تازہ ترین

پیامِ قرآن : اساسِ بندگی نصابِ زندگی

   قرآن کریم کاپیغام آفاقی،ابدی اورلازوال ہے۔قرآن کا مخاطبعالم وجاہل ،مردوزن،حاکم ومحکوم یکساں طورہیں ۔اس میں معاشرت ،معیشت ،سیاست ، تہذیب، تعلیم ،تدریس غرض ہرایک کے لئے ہدایت کاملہ ہے ۔ اسے نازل کر نے والا اللہ سے ہم سے مخاطب ہے:’’یہ کتاب جوہم نے تم پرنازل کی ہے،بڑی بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوںپرغورکریںاوراہل عقل نصیحت حاصل کریں۔‘‘(ص ۲۹)قرآن کریم موثر ذریعۂ انذار ہے ۔یہ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے آخری ہدایت نامہ ہے۔نمازمیں یک طرفہ مکالمہ جوہم اپنے رب ذوالجلال سے کرتے ہیں،قرآن کی آیات اللہ کی طرف سے اس مکالمے کااپنے بندوں کوجواب ہے لیکن شومی ِقسمت سے اب قرآن کو ہماری سوسائٹی میں وہ مقام ومرتبہ حاصل نہیں جو قرون اولیٰ میں اسے حاصل تھا ۔وہ لوگ سمجھتے تھے کہ کائنات ایک راز ہے اور جو کتاب اس راز کو کھولتی ہے وہ قرآن ہے ۔کتاب الٰہی ک

کلمۂ طیبہ کا معنی ومفہوم

ایک غیر مسلم بزرگ میرے پاس آئے اور کہا ڈاکٹر صاحب ! میں کچھ پڑھ رہا ہوں۔ سنیے اور دیکھئے کیا میں صحیح پڑھ رہا ہوں۔جہاں جہاں غلطی ہو اس کی تصحیح بھی کیجیے۔ میں نے کہا پڑھیے کیا پڑھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پڑھنا شروع کیا کلمہ طیبہ ۔ محمد اور رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم میں وہ غلطی کررہے تھے۔ میں نے ان کی تصحیح کی اور تلفظ دُرست کرایا۔ جب وہ پڑھ چکے تو مجھ سے پوچھا کیا میں مسلمان ہوگیا؟ میں نے کہا کیا اس کے مفہوم پر آپ کا ایمان ویقین ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ میں نے سوال کیانہیں؟ آپ بالکل مسلمان نہیں ہوئے، مسلمان اس کا نام نہیں ہے کہ عربی کا یہ جملہ زبان سے ادا کرلیا جائے بلکہ اس کے مفہوم کی دل سے تصدیق کرنے اوراس پر عمل سے انسان مسلمان ہوتا ہے۔ آج ہمارے یہاں بچوں کو بڑے اہتمام سے کلمہ یاد کرایا جاتا ہے۔ ان سے سنا جاتا ہے اور پوچھا جاتا ہے کتنے کلمے یاد ہیں۔پہلے کلمے سے لے کر چھ کلمات ت