تازہ ترین

صورت، سیرت اور سراب

وہ تھکا ماندہ دُشوار اور پُر خطر راستوں سے گذرتا ہو اجب بستی میں پہنچا تو سورج ڈھل چُکا تھا۔ منزل اُسکی آنکھوں کے سامنے تھی جسکو پانے کیلئے وہ کو شاں تھا۔ کھُردری، نوکیلی اور گرم چٹانوں پہ اُس نے کئی دن اپنے پائوں متحرک رکھے تھے۔ اب اُسکو ٹِھکانے پہ پہنچنے کی مسرت تو تھی لیکن اُسکی حسِاس ناک نے کُچھ ایسا سنگھا اور آنکھوں نے کچھ ایسا دیکھا کہ بیگانگی کا احساس سا ہونے لگا۔ یہ اُس کا بھرم تھا یا حقیقت؟ کُچھ کہنا ہنوز قبل از وقت تھا۔ ’ تخیل‘ ہاں، اُسکا نام تخیل ہی تھا۔ اُس نے اور اُسکی بستی کے ہم عصر لوگوں نے معیشی ترقی کی تمام منزلیں طے کر لی تھیں لیکن وہ تھا کہ اپنے آپ کو ابھی نا مکمل ہی سمجھتا تھا۔ ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے اُسکے جسم سے روح ہی غائب تھی۔ تمام عیش و عشرت کو بھوگتے ہوئے بھی اُداس اور تنہا محسوس کر رہا تھا۔ بستی کے لوگ تخیل کو بیمار سمجھتے۔ اکژ وہ دوسری

لمس

اس روز جب میں بازار پہنچا تو ہر چیز روشن تھی۔لڑکیاں،جیولری،مہندی اور چوڑیوں کی دوکانوں پر اکھٹی ہوئی نظر آرہی تھیں۔نو جوان لڑکے گار کرتے پائجاموں کی خریداری کررہے تھے۔میں اب روڑ تک پہنچ چکا تھا، جو جہلم بازار کے نام سے شہر کی مشہورجگہ تھی۔میری نظر ایک لڑکی پر پڑی جو اپنی برقعہ پوش ماں کے ساتھ بڑی حسرت سے کپڑوں کو دیکھ وہی تھی۔اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔میں اس لڑکی کو تجسس سے دیکھ کر آگے بڑھ گیا۔آگے چلتے ہوئے میں اپنی ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ ہم کتنے خوش ہوتے تھے جب نو عمر تھے۔ عید کا ہلال دیکھ کر دیوانہ ہوجایا کرتے تھے۔نو عمری زندگی کا  ایک نادر زمانہ ہوتا ہے۔ماں باپ اپنے بچوں کو پرنس سمجھتے ہیںاور وہ جو فرمائش کرے ماں باپ اس کو پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔بچپن میں عید کا جتنا زیادہ لطف آتا تھا اب وہ نہیں رہا ہے۔اب وہ احساسات ہی ختم ہوگئے اور اب عی

عـید

 جوں جوںکتے بھونکتے جا رہے تھے یوں یوں اس کے غصے کا پارہ چڑھتا جا رہا تھا۔غصہ! جو کبھی کبھی جھنجلاہٹ میں بدل جاتا تھا ۔ دانت کھٹ کھٹ بجنے سے ایک دو با ر اپنی زبان بھی کاٹ لی تھی۔ اگر چہ اس کی آواز میں کوئی درد کوئی سوز نہ تھا پھر بھی وہ مسجد کا موذن تھا۔  جوں توں کرکے اذان تو دیتا تھا لیکن کتوں سے بہت پریشان تھا۔ وہ  اذان  شروع کرتا تھا ،کتے بھونکنا شروع کرتے تھے۔ اذان ختم، کتوں کا بھوکنا  بند۔ ۔۔ اس نئی کالونی میں آئے ہوئے اسے چھ سال ہوچکے تھے۔ یہاں آتے ہی مسجد فنڈ میں بڑی رقم کیا دی، ساری کالونی میں اس کا چرچا ہوگیا ۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے تک کبھی کبھار صبح وشام اذان دیتا تھا اور رٹائرہونے کے بعدمسجد کا سارا معاملہ ہاتھ میں لے لیا اور پانچوں وقت اذان بھی دینے لگا۔ یوں تو وہ ساری کالونی میںاب عزت دار آدمی بن چکا تھا لیکن نہ جانے اسے ایسا کیوں لگ رہا تھا کہ

