تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 خودکشی، انسان کا اپنا عمل سوال: احادیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے ہر انسان کی مقدر طے کر رکھی ہے۔ انسان کب پیدا ہوگا، کہاں پیدا ہوگا، کیسے پیدا ہوگا، کب شادی ہوگی، کہاں ہوگی، کس کے ساتھ ہوگی، کب وفات ہوگی اور موت کیسے ہوگی، سب کچھ طے ہے، تو آپ بتا دیجئے کہ اگر کسی انسان کی موت اللہ نے خودکشی کرنے کی وجہ سے لکھی ہوگی، جبکہ خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے، تو اس میں خودکشی کرنے والے کا کیا قصور ہے؟ بلال احمد ڈار  مانو حیدرآباد   جواب: خودکشی کرنا سخت ترین حرام کام ہے۔ حضرت نبی کریم ؐ کا مبارک ارشاد ہے کہ خودکشی کرنے والا قیامت تک اُسی عذاب میں مبتلا رہے گا جس آلے سے اُس نے خودکشی کی ہو۔ حضرت خباب بن الارث ایک سخت ترین جسمانی تکلیف میں مبتلا تھے اور اس سخت ترین اذیت کی وجہ سے بار بار دربارِ رسالت (ﷺ) سے انہوں نے استدعا کی کہ خودک

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!قسط 82

   میں نے اوپر کی سطور میں کہیں مکہ میوزئم کی سر سری بات چھیڑی تھی۔اس پر اپنے ایک مکرم و  مشفق دوست نے مکہ میوزئم کے بارے میں مزید معلومات قارئین کو دینے کی قابل قدر تجویز لکھ بھیجی۔ ہمیںاس میوزئم کی مختصر سی سیر مکہ معظمہ میں کپوارہ کشمیر کے ایک مدرس جناب معراج الدین صاحب نے کرائی۔ انہوں نے ایک دن طے شدہ پروگرام کے مطابق بعدازحج ہم چند ساتھیوں کو اپنی گاڑی میں بٹھا یا اور از راہِ کرم یہ میوزیم دکھایا۔ میوزئم میں تاریخی نوعیت کے بہت سارے نوادرات نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں، جن میں خصوصی طور دو اہم یادگاریں آنکھوں کو تراوت بخشتی ہیں : اول جامع قرآن حضرت عثمان غنی ذی النورین رضی اللہ تعالیٰ وجہہ کا تیار کردہ نسخہ  ٔ قرآن ( جس کی فوٹو اسٹیٹ کاپی میوزئم میں ہے ) جسے آپ ؓ نے اپنے دورِ خلافت میں تیارکروایا تھا ، دوم ۶۵؍ ہجری میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

مصنوعی بال لگانا حرام    سوال:آج کل بہت سارے لوگ ، جن کے سر سے بال گر گئے ہوں، نقلی بال سر پر لگاتے ہیں ۔ س کی ایک صورت "WIG" ہے۔ یہ بالوںکی ایک ٹوپی نما کیپ ہوتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ مصنوعی بال لگانا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اگر لگائے گئے ہوں تو ان پر مسح کرنا صحیح ہوگا یا نہیں؟ اور اسی طرح غسل میں اگر اس ٹوپی یا مصنوعی بالوں کو ہٹائے بغیر غسل کیا جائے تو وہ غسل ادا ہوگا یا نہیں ؟ شوکت احمد …پٹن  جواب:-مصنوعی بال چاہے انسان کے بال ہوں یا جانوروں کے بال ہوں ۔ یہ ہر قسم کے بال لگانا سخت منع ہے ۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بال جوڑنے والے اور بال لگوانے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ (بخاری ومسلم)۔ ایک خاتون دربارِ رسالتؐ میں غرص کیا کہ میری بیٹی کے سر کے بال جھڑ گئے ہیں ۔ اگر اُس کو نقلی بال نہ لگائوں تو ہوسکتاہے کہ اُس کا ہونے والا شوہر

