تازہ ترین

نمازی کے آگے سے گزرنے سے پر ہیز لازم

 ان دنوں مساجد میں لوگوں کا ایک عجیب رویہ مشاہدہ میں آرہا ہے کہ بعض تو امام کے سلام پھیرتے ہی اور بعض امام کی اجتماعی دعا کے اختتام پر اور بعض اپنی انفرادی نمازوں یعنی سنن و نوافل کے ختم ہوتے ہی اس جلدبازی میں مسجد سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے پیچھے، دائیں یا بائیںجانب نماز ادا کر رہے مصلیان کا بھی خیال نہیں کرتے اور ان کے سامنے سے گزر جاتے ہیں حتیٰ کہ بعض کے سروں اور کندھوں کو بھی پھلانگ جاتے ہیں جو کہ نہایت ہی غیرمہذبانہ اور انتہائی قبیح عمل ہے۔بعض افراد کو ایسا کوئی فوری تقاضہ درپیش ہوسکتا ہے جس کے سبب کبھی ایسا کرنے کی نوبت آجائے لیکن جس کثرت سے لوگ ایسا کرتے دیکھے جارہے ہیں، سب کے ساتھ ایسی ہی صورتحال ہو یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ایسا لگتا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی جو ممانعت ہے یا تو انہیں اس کا علم نہیں اور وہ اسے گناہ ہی نہیں سمجھتے یا اس عمل پر جو گناہ ہے ا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو کلپ تیزی سے گشت کر رہی ہے جو یہاں کے بہت سارے فکر مند اور حساس لوگوں کےلئے سخت تشویش کا باعث بن رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ پولٹری فارم کی مرغیوں کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ان کی تولید میں خنزیری اجزاء شامل ہیں اور ان کی نشو ونما میں ناپاک چیزوں سے تیار کردہ خوراک(Feed) استعما ل ہوتی ہے اس ویڈیو کلپ کو آپ خود بھی دیکھ لیں اور پورے معاشرے میں پھیلنے والی اس تشویش کو محسوس کریں اور اس سے متعلق صاف اور واضح جواب عنایت فرمائیں؟ رشید مخدومی ۔۔۔سرینگر فارمی مرغوں کا گوشت.........حرام ہونے کی دلیلیں غلط جواب:۔ پولٹری فارم کے مرغوں کے متعلق حکم شرعی جاننے سے پہلے یہ تحقیق ملاحظہ ہو۔ یاد رہے کہ مکمل تفصیل و پوری وضاحت سے سمجھنے کےلئے ماہرین کی رائے اور متعلقہ لٹریچر ہی پڑھنا ضروری ہے ۔یہاں بہت اختصار سے لکھا گیا ہے۔ اللہ سے دُعا ہے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 س:-ہماری شادی کوتین سال ہوگئے مگر ابھی تک بچہ نہیں ہوا۔ اس بارے میں کچھ نجی قسم کا مسئلہ ہے جس کو ظاہر کرنا بھی مشکل ہے ۔اب کچھ دوست ٹیسٹ ٹیوب کا مشورہ دیتے ہیں۔میں پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکاکہ یہ ٹیسٹ ٹیوب کیا ہوتاہے ۔ کیسے ہوتاہے اور پھر اسلام میں اس کی اجازت ہے یا نہیں ۔ اب میرے ذہن میں یہ باتیں حل طلب ہیں : ٹیسٹ ٹیوب کیا ہوتاہے؟ یہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں ؟ جاوید احمد جائز تولید میں سائنسی تکنیک کا سہارا لینا دُرست IN VITRO FERTILIZATION l شوہرکا نطفہ بیوی کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ جائز ہے۔ l اجنبی مرد کا نطفہ کسی اجنبی عورت کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ ناجائز ہوگا۔ l شوہر اور بیوی کا نطفہ اور بیضہ اجنبی عورت کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ ناجائز ہوگا۔ جواب:- اللہ تعالیٰ کی تخلیق کاشاہکار خود انسان بھی ہے۔ اس کی تخلیق کا فطری طریقہ ہے کہ

