تازہ ترین

نعت

دلکشی گفتار میں چہرے پہ رعنائی بہت چاند کو دیکھا تو مجھ کو انؐ کی یاد آئی بہت   روشنی شمس و قمر کی آپ سے ہے مستعار آپ کے چہرے کی ضوء تاروں نے ہے پائی بہت   آج کل صبح ومسا لکھتا ہوں میں نعت نبی اس وظیفے سے مرے دل میں ہے برنائی بہت   گر دلِ مومن میں انؐ کے عشق کی خوشبو نہیں حشر میں یہ بات ہوگی وجہ رسوائی بہت   اے خدا دنیا کو حبِّ مصطفی کی دے ضیاء دہر میں ہے کفر وباطل کی گھٹا چھائی بہت   جن پہ اصحابِ محمدؐ جان کرتے تھے نثار شمسؔ بھی اے دوستو ان کا ہے شیدائی بہت   ڈاکٹر شمس کمال انجم بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری  

’چھوٹیئے‘

 (کٹھوعہ کے دلدوز واقع کے پس منظر میں)   مجھے بس ’’چھوٹیئے‘‘کے خون کی روداد  لکھنے دو ہوئی ہے کس طرح تذلیل اور برباد لکھنے دو   تیری معصومیت پہ رحم نہ آیا جنہیں پل بھر وہ کافر ہیں انہیں ابلیس کی اولاد لکھنے دو   ہوس میں روندھ دیتے ہیں یہ اپنی بہن بیٹی کو مجھے تم آج نہ روکو انہیں جلاد لکھنے دو   کہاں منصف، کہاں انصاف کی تم بات کرتے ہو نہیں ہے کوئی مسلم دیش میں آزاد لکھنے دو   نبیؐ کے جو نہ ہو پائے وہ میرے یار کیا ہونگے کہ مجبوری کے باعث ہوں یہاں آباد لکھنے دو   تمہارا خون اک دن ’’چھوٹیئے‘‘یہ دن دکھائے گا نہیں ہو گا کوئی ظالم یہاں آباد لکھنے دو   سردار جاوید خان مہنڈر، پونچھ رابطہ؛ 9697440404

نعت

 جچا کلی کا گریباں نہ پُھول کا دامن ملاجو ہم کو ہمارے رسولؐ کا دامن   دلِ عدو کو بھی مَہکا دیا محبت سے گُلاب نے نہیں چھوڑا ببول کا دامن   جہاں نکھر گیا فیضانِ کُلِِ رحمت سے کہ جیسے صاف ہو بارش سے دھول کا دامن   ہٹا قدم نہ رہِ مُستقیم سے اُن کا چُھٹا نہ ہاتھ سے حق کے اصول کا دامن   یہ کہکشاں کی رِدا پر ٹکے ستارے نہیں سجا ہے کفشِ محمدؐ کی دھول کا دامن   دلوںمیں ڈال دیا لاَ اِلٰہ اِلاّ اللہ اگرچہ تنگ تھا جذب وقبول کا دامن   اُنہوں نے بھر دیا علم و عمل کی دولت سے کہ خالی خالی تھا قومِ جہول کا دامن   سوانبیؐ کے،دُرِ مغفرت سے محشر میں بھرے گا کون شبیبِِؔ ملول کا دامن   ڈاکٹر شبیب ؔرضوی کاٹھی دروازہ، سرینگر9906685395