ناکردہ گناہ

گذشتہ تین سالوں سے قید خانہ کی تنگ و تاریک کوٹھر ی میں میرا دہشت زدہ دل دھڑک تو رہا تھا لیکن میرے پریشان ذہن نے حالات کے آگے گٹھنے ٹیک دئے تھے اور کچھ سوچنے سمجھنے سے قاصر تھا۔اگر چہ اب یہاں سے آزاد ہونے کی کوئی اُمید نظر آئی ہے مگر ایسامعلوم ہوتا ہے کہ یہ تاریکی میرے وجودپر گہرے نقوش چھوڑ جائے گی۔ ایسے نقوش جن کو میں زندگی بھر مٹا نہ سکوں گا۔ اِس کوٹھری میںزندگی کے گذارے ہوئے اذیت ناک لمحوںسے لے کر یہاں کی اِک اِک شے کو بھلا دینے کی آرزو کرتا رہوں گا جو میرے ذہن کو چھلنی کر گئے ہیں۔ آج والد صاحب اطلاع دے گئے کہ دوتین دنوں کے اندر یہاں سے آزاد ہو جائوں گامگر سوچتا ہوںکہ احباب و اقارب،کالج کے اساتذہ اور ہم جماعتوں کا سامنا کیسے کروں ؟جب میں کلاس کا ہیرو تھا تو سارے ہم جماعت میرے آگے پیچھے گھوما کرتے تھے اور میرے دوست مجھ جیسا دوست پانے پر فخر جتا تے تھے لیکن آج حالات کچھ اِس

پاگل

’’ اٹینشن ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ دفعتاً لالچوک میں آواز گونجی اور شہزاد اپنے خاص انداز میں چھڑی ہوا میں لہراتے ہوئے نمودار ہوا ۔بازار کے سیٹھ اور ان کے دکانوں میں کام کرنے والے مزدور حیران ہو کر سڑک کی طرف دیکھتے ہوئے آپس میں باتیں کرنے لگے ۔کچھ سیٹھوں نے اپنے نوکروں کو ہدایات دیں کہ کہیں یہ پاگل ان کی دکان کی طرٖٖ ف نہ بڑھے۔بازار کے اکثر دکاندار اس کو اپنی دکانوں پر چڑھنے سے سختی سے روکتے تھے حالانکہ وہ کبھی کسی سے ایک پیس کا بھی تقاضا نہیں کرتا تھا ۔ ان کا یہ رویہ دیکھ کر شہزاد بھی اب خال خال ہی کسی دکان کا رخ کرتا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ لالچوک کو آج نئی نویلی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ، یہاں خوب گہما گہمی تھی کیوں کہ آج یہاں کسی سیاسی پارٹی کا جلسہ منعقد ہونے والا تھا اور اتفاق سے شہزاد بھی آج ایک لمبے وقفے کے بعد اچانک یہاں نمودار ہوا تھا ۔ ’’ اٹ

پروازِ تخیل

 مصنف (شاعر):وحید مسافرؔ صفحات:120  ناشر:توحید پبلیی کیشن،سرینگر      زیر تبصرہ کتاب ’’پرواز تخیل‘‘شعری مجموعہ ہے، جو وحید مسافرؔکی تخلیقی بصیرت کا عکاس ہے۔وحید مسافرؔکا120صفحات پر مشتمل   شعری مجموعہ کاپہلا عنوان’’ انتساب‘‘ہے جو انھوں نے اپنے مرحوم والد اور  اپنی والدہ کے نام لکھا ہے۔اس کے بعدکتاب کی تقریظ ریاست کے مشہور شاعر جناب رفیق راز ؔنے لکھی ہے ۔ حرف چند میں شاعر نے اپنے اہل خانہ کے علاوہ ان تمام ساتھوں اور دوستوںکا شکریہ ادا کیاہے جنہوں نے یہ کتاب پایہ تکمیل تک پہنچانے میں شاعرکی قدم قدم پر معاونت کی ہے۔شعری مجموعہ نعتیہ کلام کے علاوہ غزلوں پر مشتمل ہے۔ شاعر نے مجموعہ کی ابتدا ئ دعائیہ اشعار سے کی ہے۔؎ سلیقہ عطا کر دعا مانگنے کا الہی مسافرؔ کو درد  جگر دے آج ہم جس پر آ