عربی زبان کی آفاقیت

۔ 18 دسمبر 1973 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عربی زبان کو اپنی سرکاری زبانوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 19 فروری 2010 کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے انسانی تہذیب اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں عربی زبان کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے 18 دسمبر کو اس زبان کا عالمی دن قرار دیا۔ اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے 18 دسمبر 2012 کو پہلی مرتبہ عربی زبان کا عالمی دن منایا گیا۔بعدازاں عرب ممالک کے علاوہ پوری دنیا میں 18 دسمبر کو ’عالمی یوم عربی زبان‘ منایا جانے لگا ، گزشتہ پانچ برسوں سے ملک کی ان یونیورسیٹیوںمیں بھی اس عالمی دن کا اہتمام کیا جانے لگا ،جہاں عربی زبان وادب کے شعبے ہیں۔جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، دہلی یونیورسٹی،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ،دہلی، کلکتہ یونیورسٹی، مالدہ یونیوسٹی،گوروبنگایونیورسٹی،گوہاٹی یونیورسٹی، ا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟ ارجمند اقبال اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع کرنے والا قرار پائے گ

فلسطین۔۔۔ ایک عالمی المیہ

 کسی بھی مسئلے کو حل کرنے اور سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھا جائے،جبکہ کسی بھی مسئلے کو دبانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے نظریاتی طور پر پر سرد خانے میں پھینک دیا جائے۔ موجودہ صدی میں استعمار نے دیگر مسائل کی مانند کچھ ایسا ہی مسئلہ فلسطین کے ساتھ بھی کرنے کی کوشش کی۔ مسئلہ فلسطین کی نظریاتی بنیادوں کو ایک کالم میں بیان کرنا کسی بھی طور پر ایک دریا کو کوزے میں بند کرنے سے کم نہیں۔ یہ کام اگرچہ مشکل بلکہ ناممکن بھی ہے، تاہم اپنی بساط کے مطابق ہم کوشش کریں گے کہ حقِ قلم ادا ہوجائے۔ ہم سب سے پہلے قارئین کو یہ بتانا چاہیں گے کہ وہ لوگ جنہوں نے اہلِ فلسطین پر شب خون مارا اور بیت المقدس پر قبضہ کیا انہیں اصطلاحی طور پر صہیونی کہا جاتا ہے۔صہیونی کسے کہا جاتا ہے؟چنانچہ جب صہیون کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے مراد تمام یہودی نہیں ہوتے بلکہ صرف وہ یہو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: ٹریفک نظام ابتر عوام کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔ اس وجہ سے لوگ مختلف مشکلات جھیل رہے ہیں۔ اسلام اس ضمن میںکیا رہنمائی کرتا ہے۔ مفصل بیان کریں؟ اعجاز احمد ٹریفک نظام کی ابتری۔۔۔ ذمہ داریاں سمجھنے کی ضرورت جواب: ٹریفک کے نظم و ضبط درہم برہم ہونے کے باعث جو مشکلات پیدا ہورہی ہیں اور ہر اگلے روز یہ فزوں تر ہونے کے خدشات ہیں اُن کی وجوہات اور شرعی اصولوں کے مطابق اُس کے تدارک کی تدابیر درج ذیل ہیں۔ (۱) یہاں کی سڑکیں نصف صدی پہلے کے رورکی ہیں جب کہ ٹریفک بہت کم تھا اُس وقت اکا دُکا گاڑیاں ہی ہوتی تھیں اس وقت کی ضرورت کے مطابق سڑکوں کی وسعت رکھی گئی تھی۔ اب آج اُس سے ہزار گنا ٹریفک بڑھ گیا ہے ۔ اسلئے سڑکوں کی ناکافی وسعت ٹریفک نظام کی ابتری کا ایک سبب ہے جو بالکل واضح ہے۔ (۲) ٹریفک قوانین اور ضوابط بنائے گئے ہیں اُن کی پابندی جیسی ہونی چاہئے ،ویسی بالکل نہیں ہوت

