تازہ ترین

کرم فرمائیاں

 خوب صورت وادیاں گل پوش زمینیں شہر ہائے آرزو امید کےگائوں دوستوں کی ہی نوازش کے طفیل بن گئے ہیں سر بہ سر زبان بندی جیسی طرح طرح کی پابندیوں اور دیگر بندشوں کی  ایسی آماجگاہیں کہ جہاں آواز پا نہ بانگِ جرس صدائے ساز نہ نوائے سروش نغمۂ زندگی نہ سرورِ حیات سرور تخیل نہ زمنرِ مۂ خیال مثالِ شہرِ خموشاں مُہر بہ لب ویران کوچہ و بازار شکستہ درو دیوار گل شُدہ شمعیں منجمد آبشار یخ بستہ آتشِ چنار رشکِ زمہریر برودتیں ہزار چمن چمن عیاں عجیب برگ وبار عجیب برگ وبار محمد یوسف مشہورؔؔ۔۔۔کپواڑہ کشمیر 9906624123  

نعت

 آقاء ہیں مدینہ میں،بلائیں تو عجب کیا بگڑی ہے مری، بات بنائیں تو عجب کیا مانا کہ ہمیں زادِسفر کچھ بھی نہیں ہے آسان سفر آپ ؐ بنائیں تو عجب کیا پلکوں پہ کیا  جن کے لئے ہم نے چراغاں اس بار وہی ؐخواب میں آئیں تو عجب کیا مخلوقِ خدا جنکی پناہوں میں ہے محفوظ کملی میں ہمیں بھی وہؐ چھپائیں تو عجب کیا اک نظرِ کرم ہو تو سنور جاے مقدّر ٹل جائیں زمانے کی بلائیں تو عجب کیا ہاں جنکے اشارے پہ ہوا چاند بھی ٹکڑے سورج کو ذرا اور سُلائیں تو عجب کیا ہاں! ساقیٔ کوثر وہ مقّرر جو ہوئے ہیں محشر میں مری پیاس بجھائیں تو عجب کیا اْس ذاتِ مقدّسؐ سے تعلق ہے جو شیدّاؔ آنسو بھی ترے نعت سنائیں تو عجب کیا    نجدہ ون نیپورہ اسلام آباد کشمیر موبائل نمبر؛9419045087  

نظمیں

دسمبر پھر آئیگا! دسمبر تو گیاہے اَور دسمبر پھر سے آئے گا کسے معلوم ہے لیکن پرندے آج ہیںموجود جواِس جھنڈ میں اَگلے دسمبر میں بھی سب ہوں گے دسمبر پھر سے آئے گا مگر کِس کو یقیں ہے اِس دسمبر میں ہوائوں نے تِرے آنچل کو چھو کر کی ہیں جو سرگوشیاں مُجھ سے وہ تیرے قرب کی خوشبو لیے آئیں گی پھر سے  ہر دسمبر میں تجھے سمجھائوں کیسے؟ اَور ہاں، تُجھ کو نئے آراستہ رَستے نئے موسم مُبارک ہوں دسمبر سے دسمبر تک کی اِک اِک رُت مُبارک ہو!   محمد تسلیم مُنتظِرؔ محلہ دَلپتیاں، جموں۔  موبائل نمبر؛9906082989     دورِ حاضر جھوٹ بدچلنی و رشوت کا گرم بازار ہے بُغض و بدخواہی حسد اب عقل کا معیار ہے جیت اب اُس کی ہے جو چالاک اور مکّار ہے آج نالائق وہی ہے جو دیانتدار ہے ا

نظمیں

بہ آمدِسال نو بہ روئے زماں پھر جمال آگیا ہے نیا سال لے کے سوال آگیا ہے زمین پھر وہی ہے، وہی پھر زمن ہے بسا ہر جگہ اب یہاں اہر من ہے   وہی دشت و صحرا و کوہ و دمن ہے گھرا آندھیوں میں یہ اُجڑا چمن ہے کہ شیشے میں اِس کے یہ بال آگیا ہے زمانے میں قحط الرجال آگیا ہے مسلط ہر اک سمت دردِ کہن ہے اُجاڑے ہے انساں چمن پہ چمن ہے   فلسطین و لبنان، ویراں یمن ہے گلاب اور نرگس نہ ہی یا سمن ہے یہ کیا درد بن کر مثال آگیا ہے ہر اِک شے کو دیکھو زوال آگیا ہے کہیں پر نہ آدم کوئی خوش بصر ہے مگر شور اس کا بڑا بحرو بر ہے   ہے کج سوچ اسکی بڑا کم نظر ہے کہ انساں ہی انساں بہت معتبر ہے میسر اسے کیا کمال آگیا ہے کرامت لئے بے مثال آگیا ہے ابھی لوگ کچھ کچھ ہیں تابش سخن یاں انہی سے ہیں قائم زمین