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔قسط 81

 مکہ معظمہ کی رحمتوں اور سعادتوں سے وداع لے کر مدینہ منورہ کی  راحتوں اور فرحتوں میں منتقل ہونے کی گھڑیاں جوں جوں نزدیک آگئیں ،شادی اور غمی کا ایک عجیب سا احساس دل کی ہر دھڑکن اور دماغ کی ہر جنبش پر یکایک چھا گیا۔ یہ احساس ِدروں کبھی آنسو بن کر آنکھوں سے پگھلتا اور کبھی دل میں خوشی کی تاریں چھیڑ کر نغمۂ حیات بنتا ۔ کعبہ مشرفہ سے بچھڑنے کاغم روضۂ پاک سے گلے ملنے کی شادمانی ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں یہ ہردو کیفیات ویسی ہی ہوتی ہیں جیسے ایک بچے کو اس کے دادیہال اور نانیہال کا لاڈ پیار بیک وقت اپنی جانب کھینچتا رہتاہے یا جیسے ایک دُلہن مائکے سے رخصت لیتے ہوئے جہاںاپنے پیاروں سے جدا ہونے کے رنج میں آنسوؤں اور ہچکیوں میں ڈوب جاتی ہے ، وہاں سسرال جانے کی خوشیاں اُس کے دل کے لئے تسلیت اورجگر کو فرحت کا سامان بنتی ہیں۔ بہ نظر غائر دیکھاجائے تو مومن کی زندگی کا سارا سفر ہی شیطان سے بچھ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ عام طور پر مسجدوں میں اقامت کہنے پر جھگڑا ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جو اذان کہے وہ تکبیر بھی کہئے گا کیا ایسا کرنا درست ہے؟ سوال:۔ بیک وقت کئی اذانوں کا جواب کس طرح دیاجائے اگر کسی نماز کے وقت کئی مسجدوں سے ایک ساتھ اذان کی آواز آنے لگے تو ایسی صورت میں کس مسجد کی اذان کا جواب دیا جائیگا؟ سوال: اگر کوئی شخص اکیلے نماز پڑھے تو کیا ایسے شخص کیلئے اذان اور اقامت کہنا درست ہے یا نہیں؟ سوال: اگر وقت سے پہلے اذان دی جائے تو کیا اذان کا اعادہ کرنا دست ہے یا نہیں کیونکہ اکثر جگہ میں نے ایسا ہی پایا ہے کہ وقت سے پہلے اذان دے دیتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا صحیح ہے ؟ سوال: کیا بغیر وضو کے اذان دے سکتے ہیں۔ اگر دی جائے تو درست ہے یا نہیں؟ سوال:۔ ایک موذن کا دومسجدوں میں الگ الگ اذان پڑھنا کیسا ہے؟ برائے کرم ان تمام سوالات کا مفصل جواب دیا جائے کیونکہ اکثر لوگوں میں یہ تمام چ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!..قسب ۔۔78

  مقاماتِ حج کی زیارت سے فارغ ہوکر ہماری گاڑی واپس حرمِ کعبہ کی جانب رواں دواں ہوئی۔ اپنی اپنی ایمانی بساط اور روحانی احوال کے مطابق تمام زائرین مقاماتِ حج کے نقش ونگار دل کے تہ خانے میں اُتارکر اور ان کی ابدی رعنائیاں آنکھوں میں بساکراس دنیائے بسیط کے بارے میں زیادہ سے زیادہ ملتانی گائیڈ سے معلومات کا ذخیرہ مستعار لیتے رہے،مگر شوق کا پنچھی زیارات و مقدسا ت کے روح پرورفضاؤں میں پر کشاںرہا، ان کی جاذبیت و علویت پر واری ہوتارہا، اس کی رَگ رَگ میں ایک ہی تمنا جوش مارتی رہی اے کاش زمانے کی گردش آنکھ جھپکنے کی دیر میں بابرکت و نورانی موسم ِحج لائے کہ میںان مقدسات کی وسعتوں میں اُڑانیں بھروں ، ان میں کھوجاؤں، چہکوں پھدکوں ، ان کی بلائیاں لوں، ان کے فیضان سے اپنے کاشانۂ قلب میںایمان واَمان سے بھردوں ، ان سے روح کی کمائیاں کر کے دل و نگہ کی دنیا کے بازارمیں لٹا دوں۔   م