علامہ انور شاہ کشمیریؒ

 علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ وادی کشمیر کی وہ نابغۂ روزگار شخصیت ہے جس نے پورے عالم میں اپنی علمی قابلیت کا لوہا منوایا۔ وادی لولاب کے ایک گمنا م گاؤں ورنو کے پیر خاندان میں جب اس نے اپنی شعور کی آنکھیں کھولیں اور گھریلوی تعلیم و تربیت سے لبریز ہوکر اپنی مزید علمی پیاس بجھانے کی خاطر ریاست کے حدود سے باہر ہزارہ پھر دیوبند کی راہ لے لی اور اس دور کے جبال العلم شخصیات سے اپنے آپ کو سیراب کیا تو سوائے اس کے خصوصی استاد حضرت شیخ الہند ؒ کے کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ مستقبل قریب میں یہ ہونہار طالب علم اپنی مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے چمکنے اور اس کی شہر ت کو چار چاند لگانے کا باعث ہوگا۔ حضرت شیخ الہند ؒ پہلے ہی اس ہونہار نوجوان عالم کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کا اندازہ کرچکے تھے، اس وجہ سے انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصہ کو انگریز سامراج سے وطن کے استخلاص میں سرگرم کر

اخلاق کریمانہ اپنائیں

ایک مرتبہ شیخ سعدیؒ اور ان کے فرزند نماز تہجد ادا کر رہے تھے ، صلواۃ وسلام اوردعا کے بعد بیٹا بولا :ابّاجان ،سب سو رہے ہیں اور ہم عبادت کر رہے ہیں … شیخ سعدی ؒنے اپنے بیٹے سے جواب دیتے ہوئے کہا : بیٹا !دوسروں کے عیبوں پر اگرتو نے نظر رکھنا تھی تو بہتر تھا کہ تو بھی سویا ہی رہتا۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد صرف ذاتی اپنی اصلاح کرنا ہے ۔ آج ہمارے معاشرے میں ہم سب کی ایک دوسرے پر عقاب کی طرح نظر ہوتی ہے اورہماری یہ عقابی نظر صرف ایک دوسرے کی خامیوں کو تلاش کرنے میںمصروف رہتی ہے،جب ہم کسی کی خامی کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں تو اس کے بعدان میں مرچ مصالحہ لگا کر آگے زبان کے چٹخاروں سے اسے بیان کرنا بھی اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ عیب جوئی و غیبت دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ غیبت ایک ایسی چیز ہے جو بظاہر بہت معمولی دکھائی دیتی ہے،لیکن ہماری مذہبی تعلیمات کے مطابق ایک بہت بڑا گنا ہ ہے۔ ا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ ہمارے گائوں میں ایک مشہور و معروف مفتی صاحب کے بھائی، جو خود بھی مفتی صاحب ہیں، نے فرمایا کہ کرسی پر نماز ادا کرنا غلط ہے اور جن لوگوں نے ،کسی مجبور کے تحت،کرسی پر نماز یں ادا کی ہیں وہ سب نمازیں اُن لوگوں کو دہرانی چاہیں۔ اس بارے میں شریعت کے اصلی حکم سے روشناس کرائیں تو ہم مشکور رہیں گے؟ سوال:۔ اپریل کے ایک شمارے اور 22مئی کے ایک شمارے میں آپ نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور حضرت نبی کریم ؐ نے کبھی کوئی نماز ننگے سر نہیں پڑھائی ۔ میں یہاں ایک حدیث پاک نقل کرتا ہوں جو حضور پاک  ؐ کے کبھی کھبار ننگے سر نماز پڑھنے پر دلالت کرتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ  بعض اوقات ننگے سر نما ز پڑھا کرتےتھے ( ابن عساکر) اب سوال یہ ہے کہ آپ کے جواب اور اس حدیث پاک کے درمیان کیا تعرض پایا جاتا ہے۔؟ ابو نجم النساء

جوش کے ساتھ ہوش!

