تازہ ترین

عو رت اسلام کی آغوش میں!

 تہذیب نے اب تک عورت کو کتنے ہی زاویوں سے دیکھنے کی سعی کی ہے اور  سچ تو یہی ہے کہ انسان عورت کی حقیقت سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ مگر جب انسان عورت کی حقیقی ذات کو اس کی پاکیزہ سیرت اور فطرت کی روشنی میں کھوجتا ہے تو عورت صدیقہ   نظر آتی ہے، وہ حواؑ اور مریم  ؑکا روپ دھار لیتی ہے اور سارہ  ؑ،خدیجہؓ اور فاطمہ ؓبن کر انسانیت کے لیے سینکڑوں اسباق سیکھنے کے لیے چھوڑ جاتی ہے۔ یہ دراصل عورت ذات کا مرتبۂ کمال ہے جہاں عورت عین اپنی فطرت اور قانونِ قدرت کے مطابق اعلیٰ کردار کا نمونہ پیش کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ کتابِ ماضی کو جب پلٹا جاتاہے تو دنیا کی مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں عورت کے ساتھ روا رکھے جارہے غلط رویے اور ظالمانہ سلوک کو دیکھ کر دل ملول ہوتا ہے۔یہ باطل وناکارہ تہذیبیں عورت ذات کو مختلف زمانوں میں مشکلات و مصائب میں مبتلا کرنے کا باعث بنی ہیں۔  د

کم سِن دلہنیں بےحمیت سماج!

اعداد و شمار کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں کم عمری کی شادی کا تناسب 29فی صد ، پنجاب 20فی صد، بلوچستان 22فی صد اور سندھ میں سب سے زیادہ یعنی 33فی صد تک ہے، یہاں تک کہ کم عمر لڑکیوں کی شادی عمر رسیدہ مردوں کے ساتھ ہونا بھی عام ہے۔کم سِنی کی شادی کے خلاف قوانین پاس ہونے کے باوجود عملی طور پر عورت کی حالت نہیں بدل پائی، وہ آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔ برطانوی حکومت اپنے ملک میں موجود جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن میں کم عمری کی شادی روکنے کے لیے قانون سازی پر غور کررہی ہے، جب کہ پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دیا جاچکا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ چھوٹی بچیوں کی شادیاں پاکستان کے دیہی علاقوں میں ایک روایت بنتی جا رہی ہے۔ خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی نجی تنظیم وائٹ ربن کمپئن کے چیف ایگزیکٹیو آفیس

ہر بیماری کا علاج ہر مسئلے کاحل

 نماز ایک بہترین روحانی غذا اور جسمانی ورزش ہے ،سستی اور کاہلی کے اس وقت میں نماز واحد ایسا طریقہ ہے جس سے اگر قاعدے اور ترتیب سے پڑھا جائے تو انسان کے غم اور دکھوں کا ازالہ ہوسکتا ہے ۔نماز کا پڑھنا جہاں جسمانی اعضاء کو خوشنما اور خوبصورت بناتا ہے ،وہیں نمازانسان کے باطن دل کو سکون وراحت دیتی ہے۔ مزیدبراں نمازی کا گردہ ،دماغ ،جگر،معدے ،ریڑھ کی ہدی اور سارے بلوط دانہ (glands)کو بھی فائدہ پہنچتا ہے ، غرض روح کی بالیدگی کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم کو بھی نماز خوش وضع ،شائستہ اورحسین و جمیل بناتی ہے ۔نماز ایک ایساعمل ہے جس سے ہماری عمر بڑھتی ہے اور انسان مختلف النوع توانائیوں کا مالک بن جاتا ہے ۔انسان رات بھر سویا رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے اعضاء بے حس،الکس او ر سست ہوجاتے ہیں ۔اس وجہ سے خون کی گردش بھی بھی سست پڑجا تی ہے، اس لئے اب ہمارے جسم کو ایک ایسی ورزش کی ضرورت ہے کہ انسان کا جسم پ

