تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی فضلیت کیا ہے اور اس عشرے کا احکام کیا ہیں تفصیل سے بیان فرمائیں؟ شوکت احمد  ماہِ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی فضلیت   جواب:۔ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی بڑی فضیلت ہے ، حضرت نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو عبادات والے اعمال اتنے پسند کسی اور دن نہیں جنتے ان دنوں میں۔ (بخاری) اس لئے  عبادت، نوافل، روزے، تلاوت، تسبیحات، صدقات ، ذکر اور مسلمانوں کی مالی یا جسمانی مدد جتنی زیادہ سے زیادہ ہوسکے کی جائے۔ یہ تمام اعمال بہت مقبول ہونگے ۔ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ اگر ان ایام میں کوئی روزہ رکھے تو وہ ایک روزہ ثواب کے اعتبار سے ایک سال کے روزوں کے بقدر ہوگا۔ اور فرمایا ان دس راتوں میں ایک رات کی عبادت لیلتہ القدر کی عبادت کے بقدر ہے۔ یہ حدیث ترمذی شریف کتاب الصوم میں ہے۔ اس لئے اس عشرے میں عرفہ کے دن تک روزہ رکھنے ، نوافل

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط 74

   گزشتہ قسط میں نہر زبیدہ کا مختصر ذکر چھیڑ چکاہوں کہ اپنے زمانے کا یہ شہکار نیک عمل ملکہ زبیدہ خاتونؒ کی خدا پرستی اور خدمت ِخلق کا زندہ وجاوید ثبوت ہے ۔ آج یہ نہر آثار قدیمہ یا تاریخ کا بھولا بسراورق ہی سہی مگر یہ نہر بزبان حال ہرزائر سے صاف صاف کہہ رہی ہے : دیدہ ٔ بینا رکھنے والو! تم میری تعمیر کو اینٹ گارے کا رہین ِمنت نہ سمجھنا بلکہ میںشاہی محلات میں رہنے والی ایک اللہ والی ملکہ کے اللہ سے پیار اور انسانوں سے رحم دلی کا دُلار ہوں، میرے رگ وریشے میں ہردانا وبینا شخص کے لئے ایک پیغام مخفی ہے کہ جو کوئی اللہ سے ٹوٹ کے پیار کرتاہے وہ لازماً اللہ کی مخلوقات کے آرام و آسائش پر جم کر فداہوتا ہے ۔ زبیدہ خاتونؒ انہی ہر دو اعلیٰ صفات کی مجسمہ تھیں ۔انہی اوصاف ِ حمیدہ کے طفیل آج بھی وہ تاریخ ِ انسانیت میں زندہ و پائندہ ہیں ۔ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل اس تاریخی نہر میں کسی جگہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ جمعہ کو کون سی اذان ( یعنی پہلی یا دوسری) کے بعد کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم ہے؟ کئی کاروباری ادارے یا دکانیں دو مسجدوں کے درمیان واقع ہوتے ہیں اور ان اداروں یا دکانوں میں کام کرنے والے کارکنان بار ی باری سے الگ الگ مساجد میں الگ الگ اوقات میں جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں۔ اس صورت میں مذکورہ ادارے یا دکانیں مسلسل کھلے رہتے ہیں اور ان میں کاروبار بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ اس شفٹ بدلنے اور اس دوران حاصل شدہ آمدنی کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ سوال:۔ اسکولوں میں داخلہ کےلئے بچے کی عمر کی حدمقرر کرنا، مثلاًLKGکےلئے4سال اور UKGکے لئے 5سال، اسکول انتظامیہ کےمطابق اس  لئے ہوتا ہے کہ موافق جماعت کےلئے موافق عمر کا بچہ داخلہ پاسکے۔ مگر داخلے سے پہلے بچے کو انٹرویو اور ٹیسٹ کی تیاری کی غرض سے بعض لوگکرچ CRUCH)) تر بیتی اداروں میں بھیجتےہیں، جس کے نتیجے میںبچہ داخلہ کےلئ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!...قسط 73