سیرت میں ایک اہم واقعہ غزوۂ بنو مصطلق کے نام سے آیاہے ، بنو مصطلق قبیلۂ بنو خزاعہ کی ایک شاخ تھی ، یہ ’ مریسیع ‘ نامی مقام پر آباد تھے ، جو مدینہ منورہ سے نو منزل کے فاصلہ پرواقع تھا ، حارث بن ابی ضرار اس قبیلہ کی قیادت کرتا تھا ، صلح حدیبیہ سے پہلے کا واقعہ ہے کہ اس قبیلہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوگئی ، آپ ا نے مزید تحقیق کے لئے اپنے ایک نمائندہ کو بھیجا ، انھوں نے یہاں آکر تحقیق حال کیا اور اس خبر کی تصدیق ہوئی ، اس پس منظر میں یہ بات ضروری محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کو اس قریبی دشمن سے محفوظ رکھا جائے اور حملہ کرکے ان کو مطیع بنایا جائے ؛ چنانچہ مدینہ منورہ سے ایک فوج روانہ ہوئی ، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم بنفس نفیس اس میں شریک تھے ۔قبیلہ کے اکثر لوگوں کو تو مجاہدین کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور انھوں نے راہِ فرار اختیا

ہر لفظ ہے واقعی قرآن کی نعتِ رسولؐ

 خالقِ کون و مکاں کی کیا نرالی شان ہے   زندئہ جاوید اُس کا تاابد قرآن ہے آیت قرآنیہ کا برملا اعلان ہے   بس عبادت کے لئے تخلیق اِنس و جان ہے اُس کی قدرت کا کوئی اندازہ کر سکتا نہیں   اُس کی صنعت کا نمونہ یہ حسیں انسان ہے ایک لفظِ ’’کُن‘‘ سے ہی کونین کو پیدا کیا   جو نہ مانے اُس کو خالق وہ بشر نادان ہے دے کے ہم کو دین برحق مذہبِ اسلام کو   کس قدر خالق کا ہم پر فضل اور احسان ہے ہم گنہ کرتے ہیں پھر بھی مہرباں رہتا ہے وہ   رحمتوں والی ہے اُس کی ذات وہ رحمٰن ہے ساری دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا جسے   وہ خدائے پاک کا پیغمبرِ ذیشانؐ ہے اُن کی یادوں کی چمک سے دل کو چمکائو یہاں    یاد جس دل میں نہیں بس دل وہی ویران ہے جو خدا کو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: میری طرح ہزاروں لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ آج کے اس دور میں آنکھوں کی حفاظت بہت مشکل کام ہے۔ فیشن ، عریانیت اورمیک اپ سے سجنے سنورنےکی دوڑ لگتی ہوئی ہے۔ دکانوں ، دفتروں، پارکوں ، سڑکوں،  تعلیمی مراکز ، غرض کون سی جگہ ہے جہاں ہماری بہنیں اور بیٹیاں بن سنور کر مردوں کےلئے امتحان بنی ہوئی نہیں ہوتی  ہیں۔ ظاہر ہے اب مرد گھروں میں بندہو کر بیٹھ تو نہیں سکتے۔ ایسی حالت میں دل کو گندے خیالات سے اور نگاہوں کو نامحرم خواتین کی طرف دیکھنے سے روکنا آسان نہیں۔ اب صورتحال میں اسلام کی رہنمائی ہمارے لئے کیا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر رہنمائی فرمائیں؟ پیر رؤف احمد بمنہ سرینگر بد نگاہی سے بچنا ضروری.........چند تراکیب  جواب :۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے ۔ اےنبی ایمان والے مردوں کو حکم کریں کہ وہ ا پنی نگاہ نیچی رکھیں اور اسی طرح مسلمان خواتین کو بھی حک

انقلابِ محمدی ﷺ

عالم اسلام بلکہ تا ریخ انسانی میں ماہِ ربیع الاول کو خا ص مقام حاصل ہے ۔ اس مقدس مہینے کی شان سب سے بلند اور نرا لی ہے کیونکہ اِسی مہینے میں کر ہ ٔارض پر ایسی عظیم المرتبت اور رفیع الشان ہستی کا جنم ہوا جس نے باطل کے نظاموں اور شخصی سلطنتوں کے شاہی محلات میں دراڑیں ڈال دیں‘صدیوں سے غلامی اور جہالت کے شکنجے میں جکڑے ہو ئے انسان کو آزادی کی نوید سنائی، اس طرح استحصالی قوتیں پرزے پرزے ہو کر بکھر گئے۔ اسی دن دنیا ایک عظیم انقلاب سے روشناس ہوئی اِس ہستی نے انسانی حقوق کا حقیقی چارٹر پیش کیا جس کے سامنے مغرب کا میگنا کا رٹا کچھ بھی معنی نہیں رکھتا، اقوام متحدہ کا منشور محسن انسانیتؐ کی بعثت کے چودہ سو سال بعد مرتب ہوا ‘اقوام متحدہ کا منشور اب بھی اُس جا معیت اور معنویت سے محروم ہے جو سرور دوجہاں ﷺ نے چودہ صدیاں پہلے پیش کیا، اِسی مہینے خالق کائنات نے پیغمبر اعظم ؐ کو کائنات کے ل

