تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال نمبر1۔ ہمارے یہاں لوگ رمضان المبارک میں زکوٰۃ ،صدقات ادا کرتے ہیں اور اس سب کی بناء پروہ اپنے آپ کو اجر کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند ضروری اور اہم مسائل کا حل فرما دیں تاکہ امت مسلمہ کی یہ مالی امداد انکے اوپر لازم زکوٰۃ و صدقات ان کیلئے ذریعہ نجات بن سکے۔ (۱) زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے سونے کا کیا نصاب ہے؟ (۲) زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے چاندی کا کیا نصاب ہے؟ (۳) سونے اور چاندی کے علاوہ دیگر اموال کا نصاب کیا ہے اور ان پر زکوٰۃ کے لازم ہونے کیلئے کیا کیا شرائط ہیں؟ (۴) زکوٰۃ کا مصرف کیا ہے( یعنی زکوٰۃ کن مدوں پر خرچ کی جائے)؟ (۵) کیا زکوٰۃ تعمیرات( چاہئے مسجد کی تعمیر ہو یا درسگاہ کی تعمیر ہو یا کسی فلاحی ادارے کی تعمیر ہو یا سڑک وغیرہ کی) میں خرچ کرنا جائز ہے ؟ سوال نمبر2 کیا اہل مدارس کا چندہ جمع کرنے کیلئے سفیر رکھنا درست ہے۔ اگر ہے تو اسکی کیا حی

آہ !مولانا غلام نبی وانی رحمتہ اللہ علیہ

شہر خاص نوہٹہ کے ہنگامہ خیزاور گنجان آبادی والے تاریخی محلے میں رہنے والے پُر جوش داعیٔ حق، سرگرم عالم دین، مخلص وبے ریا مُدرس اور توحید وسنت کی اشاعت کے لئے ہمہ تن وقف مولانا غلام نبی وانی صاحب حال ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اناللہ ونا الیہ راجعون۔ ان کی ہمہ پہلو شخصیت کی کئی ایک جہتیں ہیں جن کی پرتیں کھولئے تو ایک انسان آپ کی نگاہوں کے سامنے نمودار ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے حق وصداقت کی مشعل برداری کی توفیق سے مالا مال کر دیا تھا۔ اسی مناسبت سے مدرسہ  ٔمحمدیہ نامی ایک چھوٹا سا جز وقتی مدرسہ مولانا کی مساعیٔ جمیلہ کی زندہ وجاوید مثال  ہے ۔ یہ مدرسہ شہر خاص سری نگر کے دل میں مولانا غلام نبی وانی رحم اللہ (متوفی مئی2018ء) نے 1981ء میں ان پُر آشوب حالات میں قائم کیا تھا جب سری نگر میں خالص قرآن و سنت کی دعوت اس قدر عام نہ تھی جس قدر یہ آج متعارف ہے۔ یہ مدرسہ مولانا موصوف نے

مولانا غلام نبی وانی کا یادگار خط

  مورخہ: 28 اکتوبر 1996ء از مقام: سنٹرل جیل وارانسی (یو۔ پی) از طرف: اسیر زندان غلام نبی وانی عفی عنہ عزیز القدر جناب معید الظفرصاحب سلمہ اللہ تعالی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جس اللہ نے بندہ کو پیدا کیا، وہی حقیقی معبود ہے، جس رب کے سوا کسی کے آگے سجدہ کرنا حرام ہے ،وہی رب حقیقی مسجود ہے، جس معبود کے سوا تمام معبود باطل اور طاغوت ہیں، وہی حقیقی مقصود ہے، وہی لا شریک ذات ہے ،جس کا نہ زمین میں، نہ آسمان میں، نہ ملائکہ میں، نہ انبیاء ؑ میں، نہ اولیاء میں، نہ انسانوں میں، نہ جنوں میں، نہ زندوں میں اور نہ مردوں میں کوئی شریک ہے۔ تمام تعریفیں اسی کیلئے ہیں۔ بعدہ بے شمار درود وسلام میرے مرشد کامل، رہبر اعظم، سرور انبیاء ، ختم الرسل، جناب احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کے کلام میں حلاوت ہے، جن کے پیام میں راحت ہے، جن کی اطاعت میں فلاح ِدارین ہے،