کم سِن دلہنیں بےحمیت سماج!۔۔۔ قسط:۲

والدینکی سات بیٹیوں میں سے اس کا چھٹا نمبر تھا۔وہ دس سال کی تھی جب اس کی بڑی پانچ بہنوں کو جب وہ تیسری‘ چوتھی اور پانچویں کلاس میں زیرتعلیم تھیں ،والدین بھارت چھوڑ آئےتھے۔یعنی وہاں لے جاکر ان کی شادی کردی۔ جسوندر‘ اپنی بہنوں کے بغیر اداس رہنے لگی، وہ ان کے پاس جانا چاہتی تھی۔ایک دن وہ اسکول سے واپس آئی، تو ماں نے اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا‘تم اپنی بہنوں سے ملنا چاہتی ہو ناں، ہم نے تمہاری خواہش پوری کردی ہے۔ آج میںنے تمہاری پسند کا کھانا بھی پکایا ہے، چلو جلدی سے کھانا کھالو، پھر چلنے کی تیاری کرتے ہیں۔ ماں نے اس سے پہلے کبھی اس طرح محبت کااظہار نہیں کیا تھا۔وہ ان کے رویے پر حیران ہوئی لیکن جلدہی اس پر عقدہ کھل گیا، ماں نے‘اس کے سامنے ایک سکھ نوجوان کی تصویر رکھ کر کہا‘ جب تم 8 سال کی تھیں تو ہم نے اس سے تمہارا رشتہ طے کردیاتھا‘اب دو دن بعد تمہاری ش

شادی بیاہ کی تقاریب

  ایک طرف نیک جذبوں کاسیل رواں، تنگ طلبیاں،ستم کے تھپیڑے ،نالہ وفریاد،جوروجبرکے کوڑے ،زخم زخم وجود،آہنی قفس ،جیلیں،بے آبرویاں ،تذلیلیں ،ماریں ، بانام اور بے نام قبریں،آہیں اورسسکیاں،دوسری طرف وادی بھر میں شادیوں کی تقاریب میں اسراف وتبذیر ، رسومات و وفضولیات، نمودو نمائش، ناچ نغمے ، چراغاں و آتش بازیاں ، اختلاط مر د وزن ،اشیائے خوردنی کی ناقدریاں ، جہیزی لین دین جیسی طوفان بدتمیزی ہوںتو انہیں دیکھ کر آدمی کی زبان گنگ اور جگر پاش پاش ہونا فطری ردعمل ہے اور ہرایک باضمیر انسان کااس صورت حال پر انگشت بدنداں ہو جانا قابل فہم ۔سوال یہ ہے کہ آخریہ سب ہے کیا ؟ قوم کی اخلاقی زوال، دین سے بیزاری ،مقدس کاز سے بے گانگی یا فہم وشعور کی کمی اورکھلی جہالت ؟ آ پ یقین کرلیں کہ ایک غریب باپ ان حماقتوں کو خود پر طمانچے کہہ کر کہتا ہے کہ میں یہ سارا کچھ دیکھ کر پچھلے کئی سال سے اپنی جوان سال ب

کم سِن دلہنیں بےحمیت سماج!

پنج ستارہہوٹل کا خنک ایوان روشنیوں سے جگ مگ کر رہا تھا، بہ ظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں ’’برائیڈل شو‘‘ ہےلیکن ایسا نہیں تھا،ٹھنڈے ایوان میں کم سن بچیوں کی شادی کے موضوع پر ایک این جی او کی جانب سے ورک شاپ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اسٹیج کے ارد گرد کم سن بچیاں عروسی ملبوسات میں کھڑی تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں گڑیا تھی اور کسی کے ہاتھ میں اسکول کے بستے ، کسی کے ماتھے پر احتجاج کی پٹی بندھی تھی ، تو کسی کے ہونٹوں پر ٹیپ۔ ’’یہ سب کیا ہے؟ ‘‘ٹھنڈے ماحول میں ایک گرم سوال گونجا، لیکن جواب ندارد ،یہ چہار سو خاموشی میں چھوٹا سا ماتم تھا، سوال بار بار دہرایا گیا، تو ایک ماں کی آواز ایسی ابھری کہ ہزاروں کوششوں کے بعد بھی کوئی اسے خاموش نہ کروا سکا۔سوال کرنے والے کو بھرپور جواب مل گیا تھا۔ دُکھیاری ماں کی زبان سے الفاظ نہیں نکلے تھے بلکہ تھری ناٹ تھری کی گول

