تازہ ترین

بر سر احتجاج سرکاری ٹیچروں کی سنئے

  ہمارے یہاں رائج الوقت نظام ِ تعلیم طلبہ کی ذہنی نشو ونما کے حوالے سے پہلے ہی فرسودہ مانا جاتا تھا ،اب اس کے بین بین یہ ایس ایس اے ٹیچروں کے لئے بدشگونی کی علامت بناہوا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اہل ِکشمیر نے وقت کے بہترین اساتذہ ومدرسین پیداکئے اور کشمیری قوم نے قلم وقرطاس کے بل پر ہمیشہ تاریک فضاؤں میں بھی اپنی خداداد لیاقت ا ور قابلیت کا اُجالاکیا ۔ نیزہمارے معلمین نے اپنی بے مثال ذہانت کی قندیلیں ہر سُوروشن کر کے اپنے نام کا ڈنکا بجایا ۔ آج کی تاریخ میں بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے اندر بہترین صلاحیتوں کا فقدان ہے،یا ہم ستاروں سے آگے جانے کی قوت ِ پرواز سے محروم ہیں بلکہ اصل بیماری یہ ہے کہ عصر حاضر میں تعلیم وتعلم کا مردم ساز مشن اپنی جہت بھی کھو گیا ہے اور مقصدیت بھی اور تعلیم وتدریس کا مطلب صرف ڈگر ی کے حصول اور سرکاری ملازمت تک محدود ہوچکا ہے۔ تعلیم کے اینٹ گارے سے اصلاً قوم کی

عوامی شکایات کا ازالہ۔۔۔۔۔ قابلِ سراہنا اقدامات!

 ریاست میں گورنر راج نافذ ہونےکے بعد انتظامی سطح پر جو تحرک دیکھنے کو مل رہا ہے، اُسے عوام کی جانب سے بھر پور پذیدائی حاصل ہو رہی ہے اور سبھی حلقوں کی طرف سے اسے سراہا جا رہا ہے۔ یہ عمل ہمارے اُن سیاستدانوں، جو وقت وقت پر ریاست میں سریرآرائے اقتدار رہے ہیں اور جو یقینی طور پر مستقبل میں کسی بھی وقت مسند حکومت پر براجمان ہو سکتے ہیں، کی آنکھیں کھولنے کی لئے کافی ہونا چاہئے۔ عوامی حکومتیں چونکہ عوام کےووٹ سے برسر اقتدار آتی ہیں لہٰذا عوام کو درپیش مشکلات اور مسائل کا ازالہ کرنا انکی ترجیحات میں ہونا چاہئے تھالیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ان ادوار میں اقرباء پروری اور سیاسی اثر و رسوخ کو اولیت دے کر اُن عام لوگوں کے حقوق پر شب خون مارا جاتا ہے جن کے ووٹوں کے طفیل وہ حکومت میں آ ئے ہوتے ہیں۔سابق پی ڈی پی اور بی جے پی سرکار کے دور میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں رہی اور یہی وجہ ہے

مرکزی معاونت والی سکیموں کے ملازمین ناانصافی کاشکار!

 مرکزی معاونت سے ریاست میں چلائی جارہی مختلف ترقیاتی و فلاحی سکیموں کے تحت کام کرنے والے ملازمین کسی جاب پالیسی کے نہ ہونے کے نتیجہ میں ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور وہ پچھلے کئی کئی برس سے معمولی سی تنخواہوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ متعلقہ حکام کی طفل تسلیوں اور بے حسی کی وجہ سے انہیں اپنا مستقبل  تاریک دکھائی دے رہاہے۔مرکزی سرکار کی طرف سے ریاست میں ترقی کےنام پر درجنوں سکیمیں شروع کی گئی ہیں جن کیلئے افرادی قوت کے طور پر مختلف محکمہ جات نے مقامی تعلیم یافتہ اور پیشہ ور صلاحیتوں کے مالک نوجوانوں کو تعینات کررکھاہے ۔حالانکہ ان نوجوانوں کی تعیناتی قواعد و ضوابط اور طے شدہ بھرتی عمل کے تحت ہوئی ہے لیکن پھر بھی انہیں اپنا مستقبل مخدوش دکھائی دیتاہے کیونکہ ان کے حوالے سے ریاستی سرکار کی طرف سے کوئی جاب پالیسی وضع نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کے دیگر مطالبات پورے کرنے کیلئے سنجی

پھیلتی ہوئی بے ترتیب بستیاں!