اولاد کی تمنّا

 انور خان کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو تنہا ایک الگ علاحدہ کمرے میںچار پائی پر لیٹے ہوئے پایا۔ اس کے جسم کا انگ انگ ٹوٹ رہا تھا۔ سانسیں لینے میں گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی اور اس کی پسلی کے قریب درد کی شدید ٹیس اٹھ رہی تھی جو اُسے کسی پل چین نہیں دے رہی تھی۔ وہ کراہنے لگا۔ اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کے پیٹ پر آرا چلادیا ہو۔ کچھ دیر تک اضطراب کے عالم میں رہنے کے بعد جب اس کے اوسان بحال ہونے لگے تو اس نے اِدھر اُدھر نگاہیں دوڑائیں اور جب کوئی شناسا ساچہرہ نظر نہ آیا تو اسکے دل کو ایک جھٹکا سا لگا۔ چہرے پر ایک رنگ آتا اور جاتا رہا اور وہ غم زدہ ہو کر چھت کی جانب تکتا رہ گیا۔ دفعتاً اس کا دھیان پاس کھڑی ایک دبلی پتلی سی خاتون کی طرف گیا۔ اُسے سفید ا پرن میں دیکھ کر وہ ایک ہی نظر میں پہچان گیا کہ نرس ہے ۔ اس نے مایوس ہو کر دکھ بھرے لہجہ میں پوچھا ۔  &r

ادھوری زندگی

 دن کی روشنی رات کے اندھیرے میں ڈھل چکی تھی،شور و غل اب مکمل سکوت میں بدل چکا تھا۔طارق اپنے نیم روشن کمرے میں بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔بیڈ پر اُس کی دائیں جانب اُس کا چھ سالہ بیٹا فرقان لیٹا تھا، جو اب گہری نیند کی آغوش میں چلا گیا تھا۔اُس کے ہاتھ میں شراب کی ایک بڑی بوتل تھی۔کمرے کی چھت کو گھورتے ہوئے وہ مسلسل شراب کے گھونٹ پی رہا تھا۔شائد وہ وقت کے دئے ہوئے زخموں سے پر شراب کا مرہم لگا رہا تھا۔اُس نے غنودگی کے عالم میں چھت سے نظریں ہٹا کر اپنے بیٹے کی جانب دیکھا،جو اب گہری نیند میں جاچکا تھا۔اُس نے بیٹے کے رخساروں پر نرمی سے اپنا ہاتھ پھیرا،ایک بار پھر فرقان کی کئی گھنٹے پہلے کہی بات اُس کے ذہن میں گونجنے لگی۔ طارق جب دفتر سے لوٹا تھا تو اُس کا چھ سالہ بیٹا فرقان الماری سے اُس کی ڈائری لے آیا اور اُس پر انگریزی میں لکھی ایک مختصر عبارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اپنے والد

میں تنہارہ نہیں سکتی

   شاہد اب تین سال کاہوچکا تھا ، مگراُسکی ماں پروین اُس سے دودھ چھڑانے میں کسی طرح کامیاب نہ ہوسکی تھی۔ اُس نے لاکھ کوشش کی کہ شاہد اُس کادودھ پینا چھوڑ دے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ محنت مزدوری کرسکے جوکہ اُس کاروزمرہ کامعمول تھا۔ پروین نے اپنی چھاتیوں پرکونین کی ٹکیاں پیس کرلگائیں۔کبھی ہینگ گھول کر لگایا اورکبھی گوند اور کبھی کالا اون چپکاتی مگرشاہد کادودہ نہیں چھوٹا ۔ کبھی کبھاروہ اپنے بیٹے سے مخاطب ہوکر کہتی .................. ’’بیٹاشاہد!!! اب تو۔توماشاء اللہ تین سال کاہوچکا ہے ۔خداکے لئے اب تومیری خلاصی کرتین سال تک کون بچہ ماں کادودھ پیتاہے ۔ دودھ پلانے کے علاوہ بھی تومجھے اورکام ہیں ۔اگر میں ہروقت تمہیں گود میں لئے دودھ پلاتی رہوں گی تومحنت مزدوری کون کریگا............. اورمزدوری نہیں کروں گی توپھرکھائیں گے کیا؟؟‘‘ ایک شام جب پروین کام پرسے

