تازہ ترین

سامری

 دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہمالیہ پر پہلے انسانی قدم ہیلری کے پڑے تھے۔ اس مرد آہن نے دنیا کی سب سے اونچی چوٹی پر جو پہلا جھنڈا لہرایا تھا ، وہ امن کا جھنڈا تھا جس کو سفید کبوتروں کا جھنڈ چھوتے ہوئے فضائوں میں اونچی اُڑان بھرتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ اس عظیم چوٹی پر ہیلری کے ساتھی ٹین زنگ نے اپنی بانہوں کو فضائوں میں پھیلایا اور اُس کو یوں لگا کہ اُس نے اپنے اندر ساری دنیا کو جذب کرلیا۔ پون صدی پہلے شہر آسٹریامیں ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی جو دنیا کا چہرہ بدلنے والا تھا۔ اُس بچے کو اپنے آرین "Aryan"ہونے پر ناز تھا۔ خود کو تمام انسانوں سے بالاتر سمجھتا تھا۔ وہ اپنے سے بڑے بچوں پر دبدبہ بنائے رکھنے کا فن بھی جانتا تھا۔ وہ تیز اور طرار تھا۔ باتیں بنانے میں ماہر تھا۔ باتوںکے جادو میں کسی بھی عمرکے کسی بھی فرد کو شیشے میں اُتار لیتا تھا۔ اس لئے بچپن میں ہی اُس کے حل

بھرم

’’یہ تمہارا بھرم ہے، ایک لاشعوری خیال ہے! اکثر ایسا ہوتا ہے، جب کوئی انسان دولت مند بننے کے خواب دیکھنے لگتا ہے تو اُسے بار بار ایسے خیالات ستانے لگتے ہیں۔ تمہارے اندر بھی دولت مند بننے کی آرزو جاگ اُٹھی ہے اِسی لئے تمہیں اُٹھتے بیٹھے، سوتے جاگئے، کھاتے پیتے یہ خیال ستاتا ہے کہ تم ایک نہ ایک دن دولت مند بن جائو گی‘‘، ماہر نفسیات جارج ولیم نے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی مریضہ سے کہا:۔ ’’ڈاکٹر جارج… مجھے پوری اُمید ہے کہ آنے والے دنوں، مہینوں یا برسوں میں میرے نام ایک ٹیلی گرام آئے گا جس میں یہ خوشخبری ہوگی کہ میں سو ملین ڈالر کی مالکہ بن گئی ہوں… ایلیاؔ نے بڑے اطمینان سے کہا۔ ’’ہاں اِسی لئے تمہاری راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہے، کسی بھی کام میں تمہارا دل نہیں لگتا، تمہیں کسی بھی خوشی کا احساس نہیں ہوتا ہے، تم اکثر اُداس اور

بالوں کی لٹ

اس دن صبح جب سے میں نے ٹیلی ویژن پر وہ خبر دیکھی تھی تب سے میرا ذہن با ربار شبینہ کی طرف جا رہا تھا اور بالوں کی وہ لٹ ناگن بن کرمجھے ڈس رہی تھی۔میں اپنے آپ کو تسلی دیناچاہتاتھا اس لئے من ہی من میںکہہ رہا تھاکہ یہ شبینہ کے بال نہیں ہوسکتے ۔ اپنے خیالوں کو منتشر کرنا چاہتا تھا مگر خیالوں کی وہ ڈورنہ جانے کیوں مجھے شبینہ کی طرف کھینچے لے جا رہی تھی،شاہد اس لئے کہ اس کی ساری زندگی میرے سامنے گزری ہے ۔میں اسے جب بھی دیکھتا  تھاتو من ہی من میں خوش ہوتا تھا اور بار بار دیکھنے کا متمنی رہتاتھا۔اس کا گول گول گورا چہرا ،وہ تیز چمکدار کالی آنکھیں اور  دا  ہنی آنکھ میں کالا تل،جو اتنا خوبصورت تھا کہ ہر حسن پرست انسان اس کو دیکھ کر عش عش کرتا ۔ مجھے وہ لمحہ بھی یاد آرہا تھا جب میں نے سکول میں ایک دن اُس سے کہا تھا  ’’شبینہ تمہاری آنکھ کا تل کتنا خوبصورت ہے&

