تازہ ترین

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

  عشق ِپیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم میں نفس کے لوہے کو عبادت ، اخلاق، عمل، زہد وتقویٰ، توکل ، صبر واستقامت اور انفاق فی سبیل اللہ سے موم کر نے والے محمد بن ادریس الشافعیؒ کی ابتدائی زندگی عسرت وتنگ دستی میں گزری۔ لوگ پوچھتے یہ کیا حالت ہے ؟فرماتے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں سنا: ’’دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے ایک غریب شخص یا مسافر ہواور خود کو یہ سمجھتے رہو کہ ایک روز قبر میں جانا ہے‘‘۔ اس حدیث پر غور کریئے تو دنیوی لذات ومکروہات کی خواہش خود ہی جاتی رہتی ہے ، لیکن جب اللہ نے امام شافعیؒ کو دولت ِ دنیا عطاکی تو اپنا مال وزر غریبوں اور محتاجوں پر بے دریغ خرچ کر تے کر تے بہ صد مشکل اپنے مصارف کے لئے ایک چوتھائی چھوڑتے۔ ایک موقع پروقت کے اکابر علماء نے پوچھا حضرت اوروں پر اس قدر کیوں خرچ فرماتے ہیں؟ جواب دیا ہم اتباع ِ سنت کر تے ہیں

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے اس معاشرے میں ہر ُسو فاحشات، منکرات اور دیگرجرائم کا سمان روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ دخترا ن قوم کے حساس طبقے کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ وقت اور زمانہ اُن سے آگے بڑھنے کیلئے مروجہ تعلیم اور دیگر علوم اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور استفادہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انکی کے اندرکی فطری صلاحیتوں اور قابلیت میں نکھار آسکے اور اپنے گرد ونواح اور سماج میں اپنا مطلوبہ مقام حاصل کرسکیںلیکن بدقسمتی سے انہیں اپنا ’’ اصلی مقام‘‘ اور عزت اور وقار برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔جن کے  ساتھ اُن کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ باطل نظریات اور مغربی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہیں کہ حساس اور دین پسند خواتین کا اس ماحول میں عملاًPrecticallyاس جھنجھٹ سے بچ نکل کر آگے بڑھنا اگرچہ