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: آج کل شہر و دیہات میں شادیوں کا سیزن جاری ہے۔ ہماری شادی بیاہ کی تقاریب میں جہاں درجنوں بلکہ سینکڑوں خرافات سے کام لیا جاتا ہے وہاں ایک انتہائی سنگین بدعت پٹاخوں کا استعمال ہے۔ شام کو جب دولہا برات لے کر اپنے گھر سے روانہ ہو جاتا ہے تو وہاں پر اور پھر سسرال پہنچ کر پٹاخوں کی ایسی شدید بارش کی جاتی ہے کہ سارا محلہ ہی نہیں بلکہ پورا علاقہ لرز اُٹھتاہے اور اکثر لوگ اسے فائرنگ اور دھماکے سمجھ کر سہم جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں، بزرگوں اور عام لوگوں کو پٹاخے سر کرنے سے جو انتہائی شدید کوفت اور پریشانی لاحق ہوجاتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔شرعی طور براہ کرم اس معاملے پر روشنی ڈالیں۔ خورشید احمد راتھر شادی بیاہ پرپٹاخوں کا استعمال غیرشرعی جواب:شادیوں میں پٹاخے  سر کرنا اُن غیر شرعی اور حرام کاموں میں سے ایک سنگین و مجرمانہ کام ہے جو طرح طرح کی خرابیوں کا مجموعہ ہے اورشادیوں

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!..قسط۔۔77

  ہماری گاڑی کا رُخ مزدلفہ کی جانب تھامگر شوق کا پنچھی ابھی عرفات کے دلآویز مناظر میں کھو یا سا تھا ۔ یہ جاذب ِ نظر مناظر ہوتے ہی ایسے ہیں کہ ان سے ایک ہاتھ میدانِ عرفات کی شان دوبالا ہوتی ہے اور دوسرے ہاتھ ذرا گہرائی سے دیکھئے تو یہ اجتماع میدان ِ محشر کا مثیل لگے گا ۔ شوق کا پنچھی گزرے زمانوں کے اُن ایام کے ادھیڑبُن میں بھی تھا جب عرفات میں دورِ حاضر کی طرح جدید ترین سہولیات کا وہم وگمان میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہاں کی ریتلی زمین دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں گرم تانبے کی طرح تپ جاتی اور بر ہنہ سر و احرام پوش ضیوف الرحمن ( اللہ کے مہمان یعنی حاجی صاحبان) لُو کی ناقابل برداشت حدت و تپش سے بے نیاز اللہ سے کسی چشمہ شاہی کا آب ِ زُلال نہیں مانگتے بلکہ اپنے کپکپاتے ہاتھوں، لرزتے ہونٹوں اور بر ستی آنکھوں سے اپنی بخشش ومغفرت اور جہنم کی آگ سے نجات کی دعائیں کرتے، اللہ سے منت