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال:۱-ماہ مبارک کا نزول ہوتے ہی مسلمان مرد وزن نوافل نمازوں کا بھرپور اہتمام کرتے ہیں۔کیا ہم نوافل نمازوں کے بجائے قضاء￿  شدہ نمازیں نہیں پڑھ سکتے ؟ اور جب دیکھا جائے تو ہزار میں سے ایک فرد ایسا ہوگا جس نے واقعی دس سال کی عمر سے نماز پنجگانہ پابندی کے ادا کی ہو۔ سوال:۲-اکثر مشاہدے میں آیاہے کہ اس بابرکت مہینے میں لوگ اذان فجر سے پہلے نوافل کے علاوہ نماز تہجد بھی پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں جب کہ ان میں سے اکثریت ایسے حضرات کی ہوتی ہے جو غیر رمضان میں نماز فجر کیا نماز عشاء￿  کے لئے بھی مسجد میں نہیں آتے۔  برائے کرم آپ بتائیں کہ مسلسل نماز تہجد اداکرنے سے یا کوئی بھی نفلی کام مسلسل کرنے سے ہم پر فرض تو نہیں بنتا۔ اگر بنتاہے تو کتنے دنوں تک کوئی بھی نفلی امر اپنانے سے وہ عمل ہم پر فرص بن جاتاہے ؟ سوال :۳-کیا روزے داروں کی وہ شخص ،جو خود روزہ دار نہ ہ

حوا کی بیٹی اسلام کی لاڈلی

غلام و باندی کے حقوق کے سلسلہ میں آپؐ کی فکرمندی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اس دارفانی سے رخصت ہوتے وقت جو آخری کلام آپؐ کی زبان مبارک پر تھا وہ نماز کی حفاظت اور غلام و باندی کے حقوق کی حفاظت کے ہی متعلق تھا۔ حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ کی آخری بات (انتقال کے وقت) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا ، نماز کا خیال رکھنا اور جو تمھاری ملکیت میں (غلام اور باندی) ہیں ان کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا‘‘۔ ( سنن ابو دائود، کتاب الأَدَب)۔ گویا کہ آپؐ کی آخری وصیت امت کو نماز اور باندی و غلام کے حقوق کی حفاظت کے سلسلہ میں ہی رہی۔   عورت بصورت بیوہ؍مطلقہ:   بیوہ عورتوں کو سماج میں بدنصیب، منحوس اور حقیر تصور کیا جاتارہا ہے حالانکہ ان کی بیوگی میں ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا، قدرت کی طرف سے وہ خود ایک بڑی آزمائش کا شکار ہوتی ہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  روزوں کے متفرق مسائل سوالات (۱) گردوں میں پتھری ہو تو کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۲) روزوں کے بدلے فدیہ کس فرد پر لاگو ہوتا ہے؟ (۳) معدے میں تیزابیت(Acidity)ہو جس کی وجہ سے دل میں جلن محسوس ہوتی ہے( Heart Burn) کیا اس صورتحال میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۴) جسم کے اندرونی حصہ میں السر (ulser)ہے، جس کی وجہ سے(Black Motion)ہوتی ہے ، کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۵) جو ماں بچے کو دودھپلاتی ہو روزوں کے متعلق ان کو شریعت کیا حکم اور کیا گنجائش دیتی ہے؟ (۶) کیا ہم روزوں کے درمیان اندام نہانی میں وہ دوائی رکھ سکتے ہیں جس کا مقصد لیکویریا کا علاج ہوسکتا۔ (۷) استھما کی بیماری میں Inhaler کا استعمال کرنے سے روزہ متاثر ہوتا ہے؟ (۸) کیا روزوں میں دریا میں تیرنے کی اجازت ہے؟ (۹) حاملہ عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟ (۱۰) تمباکو نوشی ختم کرنے کے لئے رمضان بہترین مو

حوا کی بیٹی اسلام کی لاڈلی

 اگر عورتوں کو طلاق کا آزادانہ اختیار دیا گیا ہوتا تو آج کے دور کی بہت سی رذیل قسم کی عورتیں نکاح کو تجارت ہی بنالیتیں۔ ان کی نگاہیں مہر اور شوہر کے دوسرے اموال پر ہوتیں اور جب یہ چیزیں اس کے قابو میں آجاتیں تو وہ شوہر کو طلاق دے کر چل دیتیں۔ اس لئے اصولاً یہ بات درست سمجھی گئی کہ جس نے مال خرچ کئے ہوں اسے ہی طلاق کا آزادانہ حق ہو۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ عورتیں بنسبت مردوں کے وقتی تاثرات سے جلد مغلوب ہو جاتی ہیں، اس لئے اس میں ایک طرح کی حفاظت بھی ہے کہ کہیں وقتی تاثرات رشتوں کے انقطاع کا سبب نہ بن جائیں۔ دوسری طرف مردوں کو طلاق کا آزادانہ اختیار تو دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی اس پر ناپسندیدگی بھی ظاہر کردی گئی ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے‘‘۔ (سُنن ابی دائود ، کتابُ الطَّلاق،