محسنِ انسانیت رحمت دو عالم ؐ

انسانیت نے کرۂ ارض پر ہزاروں برس کا سفر طے کر لیا تھا مگر ہنوز شرف ِ انسانیت کے حوالے سے منزل تو کجا نشانِ منزل تک اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ یوں کہیے کہ لاکھوں انبیاء کرامؑ کی تعلیمات کو یکسر فراموش کر انسان بارِ دگر مرتبۂ انسانیت سے کہیں بہت نیچے گر چکا تھا۔ جس کائنات کی ہر چیز اپنے خالق و مالک کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہے، اسی کائنات میں اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق، انسان کی جبین لطافت سجدہ ریزی سے بیگانہ ہو چکی تھی۔ اللہ وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر لاکھوں جھوٹے خداؤوں کے چنگل میں پھنسے انسان کی حالت اس مسافر کی سی تھی جو کسی لق و دق صحرا میں سرگرداں بگولوں کو رہنما سمجھ بیٹھتا ہے اور بالاخر رزقِِ صحرا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کے ساتھ ستر ماؤوں سے زیادہ محبت کرتا ہے، کو انسان کی اس بے بسی اور لاچاری پر رحم آیا اور اس نے دنیا میں اپنی بے پایاں رحمت سے رحمت اللعالمین صلی الل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: ضعیف حدیث سے کیا مراد ہے اور حدیث ضعیف کیسے ہوتی ہے؟ کیا ہر آدمی کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی حدیث کو ضعیف کہے؟کیاعام آمدمی ضعیف حدیث کی پہچان کرسکتا ہے؟ اور ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے متعلق کیا حکم ہے؟ تنویر احمد بونیار حدیثِ ضعیف........ایک مختصر توضیح جواب:۔ اصول حدیث کے مطابق وہ حدیث جس میں پانچ اوصاف پائے جائیں وہ حدیث صحیح کہلاتی ہے ۔ وہ ہیں (۱) اُس حدیث کو روایت کرنے والے تمام راوی عادل یعنی مکمل دیندار ہوں۔ عقائد درست، اعمال مکمل اور کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہوں ۔ (۲) تمام راوی قوت حافظہ اور حدیث کو ضبط اور محفوظ کرنے میں مکمل طور پر معتبر ہوں۔ یعنی حافظ کامل و مکمل ہو۔ (۳) اُس حدیث کی سند میں کوئی انقتاع نہ ہو یعنی درمیان میں کوئی راوی ساقط نہ ہوا ہو۔ (۴) وہ حدیث شاذ بھی نہ ہو۔ شاذ وہ حدث ہوتی ہے جو زیادہ قابل واعلی درجہ کے راویوں سے مختل

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔۔ قسط 88

  شاہراہِ ہجرت پر سفر مدینہ کا اختتامی مرحلہ اب آیا چاہتا تھا ۔ کچھ ہی دیر میں ہم جنت ِارضی کے واحد ٹکڑے کا دیدا رکر نے والے تھے۔ شاعر نے اپنی دانست میں کسی اور جگہ کی تعریف وتوصیف میں یہ شعر موزون کیا ہو تو ہو مگر مدینہ منورہ پر یہ من و عن صادق آتاہے    ؎ اگر فردوس بروئے زمیں است  ہمیں است او ہمیں است او ہمیں است   پیغمبر اعظم وآخر صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینۃ النبی ؐ کے بارے میں یہ کتنی عظیم بشارت دی ہے:مدینہ ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ اس کا علم رکھتے ہوں۔ جو کوئی مدینہ سے اعراض کرتے ہوئے اُسے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس سے بہتر شخص کو مدینے لے آئے گا۔ اور جو شخص مدینے کی بھوک اور سختی کے باوجود یہیں ثابت قدم رہے گا ، میں قیامت کے دن اُس کی گوا ہی دوں گا اور شفاعت کروں گا۔اور جو کوئی اہل ِ مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ

