تازہ ترین

نعت

سورج کی کیا مجال نمودار آپؐ ہیں  "اس تیرگی میں مطلعِ انوار آپؐ ہیں"   سرکار خاص آپ ہیں سرکار آپؐ کی غم کیا ہے دوجہان کے غمخوار آپؐ ہیں   اس فوج کے حریف  بھی جھکتے رہے سدا جس فوج کے امیروسالار آپؐ ہیں   جس قوم کے فقیر بھی خیرات کرتے ہیں ہاں اس عظیم قوم کے  معمار آپؐ ہیں   اسرار کائنات بھی رب نے عطا کئے اللہ کے بعد صاحبِ اسرار آپؐ ہیں   بگڑی بنے گی آپ سےانسان کی یہاں  بگڑے ہوئےجہان کو درکار آپؐ ہیں   ڈرتے نہیں ہیں ہم کبھی سورج کی دھوپ سے عادل کے سر پہ سایۂ دیوار آپؐ ہیں   کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر. موبائل نمبر؛9906540315

زندگی

 تُو اپنے بعد بھی اپنا جہاں آباد رکھ آنا تناور اپنی ہستی کا کوئی شمشاد رکھ آنا کوئی تو نام لیوا ہو جہانِ زیست میں تیرا بہ طرزِ عِشقِ صادق تو‘ کوئی فرہاد رکھ آنا کتابِ زیست میں کُچھ کُچھ رقم ہو رستخیزی بھی مُراد و نامُرادی کی اماں رُوداد رکھ آنا سُخن گوئی کا ماحاصل نمود و نام ہے پھِر بھی اِسی ذوقِ گراں کی تُم نئی ایجاد رکھ آنا مُسلّم ہے کہ یہ عالمِ سراسر دارِ فانی ہے حیات و موت کا اپنی مگر رُوداد رکھ آنا غنیمت اِس کو جانو کہ نِشاطِ نیک نامی نے دیا درسِ سُخن تُم کو اِسے آباد رکھ آنا ’’عمل سے زِندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی‘‘ یہ کارِ آزمودہ ہے اُسی کو صاد رکھ آنا    صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ فون نمبر9697524469

خاتونِ خاندانی

 چہرے پر کھیلتی ہے مستی بھری جوانی گویا چمن میں آئی پھولوں کی کوئی رانی   ہونٹوں پر ہے تبسم، ہلکا سا ہے ترنم نغمات میں ہے پنہاں الفت کی ایک کہانی   بل کھارہی ہیں دونوں جانب سے ناگنیں سی زلفیں ہیں یا ہوا میں آفاتِ ناگہانی   کیا چال ڈھال اسکی، گائوں کی یہ پری ہے مزدور کی ہے بیٹی یا حورِ آسمانی   مغرب کے فیشنوں سے رغبت نہیں ہے اسکو یہ زیبِ کاشمیری، خاتونِ خاندانی   انصاف کی نظر سے فیروزؔ اسکو دیکھو اس پیکرِ وفا کا کوئی نہیں ہے ثانی    بجہامہ اُوڑی کشمیر 9622695632

پیغام

سلاسل، قید، زنجیریں، ضعیف العمر قیدی میں شرابی، چور، ڈاکہ زن، لٹیرے، ڈان اور راہزن نہیں کوئی سلاخوں میں، رقیق القلب ساتھی ہیں جواں، بوڑھے اور بچے بھی طبیعت جن کی پختہ ہے غلط کاموں سے خائف ہیں، ضمیر جن کے سلامت ہیں قریبُ المرگ قیدی میں، ہزاروں میں سپاہی ہیں چراغِ سحر ہوں جیلر، ہے مجھ سے خوف کیا ڈرنا! مگر میں بجھ ہی سکتا ہوں، ہے جھکنا کیا اور بِکنا کیا! مری بوسیدہ ہڑیوں میں، جوانوں کی حرارت ہے صبح کی آرزو ہے بس ہوں میں جس کے لئے زندہ   کبھی توپوں تفنگوں سے، کبھی ظلم و جہالت سے صعوبت کیا ہے ظلمت کی، میں پُردم ہوں عزائم میں صبح کی یہ ہوا اصغرؔ پیامبر میری گر ہوگی کہے میرے جوانوں سے، صبح آنی ہے لازم اب   کرالہ ٹینگ، سوپور،  موبائل نمبر؛8493014235

