تازہ ترین

سانسوں کا اگلا موسم

کہ بس چلے آؤ زندگی کا بوجھ اتار کر دروازے پہ دستک دینی پڑتی ھے موت کو پانے کے لئے زندگی  صرف کرنی پڑتی ھے پائی پائی چکانا پڑتا ھے  قرض کا احسان... زندگی سانسوں کو تھکا دینے کے در پے رہتی ھے خزاں کی زردی رنگوں میں زنگ گھولتی رہتی ہے  تم شاخیں پتے اور ثمر تیاگ دیتے ہو نئے موسم کی آرزو میں آرزوئیں انتظار کو ہرا دیتی ہیں جب تک نئے موسم کا انتظار بوڑھا ہوجاتا ھے بڑھاپا آنکھوں میں اْترتے ہی آہٹیں ٹوٹنے لگتی ہیں بوجھ بھاری ہے گھنگرو سہہ نہیں پاتے.. سفر سمٹ جاتا ھے نشان دھند میں کھو نے لگتا ہے ہارمونیم کی مدھرتا خاموشی  کی منوں مٹّی تلے دب جاتی ھے ہلکی ہلکی ہوائیں پرندوں کے پنکھوں میں ٹھہر جاتی ہیں گھونسلے میں پڑے تنکوں کے اندر پرانی سانسوں کی عبارت دہک اٹھتی ھے دیوداروں پہ پھیلا دھواں پگل

کشمیر کو بچائیں

کشمیر جل رہا ہے کشمیر کو بچائیں آمل کے بیٹھو سارے اس آگ کو بُجھائیں دیکھو جوان کیسے قُربان ہورہے ہیں  بچے بلک رہے ہیں ، انکوذرا سُلائیں کشتی پھنسی ہوئی ہے ساگر کے درمیاں میں جو بھی روکاوٹیں ہوں مل کے انہیں ہٹائیں کیسی مسخ ہوئی ہے تصویرِ ارضِ جنت اپنے لہو سے، اُٹھ کر اسکو ذرا نکھاریں مد ہوش جو ہوئے ہیں ، غفلت میں جو پڑے ہیں  آواز دے کے اُ نکو ،اب نیند سے جگائیں سر کو جھکا کے رکھنا، چپکے سے درد سہنا دن وہ گزر گئے ہیں، دُنیا کو ہم دکھائیں پھوٹی ہیں صبحِ نو کی کرنیں اُفق پہ دیکھو پیغامِ شادمانی سب کو ذرا سنائیں سُنتی جو آئی زہراؔ، صدیوں سے جس چمن کی اُٹھو وطن کے پیارو وہ انجمن سجائیں   زُہرا ؔء جبین بجبہاڑ، اسلام آباد،موبائل نمبر؛9797966285  

بہ یادِ سید محمد ناظم

میں کیسے لکھوں؟ کیسا ملا؟ درد جگر کا! اس روحِ فسردہ پہ لگا گھاوہے گہرا کیا دل پہ گزرتی ہے بتائوں میں تجھے کیا آنکھوں سے رواں اشک ہیں یا خون کا دریا رحلت کی خبر تھی کہ تھا بھونچال کا جھٹکا میرے لیئے تو جیسے قیامت ہوئی برپا فانی ہے یہ دنیا یہاں ہر اک کو ہے مرنا لیکن میں بتائوں تجھے کیا مجھ کو ہے بھرنا  وہ تیری شفقّت ، وہ رفاقت وہ سنبھالا تھا جیسے شب تار میں بھی دن کا اُجالا گلہائے تبسم کا لبوں پر تھا بسیرا اک علم کا ساگر تھا ہر گفتار تمہارا مقصد تھا زندگی کے باغِ حق کو سجانا  باطل کے آگے سر کو جھکا کے نہیں رکھنا  وحدت و رسالت ہی تھا ایمان تمہارا قرآن اور سنت پہ عمل دل کا سہارا صفات ترے نیک، تھا اللہ کا پیارا  دل میں ہمیشہ مؤجزن تھا اسکا وظیفہ اقلیمِ ربط و ضبط وایماں کا شہنشاہ دنیا کی لغزشن

