تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ ہمارے گائوں میں ایک مشہور و معروف مفتی صاحب کے بھائی، جو خود بھی مفتی صاحب ہیں، نے فرمایا کہ کرسی پر نماز ادا کرنا غلط ہے اور جن لوگوں نے ،کسی مجبور کے تحت،کرسی پر نماز یں ادا کی ہیں وہ سب نمازیں اُن لوگوں کو دہرانی چاہیں۔ اس بارے میں شریعت کے اصلی حکم سے روشناس کرائیں تو ہم مشکور رہیں گے؟ سوال:۔ اپریل کے ایک شمارے اور 22مئی کے ایک شمارے میں آپ نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور حضرت نبی کریم ؐ نے کبھی کوئی نماز ننگے سر نہیں پڑھائی ۔ میں یہاں ایک حدیث پاک نقل کرتا ہوں جو حضور پاک  ؐ کے کبھی کھبار ننگے سر نماز پڑھنے پر دلالت کرتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ  بعض اوقات ننگے سر نما ز پڑھا کرتےتھے ( ابن عساکر) اب سوال یہ ہے کہ آپ کے جواب اور اس حدیث پاک کے درمیان کیا تعرض پایا جاتا ہے۔؟ ابو نجم النساء

جوش کے ساتھ ہوش!

سیرت میں ایک اہم واقعہ غزوۂ بنو مصطلق کے نام سے آیاہے ، بنو مصطلق قبیلۂ بنو خزاعہ کی ایک شاخ تھی ، یہ ’ مریسیع ‘ نامی مقام پر آباد تھے ، جو مدینہ منورہ سے نو منزل کے فاصلہ پرواقع تھا ، حارث بن ابی ضرار اس قبیلہ کی قیادت کرتا تھا ، صلح حدیبیہ سے پہلے کا واقعہ ہے کہ اس قبیلہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوگئی ، آپ ا نے مزید تحقیق کے لئے اپنے ایک نمائندہ کو بھیجا ، انھوں نے یہاں آکر تحقیق حال کیا اور اس خبر کی تصدیق ہوئی ، اس پس منظر میں یہ بات ضروری محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کو اس قریبی دشمن سے محفوظ رکھا جائے اور حملہ کرکے ان کو مطیع بنایا جائے ؛ چنانچہ مدینہ منورہ سے ایک فوج روانہ ہوئی ، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم بنفس نفیس اس میں شریک تھے ۔قبیلہ کے اکثر لوگوں کو تو مجاہدین کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور انھوں نے راہِ فرار اختیا

ہر لفظ ہے واقعی قرآن کی نعتِ رسولؐ

 خالقِ کون و مکاں کی کیا نرالی شان ہے   زندئہ جاوید اُس کا تاابد قرآن ہے آیت قرآنیہ کا برملا اعلان ہے   بس عبادت کے لئے تخلیق اِنس و جان ہے اُس کی قدرت کا کوئی اندازہ کر سکتا نہیں   اُس کی صنعت کا نمونہ یہ حسیں انسان ہے ایک لفظِ ’’کُن‘‘ سے ہی کونین کو پیدا کیا   جو نہ مانے اُس کو خالق وہ بشر نادان ہے دے کے ہم کو دین برحق مذہبِ اسلام کو   کس قدر خالق کا ہم پر فضل اور احسان ہے ہم گنہ کرتے ہیں پھر بھی مہرباں رہتا ہے وہ   رحمتوں والی ہے اُس کی ذات وہ رحمٰن ہے ساری دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا جسے   وہ خدائے پاک کا پیغمبرِ ذیشانؐ ہے اُن کی یادوں کی چمک سے دل کو چمکائو یہاں    یاد جس دل میں نہیں بس دل وہی ویران ہے جو خدا کو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: میری طرح ہزاروں لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ آج کے اس دور میں آنکھوں کی حفاظت بہت مشکل کام ہے۔ فیشن ، عریانیت اورمیک اپ سے سجنے سنورنےکی دوڑ لگتی ہوئی ہے۔ دکانوں ، دفتروں، پارکوں ، سڑکوں،  تعلیمی مراکز ، غرض کون سی جگہ ہے جہاں ہماری بہنیں اور بیٹیاں بن سنور کر مردوں کےلئے امتحان بنی ہوئی نہیں ہوتی  ہیں۔ ظاہر ہے اب مرد گھروں میں بندہو کر بیٹھ تو نہیں سکتے۔ ایسی حالت میں دل کو گندے خیالات سے اور نگاہوں کو نامحرم خواتین کی طرف دیکھنے سے روکنا آسان نہیں۔ اب صورتحال میں اسلام کی رہنمائی ہمارے لئے کیا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر رہنمائی فرمائیں؟ پیر رؤف احمد بمنہ سرینگر بد نگاہی سے بچنا ضروری.........چند تراکیب  جواب :۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے ۔ اےنبی ایمان والے مردوں کو حکم کریں کہ وہ ا پنی نگاہ نیچی رکھیں اور اسی طرح مسلمان خواتین کو بھی حک

