تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

خ: -عرض یوں ہے کہ مسئلہ ذیل کی وضاحت مطلوب ہے:۔ حج کی کتنی اقسام ہیں؟   بعض لوگ کہتے ہیں کہ حج قرآن نہیں ہے اس کی وضاحت فرمادیں؟ نیز یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ نبی علیہ الصلوٰة والسلام نے کون سا حج کیا تھا۔ ہم لوگ کشمیر عظمیٰ نیٹ پر دیکھتے ہیں اس لئے ’کشمیر عظمیٰ‘ ہی میں جواب کے منتظر ہیں۔ انجینئر منظور احمد ریشی کشمیری    حج کی اقسام اور حج قِران کی وضاحت د:- حج کی تین قسمیں ہیں: حج افراد، حج تمتع، حج قِران۔ حج افراد یہ ہے کہ حج کا سفر کرنے والا میقات سے صرف حج کا احرام باندھے اور حج ادا کرنے تک اُسی احرام میں رہے۔ حج سے پہلے کوئی عمرہ نہ کرے۔ حج تمتع یہ ہے کہ سفر حج کےلئے روانہ ہونے والاشخص میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کرے اور احرام کھول دے۔ پھر آٹھ ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے اور پھر حج کرے۔تمتع

انتہا پسندی شدت پسندی

انتہا پسندی اورشدت پسندی (Extremism) جدید سیاسی مباحث کی اہم اصطلاح اور عام استعمال کی میڈیا ترکیب ہے۔ سیاسی علوم میں اس کی حتمی تعریف متعین کرنے کی کوشش ایک کارِ جاریہ ہے۔ سماجی، سیاسی اور تاریخی علوم اور ریاستی طاقت سے گہرے تلازمات کی وجہ سے یہ جدید قانون اور قانون سازی کا بھی اہم موضوع ہے۔ ذرائع ابلاغ میں یہ ترکیب بہت ہی مؤثر پروپیگنڈا ’’ٹول‘‘ کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور اسے عام طور پر ریاست اور سماج دشمن عناصر کے خلاف حسبِ ضرورت برتا جاتا ہے۔ بالعموم یہ اصطلاح مکمل طور پر منفی معنی میں مستعمل ہے، اور اس کا مقصد مخاطب کو مکالمے کے بغیر delegitmize کر کے قوت سے ختم کرنا ہوتا ہے۔ ہم عصر سماجی و سیاسی علوم، میڈیا اور سوشل میڈیا میں اس ترکیب اور اصطلاح کے کثرتِ استعمال کا بڑا سبب یہ علمی تھیوری ہے کہ انتہا پسندی، دہشت گردی کا گہوارہ ہے، اور انتہا پسندی کے بروق

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

حج کی بنیادی شرائط س:- حاجیوں کی سفرِمحمودکے روانگی کی تیاریاں جاری  ہے ۔ ان حالات میں ذہن میں آتاہے کہ کہیںہم پر بھی حج فرض تو نہیں ہے ۔  برائے مہربانی ہم کو بتایا جائے کہ کن کن شرائط کے پائے جانے پر حج فرض ہو جاتاہے اور اگر حج فرض ہوگیا ہو لیکن کوئی شخص نہ کرسکا تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ محمد شعبان بٹ  ج:- جس مسلمان کے پاس اتنی مالی وسعت ہوکہ وہ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ حاضر ہو سکے۔ اور واپسی کے مصارف بھی ہوں اور ان ایام میں وہ اپنے گھر والوںکے ضروری خرچوںکا انتظام بھی کرسکے تو ایسے مسلمان پر حج فرض ہو جاتاہے ۔ اور جب یہ فرض ہوجاتاہے تو اس کی ادائیگی میںتاخیر کرنا بھی جرم ہے اور فرض ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص ادا نہ کرے تو ایسا شخص فاسق ہوگیا ۔ لیکن اس پر لازم ہے کہ وہ اس فریضہ کے ادا کرنے کی وصیت کرے ۔ اور اگر اس نے وصیت کردی تو وارثوں پر لازم ہے کہ