 منیٰ کی مقدس وادیاں موسم حج کے دوران عبادات ِ الہٰیہ سے چہار اطراف گونج اٹھتی ہیں ۔ کہیں اذان ، کہیں فرض اور نفل نمازیں ، کہیں درس قرآن وحدیث ، کہیں قرآن خوانیاں ، کہیں مجالس ِنعت ،کہیں آہوں میں لپٹی دعائیں ، کہیں آنکھوں سے جاری آنسوؤں کی لڑیاں ، کہیں اللہ کے مہمانوں کاتوبہ واستغفار ۔۔۔  یہ دل خوش کن اور روح پرور مناظر دیکھ کر لگتا ہے کہ گویا ساری خلقت اللہ رب العزت کی بلائیں لینے میں مشغول ہے، اپنے اپنے انداز سے اُسے منارہی ہے، اپنا اپنا حال ِ دل سنار ہی ہے ، اپناپیار جتارہی ہے ،اُس کے جناب میں اپنے گناہوں ، خطاؤں ، لغزشوں ، غلطیوں پر شرمسار ہے۔احرام کی سفید وردی میں ملبوس تمام بندگانِ خدا کی ایک ہی فکر ایک ہی وظیفہ ہے۔۔۔ اللہ جل شانہ کی رضا اور رفاقت ۔ وقوف ِ منیٰ انہی ایمان افروز مشغولیات کاجلّی عنوان ہے۔     دوران ِحج منیٰ کے پیچ وخم میں لاکھوں

وقت ہی انمول اثاثہ!

اللہ تعالیٰ نے اپنی بے شمار اور لاثانی (نعمتوں سے ہمیں نوازا ہے۔ سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اپنی لاتعداد مخلوقات میں ہمیں ایک باشعور، فہیم، عقلمند اور مکرم و معزز مخلوق بصورت انسان بنا کر تخلیق فرمایا اور اشرف المخلوقات ہونے کا عظیم درجہ عطا فرمایا۔ الحمد اللہ علی ذلک ۔ اللہ تعالی نے اِن نعمتوں میں اضافہ اور برکت کا وعدہ فرمایا ہے اگر ہم اُس کے شکر گذار بندے بن کر رہیں اور ناشگر گذاری اور کفرانِ نعمت کی وجہ سے ہم اُس کے عذاب و عتاب کے مستحق ٹھہریں گے ۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اگر تم شکر ان نعمت کرو گے تو اِن نعمتوں میں اضافہ ہوگا  اور اگر تم نے کفرانِ نعمت کیا تو میرا عذاب سخت ہوگا۔‘‘ شکران نعمت یہ ہے کہ اِن نعمتوں کو صحیح ڈھنگ سے استعمال کرکے منعم حقیقی کی عبادت کی جائے اور کفرانِ نعمت یہ ہے کہ اِن نعمتوں کو ضائع کرکے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جائے۔اللہ تعالیٰ ن

اسلام۔۔۔ انسانیت خدمت اتحاد

ہم آج کے مادی دور میں شاید یہ بھول چکے ہیں کہ ہم کون ہیں؟ ہمیں دنیا میں کیا کرنا چاہئے؟ کیا نہیں کرنا چاہئے ۔سچ تو یہ ہے کہ اپنی معاشی ضروریات کی کفالت اور قومی ونسلی تفاخر کی آڑ میں ہم نے اسلام سے ہٹ کراپنی ایک الگ پہچان بنالی ہے ۔اس رو میں بہہ کر ہم اتنے دورجا چکے ہیں کہ اندازہ ہی نہیں کہ ہم کہاں ہیں؟ یہ میرااور آپ کا عینی مشاہدہ ہے کہ دین کے بنیادی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر بعض علماء اور عوام الناس غیر ضروری موضوعات و مسائل پر خشک بحث و مباحثہ میں الجھے ہوئے رہتے ہیں۔حد یہ کہ اس قسم کے مباحث کے لئے فیس بک اورواٹس اپ وغیرہ کا بھی بخوبی استعمال بخوبی ہورہا ہے۔ہم میں سے کچھ افراد شیعہ ،سنی ، بریلوی دیو بندی مکاتب ِفکر کے بارے میں بحثوں میں اپنی ساری قوت گویائی صرف کر تے رہتے ہیں۔ البتہ کچھ وہ مخلص لوگ بھی ہیں جن کااختلافی مسائل ،مسلکی تقسیم اورفقہی تنازعات سے کوئی لینا دینا نہیں ،