بوڑھا چنار

اُس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور تھر تھر کانپنے لگا۔ اُس پر وحشت طاری ہوئی۔ کیونکہ اُس کے سامنے کھڑا چنار کا درخت ناچ رہا تھا۔ جھوم رہاتھا۔ ٹہنیاں اورپتے جیسے مستی کے عالم میں تھے۔ وہ سمجھا بھونچال آگیا لیکن اردگرد دوسرے درخت ساکت کھڑے تھے۔ زمین بھی ہل نہیں رہی تھی۔ صرف چنار کی طرف سے شی شی کی آواز آرہی تھیں۔کوئی طوفان نہیں، زلزلہ نہیں تو پھر چنار کی یہ کیا حالت ہوگئی۔ ابھی وہ اسی محمضے میں تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے چنار سرتاپا روشن ہوا۔ پتے ایسے روشن ہوئے جیسے پتے نہیں بجلی کے قمقمے ہوں۔ چنار پر بیٹھے پروندوں اور رینگ رہے کیڑے مکوڑوں کی چہچہاہٹ سرسراہٹ سے جیسے ساز جھنجنا اٹھے اور فضائ پُر سوز ہوئی۔ سرگوشیوں اور قہقوں کی آوازیں آنے لگی۔ وہ پیسنے میں شرابور ہوا۔ ’’کوئی بھوت پریت، جن یا پری ہے جو مجھے اپنی گرفت میں لینا چاہتی ہے‘‘ وہ اپنے  آپ سے بڑبڑایا ۔

فیشن

ٹرن ٹرن ٹرن ٹرن۔ مولانا ساجد صاحب کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ مولانا نے اپنا موبائل اٹھایا تو دیکھا کہ واٹس اپ کال ہے۔ انہوں نے اپنے انگوٹھے سے اس کے گرین بٹن کو پش کیا اور بولے۔ السلام علیکم جی حضرت وعلیکم السلام۔میں محمد اکرم عرض کررہا ہوں سعودی عرب مکہ مکرمہ سے۔ جی جی! جانتا ہوں۔ آپ کا نام میرے موبائل میں سیو ہے۔مولانا ساجد نے کہا۔ کیسے ہیں آپ؟ امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ محمد اکرم نے پوچھا۔  الحمد للہ میں بخیر ہوں۔ آپ کیسے ہیں؟ مولانا ساجد نے جواباً پوچھا اور کہا اچھاہوا آپ نے فون کرلیا۔ آپ سے بات کرنے کی طبیعت چاہ رہی تھی۔ الحمدللہ ، اللہ کا شکر واحسان ہے۔ میں بھی بعافیت ہوں۔میں بھی کافی دنوں سے آپ سے بات کرنا چاہتا تھا مگر فرصت نہیں مل پارہی تھی۔ محمد اکرم نے کہا فرصت نہیں مل پارہی تھی؟ مولانا ساجد نے تعجب سے پوچھا۔ اور فرمایا۔ میں تو جب بھی فیس بک کھولتا ہ

