تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟ ارجمند اقبال…سرینگر جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع کرنے والا قرا

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

  نورو نکہت میں ڈھلے کاشانۂ نبوتؐ میں چند خوش نصیب ساعتیں گزارکر اور مسجدالحرام کے کتب خانےمیں کچھ لطف و سرود بھرے لمحات بِتا نے کے بعد شوق کا پنچھی اس آرزوئے ناتمام سے تڑپ اُٹھا اے کاش خوشبوؤں میں ڈوبے اُن گلی کوچوں کے بوسے لوںجن پر بنی  ٔ محترم صلی ا للہ علیہ وسلم کے پائے مبارک پڑے اور جن کی آغوش میں ولادت با سعادت سے لے کر بعداز رضاعت تک آپ  ؐ کا معصومانہ ویتیمانہ بچپن گزرا، حلف الفضول کے معاہدے میں ذوق وشوق سے شرکت ہوئی ، محنتانہ کے عوض اہل ِمکہ کے چوپایوں کا چرواہا بنے ، اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کے ساتھ رشتۂ تزویج میں بندھ کردنیا کا پہلا اور آخری خوب صورت ترین دولہا بنے، حجر اسود کو کعبہ شریف میں نصب کر نے کا امن پرور انہ کام کیا ، غارِ حرا میں خلوت نشین ہوکر اللہ سے مدتوں راز ونیاز میں مشغول رہے ، بعثت کے بعد آپؐ کی جلوتیں اور خلوتیں وحی ٔ الہٰی کاپرتو ہوئی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

شب برات کی فضیلت اور اہمیت سوال :-آج شعبان کا مہینہ چل رہاہے۔ شعبان میں شب برات ایک اہم دن ہے۔ اس شب کے بارے میں کیا فضیلت ہے۔ اس بارے میں حدیثوں میں کیا بتایا گیا ہے۔ یہ احادیث کس درجہ کی ہیں۔ اس شب میں کیا کیا عمل کرنا چاہئے ؟ امت مسلمہ کاطریقہ عمل اس بارے میں کیا ہے ؟ ماسٹر محمدیعقوب میر…سرینگر جواب:-شب برات کو احادث میں لیلہ من نصف شعبان یعنی ماہِ شعبان کی درمیانی شب کہاجاتاہے۔اس کی فضیلت کے متعلق بہت ساری احادیث ہیں۔جن میں سے چند یہ ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓبیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جل شانہ شعبان کی پندرھویں رات میں اپنی مخلوق کی طرف خصوصی توجہ فرماتے ہیں۔ پھر اپنی تمام مخلوق (انسانوں)کی مغفرت فرماتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے شخص کے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ یہ حدیث کتاب السن ، صحیح ابن حیان ، مواردالظمٰان، شعب الای

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!قسط61

    آج کی تاریخ میںسائنسی علوم مغرب کی شہ رَگ بنے ہیں ،اہل مغرب کی صبح سائنس کی پرستش سےطلوع ہوتی ہے، دن ٹیکنالوجی کی پوجا میںغروب ہوتا ہے ، رات نئی ایجادات کی بانہوں میںگزر جاتی ہے ۔ بلاشبہ ان کی یہ ساری عرق ریزیاں انسانی دنیا کو جہاں نئی نئی دریافتوں اور سہولیات سے زیر بارِ احسان کر رہی ہیں ، وہیں دجالیت کا روپ دھارن کر کے یہ بم باردو،توپ اور تفنگ کی شکل میں ملکوںاور قوموں کوکچا چبا رہی ہیں ، قبائے ا نسانیت کو تارتار کر رہی ہیں ، پوری دنیا کو مغرب کے علمی تفوق ، غنڈہ گردی اور ہم ہستی کے صنم خانے میں اوندھے منہ جھکارہی ہیں ، مگر کیا فائدہ اس سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کے عروج کا جو اپنے ساتھ انسانیت کے لئے تنزل اور بحران کی سونامی بھی لایا ہے۔ تاریخ کا آئینہ صاف دکھاتاہے کہ مغرب صدیوںتک سائنس سے خداواسطے بیر رکھنے کے سبب مغرب جاہلیت، علم بیزاری اور پسماندگی کامجموعہ تھا۔ اب

