تازہ ترین

شرعی نصاب ۔۔۔ ایک اہم ترین تصحیح

کشمیر عظمیٰ کے جمعتہ المبارک کے شمارے میں مفتی نذیر احمد قاسمی کے کالم ’’کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل‘‘ میں لکھے گئے ایک جواب کی ضروری تصحیح کی جارہی ہے۔ چاندی کا نصاب 612 گرام ہے۔ اسی نصاب کی بنیاد پر ذکوٰۃ اور قربانی لازم ہونے کے فیصلے ہوتے ہیں۔ جس شخص کے پاس اتنی چاندی ہو یا اتنی چاندی کی قیمت موجود ہو، اُس شخص پر ذکوٰۃ بھی لازم ہوتی ہے اور قربانی بھی ۔ 612 گرام چاندی کی قیمت آج کل 24500 روپے ہے لہٰذا جس مسلمان کے پاس اتنی مالیت موجود ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ جمعہ کے شمارے میں 612 گرام چاندی ،جو کہ شرعیت کا مقرر کردہ نصاب ہے، اس کی قیمت 35000 روپے لکھی گئی ہے، جو درست نہیں ہے۔ آج قیمت 24500 روپے ہے۔ قارئین اس تصحیح کو نوٹ فرمائیں۔ادارہ اس تصامح کے لئے معذرت خواہ ہے۔  

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۱-قربانی کس پر لازم ہے اور جس پر قربانی لازم نہ ہو اگر وہ قربانی کرے گا تو کتنا ثواب ہوگا او رجس پرقربانی لازم ہو وہ نہ کرے تو اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے ؟ سوال :۲-آج کل بہت سے دینی ادارے بھی اور فلاحی امدادی یتیم خانے قربانی کا اجتماعی نظام کے لئے اپیلیں کرتے ہیں ۔کیا اس طرح قربانی ادا ہوجاتی ہے ؟ اگر کسی کو اس طرح کے ادارے سے قربانی کرنے کی ضرورت ہوتو اس بارے میں کیا حکم ہے اور اگرکوئی بلاضرورت صرف رقم کم خرچ کرنے کے لئے ایسا کرے تو کیا حکم ہے ؟ عبدالعزیز خان ……کپوارہ،کشمیر قربانی کن پر واجب ؟ جواب: جس شخص کے پاس مقدارِ نصاب مال موجود ہو اُس پر قربانی واجب ہے ۔ نصاب 612گرام چاندی یا اُس کی قیمت ہے۔ اس کی قیمت آج کل کشمیر میں ساڑھے پینتیس ہزار روپے ہے ۔اب جس شخص کے پاس عیدالاضحی کے دن صبح کو اتنی رقم موجود ہو تو اُس شخص کو شریعت اسلامیہ میں صاحب

اسلام میں اخلاقِ حسنہ

 اللہ تعالی نے قیامت تک آنے والے لوگوںکے لئے زندگی گزارنے کا جوآخری طریقہ مقرر فرمایا وہ اسلام ہے ۔اسلام کے بغیر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنا اللہ تعالی کے ہاں قابل قبول نہیں۔رب کائنات نے خود اس کی صراحت کی ہے:’’جو شخص اسلام کے سوا اور دین(طریقہ)تلاش کرے اسکا دین (طریقہ)قبول نہ کیا جائے گا‘‘(ا ٓ ل عمران آیت  :85)۔اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات ہے جس میں انسان کی ہر طرح سے رہنمائی کی گئی ہے۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کی رہنمائی نہ کی گئی ہو ۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اوراس مکمل ضابطہ حیات میں ہر ایک چیزکا مکمل ہونا لازمی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’آج میں نے تمہارے لئے دین (اسلام )کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا‘‘(المائدہ  آیت  :3)۔ اسلام جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کو صحیح معنو