مشہور ادیبہ وافسانہ نگارامرتا پریتم

 امرتا اس مٹی سے بنی ہوئی ہے، جس سے رومانی باغیوں کا خمیر اٹھتا ہے۔ ایک تنہا بچپن، ایک کرب زدہ جوانی اور پھر شدید جذباتی جھکڑوں سے مرتعش دل کی نسوانیت، ایک شاعرہ اور ناول نگار کی حیثیت سے امرتا پریتم ان تمام تجربات کو من وعن صفحۂ قرطاس پر اتارنے پر اعتقاد رکھتی ہے، جو اسے پیش آئے۔ وہ زندگی کے لئے شدید جذبات کے گہرے رنگوں میں سر سے پیر تک سرشار ہے۔ ایک عجب ساکرب ہر دم اس کے وجود کا احاطہ کئے رہتا ہے، اور جب یہی کرب پگھلے ہوئے لاوے کی طرح اس کی تحریروں میں اپنا راستہ تلاش کرلیتا ہے تو دل کا درد ذرا دیر کو تھمتا ہے، مگر پھر دوبارہ سر اٹھاتا ہے،مذہبی اقدرا پر اس کے بے لاگ تنقیدی نظریات کی وجہ سے اس پر غیر شائستہ ہونے کی مہر ثبت کی جاتی ہے۔ اس کی چیختی ہوئی دیانت کی وجہ سے اسے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا ہے، مگر ان سب باتوں سے بے نیاز امرتا کی زندگی ایک ایسی کھلی کتاب کی طرح ہے، جس

ہنی ٹریپ!۔۔۔۔ بلیک میلروں سے ہوشیار باش

۔12؍جون 2018ء کو دہلی میں ایک خاتون کے بشمول تین افراد کو گرفتار کیا جو پانچ دولت مند افراد کو بلیک میل کرتے ہوئے ان سے رقم وصول کررہے تھے۔ ان پانچ بزنس مین پر بھیواڑی (راجستھان) میں ایک خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کا الزام تھا۔ تاہم پولیس نے اس گینگ ریپ کے پس پردہ سازش کو بے نقاب کیا تو یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ گینگ ریپ کا الزام عائد کرنے والی خاتون اور اس کے دو ساتھی جن میں موہت گوئل بھی شامل ہے۔ یہ وہی موہت گوئل ہے جو نوئیڈا کی کمپنی Ringing Bells کا پارٹنر ہے جس نے صرف 251روپے میں 251 فریڈم اسمارٹ فونس فراہم کرنے کا اعلان کرکے تہلکہ مچادیا تھا۔ موہت گوئل اس گینگ ریپ کیس کے معاملہ کو رفع دفع کرنے کے لئے رقم اینٹھنے میں ملوث پایا گیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ بھیواڑی جو راجستھان کے ضلع آلور میں واقع ہے‘ یہاں 5مئی کی رات اُس وقت سنسی پھیل گئی تھی جب ایک خاتون نے پولیس میں شکایت درج کروا