نور شاہ ۔۔۔فکراورفکشن

مرتنب:محمد اقبال لون ضخامت:360 صفحات  قیمت:450 روپے  ناشر:میزان پبلشرز سرینگر زیر تبصرہ کتاب ’’نور شاہ فکراو رفکشن ‘‘ریاست جموں وکشمیر کے عظیم فکشن نگار پر مرکوز ہے۔نور شاہ کے فن و شخصیت کے حوالے سے محققین ،ناقدین اور مقالہ نگاروں نے بہت کچھ لکھاہے۔محمد اقبال لون نے نور شاہ کے فکرو فکشن پر بکھرئے ہوئے مضامین کو جمع کرکے ان کو کتابی صورت بہ عنوان’’نور شاہ فکراور فکشن‘‘کا روپ دے کر منصہ شہود پر لایا۔مرتب کے پیش لفظ ،نور شاہ کا سوانحی خاکہ اور نور شاہ سے ایک گفتگو کے بارہ صفحات کے علاوہ ۲۷مضامین شامل ہیں۔کتاب میں نور شاہ کی شخصیت،حیات،ڈائری،خطوط، ڈرامہ ،نظریات،ذہنی میلان،حب الوطنی ،افسانوں اور ناولوںسمیت کئی حوالوں سے مضامین کو جمع کیا گیا ہے۔مضامین پروفیسر حامدی کشمیری، پروفیسرشکیل الرحمن،محمد یوسف ٹینگ،وید راہی،پروفیس

قاسم سجاد لمحات کے ساتھ

نام کتاب: ’’لمحات کے ساتھ‘‘ مصنف: قاسم سجادؔ سنِ اشاعت: 2017؁ء صفحات: 120 قیمت: 100/-روپے شاعر، ادیب، و صحافی قاسم سجادؔ کی کتاب’’لمحات کے ساتھ‘‘ ہمارے سامنے ہے۔ کتاب میں مصنف نے اپنی ذاتی یادوں کے ساتھ 1960؁ء سے لے کر آج تک ارضِ کشمیر پر رونماہوئے کئی اہم تاریخی واقعات کے علاوہ کچھ بھولی بِسری تلخ و شیریں یادیں بھی قلم بند کیں ہیں۔ مصنف کی عمرِ رفتہ کے دوران پیش آئے حالات و واقعات پر مبنی اس ڈائری میں جہاں قارئین کو جماعت اسلامی اور الفتح نامی تنظیموں سے انکی وابستگی اور باغی کے طور قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے نوجوان قاسم سجادؔ نظر آتا ہے وہیں اُن کے دلوں میں قصبہ اسلام آباد کے سٹیڈیم میں ہفتہ بھر بغیر قیام پذیر رہے مشہور و معروف سائیکل کرتب باز افسر خان اور صاحبان کشف و کرامات سلطان صاحب بدسگامی اور  قا