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

  سوال:۔ کشمیر میں بہت ساری خواتین نماز پڑھتی ہیں مگر بلا عذر بیٹھ کر پڑھتی ہے ۔بیماری کی وجہ سے مرد حضرات و خواتین بیٹھ کر نماز پڑھیں، تو اس کا مسئلہ اپنی جگہ ہے ۔ مگر ہم نے ایسی بہت ساری خواتین کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا ہے، جو صحت مند اور تندرست ہوتی ہیں اور سارے کام کھڑے ہو کر کر پاتی ہیں۔ چلنا پھرنا سب کچھ آرام سے ہوتا ہے مگر نماز پڑھنی ہو تو بیٹھ کر پڑھتی ہیں ۔اس نماز کا کیا حکم ہے؟ جمیل الرحمٰن ہندوارہ بلاوجہ بیٹھ کر نماز پڑھنا جواب:۔نماز میں جو امور فرض ہیں اُن میں سے ایک اہم امر قیام بھی ہے۔ اگر کسی نے بلا عذر قیام چھوڑ دیا۔ مثلاً بیٹھ کر نما زپڑھی تو وہ نماز ادا نہ ہوگی۔ اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ پائے تو اُسے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ چنانچہ جناب رسول اکرم ﷺ نے اس پورے عرصہ میں بیٹھ کر نماز ادا فرمائی جب وہ گھوڑے پر درخت سے ٹکرانے کی بنا

ایک بزرگ ایک فاتح

طاقت‘شہرت ‘دولت اور اقتدار جب نشہ بن کر گندم کھا نے والے انسان کی رَگوں میںدوڑناشروع کرتا ہے توہواکا یہ جھونکا انسان کوفرعونیت میںمبتلا کرنا شروع کردیتا ہے ۔یہی نشہ ہندوئوں کے راجہ پر تھوی راج کو بھی لگ چکاتھا‘ غزنی کے سپہ سالار شہاب الدین غوری کو شکست کیا دی اُبلنا شروع کر دیا ‘ اقتدار کے نشے نے اُسے اندھاکر دیا ۔آنجہانی ماں نے جو نصیحت کی تھی کہ ایک مردِ درویش یہاں آئے گاتو اُس سے لڑنے سے گریز کر نا وہ غیر معمو لی انسان ہو گا جس کے ساتھ غیر مر ئی قوتیں بھی ہو نگیں اُس سے چھیڑ خانی نہ کر نا لیکن پر تھوی راج طاقت اوراقتدار کے نشے میں پے در پے اُس درویش باکمال کو تنگ کر رہا تھا ۔طا قت کے نشے میں جب ہندو راجہ نے درویش کے قریبی ساتھیوں پر ظلم و ستم شروع کیا تو حضرت خواجہ جی ؒ کاپیمانہ صبر چھلک پڑا‘ رنگ جلال آنکھوں میں لہرایا،حالت ِجذب میں فرمایامیں نے پرتھ

