تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ کیا اسلام میں لباس کی کوئی حقیقت ہے؟ آج کل اکثر لوگ کہتے ہیں کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے دوسری چیزیں بدلتی ہیں لباس بھی بدلتا رہتا ہے۔ قرآن و حدیث کے حوالےسے تفصیلی جواب دیں۔ تنویر احمد بارہمولہ   اسلام میں لباس کا تصّور اور نفسانیت و فیشن پرستی جواب :۔ اسلام مکمل دین  ہے اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان کی زندگی کے ہر ہر معاملے میں وہ پوری طرح رہنمائی بھی کرے گا اور ہر ہر شعبۂ زندگی کے متعلق احکام و ہدایات بھی دے گا۔ احادیث کی کتابوں میں لباس کے متعلق مستقل ایک تفصیلی باب ہوتا ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں یہ غلط بھی ہےاور لاعلمی بھی ہے یا اپنے غلط عمل کو درست ثابت کرنے کی حرکت ہے۔ لباس کے تین مقاصد ہوتے ہیں جسم کو ڈھانکنا، جسم کو سجانا اور موسم کی سردی وگرمی سے اپنے آپ کو بچانا۔ ان میں سے پ

احترامِ آدمیت ۔۔۔ انسانیت کا جوہر

 ایک خدا ترس آسودہ حال باپ نے پیرانہ سالی میں اپنے تین بیٹوں کے درمیان اپنی میراث تقسیم کی ۔اس تقسیم کے بعد دانا و زیرک اللہ والے بزرگ نے ایک انتہائی قیمتی جوہر اپنے بیٹوں کو دکھاکر کہا کہ یہ جوہر اس بیٹے کو دیں گے جس سے عظیم و برتر نیکی کا صدور ہو ۔۔۔۔خیر بات ہوئی ،آئی، گئی ۔۔۔۔کچھ وقت کے بعد ایک بیٹا بزرگ باپ کے ہاں حاضر ہوا اور کہنے لگا ،اباجان!میں نے ایک عظیم نیکی یوں انجام دی کہ ایک بندۂ خدا نے میرے پاس پانچ ہزار دینار کسی بھی گواہ کی غیر موجودگی میں بطور امانت یہ کہہ کر رکھ دئے کہ بوقت ضرورت میری یہ امانت مجھے لوٹا دینا ۔۔۔بوقت ضرورت میں نے یہ بھاری بھرکم رقم پوری کی پوری مالک کو لوٹا دی،حالانکہ اگر میں یہ رقم اسے لوٹا نا بھی نہ چاہتا تو ایسا بھی کرسکتا تھا کیونکہ اس معاملہ سے متعلق اس کے اور میرے درمیان کوئی گواہ بھی نہ تھا ، لہٰذا اس عظیم نیکی کے عوض میں ہی اس قیمتی جوہ

اردو میں سیرت نگاری

 برصغیر  کی تاریخ کے ابتدائی دورمیں گیارہ سوسال تک اگر چہ علم فقہ، اصول فقہ، ادبیات ، علم منطق اور تصوف میں کافی کام نظر آتا ہے ،تاہم علوم سیرت پاک ؐ کے حوالے سے یہاں وہ دلچسپی نہیں دکھائی دیتی جو ہر مسلمان معاشرہ میں ہونی چاہئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عرب دنیا میں علوم سیرت پر بڑا قابل ذکر کام ہورہا تھا۔ اگرچہ عربی اور فارسی جو یہاں سرکاری زبان رہی ہے ، میں صدیوں پہلے سیرت کا کام ہوا تھا ۔ جیسے شیخ عبدالحق محدثؒ جنہوں نے شمالی ہندستان میں پہلی بار علم حدیث متعارف کرایا اور اسی طرح انہوں نے علم سیرت کو اس طرح متعارف کرایا کہ ڈاکٹر محمود غازی فرماتے ہیں : اگر ان کو ہندستان میں علم سیرت کا جد امجد قرار دیا جائے توغلط نہیں ہوگا۔                       حضرت شیخ عبدالحق بر صغیر اور شمالی ہندوستان کے پہلے سیرت نگار تھے