محاسبۂ نفس

  مسلمان بھلے ہی پورا سال غفلت میں گذاردیں مگر جب ماہِ رمضان کی آمد ہوتی ہے تو یہ چند روزہ مہمان بن کر ہمیں مومن بناتا ہے اور ہم میں سے اکثر لوگ اپنے رب کی تلاش میں نکل پڑتےہیں، کبھی مسجد میں ،کبھی تاریک راتوں میں سجدے میں آنسو بہاتے ہوئے ،کبھی حالت روزہ میں سوکھے لب قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے، کبھی غریبوں ، یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرتے ہوئے ۔ یہ یہ تمام عبادتیں اپنی جگہ مگر ہم اپنا روٹین ماہِ رمضان کے گذرنے کے ساتھ ہی کیوں بھول جاتے ہیں جب کہ اللہ رب العزت کبھی ایک پل بھی اپنے بندوں کوبھولتاہی نہیں، نہ رمضان سے پہلے نہ ماہِ رمضان  گذرجانے کے بعدبلکہ اللہ تعالی تو ہمیشہ اپنے بندوں کے دل میں اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں ہر لمحہ،ہرپل بسارہتا ہے ، وہ ہمیں بن مانگے رزق اور نعمتیں فراہم کرتا رہتاہے،اسے بتائے بغیرہنسی خوشی کے سامان مہیا کراتاہے،ہرچہارجانب سے اس کی منشا سے ہماری کامی

حضرت رفیدہ ؓ سے رزان النجار تک

اسلامی   تاریخ جہاں مردوں نے اسلام کی اشاعت اور تبلیغ میں نہایت اہم رول ادا کیا وہیں خواتین نے بھی دین اسلام کی اشاعت میں  کلیدی کردارادا کیا ۔ نبوت ﷺکے آغاز ہی خواتین نے اسلام کی ترویج و اشاعت کا فریضہ اپنے نازک کندھوں پر اٹھایا۔ انھوں دعوت الی اللہ،جہاد ، ایثار اور جود و سخاوت میں اثر انگیز کار نامے انجام دئیے ۔ خواتین نے ہر میدان میںاسلام کی فتح و نصرت میں حصہ لیا ۔ اسلام قبول کرنے کے فورا بعد خواتین (صحابیات) نے جن باتوں پر اللہ کے رسول سے بیعت کی ۔ اس کا تذکرہ قرآن مجید میں اسطرح وارد ہے : ’’اے نبی جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کے لئے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی اور وہ چوری نہ کریں گی اور نہ وہ بدکاری کریں گی ۔ اور وہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی ۔اور وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کے آاگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی ۔ ۔

دنیا کاانمول تحفہ

ماں کی ہستی کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر پھر بھی کم ہے ۔ یہ وہ ہستی ہے کہ جو اپنی اولاد کونو ماہ تک اپنی کھوکھ میں لئے گھوم رہی ہوتی ہے اور کبھی شکایت تو درکنار اس بوجھ کی وجہ سے ’’اُف‘‘ تک نہیں نکلتی اور محبت کاآتش فشاں دیکھئے کہ بچہ ابھی پیدا بھی نہ ہوا کہ ماں اپنا درد بھول کر اس کی صحت کا خیال رکھتی ہے۔نو ماہ کا کٹھن وقت گزار کہ بچے کی پیدائش ہوئی ،اس وقت کس شدت کی تکلیف سے ماں گزرتی ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام تک نے درد ِزہ کی حالت میں اپنے لئے ناسیاً منسیا کے الفاظ ادا کر کے اس تکلیف کی عکاسی کی ۔ اس تکلیف کو لفظوں میںبیان کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ زچگی کی تکلیف اس قدر شدید ہوتی ہے کہ اس تکلیف سے موت کی شدت کم لگتی ہے لیکن ماں یہ تکلیف دہ مرحلہ خوشی خوشی قبول کرتی ہے۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے جو راتوں کو جاگ جاگ کے اپنے بچے پہ نظر رکھے ہوتی ہے، یہ ماں ہی