بعداز عید

گزشتہ دنوں مسلمانان عالم عید الاضحی اس بے چارگی کے عالم منارہے ہیں کہ چاردانگ عالم میںان پر ظلم کے پہاڑ توڑ ے جارہے ہیںاوران کاخون بے دریغ بہایاجارہاہے۔ کشمیرمیں افسپا کے حمایت یافتہ وردی پوش ، فلسطین میںصیہونی فوجیں اوربرماکی سفاک فوج روہنگیائی مسلمانوں کوذبح کررہی ہیں۔یہ بات الم نشرح ہے کہ امریکہ اوراس کاابلیسی اتحاد اوراس کی پرودہ جنونی حکومتوں کی قاتل اورسفاک فوجیںمقبوضہ مسلمان ریاستوں میںعرصہ سے قتل عام جاری رکھی ہوئی ہیں ۔اسی کا شاخسانہ ہے کہ کشمیرمیں ننگی بربریت، فلسطین میںیہودیوں کے ظلم و ستم اوربرمامیںبرمائی حکومت کی کھلی سفاکیت پر دنیائے کفران کادرپردہ ساتھ دے رہاہے ۔ کشمیر میں ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے۔ برما میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ہندوستان بھر میں آج پہلے سے زیادہ مسلمان زیرعتاب ہیں ۔ عراق کے اندر امریکا کی لگائی آگ ٹھنڈاہونے کانام نہیں لے رہی اوراقتدا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۱-قربانی کس پر لازم ہے اور جس پر قربانی لازم نہ ہو اگر وہ قربانی کرے گا تو کتنا ثواب ہوگا او رجس پرقربانی لازم ہو وہ نہ کرے تو اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے ؟ سوال :۲-آج کل بہت سے دینی ادارے بھی اور فلاحی امدادی یتیم خانے قربانی کا اجتماعی نظام کے لئے اپیلیں کرتے ہیں ۔کیا اس طرح قربانی ادا ہوجاتی ہے ؟ اگر کسی کو اس طرح کے ادارے سے قربانی کرنے کی ضرورت ہوتو اس بارے میں کیا حکم ہے اور اگرکوئی بلاضرورت صرف رقم کم خرچ کرنے کے لئے ایسا کرے تو کیا حکم ہے ؟ عبدالعزیز خان قربانی کن پر واجب ؟ جواب: جس شخص کے پاس مقدارِ نصاب مال موجود ہو اُس پر قربانی واجب ہے ۔ نصاب 612گرام چاندی یا اُس کی قیمت ہے۔ اس کی قیمت آج کل کشمیر میں ساڑھے پینتیس ہزار روپے ہے ۔اب جس شخص کے پاس عیدالاضحی کے دن صبح کو اتنی رقم موجود ہو تو اُس شخص کو شریعت اسلامیہ میں صاحبِ نصاب قرار دیا گیا ہے ۔ ایسے

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط 76

  حدودِ حرم سے باہر واقع جبل الرحمۃ کے قرب وجوارمیں داخل ہوتے ہی زائرین کی دیدہ ٔ شوق مسجد نمرہ سے ٹکراتی ہے ۔ نمرہ اصل میں ایک پہاڑی کانام ہے جس کی مناسبت سے اس تاریخی مسجد کانام مسجد نمرہ ہے۔ تاریخ اسلام بتلاتی ہے کہ حج الوداع کے موقع پر یومِ عرفہ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی پرخیمہ زن ہوئے تھے۔ زوال بعد آپ ؐ قریب ہی وادیٔ عرنہ نامی نشیب میں تشریف لے گئے اور اونٹنی پر سوار ہوکر اپنا مشہور خطبہ ٔ حج دیا ، بعدازاںجمع بین الصلوٰتین کی امامت وپیشوائی فرماکر ظہر وعصر یہیںادا کیں۔ نما ز سے فراغت کے بعد آپ ؐ جبل الرحمۃ کی چٹانوں کے قریب ہوکر قبلہ رو ہوئے اور غروبِ آفتاب تک دربار الہٰیہ میں اشک باردعاؤںمیں مشغول رہے۔ جس مقدس مقام پر آپ ؐ نے خطبہ ٔ حج دیا اور نمازیں اد افرمائیں ، وہاں آج ایک خانۂ خدا ہے جو مسجد ابراہیم ، مسجد عرفہ اورمسجد نمرہ کے مختلف ناموںسے موسوم ہے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ وتر کی نماز کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھنے کا ثبوت حدیث میں ہے یا نہیں ، اگر ثبوت موجود ہے تو اُس کو حوالہ ضرور دیں؟ محمد یوسف خان وتر کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا ثابت جواب:۔ وتر کی نماز کے بعد دو رکعت نما زپڑھنا احادیث سے ثابت ہے اور یہ دو رکعت بیٹھ کر پڑھنا بھی ثابت ہے اور کھڑے ہو کر پڑھنا بھی ثابت ہے۔ مسند احمد کے حوالے سے مشکوٰۃ شریف میں حدیث ہے ، حضرت ابو امامہ ؓسے روایت ہے کہ حضر ت نبی کریم ﷺ وتر کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے اور اُن دو رکعت میں سے پہلی رکعت میں سور زلزال اور دوسری رکعت میں سورہ کافرون پڑھا کرتے تھے۔ مسلم شریف میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اُن سے پوچھا گیا کہ حضرت نبی کریم ﷺ رات کو کتنی رکعات پڑھا کرتے تھے۔ تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ تیرہ رکعات پڑھتے تھے۔ پہلے آٹھ رکعات پڑھتے تھے۔ پھر تین وتر پڑھتے تھے پھر دو رکعت بیٹھ کر ادا فرمات