غلام محمد بابا المعروف خرقہ صاحب مرحوم

تاریخ انسانی کے ہر دور میں ایسے نفوس کا جنم ہوا ہے جنہوں نے اپنے وقت کے مشکلات حالات کا مقابلہ کر کے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے جو رہتی دنیا تک یاد رکھنے کے لائق ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہر صدی کے اوائل اور اواخر میں ایسے لوگوں نے اس دنیائے فانی میں ایسے ایسے کام کئے کہ آج بھی ان کا نام بڑے ہی آن بان اوراحترام سے لیا جارہا ہے۔ علم کے سمندر میں علماء کی ایک بڑی کھیپ جو ہر صدی میں جنم لیتی ہے لیکن ان علماء وفضلاء کے درمیان میں چند ایسے نمونے اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں جن کے ہاتھوں سے اس قدر ذہنی ،فکری اور اصلاحی کام ہوتے ہیں کہ دوست تو دوست دشمن بھی نہ چاہتے ہوئے ان کے مدح خواں بن جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی چلتی راہ ہے جس پر ہر آئے روز نئے نئے مسافر اپنا رخت سفر باندھ لیتے ہیں لیکن اس سفرِ خاردار میں ثابت قدمی سے سرشار چند ہی لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ علم وفہم کے بڑے بڑے شہس

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: اگرچہ سارا بینکنگ نظام سود خوری کے زمرے میں آتا ہے لیکن اس کے باوجود گیس کنکشن نکالنے کےلئےبینک اکائونٹ کھولنا لازمی ہے اور ہمارے ملازمین حضرات کو بھی بینک کے ذریعے ہی تنخواہ واگزار کی جاتی ہے۔ ایسی صور ت میں اس نظام سے بچنے کےلئے شریعت کا کیا حکم ہے؟۔ مبارک لون ۔۔۔سرینگر لازمی ضروریات کےلئے بنک کھاتہ کھولنا جائز جواب:۔ یقیناً بینکنگ کا موجودہ سارا نظام سودی لین دین پر قائم ہے، اس لئے اس سودی نظام کے لین دین میں شریک ہونا ہر گز جائز نہیں ہے لہٰذا اگر کسی نے بینک میں اس وجہ سے اکائونٹ کھولاتاکہ وہ سود حاصل کرے تو اس نیت سے اکائونٹ کھولنا حرام ہے۔ کیونکہ یہ نیت فاسد ہے اور پھر سود لے کر خود کےلئے استعمال کرنا تو اللہ سے اعلان جنگ کا مخاطب بنتا ہے،جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ اگر کسی شخص نے سودی رقوم حاصل کرنے کی نیت کے بغیر کسی اور غرض کےلئے بنک میں کھاتا کھو

موبائیل کے خرافات

 اللہ رب العزت  نے دنیا تخلیق فر مائی اور انسانوں کو اشرف ا لمخلو قات ہونے کا شرف بخشااور علم و دماغ جیسی نعمت بھی عطا فر مائی، یہ رب کریم کا احسان عظیم ہے۔علم اور دماغی قوت سے انسان ترقی کی سیڑ ھیاں طے کرتے کرتے مریخ کا سفر ، چاند پر کمند اور اَن گنت نئی نئی ایجاد کرتے جا رہا ہے ،جس کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ جہاں آرام دہ اورتیز رفتارسفر کے لئے ہوائی جہاز بنائے، وہیں اویکس (Ovix)میراج29 اور ڈرون(Drone) جیسے حملہ آور بمبار طیار وں سے انسانیت پر ظلم کے پہاڑ گرا نے میں ساری حدیں پار کر دی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں مہلک ہتھیا روں کی اتنی مقدار مو جود ہے کہ پوری دنیا 29بار ان ہتھیا روں سے نیست ونا بود ہو سکتی ہے ۔اس میں روز بروز اضا فہ ہی ہو رہا ہے، اللہ رب ا لعزت نے انسانوں کو زینہ بزینہ ترقی دینے کا وعدہ فر مایا۔( القرآن، سورہ نحل16،آیت8): تر جمہ : اسی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال: آج کل شہر و دیہات میں شادیوں کا سیزن جاری ہے۔ ہماری شادی بیاہ کی تقاریب میں جہاں درجنوں بلکہ سینکڑوں خرافات سے کام لیا جاتا ہے وہاں ایک انتہائی سنگین بدعت پٹاخوں کا استعمال ہے۔ شام کو جب دولہا برات لے کر اپنے گھر سے روانہ ہو جاتا ہے تو وہاں پر اور پھر سسرال پہنچ کر پٹاخوں کی ایسی شدید بارش کی جاتی ہے کہ سارا محلہ ہی نہیں بلکہ پورا علاقہ لرز اُٹھتاہے اور اکثر لوگ اسے فائرنگ اور دھماکے سمجھ کر سہم جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں، بزرگوں اور عام لوگوں کو پٹاخے سر کرنے سے جو انتہائی شدید کوفت اور پریشانی لاحق ہوجاتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔شرعی طور براہ کرم اس معاملے پر روشنی ڈالیں۔ خورشید احمد راتھر شادی بیاہ پرپٹاخوں کا استعمال غیرشرعی   ل::شادیوں میں پٹاخے  سر کرنا اُن غیر شرعی اور حرام کاموں میں سے ایک سنگین و مجرمانہ کام ہے جو طرح طرح کی خرابیوں کا مجمو

عباداتِ رمضان کا تسلسل نہ ٹوٹے!