عید مبارک

 کس منہ سے کہے بادِ صبا عید مبارک گلشن میں نہیں آج روا عید مبارک بے چین ہوا اور ہیں مایوس نظارے اب کون کہے کس کو بھلا عید مبارک محظوظ کبھی ہونہ سکیں گی یہ نگاہیں ہو اوراگر جلوہ نما عید مبارک پامال کئے جس نے یہاں پھول ہمارے دیتا ہے وہی دستِ جفا عید مبارک لے آئے غمِ دل کے لئے کوئی ضیافت اس درد کی بن جائے دوا عید مبارک عالم کو سجانے میں جو مصروف بہت ہیں دیتی ہیں اُنہیں چاکِ ردا عید مبارک بے وقت یہاں چاند بہت ڈوب گئے ہیں بے برگ میرے لب پہ رہا عید مبارک بانہوں کے سہارے جو یہاں ڈھونڈ رہے ہیں اُن سے بھی کہے کوئی ذرا عید مبارک ہر آنکھ کو حالات نے ہے خوب رُلایا سب بھول گئے ہیں اے خدا عید مبارک گستاخ سمجھ لیں گے یہاں لوگ تجھے بھی راحتؔ نہ اگر آج کہا عید مبارک    رابطہ؛9419626800  

قرآن

 نہ مٹے گا نہ مٹاہے قرآں   دستِ قدرت کا لکھا ہے قرآں منبعِ صدق و صفا ہے قرآں   رحمتِ ذاتِ خدا ہے قرآں قِرأتِ صبح و مَسا ہے قرآں   ربّ ِ یکتا کی صدا ہے قرآں جلوئہ غارِ حرا ہے قرآں   نور سے لکھا گیا ہے قرآں ایک نعمت ہے عطا ہے قرآں   عقل و حکمت کی بِنا ہے قرآں ہو مرض کوئی شفا ہے قرآں   سب دُعائوں کی دُعا ہے قرآں ایک اک حرف ہے اِس کا روشن   نور آنکھوں کا ہُوا ہے قرآں دُھوپ میں جیسے گھٹا ہو سر پر    حبس میں بادِ صبا ہے قرآں کتنے ہونٹوں پہ رواں ہے ہر دم   کتنے سینوں میں بسا ہے قرآں دینِ کامل کا ہے آئین یہی   ہادی و راہ نما ہے قرآں ڈَھ گئیں جہل کی سب دیواریں    علم کا سیل بنا ہے

جوشِ رحمت

 نیکیوں کا سلسلہ رمضان ہے "تزکیہ صبرو رضا رمضان ہے"   مانگ لے بندے تجھے کیا چاہئے کیوں نہ ہوجائے عطا رمضان ہے   نیکیوں کا کررہے ہیں سب شمار  نیک بختوں کی دعا رمضان ہے   کیوں نہ برسے آسماں سے ہر طرف رحمت رب کی گھٹا رمضان ہے   آرہی ہے اس طرف بھی آج کل کچھ مدینے کی ہوا رمضان ہے   آج قدرت کے قلم سے مومنو لکھ رہا ہے رب عطا رمضان ہے    روزہ داروں پر برستی ہے جناب  جوشِ رحمت کی گھٹا رمضان ہے     کشمیریونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر رابطہ۔۔۔9906540315

بیتی کہانی

 کاش ہوتی دیر پا یہ زِندگانی دوستو پھِر جُدا ہوتے نہ ہم سے میرؔ و فانیؔ دوستو محفلِ شعرا میں ہوتے آج پھِر اقبالؔ و ذوقؔ اورہوتی پھر سے محفل بیکرانی دوستو پھر سے لکھنٔو اور دہلی کا سماں ہوتا بدید مِل کے باہم گر کہ ہوتی شعر خوانی دوستو غزلیہ شعروں میں ہوتا پھر جگرؔ کا سوز و ساز نعرئہ حق لے کے پھر حسرت موہانیؔ دوستو کاش ہوتے غالبؔ و محرومؔ چکبستؔ با حیات پھر سے ہوتی ریختہ کی قدردانی دوستو سُن رہا ہُوں عرشؔ قبلہ آج ہیں اعلیٰ مقام جب پڑھا اُن کو تو پایا آسمانی دوستو کِس قدر دِل سوز قصّہ ہے یہ عُشاقؔ ِ  حزیں کیا سُنائوں آپ کو بیتی کہانی دوستو کیا مِلن مُمکن دوبارہ آپ سے ہو پھر کبھی کیا پتہ کِتنی ہے باقی زِندگانی دوستو     صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ فون نمبر9697524469