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط;75

   میدان عرفات کے آغوش میںجبل الرحمتہ کی زیارت کرنا ہم پر خداوندقدوس کی ایک بڑی مہربانی اوربڑاکرم تھا ۔ یہ وہ مقدس پہاڑی ٹیلہ ہے جسے محمد رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے ، جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے ( ملاحظہ ہو سورہ بقرہ آیت ۱۹۸)،جس کے دامن میںحجۃ الوداع کے موقع پر آپ ؐ نے ۹؍ذ ی الحجہ کو ایک لاکھ چالیس ہزار فرزندان ِ توحید کے روبرو امیر الحج کے طور اپنا تاریخ ساز خطبہ دیا ، جہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کبار ؓ سے یہ فرماکر کہ :’’ مجھ سے مناسک حج سیکھ لو،شاید اس کے بعد کوئی اور حج نہ کرسکوں‘‘ یہ اشارے کنایے کی زبان میں گویاپیغام تھا کہ میرے جان نثارو! پل پل غنیمت سمجھو، یہ میرا آخری حج اور آخری خطبہ ہے ۔ جبل الرحمۃ کی گواہی میں مسلمانوں کو اللہ نے تین بشارتیں سنائیں: تکمیل ِ دین، تکمیل ِقرآن ،اللہ کی طرف سے دین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی فضلیت کیا ہے اور اس عشرے کا احکام کیا ہیں تفصیل سے بیان فرمائیں؟ شوکت احمد  ماہِ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی فضلیت   جواب:۔ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی بڑی فضیلت ہے ، حضرت نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو عبادات والے اعمال اتنے پسند کسی اور دن نہیں جنتے ان دنوں میں۔ (بخاری) اس لئے  عبادت، نوافل، روزے، تلاوت، تسبیحات، صدقات ، ذکر اور مسلمانوں کی مالی یا جسمانی مدد جتنی زیادہ سے زیادہ ہوسکے کی جائے۔ یہ تمام اعمال بہت مقبول ہونگے ۔ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ اگر ان ایام میں کوئی روزہ رکھے تو وہ ایک روزہ ثواب کے اعتبار سے ایک سال کے روزوں کے بقدر ہوگا۔ اور فرمایا ان دس راتوں میں ایک رات کی عبادت لیلتہ القدر کی عبادت کے بقدر ہے۔ یہ حدیث ترمذی شریف کتاب الصوم میں ہے۔ اس لئے اس عشرے میں عرفہ کے دن تک روزہ رکھنے ، نوافل