اورنگ زیب عالمگیرؒ

حضرت  اورنگ زیب عالمگیرغازی علیہ الرحمة والرضوان ۳نومبر 1618 کواتوار کے دن ملکۂ ارجمندبانو(ممتازمحل بیگم)کے بطن سے قصبہ دَوحَد(صوبہ گجرات)میں پیداہوئے۔آپ کانسب یہ ہے حضرت اورنگ زیب عالمگیربن شہاب الدین شاہجہاںبن نورالدین جہانگیربن اکبر بن نصیرالدین ہمایوں بن ظہیرالدین بابر۔ حضرت اورنگ زیب عالمگیرغازی ؒ نے اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماءکرام سے تعلیم حاصل کی۔عربی ،فارسی اورہندی کے بہترین عالم ہوئے،ترکی زبان سے بھی کامل طورپرواقف تھے۔ حضرت علامہ مولانامُلّااحمدجیون علیہ الرحمة والرضوان  (مصنف ’’نورالانوار)جوہندوستان کے بہت مشہورومعروف جید عالِم گزرے ہیں ، آپ کانام احمدہے اوروالدکانام ابوسعید،آپ مُلّاجیون کے نام سے مشہورومعروف ہیں،آپ نے اپنی پوری زندگی درس وتدریس اورتصنیف وتالیف میں صرف کی اُصول فقہ میں ’’نورالانوارشرح المنار‘‘ آپ کی زند

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ کیا اسلام میں لباس کی کوئی حقیقت ہے؟ آج کل اکثر لوگ کہتے ہیں کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے دوسری چیزیں بدلتی ہیں لباس بھی بدلتا رہتا ہے۔ قرآن و حدیث کے حوالےسے تفصیلی جواب دیں۔ تنویر احمد بارہمولہ   اسلام میں لباس کا تصّور اور نفسانیت و فیشن پرستی جواب :۔ اسلام مکمل دین  ہے اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان کی زندگی کے ہر ہر معاملے میں وہ پوری طرح رہنمائی بھی کرے گا اور ہر ہر شعبۂ زندگی کے متعلق احکام و ہدایات بھی دے گا۔ احادیث کی کتابوں میں لباس کے متعلق مستقل ایک تفصیلی باب ہوتا ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں یہ غلط بھی ہےاور لاعلمی بھی ہے یا اپنے غلط عمل کو درست ثابت کرنے کی حرکت ہے۔ لباس کے تین مقاصد ہوتے ہیں جسم کو ڈھانکنا، جسم کو سجانا اور موسم کی سردی وگرمی سے اپنے آپ کو بچانا۔ ان میں سے پ

احترامِ آدمیت ۔۔۔ انسانیت کا جوہر

 ایک خدا ترس آسودہ حال باپ نے پیرانہ سالی میں اپنے تین بیٹوں کے درمیان اپنی میراث تقسیم کی ۔اس تقسیم کے بعد دانا و زیرک اللہ والے بزرگ نے ایک انتہائی قیمتی جوہر اپنے بیٹوں کو دکھاکر کہا کہ یہ جوہر اس بیٹے کو دیں گے جس سے عظیم و برتر نیکی کا صدور ہو ۔۔۔۔خیر بات ہوئی ،آئی، گئی ۔۔۔۔کچھ وقت کے بعد ایک بیٹا بزرگ باپ کے ہاں حاضر ہوا اور کہنے لگا ،اباجان!میں نے ایک عظیم نیکی یوں انجام دی کہ ایک بندۂ خدا نے میرے پاس پانچ ہزار دینار کسی بھی گواہ کی غیر موجودگی میں بطور امانت یہ کہہ کر رکھ دئے کہ بوقت ضرورت میری یہ امانت مجھے لوٹا دینا ۔۔۔بوقت ضرورت میں نے یہ بھاری بھرکم رقم پوری کی پوری مالک کو لوٹا دی،حالانکہ اگر میں یہ رقم اسے لوٹا نا بھی نہ چاہتا تو ایسا بھی کرسکتا تھا کیونکہ اس معاملہ سے متعلق اس کے اور میرے درمیان کوئی گواہ بھی نہ تھا ، لہٰذا اس عظیم نیکی کے عوض میں ہی اس قیمتی جوہ