کلام اللہ: فکرِ اقبال کا سرچشمہ

 علامہ  اقبالؔ کی شخصیت اور فکر کی تعمیر میں قرآن مجید کے علاوہ  حُب ِرسولﷺسب سے زیادہ حاوی اور نمایاں ہے۔ ان ہی دو چیزوں کو اقبال شخصی عناصر سے تعبیر کرتے ہیں ۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے بجا طور پر لکھاہے کہ اقبال کی زندگی پر یہ عظیم کتاب( قرآن ) جس قدر اثر انداز ہوئی اتنانہ وہ کسی شخصیت سے متاثر ہوئے اور نہ کسی کتاب نے ان پر ایسا اثر ڈالا ہے  ؎ اقبال ایک ایسی شخصیت ہے جس نے انیسویں صدی کے اواخر میں شعور کی آنکھ کھولی اور وقت کی کیم اعلیٰ ترین سطح پر علم حاصل کیا۔شرق و مغرب کے فلسفے پڑھے قدیم و جدیدسب کا مطالعہ کیا ۔ لیکن بالآخر اس کے ذہن کو سکون ملاتو صرف قرآن حکیم سے اور اس کی علم کی پیاس کو آسودگی حاصل ہو سکی تو صرف کتاب اللہ سے گویا بقول ان کے ؎     نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی  میرے جرم خانہ خراب کو

نرگس۔۔۔ عظیم اداکارہ بہتر انسان

کشمیریلال ذاکر نے اپنے خاکوں کے مجموعے یاران تیز گام میں آخری گواہی کے عنوان سے نرگس کا خاکہ قلمبند کیا ہے۔نرگس کا اردو سے ایک خاص رشتہ رہا ہے ۔ منٹو نے بھی اپنے خاکوں کے مجموعے گنجے فرشتے میں نرگس کا ایک سوانحی خاکہ شامل کیا ہے جس میں انہوں نے نرگس کی زندگی کے بہت سے اَن دیکھے اور اَن چھوئے پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔ دبلی پتلی چھوئی موئی سی نرگس کو ایک بڑی اداکارہ نرگس بنتے ہوئے دکھایا ہے۔نرگس سے منٹو کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب گیارہ سال کی معصوم اور کمزور سی دکھنے والی نرگس اپنی ماں کی انگلی پکڑ کر فلموں کی نمائش کے موقع پر آتی تھی جس کا ذکر منٹو نے اس طرح کیا ہے: "نرگس کو میں نے ایک مدت کے بعد دیکھا تھا۔ دس ۔گیارہ برس کی بچی تھی جب میں نے ایک دو مرتبہ فلموں کی نمائش عظمہ میں اسے اپنی ماں کی انگلی کے ساتھ لپٹی دیکھا تھا ۔ چندھیائی ہوئی آنکھیں ، بے کشش سا لمبوترا چہرا ، س

احترامِ والدین

دنیا کاہر آسمانی مذہب اور سنجیدہ ذہن تہذیب اس بات پرمتفق ہے کہ والدین کے ساتھ حُسن سلوک کرنا چاہئے، ا ن کاادب واحترام ملحوظ خاطررکھناچاہئے۔اس بارے میں قرآن کی تعلیم سب سے زیادہ اہم اوراپنے ایک انفرادی اسلوب کی حامل ہے۔مثلاً جب بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت وفرمانبرداری کی طرف توجہ دلاناچاہی اس کے فوراً بعد والدین کی اطاعت اورفرمانبرداری کی تعلیم دی ہے۔ ترجمہ : اے بندو! تم میرا(اللہ کا)شکرکرواوراپنے والدین کاشکرادا کروتم تمام کومیری ہی طرف لوٹ کرجاتاہے۔سورۃ لقمان:14 یادرکھئے کہ جس طرح سے اللہ کے حقوق ہم پرفرض ہیں بالکل اسی طرح انسانوں کے حقوق بھی ہم پرفرض ہیں اوراتنے ہی اہم ہیں۔ انسانوں میں والدین کے حقوق سب سے بڑھ کرہیں۔ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والوں کوجنت کی بشارت دی گئی ہے ۔ ترجمہ : اورہم نے انسان کواپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کاحکم دیاہے ۔ اس کی ماں ن

جہیز کی بدعت!