متاعِ زیست؟

سوچ کے سانچوں میں فکرِ شعر اب ڈھلتی کہاں طبع ہے سنگلاخ صورت سوچ پھِر پلتی کہاں   جانتا ہے دورِ غالبؔ کو مِرا ذہنِ بلیغ حسرتاً اِس دور میں شمعِ سُخن جلتی کہاں   شعر گوئی سے وہ باور اور شاعر با مزاج ڈھونڈنے سے اُن کی پائے خاک اب مِلتی کہاں   صحبتِ آزادؔ و عابدؔ کا کبھی حاصل تھا فیض عصرِ نو‘ میں حسرتاً اب وہ فضا مِلتی کہاں   بے سبب دِل کو دلاسا کِس لِئے دیتے ہو یار دار کی اِن ہانڈیوں میں دال اب پکتی کہاں   ہو سکے تو کر لو عُشّاقؔ اب بھی کوئی کارِنیک بعدِ مُردن یہ متاعِ زیست پھِر مِلتی کہاں   عشاقؔ کشتواڑی  صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ فون نمبر9697524469     اب رونے دے۔۔ باتوں سے مجھے تم کتنی مدت  بہلانے  کی ترکیب کروگے ؟

اُستاد

 استاد تیر ے دم سے رونق جہاں کی ہے تیری بقا سے عظمت پیروجواں کی ہے تیری ہی دستگاہ نے ہے آدمی سنوار انسانیت کو تو نے ہر دم دیا سہار تونے ہی بحروبر کے اسرار سارے کھولے تونے ہی کہکشاں میں انسان کو اتارا تیری ہر ایک کوشش اونچی اڑان کی ہے   استاد تیر ے دم سے رونق جہان کی ہے   علم و ادب کے مرکز تونے ہی تو سجائے صحرائوں میں ہزاروں تونے ہی گُل کھلائے رازِ حیات تو نے اقوام کو بتائے ڈوبے ہوے سفینے ساحل سے جا لگائے آقاؐنے تیری عظمت خودہی بیان کی ہے   استاد تیر ے دم سے رونق جہان کی ہے   اللہ نے تجھ کو بخشی ہے شانِ امتیازی تو انبیاء کا وارث ہندی ہے یا حجازی ہوں کتب آسمانی یا فلسفہ یونانی استاد ہی کے ہاتھوں سب کی ہے سرفرازی تفسیر تجھ سے باقی کون و مکان کی ہے    استاد

نظمیں

زمیں پہ دو دو ہلال دیکھوں فلک پہ واحد ہلال ہے اِک، مَیں جِس کا حُسن و جمال دیکھوُں مگر ہَے قُدرت کا مُعجزہ یہ، زمیں پہ دو دو ہِلال دیکھوُں مَیں توڑ لائوں فلک سے تارے، نہیں یہ میری ہَے دسترس میں مگر اِجازت نظر کو ہَے یہ، مَیں اِن کا جی بھر جمال دیکھوُں سیارگاں کی زمیں الگ ہَے، مکاں الگ، واں مکیٖں الگ ہَیں مَیں ڈو‘ب جائوں طلب میں اِن کی، یہی مَیں اَپنا کمال دیکھوُں ثباتِ حاصِل نہ ہَے کِسی کو، جہاں کی ہر شے ہَے آنی جانی مگر جو منظر بدید ہَے اَب، مَیں اُس کا حُسنِ کمال دیکھوُں بوقتِ پیٖری خیال آیا، چلو حرم میں قیام کر لیں تلاشِ راحت میں واں جو پہُنچے، وہاں بھی دنیا سا حال دیکھوُں یہ آزمائش نہیں تو کیا ہَے، جو نبض تھم تھم کے چل رہی ہَے کبھی یہ سوچُوں کہ مر گیا ہوُں، کبھی کہ سانسیں بحال دیکھوُں  فِگار سر کے وُجُود پر اب، علیل