 شہر سرینگر ، جو ریاست کا گرمائی دارالحکومت ہے، جس تیز رفتاری کے ساتھ وسعت پذیر ہو رہا ہے، اُسی رفتار کے ساتھ اس میں بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ فروغ نہیں پا رہا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگاکہ گنجان بستیاں عبور و مرور کے محدود ذرایعۂ سے مستقبل قریب میں زبردست مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ اس کےلئے انتظامی سطح پر لاپراہیوں کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر خود غرضیاں برابر کی شریک ہیں۔ دراصل ان بستیوں کی ترتیب عام پر طور زمین دلالوں کے رحم و کرم پرہوتی ہے، جو پرائیوٹ کالونیاں ترتیب دیتےوقت گلیوں جیسی سڑکیں تیار کرکےآنے والے ایام کےلئے بحران کی راہیں ہموار کرتے ہیں اور لوگ بھی اپنےمعمولی مفادات کی وجہ سے اس پر مطمئن رہتے ہیں، لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے، جن کے پاس مستقبل کے ایام کی خاطر منصوبہ جاتی ہدایات موجود ہوتی ہیں ، ایسی صورتحال پیدا کرنے کی اجازت کس طرح دی

منشیات کی کاشت۔۔۔۔پیشگی کارورائی کی ضرورت!

 ریاستی پولیس کی جانب سے منشیات کی ضبطی اور منشیات فروشوں کی گرفتاری کی خبریں آنا اب روز کا معمول بن گیا ہے اور غالباً ہی کوئی دن ہوگا جب ایسی کوئی خبر اخبارات کی زینت نہ بن رہی ہو،جو یہ عندیہ دینے کےلئے کافی ہے کہ جموںوکشمیر میں منشیات کی سمگلنگ، خرید و فروخت اور استعمال کی کیا حالت ہے؟ متعدد مرتبہ ان ہی کالموں میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ نوجوان نسل میں منشیات کا استعمال عام ہونا ہماری ریاست کے لئے ایک بھیانک خطرےکی گھنٹی ہے، جسے اگر ہم آج نظر انداز کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں تو آنےوالا وقت ہمیں من حیث الجموع مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کرے، تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ریاست کےا ندر اس وقت منشیات کی فصلیں اُگنا شروع ہو چکی ہیں اور یہی وقت ہے کہ انہیں پنپنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا جائے۔ کیا اس کےلئے ضروری ہے کہ فصلیں پک کر تیار ہو جائیں اور اسکے بعد آبکاری اور پولیس کے محکمے حرکت م

بھرتی عمل میں سرعت لانے کی ضرورت

حکام کی طرف سے روزگار کی فراہمی میں فاسٹ ٹریک بنیادوں پر بھرتی کے دعوے توبہت کئے جاتے ہیں مگر صورتحال یہ ہے کہ کئی کئی برسوںسے لسٹیں منظر عام پر ہی نہیں آتیں، جس کی وجہ سے کئی امید وارملازمت حاصل کرنے کی عمر کی آخری حد پار کرکے شدید ذہنی پریشانی کا شکار بن جاتے ہیں جبکہ سرکاری کام کاج بھی بری طرح سے متاثر ہوتاہے۔حکام کی طرف سے بھرتی عمل میں غیر ضروری تاخیر کو تسلیم کرتے ہوئے بارہا اس بات کے دعوے کئے گئے کہ اس عمل میں تیزی لائی جارہی ہے تاہم ان کی دعوئوں کی حقیقت کچھ اور ہی ہے اورکہیں بھرتی کی فہرستیں عدالتوں میں لٹک رہی ہوتی ہیں تو کہیں امتحان سے لیکر انٹرویو تک کے عمل میں برسہابرس لگ جاتے ہیں ۔بھرتی ایجنسیوں سروسز سلیکشن بورڈ اور پبلک سروس کمیشن کی طرف سے برتی جارہی غفلت کی کئی مثالیں موجود ہیں جن کو ایک ایک امتحان لینے کیلئے کئی کئی سال بیت جاتے ہیں ۔ خواہ  گزیٹیڈ اسامیاں ہوں