یتیم ویسیر اسلام کے لاڈلے

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، اس میں معاشرے کے ہر فرد کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔ اللہ پاک نے کسی کو بے یار ومددگار نہیں چھوڑا۔ہر ایک کے لیے ایسے اسباب و ذرائع مہیا کردیے ہیں کہ وہ آسانی کے ساتھ اللہ کی زمین پر رہ کر اپنی زندگی کے دن گزار سکے۔ یتیم ونادار اور لاوارث بچوں کے بھی معاشرتی حقوق ہیں۔ ان کی مکمل کفالت ان کے حقوق کی پاس داری ہے اور اس سے منہ موڑلینا ان کے حقوق کی پامالی ہے۔ یتیم کے حقوق پر اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں تیئس مختلف مواقع پر یتیم کا ذکر کیا گیا ہے جن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، اُن کے اموال کی حفاظت اور اُن کی نگہداشت کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اور اُن پر ظلم و زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق و مال غصب کرنے والے کے لیے وعیدبیان کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :-آج شعبان کا مہینہ چل رہاہے۔ شعبان میں شب برات ایک اہم دن ہے۔ اس شب کے بارے میں کیا فضیلت ہے۔ اس بارے میں حدیثوں میں کیا بتایا گیا ہے۔ یہ احادیث کس درجہ کی ہیں۔ اس شب میں کیا کیا عمل کرنا چاہئے ؟ امت مسلمہ کاطریقہ عمل اس بارے میں کیا ہے ؟ ماسٹر محمدیعقوب  شب برات کی فضیلت اور اہمیت جواب:-شب برات کو احادث میں لیل من نصف شعبان یعنی ماہِ شعبان کی درمیانی شب کہاجاتاہے۔اس کی فضیلت کے متعلق بہت ساری احادیث ہیں۔جن میں سے چند یہ ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓبیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جل شانہ شعبان کی پندرھویں رات میں اپنی مخلوق کی طرف خصوصی توجہ فرماتے ہیں۔ پھر اپنی تمام مخلوق (انسانوں)کی مغفرت فرماتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے شخص کے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ یہ حدیث کتاب السن ، صحیح ابن حیان ، مواردالظمٰان، شعب الایمان البیہقی،

معذوروں کے حقوق

 انسان کو خالق کائنات نے دنیا میں اشرف المخلوقات بناکر بھیجا۔ اسے قوت گویائی بھی عطا کی اور قوت سماعت بھی عطا کی ،قوت بصارت عطا کی تو دماغ کو نظام اعصاب کا مرکز بنایا۔ارشاد ِربانی ہے:ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔(سورۃ التین)سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے:اور یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی‘‘۔ خالقِ کائنات نے نفس انسانی کو بہت عزت و تکریم اور احترام و احتشام سے نوازا ہے۔دینِ اسلام ہمیں انسانیت کی تکریم کا جو درس دیتا ہے، وہ رنگ و نسل اور مذہب وملت کی تفریق سے پاک ہے۔ انسان کا احترام اُس کے رنگ، اُس کی نسل، خاندان یا مذہب کے باعث نہیں، بلکہ انسانیت کا احترام اس کے انسان ہونے کے باعث ہے۔ نبی مکرم ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع میں انسانیت کو جو عزت اور وقار عطا کیا گیا ہے، وہ دنیا کا کوئی بھی دستور نہیں دے سکتا۔ آپﷺ نے فرمایا:اے بنی نوع انسان! تمہا

آدم و ابلیس کے دوکردار

اللہ نے آدم کو خلق کرکے ابلیس کو حکم دیا کہ وہ اسے سجدہ کرے۔ اس نے آدمؑ کو حقیر اور خود کو افضل کہہ کر انکارکردیا۔ اللہ نے اسے شیطان قرار دے دیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ’’میں تیرے اس انسان کو گمراہ کرکے دکھاؤں گا۔‘‘منظر بدلا۔ ابلیس نے پہلا معرکہ مار لیا، آدمؑ کو حوا کے ذریعے جنت سے نکلوانے میں کامیاب ہوگیا، دونوں اب دنیا میں آگئے۔ ابلیس جو کہ اب شیطان بن چکا تھا، پوری قوت سے آدم کے مقابل آگیا۔ جنگ شروع ہوگئی۔ شیطان تیز اور مکار تھا، انسان کی کمزوریوں سے بھی واقف تھا، اس کے پاس اسے زیر کرنے کے لیے تمام ہتھیار بھی موجود تھے۔ لہٰذا اس نے پے درپے وار کرنا شروع کئے۔اللہ نے آدم کی مدد کے لیے اسے ہدایات و پیغامات بھجوانے شروع کیے، شیطان کے حربوں سے بھی آگاہ کیا مگر شیطان انسان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ایک ایک کرکے سب کو تیزی سے قابو کرنے لگا اور چند کے سوا سب