نظمیں

نظم خوشی بھی چاند جیسی ہے  کبھی آدھی کبھی پوری کبھی دکھتی نہیں ہے یہ میں غم کی بات جو چھیڑوں تو غم یہ آسماں سا ہے ہمیشہ سر پہ رہتا ہے  ستارے دکھ کی قسمیں ہیں  کہ جو لاکھوں کروڑوں ہیں زمیں یہ زندگی سی ہے جو گردش میں ہمیشہ ہے  یہ دل شمع کے جیسا ہے کہ جس کی لو ہے دھڑکن سی  وفا شاہین جیسی ہے نظر کم ہی یہ آتی ہے   واحد بھدرواہی رابطہ ؛8082024906     مَیںاقبالؔ کو  سر بہ سر دیکھتا ہُوں میں جب اپنا ادبی سفر دیکھتا ہُوں تصوّر میں ہمراہ نفر دیکھتا ہُوں ہُوئی متحرک جب سے ہے چشمِ بینا مَیں اقبالؔ کو سر بہ سر دیکھتا ہُوں علامہؔ ہے شعرا میں اقلیم صو‘رت گراں اُس کا شعری سفر دیکھتا ہُوں پڑھا جب سے حافظؔ و رومیؔ کو مَیں نے مَیں خود کو تصوّف کا گھر دی

’’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو‘‘

 میں حوّا کی بیٹی ہوں مریم، سیتا، سارہ ہوں پاروتی، ساوتری ہوں لل، لکھشمی، شیلا ہوں مجھ کو راون کے چیلوں اور راکھشسوں، شیطانوں نے مانوتا کے برندابن سے پاپوں کی لنکا میں لایا دن دہاڑے بھگوان کے گھرمیں بھولی بھالی مورتیوں اور دیوی دیوتائوں کے آگے ننگا کرکے ترسایا ہے یعنی ساری انسانیت کی عزت، عفت، عصمت لوٹی دین دھرم کو شرمایا ہے گوتم بُدھ کی جنم بھومی میں ہِنسا کی گھٹنا ہے گھٹائی یوں مجھ کو مجبور کیا ہے کہ چلّا چلّا کر مانگتی ہوں ’’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو‘‘   محمد یوسف مشہورؔ کپوارہ،موبائل نمبر؛9906624123  

’’ گم کردہ راہ‘‘

 لغزش ہوگئی تھی کہ گندم کے دانے نے بہکایا برائی کا ایک قطرہ اب تو دریا بن گیا ہے میرے مولا تم نے سبھی خطائیں تو بخشی ہیں پھر اک لمحے کی بھول پر میں نے کیوں صدیوں کی سزا پائی! کہیں میری یہ نادانی تیری ذاتِ پنہاں کے لئے آشکار ہونے کا باعث تو نہ بنی ہاں میں نے واپس لوٹنے کا وعدہ کیا لیکن کیا کروں کہ منزل سے ہی بھٹک گیا اِک بار میرے قدم خلد سے کیا نکلے! پھر یوں ہوا کہ لوٹ جانے کا راستہ نہیں ملا   صابرؔ شبیربڈگامی ریسریچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی Email:darshabir36037@gmail.com   فون نمبر؛9596101499     

نظمیں

      ہیں بیٹھے خوار گرمی میں فضائے پُر تمازت کی لِئے دستارگرمی میں بڑی مُدّت سے بیٹھے ہیں بہُت لاچارگرمی میں یہ سامانِ اذیّت کی فراوانی ارے توبہ بلکتے شیر خواروں پہ اماں یہ مارگرمی میں کہ بحرِ زیست کا اب کے طلاطم خیز منظر ہے نہ زیبِ تن ہے کُرتا اب، نہ ہی شلوارگرمی میں مزاجِ وقت کا اپنا وطیرہ بے بضاعت ہے کہیں سردی کے متلاشی ہیں بیٹھے خوارگرمی میں الٰہی محوِ حیرت ہوں تِری اس کبریائی پر ہے کوئی قصرِ شاہی میں کوئی نادارگرمی میں دفینے برق پاروں کے چنابؔ و رودِ جہلمؔ ہیں نکالو یہ متاع ان سے مِری سرکارگرمی میں کبھی عُشّاقؔ ممکن تھا ملن مہ وش سے گلیوں میں نظر آتا نہیں اب کے کوئی گُلنارگرمی میں   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ  ـ:  9697524469 &