حمد

 الٰہی حمد سب تیرے لئے ہے تیری ہی دین ہے ’’الحمدللہ‘‘ ثنا جو تیری ساری نعمتوں کو کرے پورا احاطہ اس طرح سے  کہ تیری بخششوں کے ہو برابر نوازش ہو تیری ہر حال حاصل  کرم کی بھیک مل جائے گدا کو  کہ تیرا شکر ہو دل میں  زباں پر تمام ان نعمتوں کا  جنہیں میں جانتا ہوں فقط تیرے کرم سے۔۔۔! جنہیں میں بھول جاتا ہوں فقط اپنے گناہوں کی وجہ سے۔۔۔! تیری تعریف ہر شے کر رہی ہے زبانِ حال سے اور قال سے بھی تیری تعریف ہر دم ہور ہی ہے زمین پر، آسمانوںمیں، خُدایا جہاں بھی اور جو کچھ ہے خُدایا عنایت سے تری ہی بہرہ ور ہے مہربانی تری جاری و ساری تری سب خوبیاں تیری ہیں آقا بلا شک تو ہی ہے معبودِ یکتا تو باقی ، دائم و قائم ہمیشہ میں تیرے دست قدرت میں سلامت ص

بلیک ہول

 ایک عرصہ ہوا کہ ہاکنگ نے کہا تھا کائنات پھیل رہی ہے معمہ وقت کا آخر کو تفہیم کی ساخت میں اتر رہا ہے دور آسمانوں میں کہیں سیاہ دیواروں کے پیچھے وقت کی آستینوں میں پڑے تسبیح کے دانے ہیں جو دانہ بھی اٹھانا چاہتے ہو انگلیاں کھولو خرد کی گتھیوں کے اب سلجھنے کا وقت آیا آسمانوں کے دہانوں پر شب رنگ سُوراخ سمٹ رہے ہیں اپنے وجود کو چھو لینے کی کوشش میں نگل رہے ہیں خود کو ہمارا آج جب کل بن رہا ہوگا رات کو رو رو صبح کیا جو دن کو جوں توں شام کیا جو وقت کا ایک چھوٹا سا پیکٹ بن کر سمٹ رہا ہے بلیک ہول کے اندر یہ لمحے چھوٹ کر ہم سے کہیں محفوظ رہتے ہیں مجھے امید ہے ہاکنگ کی تھیوری سے کہ اک دن جب صبح اُٹھ کر میں  اخباروں کے پنّے اُلٹ کر یہ سرخی آنکھ میں بھر کر کہ ہاکنگ سچ بتاتا تھا

نظمیں

اُسے کہنا دسمبر آگیا ہے اسے کہنا دسمبر آیا ہے خزاں نے بہار کی خوبصورتی کو چنارکے زرد پتوں میں دفن کردیا ہے ان پتوں کی جوانی اب بڑھاپے کی سسکیوں میں رورہی ہے اب یہ رونا بھی رفتہ رفتہ دم توڑ دے گا اور اپنے معشوق کی بے بس ٹہنیوں سے جدائی کاکرب سہتے سہتے   یہ سوکھے پتے خاک نشین ہوجائیں گئے پھر کون انہیں یاد رکھے گا اسے کہنا کہ وہ گلشن جس کے پھولوں کی خوبصورتی دیکھنے والوں کی آنکھوں کو بھی   خوبصورت بنا دیتی تھی اور جس کی مہک  سانس میں بھی خوشبو گھول دیتی تھی اسے اب  اونگھتے بلبل حسرت سے تک رہے ہیں وہ بلبل جنہوں نے گلشن میں بہار کے نغمےگائے تھے جن کی سریلی آواز پر تتلیاں پھولوں کے گرد رقص کرتے کرتے قوس قزح کو بھی شرمندہ کردیتی تھیں لیکن اب موسم بدلتے ہی نہ جانے وہ تتلیاں