انقلابِ محمدی ﷺ

عالم اسلام بلکہ تا ریخ انسانی میں ماہِ ربیع الاول کو خا ص مقام حاصل ہے ۔ اس مقدس مہینے کی شان سب سے بلند اور نرا لی ہے کیونکہ اِسی مہینے میں کر ہ ٔارض پر ایسی عظیم المرتبت اور رفیع الشان ہستی کا جنم ہوا جس نے باطل کے نظاموں اور شخصی سلطنتوں کے شاہی محلات میں دراڑیں ڈال دیں‘صدیوں سے غلامی اور جہالت کے شکنجے میں جکڑے ہو ئے انسان کو آزادی کی نوید سنائی، اس طرح استحصالی قوتیں پرزے پرزے ہو کر بکھر گئے۔ اسی دن دنیا ایک عظیم انقلاب سے روشناس ہوئی اِس ہستی نے انسانی حقوق کا حقیقی چارٹر پیش کیا جس کے سامنے مغرب کا میگنا کا رٹا کچھ بھی معنی نہیں رکھتا، اقوام متحدہ کا منشور محسن انسانیتؐ کی بعثت کے چودہ سو سال بعد مرتب ہوا ‘اقوام متحدہ کا منشور اب بھی اُس جا معیت اور معنویت سے محروم ہے جو سرور دوجہاں ﷺ نے چودہ صدیاں پہلے پیش کیا، اِسی مہینے خالق کائنات نے پیغمبر اعظم ؐ کو کائنات کے ل

محسنِ انسانیت رحمت دو عالم ؐ

انسانیت نے کرۂ ارض پر ہزاروں برس کا سفر طے کر لیا تھا مگر ہنوز شرف ِ انسانیت کے حوالے سے منزل تو کجا نشانِ منزل تک اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ یوں کہیے کہ لاکھوں انبیاء کرامؑ کی تعلیمات کو یکسر فراموش کر انسان بارِ دگر مرتبۂ انسانیت سے کہیں بہت نیچے گر چکا تھا۔ جس کائنات کی ہر چیز اپنے خالق و مالک کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہے، اسی کائنات میں اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق، انسان کی جبین لطافت سجدہ ریزی سے بیگانہ ہو چکی تھی۔ اللہ وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر لاکھوں جھوٹے خداؤوں کے چنگل میں پھنسے انسان کی حالت اس مسافر کی سی تھی جو کسی لق و دق صحرا میں سرگرداں بگولوں کو رہنما سمجھ بیٹھتا ہے اور بالاخر رزقِِ صحرا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کے ساتھ ستر ماؤوں سے زیادہ محبت کرتا ہے، کو انسان کی اس بے بسی اور لاچاری پر رحم آیا اور اس نے دنیا میں اپنی بے پایاں رحمت سے رحمت اللعالمین صلی الل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: ضعیف حدیث سے کیا مراد ہے اور حدیث ضعیف کیسے ہوتی ہے؟ کیا ہر آدمی کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی حدیث کو ضعیف کہے؟کیاعام آمدمی ضعیف حدیث کی پہچان کرسکتا ہے؟ اور ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے متعلق کیا حکم ہے؟ تنویر احمد بونیار حدیثِ ضعیف........ایک مختصر توضیح جواب:۔ اصول حدیث کے مطابق وہ حدیث جس میں پانچ اوصاف پائے جائیں وہ حدیث صحیح کہلاتی ہے ۔ وہ ہیں (۱) اُس حدیث کو روایت کرنے والے تمام راوی عادل یعنی مکمل دیندار ہوں۔ عقائد درست، اعمال مکمل اور کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہوں ۔ (۲) تمام راوی قوت حافظہ اور حدیث کو ضبط اور محفوظ کرنے میں مکمل طور پر معتبر ہوں۔ یعنی حافظ کامل و مکمل ہو۔ (۳) اُس حدیث کی سند میں کوئی انقتاع نہ ہو یعنی درمیان میں کوئی راوی ساقط نہ ہوا ہو۔ (۴) وہ حدیث شاذ بھی نہ ہو۔ شاذ وہ حدث ہوتی ہے جو زیادہ قابل واعلی درجہ کے راویوں سے مختل