مقتولہ کے نام

خوں چکاں ہے تیری داستاں آصفہ  دیدہ گریاں ، زمیں آسماں آصفہ  ساری دنیا پہ چھایا ہے رنج و الم  ماہ و خورشید ، ماتم کناں آصفہ  شرم ساری بھی ہے،اشک باری بھی ہے خشک و تر ، محو ِآہ و فغاں آصفہ  تیرے ماں باپ اب یاں اکیلے نہیں اْن کے ہمراہ ہیں پیر و جواں آصفہ  اْن کی آہوں سے پتھر بھی شق ہوگئے  رو رہے والدین ، بیٹیاں آصفہ  جن درندوں نے مارا ، گھسیٹا تجھے  تھوکتی ہے اُنہیں ہر زباں آصفہ  جرم کے پردہ داروں کی کیا گت بنی  اُن سے نالاں مکین  و مکاں آصفہ شر م ساری ہے اُس کو بھی ، بعد مدت کہا  وہ جو خاموش تھا حکمران آصفہ  تیر ی چیخیں، تڑپنا ،وہ آہ و بکاء  جائے گا نا کبھی رائیگاں آصفہ  دبدبہ ہار جائے گا جیتے گا حق  کہہ رہا ہے زماں

منقبت

 وہ علم بردار وہ کوہِ وفا شیرِ جری مظہرِ شیرِ خدا قندیلِ برجِ ہاشمی کربلا کا قافلہ سالار ہمت کا دھنی فوجِ باطل میں تھی جس کے دبدبے سے کھلبلی مَشک جس نے نہر پر تیروں کی بارش میں بھری مشک بھی وہ بن گئی تاریخ جو اطفال کی جس کے آگے سر بہ خم تھی سر کشوں کی سر کشی جس کی ٹھوکر میں تھی تاج و سلطنت کی برتری ہاں وہی عباسؑ بازوئے حسینؐ ابنِ علی ؑ جس کے خوں کا ذکر ہے پیہم بعنوانِ جلی گلشنِ زہرا ؑ پہ کی جس نے نچھاور زندگی جس کے دل پہ ضرب تھی آلِ عبا ؑ کی تشنگی جس کے چہرے سے عیاں تھی حوصلوں کی پختگی وہ جری عباسؑ جس سے تھی عدو میں تھر تھری ہاں وہی جاںباز شیدائے حسینؑ ابنِ علیؑ یعنی شرحِ لا تخف عکسِ جلال حیدریؑ آہ وہ بازو بریدہ وہ شجاعت کا دھنی جس کی اے آثمؔ بہت مشہور ہے زندہ دلی  اے علم بردار ہو  تیری  شجا

مُناجات

 تو کریم و کارساز و چارہ ساز تو رحیم و مہرباں بندہ نواز کیوں نہ ہو اس بات پر بندے کو ناز تو ہے اس کا چارہ ساز و کار ساز تیری ہستی ہے نہاں سربستہ راز یاد تیری دل کا مرہم دل نواز لوگ سب ہیں مبتلائے حرص و آز ہے فقط عارف ترا دانائے راز دین و دُنیا کا ہے تُو ہی مدعا تُو حقیقت ما سواء سب ہے مجاز راحتِ جاں، دل کا اطمینان تُو عشق تیرا رُوح کا سوز  و گُداز تیری پہچاں سے ہے افضل آدمی ورنہ اک مٹی کا پُتلا بے جواز باعثِ تسکین تیری یاد ہے بس اسی میں کامیابی کا ہے راز یاد تیری مرہمِ زخمِ جگر فتنۂ دُنیا اگر ہے جاں گُداز دل جو ٹوٹا وہ بنا مسکن ترا تیری نظروں میں ہُوا وہ سرفراز   بشیر احمد بشیرؔ(ابن نشاط) کشتواڑی، موبائل نمبر؛7006606571  