میر ی رہگذر

 تیرا وجود ہے ایک نشتر ہرے زخم تھے  میرے جسم   پر میں نے چن لیا تجھے اس قدر  میر ی رہگذر میری جستجو مری آرزو تجھے سوچنا تجھے چاہنا میرا ہر خیال میری ہر نظر کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی تخت نشیں کبھی دربدر میر ی رہگذر میر ی رہگذر مرا واسطہ ہے تجھ سے قریب کا تو جو راستہ ہے میرے نصیب کا ترے تغافل کا کوئی گِلہ نہیں تیرے ناز میرے سر انکھ پر میر ی رہگذر تو میری نہیں تو نہیں سہی تیری آرزو کا مرے چارسو ہے بچھا موت تک کا سفر کسی بہانے ہی سہی   ہوئی مری زندگی تو تیری نذر میری رہگذر میری رہگذر۔۔۔۔۔۔۔!!!    فداؔ حسین رابطہ؛گوری اننت ناگ،9906764712

نعت رسولﷺ

 میری جانب بھی ہو اک نگاہِ کرم اے شفیع الوریٰ خاتم الانبیاءؐ میری جانب بھی ہو اک نگاہِ کرم، اے شفیع الوریٰ خاتم الانبیاء آپؐ نورِ ازل، آپؐ شمعِ حرم، آ پ ؐ شمس الضحیٰ، خاتم الانبیاء آپؐ ہیں حق نگر، آپؐ ہیں حق رساں، سدرۃ المنتہیٰ، آپؐ کے زیر پا آپؐ ہیں مظہر ذاتِ رب العلی رہبرِ حق نما، خاتم الانبیاء آپؐ فخرِعجم، آپ ؐ شانِ عرب، آپ ؐ  فضلِ اَتم، آپ رحمت لقب سرور ذی حشم، شاہِ والا نسب، مرتضیٰ ، مجتبیٰ، خاتم الانبیاء آپؐ ہیں وجۂ تخلیق کون و مکاں، آپؐ کے دم سے ہی یہ زمیں آسماں آپؐ ہیں بے نشانی کا بین نشاں، اے شہِؐ دوسرا، خاتم الانبیاء اے فصیح البیاں، اے بلیغ اللساں، اے وحیدا لزماں، ماورائے گماں آپؐ کا نور ہے از کراں تا کراں، شاہد کبریا، خاتم الانبیاء مرسلِ مرسلاں، سرورِ عرشیاں، ہادی انس و جاں، مقبل مقبلاں آپؐ کی ذا

نظمیں

  اُمید ہے  دریچے میں منتظر ہے کوئی شوخ یہ آس دل میں  لئے کہ شاید روٹھنے والا لوٹے گھر کو اپنے جلدی اور میرے اس آنگن کی مٹّی میں نرم ملائم ہاتھوں سے دو بوند پانی کے ڈال دے اور خوشبوئوں سے مہکا دے اس بنجر آنگن کو اک پھول پیارا سا کھلا کے اور آباد کرے مری دنیا اُمید ہے    ایف آزادؔ دلنوی دلنہ بارہمولہ موبائل نمبر:-9906484847   ہمارا معاشرہ ہوجائے کاش آنکھ کا تارا معاشرہ اُجڑا ہوا ہے آج ہمارا معاشرہ انسانیت کا خون ہوا جا رہا ہے آج بادِ خزاں کی زد میں ہے سارا معاشرہ آلودگی سے پاک ہو،اونچا رہے مقام چمکے فلک پر مثلِ ستارا معاشرہ بیٹی اٹھے بھی کیسے بیچارے غریب کی تم  نے جہیز دے کے بگاڑا معاشرہ رہبر ملانہ کوئی بھی اصلاح کے ل