نظم

 الہٰی تُو ہم سے نہیں بے خبر ہے  ہمیں غم ہے کیا ، ساتھ تیرا اگر ہے  یہاںدل کوئی اب دھڑکتا نہیں ہے  یوں ہی زندہ لاشوں کا یہ اک شہر ہے  ہمیں کوئی غیروں سے شکوہ نہیں ہے  کہ اپنوں نے پھونکا ہمارا یہ گھر ہے  وِرانوں میں یوں ہی مہک سی نہ آتی کہیں تو کوئی گُل ابھی شاخ پر ہے ہوائوں کو بس میں جنہوں نے کیا ہے  ان ہی کی غلامی میں یہ بحر وبر ہے   زمین بوس ظالم کو لمحوں میں کر دے کہ مظلوم کی آہ میں وہ اثر ہے     احمد نگر، سرینگر،9697334305

ہے یہ میرا وطن

  ہے یہ خُلدِ بریں   جنتِ عنبریں   بِالیقیں بالیقیں   آسماں کی زمیں  حُسن کی انجمن   ہے یہ میرا وطن       دِلکش و دلکُشا   وادئ دل رُبا  اس کی رنگیں فِضا   جاں فَزا جاں فَزا مستیء روح و تن   ہے یہ میرا وطن       پرُ سکوں کو ہسار   نغمہ زن آبشار  دُور تک سبزہ زار   قدرتی شاہکار  جھیل ، دریا ، چمن   ہے یہ میرا وطن       آفریں ، مرحبا   حُسنِ ملبوس کا  برف ،اُجلی رِدا   دُھوپ ، زرّیّں قبا  چاندنی پیرہن   ہے یہ میرا وطن       عِطر، موجِ

نظم

 میری چاہت کیا انجان؟ دل تو ہے میرا نادان گننے بیٹھوں جب نقصان  تھم جائیگا سب طوفان حیلے سارے کر کے دیکھے کچل گئے سارے ارمان سپنوں میں کچھ کھوئی ایسے ہو کر میں خود سے انجان میں نے وارا جیون سارا تم نہ بدلے اے بھگوان ! چھوڑا دھن دولت جسپالؔ وہ نہ چھوڑے مان سمان  رابطہ، نئی دلی، موبائل نمبر؛9891861497      

نعت

 اُمتی شہہ کا بنایا، میں تو اس قابل نہ تھا شکر ہےتیرا خدایامیں تو اس قابل نہ تھا نعت گوئی نے مجھے بخشا ہے کیا اعلی مقام خاک سے مجھ کواٹھایا میں تو اس قابل نہ تھا تاجدارِ انبیاء نے سرورِ کونین نے اپنی محفل میںبلایا میں تو اس قابل نہ تھا بارہویںکے چاند نے ہر سو اجلا کردیا ظلمتِ شب سے چھڑایا میں تو اس قابل نہ تھا ہاتھ میںقرآں دیا، دستورجینے کا دیا جام تقوی کا پلایا میں تو اس قابل نہ تھا ہم کو کیا معلوم اللہ کی رضائیں تھیں کدھر راستہ رب کا دکھایامیں تو اس قابل نہ تھا میں کہاں کرتا زمانے کے خدائوں سے گلہ  کفر سے مجھکوبچایامیں تو اس قابل نہ تھا امن کی تعلیم دی ہے مصطفائی نے مجھے ایک اک شر سے بچایا میں تو اس قابل نہ تھا    کشمیر یو نیور سٹی  حضرت بل ربطہ نمبر؛9906540315   