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۱-میں ایک کالج اسٹوڈنٹ ہوں اور ماڈرن ہوں ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے نماز پڑھنا شروع کردی ہے۔میں چونکہ تنگ وچست جینز پہنتاہوں اس لئے نماز کے وقت ٹخنوں سے موڑ دیتاہوں ۔ ایک صاحب نے مجھ سے یوں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا سمیٹنے اور موڑنے سے منع کیا ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نہ کپڑوں کو سمیٹوں اور نہ بالوں کو۔(بخاری) مسائل کی کتابوں میں لکھاہے کہ کپڑا موڑنا مکروہ ہے اس لئے پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ ہے اور ایسی حالتوں میں پڑھی ہوئی نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے کیونکہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ ٹخنوں سے موڑنا کیاہے؟ محمد محسن شیخ …… پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ نہیں  جواب:-ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننے کے متعلق احادیث میں سخت ممانعت ہے ۔ یہ احادیث بخاری، مسلم، ترمذی ،اب

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط ؛72

  مکہ معظمہ کی زیارات پر حاضری دینے کی سعادت حاصل کر نے کے لئے گاڑی کا رُخ اب مقدساتِ حج کی جانب تھا۔ حج کے مناسک ۸ ؍تا ۱۳؍ ذی ا لحجہ پانچ روز ہ دورانیہ میں ادا ہوتے ہیں ۔ حج کاپہلا پڑاؤ منیٰ ہے جو مسجد حرام سے مشرق کی جانب تقریباً ۷ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ پہاڑوں کی گود میں تاحد ِنظرآباد یہ حسین و جمیل خیمہ بستی ایک وسیع وعریض وادی کا دلرباصحرائی منظر پیش کر تی ہے ۔ بعض اہل ِزبان کہتے ہیں کہ منیٰ کے لغوی معنی بہناہے ۔ چونکہ ایامِ حج میں یہاںقربانی کے جانوروں کا خون بے تحاشہ بہتا ہے ،ا س لئے اسے منیٰ کے نام سے پکاراجاتاہے مگر کئی اہل ِعرب کہتے ہیں کہ منیٰ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں ایک جم ِغفیر جمع ہو۔ چونکہ موسم حج میں لاکھوں کی تعداد میں اس خیمہ بستی میں حاجی صاحبان مناسک ِحج کی ادائیگی کے ضمن میں چند روزہ قیام کرتے ہیں ، اسی سے مناسبت سے اس جگہ کا نام منیٰ پڑا ہے۔ مکہ سے یہاں

اللہ کاپسندیدہ انسانی گروہ

    سورہ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے محسنین کے تئیں شدید محبت کا اظہار کیا ہے۔ یہ محسنین کون ہیں؟ یہ کو ئی ملکوت نہیں، نہ آسمانی مخلوقات بلکہ زمین پر بس رہے انسانوں میں ہی کا ایک  پسندیدہ گروہ ہے‘ جس نے اپنی صداقت شعاری اور خلوص ونیک عملی سے بندگی میں ’’درجۂ احسان ‘‘ پالیا ہو: قرآن میں فرمان ِ الہٰی ہے’’ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی جب کہ اُن کا طرزِ عمل یہ رہا ہو کہ انہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی اور ایمان لائے اور اعمالِ صالح کئے پھر مزید تقویٰ کا اضافہ کیا اور ایمان لائے‘ پھر مزید تقویٰ اختیار کیااور احسان کی روش اختیار کیا اور اللہ (ایسے) محسنین سے محبت رکھتا ہے‘‘۔(سورہ المائدہ- 93 )  اس آیت میں ایمان&ls