 ماںموجودہ زمانہ کے سماج میں جہاں اور بے شمار خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں، وہاں دولت اورجائیداد کی حد سے زیادہ حرص و لالچ اور پیسے کی پرستش جیسی مہلک بیماری سر فہرست ہے ۔ آنحضورانے فرمایاہے :دنیا ( کے مال ومنال ) کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔   حد اعتدال سے ماوراء یہ محبت ہر بدنما غلطی کی جڑ ہے ۔ جہیز کی بے پناہ پنپنے والی بدعت یعنی پیسے کے بل بوتے پرداماد  کوخریدنے اور اپنی بیٹی کے ساتھ سسرال والوں کو مال وجائیداد کی رشوت دے کر انہیں بہو پر مہربان ہونے کی اُمید ایک نفسیاتی بیماری ہے اور یہ لعنت پیسہ پرستی سے ہی پیدا ہوتی ہے ۔آج ہم جس انسانی سماج میں زندگی بسر کررہے ہیں ،وہ نفسانی ہوا وہوس اور پیسہ پرستی کے نتیجہ میں جنگل کے خونخوار درندوں کی عادات وخصائل اختیار کرکے ایک بے عقل اور نہایت بے رحم نسل بنتا جا رہا ہے ، انصاف اور شرافت انسانی کا جنازہ گھرگھر سے نکلتا جا رہا

حوا کی بیٹی اسلام کی لاڈلی

ایک سے زائد شادیوں کی اجازت اور رسول اللہ ﷺ کا اس حکم پر عمل پیرا ہونے کی مذکورہ مصلحتوں کے علاوہ بھی کئی ساری مصلحتیں اورحکمتیں ہیں جن کو یہاں طوالت کے خوف سے چھوڑا جارہا ہے ۔ اگر کوئی صاحب یا صاحبہ ان مصلحتوں اور حکمتوں کو سمجھنا چاہیں تو انہیں مولانا سید حامد علیؒ کی کتاب ’’تعدد ازدواج‘‘، مولانا وحید الدین خان صاحب کی کتاب ـــ’’تعدد ازواج‘‘ (ہندی ایڈیشن ’’بہو پتنی واد‘‘ اور انگریزی ایڈیشن "Polygamy in Islam")، محمد عنایت اللہ اسد سبحانی کی کتاب ’’تعدد ازواج، کب؟ اور کس لئے؟‘‘، مولانا نورالحق رحمانی کی کتاب ’’تعدد ازدواج حقائق کے آئینہ میں‘‘، عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ’’تعدد الزوجات في الاسلام و حکمۃ تعدد زوجات النبی ﷺ‘‘، عبدالتوا

حوا کی بیٹی اسلام کی لاڈلی

اسلام  کی صورت کو مسخ کرنے اور مسلمانوں کی شبیہ کو بگاڑنے کے لئے یہود و نصاریٰ کے سرمایہ کاروں کے ذریعہ کنٹرول شدہ مغربی ذرائع ابلاغ نے ایک عرصہ سے ایک مہم چلائی ہوئی ہے جس میں بدقسمتی سے اب ہندوستانی الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سے منسلک ایک بڑا طبقہ بھی بدلے ہوئے سیاسی منظرنامہ کی مزاج شناسی کے نتیجہ میں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اپنے سیاسی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے شامل ہوچکا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ نے اس سلسلہ میں جن موضوعات کو منتخب کیا ہوا ہے ان میں سے ایک’ اسلام اور اسلامی معاشرہ میں عورت کا مقام‘ بھی ہے۔ چنانچہ مسلم معاشرہ کے تعلق سے عورتوں کی جو تصویر پیش کی جارہی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کی مسلم معاشرہ میںکوئی عزت و وقعت نہیں، نہ ہی انہیں کوئی حقوق حاصل ہیں اور نہ آزادی۔ عورتیں مسلم معاشرہ میں قید و بند کی زندگی گزاررہی ہیں اور انہیں ان کی شخصیت

بچے کے لئے خواب دیکھئے مگر!