چند دنوں ہی قبل کی بات ہے ،رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ سایہ فگن تھا ، ہر طرف انوار کی بارش ہورہی تھی،مسجدیں آباد تھیں،محلے بارونق تھے، ہر گھر سے قرآن کی تلاوت کی صدائیں آرہی تھیں، ملت کاہر بچہ ، بوڑھا اور جوان مسجد میں نظر آتاتھا۔نمازوں کے بعد بھی قرآن کی تلاوت کرنے والوں سے مسجدیں آباد رہا کرتی تھیں۔تلاوت کے عمومی شوق کا یہ عالم تھا کہ مسجدوں میں پارے اور صحیفے کم پڑ رہے تھے ۔ذکر و اذکار اور نوافل کا بھی خوب اہتمام تھا،لیکن یہ کیا؟ابھی عید کو دو ہفتے بھی نہیں گزرے کہ مساجد اپنی سابقہ حالت پر آگئیں۔زمینی منزل بھی بمشکل ہی پر ہوتی ہے ۔نہ اب نمازیوں کا ہجوم ہے نہ قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی قطاریں ہیں، نہ ہی ذکر واذکار اور نوافل کا اہتمام کرنے والوں کی موجودگی کا احساس۔ایسے میں ایک حساس دل رکھنے والا مسلمان یہ سوچ رہا ہے کہ آخر وہ مسلمان کہاں چلے گئے جنہوں نے ان مساجد کو ایک م

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ساس، بہو کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے شرعی حدود اور ہدایات کیا ہیں۔ دونوں کو کن کن باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے اور کن باتوں سے بچنا چاہئے؟ جنید احمد بمنہ سرینگر   ساس، بہو کے خوشگوار تعلقات کی بنیاد۔۔۔ جواب:ساس اور بہو کا رشتہ بہت اہم بھی ہے۔نازک بھی اور بہت سے بہتر یا بد تر احوال پیداہونے کا قوی سبب بھی ہے۔ کتنے ہی گھر سب کچھ ہونے کے باوجود تباہ حال ہیں اور وجہ صرف ساس بہوکے اختلافات اور نزاعات ہیں۔ اور کتنے ہی گھروں کے مرد ظلم کرنے کا جرم کرتے ہیں۔ اور وجہ ساس بہو کے سطحی اور چھوٹی باتوں کے جھگڑے۔ مرد کبھی بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا اور وجہ اسکی ماں ہوتی ہے۔ اور کبھی ماں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اور اس کا سبب اُس کی بیوی ہوتی ہے۔ اس لئے ذیل میں ساس اور بہو دونوں کے لئے اہم ہدایت درج ہیں۔… پہلے ساس کیلئے ہدایات ملاحظہ ہوں۔ (

نعمت ِخداوندی کی قدر ومنزلت

 سب  خوبیاں اللہ کے لیے جو مالک و پالنہار ہے سارے جہاں والوں کا۔ اللہ رب العزت نے انسانوں بلکہ کائنات کی تمام مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ،ترجمہ: اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے۔ (سورۃ ابراہیم، آیت ۳۳، سورۃ نحل، آیت ۱۷)نعمتوں کا احساس و لذت اس کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔ پانی اور ہوا انسانی زندگی ہی نہیں بلکہ کائنات کے وجود و بقا کے لئے خالقِ کائنات کی پیدا کردہ نعمتوں میں سے عظیم نعمت ہے۔ انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزوں میں پانی اور ہوا کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ قرآن کریم میں ہے،ترجمہ: اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے(سورۃ انبیاء ، آیت ۳۰) دوسری جگہ قرآن مجید اعلان کرتا ہے۔ ترجمہ:اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

