تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

س:۱- کئی صاحبان آپ سے سوال کرتے ہیں جن کا جواب ہر جمعۃ المبارک کے اخبار’’کشمیرعظمیٰ‘‘ میں آتا ہے۔مسلمان لوگ اس صفحہ کی قدر کرکے یا تو دریا میں ڈال دیں گے یا کہیں پاک جگہ مگر غیر مسلم ان کی قدرکیا جانیں ! جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی ان سوالات میں آتاہے ۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ غیر مسلم حضرات اور اَن پڑھ خواتین ان صفحات کی قدر نہیں کرپاتیں۔میرے خیال میں اگر اخبار کے بجائے کوئی رسالہ شائع ہوتا تو ٹھیک تھا۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ س:۲-ایک شخص محکمہ بجلی میں بطور لائن مین ہے دوسرا پی ایچ ای میں چوکیدار ہے تیسرا شخص محکمہ ایری گیشن میں ملازم ہے ۔ یہ تینوں شخص نماز پانچ وقت پڑھتے ہیں اور خدا کا خوف بھی رکھتے ہیں مگر مہینے میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ ڈیوٹی دیتے ہیں ۔ ان سے معلوم کیا جائے تو کہتے ہیں کہ بجلی چل رہی ہے ،پانی چل رہاہے،نہر چل رہ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط 70

 مکہ معظمہ میںمحمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف شرک و کفر کے علم بردار اور جاہلیت کے کھیون ہار اپنی کینہ پروری کی تمام حدیں پھلاند کر قراردادِ قتل پر اتفاق کر تے ہیں۔ ان کازعم ِباطل ہے کہ اس خفیہ سازش کی بھنک کسی کو نہیں لگ سکتی حالانکہ سمیع البصیر اللہ اُن کی ایک ایک نیت جانتااور سانسیں گنتا ہے۔ قتل ِنبی  ؐان مجرموں کا آخری اوچھا حربہ ہے لیکن انہیں اس امرواقع کا ادراک نہیں کہ اس گر اوٹ سے وہ خود اپنے ہاتھوں اپنی ذلت ورسوائی کے سارے اسباب جمع کررہے ہیں۔ برادرانِ یوسفؑ بھی بظاہر اپنے بھائی کو تباہی وبربادی کے اندھے کنویں میں دھکیلتے ہیں مگر بالآخر ان کی یہی مجرمانہ حرکت حضرت یعقوبؑ کے شاہزادے کی تاج پوشی اور اُن کے سوتیلے بھائیوں کی خجالت وندامت پر منتہی ہوتی ہے ۔ سرور دوعالمؐ کے قتل پر سردارانِ قریش کا فوری محرک ان کی یہ بوکھلاہٹ ہے کہ مکہ میں تیراں سال تک اسلام کا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ٹریفک پریشانی ہماری عوامی زندگی کی بہت بڑی پریشانی ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ بہت سارے لوگ صرف اپنی خود غرضی کیلئے( Over Taking) کرتے ہیں اور اپنے اصل( Side) کوچھوڑ کر مخالف سمت سے آنے والے راستے پر آگے نکلنے کی کوشش کرتے ۔ عموماً اس سے ٹریفک جام ہو جاتا ہے مگر خود غرضی کی وجہ سے لوگ اس کی پروا نہیں کرتے اور اپنے لئے بھی دوسروں کیلئے بھی پریشانیاں کھڑی کرتے ہیں کیا یہ حقوق العباد کی حق تلفی میں نہیںآتا ہے؟ فیضان باغ مہتاب سرینگر ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی حقوق العباد کا اتلاف  جواب: ٹریفک قوانین کی پابندی ہر مسلمان شہری کالازمی فریضہ ہے اسلئے کہ اسلام کے احکام کے مطا بق سڑکوں کا ایسا استعمال جس سے دوسرے کو اذیت ہو سراسر گناہ ہے اور بلا شبہ یہ حقوق العباد کی خلاف ورزی ہے لہٰذ ا سڑک کی وہ سائیڈ جو آنے والی گاڑیوں کے لئے ہو، اُس پ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