ڈائری کا ایک صفہ

ہوائیں خوشبودار کبھی تھیں اب کے ہو گئیں ہیں زہریلی                     سیاہ ۔۔۔۔۔کثیف     جہاں پرندے کو چونچ مارنی تھی وہاں وہ اپنے پیر ماررہا ہے  جہاں اُسے قے کرنی تھی وہاں وہ چاٹ رہا ہے ُدُھند اور  اگیان دلوں میں آ نکھوں میں لہو میں تیر رہا ہے ساعتیں خوف کی موت ومصائب کی مُردار خور چیلوں کی اک سیاہ آسیب کی زد میں انسان جس نے کہا تھا کبھی میں لے آوُں گا تمہارے لئے ریس کا سرخ گھوڑا دعائیںکرنا۔۔۔کہہ کے وہ چلا گیا ہم نے دعائیں تو کیں مگر کر سکے نہیںچھت میں کو ئی سُوراخ  وہ لوٹ کے تو آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر خالی ہاتھ    رابطہ :مدینہ کالونی۔ ملہ باغ حضرت بل سرینگر فون نمبر9419072053  

نعت

 کہوں میں کہ کیا ہیں محمدؐ محمدؐ بڑے مصطفیٰ ہیں محمدؐ محمدؐ دیا نور کا ہیں محمدؐ محمدؐ ضیائے سما ہیں محمدؐ محمدؐ نظر کر ذرا تُو کلامِ خدا پر ہر اک جا لکھا، ہیں محمدؐ محمدؐ تو ذکرِ بنیؐ کر یہ حق یاد رکھنا کہ حق آشنا ہیں محمدؐ محمدؐ تو جائے گا جنت میں بے شک،مگر ہاں! اگر رہنما ہیں محمدؐ محمدؐ یہ اسلام بھی کہہ رہا ہے ازل سے مری بس بقا ہیں محمدؐ محمدؐ کتابِ الٰہی پڑھو تم بھی جانو کتابِ وفا ہیں محمدؐ محمدؐ چمن زارِ الفت میں ہر ایک گل کی  زباں پر سجا، ہیں محمدؐ محمدؐ نبیؐ کے غلامو لگائو یہ نعرہ کہ سب سے بڑا، ہیں محمدؐ محمدؐ کرم یہ خدا کا ہے شادابؔ تم پر تو محوِ ثنا، ہیں محمدؐ محمدؐ     محمد شفیع شادابؔ پازلپورہ شالیمار سرینگر کشمیر،فون نمبر :9797103435  

نظمیں

رام بن ۔۔۔! دریا چشمے میٹھا پانی ہے یہاں زیتون بھائی چارہ کی یہ دھرتی ضلع پُر سکون کائیل، بدھلو، چیڑیہاں ہے سرسبز دیودار سرد کہاں یہ ہوگی دھرتی اُگتے یاں چنار پوگل کی ہے شان نرالی خوشنما ہے گُول لالہ کے ہیں گُل یہاں پر اور کئی بن پھول ذرے ذرے میں یہاں ہیں قدرت کے وہ کرشمے پہاڑوں کے دامن میں دیکھو گرم اُبلتے چشمے نئے سیاحت کے امکاں ہیں زبن کے سبزہ زار نیل ، مہو اور داگن کے بھی دیکھو اُونچے دھار مالنسر کی جھیل یہاں ہے ناون کے ادوار سروا دار کا استھاپن، یاں ہے شاہ اسرارؒ جیلانیؒ کی رحمت ہے یاں نندریشیؒ کے اَستان گُرو دوارا، مندر، مسجد رام بن کی ہیں شان کشمیری ہے خاص زبان یاں پوگلی اس کی بولی سراجی بھی بولی اس کی رام بنی ہم جھولی علم کا گہوارہ ہے رام بن ادب میں اعلیٰ نام فن کی دنیا میں بھی اس کا اپنا ہی مقام اعماؔ

