تازہ ترین

زخموں پہ نئےزخم ۔۔۔۔۔۔۔ کب تک ؟

  کشمیر میں زندگی کے مدعا و مقصد میں جس پیمانے کی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں، ایک مہذب قوم میں اسکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ آج ہر طرف حالات کی ایسی تصویریں سامنے آرہی ہیں جو زندگی کے بنیادی مقاصد یعنی امن ، تحفظ اور بلا خوف جینے سےعبارت ہیں،سے قطعی طور پر عاری نہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہوگا، جب ہلاکتیں پیش نہ آرہی ہوں، نہتے شہری زخموں کے سیلاب سے نہ جوجھ رہے ہوں اور املاک کو نقصان نہ پہنچ رہا ہوں ۔ اس کے بعد ہڑتالوں اور احتجاج سے اقتصادی محاز پر جو بدحالی پید اہو رہی ہے، وہ الگ ہے۔ایک جانب دہلی سے لیکر اسلام آباد اور پھر سرینگر تک سبھی حلقے کشمیر میں امن و  امان کو فروغ دینے کے لئے ضبط وتحمل اور افہام و تفہیم کی باتیں کر رہے ہیں لیکن زمینی سطح پر انکا شائبہ بھی کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔ ریاست میں ایک منتخب حکومت کی ناکامی اور اسکے خاتمے کے بعد گورنر راج کےنفاذ