اردو میں سیرت نگاری

 برصغیر  کی تاریخ کے ابتدائی دورمیں گیارہ سوسال تک اگر چہ علم فقہ، اصول فقہ، ادبیات ، علم منطق اور تصوف میں کافی کام نظر آتا ہے ،تاہم علوم سیرت پاک ؐ کے حوالے سے یہاں وہ دلچسپی نہیں دکھائی دیتی جو ہر مسلمان معاشرہ میں ہونی چاہئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عرب دنیا میں علوم سیرت پر بڑا قابل ذکر کام ہورہا تھا۔ اگرچہ عربی اور فارسی جو یہاں سرکاری زبان رہی ہے ، میں صدیوں پہلے سیرت کا کام ہوا تھا ۔ جیسے شیخ عبدالحق محدثؒ جنہوں نے شمالی ہندستان میں پہلی بار علم حدیث متعارف کرایا اور اسی طرح انہوں نے علم سیرت کو اس طرح متعارف کرایا کہ ڈاکٹر محمود غازی فرماتے ہیں : اگر ان کو ہندستان میں علم سیرت کا جد امجد قرار دیا جائے توغلط نہیں ہوگا۔                       حضرت شیخ عبدالحق بر صغیر اور شمالی ہندوستان کے پہلے سیرت نگار تھے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: میری طرح ہزاروں لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ آج کے اس دور میں آنکھوں کی حفاظت بہت مشکل کام ہے۔ فیشن ، عریانیت اورمیک اپ سے سجنے سنورنےکی دوڑ لگتی ہوئی ہے۔ دکانوں ، دفتروں، پارکوں ، سڑکوں،  تعلیمی مراکز ، غرض کون سی جگہ ہے جہاں ہماری بہنیں اور بیٹیاں بن سنور کر مردوں کےلئے امتحان بنی ہوئی نہیں ہوتی  ہیں۔ ظاہر ہے اب مرد گھروں میں بندہو کر بیٹھ تو نہیں سکتے۔ ایسی حالت میں دل کو گندے خیالات سے اور نگاہوں کو نامحرم خواتین کی طرف دیکھنے سے روکنا آسان نہیں۔ اب صورتحال میں اسلام کی رہنمائی ہمارے لئے کیا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر رہنمائی فرمائیں؟ پیر رؤف احمد بمنہ سرینگر   بد نگاہی سے بچنا ضروری.........چند تراکیب  جواب :۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے ۔ اےنبی ایمان والے مردوں کو حکم کریں کہ وہ ا پنی نگاہ نیچی رکھیں اور اسی طرح مسلمان خواتین کو ب

’’شرحِ اورادِ فتحیہ‘‘

’’شرح  اوراد فتحیہ‘‘ عالم اسلام کے مشہورو معروف داعیٔ اسلام ، ولی ٔ کامل، مصنف ، دانش ور، سخن ور، ماہر اقتصادیات وسیاسیات سالا رِ عجم حضرت شاہ ہمدان امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کی’’ اوراد ِ فتحیہ‘‘ کی عام فہم ترجمانی ، ترتیب ِ نواور آسان تشریح کا مرقع ہے جس کا سہراسیداعجاز انداربی صاحب کے سر بندھتا ہے ۔ ’’اورادِ فتحیہ‘‘ محسن کشمیر حضرت شاہ ہمدان کا وہ بے مثال تحفہ اور منفرد و بے نظیر وظائف کا مجموعہ ہے جسے خصوصیت سے آپؒ نے اہل کشمیر کو عطا کیاہے ۔ حضرت امیر کبیر کی شخصیت ان کی داعیانہ زندگی اور دین اسلام کے حوالے سے ان کے حساس ذہن، جذبہ ٔ ایثار، توحید کے تئیں ان کا بے مثال فہم وادارک اور دیگر روح پرور تفصیلات سے قطع نظر جہاں حضرت امیر کبیر ایک بلند پایہ داعی  ٔاسلام اور عظیم مصنف و منصوبہ ساز تھے کہ ج

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:-برائے کرم کشمیرعظمیٰ کے ان صفحات میں حج کا مکمل طریقہ بہت اختصار کے ساتھ درج فرمائیں تاکہ سفر حج میں جانے والے ایک مختصر اور مستند گائڈ پیپر ساتھ رکھیں۔ ارشاد احمد  -----رعناواری ،سرینگر حج کا مخـتصر طــــریقہ   منیٰ: 8ذی الحج کو حج کا احرام باندھ کر سارے حاجیوں کومنیٰ روانگی نیت حج کریں ۔یہاں سے کثرت سے تلبیہ پڑھنا شروع ہوگا۔ منیٰ کا فاصلہ مکہ معظمہ سے تین چارکلومیٹر ہے اور پیدل جانا افصل ہے ، اگلی صبح تک منیٰ میں ٹھہرنا ہی عبادت ہے 8سے  9ذی الحج صبح تک نمازیں پڑھنا اورعبادتیں کرنا ہے ۔ عرفات:9ذی الحج کی صبح کو تمام حاجیوں کی منیٰ سے عرفات روانگی ،عرفات میں زوال کے بعد سے غروب آفتا ب تک کا وقت نہایت اہم اور قیمتی ہے ۔ روئیں ، گڑگڑائیں ،اُٹھتے بیٹھتے اور کھڑے ہوکر شام تک دعائیں ہی مانگتے رہیں۔شام میں ضرور جبل رحمت پر جاکر دعائیں مانگیں کیونکہ ا