ٹریفک نظام کب سدھرے گا؟

  محکمہ ٹریفک کی باگ ڈور جب سے نئے انسپکٹر جنرل ٹریفک مسٹر بسنت رتھ کے ہاتھ میں آئی ،اُس وقت سے ٹریفک نظام میں دُرستگی لا نے کے تعلق سے پورے محکمے میں تحرک اور احساس ِ ذمہ داری دیکھا جارہاہے اور ٹریفک حکام پہلے کے مقابلے میں زیادہ فرض شناسی ،تندہی اور لگن سے کام کرتے دیکھے جارہے ہیں ۔ مسٹر رتھ نے ٹریفک نظام کو پٹری پر لانے کی حتی الوسع کوشش کے علاوہ شہر میں کئی جگہ فٹ پاتھوں کو خود غرض عناصر کے ناجائز قبضہ سے بھی چھڑایا ۔یہ مہم شروع کر کے راہ گیروں کو جو سہولت ملی اس کا عوام نے خیر مقدم کیا لیکن یہ ایک معمہ ہے کہ یہ مہم اب دم توڑتی نظر آرہی ہے ۔ یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی ہے کہ ٹریفک نظام میں بہتری لانے کی کاوشیں کسی بدلاؤ پر منتج ہوںگی یا ماضی کے ایسے دوسرے تجربات کی طرح اس کا ڈراپ سین انٹی کلائمکس ہوگا ۔ بہر حال آئے دن یکے بعد دیگرے دلدوز سڑک حا دثا ت پیش آنا ہماری کم ن

زخموں پہ نئےزخم ۔۔۔۔۔۔۔ کب تک ؟

  کشمیر میں زندگی کے مدعا و مقصد میں جس پیمانے کی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں، ایک مہذب قوم میں اسکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ آج ہر طرف حالات کی ایسی تصویریں سامنے آرہی ہیں جو زندگی کے بنیادی مقاصد یعنی امن ، تحفظ اور بلا خوف جینے سےعبارت ہیں،سے قطعی طور پر عاری نہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہوگا، جب ہلاکتیں پیش نہ آرہی ہوں، نہتے شہری زخموں کے سیلاب سے نہ جوجھ رہے ہوں اور املاک کو نقصان نہ پہنچ رہا ہوں ۔ اس کے بعد ہڑتالوں اور احتجاج سے اقتصادی محاز پر جو بدحالی پید اہو رہی ہے، وہ الگ ہے۔ایک جانب دہلی سے لیکر اسلام آباد اور پھر سرینگر تک سبھی حلقے کشمیر میں امن و  امان کو فروغ دینے کے لئے ضبط وتحمل اور افہام و تفہیم کی باتیں کر رہے ہیں لیکن زمینی سطح پر انکا شائبہ بھی کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔ ریاست میں ایک منتخب حکومت کی ناکامی اور اسکے خاتمے کے بعد گورنر راج کےنفاذ

جنگلات کی بیدردانہ کٹائی۔۔۔ ماحولیاتی تباہی کا اہم سبب!