سب کی ماں

بوڑھی بہاراں؛ بیاسی سال کی ہوچکی تھی۔زندگی  کی بیاسی بہاریں دیکھنے کے بعد بھی اس کے حواس خمسہ میں ضعف کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔البتہ لاٹھی ٹیکنے کی عادی تھی اور کہا کرتی تھی کہ آدمی شہر کا ہو یا دیہات کا اسے گھر سے باہر نکلتے وقت ہاتھ میں لاٹھی ضرور رکھنی چاہیے۔کیونکہ کیا معلوم کب کہاں کوئی بندر،کتا،بھینسہ، بیل،گھوڑا یا کوئی اور جانور حملہ آور ہوجائے۔اس کے چہرے کی جھریوں کی جھالر یہ عیاں کررہی تھی کہ وہ زندگی کے کئی نشیب وفراز دیکھ چکی ہے۔دو بیٹے اور دو بیٹیوں کی ماں تھی۔اس کا   رفیق حیات اپنا حق رفاقت ادا کرکے بہت پہلے دنیا سے چل بسا تھا۔دونوں بیٹے وفادار بھی تھے اور خوشحال بھی۔اس کے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں تک کی شادیاں ہوچکی تھیں۔اس کی آنکھوں نے اپنے قصبے کے راج محل کی زیب وزینت دیکھی تھی۔ راجکماروں کے پالنوں کو جھلایا تھا۔اپنے ملک کے بٹوارے کی خبر سن کر آ

نعت شریف

 حبیبِ کبریا جانِ حرم ہیں جان امت ہیں وہ روحِ زندگی ہیں اور وجہ خیر وبرکت ہیں وہ بن کر رحمۃٌ للعالمیں آئے ہیں دنیا میں وہ عفو و در گذر کی شان ہیں وہ جانِ رحمت ہیں انھی کی ذات سے سب کو ملا سرّ طمانینت محمد مصطفی وجہِ سکوں وجہِ سعادت ہیں اطاعت فرض ہے ان کی ہر اک حالت میں امت پر کہ وہ تو مرجع اسلام ہیں قرآن و سنت ہیں محبت اور ہمدردی اخوت اور صلہ رحمی    انھی کے دم سے زندہ ہے وہیں اس کی علامت ہیں ہمیں جو نسبتِ خیر الوری حاصل ہوئی اے شمسؔ اسی نسبت کے صدقے آج ہم سب خیرِ امت ہیں ﷺ ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ باد شاہ یونیورسٹی راجوری  

مدحت مصطفیٰ ؐ

مجھ سے جو رابطہ نبیؐ کا ہے میں خدا کا خدا نبیؐ کا ہے   ایک معبود ایک ہی مصحف ایک ہی راستہ نبیؐ کا ہے   ہونٹ بھیگے ہوئے ہیں خوشبو میں جابہ جا تذکرہ نبیؐ کا ہے   چاند بن کر چمک رہا ہے جو ہو نہ ہو نقشِ پا نبیؐ کا ہے   بخشوائیں گے سب گناہوں کو حشر میں آسرا نبیؐ کا ہے   عرش پر خود خدا نے دی دعوت واہ کیا مرتبہ نبیؐ کا ہے   کفِ اقدس پہ بول اُٹھے کنکر یہ بھی اک معجزہ نبیؐ کا ہے   میں خدا کو تلاش کرتا ہوں پاس میرے پتا نبیؐ کا ہے   ہمدم کاشمیری موبائل نمبر؛7780937221, 9797135705   اِدھر مدحتِ مصطفیؐ  ہو رہی  ہے اُدھر رحمتِ کبریا  ہو  رہی  ہے   بشیرؔ اشکِ غم سے وضو ہورہا ہے نماز ِ محبت  ادا 

نوحہ لکھا چنار کا

 لکھوں! تو کس کا لکھوں؟ اِس کا لکھوں  یا پھر اْسکا لکھوں اْسکا... جس نے اسے بویا یا اُس کا  جو اس کے سائے میں سستایا تھا یا اْسکا جس نے اِسکو سینچا یا پھر اْسکا جس نے  اِسکو … دھیرے دھیرے اہستہ آہستہ چپکے سے قتل کیا کہ... کہ سب کو خبر تھی پر کسی کو پتہ بھی نہ چلا اِس کے قتل ہونے کا یا پھر اِسکو روز دیکھنے والوں کی بصارت و بصیرت... دونوں قتل ہو چکے تھے… نوحہ لکھوں تو کس کا لکھوں لکھنا چاہتا ہوں میں۔۔۔۔ نوحہ اِس چنار کے خونِ ناحق پر      رفیق مسعودی موبائل نمبر؛9650866744  