والد بزرگوار دل جیتئے جنت پایئے

موت ایک اٹل حقیقت ہے جس کا سامنا دیر سودیر ہر ذی نفس کو کرنا ہے ۔البتہ کچھ افراد اس عارضی دنیا کو دائمی خیر بادکہنے کے باوجود اپنے نیک کار ناموں اور اعمال صالحہ کی وجہ سے زندہ جاوید رہتے ہیں۔میرے والدصاحب عبدا لسلام ڈار الدعبدالاحد23اپریل 2010بروز جمعہ بوقت 6بجے کر تیس منٹ پر ایک مرد مومن کی طرح ’چوں مرگ آید تبسم برلب اوست‘ کی تصویر بنے اپنے رب سے جاملے ۔ مجھے ان کی بہت قربت، شفقت اور محبت نصیب رہی۔ آج ان کی بہت ساری یادیں میرے ذہن میں گردش کر رہی ہیں جو میرے لئے باعث ندامت، بعض باعث محبت، بعض باعث سعادت اور سبب غم  ہیں۔ اولاد کے لئے باپ کی نعمت کا کوئی نعم البدل دنیا میں نہیں ۔ جس کسی کویہ نعمت حاصل ہے اوروہ اس کی قدر ومنزلت کر ے جس کی ا یک اہم شکل ان کی خدمت واِطاعت ہے ۔جو یہ صدق دلی سے کرے وہ بڑاسعادت مند اوراللہ کا محبوب بندہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں ماں کا مقام ومرت

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: آج کل بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو منہ بولا بھائی بہن وغیرہ جتلا کر فون پر گھنٹوں باتیں کرتے ہیں ۔کیا اس طرح سے کوئی کسی کا بھائی یا بہن بن جاتاہے اور پھر کیا بھائی بہن کی طرح اپنی نجی زندگی کے مسائل شیئر کرنا صحیح ہے ۔ کیا اس طرح سے فون کے ذریعہ یا پھر انٹرنیٹ کے فیس بُک وغیرہ کے ذریعہ غیر محرموں کا آپس میں دوستیاں گانٹھنا شریعت کی رو سے جائز ہے ۔ براہ کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔ عبداللہ شوپیانی  نامحرموں کا موبائل ، انٹرنیٹ اور فیس بُک کے ذریعہ دوستیاں گانٹھنا شیطانی خطرات کا حامل  جواب:- نوجوان لڑکوں او رلڑکیوں کا اس طرح باتیں کرنا سراسر حرام ہے ۔ چاہے موبائل فون کے ذریعہ یا انٹرنیٹ کے ذریعہ یا فیس بُک کے ذریعہ ہو۔ پھر اس پر یہ کہنا کہ یہ میرا منہ بولا بھائی یا بہن ہے ۔ یہ دراصل اپنے جرم پر پردہ ڈالنے اور ایک حرام کو حلال بنانے کی غیر

تعلم الأدعیہ

 میرے ایک دوست ہیں جو برسرملازمت نہیں ہیں، نہ ان کا کوئی خاص ذریعۂ معاش نہیں، مزید یہ کہ وہ کثیر العیال بھی ہیں اوربڑی مشکل سے دوچارہزار کما پاتے ہیں۔ مجھے اکثر اپنی حالت زار بتاتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان سے بات ہورہی تھی تو میں نے ان سے کہا مجھے یاد دلانا میں ایک دعا بتاؤں گا جس کے وظیفہ سے روزی میں وسعت اور برکت ہوتی ہے۔ میں نے جان بوجھ کر اس وقت انہیں وہ دعا نہیں بتائی تاکہ ان کے شوق اور عاؤں پر ان کے اعتبار کو دیکھ لوں۔کئی ماہ ہوگئے ۔ کئی بار ملاقات بھی ہوئی۔ فون پر بھی بات ہوتی رہتی ہے مگر کبھی انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کچھ دعاؤں کے وظیفے کا ذکر کررہے تھے۔یہی حالت ہے آج کل عام مسلمانوں کی۔علماء اور حفاظ کرام کو چھوڑ کرامت مسلمہ کی بھاری تعداد بلکہ کہہ لیجیے کہ نوے پنچانوے فیصد لوگ قرآن کریم درست طریقے سے تو پڑھ نہیں سکتے۔ فرائض کی ادائیگی ہو نہیں پاتی تو پھر روز مرہ کی دع

دارالعلوم دیوبند

۱۸۵۷ء کی ہزیمت کے بعد جب مدرسہ غازی الدین (موجودہ قدیم دلی کالج) کے دو فضلاء یعنی مولانا قاسم نانوتویؒ اور سرسید احمد خان مرحوم نے دو الگ الگ اداروں یعنی دارالعلوم دیوبند اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی نیو رکھی تو بظاہر دونوں اداروں کا بنیادی مقصد تقریباً ایک جیساتھا یعنی مسلمانوں کو ہر ہر طرح کی بالخصوص تعلیمی پسماندگی سے باہر نکالنا۔البتہ دونوں کے طریق ہائے کار اور ترجیحات میں فرق تھا لیکن جس طرح علی گڑھ کی دینی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ٹھیک اسی طرح دارالعلوم دیوبند کی لسانی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ بلاشبہ قیامِ دارالعلوم کا مقصد مسلمانوں کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو یکجا کرنا تھا لیکن دارالعلوم کا دائرۂ کار بہت وسیع و کشادہ ہے۔اس نے دینی علوم کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ قومی و ملی اور ادبی و لسانی شعبوں میں بھی ایسے ایسے نمایاں کارنامے انجام دئے جس کے لئے یہ اتن