معصوم آصفہ کے نام

 انصاف چاہئے میں آج آزاد ہوں۔۔۔! بشر کے شر سے کیونکہ بشر اب شر بن گیا ہے میں اس شر سے صرف اتنا پوچھتی ہوں کہ ‘ تونے کیوں میری زندگی  مجھ سے چھین لی مذہب کے لئے یا سیاست کے لئے؟ میں نہ تو سیاست جانتی تھی اور نہ ہی مذہب کا کچھ پتہ تھا  میری سیاست اور میرا مذہب  صرف میری زندگی تھی جس کوتم نے بڑی بے رحمی سے  ختم کر دیا میں معصوم اور نافہم معصوم بچی صرف جینا چاہتی تھی لیکن مجھے ماردیا  ’بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ‘جیسے  کھوکھلے نعرہ دینے والو ںنے میں اگرچہ درندوں کی دنیا سے  آزاد ہوگئی مگر میری زخمی روح  ابھی بھی ترستی ہے ماں کی میٹھی لوری کے لئے اور انصاف مانگتی ہے ان انصاف گھروں سے جن کے پاسبان آج کالے لباس میں انصاف

قطعات

 وردِ زباں نے پایا شریعت کا سلسلہ آنکھوں میں بس گیا ہےطریقت کا سلسلہ ساقی نبیؐ ہیں بانٹتے ہیں جامِ معرفت اپنا  لیا ہے دل نے حقیقت کا سلسلہ   انؐ سے ہی چل پڑا ہے سخاوت کا سلسلہ انؐ ہی کی دسترس میں شفاعت کا سلسلہ جن کے چلن سے ہم کو ملی راہِ مستقیم راحت کا سلسلہ ہے طراوت کا سلسلہ   اُلفت کا راستی کا اخوّت کا سلسلہ آقاے دو جہانؐ ہیں رحمت کا سلسلہ عرشِ بریں پہ رب کے جو مہمان بن گئے رفعت کا سلسلہ ہیں وہؐ عظمت کا سلسلہ   اللہ کے فرمان سے مدحت کا سلسلہ آیاتِ درسِ فیضِ تلاوت کا سلسلہ قائم ہے جس پہ حرفِ زماں ظرفِ کائنات اے ذوالمنن ہے آپکیؐ سنّت کا  سلسلہ     علی شیدّا  ( نجدہ ون) نپورہ اسلام آباد کشمیر موبائل نمبر؛9419045087

اُٹھ جائو

 ہے فضا سوگوار، اُٹھ جاؤ میرےدل کے قرار، اُٹھ جاؤ آج کی تیری اس جدائی سے جارہی ہے بہار، اُٹھ جاؤ کھول آنکھیں میں تیری ہی ماں ہوں  سن لےمیری پکار، اُٹھ جاؤ تجھ کو مہندی لگاؤں گی پہلے میرےراجہ کمار،اُٹھ جاؤ راہ تکتی ہے تیری چھوٹی بہن اس لئے ایک بار،اُٹھ جاؤ تجھ کو کس طرح ہم نے پالاتھا سب ہوا تار تار، اُٹھ جاؤ دیکھ یہ تیرا دوست آیا ہے یہ بھی ہے اشکبار، اُٹھ جاؤ تیرے ہی آسرے کا والد بھی کر رہا انتظار، اُٹھ جاؤ جو بھی چاہو وہ مانگ سکتے ہو ہے تجھے اختیار، اُٹھ جاؤ تیرا جانا یہ اس قدر بیٹے کچھ نہیں سازگار، اُٹھ جاؤ کب تلک سو بھی جاؤ گےلوگو اب نہیں جیت ہار، اُٹھ جاؤ اشتیاقؔ آخرش یہ گِن لے گا ایک، دو، تین، چار، اُٹھ جاؤ   اشتیاقؔ کاشمیری آرونی اسلام آباد،ر