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

خ: -عرض یوں ہے کہ مسئلہ ذیل کی وضاحت مطلوب ہے:۔ حج کی کتنی اقسام ہیں؟   بعض لوگ کہتے ہیں کہ حج قرآن نہیں ہے اس کی وضاحت فرمادیں؟ نیز یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ نبی علیہ الصلوٰة والسلام نے کون سا حج کیا تھا۔ ہم لوگ کشمیر عظمیٰ نیٹ پر دیکھتے ہیں اس لئے ’کشمیر عظمیٰ‘ ہی میں جواب کے منتظر ہیں۔ انجینئر منظور احمد ریشی کشمیری    حج کی اقسام اور حج قِران کی وضاحت د:- حج کی تین قسمیں ہیں: حج افراد، حج تمتع، حج قِران۔ حج افراد یہ ہے کہ حج کا سفر کرنے والا میقات سے صرف حج کا احرام باندھے اور حج ادا کرنے تک اُسی احرام میں رہے۔ حج سے پہلے کوئی عمرہ نہ کرے۔ حج تمتع یہ ہے کہ سفر حج کےلئے روانہ ہونے والاشخص میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کرے اور احرام کھول دے۔ پھر آٹھ ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے اور پھر حج کرے۔تمتع

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔قسط71

  وقت کی سوئیوں پر خوف و خطر کا پہرہ بٹھا نے والا قاتل دستہ کا شانہ ٔ نبوت کا برابر محاصرہ کئے ہوئے ہیں۔ کالی رات کا مہیب سایہ ، ہیبت ناک سناٹا،خون کی پیاسی تلواریں، انتقام کااُبلتا جنون، یہ سب چیزیں مل کر محاصرین میںخون خواری کے شعلے دہکارہی ہیں ۔ آج کی رات تاریخ کی بارگاہ میں ہمیشہ کے لئے یہ فیصلہ ہوناہے آیا دیار ِ عرب میں اسلام جئے گا یا کفر ۔ بزدلوں کا ٹولہ وقفہ ٔ صفر یا وقت ِفجرکے انتظار میں ہے جب نبی رحمت صلی ا للہ علیہ و سلم معمولاً اللہ کے حضور سر بسجود ہونے کے لئے گھر سے باہر تشریف لاتے ہیں ۔ قاتل دستہ خون تشنہ تلواریں لئے اسی لمحے کا بے تابی سے منتظر ہے جب دنیائے انسانیت کی سب سے مبارک ترین ہستی پر اس ’’جرم ‘‘ میںشب خون ماریںکہ اس نے شرک کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں ، کفر کا چین لوٹ لیا ہے، لات و منات کو توحید کی سولی پر چڑھایا ہے، انسان کی انسان

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

س:۱- کئی صاحبان آپ سے سوال کرتے ہیں جن کا جواب ہر جمعۃ المبارک کے اخبار’’کشمیرعظمیٰ‘‘ میں آتا ہے۔مسلمان لوگ اس صفحہ کی قدر کرکے یا تو دریا میں ڈال دیں گے یا کہیں پاک جگہ مگر غیر مسلم ان کی قدرکیا جانیں ! جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی ان سوالات میں آتاہے ۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ غیر مسلم حضرات اور اَن پڑھ خواتین ان صفحات کی قدر نہیں کرپاتیں۔میرے خیال میں اگر اخبار کے بجائے کوئی رسالہ شائع ہوتا تو ٹھیک تھا۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ س:۲-ایک شخص محکمہ بجلی میں بطور لائن مین ہے دوسرا پی ایچ ای میں چوکیدار ہے تیسرا شخص محکمہ ایری گیشن میں ملازم ہے ۔ یہ تینوں شخص نماز پانچ وقت پڑھتے ہیں اور خدا کا خوف بھی رکھتے ہیں مگر مہینے میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ ڈیوٹی دیتے ہیں ۔ ان سے معلوم کیا جائے تو کہتے ہیں کہ بجلی چل رہی ہے ،پانی چل رہاہے،نہر چل رہ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط 70