رات کا فسانہ

وہ  ایک لمبے عرصہ سے اپنے اپنے غاروں میںسوئے پڑے تھے۔رات سیاہیوں میں لپٹی خاموش تھی۔نہ معلوم کون سا پہر تھاکہ اچانک دور کہیں سے نقاروں کی آوازآئی۔پھر نقارچیوں کی آوازگونجی۔۔۔ اے لوگو ۔۔اٹھوبیدار ہو جاو۔سحرکا استقبال کرو۔۔۔صبح قریب ہے غاروں اور گپھاوُں میںخفتہ پڑے لوگوں نے جو یہ نقارورں اور نقارچیوں کی آوازیں سنیں تو انہیںاپنے کانوںپر یقین نہیں آیا۔پہلے سوچا ۔۔۔یہ ایک خواب ہے انکے تھکے ماندے ذہنوں کا کوئی فریب ہے ۔لیکن آوازیں جوں جوں قریب آئی گئیں تو انہیں یقین کرنا پڑا کہ کچھ ضرور ہونے والا ہے وہ جلدی سے اپنی اپنی گپھائیںاور غار چھوڑکر باہر نکل آئے۔دوسرے اطراف سے بھی کافی لوگ نکل آئے تھے۔وہ سب بڑے جوش وخروش سے ایک میدان میں جمع ہونے لگے۔یہاں پر انہیں دور کچھ ہیولے اچھلتے کودتے نظر آئے جو یقینا نقارچی ہی  تھے آسمان  تاریکیوں میں ڈوباہوا تھا۔

انتظار

’’اگلے سال میں تمہاری شادی بڑے دھوم دھام سے کروں گا‘‘۔ جنید نے اپنی بہن شیما کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے یہ الفاظ کیا کہہ دیئے کہ شیما کی آنکھ بھر آئی۔ اُسے اپنے ابو زاہد حسین کی یاد آگئی۔ زاہد حُسین گورنمنٹ اسکول میں بحیثیت اُستاد کام کررتے تھے۔ ریٹائر ہونے میں ابھی تقریباً 3سال باقی تھے کہ کینسر کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی۔ زاہد حسین گھر کا خرچہ پانی چلانے کے علاوہ اپنے بچوں کو صحیح اور اچھی تعلیم دے رہے تھے۔ زیادہ آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے زاہد اپنا علاج کسی اچھے اور بڑے اسپتال میں نہیں کروا پائے، جسکا اُنکے گھر والوں کر بہت افسوس تھا۔ جُنید:’ارے بگلی… میں ہوں نا۔ میں تمہارا بھائی بھی ہوں اور ابو بھی…‘‘ سرپر تھپکیاں دیتے ہوئے جنید نے اپنی بہن کو اپنے بڑے اور ذمہ داربھائی ہونے کا احساس د

خون کے آنسو

 بوڑھا ابوبکر راحتی کیمپ میں اکیلا رینگ رینگ کر زندگی بسر کرتا تھا۔ اُسکی بیوی ذینب ایک سال قبل ایک دھماکے میں فوت ہوگئی تھی۔ اُس کے تینوں بیٹے امجد، عاشق اور ماجدطتاغوتی نظام کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہوچکے تھے! اب صرف اُس کی جوان بیٹی آسیہ اُس کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ ظالموں نے ایک رات اُس کی اُس جوان بیٹی کو بھی اغوا کرلیا۔ بوڑھا کمزور باپ اپنی بیٹی کو ظالموں سے آزاد نہ کرسکا۔ آخر کار ابوبکر بے چارہ حواس باختہ ہوا اور اسی حالت میں وہ وطن عزیز سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا…! پناہ گزینوں کے راحتی کیمپ میں جب بوڑھا ابوبکر کسی جوان لڑکی کو دیکھتا تو اُس سے رہا نہ جاتا تھا۔ وہ چِلا چِلا کر اپنے ساتھی مہاجرین سے صرف وہی ایک سوال بار بار پوچھتا تھا۔ ’’میری جوان بیٹی آسیہ کو اُن ظالموں نے کہاں چُھپا لیا؟ بے چارا ابوبکر پھر زار و قطار روتا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر اپنی گم