سانسوں کا اگلا موسم

کہ بس چلے آؤ زندگی کا بوجھ اتار کر دروازے پہ دستک دینی پڑتی ھے موت کو پانے کے لئے زندگی  صرف کرنی پڑتی ھے پائی پائی چکانا پڑتا ھے  قرض کا احسان... زندگی سانسوں کو تھکا دینے کے در پے رہتی ھے خزاں کی زردی رنگوں میں زنگ گھولتی رہتی ہے  تم شاخیں پتے اور ثمر تیاگ دیتے ہو نئے موسم کی آرزو میں آرزوئیں انتظار کو ہرا دیتی ہیں جب تک نئے موسم کا انتظار بوڑھا ہوجاتا ھے بڑھاپا آنکھوں میں اْترتے ہی آہٹیں ٹوٹنے لگتی ہیں بوجھ بھاری ہے گھنگرو سہہ نہیں پاتے.. سفر سمٹ جاتا ھے نشان دھند میں کھو نے لگتا ہے ہارمونیم کی مدھرتا خاموشی  کی منوں مٹّی تلے دب جاتی ھے ہلکی ہلکی ہوائیں پرندوں کے پنکھوں میں ٹھہر جاتی ہیں گھونسلے میں پڑے تنکوں کے اندر پرانی سانسوں کی عبارت دہک اٹھتی ھے دیوداروں پہ پھیلا دھواں پگل

کشمیر کو بچائیں

کشمیر جل رہا ہے کشمیر کو بچائیں آمل کے بیٹھو سارے اس آگ کو بُجھائیں دیکھو جوان کیسے قُربان ہورہے ہیں  بچے بلک رہے ہیں ، انکوذرا سُلائیں کشتی پھنسی ہوئی ہے ساگر کے درمیاں میں جو بھی روکاوٹیں ہوں مل کے انہیں ہٹائیں کیسی مسخ ہوئی ہے تصویرِ ارضِ جنت اپنے لہو سے، اُٹھ کر اسکو ذرا نکھاریں مد ہوش جو ہوئے ہیں ، غفلت میں جو پڑے ہیں  آواز دے کے اُ نکو ،اب نیند سے جگائیں سر کو جھکا کے رکھنا، چپکے سے درد سہنا دن وہ گزر گئے ہیں، دُنیا کو ہم دکھائیں پھوٹی ہیں صبحِ نو کی کرنیں اُفق پہ دیکھو پیغامِ شادمانی سب کو ذرا سنائیں سُنتی جو آئی زہراؔ، صدیوں سے جس چمن کی اُٹھو وطن کے پیارو وہ انجمن سجائیں   زُہرا ؔء جبین بجبہاڑ، اسلام آباد،موبائل نمبر؛9797966285  

بہ یادِ سید محمد ناظم

میں کیسے لکھوں؟ کیسا ملا؟ درد جگر کا! اس روحِ فسردہ پہ لگا گھاوہے گہرا کیا دل پہ گزرتی ہے بتائوں میں تجھے کیا آنکھوں سے رواں اشک ہیں یا خون کا دریا رحلت کی خبر تھی کہ تھا بھونچال کا جھٹکا میرے لیئے تو جیسے قیامت ہوئی برپا فانی ہے یہ دنیا یہاں ہر اک کو ہے مرنا لیکن میں بتائوں تجھے کیا مجھ کو ہے بھرنا  وہ تیری شفقّت ، وہ رفاقت وہ سنبھالا تھا جیسے شب تار میں بھی دن کا اُجالا گلہائے تبسم کا لبوں پر تھا بسیرا اک علم کا ساگر تھا ہر گفتار تمہارا مقصد تھا زندگی کے باغِ حق کو سجانا  باطل کے آگے سر کو جھکا کے نہیں رکھنا  وحدت و رسالت ہی تھا ایمان تمہارا قرآن اور سنت پہ عمل دل کا سہارا صفات ترے نیک، تھا اللہ کا پیارا  دل میں ہمیشہ مؤجزن تھا اسکا وظیفہ اقلیمِ ربط و ضبط وایماں کا شہنشاہ دنیا کی لغزشن