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ یہاں کشمیر کے مسلم معاشرے میں جب کوئی رشتہ منقطع ہو جاتا ہے ، چاہئے وہ طلاق سےیاخلع سے منقطع ہو تو اُن تحائف کے بارے میں سخت اختلاف اور نزاع پیدا ہوتا ہے جو ایک دوسرے کو دیئے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہاں کشمیر میں زوجین کے علاوہ دوسرے رشتہ دار بھی طرح طرح کے تحفے دیتے ہیں۔ اب جب رشتہ ختم ہوجاتا ہے تو خود میاں بیوی نے جو تحفئے دیئے ہوتے ہیں اور جو دوسرے رشتہ داروں نے دیئے ہوتے ہیں اُن کے بارے میں نزاع شروع ہوتا ہے۔ مہر زوجہ کا حق ہے تو اگر رشتہ ختم ہو جائے تو مہرکے متعلق کیا حکم ہے ۔ مہر کے علاوہ جو زیورات وغیرہ ایک دوسرے کو دیئےگئے ہوتے ہیں اُن کے بارے میں کیا حکم ہے۔ اسی طرح زوجین کے شتہ داروں نے ایک دوسرے کو یا ان زوجین کو جو تحفے دیئے ہوتے ہیں ان کے متعلق کیا حکم ہے۔ اس بارے میاں یہاں کی عدالتوں میںبھی اور وویمنز کمیشن (Womens Commission)میں بھی معاملات کے فیصلے ہوتے رہتے ہیں اور محلہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

   سوال : نمازظہر میں فرض سے پہلے چار رکعت سنت مُوکدہ ادا کرنے ہوتے ہیں۔ جوکہ ضروری ہے مطابق سنت سوال یہ ہے کہ کیا امام سنت کے یہ چار رکعت ادا کئے بغیر فرض پڑھاسکتا ہے۔ حدیث کی روشنی میں حوالہ دیکر آگاہ فرمائیں۔ اگر سنت ادا کئے بغیر کبھی کبھی فرض پڑھایاہوگا۔ تو وہ نماز پوری ہوگئی ہے۔ یا دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے ؟ غلام محمد بٹ  نماذ ظہر کی سنتیںا جواب: اگر امام نے فرض سے پہلے کی سنتیں ادا کی ہو تو اس کیلئے دوصورتیں ہیں یا تو مقتدی حضرات انتظار کریں۔ امام چار سنت ادا کرکے فرض کی امامت کرے گا۔اگر مقتدیوں کو پانچ منٹ کا انتظار مشکل ہو تو پھر امام کیلئے جائز ہے کہ وہ فرض نماز ادا کرائے۔ بعد میں چار رکعت سنت ادا کریگا۔ لیکن اس کو مستقلی معمول نہ بنایاجائے اس لئے یہ خلاف ترتیب ہے۔ سوال: جو روپیہ بنک سے بطور قرضہ ( Loan) لیا جاتا ہے جس پر بنک Intrestلیتا ہے کیا

علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاریؒ

 انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر کے اہتمام سے سوپور (1)کی سرزمین پر اجتماع ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ میدان میں لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ڈائس پر علمائِ کرام موجود تھے جنہوں نے اپنی تقریروں سے دلوں کو گرما دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب علماء لوگوں کو اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ دلوں کو عشقِ مصطفی ا سے منور کرتے تھے۔ عامۃ المسلمین کو اللہ و رسول ا کی اطاعت کرنے پر اُبھارتے تھے، اتحاد و اتفاق کا درس دیتے تھے اوردلوں کو جوڑنے کا کام انجام دیتے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کے دور میں یہ چیزیں عنقا ہیں۔ تبلیغ کے نام پر لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا اور بدگمان کر دیا جاتا ہے۔ توحید کے نام پر انبیائِ علیہم السلام و اولیائِ کرام رحمہم اللہ کی توہین کی جاتی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ا کی طرف بلانے کے بجائے ہمارے ’’علماء‘‘ اپنی تنظیموں کی طرف بلاتے ہیں۔ لوگو