جھوٹ کاانجام

بھائی ندیم ذرا اِدھر تو دیکھنا۔کیاتم بھی وہی دیکھ رہے ہو جومیں دیکھ رہاہوں۔کیا.............. ؟وہ محترمہ ۔ہائے کیاچیز ہے !کیاسراپاحُسن ہے۔ اورکیامیچنگ سوٹ زیب تن کیاہواہے ۔ .......... وہ..........ندیم کچھ بولناچاہ رہاتھامگراصغر نے پھرکہناشروع کیا۔ہائے میں مرجائوں۔ اچھاوہ جواس کونے میں اورخواتین کے ساتھ باتوں میں مشغول ہے ۔ارے....... وہ تو....... وہ ......... وہ توندیم نے بولناچاہا۔ مگراصغرپھر شروع ہوگیا۔ ہائے کیابات ہے ۔یارقیامت خیز شکل وصورت ہے۔ارے پاگل تم تومجھے بولنے ہی نہیں دے رہے ہو۔حرام زادے !۔ وہ تومیری بیوی ہے ۔ندیم نے بات کاٹتے ہوئے بڑی مشکل سے جملہ پورا کیا۔ ہاں۔ہاں۔مجھے علم ہے ۔ یہ تمہاری اہلیہ محترمہ ہیں۔میں تویہ سب بس آپکوچڑانے کیلئے بول رہاتھاکہ دیکھتاہوں تم کہاں تک برداشت کرسکتے ہو۔یارمیں تو پریشان ہوگیا تھاکہ یہ تم کوکیاہوگیا ہے مگراس قسم کامذاق کرنا عقل

کالو بھنگی کی واپسی

ایئرپورٹ ٹرمینل سے باہر نکل کر میں نے اسٹینڈ سے ٹیکسی لی اور ڈرائیور کو ایڈریس بتا کر سیٹ پر دراز ہو کر بیٹھ گیا _ دہلی جیسے بڑے شہر میں پورا ایک ہفتہ دوڑ دھوپ کرتے ہوئے میرا جسم مزید مشقت کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا _ میں جلدی سے جلدی گھر پہنچ کر آرام کرنا چاہتا تھا __ سوچ رہا تھا، ابھی ابھی تو بڑی مشکل سے اس ماتمی شہر کے باشندوں کی زندگی کی گاڑی پٹری پر آئی تھی ، پتہ نہیں حکومت کو کیا سْوجھی کہ جی ایس ٹی کا بم گرا کر ایک اور دھماکہ کردیا، جس سے خطہ افلاس سے نیچے گْزر بسر کرنے والوں کی خواہشوں کے آئینے چوْر چوْر ہوگئے _ پہلے ہی عوام ظْلم و ستم سے نجات حاصل کرنے کی خاطر شہر کی سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے پھر اس جبری حْکم نامے نے جلتی پر تیل کا کام کیا________،، دہلی میں نئے ٹیکس نظام کے تحت اپنے کاروبار کو رجسٹرڈ کروانے کے لئے خانہ پوری کرتے کرتے ہفتہ گْزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا __ گ

میر ی رہگذر

 تیرا وجود ہے ایک نشتر ہرے زخم تھے  میرے جسم   پر میں نے چن لیا تجھے اس قدر  میر ی رہگذر میری جستجو مری آرزو تجھے سوچنا تجھے چاہنا میرا ہر خیال میری ہر نظر کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی تخت نشیں کبھی دربدر میر ی رہگذر میر ی رہگذر مرا واسطہ ہے تجھ سے قریب کا تو جو راستہ ہے میرے نصیب کا ترے تغافل کا کوئی گِلہ نہیں تیرے ناز میرے سر انکھ پر میر ی رہگذر تو میری نہیں تو نہیں سہی تیری آرزو کا مرے چارسو ہے بچھا موت تک کا سفر کسی بہانے ہی سہی   ہوئی مری زندگی تو تیری نذر میری رہگذر میری رہگذر۔۔۔۔۔۔۔!!!    فداؔ حسین رابطہ؛گوری اننت ناگ،9906764712