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔۔ قسط 88

  شاہراہِ ہجرت پر سفر مدینہ کا اختتامی مرحلہ اب آیا چاہتا تھا ۔ کچھ ہی دیر میں ہم جنت ِارضی کے واحد ٹکڑے کا دیدا رکر نے والے تھے۔ شاعر نے اپنی دانست میں کسی اور جگہ کی تعریف وتوصیف میں یہ شعر موزون کیا ہو تو ہو مگر مدینہ منورہ پر یہ من و عن صادق آتاہے    ؎ اگر فردوس بروئے زمیں است  ہمیں است او ہمیں است او ہمیں است   پیغمبر اعظم وآخر صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینۃ النبی ؐ کے بارے میں یہ کتنی عظیم بشارت دی ہے:مدینہ ان کے لئے بہتر ہے اگر وہ اس کا علم رکھتے ہوں۔ جو کوئی مدینہ سے اعراض کرتے ہوئے اُسے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس سے بہتر شخص کو مدینے لے آئے گا۔ اور جو شخص مدینے کی بھوک اور سختی کے باوجود یہیں ثابت قدم رہے گا ، میں قیامت کے دن اُس کی گوا ہی دوں گا اور شفاعت کروں گا۔اور جو کوئی اہل ِ مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ

ربیع الاوّل کا پیغام

  محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ سے وحی کردہ دستورِ زندگی دنیا کے تمام انسانوں کو دیا۔ یہ صرف ایک تحریری دستور کی حد تک نہ تھا بلکہ اللہ کے رسول ؐ نے اس کے ایک حرف ایک حرف ایک ایک لفظ اور ایک ایک حکم پر عمل فرماکر اس خدائی دستورِ حیات کو نافذ کرکے دکھادیا۔ حتی کہ اللہ کی طرف سے یہ اعلان کر دیا گیا کہ جو کوئی اس دستور خداوندی کا عملی نمونہ دیکھنا چاہے وہ مصطفی جانِ رحمت ؐکی سیرت دیکھ لے اور اسی کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے۔ ارشاد باری ہے:ترجمہ: بے شک تمہاری رہنمائی کے لئے اللہ کے رسول (کی زندگی) میںبہترین نمونہ (مثال) ہے۔ یہ نمونہ اس کے لئے جو اللہ سے ملنے کی اور قیامت کے آنے کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتاہے۔ (القرآن، الاحزاب ۳۲/۲۱) رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لئے ہر موڑ پررہنمائی ہے اور ہر مرحلہ پر عمل کرنا اور ان کی تعلیمات پر کاربند ہونا او

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۱-میں ایک کالج اسٹوڈنٹ ہوں اور ماڈرن ہوں ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے نماز پڑھنا شروع کردی ہے۔میں چونکہ تنگ وچست جینز پہنتاہوں اس لئے نماز کے وقت ٹخنوں سے موڑ دیتاہوں ۔ ایک صاحب نے مجھ سے یوں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا سمیٹنے اور موڑنے سے منع کیا ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نہ کپڑوں کو سمیٹوں اور نہ بالوں کو۔(بخاری) مسائل کی کتابوں میں لکھاہے کہ کپڑا موڑنا مکروہ ہے اس لئے پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ ہے اور ایسی حالتوں میں پڑھی ہوئی نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے کیونکہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ ٹخنوں سے موڑنا کیاہے؟ محمد محسن شیخ  پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ نہیں    جواب:-ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننے کے متعلق احادیث میں سخت ممانعت ہے ۔ یہ احادیث بخاری، مسلم، ترم