 حالیہ دہائیوں سے تیزی کے ساتھ جنگلاتی رقبہ سکڑتاجارہاہے اور کل جہاں گھنے جنگل ہواکرتے تھے وہیں آج ان کا نام و نشان تک باقی نہیںہے، جس کی وجہ سے ماحولیاتی توازن بگڑتاجارہاہے اورجس کا براہ راست اثر انسانی آباد ی پر پڑرہاہے۔ماحولیات کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے جنگلات کا تحفظ لازمی ہے کیونکہ یہ تباہی موسمی تغیر و تبدل کی صورت میں سامنے آکر ایسے حالات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے، جو عام انسانی آبادی کو مصائب میںمبتلا ء کر دیتی ہے۔پوری ریاست کی طرح جموں خطہ میں بھی بہت بڑا رقبہ جنگلات کا ہواکرتاتھاجو دن بدن سکڑتاجارہاہے جس کیلئے ہم خودذمہ دار ہیں ۔ کہیںلکڑی کےحصول کا لالچ ، کہیں جنگلاتی اراضی کو زرعی زمین میں تبدیل کرنے کا  لالچ اورکہیں زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش میں سرسبز سونے کو بے دردی کے ساتھ کاٹ دیاگیا۔تشویشناک بات یہ ہے کہ موسم گرما کے دوران جموں خطہ میں جنگلات کو شرپسند

بہتر حکمرانی.......دیانت اور احتساب ناگزیر!

 ریاست جموںوکشمیر میں عوام کو کافی عرصہ سے انتظامی بے ضابطگیوں کی وجہ سے سخت مشکلات اور مصائب کاسامنا رہا ہے۔ چنانچہ وزیراعظم اوروزیر داخلہ دونوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جموںوکشمیر میں موجود بے چینی کےلئے بہتر حکمرانی کا فقدان ایک اہم وجہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکمرانی اور ترقیاتی عمل پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حالیہ برسوں میں حکمرانی اور انتظامی کارکردگی کے معیار میں کافی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہےاور یہ ایک اہم سوال ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ اسکا ایک سیدھا سادھا جواب ایک مخصوص سیاسی ماحول کی پیدا کردہ غیر یقینیت ہے اور اسی غیر یقینت کی وجہ سے احتساب کا عمل کہیں نظر نہیں آتا۔ ہر حکمران طبقے نے عوام کو درپیش مسائل صدق دلی اور سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی بجائے اقرباء پروری کاسہارا لیکر اپنی تھلیاں بھرنے پر توجہ مرکو ز رکھی۔ یہ ایک حقیقت ہے

میعاری ضابطہ کار پر عمل آوری ؟

 ریاستی گورنر کی طرف سے سیکورٹی ایجنسیوں پر کاروائی کے دوران معیاری ضابطہ کار(SOP) پر عملدرآمد کرنے کی یاد دہانی کراتےہوئے شہریوں کو کسی قسم کے جانی ومالی نقصان سے محفوظ رکھنے کی تلقین کرنے سے اس بات کا انداز ہ لگانا مشکل نہیں کہ انتظامی سطح پر بھی یہ احساس اُجاگرہو رہا ہے کہ موجودہ حالات میں فورسز کی طرف سے کاروائیوں کے دوران اُن اصولوں پر عمل نہیں ہو رہا ہے، جو ایسے حالات کےلئے ایک ضابطے کی حیثیت رکھتے ہیںاور جسکے وہ پابند ہیں۔ یہ اظہار گزشتہ دنوں کولگام میں تین شہری ہلاکتوں کے بعد ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں شمالی کمان کے سربراہ کوبھی بلایا گیا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مختلف سیاسی طبقوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے کافی عرصہ سے یہ باور کرانے کی تواتر کے ساتھ کوشش کی جارہی ہے کہ عسکریت مخالف کاروائیوں کے دوران معیاری ضابطہ کار کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ، جس کی وجہ سے بار بار