افسانچے

  سیاہ حاشیے افسانچے کے عنوان کے لئے جدید اُردو افسانے کے بانیوں میں شامل  سعادت حسن منٹو سے معذرت گزار ہوں پچھلے کئی  برس کیا کئی دہائیوں سے اخبار میں سیاہ حاشیے دیکھنے کو مِلے…… ـ’’آج اِنسانیت کا  قتل ہوا‘‘…’’ آج رواداری کا خون ہوا‘‘… ’’ آج معصومیت کی بھی عصمت دری ہو گئی‘‘… آج  دوستی حوس کی بھینٹ چڑھ گئی‘‘ …’’ آج امن و آشتی کو  دفنا یا گیا‘‘  …’’ آج سکھ ، چین کو کفن پہنایا گیا‘‘  …’’آج  ہر انسانی رشتہ بیکار ہوا ‘‘…’’ آج شفا خانہ ہی بیمار ہوا‘‘… &rsqu

افسانچے

 ارادہ آج کل سفارش اور رشوت کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ہے ۔۔۔ میرے بس کی بات نہیں تھی اسی لیے میں نے سوچا کہ میں خودکشی کرلوں ۔۔۔۔تم نے اس قسم کی خبریں تو پڑھی ہوں گی فلاں بے روزگار نے زندگی سے مایوس ہوکر خودکشی کرلی یافلاں نے غربت کے ہاتھوں تنگ آکر جرائم کی راہ اختیار کرلی۔میں نے بھی یہ سوچا کہ میں جرم نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔۔’’کیوں نہ خودکشی کرلی جائے‘‘ میں تمہاری پوری کہانی سننا چاہتا ہوں۔۔۔۔اس نے کہا۔۔۔میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جائو ۔ہم کسی پارک میں بیٹھ کرسکون سے بات کریں گے۔۔۔ زندگی میں پہلی بار کسی نے میری پریشانی کا اندازہ کرکے مجھ سے خیریت معلوم کی۔میں نے اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے خودکشی کرنی ہیں۔۔۔۔۔ نہیں تم خودکشی نہ کرو ۔۔۔اس نے کہا۔۔۔۔میں تمہیں اپنے صاحب کے پاس بھیج دیتا ہوں۔۔۔انھیں ایک نوکر کی ضرورت ہے جو بے ضرر قسم کا ہ

شہہ رگ

موسم کے تیور کچھ اچھے نہیں تھے ،آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی بارشیں بھی ہو رہی تھیں۔ جہاز سے اتر کر وسیم نے ایک لمبی انگڑائی لی او ر کچھ دیر طیران گاہ کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے بعد ٹیکسی لے کر فرط نشاط وانبساط میں جھومتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوا۔دوران سفر وہ اپنی دھرتی کے بدلے بدلے مناظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔سڑک کے دونوں اطراف میں اونچے اونچے خوب صورت بنگلے ،تجارتی کمپلکس،شو روم اور دیگرنئی کنکریٹ تعمیرات کی بھرمار اور بیچ بیچ میں خالی اراضی کے ٹکڑے بالکل بنجر اور ویران حالت میں ۔۔۔۔۔۔۔ ’’ بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔آج ہماری دھرتی کا منظر ہی بدل گیاہے؟‘‘  اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے مخاطب ہو کر پوچھا۔ ’’ ہاں صاحب۔۔۔۔۔۔ اب وہ پرانا زمانہ نہیںرہا بہت ترقی ہوئی ہے یہاں۔دیکھئے تو کیسی نئی نئی کالونیاں اور شاندار عمارتیں تعمیر