  لیجئے یہ ہمارے سامنے روح پرور غار ِثور ہے ۔ اس مقدس مقام کی کتابی زیارت کی تھی لیکن اب نظریںتاریخ اسلام کے اس سدابہار مر کزامتحان سے براہ ِ راست ٹکرائیںتودل کی کیفیات کا حال بنا، شاید لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ۔ جونہی گاڑی مختصر وقفہ کے لئے یہاں پارک ہوئی ، شوق کا پنچھی غار سے بغل گیر ہونے کے لئے جھٹ سے محوپرواز ہوا۔ میں سوچنے لگا جبل ثور کی چمک دمک کا کیا حال رہاہو گا جب رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم اپنے ہمرازو دمساز یارِ غار صدیق اکبر رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ اس کمیں گاہ میں امتحان ِو فا دینے گھس گئے ؟ دشمن کا تعاقب ہے ، سامنے سنگین خطرات کا اژدھا پھن پھیلائے ہے، غیر یقینیت کا عالم ہے مگر تسلیم ورضا کا پیکر اللہ کا رسول ؐ مولا کی مدد وحمایت پر غیر متزلزل ایمان کی زرہ لئے یہ جان گسل امتحانی پر چہ نہایت ہی طمانیت ِقلب سے حل کر رہے ہیں ، نہ کوئی غم کی پرچھائی نہ کوئی ڈر کا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: کرسیوں پر نماز پڑھنے کا مسئلہ آج کل بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بہت سے لوگ زندگی کے سارے کام چل پھر کر کرتے ہیں۔ ضرورت کے وقت زمین پربھی بیٹھتے ہیں، خاص طور پر دعوتیں کھانے کےلئے زمین پر ہی بیٹھتے ہیں مگر نماز کرسیوں پر پڑھتے ہیں، کیا ان کےلئے ایساکرنا درست ہے؟ اور بہت سارے لوگ واقعتاً ایسا کرنے پر مجبور ہیں کہ وہ کرسی پر نماز ادا کریں کیونکہ وہ زمین پر بیٹھے اور سجدہ کرنے میں سخت مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کس صورت میں کرسی پر نماز درست ہے اور کس صورت میں نہیں اس کا واضح جواب عنائیت فرمائیں؟ ہلال احمد میر لعل بازار سرینگر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا۔۔۔۔۔۔ چند اہم مسائل جواب:۔نماز میں جو اعمال فرض ہیں وہ دو قسم کے ارکان ہیں قولی اور فعلی۔ قولی ارکان وہ اعمال ہیں جو زبان سے ادا کئے جائیں۔ جیسے قرأت اور فعلی ارکان وہ اعمال ہیں جو جسمانی نقل و حرکت سے ادا کئے

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط 68

    جبل ِنور سے رخصت ہو کرہماری گاڑی کا رُخ اب تاریخ ا سلامی کے ایک اور سنگ ِ میل غار ثور کی جانب تھا۔ غار ِثور ہجرتِ مدینہ کے تعلق سے تاریخی یادگار ہے ۔ ہمارے ملتانی گائیڈ نے ہجرت کی روشنی میں اس غار کی اہمیت بیان کر نا شروع کیا ۔ چلتی گاڑی میں جبل نور اور حرا کی جلوتیں ہمیںکبھی قریب سے کبھی دور سے اپنے تعاقب میں دکھائی دے رہی تھیںگویایہ دونوں بھی ہمارے ساتھ محو سفر تھے۔چند ہی ثانیوں میں غار ثور ہماری آنکھوں کی تراوت بننے والی تھی ۔ شوق کا پنچھی حسب ِ عادت گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔وہ اس ادھیڑ بُن میں ا پنے فکر وتجسس کے چراغ جلا رہا تھا کہ آخر اس میں اللہ کی کیا مشیت ہے کہ ایک پتھریلی کوٹھری ۔۔۔ غارِ حرا۔۔۔ کونزول گاہ ِ وحی بنی اور خالق ِکائنات نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ابدی ( کلام اللہ ) سونپ دیا جس کی تبلیغ وتنفیذ میں تیراں برس تک آپ ؐمکہ کے سنگلاخ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۱- نکاح خوانی کا طریقہ کیا ہے ؟ سوال:۲-مہر کتنا مقرر کرنا چاہئے ؟ سوال:۳- مہر کے علاوہ تھان نکاح اور زیورات کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے ۔ نکاح کی مجلس میں ان معاملات کے متعلق کیا کچھ تحریر میں لایا جانا چاہئے؟ سوال:۴-مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کا کیا طریقہ ہوتاہے ؟ سوال:۵- لڑکی سے نکاح کی اجازت لینے کا حق کس کو ہے اور اس کی طرف سے کس بات کو رضامندی سمجھا جائے ۔ سوال:۶- نکاح مجلس کے بعد نکاح خواں کو اُجرت دی جاتی ہے ۔ یہ اُجرت لڑکے والے کو دینی ہوتی یا لڑکی والوں کو۔ عام طور پر لڑکے والے یہ اجرت دیتے ہیں اگر نکاح خواں لڑکی والے بلا کرلے آتے ہیں ۔ توپھر لڑکے والوں سے کیوں اُجرت لی جاتی ہے ۔ یہ اجرت لینا جائز ہے یا نہیں ۔تفصیل سے لکھئے ۔ نکاح خوانی، مہر اور تھان…شریعت کا عمل   ایک امام …کپواڑہ کشمیر جواب:۱-نکاح خوانی کا طریق