جنت نشین

   میری نیم کُھلی آنکھوں پر اچانک سینکڑوں سیاہ پردے یوں گرے اور اُٹھے کہ پلک جھپکتے ہی سبھی منظر بدل گئے۔ کوئی عالمِ الغیب تھا جو یکلخت کہیں سے نمودار ہوگیا۔ اب میرے روبرو عجیب و غریب مگر نہایت ہی دلکش بازار جلوہ گر تھا۔ اس اَن دیکھے اور انوکھے مقام کا سماں بیحد خوشگوار تھا۔ یہاں آسمان مانو زمین کے کانوں میں سرگوشیاں کررہا تھا۔ چاند ستارے یوں کہ ہاتھ بڑھایا اور پکڑ لئے۔ یہاں ستارے چاندنی برسا رہے تھے اور چاند ٹھنڈی دھوپ۔ یہ سمجھ پانا دشوار تھا کہ یہ وقت صبح، دوپہر، شام یا رات کا ہے کیونکہ اس بازار کا گوشہ گوشہ طلسمی نُور سے منور تھا۔ دراصل یوں محسوس ہورہا تھا گویا اس جادوئی مقام پر وقت گذرتا ہی نہیں ہوگا۔ موسم بدلتا ہی نہیںہوگا۔ جیسے صدیوں سے سب کچھ اسی طور ٹھہرا ہوا سا ہے۔ دور دور جہاںتک بھی نگاہ جارہی تھی وہاں کشادہ و انتہائی خوبصورت بازار پھیلا ہوا تھا۔ ہر سو رون

حئی علی الفلاح

میجر نیاز علی باتھ روم سے نہا کر تازہ دم ہو کر نکلا توکمرے میں پھیلی خوشبو سے اس کے مُنہ میں پانی بھر گیا،کیوں کہ ٹیبل پر بھنے تلے گوشت سے بھری پلیٹیںاور اس کی من پسند ولائیتی شراب کی بوتل اس کے منتظر تھے۔وہ من ہی من میں طئے کر چکا تھا دو تین پیک حلق سے اتار کر کچھ دیر آرام کر لے گا ،کیوںکہ رات بھر ریل گاڑی میں محو سفر رہنے کے سبب اسے شدید تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔  ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے وہ جونہی نائو نوش کی غرض سے صوفے پر بیٹھ کر بوتل کا ڈھکن کھولنے لگا تو نزدیکی مسجد شریف سے موذن نے اللہ اکبر کی منادی کردی، جسے سنتے ہی وہ رک گیا، اس کے ذہن نے نہ جانے کون سی کروٹ لی کہ چہرے پر اچانک فکر وپریشانی کے آثارنمایاں ہونے لگے۔حالانکہ نماز روزہ تو دور کی بات رنگین مزاج میجر کو مسجد کا دروازہ تک معلوم نہیں تھا۔اس کے مسلمان ہونے کے لئے صرف اتنا کافی تھا کہ اس نے ایک مسلمان گھرانے

زندگی

 کُتا بھونکا اور زندگی بدک گئی…… زندگی اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اُس نے اپنے کھلونے اپنے ارد گرد پھیلا کے رکھے تھے۔ کھلونے وہیں چھوڑ کر وہ بھاگ کھڑی ہوئی۔ کُتا اب لگاتار بھونکنے لگا۔ یہ بھونک روز مرہ کی بھونک سے کچھ ہٹ کر تھی۔ اس میں فکر، خوف اور غصہ شامل تھا۔ خوف زدہ زندگی نے سب کی طرف ایک نظر دوڑائی، تھوڑی دیر رُکی، سوچا اور پھر لپک کر باپ کی گود میں بیٹھ گئی۔ ایسا اکثر تب ہوتا ہے جب کسی جنگلی جانور کی بُوپا کر بستی کے کُتے بھونکنے لگتے ہیں۔ یہ جنگلی جانور خوراک کی تلاش میں انسانوں کی بستی کا رُخ مجبوری میں ہی کرتے ہیں۔ کُتے جہاں خود چوکنا ہوجاتے ہیں وہیں بستی کے لوگوں، یعنی اپنے مالکوں، کو بھی خبردار کردیتے ہیں۔ اُس وقت اُن پر خطرہ بھی منڈلاتا رہاہے۔ کبھی کبھی اُن کی جان بھی چلی جاتی ہے لیکن اپنے فرض سے منہ نہیں موڑتے۔ وفاداری کی نظیر ہیں یہ کُتے۔