نظمیں

 اندر کی آواز  جو تیرا قرض ہے مجھ پر اٹھایا جا نہیں سکتا قدم لرزاں ، جہت نا آشنا، وحشت مگر مرا عزم ِ  جواں ہے ہم سفر اور میں امنگوں، چاہتوں کی ایک گٹھڑی کو لئے سر پر بڑھا ہی جا رہاہوں، پر گلی کے موڑ پر جو سانس لینے کو ہوں رک جاتا  تو یکسر اک  نیا منظر ابھرتا ہے تری خوشبو سنور کر جب  مری آنکھوں کے پردے سے منعکس ہونے لگتی ہے تو میری پتلیاں مجھ کو،افق سے پار ، اُس جانب نجانے کس نگر میں چھوڑ دیتی ہیں جہاں نہ ـ ’’تو ‘‘ کا ہے قصہ جہاں نہ  ’ میں ‘‘کی باتیں ہیں جہاں بے چارگی کے موسموں سے پھل اترتے ہیں جہاں وحشت ہی وحشت ہے عجب سکتہ سا طاری ہے زبانیں سب کی جیسے کاٹ ڈالی ہوں مگر اک روشنی سی ہے کہ جس کو دیکھ کر میںنے جسارت کی می

نعتِ رسولؐ

 وہ محبوبؐ خدا وہ نا خدائے بحر و بر آئے  امام المرسلیںؐ وہ دو جہاں کے تاجور آئے  یہاں آئے، وہاں آئے، ادھر آئے، اُدھر آئے وہ یکسر نور تھے جس سمت بھی دیکھا نظر آئے جہاں پر جبر تھا، ظلم و ستم تھا اور اندھیرا تھا بشارت خیر کی لیکر وہاں خیرالبشرؐ آئے برائے اُمتِ عاصی میرے مولاؐ میرے سرورؐ کبھی محشر، کبھی کوثر، کبھی میزان پر آئے عطا کی ہے انہیں کو دین کامل کی سند حق نے یوں آنے کو تو عالم میں بہت پیغامبر آئے شب تاریک میں پیہم بھٹکتے تھے جہاں والے پیامِ صبح لے کر آپؐ بہ وقت سحر آئے اسے اعجازِ شانِ رحمتہً اللعٰلمیںؐ کہییٔ میرے آقاؐ سر عرش بریں بھی دیکھ کر آئے میں سمجھوں قابل صد رشک اپنی زندگانی کو زباں پر گر میرے صلِ علیٰ آٹھوں پہر آئے ہیں اے آثمؔ گروہِ انبیاء میں اک شہِ بطحہٰؐ شبِ معراج جو خلد

نظم

لَو لاک نیاز جَیراجپُوری لَو لَاک لَما خَلقتُ اَلافَلاک   آپؐ ہیں رحمت لِّلعالمیں کہتا ہے خُود اللہ پاک                      لَو لَاک لَما خَلقتُ اَلافَلاک   ریگزار بھی آپؐ کی آمد سے ہوگئے سب لالہ زار خزاں کے موسم میں بھی نُمایاں ہُوا یقینِ فصلِ بَہار بنجر خُشک زمیں لہرائی پہن اوڑھ سَرسبز پوشاک                         لَو لَاک لَما خَلقتُ اَلافَلاک   آپؐ کا اُسوہ آپؐ کی سیرت نہیں ہے کوئی جِس کی مِثال آپؐ کا ثانی ، آپؐ کے جیسا کوئی نہیں ماضی تا حال آپؐ کو ربِّ العالمین نے بخشا وہ اَدب و اِدراک                  لَو لَاک لَم

شہر آشوب…؟

 یہ شہرِ خموشاں ہے …! دور دور تک تربتوں کے کھیت کھیتوں میں ان گنت خودرو سوسن کے پودے خود اپنے آپ کی کاشت کرتے رہتے ہیں پودوں میں سرخ پتے ہیں جن پہ گہرے داغ ہیں محبوب کے تِل کی طرح ہر داغ ہرا ہرا تازہ تازہ سا لگتا ہے کہیں کہیں گہرے گھاؤ ہیں جن میں اندھی گولیاں اور بینا چھرے ابدی نیند سمیٹے ہوئے ہیں مہکتے سوسن کے پھولوں سے اُٹھی تازہ لہو کی خوشبوئیں  شہرِ خموشاں کی فضائیں مہکائے رکھتی ہیں پوہ پھٹتے ہی پودوں کو پرندوں کی چہک جگا دیتی ہے ابابیلیں رقص کرتی ہیں چھوٹے چھوٹے کنکروں کے ساتھ  ریت کے زرّوں کی پازیبیں  باندھ کر سلگتی ریت کے دہکتے سینے پر اوس چہرے دھو دیتی ہے بادِ صبا شب گزیدہ اشک پونچھتی ہے سورج کی شعائیں شب کی سیاہی چوس لیتی ہیں کرب کا موسم دْکھ کا ناشتا کرواتا ہے