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!قسط۔۔۔ 67

  شو ق کا پنچھی غارِحرا کی زیارت سے فیض یاب ہو تارہا مگر سیر ہی نہیں ہورہاتھا ،چاہتا یہ تھا کہ جبل ِنور کی تابانیوں کو صدیوں گھورتا رہے، پاک ومطہر بہاروںکو اپنی آنکھوں کے ہیے میںہمیشہ ہمیش کے لئے بساتارہے ، پاکیزہ فضاؤں کو اپنے حریم ِقلب میں اُتارتا رہے ۔جبل ِنور ہر روز ہزاروں زائرین کا استقبال کرتا ہے ،کوئی کوئی حرا کے اندر جاکر جلوہ گاہ ِ وحی کی عطر بیز جا ئے نماز پر سجدہ ریز ہے، کوئی دعاؤں میں مشغول ہے ، کوئی شوق ِ دیدار کا ہدیہ گرم گرم آنسوبہاکر نقد ِدل لٹا ئے، کوئی کپکپاتے ہونٹوں اور تھرتھراتے بدن سے عقیدتوں کا خراج پیش کرے۔ میں اورمیری اہلیہ بھی دامنِ کوہ ایستادہ ہوکر غار کی کشش و جاذبیت میں تا دیر کھو گئے۔ کیا پتہ ہمارے شانہ بشانہ کھڑے زائرین کے دلوں میں کتنے اَرمان تھے ، کتنی تمنائیں تھیں، کتنی امنگیں تھیں جو غار ِحرا میں ایک بارداخل ہوکر ربِ جلیل وجمیل کے حضور پیش کر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

(۱) صدقہ فطر کیاہے؟ (۲) اس کی کیا مقدارہے؟ (۳) اور اس کی ادائیگی کا کیا وقت ہے؟ (۴) جواور گندم میںکیا فرق ہے؟                        شوکت احمد   صدقہ فطر،مقداراور وقت ِ ادائیگی   جواب: ایک مسلمان جب شوق و جذبہ سے روزہ رکھتا ہے تو وہ محض اللہ کی رضا کے لئے دن بھر کی بھوک و پیاس برداشت کرتا ہے۔ ممکن ہے اس عظیم عمل میں کوئی کمی رہی ہو تو اس کی تلافی ضروری ہے تاکہ روزہ کا عظیم عمل بہتر سے بہتر بن سکے۔ اسی غرض کیلئے صدقہ فطر لازم کیا گیا چنانچہ حدیث میں صدقہ فطر کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یہ غرباء کیلئے کھانے پینے کا انتظام اور روزے داروں کے لئے روزوں کی نقائص کی تلافی ہے۔ صدقہ فطر کی ادائیگی میں کشمش، کھجور، جو کا آٹا یا اس کا ستو پنیر کی مقدار ایک صاع اور گندم یا اس کے آٹے کے مقدا

عالمی یوم القُدس

 سرزمین فلسطین لہولہاں ہے،ظالم و جابر صہیونی طاقتیں اسرائیل کے زیر قیادت اس وقت غزہ پرآتش وآہن برسارہی ہیں ۔ تادم تحریر چھ سو سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں، شہداء میں سو کے قریب بچے بھی شامل ہیں ۔ تمام مسلم حکومتیں جمود کی لحاف اوڑھے تماشہ بینی کا کردار ادا کر رہی ہیں ۔ شیطان بزرگ ا مریکہ اور اس کے دم چھلے اور اتحادی کھلم کھلا اسرائیل کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں۔ ظلم وجبر کے ان اندھیاروں میںمسلمان قبلہ ٔاول کی بازیابی اور اہل فلسطین کی مبنی بر حق جدوجہد کی حمایت اور مظلومین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور ہر سال دنیا بھرمیں’’یومِ قدس‘‘ مناتے ہیں۔ یوںقبلہ اوّل کی بازیابی اور آزادیٔ فلسطین کے لئے سرگرم حق پرست سرفروشوںا ور اسلامی مجاہدوں کے لئے ’’یوم قدس‘‘ حقیقت میںاس عزم ِمحکم کا اعادہ ہے کہ جب تک اسرائیل کو نیست و نابود کرکے بیت المقدس ک