اسلامی بھائی چارہ

اللہ تعالیٰنے انسان کوبے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔ان بے شمار نعمتوں میں ایک نعمت اُخوت(بھائی چارہ) کی وہ نعمت عظمیٰ ہے جس کی بنیاد اللہ رب العٰلمین نے انسانی معاشرے کی تشکیل کے روز اول سے ہی قائم کی اور اس اخوت کو استحکام بخشنے کے لئے حقوق و آداب کا تعین کرکے ارشاد فرمایا:’’اے لوگو ! اپنے پرور دگار سے ڈرو جس نے تمہیںایک جان سے  پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلادی۔‘‘(سورۃ النساء آیت:1)۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کی بنیاد کا ذکر فرماکر اس معاشرے کو مضبوط سے مضبوط ترین بنانے اور اس سے وابستہ لوگوں کو آپس میں جوڑنے اور افتراق و انتشار سے بچنے کیلئے کچھ حقوق متعین کئے ہیں اور ہر فرد سے ان حقوق کی پاسداری کا تقاضا کیا گیا ہے تاآنکہ امت ِمسلمہ اُخوت اور اسی جیسے اوصاف حمیدہ سے متصف ہو جائے،اور ہر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

خ: -عرض یوں ہے کہ مسئلہ ذیل کی وضاحت مطلوب ہے:۔ حج کی کتنی اقسام ہیں؟   بعض لوگ کہتے ہیں کہ حج قرآن نہیں ہے اس کی وضاحت فرمادیں؟ نیز یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ نبی علیہ الصلوٰة والسلام نے کون سا حج کیا تھا۔ ہم لوگ کشمیر عظمیٰ نیٹ پر دیکھتے ہیں اس لئے ’کشمیر عظمیٰ‘ ہی میں جواب کے منتظر ہیں۔ انجینئر منظور احمد ریشی کشمیری    حج کی اقسام اور حج قِران کی وضاحت د:- حج کی تین قسمیں ہیں: حج افراد، حج تمتع، حج قِران۔ حج افراد یہ ہے کہ حج کا سفر کرنے والا میقات سے صرف حج کا احرام باندھے اور حج ادا کرنے تک اُسی احرام میں رہے۔ حج سے پہلے کوئی عمرہ نہ کرے۔ حج تمتع یہ ہے کہ سفر حج کےلئے روانہ ہونے والاشخص میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کرے اور احرام کھول دے۔ پھر آٹھ ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے اور پھر حج کرے۔تمتع

انتہا پسندی شدت پسندی

انتہا پسندی اورشدت پسندی (Extremism) جدید سیاسی مباحث کی اہم اصطلاح اور عام استعمال کی میڈیا ترکیب ہے۔ سیاسی علوم میں اس کی حتمی تعریف متعین کرنے کی کوشش ایک کارِ جاریہ ہے۔ سماجی، سیاسی اور تاریخی علوم اور ریاستی طاقت سے گہرے تلازمات کی وجہ سے یہ جدید قانون اور قانون سازی کا بھی اہم موضوع ہے۔ ذرائع ابلاغ میں یہ ترکیب بہت ہی مؤثر پروپیگنڈا ’’ٹول‘‘ کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور اسے عام طور پر ریاست اور سماج دشمن عناصر کے خلاف حسبِ ضرورت برتا جاتا ہے۔ بالعموم یہ اصطلاح مکمل طور پر منفی معنی میں مستعمل ہے، اور اس کا مقصد مخاطب کو مکالمے کے بغیر delegitmize کر کے قوت سے ختم کرنا ہوتا ہے۔ ہم عصر سماجی و سیاسی علوم، میڈیا اور سوشل میڈیا میں اس ترکیب اور اصطلاح کے کثرتِ استعمال کا بڑا سبب یہ علمی تھیوری ہے کہ انتہا پسندی، دہشت گردی کا گہوارہ ہے، اور انتہا پسندی کے بروق