کہانی مختصر کر دی

’’اب میں اِس کہانی کو مختصر کر دینا چاہتا ہوں۔‘‘ دونوں کی اِس مختصر سی ملاقا ت میںمختصر سی گفتگوکا اختتام وہ اِسی جملے سے کرنا چاہتا تھا۔وہ اُسے بچپن سے جانتا تھا،بہت قریب سے جانتا تھا اور اُسے یقین تھا کہ طبیعتاًخاموش رہنے والی سمینہ اِس کے بعد ایک لفظ بھی نہ کہے گی لیکن اُس دن اُس کا اندازہ غلط نکلا۔اُس دن وہ بولی اور کچھ اِس انداز میں بولی کہ چند سال قبل اگر اِس صداقت و خلوص سے اُس نے بات کی ہوتی تو وہ اپنی جان تک اُس پر لٹا دینے کے لئے راضی ہو جاتا۔  ’’ نہیں ۔۔۔تم اِس کہانی کو اِس طرح مختصر نہیں بلکہ ختم کر رہے ہو۔۔۔تم مجھے ختم کر رہے ہو ۔۔۔عدیل!‘‘ اُسے خود پر یقین نہیںآرہاتھا کہ اُس اپنائیت کے ساتھ اسکی زبان سے اپنا نام سنتے اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔کچھ لمحہ بعد عدیل نے خاموشی توڑ کر کہا’’دیکھو! تم

تماشا جاری ہے

دھوپ کھلی ہوئی تھی اور لمحہ بہ لمحہ اس کی تمارت بھی بڑھ رہی تھی۔ لوگ پسینے میں تر بتراس وسیع چٹیل میدان میںجمع ہو رہے تھے جس چاروں طرف دُور دُور تک پہرے بٹھادئیے گئے تھے۔محافظ چاک وچوبند دائیں بائیںنظریں دوڑائے آنے دالوں کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ کوئی شخض مشتبہ حالت میںنظر آتاتو اس کی طرف دوڑ کر اس کی جامہ تلاشی لیتے اور پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد ہی اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دیتے، پھر وہ جاکر سامعین کی صف میں بیٹھ جاتا۔محافظ بڑی جاں فشانی سے ڈیوٹی کر رہے تھے اور بھیڑ بڑھتی جا رہی تھی، نواز خانؔ، جو سامعین کی صف میںموجود تھا‘اپنے ساتھی سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔’’نہ جانے کیوں بادشاہ سلامت نے رعایا کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا ہے۔‘‘’’بھلا میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ بادشاہ سلامت کے دل میں کیا ہے۔‘‘اس کے ساتھی نے جواب میں کہا۔’’خیر

دیپک کنول کے افسانوی مجموعے

ایک ادبی تقریب میں سنیچر کو ہوٹل شہنشاہ سرینگر میںنگینہ انٹر نیشنل اور میزان پبلشرز کی طرف سے معروف قلم کار دیپک کنول کا افسانوں کے مجموعہ پوشہ مال کی رونمائی کی گئی تقریب میں بڑی تعداد میںادیب ،قلمکار اور ادب نواز شامل ہوئے۔ تقریب کی صدارت بزرگ قلمکارفاروق نازکی نے کی جبکہ ایوان صدارت میں محمد زماں آذردہ پروفیسر نرجا مٹو،پروفیسر شفیقہ پروین، وحشی سعید شامل تھے۔ مقررین نے اردو زبان وادب اوردیپک کنول کی ادبی کاوشوں پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی کتاب پر ڈاکٹر مشتاق حیدر کا تحریر کردہ تبصرہ مرزا بشیر احمد شاکر نے پڑھ کر سنایا۔ اس سے پہلے وحشی سعید نے نگینہ اور میزان پبلشرز کی طرف سے مہمانوں کا استقبال کیا  تقریب میں  محمد زماں آذردہ محترمہ پروفیسر نرجا مٹو،محترمہ پروفیسر شفیقہ پروین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا آخر پر ظہور احمد ترمبو کے نگینہ انٹر نیشنل اور میزان پبلشرز کی طرف سے