قطعات

  جفا جُوئی پہ تو مسرور کیوں ہے ستمرانی پہ تُو مغرور کیوں ہے ہے قاتل آدمیت کا تُو ظالم! تجھے ظلم و ستم منظور کیوں ہے   اصولِ آدمیت توڑ بیٹھا  مُروّت ابنِِ آدم چھوڑ بیٹھا کہ عدل و حق سے اور انسانیت سے خدا جانے یہ کیوں منہ موڑ بیٹھا    حکمراں آج بھی سفاک دیکھا دلِ انسانیت صد چاک دیکھا یہ انسانی حقوق اب بھی ہیں پامال مُلک گیروں کا دل ناپاک دیکھا   جموں وکشمیر  موبائل نمبر؛9018487470

آمدِ ماہِ رمضان

 آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ ماہِ اِنعام و فیضان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ پچھلی قوموں کی طرح مُسلمان پر فرض روزے ہُوئے اہلِ ایمان پر کہہ رہا ہے یہ قُرآن اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ خوش نصیبوں کو پِھر یہ مہینہ مِلا رحمتوں برکتوں کا خزینہ مِلا ہو گئے قید شیطان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ لیلتُ القدر والا مہینہ ہے یہ غزوۂ بدر والا مہینہ ہے یہ اُترا اِس ماہ میں قُرآن اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ ہِیرا موتی جواہر نگینہ ہے یہ ہر مہینہ سے افضل مہینہ ہے یہ ماہِ رمضان کی شان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ دین و دُنیا بنانے کے دِن آ گئے مانگنے اور پانے کے دِن آ گئے خوش ہُوئے اہلِ ایمان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ یاد اللہ تعالٰی کو دِن رات کر

عالمِ اضطراب میں

 میرے شہر میںیہ جنون ہے    کہیں آگ ہے، کہیں خون ہے  کہیں گولیاں ،کہیں سنسنی   کہیں آہ ہے ،کہیں نغمگی ہے  کہیں روگ ہے ،کہیں درد و غم    کہیں سوگ ہے ،کہیں ہے ستم  کہیں موت ہے ،کہیں زندگی   کہیں شور ہے ،کہیں خاموشی  کوئی پاسباں ہے نہ رہنما    کہیں رہگزر ہے نہ راستہ   کہیں یاس ہے ،کہیں ہے زیاں    کوئی بات ہو توکٹے زباں میرا کاشِمر ہے لہو لہو    ہے کہیں نہیں اسکا رنگ و بو کرے کس قدر درد و غم بیاں    یہ تیرا عقیلِِؔ ناتواں ذرا رحم کر اے مرے خدا    تو ہی دشمنوں سے اِسے بچا       متعلم گورنمنٹ ڈگری کالج شوپیان 8491994633  

فضائل رمضان

 ماہ رمضان کامہینہ ہے عبادت کیلئے روزہ داری، شب گزاری اور تلاوت کیلئے   کیا بہاریں چھا گئی ہیں آمدِ رمضان کی ہورہی پہچان ہر سو صاحبِ ایمان کی   شرف و عزت اور کرامت کا مہینہ ہے یہی اہلِ ایمان کی ہدایت کا قرینہ ہے یہی   یہ عنایت ہے خدا کی عالمِ اسلام پر ہم بھی ’’صدقہ‘‘ دے رہے ہیں بس خدا کے نام پر   وقتِ سحری ہورہی جو نور کی برسات ہے مومنوں کے واسطے یہ خُلد کی سوغات ہے   اس مبارک ماہ میں قرآن نازل ہوگیا ’’قدر‘‘ کی اِک رات کو یہ شرف حاصل ہوگیا   بس دعائوں میں اثر ہے رات دِن اِس ماہ میں اے مظفرؔ معاف ہوتی ہے ہر خطا اس راہ میں   حکیم مظفر حسین باغبان پورہ موبائل نمبر:9622171322  

نعت

 میں جو دیکھوں گا کسی روز مدینہ تیرا بیٹھ کر لکھّوں گا روضے میں قصیدہ تیرا   تیری سیرت کو نگاہوں میں بساتا ہوں جب میری آنکھوں میں چلا آتا ہے نقشہ تیرا   تیرے فیضان رسالت کی جھلک ہے ہر سو ساری دنیا پہ ہے چھایا ہوا سایہ تیرا   رشک کرتے ہیں ہلال و مہ و انجم سب ہی یاد آتا ہے انھیں جب کبھی چہرہ تیرا   مشک وعنبر نے مہک تھوڑی سی پائی اس کی معدنِ خوشبوئے عالم ہے پسینہ تیرا   حشر میں جب فقط اعمال ہی کام آئیں گے سب گنہگاروں کو بس ہوگا سہارا تیرا   عمر بھر اور کسی جام کی خواہش نہ ہوئی جس نے اک بار پیا ساغر و صہبا تیرا   شمس بس تیرا ہی سودائی ہے آقا میرے کھینچ کر لایا ہے طیبہ اسے سودا تیرا   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹ

محبت

 دُعا دیتی ہے ماں لخت جگر کو   نذر کرتی ہے جاں نورِ نظر کو اُٹھاتی ہاتھ ہے شام و سحر کو   ترستی ہے دُعائوں کے اثر کو یہ دردِ دل نہیں تو اور کیا ہے یہی پنہاں جمالِ فتنہ گر میں   یہی رقصاں جلالِ پرُ خطر میں اسی کا لُطف ہے دردِ جگر میں   یہی شبنم فشاں دامانِ تر میں اسی میں مست ہر شاہ و گدا ہے اسی کی خو ہے طائر کی پھبن میں   اسی کی بُو گلاب ونسترن میں یہی ہے بزم آرا انجمن میں   یہی ہے قصۂ دار و رسن میں اسی سے چاک ہر گُل کی قبا ہے یہی تاباں مرے اشکِ سحر میں   یہی سوزاں مرے قلب و جگر میں اسی کی تابشیں لعل و گہر میں   یہی ہے مضطراب برق و شرر میں یہی جانِ بشیرِؔ بے نوا ہے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاط) کشتواڑی موبائل نمبر؛9018

منقبت

 کس بلندی سے مجھے تونے نوازہ عباسؑ پڑھ رہا ہوں ترا محفل میں قصیدہ عباسؑ   ظلم کے آگے جھکیں خوف زدہ ہوں شر سے چاہنے والوں کا تیرے نہیں شیوہ عباسؑ   ثانیٔ حیدرِ کرّار لقب ہے تیرا فاتحِ خیبر و خندق کی تمنا عباسؑ   اک تمنا ہے کہ ہونٹوں سے لگا لے اک بار ڈھونڈتا پھرتا ہے اب بھی تجھے دریا عباسؑ   تیرے روضے کی زیارت ہو تو آنکھیں بینا ورنہ بیکار ہے آنکھوں کا اُجالا عباسؑ   صبر، احساس، وفا، عزم، شجاعت، ہمت دو کٹے ہاتھوں سے لکھ سکتے ہیں کیاکیا عباسؑ   نام سنتے ہی چھلک آئیں لہو سی آنکھیں آنسوئوں نے مرے رخسار پہ لکھا عباسؑ   جنگ میں کر دیا پامال اجل نے فوراً جو ہوا تیری نگاہوں کا نشانہ عباسؑ   تو پیمبر ہے شجاعت کے جہانوں کا مگر تجھ پہ اُترا ہے اطاعت

منقبت

 پیغامِ صبح، صبحِ ولادت حُسین ؑ کی  مانندِ آفتاب ہے شہرت حُسین کی اﷲ رے یہ شان یہ عظمت حُسین ؑکی ہاں نسبتِ رسول ؐ ہے نسبت حُسین ؑ کی ہے مشعلِ حیات شہادت حُسین ؑکی  واجب ہے سرفروشوں پہ بیعت حُسین کی  جھک جھک کے چاند تاروں نے پیہم کئیے طواف وہ منبعٔ جمال تھی صورت حُسینؑ کی اسلام کی بقا کے یہ زریں اصول ہیں  حُبِّ رسولؐ او ر اطاعت حُسینؑ کی  سجدہ طویل کرنے سے ثابت ہوا ہے یہ سنتِ رسول ؐ کی ہے محبت حُسینؑ کی ممتاز اس لئے ہوئے دونوں جہان میں گلہائے خلد کو ملی رنگت حُسین ؑ کی جو راہِ حق میں کٹ گیا وہ سر فراز ہے  کہتی ہے یہ بلندی و رفعت حُسینؑ کی کرتے ہیں کیسے قوتِ باطل کو پاش پاش یہ درس دے رہی ہے شہادت حُسین ؑ کی  آثم ؔ اسی یقین پر ہے شاد و مطمئن آثمؔ حسین ؑ کا ہے اور جنت حُسی