بدلائو

  یہ جون کی تپتی دوپہر تھی۔سورج اپنے جوبن پر تھا۔اصغر کا حلق جیسے سوکھ گیا تھا۔بھوک سے اس کی ہمت جواب دے رہی تھی۔ایسے میں اصغر کو یاد آیا کہ فریج میں کولڈڈرنک اور کچھ کھانے کی چیزیں موجود ہیں۔آج تو میرا روزہ ہے وہ بھی پہلا۔نہیں نہیں۔۔۔میں ایسا نہیں کرسکتا۔ہاں تو کیا ہوا ویسے بھی یہاں کون دیکھ رہا ہے ؟لفظ ہونٹوں پرکا نپنے لگے تھے۔۔۔۔ہاں۔۔ہاں۔۔۔نہیں۔۔۔اللہ کی نگاہ ہر ایک پر ہوتی ہے۔دادی اپنے کمرے میںنماز پڑھ رہی ہے ۔امی اور با با ویسے گھر پر نہیں ہیں۔ارم ابھی بہت چھوٹی ہے اس کو کیا پتا ۔۔۔ اپنی چھوٹی بہن کا خیال آتے ہی اصغرسوچ میں پڑ گیا۔ارم کو کیا پتا روزہ کیا ہوتا ہے۔اب اصغرکے دل ودماغ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑرہے تھے۔فریج میں قسم قسم کے کھانے اور لذیذمیوے صاف نظر آرہے تھے۔یہ لذیذ میوے سوکھے حلق کو سیراب کر سکتے تھے۔آخر اللہ کی ناراضگی کے خوف کاخیال غالب آنے لگا تھا۔ اصغر ن

ماں کاآنچل

جاویدگھرکے باہر آنگن میں پڑی چارپائی پربس یوں ہی سستارہے تھے۔ وہ باربار اِدھرسے اُدھرکرو ٹیں بدل رہے تھے۔وہ سوناچاہتے تھے مگر ایسالگتاتھاکہ کوئی اہم خیال انہیں مسلسل ستارہاہے ۔ اس دن گھرمیں کوئی اورنہ تھا۔ صرف ہم ہی دوتھے۔ گھرکے دوسرے لوگ کسی نہ کسی کام کی وجہ سے باہرتھے۔ اس لئے گھرمیں خاموشی اورسکون کاماحول تھا۔انہوں نے لیٹے لیٹے ہی مجھ سے کہا۔ نجمہ! آج نہ جانے کیوں میرے دِل ودماغ کے دروازے پروالدہ مرحومہ کا خیال شدت سے دستک دے رہاہے ۔مجھے بارباران کی یاد آنے لگی ہے۔ان کی شفقت، محبت اورہمدردی مجھے حدسے زیادہ بے چین کررہی ہے۔ ان کے ساتھ گذاری ہوئی زندگی کی یادیں مجھے کس قدرفرحت اورسکون عطا کررہی ہیں!! ہائے وہ کیادن تھے؟ کیاسکون واطمینان تھا ان دنوں؟ کیاپیارتھا ماں کی صحبت میں اورکس قدرراحت تھی ماں کے آنچل تلے ۔ نجمہ تمہیں معلوم ہے آج مجھے ماں کی کون سی بات زیادہ یاد آرہی

معصوم

   ’’چلو ببلو اٹھو ۔۔۔۔۔۔ اٹھو اٹھو د یر ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔‘‘۔    ’’مما ۔۔۔۔۔۔ مجھے سونے دو نا پلیز ۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔    ’’نہیں بیٹا اب اٹھو بھی۔۔۔۔۔۔ مُنہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کرلو اور سکول کے لئے تیار ہوجائو‘‘۔    ماں نے کمال شفقت سے اس کے سر کے بال سہلاتے ہوئے کہا۔    ’’نہیں مما ۔۔۔۔۔۔ میں سکول نہیں جائوں گا۔۔۔۔۔۔ میں اپنے آپ کو مار ڈالونگا۔۔۔۔۔۔‘‘۔    سکول کا نام سنتے ہی وہ ایک دم جھنجھلاتے ہوئے اٹھ کر بگڑے بچے کی طرح غصے سے چیخ پڑا اور زور زور سے رونا شروع کردیا۔    ’’ اچھا بیٹا ۔۔۔۔۔۔ سکول مت جائولیکن ناشتہ تو کرلو ‘‘۔    ماں نے اس کی حالت بھانپ کر مسکراتے ہوئے نرم لہ