(۱) صدقہ فطر کیاہے؟ (۲) اس کی کیا مقدارہے؟ (۳) اور اس کی ادائیگی کا کیا وقت ہے؟ (۴) جواور گندم میںکیا فرق ہے؟                         شوکت احمد   صدقہ فطر،مقداراور وقت ِ ادائیگی   جواب: ایک مسلمان جب شوق و جذبہ سے روزہ رکھتا ہے تو وہ محض اللہ کی رضا کے لئے دن بھر کی بھوک و پیاس برداشت کرتا ہے۔ممکن ہے اس عظیم عمل میں کوئی کمی رہی ہو تو اس کی تلافی ضروری ہے تاکہ روزہ کا عظیم عمل بہتر سے بہتر بن سکے۔ اسی غرض کیلئے صدقہ فطر لازم کیا گیا چنانچہ حدیث میں صدقہ فطر کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یہ غرباء کیلئے کھانے پینے کا انتظام اور روزے داروں کے لئے روزوں کی نقائص کی تلافی ہے۔ صدقہ فطر کی ادائیگی میں کشمش، کھجور، جو کا آٹا یا اس کا ستو پنیر کی مقدار ایک صاع اور گندم یا اس کے آٹے کے مقدار نصف

بے ہنگم افطار پارٹیاں!

  ماہِ رمضان اللہ کی طرف سے مسلمان عالم کے لئے عظیم تحفہ ہے۔ یہ مہینہ فضیلتوں و برکتوں کا ہی نہیں بلکہ انسانی صحت اور احتساب کا بھی آئینہ ہے ۔ طبی و سائنسی نقطہ نظر سے روزوں سے جو انسانی صحت کو فائدے ہیں اس کو دنیا تسلیم کر رہی ہے اور دینی لحاظ سے روزہ انسان کے کردار و عمل کو صالح اور مضبوط کرتاہے اور ایک محتسب کا رول ادا کرتا ہے ۔ روزے کا مقصد کیا ہے وہ کلامِ الٰہی میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے تاکہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔(القرآن ، سورہ البقرہ،آیت ۱۸۳،کنزالایمان)روزہ کا سب سے بڑا مقصد ہے تقویٰ (اللہ کا خوف رکھنا)۔تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجھک و شرم معلوم ہواور گناہوں سے بچنے اور نیک باتوں کی طرف اس کی تڑپ پیدا ہواور روزہ کا یہی مقصود ہے کہ انسان کے اندر یہ کیفیت پیدا

صدقہ فطر: فضائل واحکام

رمضان المبارک میں صدقہ فطر کا وجوب جہاں روزہ میں ہونے والے خطا اور غلطیوں اور رمضان کی لغویات اور فضولیات کا مداوا اور علاج ہے، وہیں یہ غریب کی غربت کے خاتمہ اور محتاج کی محتاجگی کے ازالہ کا بھی ایک ذریعہ اور سبب ہے ۔اس کی وجوبیت کی وجہ کو بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ صدقہ فطر اس لئے واجب کیا گیا کہ روزے لغو اور بے حیائی کی باتوں سے پاک ہوجائیں اور مسکینوں کے لئے کھانے کا انتظام ہو (ابوداؤد)۔اس روایت سے پتہ چلا کہ صدقہ فطر کے وجوب کی دو وجوہ ہیں:   ۱ ؍ رزہ کی کوتاہیوں کی تلافی ۲ ؍امت کے مسکینوں کے لئے عیدکے دن کے روزق کا انتظام کے وہ بھی عید کی خوشیوں میں اوروں کے مثل برابر کے شریک ہو ں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رمضان کے آخر میں لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اپنے روزے کا صدقہ نکالو اوریہ مقدار رسول اللہ ﷺ نے کھجور ارو جو سے ایک صاع اور گندم سے آ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 اعتکاف کے اہم مسائل    اْجرت پر اعتکاف کرانا س:بعض جگہوں پر کسی اجنبی مسافر کو بستی والے اْجرت پر اعتکاف میں بٹھاتے ہیں کیا اس طرح سے یہ مبارک سنت ادا ہوتی ہے؟   ج:         کسی بھی اعتکاف کرنے والے شخص کو اعتکاف کی اْجرت لینا، اور اْسے اعتکاف کی اجرت دینا دونوں حرام ہیں۔ اس سے نہ تو خود اْس شخص کا اعتکاف ادا ہوگا۔ اور نہ اْس محلہ یا بستی کے لوگوں سے اعتکاف کا حکم ساقط ہوگا۔ اعتکاف سنت کفاریہ ہے۔ جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ کوئی ایک شخص بھی اگر اخلاص سے ، بلاکسی دنیوی لالچ کے محض اللہ کی رضا کیلئے اعتکاف کرے گا تو یہ سنت سب کی طرف سے ادا ہوجائے گی۔ لیکن جب اْجرت لینے دینے کا معاملہ ہوگا تو اس سے اعتکاف کی سنت ، ادا ہونا توکئی گناہ ہونا بھی یقینی ہے اور اس محلہ پر ترک اعتکاف کا وبال بھی لازمی ہے۔   س: فرصت والے بوڑھے بھ