عید مبارک

   ’’اتحاد میں طاقت ہے۔‘‘ وہ زندگی میںپہلی بارفلسفۂ اتحاد کی معنی خیز کہاوت کے عملی مشاہدے سے اتنا متاثر ہواکہ احساس کی ابھرتی ڈوبتی لہریں دل ودماغ میں دیر تک فکری ارتعاش پیداکرتی رہیں۔ مشاہدہ ہی ایسا حیرت انگیز تھا کہ زندگی بھرکے فلسفۂ اتحادسے متعلق سنی سنائی منبر و محراب اور سیاسی گلیاروں کی شعلہ بار تقریریں راکھ کا ڈھیر محسوس ہوئیں ‘کیونکہ ہر تقریر اتحاد اتحاد کے راگ سے شروع ہوکر بکھراؤ کے زیروبم کا شکارہوجاتی  ۔۔۔۔وجہ۔۔۔۔ اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔ وہ جب نیند سے بیدار ہوا تواس کی طبیعت ایک خوش گوار احساس سے سرشار ہوئی کیونکہ وہ دن نہ صرف ا س کے لئے بلکہ پوری قوم کے لئے خوشی کا دن ہوتا ہے بلکہ یوں کہیں کہ یہ تہوارہی ایثار وقربانی کے عملی پیام کا تہوار ہے۔اسی مہینے میں سنت ابراہیمی کے پیش نظرحج و قربانی کے احکامات پر عمل کیا

وحشیؔ سعید کی کہانی ’’ارسطو کی واپسی ‘‘کا تجزیہ

معروف افسانہ نگار وحشی ؔ سعید کا ادبی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے ۔ انہوں نے ناول بھی لکھے اور افسانے بھی ۔ ان کے ادبی سفر میں کئی پڑائو بھی آئے اور ایک پڑائو پر ان کا یہ سفر رُک گیا تھا لیکن بقول شاعر چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی ، ان کے اندر کا ادیب دوبارہ تصنیف و تالیف کی دنیا میں لوٹ آیا۔ حالانکہ تجارت کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والے کیلئے پیچھے مڑ کر دیکھنا ناممکن ہوتا ہے لیکن دل میں لگن اور تڑپ ہو تو انگلیاں خود بخود قلم کو تھامنے کیلئے بے قرار ہوجاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ادبی شاہ پارے مختلف صورتوں میں کاغذ پر حرفوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔  وحشیؔ سعید نے علامتی افسانے لکھ کر ادبی دنیا میں ایک خاص جگہ بنا لی تھی لیکن ادبی سفر کے دوسرے (موجودہ پڑائو میں ) انہوں نے رومانی افسانے بھی لکھے اور کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش منظر کے حوالے سے بھی کہانیاں قلمبند

افسانچے

اداکار فلم ’’خون‘‘ کی شوٹنگ ہورہی تھی۔ سین کچھ اس طرح تھا… ایک پارک میں خوشی کا ماحول ہے، بچے، بوڑھے، جوان، مرد و زن اِدھر اُدھر گھوم رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنی دنیا میں گم ہے، ہر کوئی لطف اندوز ہورہاہے۔ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوتا ہے اور چاروں طرف لاشیں بکھر جاتی ہیں۔ کچھ لوگ زندہ بچ جاتے ہیں۔ ان میں ایکٹر ونود کمار بھی شامل ہے۔ وہ زخمی ہوا ہے مگر ہوش میں ہے۔ اُسے چاروں طرف دیکھ کر گٹھنوں کے بل بیٹھ کر کچھ ڈائیلاگ بولنے ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر نے یونٹ کے سبھی کارکنوں اور ایکسٹرا اداکاروں کو سین کے بارے میں ہدایت دی اور ونود کمار کو خصوصی طور پر سمجھایا کہ ڈائیلاگ کس طرح بولے… لائیٹس کیمرہ… اب سب کچھ تیار ہے۔ ایک سپاٹ بوائے نے کاغذ کا پرزہ ونود کمار کے ہاتھ میں تھما دیا کیوں کہ اُس کا فون آف تھا۔ ونود کمار نے کاغذ کا پرزہ کھولا او