پروین کمار اشکؔ کی غزل اور شخصیت پر ڈاکٹریٹ

بر  ِ صغیر کے ممتاز صوفی غزل گو پروین کمار اشکؔ کی غزل کوئی اور شخصیت پر دربھنگہ یونیورسٹی (بہار) کی ایک طالبہ ناصرہ خاتون کو یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی سند تفویض کی گئی ہے۔ تقریبا ً  دو سو پچاس صفحات پر مشتمل  اِس تحقیقی مقالے میں پروین کمار اشکؔ کی غزلیہ شاعری کے امتیازی پہلوئوں کو خوب روشن کیا گیا ہے ، جس میں اشک کی صوفیانہ شخصیت کے کئی گوشے خوش ظہور ہوئے ہیں۔ دربھنگہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ اور ناصرہ خاتون کے نگران  ڈاکٹر احتشام الدین نے یہ خبر فون پر سنائی ۔  اِس خبر سے اردو ادب کے با ضمیر اور سچے پرستاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ہم سب پروین کمار اشک صاحب کو اِس ادبی فتح یابی پر ڈھیروں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔  پروین کمار اشک گذشتہ چالیس برسوں سے اپنے ممتاز صوفیانیہ غزلیہ اسلوب اور منفرد موضوعاتی پیش کاریوں کے توسط سے اردو ادب کے

البیلا تانگے والا!

   اے مجید وانی احمد نگر ’’ایک سیدھا سادھا معاملہ ہے، مائی لارڈ! تانگے والے نے نہ صرف ایک بے زبان جانور کو تانگے کی زد میں لاکر ہلاک کیا ہے بلکہ ہاتھا پائی کے دوران جانور کے مالک کو بھی زخمی کر دیا ہے۔ لہذا! قانون کی رو سے اس کیلئے جو بھی سزا مناسب ہو، اُسے ملنی چاہئے‘‘ اتنا کہہ کر سرکاری وکیل واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ یہ کچھ چالیس برس پہلے کی بات ہے کہ جب ایک روز میں کالج جانے کیلئے گھر سے باہر آیا تو تھوڑی دور جنرل روڑ پر ایک تانگے کے ارد گرد لوگوں کی ایک اچھی خاصی بھیڑ دیکھ کر میں بھی اپنی سائیکل اُسی طرف بڈھائی تاکہ دیکھوں کیا معاملہ ہے۔ وہاں دیکھا کہ ایک بطخ خون میں لت پت تانگے کے نیچے مری پڑی ہے اور گریبان سے پکڑ کر ایک عورت تانگے بان کو برُ طرح پیٹ رہی ہے۔نزدیک جاکر جو دیکھا وہ اور کوئی نہیں ہمارے محلے کی حاجی صاحب، جو علا

مشتاق مہدی کی افسانویت

مشتاق مہدی کا تعلق جنت نشاں کشمیر سے ہے ۔ نہ جانے کیوں شمالی ہندوستان کے ناقدین شمالی ہند کے علاوہ ملک کی دوسری سمتوں پر نگاہ اُٹھا کر نہیں دیکھتے ہیں ۔ دورِ حاضر میں بھی کشمیر فکشن کے میدان میں کسی ریاست سے پیچھے نہیں ہے ۔ نور شاہ ، اشرف آثاری ، بلراج بخشی ، وحشی سعید کے ساتھ ساتھ مشتاق مہدی کا نام بھی فکشن کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ وہ پچاس برسوں سے برابر لکھ رہے ہیں ۔  جب ہم مشتاق مہدی کے افسانوں کو پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی دوسرے فکشن نگاروں پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ احساس ہمیں فوراََ ہو جاتا ہے کہ مشتاق مہدی کا اندازِ بیان اپنے ہم عصروں سے جدا اہمیت کا حامل ہے ۔ وہ اپنی بات کو قوتِ اظہار کے ذریعہ اس نوع سے صفحۂ قرطاس پر مرتسم کرتے ہیں کہ ایک نئے اسلوب کی اختراع ہو تی ہے ۔ زیادہ تر ان کا اسلوب ، بیانیہ پر منحصر ہو تا ہے ۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ ہر بنی نوع کے بات کرن