صدقۃ الفطر۔۔۔

صدقۃ الفطر (افطار کا صدقہ) فقہ کی ایک اصطلاح ہے ، شریعت میں اس سے مرادوہ مال ہے جورمضان  کے مبارک موقع پر صائم کی جانب سے کسی مستحق فرد کو صلہ رحمی کے طور پر دیا جاتاہے۔اس کے مختلف نام احادیث اور فقہ کی کتابوں میں ذکر کئے گئے ہیں۔چنانچہ صدقۃ الفطر،زکواۃ الفطر، زکواۃ الصوم ، زکاۃ الأبدا ن ،صدقۃ رمضان ،صدقۃ الرئووس وغیرہ وغیرہ۔ جس طرح نماز میں فرائض کی تکمیل کے لئے سنتیں مقرر کی گئی ہیں، اسی طرح روزہ کی تکمیل کے لئے شریعت اسلامیہ میں صدقۃ الفطر کا تعین کیا گیا ہے ۔روزہ  کے دوران جو کوتاہیاں ہم سے ہوتی ہیں یا ہماری بدنی عبادت(روزہ) کی جو کمیاں روہ جاتی ہیں ، اُن کی تلافی اس مالی عبادت (صدقۃ الفطر) سے بہت حد تک ہوجاتی ہے ۔  صدقہ ٔ فطر کس پر واجب ہے :۔ صدقہ فطر ہر عاقل بالغ مرد عورت ،بچہ و جوان مسلمان پر واجب ہے  ۔گھر کے مستطیع افراد اپنے اپنے صدقات الفطر خو دادا کر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

اعتکاف کے اہم مسائل    اْجرت پر اعتکاف کرانا س:بعض جگہوں پر کسی اجنبی مسافر کو بستی والے اْجرت پر اعتکاف میں بٹھاتے ہیں کیا اس طرح سے یہ مبارک سنت ادا ہوتی ہے؟ ج:         کسی بھی اعتکاف کرنے والے شخص کو اعتکاف کی اْجرت لینا، اور اْسے اعتکاف کی اجرت دینا دونوں حرام ہیں۔ اس سے نہ تو خود اْس شخص کا اعتکاف ادا ہوگا۔ اور نہ اْس محلہ یا بستی کے لوگوں سے اعتکاف کا حکم ساقط ہوگا۔ اعتکاف سنت کفاریہ ہے۔ جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ کوئی ایک شخص بھی اگر اخلاص سے ، بلاکسی دنیوی لالچ کے محض اللہ کی رضا کیلئے اعتکاف کرے گا تو یہ سنت سب کی طرف سے ادا ہوجائے گی۔ لیکن جب اْجرت لینے دینے کا معاملہ ہوگا تو اس سے اعتکاف کی سنت ، ادا ہونا توکئی گناہ ہونا بھی یقینی ہے اور اس محلہ پر ترک اعتکاف کا وبال بھی لازمی ہے۔ س: فرصت والے بوڑھے بھی خود اعتکاف میں بیٹھنے کو عار مح