 تعلیم کی دنیا میں آج گریڈپرسنٹیج ، پرفارمنس اورڈسپلین کے نام پہ ایسی ریس لگی ہوئی ہے کہ ہر ماں باپ چاہتا ہے کہ ان کے بچے ہمیشہ ٹاپر کہلائیں اور اس سوچ کے چلتے 96 پرسنٹ سے کم کہنا مانو ایک گالی بن گئی ہے ۔ آخر سماج میں اپنے اڈوس پڑوس ،رشتے دار، دوست احباب میں عزت اور ناک کا سوال جو ہوتا ہے جس کی وجہ سے جدھر دیکھو ہر کوئی ڈینگیں مارنے کے چکر میں ہے اور کئی والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی چاہت میں بڑی سے بڑی قربانیان دینے کے لئے بھی تیار ہیں ۔ والدین کے اس جذبے کی جتنی قدر کی جائے کم ہے لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ والدین کی سوچ ان کی پریشانی ،بچوں کے لئے ان کی ہمہ وقت اس فکر کا بھرپور استحصال چند تعلیمی ادارے کررہے ہیں جو عالیشان عمارتیں،ا ے سی رومز اور کیمپس کی خوبصورتی دکھاتے ہوئے والدین کو بچوں کے بہتر مستقبل کی آس دلاکر فیس اور ڈونیشن کے پردے میں پر موٹی موٹی رقومات وصول

ابو جان بہت یاد آئے

نصیب والی ہے وہ بیٹی جس کے سر پر والدین کا سایہ تادیر قائم رہے اور خوش قسمت ہے وہ بیٹی جو اپنے والدین کے جذبات و محبت کی قدردان ہو۔یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی بدل ہی نہیں۔ اگر میرے محبوبﷺ اور آپؐ کی لخت جگر فاطمۃ الزہراءؓ کی محبت کو یاد کیا جائے تو دنیا کے ہر باپ بیٹی کے رشتے کی محبت ماند پڑ جائے گی۔ ان لطیف ترین جذبات اور نرم و نازک قلبی تعلقات کا کوئی ثانی دنیا میں نہیں ہوسکتا ۔ بہر صورت باپ بیٹی کے انمول رشتے کا تقدس اور اس کے اندر حلاوت اور معنویت کی کون سی کائنات بسی ہوئی ہوتی ہے اس عاجزہ نے یہ حقیت پانچ سال قبل اپنے والد ماجد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دارِ آخرت کی طرف روانہ ہوتے ہوئے سمجھ لیا ۔۲۹؍ اپریل ۲۰۱۳ء ہماری اور ان کی ملاقات کی آخری صبح تھی۔ ۱۸۲۶ ؍یوم گزر گئے لیکن ایسا محسوس یوں ہوتا ہے کہ ابھی کل کی ہی تو بات ہے جب ہم سب ساتھ مل کر بیٹھا کرتے ۔  جو بھی لمحہ جو ان ک

غربت کےمارے!

یخبستہ راتوں کو پھلانگ کر سورج ابھی نکلنے کی تیاری ہی میں تھا کہ دبے پاؤں چلنے کی آواز نے سحر کی خاموشی کو جیسے توڑ دیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی رات بھر سویا بھی نہیں اور صبح اٹھتے ہی اپنے کام میں مگن ہو گیا ہے۔ سورج کی کرنیں کتابوں پہ جمی گرد کو واضح کر رہی تھیں اور صبا ان سے جڑی یادوں کو پھولوں کی پتیوں سمیت اڑا لے جا رہی تھی۔ ہر طرف ہُو کا عالم تھا کہ اچانک نظر ایک بچے کے نازک وجود پہ جا پڑی۔ چست جسم، سنہری بال، گلابی چہرہ، نیلی آنکھیں۔ یہ تو وہ حلیہ تھا جو ظاہری آنکھ نے دیکھا تھا۔اب  پھول چہرہ بچے کادوسرا رخ بھی ملاحظہ کیجئے،گرد سے اَٹی زلفیں، سلوٹوں سے بھرا چہرہ اور زمانے کی آگ میں دہکتی انگارہ آنکھیں، پھٹے کپڑے، مٹی سے اَٹے پاؤں اور زخمی ہاتھ۔ وہ صحیح معنوں میں گلاب تھا کانٹوں کے درمیان۔ اس کی زندگی کا محور وہ تھیلہ تھا جس میں وہ بڑی نفاست سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کررہا تھ