کشمیر میں اسلام

مورخینکے ایک طبقہ کے مطابق کشمیر میں دعوت دین کا آغاز عہد نبویؐ میں اس وقت سے ہوگیا جب آپؐ کے صحابہؓ  میں سے کچھ لوگ اس سرزمین میں تبلیغ کی غرض سے تشریف آور ہوئے اور یہاں کے حاکم ویندات  Venadutt سے ملاقات کرکے اس کے سامنے اسلام کا تعارف پیش کیا، پھر کچھ عرصہ یہاں قیام کے بعدچین کا سفرکیا اور شاہراہِ ریشم  Silk Routeکے ذریعہ واپس عرب روانہ ہوگئے۔ یہ وہی زمانہ تھا جب جنوبی ہندکالی کٹ کے حاکم   Cheruman Perumal نے رسول اﷲ ﷺکی زیارت کیلئے مدینہ کا سفر کیا اور آپﷺ کی سیرت وکردار سے متاثر ہوکر اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا۔کچھ مؤرخین کا ماننا ہے کہ محمد بن قاسم نے جب ۷۱۱ ھــ  میں سند ہ پر حملہ کیا اوریہاں کے حاکم راجہ داہر کو قتل کردیا توکچھ عرصہ اپنی فوج کے ساتھ یہاں قیام کیا۔ چنانچہ اسی عرصہ میں یہاں دعوت دین کا آغاز کیا اور کئی مساجداور عبادت گاہیں بھی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال :۔ رمضان المبارک میں صدقہ فطر ادا کیا جاتا ہے ۔ہمار اسوال ہے کہ صدقہ فطر کی از کم مقدار اور زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی ہے۔ دور نبوت میں صدقہ فطر ادا کرنے کےلئے کن چیزوں کو بنیاد بنایا جاتا تھا اور آج کن چیزوں کو بنیاد بنایا جاسکتاہے؟۔ ہلال احمد ۔۔چھانہ پورہ سرینگر صدقہ فطر۔۔۔۔۔۔شرعی توجیہہ جواب:۔ صدقہ فطر کے متعلق احادیث میں ہے کہ جو، کھجور، کشمش ایک صاع دیا جائے۔ صاع دورِ رسالت میں ایک پیمانہ تھا جس سے اناج کیل کرکے لیا دیا جاتا تھا ۔کیل کرنا یعنی کسی پیمانے میں کوئی چیز بھر کر دینا۔ جیسے آج کل دودھ لیٹر کے حساب سے دیا جاتا ہے ، کہلاتا ہے تو اوپر کی اشیاء ایک ساع صدقہ فطر تھا ۔پھر عہد صحابہ میں جب گندم کے استعمال کی کثر ہوگئی تو صدقہ فطر کےلئے طے ہو اکہ اگر کوئی گندم یا اُس کا آٹا دینا چاہئے تو نصف صاع دے اور اگر کوئی شخص جو، کھجوریا کشمش دے تو پورا ایک صاع د

