تازہ ترین

بیٹیوں کے گھریلو تنازعات ، والدین کا رویہ کیسا ہو ؟

ریحانہ : بیٹا اتنا کچھ ہوگیا اور آپ نے ہمیں نہیں بتایا۔ اْف میری بچی دس سالوں سے یہ سب بھگت رہی تھی۔ نادیہ: امی… میں آپ کو دْکھ دینا نہیں چاہتی تھی اور میرا خیال تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوتا جائے گا لیکن یہ میری بھول تھی معاملہ مزید بگڑتا گیا اور… اب… ارقم اور اس کے گھر والے کسی سے بھی مجھے بھلائی کی اْمید نہیں، اب مجھے اپنی نہیں بلکہ اپنے بیٹے کی فکر ہے اس کا مستقبل… امی میں اب اس جنونی شخص کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔  ارقم اور نادیہ دونوں کا تعلق خوشحال گھرانوں سے تھا، دونوں کی ارینجڈ میرج تھی لیکن دونوں کی رائے کے مطابق ان کی شادی کا فیصلہ کیا گیا تھا کچھ ہی عرصہ کے بعد نادیہ پر ارقم کی اصلیت واضح ہوگئی کہ نہ صرف وہ بے روزگار بلکہ اعلیٰ تعلیم سے محروم برگر فیملی کا ایک بگڑا بیٹا تھا۔ نادیہ کے لیے یہ سب قابل اذیت تھا لیکن وہ سمج

بچے کا روشن مستقبل کس کے ہاتھ؟

ایک  مسلم گھرانے کی بہو اسماء افتخار کے ہاں ماشاء اللہ خوشی آنے والی تھی۔ شادی سے پہلے ہی ان کی ساس نے کہہ دیا تھا کہ نوکری تو بہو کو کرنی پڑے گی کیونکہ میری بیٹیاں اور بڑی بہو بھی نوکری کرتی ہیں۔ شادی کی 15 دن کی چھٹیوں کے بعد ہی کپڑے دھونے کی ذمے داری اسماء پر ڈال دی گئی۔ گھر میں تین نندیں تھیں جو شادی کے انتظار میں بوڑھی اور چڑچڑی ہوچکی تھیں، ایک جیٹھ، ان کی بیوی اور چار بچے تھے۔ ساس، سسر، اسماء اور اس کا شوہر۔ گویا 13 لوگوں کے اندر باہر کے سب کپڑے دھونا اسماء کی ذمے داری تھی۔ بڑی بہو کھانا پکاتی تھیں، ایک نند صفائی کرتیں، ایک برتن دھوتیں، اور سب سے بڑی نند بیمار تھیں، پہلے کپڑے دھوتی تھیں، اب اُن پر سے ہر ذمے داری ہٹا لی گئی تھی۔اسماء نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے کچھ فروٹ وغیرہ لادیا کریں، ان دنوں میں ذرا صحت بنے گی، میری تنخواہ تو آپ کی امی لے لیتی ہیں… بس یہ کہنا تھا