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔قسط87

   گزشتہ شمارے میں برسبیل تذکرہ پہلے عمرے کا ایک واقعہ یاد آیا تھا جسے سپردِ قرطاس کیا تاکہ داستانِ حرم کا یہ پہلو یاداشت کی تختی سے محو نہ ہو ۔ یہاں یہ بتا تا چلوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور ہر بار ماہ ِ ذی قعد میں یہ فریضہ انجام دیا مگر حج بیت اللہ صرف ایک ہی مرتبہ ادا کیا، رخت ِسفر مدینہ منورہ سے ماہ ذی قعد میں باندھا ۔ اس موقع پر تمام ازواج مطہرات ؓ آپ ؐ کے ہمراہ تھیں ۔ تاریخ ِاسلام میں یہ حجۃالوداع سے موسوم ہے۔ شاہِ مدینہ ؐ نے طوافِ کعبہ اپنی اونٹنی پر کیا اور چاہِ زمرم کے پاس پہنچ کر اس میں ڈھول ڈالا، زمرم نکالا ، کچھ نوش فرمایا ، بچے ہوئے زمزم میں لعاب ِ دہن ملا اسے کر کنوئیں میں ڈال دیا ۔ اس لعابِ دہن کا اثر ِخوش تر ابدالآباد تک ہمارے روحانی امراض کے لئے تریاق ہے ۔        بہرصورت ہمارا سفر مدینہ شدو مد سے جاری ت

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: ۔ طلاق کیا ہے اور کیوں ہے ؟ یہ کب دینے کا حق ہے؟ اس کا طریقہ کیا ہے؟ اس کےنتائج کیا ہیں؟ برائے مہربانی کرکے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر رہنمائی فرمائیں؟     محمد عرفان شاہ ........سرینگر طلاق کی مختلف صورتیں اور انکی توضیح    جواب:۔ طلاق رشتہ نکاح ختم کرنے کا نام ہے۔ اسلام کی نظر میں طلاق سخت ناپسندیدہ ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی نظر میں تمام حلال کاموں میں سب سے زیادہ قابل نفرت طلا ق ہے۔ اسلئے کہ نکاح کا رشتہ کوئی وقتی یا عارضی رشتہ نہیں ہے۔ قرآن کریم نے اس کو مضبوط اور پائیدار بندھن قرار دیا ہے۔ نکاح کے نتیجے میں مردوعورت زندگی بھر کے رفیق و شفیق بن جاتے ہیں۔ اسی کے ذریعہ حلال اولاد کی نعمت ملتی ہے اسی کی وجہ سے دونوں کی جنسی ضرورت پوری ہوتی ہے ۔ اسی کی نتیجے میں خاندان وجود میں آتے ہیں۔ یہ بے شمار

!نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں

گزشتہ قسط میں عرض کیا تھا کہ پہلے عمرہ کے موقع پر ہماری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہونے سے کچھ دیر ہمارے سفر مدینہ کا تسلسل یکایک منقطع ہوا۔ انسان پر مشین کی غیر یقینی آقائیت کا کیا بھروسہ کب کیا گل کھلائے۔ یہ کبھی جھکی گردن سے انسان کا بوجھ اٹھائے اُ سے چاند تارے چھونے میں مددگار ثابت ہو اور کبھی معمولی نقص کے باعث خود انسان کے سر پرسوار ہو جائے۔ غرض ہماری گاڑی اب سڑک کنارے بے حس و حرکت پڑی تھی اور ہم نئی گاڑی کے انتظار میں کھڑے تھے ۔ ظاہر ہے قافلہ ٔ شوق سرراہ درماندہ ہو نے سے تھوڑی بہت بدمزگی محسوس ہونا فطری تھا۔ ٹو ر آپریٹر نے ہمارا موڈ ٹھیک رکھنے کے لئے اعلان کیا گھبرایئے نہیں، ابھی کچھ دیر میں نیا انتظام ہونے والا ہے۔ آپ گاڑی میں بیٹھیں رہیں تو بہتر ، نیچے آئیں تو مہربانی کرکے تھوڑی ہوشیاری برتیں کیونکہ شاہراہ پر برق رفتار گاڑیاں آجا رہی ہیں، حادثے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔  