متاعِ زیست؟

سوچ کے سانچوں میں فکرِ شعر اب ڈھلتی کہاں طبع ہے سنگلاخ صورت سوچ پھِر پلتی کہاں   جانتا ہے دورِ غالبؔ کو مِرا ذہنِ بلیغ حسرتاً اِس دور میں شمعِ سُخن جلتی کہاں   شعر گوئی سے وہ باور اور شاعر با مزاج ڈھونڈنے سے اُن کی پائے خاک اب مِلتی کہاں   صحبتِ آزادؔ و عابدؔ کا کبھی حاصل تھا فیض عصرِ نو‘ میں حسرتاً اب وہ فضا مِلتی کہاں   بے سبب دِل کو دلاسا کِس لِئے دیتے ہو یار دار کی اِن ہانڈیوں میں دال اب پکتی کہاں   ہو سکے تو کر لو عُشّاقؔ اب بھی کوئی کارِنیک بعدِ مُردن یہ متاعِ زیست پھِر مِلتی کہاں   عشاقؔ کشتواڑی  صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ فون نمبر9697524469     اب رونے دے۔۔ باتوں سے مجھے تم کتنی مدت  بہلانے  کی ترکیب کروگے ؟

اُستاد

 استاد تیر ے دم سے رونق جہاں کی ہے تیری بقا سے عظمت پیروجواں کی ہے تیری ہی دستگاہ نے ہے آدمی سنوار انسانیت کو تو نے ہر دم دیا سہار تونے ہی بحروبر کے اسرار سارے کھولے تونے ہی کہکشاں میں انسان کو اتارا تیری ہر ایک کوشش اونچی اڑان کی ہے   استاد تیر ے دم سے رونق جہان کی ہے   علم و ادب کے مرکز تونے ہی تو سجائے صحرائوں میں ہزاروں تونے ہی گُل کھلائے رازِ حیات تو نے اقوام کو بتائے ڈوبے ہوے سفینے ساحل سے جا لگائے آقاؐنے تیری عظمت خودہی بیان کی ہے   استاد تیر ے دم سے رونق جہان کی ہے   اللہ نے تجھ کو بخشی ہے شانِ امتیازی تو انبیاء کا وارث ہندی ہے یا حجازی ہوں کتب آسمانی یا فلسفہ یونانی استاد ہی کے ہاتھوں سب کی ہے سرفرازی تفسیر تجھ سے باقی کون و مکان کی ہے    استاد

نظمیں

زمیں پہ دو دو ہلال دیکھوں فلک پہ واحد ہلال ہے اِک، مَیں جِس کا حُسن و جمال دیکھوُں مگر ہَے قُدرت کا مُعجزہ یہ، زمیں پہ دو دو ہِلال دیکھوُں مَیں توڑ لائوں فلک سے تارے، نہیں یہ میری ہَے دسترس میں مگر اِجازت نظر کو ہَے یہ، مَیں اِن کا جی بھر جمال دیکھوُں سیارگاں کی زمیں الگ ہَے، مکاں الگ، واں مکیٖں الگ ہَیں مَیں ڈو‘ب جائوں طلب میں اِن کی، یہی مَیں اَپنا کمال دیکھوُں ثباتِ حاصِل نہ ہَے کِسی کو، جہاں کی ہر شے ہَے آنی جانی مگر جو منظر بدید ہَے اَب، مَیں اُس کا حُسنِ کمال دیکھوُں بوقتِ پیٖری خیال آیا، چلو حرم میں قیام کر لیں تلاشِ راحت میں واں جو پہُنچے، وہاں بھی دنیا سا حال دیکھوُں یہ آزمائش نہیں تو کیا ہَے، جو نبض تھم تھم کے چل رہی ہَے کبھی یہ سوچُوں کہ مر گیا ہوُں، کبھی کہ سانسیں بحال دیکھوُں  فِگار سر کے وُجُود پر اب، علیل