 مکہ معظمہ میںمحمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف شرک و کفر کے علم بردار اور جاہلیت کے کھیون ہار اپنی کینہ پروری کی تمام حدیں پھلاند کر قراردادِ قتل پر اتفاق کر تے ہیں۔ ان کازعم ِباطل ہے کہ اس خفیہ سازش کی بھنک کسی کو نہیں لگ سکتی حالانکہ سمیع البصیر اللہ اُن کی ایک ایک نیت جانتااور سانسیں گنتا ہے۔ قتل ِنبی  ؐان مجرموں کا آخری اوچھا حربہ ہے لیکن انہیں اس امرواقع کا ادراک نہیں کہ اس گر اوٹ سے وہ خود اپنے ہاتھوں اپنی ذلت ورسوائی کے سارے اسباب جمع کررہے ہیں۔ برادرانِ یوسفؑ بھی بظاہر اپنے بھائی کو تباہی وبربادی کے اندھے کنویں میں دھکیلتے ہیں مگر بالآخر ان کی یہی مجرمانہ حرکت حضرت یعقوبؑ کے شاہزادے کی تاج پوشی اور اُن کے سوتیلے بھائیوں کی خجالت وندامت پر منتہی ہوتی ہے ۔ سرور دوعالمؐ کے قتل پر سردارانِ قریش کا فوری محرک ان کی یہ بوکھلاہٹ ہے کہ مکہ میں تیراں سال تک اسلام کا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ٹریفک پریشانی ہماری عوامی زندگی کی بہت بڑی پریشانی ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ بہت سارے لوگ صرف اپنی خود غرضی کیلئے( Over Taking) کرتے ہیں اور اپنے اصل( Side) کوچھوڑ کر مخالف سمت سے آنے والے راستے پر آگے نکلنے کی کوشش کرتے ۔ عموماً اس سے ٹریفک جام ہو جاتا ہے مگر خود غرضی کی وجہ سے لوگ اس کی پروا نہیں کرتے اور اپنے لئے بھی دوسروں کیلئے بھی پریشانیاں کھڑی کرتے ہیں کیا یہ حقوق العباد کی حق تلفی میں نہیںآتا ہے؟ فیضان باغ مہتاب سرینگر ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی حقوق العباد کا اتلاف  جواب: ٹریفک قوانین کی پابندی ہر مسلمان شہری کالازمی فریضہ ہے اسلئے کہ اسلام کے احکام کے مطا بق سڑکوں کا ایسا استعمال جس سے دوسرے کو اذیت ہو سراسر گناہ ہے اور بلا شبہ یہ حقوق العباد کی خلاف ورزی ہے لہٰذ ا سڑک کی وہ سائیڈ جو آنے والی گاڑیوں کے لئے ہو، اُس پ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