خطہ چناب ......گجر بکروال آبادی کی پریشانیاں

اگرچہ گجر بکروال طبقہ کی پسماندگی کو دور کرنے اور اسے دیگر طبقوں کے برابر ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے حکومت کی طرف سے لگ بھگ تیس سال قبل شیڈیول ٹرائب کادرجہ دیاگیا تھا تاہم کچھ علاقوں میں آج بھی یہ آبادی قبائلی دور کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور اسے کوئی بھی بنیادی سہولت میسر نہیں ۔خاص طور پر خطہ چناب میں گجر بکروال آبادی کسم پرسی کی زندگی گزار رہی ہے جہاں اس طبقہ کی بستیوں تک نہ ہی سڑک روابط قائم کئے گئے ہیں ، نہ ہی انہیں بجلی وپانی کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی تعلیمی و طبی سہولیات دستیاب ہیں ۔ خطے میں سیاسی و ترقیاتی محاذ پر یہ طبقہ بالکل نظرانداز ہے اور اگرچہ اس طبقہ کے چنندہ لوگ حکومت یا سیاستدانوں سے اپنا ذاتی فائدہ اٹھالیتے ہیں تاہم مجموعی آبادی تک ترقی کا تصور دور دور تک بھی نظر نہیں آتا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ خطہ چناب میں گجر بکروال آبادی کا تناسب دس سے پندرہ فیصد

ہجومی قتل کی بڑھتی وارداتیں

 گزشتہ دنوں دلی میں ایک ہی شریف وسنجیدہ متوسط ہندو کنبے کے گیارہ افراد ِ خانہ کی بیک وقت پُراسرار’’خودکشی‘‘ پر تمام لوگ دم بخود بھی ہیں اور انگشت بدنداں بھی ۔ اسی دوران ایک آٹھ سالہ بچی کی دلخراش اجتماعی آبروریزی کی سرگزشت ، آسام، مہاراشٹر، اورنگ آباد ، چھتیس گڑھ میں یکے بعد دیگرے بچوں کی اغواء کاری کے الزام میں ہجومی قتل کی متعدد ہولناک وارداتیں بھی باضمیر لوگوں کو نیم جان کر کے چھوڑ چکی ہیں ۔ یہ چند ایسے داغِ نہاں ہیں جن کے باعث ملک بھر میں انسانیت سہمی ہوئی ہے اور آدمیت ہرا سان وپریشان ہے ۔ یقیناً اس نوع کے ناقابل برداشت المیوں پر عام آدمی عدم تحفظ کے شکار ہیں ، وہ سینہ کوبی کر تے ہوئے زمانے کے ناخداؤں سے یہ تیکھے سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہے یا جنگل راج ہے؟ یہاں جمہوری نظام اس قدر بے بس وبے حس کیوں کہ غنڈے موالی کھلم کھلا انسانی

موسم کابدلتامزاج اور ہمارا نکاسی نظام!

 وادی میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے شہر سرینگر اور دیگر ضلعی صدر مقامات اور قصبہ جات کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں بڑی مقدار میں پانی جمع ہوگیا ہے، جو ہمارےکمزور نکاسی نظام کی عکاسی کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تیز بارشیں ، جو اس موسم کے حوالے سے ماضی کی روایت رہی ہے لیکن اس کےباوجود بڑے بازاروں اور بستیوں میں نالیاں اس قدر پُر آب ہیں کہ جگہ جگہ سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو عبو ر و مرور میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ راہگیروں کےلئے سڑکوں پر چلنا مشکل ہوگیا کیونکہ سڑکوں پر دوڑتی لاتعداد گاڑیوں سے اس قدر چھنٹیں اُٹھتی ہیں کہ ان کےلئے اپنا لباس بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ ساری صورتحال دراصل ہمارے شہروں اور قصبہ جات میں نکاسی آب کے ناقص نظام کا غماز ہے، جو اُسی وقت اپنا چہرہ کھل کر دکھاتا ہے، جب موسمی حالات میں تبدیلی آتی ہے۔ڈرینوں اور نالیوں کی ساری خامیاں ایسے