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔۔قسط 66

   غار ِحرا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو غیر متوقع طور جبرئیل علیہ السلام کی جلوہ نما ئی اور اللہ کی جانب سے سورہ  ٔ علق کی پانچ آیاتِ قرآنی کا عطیہ تاریخ ایک انقلاب آفرین باب رقم کر گیا ۔ قبل ازیں آپؐ کو روح الامین ؑسے کوئی شناسائی تھی نہ منصب ِنبوت سے آشنا ئی، نہ اپنے اوپر خدائے مہربان کی خصوصی عنایات والتفات کے مطالب و معانی جانتے تھے ۔ گوشہ ٔ تنہائی میں معزز فرشتے کی جانب سے پانچ آیاتِ قرآنی از دل ریزد بر دل خیزد کے مصداق آپ ؐ کے لوحِ قلب پر مرتسم ہوئیں ۔ اقراء کا خدائی فرمان جاہلیت و لاعلمیت ، تشکیک و لاادریت کے خلاف اعلان ِ بغاوت تھا، یہ ہمہ گیر انقلاب اسلامی کا دستورالعمل تھا، یہ علم وفہم کی شاہ کلید تھی، یہ آگہی وعرفان کی سدابہار قندیل تھی، یہ افراد واقوام کی جملہ صلاحیتوں کو تعمیروترقی کی طرف موڑنے کا اشارہ تھا ،یہ شیطانی شکنجوںسے انسا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے یہاں لوگ رمضان المبارک میں زکوٰۃ ،صدقات ادا کرتے ہیں اور اس سب کی بناء پروہ اپنے آپ کو اجر کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند ضروری اور اہم مسائل کا حل فرما دیں تاکہ امت مسلمہ کی یہ مالی امداد انکے اوپر لازم زکوٰۃ و صدقات ان کیلئے ذریعہ نجات بن سکے۔ (۱) زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے سونے کا کیا نصاب ہے؟ (۲) زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے چاندی کا کیا نصاب ہے؟ (۳) سونے اور چاندی کے علاوہ دیگر اموال کا نصاب کیا ہے اور ان پر زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے کیا کیا شرائط ہیں؟ (۴) زکوٰۃ کا مصرف کیا ہے( یعنی زکوٰۃ کن مدوں پر خرچ کی جائے)؟ (۵) کیا زکوٰۃ تعمیرات( چاہئے مسجد کی تعمیر ہو یا درسگاہ کی تعمیر ہو یا کسی فلاحی ادارے کی تعمیر ہو یا سڑک وغیرہ کی) میں خرچ کرنا جائز ہے ؟ فیاض احمد گنائی ساکن درد پورہ لولاب متعلم دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ ، درجہ ہفتم عربی

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!قسط 65

  سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم حیاتِ طیبہ کے اُس پڑاؤ پر ہیں جہاں سے بالخصوص انبیائی شخصیات کا سن ِکمال شروع ہوتا ۔ ا ن میں اوصافِ ِحمیدہ مہ نیم روز کی طرح جلوتیںدکھانا شروع کرتے ہیں اور ظاہری حسن، باطنی وجاہت، فہم وفراست ،بالغ نظری، اخلاقِ فاضلہ، جذبات پر قابو ، خوب وناخوب کی پہچان ، دنیا کی بے ثباتی کا احساس ، اللہ سے لو لگانا ان کی فطرت ثانیہ بنتی ہے ۔انہی اوصاف کی تاثیرسے وہ ایک ہمہ گیر انقلاب بپاکر تے ہیں کہ تاریخ کا رُخ بدل جاتا، انسا نی زندگیوں کی کایا پلٹ ہوجاتی ہیں، بگڑی تقدیریں سنور جاتی ہیں ، زمانے کے رنگ ڈھنگ اُلٹ جاتے ہیں ، تہذیبوں کا بگاڑ کافور ہوجاتاہے،انسانیت کو حیاتِ نو مل جاتی ہے۔ ان کے دم قدم سے معاشرت ومعیشت،سیاست واخلاقیات، شجاعت و عدالت کا د ستور آسمانی ہدایت کے زیر سایہ ترتیب پائے تو ایک نیا انسان اور ایک نئی دنیا ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔ سنت ِالہٰیہ کے مطا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۱-ماہ مبارک کا نزول ہوتے ہی مسلمان مرد وزن نوافل نمازوں کا بھرپور اہتمام کرتے ہیں۔کیا ہم نوافل نمازوں کے بجائے قضاء￿  شدہ نمازیں نہیں پڑھ سکتے ؟ اور جب دیکھا جائے تو ہزار میں سے ایک فرد ایسا ہوگا جس نے واقعی دس سال کی عمر سے نماز پنجگانہ پابندی کے ادا کی ہو۔ سوال:۲-اکثر مشاہدے میں آیاہے کہ اس بابرکت مہینے میں لوگ اذان فجر سے پہلے نوافل کے علاوہ نماز تہجد بھی پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں جب کہ ان میں سے اکثریت ایسے حضرات کی ہوتی ہے جو غیر رمضان میں نماز فجر کیا نماز عشاء  کے لئے بھی مسجد میں نہیں آتے۔  برائے کرم آپ بتائیں کہ مسلسل نماز تہجد اداکرنے سے یا کوئی بھی نفلی کام مسلسل کرنے سے ہم پر فرض تو نہیں بنتا۔ اگر بنتاہے تو کتنے دنوں تک کوئی بھی نفلی امر اپنانے سے وہ عمل ہم پر فرص بن جاتاہے ؟ سوال :۳-کیا روزے داروں کی وہ شخص ،جو خود روزہ دار نہ ہو، امامت