تعمیر سیرت اصلاحِ باطن

زمانہ جتنا بھی آگے بڑھتا جائے گا نوجوانوں کی اہمیت، رول اور حیثیت بھی بڑھتی جائے گی۔ہر زندہ قوم،تحریک اور نظریہ نوجوانوں پر خصوصی تو جہ دیتا ہے کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ اقوام وملل کو چلانے ،تحریکوں کو متحرک رکھنے اور نظریات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہمیشہ نو جواں ہی نمایا ںرول کیا ہے۔نوجواں بلند عزائم کے مالک ہو تے ہیں، جہدمسلسل اور جفا کشی ان کا امتیاز ہو تا ہے ،بے پناہ صلاحیتیں ان میں پنہاں ہو تی ہیں، بلند پرواز ان کا اصل ہد ف ہو تا ہے ، چلینجز کا مقابلہ کر نا ان کا مشغلہ ہو تا ہے۔ شاہینی صفات سے وہ متصف ہو تے ہیں، ایک بڑے ہدف کو حاصل کر نے کے لئے ساحل پہ کشتیاں جلانا کو تیارہوجاتے ہیں،وہ ہوا ئوں کا رُخ موڑنے کی صلا حیت رکھتے ہیں،باطل دوئی پسندہے اور حق لا شر یک ،جیسا عظیم اعلان کر نے سے بھی نہیں کتراتے ۔ میدان کا رزار میں شکست کو فتح میں تبدیل کر نے کی قوت ان میں موجود ہو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: گذارش یہ ہے کہ قرآن کریم بغیر وضو چھونے کی حدیث نقل فرمایئے۔ یہ حدیث کون کون سی کتاب میں ہے اور یہ بتائیے کہ چاروں اماموں میں سے کس امام نے اس کو جائز کہا ہے کہ قرآن بغیر وضو کے چھونے کی اجازت ہے۔ میں ایک کالج میں لیکچرار ہوں، کبھی کوئی آیت لکھنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس ضمن میں یہ سوال پیدا ہوا ہے۔ امید ہے کہ آپ تفصیلی و تحقیقی جواب سے فیضیاب فرمائیں گے ۔ فاروق احمد …لیکچرار گورنرنٹ ڈگری کالج جموں جواب: بغیر وضو قرآن کریم ہاتھ میںلینا، چھونا،مَس کرنا یقینا ناجائز ہے۔ اس سلسلے میں حدیث ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرآن کریم صرف باوضو انسان ہی چھوئے۔ یہ حدیث نسائی، دارمی، دارقطنی، موطا مالک صحیح ابن حبان،مستدرک حاکم اور مصنف عبد الرزاق اور مصنف ابن ابی شمبہ میں موجو د ہے نیز بیہقی اور معرفتہ السنن میں بھی ہے۔ شیخ الاسلام حض

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں! قسط60

  مسجد حرام کے اس شاندار کتب خانے میںیہ سوچ کر دل رنجیدہ اور جگر پاش پاش ہوتا ہے کہ مغرب کے کینہ ور اور مشرق میں ان کے پیادے اور دُم چھلے آج اسلام کو دقیانوسیت سے تعبیر کر رہے ہیں اور ہمیں من حیث الامت علم کے دشمن ، عقل ودانش کے حریف ، آگہی کے رقیب، ناخواندگی کے دلدادے ، فرسودگی کے پتلے، ذوقِ تحقیق سے خالی، شوقِ جستجو سے تہی دامن، سائنس میں پسماندہ، ٹیکنالوجی میںصدیوں پیچھے قرار دے رہے ہیں۔ یہ ہمارے حال کی تصویر کشی ہے یا نہیں، اس بحث سے صرف نظر  کر تے ہوئے یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ امر واقع یہ ہے کہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں اُمت مسلمہ بہت پیچھے ہے مگر ہمار ادرخشندہ ماضی کینہ وران ِمغرب کی ان دشنام طرازیوں پر ماتھا پیٹتے ہوئے چیختا چلّاتاہے کہ یہی وہ اُ مت ہے جس نے اقراء کی ندائے رُبانی سن کر علم کی کدال اور عمل کا پھاوڑا ہاتھ میں لئے جہل و لاعلمیت کے کوہ وجبل پاش پاش کئ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!قسط:59