ربیع الاوّل کا پیغام

  محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ سے وحی کردہ دستورِ زندگی دنیا کے تمام انسانوں کو دیا۔ یہ صرف ایک تحریری دستور کی حد تک نہ تھا بلکہ اللہ کے رسول ؐ نے اس کے ایک حرف ایک حرف ایک ایک لفظ اور ایک ایک حکم پر عمل فرماکر اس خدائی دستورِ حیات کو نافذ کرکے دکھادیا۔ حتی کہ اللہ کی طرف سے یہ اعلان کر دیا گیا کہ جو کوئی اس دستور خداوندی کا عملی نمونہ دیکھنا چاہے وہ مصطفی جانِ رحمت ؐکی سیرت دیکھ لے اور اسی کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے۔ ارشاد باری ہے:ترجمہ: بے شک تمہاری رہنمائی کے لئے اللہ کے رسول (کی زندگی) میںبہترین نمونہ (مثال) ہے۔ یہ نمونہ اس کے لئے جو اللہ سے ملنے کی اور قیامت کے آنے کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتاہے۔ (القرآن، الاحزاب ۳۲/۲۱) رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لئے ہر موڑ پررہنمائی ہے اور ہر مرحلہ پر عمل کرنا اور ان کی تعلیمات پر کاربند ہونا او

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۱-میں ایک کالج اسٹوڈنٹ ہوں اور ماڈرن ہوں ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے نماز پڑھنا شروع کردی ہے۔میں چونکہ تنگ وچست جینز پہنتاہوں اس لئے نماز کے وقت ٹخنوں سے موڑ دیتاہوں ۔ ایک صاحب نے مجھ سے یوں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا سمیٹنے اور موڑنے سے منع کیا ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نہ کپڑوں کو سمیٹوں اور نہ بالوں کو۔(بخاری) مسائل کی کتابوں میں لکھاہے کہ کپڑا موڑنا مکروہ ہے اس لئے پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ ہے اور ایسی حالتوں میں پڑھی ہوئی نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے کیونکہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ ٹخنوں سے موڑنا کیاہے؟ محمد محسن شیخ  پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ نہیں    جواب:-ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننے کے متعلق احادیث میں سخت ممانعت ہے ۔ یہ احادیث بخاری، مسلم، ترم

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔قسط87

   گزشتہ شمارے میں برسبیل تذکرہ پہلے عمرے کا ایک واقعہ یاد آیا تھا جسے سپردِ قرطاس کیا تاکہ داستانِ حرم کا یہ پہلو یاداشت کی تختی سے محو نہ ہو ۔ یہاں یہ بتا تا چلوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور ہر بار ماہ ِ ذی قعد میں یہ فریضہ انجام دیا مگر حج بیت اللہ صرف ایک ہی مرتبہ ادا کیا، رخت ِسفر مدینہ منورہ سے ماہ ذی قعد میں باندھا ۔ اس موقع پر تمام ازواج مطہرات ؓ آپ ؐ کے ہمراہ تھیں ۔ تاریخ ِاسلام میں یہ حجۃالوداع سے موسوم ہے۔ شاہِ مدینہ ؐ نے طوافِ کعبہ اپنی اونٹنی پر کیا اور چاہِ زمرم کے پاس پہنچ کر اس میں ڈھول ڈالا، زمرم نکالا ، کچھ نوش فرمایا ، بچے ہوئے زمزم میں لعاب ِ دہن ملا اسے کر کنوئیں میں ڈال دیا ۔ اس لعابِ دہن کا اثر ِخوش تر ابدالآباد تک ہمارے روحانی امراض کے لئے تریاق ہے ۔        بہرصورت ہمارا سفر مدینہ شدو مد سے جاری ت