تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟ ارجمند اقبال…سرینگر جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع کرنے والا قرا

نزول گاہِ وحی کی مہمانی میں!

  نورو نکہت میں ڈھلے کاشانۂ نبوتؐ میں چند خوش نصیب ساعتیں گزارکر اور مسجدالحرام کے کتب خانےمیں کچھ لطف و سرود بھرے لمحات بِتا نے کے بعد شوق کا پنچھی اس آرزوئے ناتمام سے تڑپ اُٹھا اے کاش خوشبوؤں میں ڈوبے اُن گلی کوچوں کے بوسے لوںجن پر بنی  ٔ محترم صلی ا للہ علیہ وسلم کے پائے مبارک پڑے اور جن کی آغوش میں ولادت با سعادت سے لے کر بعداز رضاعت تک آپ  ؐ کا معصومانہ ویتیمانہ بچپن گزرا، حلف الفضول کے معاہدے میں ذوق وشوق سے شرکت ہوئی ، محنتانہ کے عوض اہل ِمکہ کے چوپایوں کا چرواہا بنے ، اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کے ساتھ رشتۂ تزویج میں بندھ کردنیا کا پہلا اور آخری خوب صورت ترین دولہا بنے، حجر اسود کو کعبہ شریف میں نصب کر نے کا امن پرور انہ کام کیا ، غارِ حرا میں خلوت نشین ہوکر اللہ سے مدتوں راز ونیاز میں مشغول رہے ، بعثت کے بعد آپؐ کی جلوتیں اور خلوتیں وحی ٔ الہٰی کاپرتو ہوئی