  مکتبۂ مکہ کے صدر روازے کے بائیں جانب ایک چھوٹے سے بُک سٹال پر مختلف زبانوں میں اسلامی موضوعات پرکتابچے اور سی ڈیززائرین میں مفت تقسیم کی جاتی ہیں ۔ میں نے بھی یہاں سے بعض کتابچے بلا معاوضہ حاصل کئے۔ ’’ا دارہ ٔ امر بالمعروف نہی عن المنکر‘‘کی ان مطبوعات میں ایک فولڈر’’کتب خانہ مکۂ مکر مہ ‘‘ کے زیر عنوان ہے جس میںاس مقدس جگہ کے بارے میں بالاختصار بعض اہم معلومات درج ہیں ۔ لکھا ہے: یہ کتب خانہ شعب ابی طالب کے آغاز میں مسعیٰ(صفا ومروہ کے مابین سعی کی جگہ ) کے مشرق کی جانب واقع ہے۔ اسے شیخ عباس قحطان نے سن ۱۹۵۰ء (بمطابق۱۳۷۰ھ ) میں بنایا تھا۔اس کی سرپرستی وزارتِ شئون اسلامیہ کے ذمے ہے۔ا س میں بہت سی کتب، مخطوطات اور تاریخی نوادرات ہیں۔ یہ دومنزلہ عمارت ہے جس کی کھڑکیاں لکڑی اور رنگ کلیجی ہے جو آغاز ہی سے مکہ کی عمارات کا معروف رنگ رہا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

نزاعات سے بچنے کیلئے مشترکہ خاندان میں آمدنی اوراخراجات کے معاملات پہلے طے کرنے کی ضرورت  سوال:-ہم دوبھائی ہیں ۔ ایک گھر کا کام اور ٹھیکیداری کرتاہے ۔چھوٹا ملازم ہے ۔ بڑے بھائی نے اپنی بیوی کے ساتھ حج کیا ۔ دوسال پہلے ہم نے علیحدہ ہونے کا مشورہ کیا۔ تقسیم کے وقت چھوٹے بھائی نے حج کا خرچہ دولاکھ روپے بڑے بھائی کے نا م ڈال دیئے۔جورقم اس کے پاس موجود ہے وہ اس سے انکار کرتاہے ۔  اب سوال یہ ہے کہ تقسیم کرتے وقت بڑے بھائی کوحج کا خرچہ الگ سے وضع کیا جائے گایا نہیں اور چھوٹے بھائی کے پاس جو رقم موجود ہے ، و ہ دونوں کا حق ہے یا صرف ایک کا ؟ حبیب اللہ …پٹن جواب:-ایک سے زائد برادران جب ایک ساتھ ایک ہی چولہے سے جڑے ہوئے ہوں تو ضروری ہے کہ وہ اپنی آمدنی اور خرچ کے تمام تمام ضروری اصول پہلے ہی طے کرلیں ورنہ آئندہ قسم قسم کے نزاع اور ظلم وحق تلفی کا اندیشہ یقینی ہ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

  عشق ِپیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم میں نفس کے لوہے کو عبادت ، اخلاق، عمل، زہد وتقویٰ، توکل ، صبر واستقامت اور انفاق فی سبیل اللہ سے موم کر نے والے محمد بن ادریس الشافعیؒ کی ابتدائی زندگی عسرت وتنگ دستی میں گزری۔ لوگ پوچھتے یہ کیا حالت ہے ؟فرماتے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں سنا: ’’دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے ایک غریب شخص یا مسافر ہواور خود کو یہ سمجھتے رہو کہ ایک روز قبر میں جانا ہے‘‘۔ اس حدیث پر غور کریئے تو دنیوی لذات ومکروہات کی خواہش خود ہی جاتی رہتی ہے ، لیکن جب اللہ نے امام شافعیؒ کو دولت ِ دنیا عطاکی تو اپنا مال وزر غریبوں اور محتاجوں پر بے دریغ خرچ کر تے کر تے بہ صد مشکل اپنے مصارف کے لئے ایک چوتھائی چھوڑتے۔ ایک موقع پروقت کے اکابر علماء نے پوچھا حضرت اوروں پر اس قدر کیوں خرچ فرماتے ہیں؟ جواب دیا ہم اتباع ِ سنت کر تے ہیں