’’زبَن‘‘

 (زبَن ۔ بانہال میں خیر کوٗٹ گاوں کے نزدیک ایک خوبصورت صحت افزاء تفریحی مقام ہیں)     رُتیں پیار کی کھینچ لائیں زبَن قطاریں پہاڑوں کی ہیں خوشنما   ہے دیودار و کائیل یہ بدھلو کا ون رواں ہیں دواں ہیں یہاں آبشار   یہ کوئل و بلبُل ہرن کا وطن جڑی بوٹیوں کی یاں بہتات ہے   بنفشہ یہاں اور گلِ یاسمن قطاریں ہیں بھیڑوں کی یاں شاندار   ہے دودھ و دہی اور تازہ مکھن   ٭   پہاڑوں میں ہے یہ جگہ پُر فضا   اوّل شیپ فارم یہ کشمیر کا ہوائیں ہیں تازہ یہ پانی شفاف   پہلگام جیسا ہے یہ دوسرا ہے باغِ بمبُر اور سوندُر ٹاپ بھی   ہیں گاتیں یہ پریاں یہاں جابجا میرے گائوں سے یہ نہیں دور اب   ہے پختہ سڑک کا صحیح رابطہ فضائوں میں ی

نعت

سورج کی کیا مجال نمودار آپؐ ہیں  "اس تیرگی میں مطلعِ انوار آپؐ ہیں"   سرکار خاص آپ ہیں سرکار آپؐ کی غم کیا ہے دوجہان کے غمخوار آپؐ ہیں   اس فوج کے حریف  بھی جھکتے رہے سدا جس فوج کے امیروسالار آپؐ ہیں   جس قوم کے فقیر بھی خیرات کرتے ہیں ہاں اس عظیم قوم کے  معمار آپؐ ہیں   اسرار کائنات بھی رب نے عطا کئے اللہ کے بعد صاحبِ اسرار آپؐ ہیں   بگڑی بنے گی آپ سےانسان کی یہاں  بگڑے ہوئےجہان کو درکار آپؐ ہیں   ڈرتے نہیں ہیں ہم کبھی سورج کی دھوپ سے عادل کے سر پہ سایۂ دیوار آپؐ ہیں   کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر. موبائل نمبر؛9906540315

زندگی

 تُو اپنے بعد بھی اپنا جہاں آباد رکھ آنا تناور اپنی ہستی کا کوئی شمشاد رکھ آنا کوئی تو نام لیوا ہو جہانِ زیست میں تیرا بہ طرزِ عِشقِ صادق تو‘ کوئی فرہاد رکھ آنا کتابِ زیست میں کُچھ کُچھ رقم ہو رستخیزی بھی مُراد و نامُرادی کی اماں رُوداد رکھ آنا سُخن گوئی کا ماحاصل نمود و نام ہے پھِر بھی اِسی ذوقِ گراں کی تُم نئی ایجاد رکھ آنا مُسلّم ہے کہ یہ عالمِ سراسر دارِ فانی ہے حیات و موت کا اپنی مگر رُوداد رکھ آنا غنیمت اِس کو جانو کہ نِشاطِ نیک نامی نے دیا درسِ سُخن تُم کو اِسے آباد رکھ آنا ’’عمل سے زِندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی‘‘ یہ کارِ آزمودہ ہے اُسی کو صاد رکھ آنا    صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ فون نمبر9697524469