سلام بحضور مولائے کائنات علی ابن ابی طالب ؑ

   شاہِ مرداں شیرِ یزداں فاتحِ خیبر سلام خاصۂ داور سلام اے عزم ِ پیغمبرؐ سلام اے علیٔ مرتضیٰؑ اے قاسم ِکو ثر سلام  اے بہارِ پنجتنؑ اے غنچۂ سرورؐ سلام ’لا  فتیٰ  الا  علی  لا سیف  الا  ذ و لفقار‘ اس عظیم المرتبت اعزازِ اعلیٰ پر سلام آپ کی شانِ سخاوت ہے عیاں قرآن سے آپ کے صبر و رضا پر ہے جہاں ششدر، سلام آپ ہیں مولودِ کعبہ آپ با ب العلم ہیں اے خطیبِ بزم اور اے رزم کے حیدر ؑسلام کہکشانِ مصطفیؐ کے تابشِ انور سلام پڑھ رہے ہیں آپ پر سب انجم و اختر سلام سوئے آثم ؔ بھی برائے پنجتنؑ ہو اِک نظر اے میرے مشکل کُشا اے نائب ِسرور ؐ سلام کاش حرمین و نجّف و کربلا کا ہو سفر  اور پڑھے آثم ؔ ہر اک دربارِ اطہر پر سلام   بشیر آثم کشمیری باغبان پورہ، لعل با

نظمیں

خوابِ شیریں کبھی پاس آیا نہیں   سُخنِ عمدہ کا واقعی دفینہ ہوں میں، ذہنِ کم تر نے اب تک کُچھ دکھایا نہیں جائے حیرت کہ اب بھی مقفّل ہیں در، ہاتھ اپنے ابھی کُچھ بھی آیا نہیں قصرِ صورت بھی عُریاں بدن ہو گیا، عصرِ حاضر نے اِس کی رِدا نوچ لی ایسا منظر ہے ماتھے پہ جھُرّیوں کا اب، جو تھا دیکھا کبھی ہم نے بھالا نہیں یاد رکھنے کا جذبہ نہ ہی جوش ہے، کِتنا ظالم ہے دِل اور سِتم کوش ہے حافظہ تو مگر اب بھی شاداب ہے، ہم نے ماضی کو اپنے بھلایا نہیں کتنے ویراں خیالوں کا مدفن ہے دل، جوئے یاداشت اِس کی روانی میں ہے اپنا ماضی ابھی تک اسے یاد ہے، فرق یادوں کا پیری میں آیا نہیں میری صحبت میں آکر ذرا سیکھ لو، شب کو بیدار کیسے رہا جائے ہے چشم رہتی ہے محوِ سُخن رات بھر، خوابِ شیریں کبھی پاس آیا نہیں گو فضائے ذہن میں ہے آلودگی، کوئی خواہش رکھے اِس کو پھر

خوں رُلاتا ہے صحن ِچمن سیریا

 تونے پہنا ہے خونیں کفن سیریا عدل و انصاف ہے یاں دفن سیریا تیرے سینے پہ گرتی ہیں یہ بجلیاں تھر تھراتے ہیں کوہ و دَمن سیریا تیرے گلشن کے گل ہائے تر کیا ہوئے کیا  ہوئے  وہ سرو  و  سمن  سیریا  وہ جو مالی تھے گل چیں وہیںبن گئے دندنا تے ہیں زاغ و زغن سیریا تیرے بیٹوں کی لاشیں ہیں بکھری ہوئیں کیسے دیکھیں یہ کٹتے بدن سیریا  کتنی ماؤں سے نورِ نظر چھن گئے رورہیں بیٹیا ں اور بہن سیریا  اْمتِ مسلمہ کیوں لٹی کیوں پٹی کہہ گئے ہیں نبی ؐبس ’’وَھَن ‘‘سیریا آگ و آہن کی بارش کو روکے کوئی  خوں رُلاتا ہے صحن ِچمن سیریا تونے چھینا بشارتؔ کا قلبی سکوں جبر کے ہاتھ میںتْو رہن سیریا  9419080306