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے اس معاشرے میں ہر ُسو فاحشات، منکرات اور دیگرجرائم کا سمان روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ دخترا ن قوم کے حساس طبقے کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ وقت اور زمانہ اُن سے آگے بڑھنے کیلئے مروجہ تعلیم اور دیگر علوم اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور استفادہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انکی کے اندرکی فطری صلاحیتوں اور قابلیت میں نکھار آسکے اور اپنے گرد ونواح اور سماج میں اپنا مطلوبہ مقام حاصل کرسکیںلیکن بدقسمتی سے انہیں اپنا ’’ اصلی مقام‘‘ اور عزت اور وقار برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔جن کے  ساتھ اُن کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ باطل نظریات اور مغربی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہیں کہ حساس اور دین پسند خواتین کا اس ماحول میں عملاًPrecticallyاس جھنجھٹ سے بچ نکل کر آگے بڑھنا اگرچہ

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!قسط؛57

  تاریخ ِاسلام کا ہر سنہری ورق اصل میں محبت النبی صلی ا للہ علیہ وسلم کا آئینہ دار ہے، ایمان کا راس المال ہے ، نیک عملی کے لئے مہمیز ہے ، ایثار وخدمت کے لئے قوتِ نافذہ ہے ، مومنانہ زندگی کے لئے  سامان ِ آرائش ہے ۔ حُب رسول ؐ ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے ، اس میں تھوڑے سے افراط وتفریط کی آمیزش ہوئی تو یکدم ایمان مشتبہ ، عقائد نادُرست ، اعمال بے نتیجہ اور یقین غارت ہوا ۔کوئی بھی حکیم ِحاذق اس آفت سے خطاکار کونہیںبچاسکتا بجز اس کے کہ خاطی خود اللہ کے حضور اشک اشک ہوکر توبہ و استغفار کرلے ۔ محمد عربی ؐ کی عظمت ِشان اور علویت ِ مقام کی ایک مبرہن دلیل یہ بھی ہے کہ انسان تو انسان عشق ِمحمدی ؐ میں جمادات و نباتات بھی سر شار ہیں ۔ چناںچہ جب آپ ؐ کا وصال ہو ا تو خلیفہ ٔ دوم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حالت ِوجد وشوق میں رورو کر فرمایا : میرے ماں باپ آپ ؐ پر فدا ہوں ، اے اللہ کے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ قران کریم میںحکم ہے کہ استعمال کی چیزیں ایک دوسرے کو دیا کرو۔ آج کل انسان کے پاس قیمتی مشینیں اور آلات ہوتے ہیں۔ جن کے استعمال میں کلی یا جزوی سطح پر تکنیکی تربیت یا تجربہ درکار ہوتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں اگر ان چیزوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو کیا جانا چاہئے تاکہ حکم قران کی عدولی نہ ہو اور نقصان سے بھی چاجاسکے۔ قران وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟ احمد کشمیری۔۔۔۔ ٹنگمرگ گھریلو استعمال کی چیزیں.......مانگنے و دینے کی صورتیں اور قرانی و عید   جواب:۔ قران کریم میں ایک جگہ بڑی خرابی کی وعید ویلُ‘ کے لفظ سے بیان کی گئی ہے اور یہ خرابی نمازوں میں سستی کا ہلی غفلت اور اوقات کی پابندی نہ کرنے والوں کے لئے ہے اور ریاکاری کرنے والوں کے لئے ہے اور یہ خرابی اُن لوگوں کے لئے بھی ہے جو ماعون کو روکتے ہیں… سورہ الماعون ماعون کی دو تفسیریں ہیں,ا

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

                 شوق کے پنچھی کو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میںسوختہ جاں برصغیر کی ایک مشہورہستی نظر آئی۔۔۔ یہ شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ ہیں۔۔۔ والہانہ محبت النبی میںغرق، اسم محمدؐ سے د ہر میں اُجالے کا متمنی ، مدحت ِمحمدی ؐ میں رطب اللسان، اسوہ ٔ حسنہ کا شیدائی ، رحمتہ اللعالمینی کا خوشہ چین ، اتباعِ رسولؐ پر بصد جان فدا، جمالِ پیغمبرؐ کا مصور ، کمالِ دین کا پیام بر، اُمت کی غفلتوں پر دیدہ ٔ تر۔  علامہ کا منہج ومسلک ِعشق رسول ؐکا اجمالی تعارف    ؎  صدقِ خلیل ؑ بھی ہے عشق ، صبر حسینؓ بھی ہے عشق معرکۂ وجود میں بدروحنین بھی ہے عشق  اقبال کو چہار سُو عشق ہی عشق نظرآتاہے   ؎  عشق دم ِجبرئیلؑ ، عشق دلِ مصطفیٰؐ  عشق خدا کا رسولؐ ، عشق خدا کاکلام   دو اہم واقعات علام