سورۃ کہف کا حاصلِ مطالعہ

 محر ر : ج۔ش  میں نے دو سال سورہ کہف کو سمجھنے میں لگائے اور ۲۰ا تفاسیر کا مطالعہ کیا جن میں اردو اور عربی تفاسیر کے علاوہ ایک فارسی تفسیر قرآن شامل تھی۔ ہم اس سورت کو صرف غار والوں کا واقعہ سمجھتے ہیں مگر اصل مدعا جو ہے اس کی طرف کسی کی نظر ہی نہیں گئی۔ تو اس سورت کامقصوداور لب لباب یا سینٹرل آئیڈیا کہہ لیں یہ ہے کہ اللہ اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتا ہے : عزت، ذلت، صحت، بیماری، نفع، نقصان، خوشی ، غمی۔ ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتا ہے۔ ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہو ں گے: یا تو اچھے حالات ہوں گے یا برے، یعنی یا تو بندہ عزت میں ہوگا یا ذلت میں۔ یا صحت ہو گی یا بیماری۔ اللہ ہمیشہ دو حالات میں بندے کو آزماتا ہے یا تو اچھے یا برے کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شکر کرتا ہے یا نہیں اور برے حالات میں صبر کرتا ہے یا نہیں۔ ب

سورۃ کہف کا حاصلِ مطالعہ

 محر ر : ج۔ش  میں نے دو سال سورہ کہف کو سمجھنے میں لگائے اور ۲۰ا تفاسیر کا مطالعہ کیا جن میں اردو اور عربی تفاسیر کے علاوہ ایک فارسی تفسیر قرآن شامل تھی۔ ہم اس سورت کو صرف غار والوں کا واقعہ سمجھتے ہیں مگر اصل مدعا جو ہے اس کی طرف کسی کی نظر ہی نہیں گئی۔ تو اس سورت کامقصوداور لب لباب یا سینٹرل آئیڈیا کہہ لیں یہ ہے کہ اللہ اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتا ہے : عزت، ذلت، صحت، بیماری، نفع، نقصان، خوشی ، غمی۔ ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتا ہے۔ ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہو ں گے: یا تو اچھے حالات ہوں گے یا برے، یعنی یا تو بندہ عزت میں ہوگا یا ذلت میں۔ یا صحت ہو گی یا بیماری۔ اللہ ہمیشہ دو حالات میں بندے کو آزماتا ہے یا تو اچھے یا برے کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شکر کرتا ہے یا نہیں اور برے حالات میں صبر کرتا ہے یا نہیں۔ ب

خطہ پیر پنچال۔۔۔تباہ شدہ پُل تعمیر نو کے منتظر

2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد ایک بار پھر ریاست میں سیلاب کا خطرہ منڈلانے لگاہے اور جہاں وادی میں حالیہ دنوں سیلابی صورتحال پیداہوئی وہیں صوبہ جموں کے کئی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی دیکھی گئی اور کئی مقامات پر پسیاں بھی گرآئیں جس کے باعث انسانی جانوں کا اتلاف بھی ہواہے ۔یہ بات تو طے ہے کہ ماحولیاتی بگاڑ کی وجہ سے ایسے خطرات سر پر منڈلاتے رہیں گے لیکن انتظامی سطح پر چار سال قبل آئے سیلاب سےکچھ بھی سبق حاصل نہیں کیاگیا اور نہ ہی کوئی طویل مدتی احتیاطی اقدامات کئے گئے ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ کہیں کہیں 2014کے سیلاب میں تباہ ہوئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو بھی نہیں کی گئی ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ پونچھ ضلع کے سرنکوٹ علاقے میں گزشتہ دنوں ایک نوجوان دریا عبور کرتے ہوئے لقمہ اجل ہوگیا کیونکہ لوگوں کو عبورومرور میں سخت مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے۔واضح رہے کہ پیر پنچال کی پہاڑی سے نکل کر سرنکوٹ سے ہوکر