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال:۔ ہمارےمعاشرے میں رشوت کا جوظالمانہ ماحول ہے اُس کااندازہ ہر اس شخص کو ہے جس کو یہاں کے کسی بھی دفتر سے کوئی سابقہ پڑتا ہے۔ بعض دفعہ ایسا لگتا کہ امیروں ،وزیروںاور افسران سے لے کر چپراسیوں تک مشکل سے ہی کوئی شخصہے جو اس وباء سےمحفوظ ہو۔ اب تو اس کو حرام سمجھنے کا تصور بھی ختم ہو چکا ہے۔ براہ کرم اس کے لئے متعلق ایک واضح جواب عنایت فرمائیں ۔ خاص کر اُس شخص ،جو یہ رشوت دینے پر مجبو رہے ۔کیونکہ اگر نہ دے تو اس کا جائز کام نہیں ہو پائے، کےلئے کیا حکم ہے؟ عبدالرشید  خان  غلام مصطفیٰ خان ...سرینگر رشوت کا لین دین......توضیح اور شرعی حکم جواب:۔رشوت حرام آمدنی کی بدترین اقسام میں ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے :۔ ترجمہ اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھائو۔ النساء ۔رشوت اس میں داخل ہے۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا رشوت لینے والوں

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔۔ قسط 84

 مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کا سفر جاری تھا کہ بہشت ِمدینہ کی ہوائیں ہمارے دیدہ ٔ شوق کا اضطراب بڑھا تی ر ہیں ، مدنی خوشبوئیں زنان ِ مصر کی طرح ہمارے دل و جگر کاٹتی رہیں، گنبد خضریٰ کی تابانیاںسینکڑوں میل دوری سے ہماری بے تابیوں کو مہمیز دیتی رہیں۔ ایسے میں ہوش وحواس کی پگڈنڈی پر قدم پھسلے بغیرچلنا صرف دل گردہ کا کام ہی ہوسکتا ہے ۔ حالانکہ علامہ اقبالؒ اس نازک موقع پر اللہ سے یہ دعا مانگتے    ع  مرے مولا !مجھے صاحب ِجنوں کر    یہ دُعا مانگنااقبال جیسی اونچی ہستی کے لئے ہی شا یانِ شان ہے ،ہم ٹھہرے مدینہ منورہ کے ادنیٰ مسافر ، نہ صاحب ِ جنون نہ راہِ عشق ومستی کے پیادے، بلکہ گزرگاہِ رسول اکرم صلی ا للہ علیہ و سلم سے دیار ِ حبیب ؐکی جانب مشتاقانہ بڑھنے والے  تھے۔ ہم جیسے عامی اس شاہراہِ ہجرت کی اہمیت پر کیا سوچیں، اس کی مسافت پر کیا غور کریں، اس کے ن

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!۔۔۔ قسط 83

   ٹور آپرویٹر نے ہمیں رات کو ہی فرداً فرداً اطلاع دی تھی کہ کل نماز ظہر ادا کرنے کے فوراً بعد مدینہ منورہ بذریعہ گاڑی روانہ ہونے کا پروگرام طے ہے، اس لئے اپنا سامان وغیرہ باندھ کے تیاری کی حالت میں رہیے ، براہ کرم کوئی تاخیر نہ کریں۔ میں نے محسو س کیا کہ کعبے سے فراق وجدائی کے اعلان سے سب غم زدہ ہوگئے، مسکراہٹیں دھیمی پڑ گئیں ، اتنے دن سے ہنسی مذاق کی جو بے تکلفی ایک دوسرے سے ہوئی تھی ، وہ ماند پڑ گئی، البتہ دعاؤں میں رقت پیدا ہوئی، نمازوں میںخشوع وخضوع کی کیفیت درآئی، آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبائیں، حزن وملال سے چہروں کی رنگت زرد مائل ہوگئی کیونکہ کعبے کو الوداع کہنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔       قیامِ مکہ کے آخری دن ہمارے قافلے کے اکثر ساتھی تہجد کی اذان سے پہلے ہی مطاف میںاللہ کے حضور دھرنا مارے بیٹھے تھے ۔ کہیوں کے بارے میں سنا وہ رات عشاء کے بعد ہوٹ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ تین طلاق اور اُس کے ساتھ جڑے ہوئے چند مسائل کے متعلق ایک مہم چلا رہا ہے۔ اس سلسلے میں چند اہم سوالات ہیں۔ (۱) مسلم پرنسل لاء کیا ہے اس کے دائرے میں کیا مسائل ہیں؟ (۲) اسلام میں اُ س کی حیثیت اور اہمیت کیا ہے؟ (۳) اس کا تحفظ اور بقاء کیسے ممکن ہے؟ (۴) خود مسلمانوں کا طرز عمل کیا ہے اور خود اپنی اصلاح کےلئے کن امور کی ضرورت ہے؟ (۵) مسلم پرسنل لاء بورڈ نام کا فورم کن افراد اور طبقات پر مشتمل ہے اور اس کی اعتباریت کیا ہے؟ محمد ادریس الرحمٰن متعلم علوم عالیہ دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کشمیر مسلم پرسنل لاء......ہلال و حرام میں امتیاز کا نظام     جواب:۔ انسان کی عائلی زندگی(Family Life) کی بنیاد نکاح پر ہے پھر جب ایک مرد اور عورت کا نکاح ہوتا ہے تو دونوںپر ایک دوسرےکے حقوق اور فرائض لازم ہوتے ہیں۔ اس رشت