شعر کیا ہے؟

فارسی اور اردو میں شعر و شاعری سے متعلق ، عموماًً عربی روایات و نظریات کی ہی پیروی ہوتی رہی۔لیکن ماحول ، معاشرہاور عصری تقاضوں کے تحت نظریہ شعر میں ترمیم و اضافے بھی کئے گئے ۔ ایک عرصہ تک  یہ مانا جاتارہا تھا کہ فارسی میںایران کی آخری درباری زبان ’’پہلوی ‘‘سے قبل ’شعر‘ کا وجود نہیں تھا لیکن عصر حاضر کے مستشرق ثابت کر رہے ہیں کہ قدیم فارسی ،یعنی ’گاتھا‘،اوستا،ژندکی وغیرہ زبانوں میں شعر کے نمونے موجود تھے ۔ اس لئے یہ مفروضہ درست نہیں کہ پہلوی (فارسی )زبان میں ’شعر ‘عرب اور عربی زبان کے اختلاط کے بعد پیدا ہوا ۔بہر حال فارسی میں شاعری کے آغاز و ارتقاکی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں البتہ اتنا اشارہ ضروری ہے کہ فارسی میں نظامی عروضی سمرقندی (چہار مقالہ ۔۵۲۔۵۵۱ھ)رشید الدین وطواط (حدائق السحر فی دقائق الشعر(۶۸۔۵۵۱ھ)امیر عنصر

مشرقِ وسطیٰ : بے ثبات وبے جہت!

 مترجم : محمد ابراہیم خان مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میںسال۲۰۱۱ء اور ۲۱۰۲ء کے دوران عوامی بیداری کی لہر اْٹھی جسے عرب بہاریہ کا نام دیا گیا۔ تیونس سے شروع ہونے والا یہ پُرجوش سلسلہ مصر، لیبیا اور مراکش تک پہنچا۔ تیونس کے بعد سب سے زیادہ مصر متاثر ہوا، جہاں لوگ بڑے پیمانے پر تبدیلی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک سال سے بھی زائد مدت تک پورے ملک میں افراتفری کی کیفیت رہی۔ حسنی مبارک کا طویل اقتدار ختم ہوا اور انتخابات کے نتیجے میں اخوان المسلمون کی ہم خیال جماعت فریڈم اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کامیاب ہوکر اُبھرگئی۔ محمد مرسی مصری قوم صدر منتخب ہوئے مگر بہت جلد پھر یہ ہوا کہ سیاسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مصر کی منظم فوج نے عوام کی رائے پر شب خون مارا، مرسی کی منتخب حکومت کو ختم کرکے جنرل السیسی کی کٹھ پتلی حکومت قائم، محمد مرسی کو گرفتار کرکے ان پرغداری اور قتل و غارت کا مقدمہ چلایا ۔ یہ

حاجی ا لحرمین سے

اللہ اکبر ۔۔۔۔وہ کون سا گھر ہے آپ کی نگاہیں جس کی دیوار وں کی بلا ئیں لے کر پلٹی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں آپ کا جسم بھی طواف میں تھا اور آپ کا دل بھی ۔۔۔۔۔۔دنیا کے بت کدوں میں کل بھی وہ پہلا گھر تھا خدا کا اور آج بھی ہے۔ دو چار صدیوں کی بات نہیں بلکہ دنیا کا سب سے پہلا عبادت خانہ بنی آدم میں کسی کے حافظے میں اس وقت کی یادیں محفوظ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!! اس طویل عرصے میں بے حساب مندر تعمیر ہوئے ،لا تعداد گرجے آباد ہوئے ‘ کیسے کیسے انقلابات سے یہ زمین آشنا ہوئی، کیسی کیسی بلندیاں پستیاں ہوئیں ‘ کون کون سی تہذیبیں اُبھریں اور مٹیں ۔۔۔۔چاہے مصر وبابل ہوں یا روم و ایران لیکن عرب کے ریگستانوں میں چٹانوں اور پہاڑوں کے وسط میں سیاہ غلاف میں لپٹی یہ عمارت جس کو رب نے ’’اپنا گھر ‘‘ کہا ،اس کو زمانے کاکو ئی طوفان ، کوئی انقلاب ، کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے نہ ہلا سکا ۔۔۔