سیلابی خطرات.......ذمہ دار کون؟

 گزشتہ دنوںصرف دودنوں کی بارشوں سے دریائے جہلم میں طغیانی کے جوخطرات پیدا ہوگئے تھے، وہ ہمارے سماج او ر انتظامیہ کےلئے نہ صرف ایک انتباہ ہے بلکہ ایک اہم سوال ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کہیں ہم ایسی صورتحال پیدا کرنے میں خود تعاون تو نہیں کر رہے ہیں۔اگر ذراسنجیدگی کے ساتھ اس سوال کا جواب تلا ش کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ حقیقت کھل کے سامنے آجاتی ہے کہ وادی کے طول و عرض میں تاریخی اعتبار سے پھیلی آ بگاہوں اور زیر یںزمینی خطے کسی بھی سیلابی صورتحال میںاضافی پانی کو سنبھالنے کا کام کرکے آبادیوں اور بستیوں کے تحفظ کا سبب بنتے تھے لیکن ہم نے مجموعی طور پر انکا تحفظ نہ کرکے خوفناک تباہیوںکو عملی دعوت دی ہے۔اس کےلئے جہاں انتظامی ناکامیاں ذمہ دار ہیںو ہیںہماری اجتماعی خود غرضی ایک اہم سبب ہے۔ اس صورتحال سے یہ بات واضع ہوجاتی ہےکہ ہم بحیثیت قوم اخلاقی اور انسانی قدریں ہی نہیں بلکہ حس انسا

انتظامی تحرک ۔۔۔ قابلِ سراہنا!

انتظامیہ کی طرف سے گزشتہ دنوں جنوبی اور وسطی کشمیرمیں سیلاب کا انتباہ جاری کرنے کے ساتھ ہی وادی ٔ کشمیر میں 2014سیلاب عظیم کی یاداشت سے لوگوں کے رونگٹھےکھڑے ہو گئے تاہم قدرت کی مہربانی سے تیسرے رو ز بارشوں کا سلسلہ رُک جانے سےدریائوں او ر ندی نالوں میں پانی کی سطح میں کسی حد تک کمی ہونے کے بہ سبب طغیانی کے خطرات فی الحال ٹل گئے۔تاہم جموں اور کشمیر میں ہوئے جانی نقصان پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں زبردست اُچھال سےشہر سرینگر کے مضافات میں لسجن کے مقام پر دریاکا پشتہ ڈھ جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔جسکی خبر پھیلتے ہی شہر سرینگر میں زبردست سنسنی پھیل گئی تھی اور متصلہ علاقوں میں بدحواستی کا عالم برپا ہونے لگا تھالیکن انتظامیہ نے فوراً حرکت میں آکر عوامی تعاون سے چوبیس گھنٹوں کی نگرانی کے دوران وقفے وقفے سے حالات کے تقاضوں کے مطابق پشتے کی مرمت کرکے ایک بڑے عل

رام بن واقع

 گائو رکھشاکے نام پر شرپسندعناصر کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد پھر سے سرگرم ہوگئے ہیں اور اس مرتبہ وہ زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔انہوں نے چند روز قبل رام بن میں پولیس و سیکورٹی اہلکاروں کے سامنے مویشیوں سے لدے ایک ٹرک کوروک کرمویشی کھلے چھوڑ کر آگ لگادی ۔ٹرک کو نذر آتش کرنے سے قبل ان عناصر نے پتھرائو بھی کیا ۔واضح رہے کہ یہ ٹرک بیس مویشی لیکر کشمیر جارہاتھاجسے نشانہ بنایاگیا۔اگرچہ پولیس کی طرف سے اس سلسلے میں کیس درج کرکے متعلقہ ایس ایچ او کاتبادلہ بھی عمل میں لایاگیاہے تاہم واقعہ میں ملوث کسی ایک بھی فرد کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی، جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ پولیس بھی ان عناصر کے سامنے بے بس ہے، جس نے پہلے تو انہیں کھلے عام یہ فعل انجام دینے کی مہلت دی اور اب ملزمان کی گرفتاری بھی عمل میںنہیں لائی جارہی ۔ یہ اس نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ صوبہ جموں کے مختلف حصوں