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط 74

   گزشتہ قسط میں نہر زبیدہ کا مختصر ذکر چھیڑ چکاہوں کہ اپنے زمانے کا یہ شہکار نیک عمل ملکہ زبیدہ خاتونؒ کی خدا پرستی اور خدمت ِخلق کا زندہ وجاوید ثبوت ہے ۔ آج یہ نہر آثار قدیمہ یا تاریخ کا بھولا بسراورق ہی سہی مگر یہ نہر بزبان حال ہرزائر سے صاف صاف کہہ رہی ہے : دیدہ ٔ بینا رکھنے والو! تم میری تعمیر کو اینٹ گارے کا رہین ِمنت نہ سمجھنا بلکہ میںشاہی محلات میں رہنے والی ایک اللہ والی ملکہ کے اللہ سے پیار اور انسانوں سے رحم دلی کا دُلار ہوں، میرے رگ وریشے میں ہردانا وبینا شخص کے لئے ایک پیغام مخفی ہے کہ جو کوئی اللہ سے ٹوٹ کے پیار کرتاہے وہ لازماً اللہ کی مخلوقات کے آرام و آسائش پر جم کر فداہوتا ہے ۔ زبیدہ خاتونؒ انہی ہر دو اعلیٰ صفات کی مجسمہ تھیں ۔انہی اوصاف ِ حمیدہ کے طفیل آج بھی وہ تاریخ ِ انسانیت میں زندہ و پائندہ ہیں ۔ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل اس تاریخی نہر میں کسی جگہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ جمعہ کو کون سی اذان ( یعنی پہلی یا دوسری) کے بعد کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم ہے؟ کئی کاروباری ادارے یا دکانیں دو مسجدوں کے درمیان واقع ہوتے ہیں اور ان اداروں یا دکانوں میں کام کرنے والے کارکنان بار ی باری سے الگ الگ مساجد میں الگ الگ اوقات میں جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں۔ اس صورت میں مذکورہ ادارے یا دکانیں مسلسل کھلے رہتے ہیں اور ان میں کاروبار بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ اس شفٹ بدلنے اور اس دوران حاصل شدہ آمدنی کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ سوال:۔ اسکولوں میں داخلہ کےلئے بچے کی عمر کی حدمقرر کرنا، مثلاًLKGکےلئے4سال اور UKGکے لئے 5سال، اسکول انتظامیہ کےمطابق اس  لئے ہوتا ہے کہ موافق جماعت کےلئے موافق عمر کا بچہ داخلہ پاسکے۔ مگر داخلے سے پہلے بچے کو انٹرویو اور ٹیسٹ کی تیاری کی غرض سے بعض لوگکرچ CRUCH)) تر بیتی اداروں میں بھیجتےہیں، جس کے نتیجے میںبچہ داخلہ کےلئ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!...قسط 73

 منیٰ کی مقدس وادیاں موسم حج کے دوران عبادات ِ الہٰیہ سے چہار اطراف گونج اٹھتی ہیں ۔ کہیں اذان ، کہیں فرض اور نفل نمازیں ، کہیں درس قرآن وحدیث ، کہیں قرآن خوانیاں ، کہیں مجالس ِنعت ،کہیں آہوں میں لپٹی دعائیں ، کہیں آنکھوں سے جاری آنسوؤں کی لڑیاں ، کہیں اللہ کے مہمانوں کاتوبہ واستغفار ۔۔۔  یہ دل خوش کن اور روح پرور مناظر دیکھ کر لگتا ہے کہ گویا ساری خلقت اللہ رب العزت کی بلائیں لینے میں مشغول ہے، اپنے اپنے انداز سے اُسے منارہی ہے، اپنا اپنا حال ِ دل سنار ہی ہے ، اپناپیار جتارہی ہے ،اُس کے جناب میں اپنے گناہوں ، خطاؤں ، لغزشوں ، غلطیوں پر شرمسار ہے۔احرام کی سفید وردی میں ملبوس تمام بندگانِ خدا کی ایک ہی فکر ایک ہی وظیفہ ہے۔۔۔ اللہ جل شانہ کی رضا اور رفاقت ۔ وقوف ِ منیٰ انہی ایمان افروز مشغولیات کاجلّی عنوان ہے۔     دوران ِحج منیٰ کے پیچ وخم میں لاکھوں

وقت ہی انمول اثاثہ!