خاتونِ خاندانی

 چہرے پر کھیلتی ہے مستی بھری جوانی گویا چمن میں آئی پھولوں کی کوئی رانی   ہونٹوں پر ہے تبسم، ہلکا سا ہے ترنم نغمات میں ہے پنہاں الفت کی ایک کہانی   بل کھارہی ہیں دونوں جانب سے ناگنیں سی زلفیں ہیں یا ہوا میں آفاتِ ناگہانی   کیا چال ڈھال اسکی، گائوں کی یہ پری ہے مزدور کی ہے بیٹی یا حورِ آسمانی   مغرب کے فیشنوں سے رغبت نہیں ہے اسکو یہ زیبِ کاشمیری، خاتونِ خاندانی   انصاف کی نظر سے فیروزؔ اسکو دیکھو اس پیکرِ وفا کا کوئی نہیں ہے ثانی    بجہامہ اُوڑی کشمیر 9622695632

پیغام

سلاسل، قید، زنجیریں، ضعیف العمر قیدی میں شرابی، چور، ڈاکہ زن، لٹیرے، ڈان اور راہزن نہیں کوئی سلاخوں میں، رقیق القلب ساتھی ہیں جواں، بوڑھے اور بچے بھی طبیعت جن کی پختہ ہے غلط کاموں سے خائف ہیں، ضمیر جن کے سلامت ہیں قریبُ المرگ قیدی میں، ہزاروں میں سپاہی ہیں چراغِ سحر ہوں جیلر، ہے مجھ سے خوف کیا ڈرنا! مگر میں بجھ ہی سکتا ہوں، ہے جھکنا کیا اور بِکنا کیا! مری بوسیدہ ہڑیوں میں، جوانوں کی حرارت ہے صبح کی آرزو ہے بس ہوں میں جس کے لئے زندہ   کبھی توپوں تفنگوں سے، کبھی ظلم و جہالت سے صعوبت کیا ہے ظلمت کی، میں پُردم ہوں عزائم میں صبح کی یہ ہوا اصغرؔ پیامبر میری گر ہوگی کہے میرے جوانوں سے، صبح آنی ہے لازم اب   کرالہ ٹینگ، سوپور،  موبائل نمبر؛8493014235

عید مبارک

 کس منہ سے کہے بادِ صبا عید مبارک گلشن میں نہیں آج روا عید مبارک بے چین ہوا اور ہیں مایوس نظارے اب کون کہے کس کو بھلا عید مبارک محظوظ کبھی ہونہ سکیں گی یہ نگاہیں ہو اوراگر جلوہ نما عید مبارک پامال کئے جس نے یہاں پھول ہمارے دیتا ہے وہی دستِ جفا عید مبارک لے آئے غمِ دل کے لئے کوئی ضیافت اس درد کی بن جائے دوا عید مبارک عالم کو سجانے میں جو مصروف بہت ہیں دیتی ہیں اُنہیں چاکِ ردا عید مبارک بے وقت یہاں چاند بہت ڈوب گئے ہیں بے برگ میرے لب پہ رہا عید مبارک بانہوں کے سہارے جو یہاں ڈھونڈ رہے ہیں اُن سے بھی کہے کوئی ذرا عید مبارک ہر آنکھ کو حالات نے ہے خوب رُلایا سب بھول گئے ہیں اے خدا عید مبارک گستاخ سمجھ لیں گے یہاں لوگ تجھے بھی راحتؔ نہ اگر آج کہا عید مبارک    رابطہ؛9419626800  

جوشِ رحمت

 نیکیوں کا سلسلہ رمضان ہے "تزکیہ صبرو رضا رمضان ہے"   مانگ لے بندے تجھے کیا چاہئے کیوں نہ ہوجائے عطا رمضان ہے   نیکیوں کا کررہے ہیں سب شمار  نیک بختوں کی دعا رمضان ہے   کیوں نہ برسے آسماں سے ہر طرف رحمت رب کی گھٹا رمضان ہے   آرہی ہے اس طرف بھی آج کل کچھ مدینے کی ہوا رمضان ہے   آج قدرت کے قلم سے مومنو لکھ رہا ہے رب عطا رمضان ہے    روزہ داروں پر برستی ہے جناب  جوشِ رحمت کی گھٹا رمضان ہے     کشمیریونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر رابطہ۔۔۔9906540315