں کہیں یا غلطیاں ہو بھی چکی ہوں تو اُنہیں وہ سنوارنے کی کوشش کرتے ہوئے ملک و قوم کی بہتر رہنمائی کر سکیںلیکن ہونی ہو کے