  لیجئے یہ ہمارے سامنے روح پرور غار ِثور ہے ۔ اس مقدس مقام کی کتابی زیارت کی تھی لیکن اب نظریںتاریخ اسلام کے اس سدابہار مر کزامتحان سے براہ ِ راست ٹکرائیںتودل کی کیفیات کا حال بنا، شاید لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ۔ جونہی گاڑی مختصر وقفہ کے لئے یہاں پارک ہوئی ، شوق کا پنچھی غار سے بغل گیر ہونے کے لئے جھٹ سے محوپرواز ہوا۔ میں سوچنے لگا جبل ثور کی چمک دمک کا کیا حال رہاہو گا جب رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم اپنے ہمرازو دمساز یارِ غار صدیق اکبر رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ اس کمیں گاہ میں امتحان ِو فا دینے گھس گئے ؟ دشمن کا تعاقب ہے ، سامنے سنگین خطرات کا اژدھا پھن پھیلائے ہے، غیر یقینیت کا عالم ہے مگر تسلیم ورضا کا پیکر اللہ کا رسول ؐ مولا کی مدد وحمایت پر غیر متزلزل ایمان کی زرہ لئے یہ جان گسل امتحانی پر چہ نہایت ہی طمانیت ِقلب سے حل کر رہے ہیں ، نہ کوئی غم کی پرچھائی نہ کوئی ڈر کا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: کرسیوں پر نماز پڑھنے کا مسئلہ آج کل بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بہت سے لوگ زندگی کے سارے کام چل پھر کر کرتے ہیں۔ ضرورت کے وقت زمین پربھی بیٹھتے ہیں، خاص طور پر دعوتیں کھانے کےلئے زمین پر ہی بیٹھتے ہیں مگر نماز کرسیوں پر پڑھتے ہیں، کیا ان کےلئے ایساکرنا درست ہے؟ اور بہت سارے لوگ واقعتاً ایسا کرنے پر مجبور ہیں کہ وہ کرسی پر نماز ادا کریں کیونکہ وہ زمین پر بیٹھے اور سجدہ کرنے میں سخت مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کس صورت میں کرسی پر نماز درست ہے اور کس صورت میں نہیں اس کا واضح جواب عنائیت فرمائیں؟ ہلال احمد میر لعل بازار سرینگر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا۔۔۔۔۔۔ چند اہم مسائل جواب:۔نماز میں جو اعمال فرض ہیں وہ دو قسم کے ارکان ہیں قولی اور فعلی۔ قولی ارکان وہ اعمال ہیں جو زبان سے ادا کئے جائیں۔ جیسے قرأت اور فعلی ارکان وہ اعمال ہیں جو جسمانی نقل و حرکت سے ادا کئے

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط 68

    جبل ِنور سے رخصت ہو کرہماری گاڑی کا رُخ اب تاریخ ا سلامی کے ایک اور سنگ ِ میل غار ثور کی جانب تھا۔ غار ِثور ہجرتِ مدینہ کے تعلق سے تاریخی یادگار ہے ۔ ہمارے ملتانی گائیڈ نے ہجرت کی روشنی میں اس غار کی اہمیت بیان کر نا شروع کیا ۔ چلتی گاڑی میں جبل نور اور حرا کی جلوتیں ہمیںکبھی قریب سے کبھی دور سے اپنے تعاقب میں دکھائی دے رہی تھیںگویایہ دونوں بھی ہمارے ساتھ محو سفر تھے۔چند ہی ثانیوں میں غار ثور ہماری آنکھوں کی تراوت بننے والی تھی ۔ شوق کا پنچھی حسب ِ عادت گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔وہ اس ادھیڑ بُن میں ا پنے فکر وتجسس کے چراغ جلا رہا تھا کہ آخر اس میں اللہ کی کیا مشیت ہے کہ ایک پتھریلی کوٹھری ۔۔۔ غارِ حرا۔۔۔ کونزول گاہ ِ وحی بنی اور خالق ِکائنات نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ابدی ( کلام اللہ ) سونپ دیا جس کی تبلیغ وتنفیذ میں تیراں برس تک آپ ؐمکہ کے سنگلاخ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۱- نکاح خوانی کا طریقہ کیا ہے ؟ سوال:۲-مہر کتنا مقرر کرنا چاہئے ؟ سوال:۳- مہر کے علاوہ تھان نکاح اور زیورات کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے ۔ نکاح کی مجلس میں ان معاملات کے متعلق کیا کچھ تحریر میں لایا جانا چاہئے؟ سوال:۴-مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کا کیا طریقہ ہوتاہے ؟ سوال:۵- لڑکی سے نکاح کی اجازت لینے کا حق کس کو ہے اور اس کی طرف سے کس بات کو رضامندی سمجھا جائے ۔ سوال:۶- نکاح مجلس کے بعد نکاح خواں کو اُجرت دی جاتی ہے ۔ یہ اُجرت لڑکے والے کو دینی ہوتی یا لڑکی والوں کو۔ عام طور پر لڑکے والے یہ اجرت دیتے ہیں اگر نکاح خواں لڑکی والے بلا کرلے آتے ہیں ۔ توپھر لڑکے والوں سے کیوں اُجرت لی جاتی ہے ۔ یہ اجرت لینا جائز ہے یا نہیں ۔تفصیل سے لکھئے ۔ نکاح خوانی، مہر اور تھان…شریعت کا عمل   ایک امام …کپواڑہ کشمیر جواب:۱-نکاح خوانی کا طریق