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 خودکشی، انسان کا اپنا عمل سوال: احادیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے ہر انسان کی مقدر طے کر رکھی ہے۔ انسان کب پیدا ہوگا، کہاں پیدا ہوگا، کیسے پیدا ہوگا، کب شادی ہوگی، کہاں ہوگی، کس کے ساتھ ہوگی، کب وفات ہوگی اور موت کیسے ہوگی، سب کچھ طے ہے، تو آپ بتا دیجئے کہ اگر کسی انسان کی موت اللہ نے خودکشی کرنے کی وجہ سے لکھی ہوگی، جبکہ خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے، تو اس میں خودکشی کرنے والے کا کیا قصور ہے؟ بلال احمد ڈار  مانو حیدرآباد   جواب: خودکشی کرنا سخت ترین حرام کام ہے۔ حضرت نبی کریم ؐ کا مبارک ارشاد ہے کہ خودکشی کرنے والا قیامت تک اُسی عذاب میں مبتلا رہے گا جس آلے سے اُس نے خودکشی کی ہو۔ حضرت خباب بن الارث ایک سخت ترین جسمانی تکلیف میں مبتلا تھے اور اس سخت ترین اذیت کی وجہ سے بار بار دربارِ رسالت (ﷺ) سے انہوں نے استدعا کی کہ خودک

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!قسط 82

   میں نے اوپر کی سطور میں کہیں مکہ میوزئم کی سر سری بات چھیڑی تھی۔اس پر اپنے ایک مکرم و  مشفق دوست نے مکہ میوزئم کے بارے میں مزید معلومات قارئین کو دینے کی قابل قدر تجویز لکھ بھیجی۔ ہمیںاس میوزئم کی مختصر سی سیر مکہ معظمہ میں کپوارہ کشمیر کے ایک مدرس جناب معراج الدین صاحب نے کرائی۔ انہوں نے ایک دن طے شدہ پروگرام کے مطابق بعدازحج ہم چند ساتھیوں کو اپنی گاڑی میں بٹھا یا اور از راہِ کرم یہ میوزیم دکھایا۔ میوزئم میں تاریخی نوعیت کے بہت سارے نوادرات نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں، جن میں خصوصی طور دو اہم یادگاریں آنکھوں کو تراوت بخشتی ہیں : اول جامع قرآن حضرت عثمان غنی ذی النورین رضی اللہ تعالیٰ وجہہ کا تیار کردہ نسخہ  ٔ قرآن ( جس کی فوٹو اسٹیٹ کاپی میوزئم میں ہے ) جسے آپ ؓ نے اپنے دورِ خلافت میں تیارکروایا تھا ، دوم ۶۵؍ ہجری میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

مصنوعی بال لگانا حرام    سوال:آج کل بہت سارے لوگ ، جن کے سر سے بال گر گئے ہوں، نقلی بال سر پر لگاتے ہیں ۔ س کی ایک صورت "WIG" ہے۔ یہ بالوںکی ایک ٹوپی نما کیپ ہوتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ مصنوعی بال لگانا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اگر لگائے گئے ہوں تو ان پر مسح کرنا صحیح ہوگا یا نہیں؟ اور اسی طرح غسل میں اگر اس ٹوپی یا مصنوعی بالوں کو ہٹائے بغیر غسل کیا جائے تو وہ غسل ادا ہوگا یا نہیں ؟ شوکت احمد …پٹن  جواب:-مصنوعی بال چاہے انسان کے بال ہوں یا جانوروں کے بال ہوں ۔ یہ ہر قسم کے بال لگانا سخت منع ہے ۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بال جوڑنے والے اور بال لگوانے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ (بخاری ومسلم)۔ ایک خاتون دربارِ رسالتؐ میں غرص کیا کہ میری بیٹی کے سر کے بال جھڑ گئے ہیں ۔ اگر اُس کو نقلی بال نہ لگائوں تو ہوسکتاہے کہ اُس کا ہونے والا شوہر