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

    شوق کا پنچھی محبت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار شمع ِرسالت مآبؐ کے ا یک ا ور پروانے کی ہست وبود کو اپنی مشتاقانہ نگاہوں سے دیکھ رہاہے۔ یہ سر سید احمدخان ہیں۔۔۔قلبی آرزو یہ ہے کہ مسلمان کے ایک ہاتھ میں فلسفہ ہو ، دوسرے ہاتھ میں سائنس ہو اور سر پہ کلمہ طیبہ کا تاج ہو۔۔۔ ہندی مسلمانوں کا محسن ، قوم کی ناخواندگی کو علم و آگہی کے نور سے بدل دینے والامرد ِ دُرویش، دانش ِحاضر سے ملت کے احیاء نو کا مخلص داعی ۔۔۔ اُن کے نہاں خانہ ٔ قلب میں واحد تڑ پ کہ مسلمانانِ وطن کے تن ِمردہ میں کیسے جان ڈالی جائے، یہی ایک دُھن ہر لمحہ ذہن پر سوار ہے، یہی متاعِ فقیر ہے، یہی روز وشب کا وظیفہ ٔ حیات ۔ سر سید تاڑ رہے ہیں کہ 1857ء کے مابعدانگریز سامراج کے زیر تسلط مسلمانان ِ وطن زندگی کے دھارے سے بالکل الگ تھلگ پڑے ہیں ، نہ ان کا کوئی وقار ہے نہ کوئی ا عتبار، معتوب بھی ہیں مقہور بھی ہیں

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:- ہر سال ماہ فروری یا مارچ میں میں ملازمین انکم ٹیکس سے متاثر ہوتے ہیں او رطرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ حکومت نے اس میں مختلف اقسام کی چھوٹ دے رکھی ہے بشرطیکہ درج ذیل مدوں میں کچھ خرچ کیا گیا ہو ۔ جی پی فنڈ، لائف انشورنس ، ہائوسنگ لون ، صرف دو بچوں کی اسکولی ٹیوشن فیس ،بینک یا ڈاکخانہ پالیسی۔ کچھ رقم کی چھوٹ مہلک و خطرناک بیماریوں کے خرچے وخواتین ملازم کے میک اَپ خرچہ پر دی گئی ہے۔ بہت سارے ملازم انکم ٹیکس سے بچنے کے لئے مندرجہ ذیل راستے اختیار کرتے ہیں۔ (ا)۔کسی سودی لائف انشورنس ادارے یا بینک، ڈاکخانہ میں مطلوبہ رقم جمع کرواتے ہیں۔ (۲)۔کچھ نا م نہاد فلاحی اداروں میں معمولی رقم جمع کرکے بڑی رقوم کی جعلی رسیدیں حاصل کرکے انکم ٹیکس سے چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ (۳)۔برادری کے ناطے یا تھوڑی بہت رقم دے کر نقلی میڈیکل رپورٹیں حاصل کرکے انکم ٹیکس

اُم الخبائث!

 وادی ٔ کشمیر کے بارے میں یہ حد درجہ تشویش ناک اطلاعات گشت کررہی ہیں کہ یہاں شامت اعمال سے شراب نوشی اور شراب فروشی کا گراف بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ ام الخبائث کے بارے میں یہ منحوس خبریں ہمیں کیا کیا چیتا ؤنیاں دے رہی ہیں، کوئی حساس دل ، بااخلاق اور شائستہ ذہن ہی اُس فہم و کا ادراک کر سکتا ہے۔ اس بارے میں دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ برس شراب کی 15 ؍لاکھ 33؍ ہزار شراب کی بوتلیں فروخت ہوچکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ برسوں کے مقابلے میں شراب نوشی میں 30؍ فی صد کا اِضافہ ریکارڈ درج کیا گیا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ لداخ میں شراب نوشی کے گناہ ِ کبیرمیں واضح طور کمی نظر آرہی ہے جو واقعی ایک خوش آئندہ امر ہے جب کہ وادی میں حالت اس کے برعکس ہے۔ مقامی ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ اس کر یہہ الصورت نشہ بازی میں بہت سارے بچوں او رزیادہ تعداد میں نوجوان ملوث ہیں۔ رونگٹھے کھڑے کرنے