نعت

 میں رکھتا ہوں دل میں ولائے محمدؐ مری جاں فدا ہے برائے محمدؐ نہیں کچھ ہے دل میں سوائے محمدؐ یہ حق جانتا ہے خدائے محمدؐ حسیں خواب آیا تھا کل رات مجھ کو محبت سے چُومے تھے پائے محمدؐ وہ دل باغِ جنت سے کچھ کم نہیںہے کہ لاریب جس میں سمائے محمدؐ وفا کی قسم یہ وفا کہہ رہی ہے وفا بس وفا ہے وفائے محمدؐ یہ الفاظ اور یہ شعورِ سخن بھی فقط باخدا ہے عطائے محمدؐ کلامِ الہی پڑھا تو یہ سمجھا بقا دین کی ہے بقائے محمدؐ محبت کی دنیا میں شادابؔ ہر دم یوں ہی کرتے رہنا ثنائے محمدؐ   محمدشفیع شادابؔ پازل پورہ شالیمارسرینگر کشمیر رابطہ؛ 9797103435  

’’ اے تنہائی‘‘

 راہ و رسم کی باتیں  فقط لفظوں کی بازی گری تھی  وحشت بھری یادیں  دل دہلانے والی تھیں  تھک ہار کر مایوسی نے نڈھال کر دیا تھا  آنکھوں کے سوتے جب خشک ہوچکے تھے                                میرے قدموں کی آہٹ                                    دھیمی ہوچکی تھی اپنی منزل سے بھی آگے نکل جانے کے راستے  جب مسدود ہو چکے تھے تب تو نے ہی ’’اے تنہائی‘‘ آرزو کی کرن لائی تھی اور بس میری روح میں حلول ہو کر  مجھے سکون بخشاتھا     صابر شبیربڈگامی ریسریچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی فون ن

دُعا

 مولاکوئی تدبیر کر اس خواب کی تعبیر کر جنت کو بے نظیر کر کشمیر کو کشمیر کر   عزت انّا بحال کر چہروں کو پھر گُلال کر شہروں کو پُر جمال کر احساس کے کینواس پہ مجتیں تحریر کر کشمیر پھر کشمیر کر   اُجڑے یہ بام و درنہ ہوں بے روح اب منظر نہ ہوں ماتم کناں یہ گھر نہ ہوں شمشیر کو تسخیر کر کشمیر پھر کشمیر کر   امن و سکون قائم رہے مہرو وفا باہم رہے گلزار ہر اک راہ کر گلپوش یہ دائم رہے مولا مرے کر اب کرم اس زہر کو اکسیر کر کشمیر کو کشمیر کر کشمیر پھر کشمیر کر   رابطہ؛ پونچھ،8493881999  

نظمیں

    نظم ہیں ذاتی مفادات و اپنی انا کو جو ملکی وقومی مفادات کہتے   دغا دے کے یوں ملک اور قوم کو وہ حکومت سے اپنی چمٹ کر ہیں رہتے   ہے لوگوں کی یہ سادگی یا حماقت ہیں چُنتے انہیں جن کا ہیں ظلم سہتے   دغا مکرو بددیانتی کی سیاست وہ طوفاں ہے جس میں ہیں سب لوگ بہتے   لُٹیرے جو ہر بار ہوتے ہیں ثابت چنائوں میں ہم اُن کو ہیں چنتے رہتے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاط) کشتواڑی کشتواڑ جموں و کشمیر موبائل نمبر؛ 9018487470     نذرِ غالبؔ   ہوتی جو نہ تکمیلِ تمنا کوئی دن اور کرلیتے کسی طور گذارا کوئی دن اور   گر آج بھی آتے نہ، تو کیا آتی قیامت ہم دیکھتے ٹک آپ کا رستہ کوئی دن اور   نادان ہو! رسوائی کی جلدی تھی بھلا کیا کر