اللہ تعالیٰ نے اپنی بے شمار اور لاثانی (نعمتوں سے ہمیں نوازا ہے۔ سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اپنی لاتعداد مخلوقات میں ہمیں ایک باشعور، فہیم، عقلمند اور مکرم و معزز مخلوق بصورت انسان بنا کر تخلیق فرمایا اور اشرف المخلوقات ہونے کا عظیم درجہ عطا فرمایا۔ الحمد اللہ علی ذلک ۔ اللہ تعالی نے اِن نعمتوں میں اضافہ اور برکت کا وعدہ فرمایا ہے اگر ہم اُس کے شکر گذار بندے بن کر رہیں اور ناشگر گذاری اور کفرانِ نعمت کی وجہ سے ہم اُس کے عذاب و عتاب کے مستحق ٹھہریں گے ۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اگر تم شکر ان نعمت کرو گے تو اِن نعمتوں میں اضافہ ہوگا  اور اگر تم نے کفرانِ نعمت کیا تو میرا عذاب سخت ہوگا۔‘‘ شکران نعمت یہ ہے کہ اِن نعمتوں کو صحیح ڈھنگ سے استعمال کرکے منعم حقیقی کی عبادت کی جائے اور کفرانِ نعمت یہ ہے کہ اِن نعمتوں کو ضائع کرکے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جائے۔اللہ تعالیٰ ن

اسلام۔۔۔ انسانیت خدمت اتحاد

ہم آج کے مادی دور میں شاید یہ بھول چکے ہیں کہ ہم کون ہیں؟ ہمیں دنیا میں کیا کرنا چاہئے؟ کیا نہیں کرنا چاہئے ۔سچ تو یہ ہے کہ اپنی معاشی ضروریات کی کفالت اور قومی ونسلی تفاخر کی آڑ میں ہم نے اسلام سے ہٹ کراپنی ایک الگ پہچان بنالی ہے ۔اس رو میں بہہ کر ہم اتنے دورجا چکے ہیں کہ اندازہ ہی نہیں کہ ہم کہاں ہیں؟ یہ میرااور آپ کا عینی مشاہدہ ہے کہ دین کے بنیادی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر بعض علماء اور عوام الناس غیر ضروری موضوعات و مسائل پر خشک بحث و مباحثہ میں الجھے ہوئے رہتے ہیں۔حد یہ کہ اس قسم کے مباحث کے لئے فیس بک اورواٹس اپ وغیرہ کا بھی بخوبی استعمال بخوبی ہورہا ہے۔ہم میں سے کچھ افراد شیعہ ،سنی ، بریلوی دیو بندی مکاتب ِفکر کے بارے میں بحثوں میں اپنی ساری قوت گویائی صرف کر تے رہتے ہیں۔ البتہ کچھ وہ مخلص لوگ بھی ہیں جن کااختلافی مسائل ،مسلکی تقسیم اورفقہی تنازعات سے کوئی لینا دینا نہیں ،

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۱-میں ایک کالج اسٹوڈنٹ ہوں اور ماڈرن ہوں ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے نماز پڑھنا شروع کردی ہے۔میں چونکہ تنگ وچست جینز پہنتاہوں اس لئے نماز کے وقت ٹخنوں سے موڑ دیتاہوں ۔ ایک صاحب نے مجھ سے یوں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا سمیٹنے اور موڑنے سے منع کیا ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نہ کپڑوں کو سمیٹوں اور نہ بالوں کو۔(بخاری) مسائل کی کتابوں میں لکھاہے کہ کپڑا موڑنا مکروہ ہے اس لئے پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ ہے اور ایسی حالتوں میں پڑھی ہوئی نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے کیونکہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ ٹخنوں سے موڑنا کیاہے؟ محمد محسن شیخ …… پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ نہیں  جواب:-ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننے کے متعلق احادیث میں سخت ممانعت ہے ۔ یہ احادیث بخاری، مسلم، ترمذی ،اب