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔ قسط 64

 ش   م   احمد  غارِحرا کتنا خوش نصیب ہے کہ شاہ ِ کون ومکان صلی اللہ علیہ و سلم کی نشست گاہ بنا ، رمضان المبارک کی سعادتیں، رحمتیں، خوشبوئیں، عنایتیں یکجاہوکر اسے بقعہ ٔ نور بنارہی ہیں جب کہ نور گہۂ محبت میں ہادی اکرم ؐ اللہ سے لو لگائے اور عرفان ِ نفس و طہارتِ فکر کی جملہ قوتیں مجتمع کر کے عالم ِانسانیت کی ہمہ جہت تاریکیاں مٹانے کاعزم بالجزم کئے ہوئے ہیں ۔ اس مقامِ حسن ونور اور فضائے طہور تک آپ ؐ کواللہ کی جوش ِ رحمت کھینچ لائی کیونکہ اللہ کوبگڑی دنیا کے گم گشتہ انسانوں کو سرور کائناتؐ کی وساطت سے ہدایت اسلام دینی ہے ۔ اللہ کو اپنے شاہ کار مخلوق سے اُس ماں سے کھربوںگنا زیادہ محبت ہے جو اپنی اولاد کی بھلائی اور خیرخواہی میں دن کاچین رات کاآرام خوشی خوشی گنوا دیتی ہے۔ اللہ نہیں چاہتا کہ یہ گار گاہ ہ ہست وبود اس کی رحمت ورافت سے تہی دامن رہے ، پاکی وطہارت سے محر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 روزوں کے متفرق مسائل سوالات (۱) گردوں میں پتھری ہو تو کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۲) روزوں کے بدلے فدیہ کس فرد پر لاگو ہوتا ہے؟ (۳) معدے میں تیزابیت(Acidity)ہو جس کی وجہ سے دل میں جلن محسوس ہوتی ہے( Heart Burn) کیا اس صورتحال میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۴) جسم کے اندرونی حصہ میں السر (ulser)ہے، جس کی وجہ سے(Black Motion)ہوتی ہے ، کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۵) جو ماں بچے کو دودھپلاتی ہو روزوں کے متعلق ان کو شریعت کیا حکم اور کیا گنجائش دیتی ہے؟ (۶) کیا ہم روزوں کے درمیان اندام نہانی میں وہ دوائی رکھ سکتے ہیں جس کا مقصد لیکویریا کا علاج ہوسکتا۔ (۷) استھما کی بیماری میں Inhaler کا استعمال کرنے سے روزہ متاثر ہوتا ہے؟ (۸) کیا روزوں میں دریا میں تیرنے کی اجازت ہے؟ (۹) حاملہ عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟ (۱۰) تمباکو نوشی ختم کرنے کے لئے رمضان بہترین موق

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں! قسط63

    کعبہ مقدسہ سے چند فرلانگ دور منیٰ اورعرفات سے گزرتے ہوئے بائیں جانب غار ِحرا( بائبل کا فاران ) اپنی فلک بوس چٹانوں سے ہمارا استقبال کر رہاتھا ۔صدیوں سے سرد وگرم موسموںکا مقابلہ کرنے والے اس سنگ و ریگ کے گلشن ِنوبہار کا دیدار کر کرکے بھی شو ق کا پنچھی سیر نہیں ہورہاتھا ۔ میں سوچ سمندر میں مسلسل ڈوب کر تعظیم ،تحیر اور تجسس سے خود کلامی میں لگا: تو یہی ہے وہ مقامِ اقدس جہاں محمد بن عبداللہ کا تعارف پہلی بارمحمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو ا۔ قربا ن جایئے کہ اللہ خودبوساطت حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ تعارف کراتا ہے۔ خالق ِارض وسماء اولوالعزم فرشتے کو ذمہ داری سونپ دیتا ہے کہ حرا میں اُترکر مقصودِ کائنات ،نبی ٔ آخر الزماں، متلاشی ٔ حق ویزداں ؐ  کو میرا سندیسہ پہنچاؤ کہ انفس وآفاق کی جن ابدی صداقتوں کی تلاش ہے، جن گتھیوں اور سوالات کا جواب چاہیے ، جن مسائل ِ حیا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟ ارجمند اقبال…سرینگر جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع کرنے والا قرا