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

حج کی بنیادی شرائط س:- حاجیوں کی سفرِمحمودکے روانگی کی تیاریاں جاری  ہے ۔ ان حالات میں ذہن میں آتاہے کہ کہیںہم پر بھی حج فرض تو نہیں ہے ۔  برائے مہربانی ہم کو بتایا جائے کہ کن کن شرائط کے پائے جانے پر حج فرض ہو جاتاہے اور اگر حج فرض ہوگیا ہو لیکن کوئی شخص نہ کرسکا تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ محمد شعبان بٹ  ج:- جس مسلمان کے پاس اتنی مالی وسعت ہوکہ وہ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ حاضر ہو سکے۔ اور واپسی کے مصارف بھی ہوں اور ان ایام میں وہ اپنے گھر والوںکے ضروری خرچوںکا انتظام بھی کرسکے تو ایسے مسلمان پر حج فرض ہو جاتاہے ۔ اور جب یہ فرض ہوجاتاہے تو اس کی ادائیگی میںتاخیر کرنا بھی جرم ہے اور فرض ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص ادا نہ کرے تو ایسا شخص فاسق ہوگیا ۔ لیکن اس پر لازم ہے کہ وہ اس فریضہ کے ادا کرنے کی وصیت کرے ۔ اور اگر اس نے وصیت کردی تو وارثوں پر لازم ہے کہ

غلام محمد بابا المعروف خرقہ صاحب مرحوم

تاریخ انسانی کے ہر دور میں ایسے نفوس کا جنم ہوا ہے جنہوں نے اپنے وقت کے مشکلات حالات کا مقابلہ کر کے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے جو رہتی دنیا تک یاد رکھنے کے لائق ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہر صدی کے اوائل اور اواخر میں ایسے لوگوں نے اس دنیائے فانی میں ایسے ایسے کام کئے کہ آج بھی ان کا نام بڑے ہی آن بان اوراحترام سے لیا جارہا ہے۔ علم کے سمندر میں علماء کی ایک بڑی کھیپ جو ہر صدی میں جنم لیتی ہے لیکن ان علماء وفضلاء کے درمیان میں چند ایسے نمونے اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں جن کے ہاتھوں سے اس قدر ذہنی ،فکری اور اصلاحی کام ہوتے ہیں کہ دوست تو دوست دشمن بھی نہ چاہتے ہوئے ان کے مدح خواں بن جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی چلتی راہ ہے جس پر ہر آئے روز نئے نئے مسافر اپنا رخت سفر باندھ لیتے ہیں لیکن اس سفرِ خاردار میں ثابت قدمی سے سرشار چند ہی لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ علم وفہم کے بڑے بڑے شہس

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: اگرچہ سارا بینکنگ نظام سود خوری کے زمرے میں آتا ہے لیکن اس کے باوجود گیس کنکشن نکالنے کےلئےبینک اکائونٹ کھولنا لازمی ہے اور ہمارے ملازمین حضرات کو بھی بینک کے ذریعے ہی تنخواہ واگزار کی جاتی ہے۔ ایسی صور ت میں اس نظام سے بچنے کےلئے شریعت کا کیا حکم ہے؟۔ مبارک لون ۔۔۔سرینگر لازمی ضروریات کےلئے بنک کھاتہ کھولنا جائز جواب:۔ یقیناً بینکنگ کا موجودہ سارا نظام سودی لین دین پر قائم ہے، اس لئے اس سودی نظام کے لین دین میں شریک ہونا ہر گز جائز نہیں ہے لہٰذا اگر کسی نے بینک میں اس وجہ سے اکائونٹ کھولاتاکہ وہ سود حاصل کرے تو اس نیت سے اکائونٹ کھولنا حرام ہے۔ کیونکہ یہ نیت فاسد ہے اور پھر سود لے کر خود کےلئے استعمال کرنا تو اللہ سے اعلان جنگ کا مخاطب بنتا ہے،جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ اگر کسی شخص نے سودی رقوم حاصل کرنے کی نیت کے بغیر کسی اور غرض کےلئے بنک میں کھاتا کھو