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!قسط۔۔۔ 67

  شو ق کا پنچھی غارِحرا کی زیارت سے فیض یاب ہو تارہا مگر سیر ہی نہیں ہورہاتھا ،چاہتا یہ تھا کہ جبل ِنور کی تابانیوں کو صدیوں گھورتا رہے، پاک ومطہر بہاروںکو اپنی آنکھوں کے ہیے میںہمیشہ ہمیش کے لئے بساتارہے ، پاکیزہ فضاؤں کو اپنے حریم ِقلب میں اُتارتا رہے ۔جبل ِنور ہر روز ہزاروں زائرین کا استقبال کرتا ہے ،کوئی کوئی حرا کے اندر جاکر جلوہ گاہ ِ وحی کی عطر بیز جا ئے نماز پر سجدہ ریز ہے، کوئی دعاؤں میں مشغول ہے ، کوئی شوق ِ دیدار کا ہدیہ گرم گرم آنسوبہاکر نقد ِدل لٹا ئے، کوئی کپکپاتے ہونٹوں اور تھرتھراتے بدن سے عقیدتوں کا خراج پیش کرے۔ میں اورمیری اہلیہ بھی دامنِ کوہ ایستادہ ہوکر غار کی کشش و جاذبیت میں تا دیر کھو گئے۔ کیا پتہ ہمارے شانہ بشانہ کھڑے زائرین کے دلوں میں کتنے اَرمان تھے ، کتنی تمنائیں تھیں، کتنی امنگیں تھیں جو غار ِحرا میں ایک بارداخل ہوکر ربِ جلیل وجمیل کے حضور پیش کر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

(۱) صدقہ فطر کیاہے؟ (۲) اس کی کیا مقدارہے؟ (۳) اور اس کی ادائیگی کا کیا وقت ہے؟ (۴) جواور گندم میںکیا فرق ہے؟                        شوکت احمد   صدقہ فطر،مقداراور وقت ِ ادائیگی   جواب: ایک مسلمان جب شوق و جذبہ سے روزہ رکھتا ہے تو وہ محض اللہ کی رضا کے لئے دن بھر کی بھوک و پیاس برداشت کرتا ہے۔ ممکن ہے اس عظیم عمل میں کوئی کمی رہی ہو تو اس کی تلافی ضروری ہے تاکہ روزہ کا عظیم عمل بہتر سے بہتر بن سکے۔ اسی غرض کیلئے صدقہ فطر لازم کیا گیا چنانچہ حدیث میں صدقہ فطر کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یہ غرباء کیلئے کھانے پینے کا انتظام اور روزے داروں کے لئے روزوں کی نقائص کی تلافی ہے۔ صدقہ فطر کی ادائیگی میں کشمش، کھجور، جو کا آٹا یا اس کا ستو پنیر کی مقدار ایک صاع اور گندم یا اس کے آٹے کے مقدا