۔۷ا ؍رمضان المبارک

حضرت میرواعظ کشمیر مولانا محمد یوسف شاہ مرحوم، میر واعظ علامہ رسول شاہ ثانیؒ(جوبانی انجمن نصرۃ الاسلام کے دوسرے فرزند تھے) جو۱۳۱۳ھ شعبان المعظم کو  تاریخی میرواعظ منزل سرینگر میںپیدا ہوئے۔ اپنی تعلیم کا آغاز اپنے نامور والد ،محسن قوم، سرسید کشمیر علامہ رسول شاہ صاحب ؒ سے کیا اور والد محترم اور عم مکرم کی نگرانی میں ابتدائی تعلیم کی تکمیل کی۔ خاندان کے ان بزرگوں کے علاوہ تفسیر و حدیث، فقہ ، اصول فقہ، صرف و نحو، معانی و بلاغت، منطق و فلسفہ اور تاریخ و ادب کی بہت سی کتابیں کشمیر کے نامور عالم دین مرحوم مولانا محمد حسین شاہ صاحبؒ وفائی سے پڑھیں۔ آپ ؒ کشمیر کے پہلے میر واعظ ہیں جو مزید حصول علم اور تکمیل فنون کیلئے کشمیر سے باہر تشریف لے گئے اور ازہر ہنددارالعلوم دیوبند میں شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ اسیر مالٹا اور امام العصرمحدث کبیر علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ  کے علاوہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال نمبر1۔ ہمارے یہاں لوگ رمضان المبارک میں زکوٰۃ ،صدقات ادا کرتے ہیں اور اس سب کی بناء پروہ اپنے آپ کو اجر کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند ضروری اور اہم مسائل کا حل فرما دیں تاکہ امت مسلمہ کی یہ مالی امداد انکے اوپر لازم زکوٰۃ و صدقات ان کیلئے ذریعہ نجات بن سکے۔ (۱) زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے سونے کا کیا نصاب ہے؟ (۲) زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے چاندی کا کیا نصاب ہے؟ (۳) سونے اور چاندی کے علاوہ دیگر اموال کا نصاب کیا ہے اور ان پر زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے کیا کیا شرائط ہیں؟ (۴) زکوٰۃ کا مصرف کیا ہے( یعنی زکوٰۃ کن مدوں پر خرچ کی جائے)؟ (۵) کیا زکوٰۃ تعمیرات( چاہئے مسجد کی تعمیر ہو یا درسگاہ کی تعمیر ہو یا کسی فلاحی ادارے کی تعمیر ہو یا سڑک وغیرہ کی) میں خرچ کرنا جائز ہے ؟ سوال نمبر2 کیا اہل مدارس کا چندہ جمع کرنے کیلئے سفیر رکھنا درست ہے۔ اگر ہے تو اسکی کیا حی

آہ !مولانا غلام نبی وانی رحمتہ اللہ علیہ

شہر خاص نوہٹہ کے ہنگامہ خیزاور گنجان آبادی والے تاریخی محلے میں رہنے والے پُر جوش داعیٔ حق، سرگرم عالم دین، مخلص وبے ریا مُدرس اور توحید وسنت کی اشاعت کے لئے ہمہ تن وقف مولانا غلام نبی وانی صاحب حال ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اناللہ ونا الیہ راجعون۔ ان کی ہمہ پہلو شخصیت کی کئی ایک جہتیں ہیں جن کی پرتیں کھولئے تو ایک انسان آپ کی نگاہوں کے سامنے نمودار ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے حق وصداقت کی مشعل برداری کی توفیق سے مالا مال کر دیا تھا۔ اسی مناسبت سے مدرسہ  ٔمحمدیہ نامی ایک چھوٹا سا جز وقتی مدرسہ مولانا کی مساعیٔ جمیلہ کی زندہ وجاوید مثال  ہے ۔ یہ مدرسہ شہر خاص سری نگر کے دل میں مولانا غلام نبی وانی رحم اللہ (متوفی مئی2018ء) نے 1981ء میں ان پُر آشوب حالات میں قائم کیا تھا جب سری نگر میں خالص قرآن و سنت کی دعوت اس قدر عام نہ تھی جس قدر یہ آج متعارف ہے۔ یہ مدرسہ مولانا موصوف نے

مولانا غلام نبی وانی کا یادگار خط

  مورخہ: 28 اکتوبر 1996ء از مقام: سنٹرل جیل وارانسی (یو۔ پی) از طرف: اسیر زندان غلام نبی وانی عفی عنہ عزیز القدر جناب معید الظفرصاحب سلمہ اللہ تعالی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جس اللہ نے بندہ کو پیدا کیا، وہی حقیقی معبود ہے، جس رب کے سوا کسی کے آگے سجدہ کرنا حرام ہے ،وہی رب حقیقی مسجود ہے، جس معبود کے سوا تمام معبود باطل اور طاغوت ہیں، وہی حقیقی مقصود ہے، وہی لا شریک ذات ہے ،جس کا نہ زمین میں، نہ آسمان میں، نہ ملائکہ میں، نہ انبیاء ؑ میں، نہ اولیاء میں، نہ انسانوں میں، نہ جنوں میں، نہ زندوں میں اور نہ مردوں میں کوئی شریک ہے۔ تمام تعریفیں اسی کیلئے ہیں۔ بعدہ بے شمار درود وسلام میرے مرشد کامل، رہبر اعظم، سرور انبیاء ، ختم الرسل، جناب احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے کلام میں حلاوت ہے، جن کے پیام میں راحت ہے، جن کی اطاعت میں فلاح ِدارین ہے،