موبائیل کے خرافات

 اللہ رب العزت  نے دنیا تخلیق فر مائی اور انسانوں کو اشرف ا لمخلو قات ہونے کا شرف بخشااور علم و دماغ جیسی نعمت بھی عطا فر مائی، یہ رب کریم کا احسان عظیم ہے۔علم اور دماغی قوت سے انسان ترقی کی سیڑ ھیاں طے کرتے کرتے مریخ کا سفر ، چاند پر کمند اور اَن گنت نئی نئی ایجاد کرتے جا رہا ہے ،جس کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ جہاں آرام دہ اورتیز رفتارسفر کے لئے ہوائی جہاز بنائے، وہیں اویکس (Ovix)میراج29 اور ڈرون(Drone) جیسے حملہ آور بمبار طیار وں سے انسانیت پر ظلم کے پہاڑ گرا نے میں ساری حدیں پار کر دی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں مہلک ہتھیا روں کی اتنی مقدار مو جود ہے کہ پوری دنیا 29بار ان ہتھیا روں سے نیست ونا بود ہو سکتی ہے ۔اس میں روز بروز اضا فہ ہی ہو رہا ہے، اللہ رب ا لعزت نے انسانوں کو زینہ بزینہ ترقی دینے کا وعدہ فر مایا۔( القرآن، سورہ نحل16،آیت8): تر جمہ : اسی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال: آج کل شہر و دیہات میں شادیوں کا سیزن جاری ہے۔ ہماری شادی بیاہ کی تقاریب میں جہاں درجنوں بلکہ سینکڑوں خرافات سے کام لیا جاتا ہے وہاں ایک انتہائی سنگین بدعت پٹاخوں کا استعمال ہے۔ شام کو جب دولہا برات لے کر اپنے گھر سے روانہ ہو جاتا ہے تو وہاں پر اور پھر سسرال پہنچ کر پٹاخوں کی ایسی شدید بارش کی جاتی ہے کہ سارا محلہ ہی نہیں بلکہ پورا علاقہ لرز اُٹھتاہے اور اکثر لوگ اسے فائرنگ اور دھماکے سمجھ کر سہم جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں، بزرگوں اور عام لوگوں کو پٹاخے سر کرنے سے جو انتہائی شدید کوفت اور پریشانی لاحق ہوجاتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔شرعی طور براہ کرم اس معاملے پر روشنی ڈالیں۔ خورشید احمد راتھر شادی بیاہ پرپٹاخوں کا استعمال غیرشرعی   ل::شادیوں میں پٹاخے  سر کرنا اُن غیر شرعی اور حرام کاموں میں سے ایک سنگین و مجرمانہ کام ہے جو طرح طرح کی خرابیوں کا مجمو

عباداتِ رمضان کا تسلسل نہ ٹوٹے!

چند دنوں ہی قبل کی بات ہے ،رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ سایہ فگن تھا ، ہر طرف انوار کی بارش ہورہی تھی،مسجدیں آباد تھیں،محلے بارونق تھے، ہر گھر سے قرآن کی تلاوت کی صدائیں آرہی تھیں، ملت کاہر بچہ ، بوڑھا اور جوان مسجد میں نظر آتاتھا۔نمازوں کے بعد بھی قرآن کی تلاوت کرنے والوں سے مسجدیں آباد رہا کرتی تھیں۔تلاوت کے عمومی شوق کا یہ عالم تھا کہ مسجدوں میں پارے اور صحیفے کم پڑ رہے تھے ۔ذکر و اذکار اور نوافل کا بھی خوب اہتمام تھا،لیکن یہ کیا؟ابھی عید کو دو ہفتے بھی نہیں گزرے کہ مساجد اپنی سابقہ حالت پر آگئیں۔زمینی منزل بھی بمشکل ہی پر ہوتی ہے ۔نہ اب نمازیوں کا ہجوم ہے نہ قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی قطاریں ہیں، نہ ہی ذکر واذکار اور نوافل کا اہتمام کرنے والوں کی موجودگی کا احساس۔ایسے میں ایک حساس دل رکھنے والا مسلمان یہ سوچ رہا ہے کہ آخر وہ مسلمان کہاں چلے گئے جنہوں نے ان مساجد کو ایک م

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ساس، بہو کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے شرعی حدود اور ہدایات کیا ہیں۔ دونوں کو کن کن باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے اور کن باتوں سے بچنا چاہئے؟ جنید احمد بمنہ سرینگر   ساس، بہو کے خوشگوار تعلقات کی بنیاد۔۔۔ جواب:ساس اور بہو کا رشتہ بہت اہم بھی ہے۔نازک بھی اور بہت سے بہتر یا بد تر احوال پیداہونے کا قوی سبب بھی ہے۔ کتنے ہی گھر سب کچھ ہونے کے باوجود تباہ حال ہیں اور وجہ صرف ساس بہوکے اختلافات اور نزاعات ہیں۔ اور کتنے ہی گھروں کے مرد ظلم کرنے کا جرم کرتے ہیں۔ اور وجہ ساس بہو کے سطحی اور چھوٹی باتوں کے جھگڑے۔ مرد کبھی بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا اور وجہ اسکی ماں ہوتی ہے۔ اور کبھی ماں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اور اس کا سبب اُس کی بیوی ہوتی ہے۔ اس لئے ذیل میں ساس اور بہو دونوں کے لئے اہم ہدایت درج ہیں۔… پہلے ساس کیلئے ہدایات ملاحظہ ہوں۔ (