تازہ ترین

میرامسیحا

دھیرے دھیرے سیڑھیاں اُ ترتے ہوئے وہ صدر دروازے کی طرف لپکی۔دروازے کا پٹ کھول کر ایک دم سے اسکے ساتھ ٹیک لگا بیٹھی ۔اتنے زیادہ ڈگ بھرنے سے اس کی سانس جو پھولنے لگی تھی، کچھ دیر تک آنکھیں موندے یونہی کھڑی رہی۔عشرتؔجسمانی طور پر بہت مضمحل ہوچکی تھی ۔اس کا گول بھرا بھرا چہرہ‘گورے بھرے بھرے ہاتھ اوربڑی بڑی آنکھیں۔وہ خوبصورتی۔۔۔۔جیسے سچ مچ آسمان سے چاند اتار کر زمین پر رکھ دیا گیا ہو۔مگراب سب کچھ داستان پارینہ ہوچکا تھا۔اب انگ انگ کی حالت بدل چکی تھی چند لمحے سستانے کے بعداس نے راستے پر دور تک نظریں دوڑائیںاور کوئی نقل و حرکت نہ دیکھ کرسوچنے لگی۔ ’’یہ راستہ اس قدر سنسان کیوں پڑا ہے دن میں جیسے الّو بولنے لگے ہیں۔یہ سب لوگ کہاں گئے ہیںاور۔۔وہ۔۔وہ کب آئے گا۔ میں نے مسیج بھیج کراس کو اطلاع تو دی تھی اور بلڈ گروپ کے بارے میں بھی بتایا تھا۔پھر اس نے اتنی دیر کیوں لگائی ک

کوا چلا ہنس کی چال

مزاج طبع تو ہم میں ہیں اور ہماری تحریریں بھی ہمارے مزاح کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔ شائد ہماری مت ماری گئی کہ ہم نے اپنی فطرت اور مزاج کے برعکس لکھنے کی ٹھان لی۔ ’’محفل افسانہ‘‘ کی چند ایک مجالس میں شرکت سے ہمیں غم و یاس ، ملنے بچھڑنے اور دل کو چُھو جانے والے موضوعات کے حامل افسانوں کی پذیرائی اور دادِ تحسین حاصل کرنے والوں پر رشک آنے لگا۔ ہماری تحریریں سُن یا پڑھ کر سامعین اور قارئین گر ہنستے نہیں تو مُسکرا ضرور دیتے ہیں لیکن واہ واہ کرنے میں از حد کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ ہم نے دادِ تحسین اور واہ واہ حاصل نہ ہونے پر ذرا دھیان دیا کہ کیونکر میرے ساتھ ایسا ہورہاہے… اور ہم اس معتبر نتیجہ پر پہنچے کی عام فہم سامعین اور قارئین کی نظر میں گھسی پِٹی اور پٹھان کے بنائے ہوئے دائرے میں رہنے والی تحریریں ہی مہذب اور سلیقہ مند ہیں، تو ہم نے بھی ٹھان لی کہ مسخرہ پن

دوگززمین

’’ انااللہ و انا الیہ راجعون۔ آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا‘‘۔  فون بند کرتے ہی جعفر کے مُنہ سے بے ساختہ نکلا ۔اس نے ایک لمبی آہ کھینچتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا توآدھی رات کا وقت تھا۔وہ شام کو ہی اسپتال سے اشفاق کی خبر گیری کرکے آیا تھا،اس سے ڈھیر ساری باتیں بھی کی تھیں۔ اشفاق کی طبعی حالت اگر چہ غیر تسلی بخش ہی تھی لیکن اسے دیکھ کر بالکل بھی گمان نہیں ہوتا تھا کہ وہ اتنی جلدی چلا جائے گا۔ اچانک اپنے یار کی موت کی خبر سن کر وہ سخت رنجیدہ ہوا۔اُسکا کا گلا خشک ہو گیا اور آنکھیں بھر آئیں ۔ اس نے پانی کے چند گھونٹ ہلک سے اُتارے اور سگریٹ سلگا کر بے چینی کی حالت میں کمرے میں ٹہلنے لگا۔اشفاق کی اُلجھنوں بھری زندگی کی تہہ در تہہ دکھ بھری داستان رفتہ رفتہ اس کے ذہن کے پردے پر فلم کی طرح چلنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ابھی بچہ ہی تھا جب اشفاق اس کے محلے میں رہنے آیا ت

ذمہ داریاں

اپنے خوبصورت گاؤں سے جب شہر آیا تو اس کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ اس کے گاؤں میں پنڈت اور مسلم صدیوں سے ایک ساتھ مل جل کر رہتے آ رہے تھے۔ وہ ایک غریب گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ خدا نےاس کو شکل و صورت کے علاوہ قابلیت اور ذہانت سے بھی نوازا تھا۔ اس نے انٹرنس کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کر کے میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے لیے داخلہ لیا۔ پورے گاؤں میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ رمیز چاچا کا بیٹا شاداب ڈاکٹر بن رہا ہے۔ گاؤں کے سارے لوگ ، مسلم و پنڈت یکجا، رمیز چاچا کے گھر مبارکباد دینے کے لیے آئے۔ رمیز چاچا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا مگر اندر ہی اندر انہیں اس بات کی فکر ہو کھائے جارہی تھی کہ اب شاداب کی پڑھائی اور رہنے کے خرچے کا انتظام کیسے ہوگا۔ بیٹے کی خاطر انہوں نے یہ بات دل میں ہی چھپا لی اور کچھ پیسوں کا انتظام کر کے شہر پہنچ گئے۔کالج میں بیٹے کا داخلہ کرنے ک

اپنا پرایا

اُسے اس بات کا پورا یقین تھا کہ موت اٹل ہے اور اس کا ایک دن معین ہے مگر قسمت کے لکھے کا کوئی کیا کرے۔ آج اچانک غم کا پہاڑ اس پر ایسے ٹوٹ پڑا تھا کہ وہ لڑھک کر نیچے آگیا اور بت بنا دیکھتا رہ گیا۔ اُسے لگا جیسے اسکی حالت اس پرندہ کی سی ہو کر رہ گئی جو دور نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں اپنے ہم سفر سے الگ ہوکر بھٹک رہا ہو اور جسکے نیچے چاروں جانب آخری دھوپ اپنے پر سمٹ رہی تھی۔ ایک انجانا سا خوف اسکے رگ و پے میں اُتر گیا امد اس کا وجود سہم گیا۔ قدم ڈگمگاتے ہی اسکے یقین میں تغیر و تبدیل سا ہوگیا۔ جس سے اسکی زندگی کی بساط الٹ کر رہ گئی اور اپنے ہی گھر میں اسے اپنا وجود اجنبی سا لگنے لگا۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ جو ہونا تھا ہوچکا۔ اماں جی کی موت نے انور حسین کو جیسے کہیں اندر سے توڑ کر رکھدیا۔ اس کے دل کی دھڑکن کو بے آواز کردیا اور چہرے کا رنگ اڑا دیا تھا۔ اب اماں جی کی تصویر کے

چٹان

جہلم بہہ رہا تھا اوراپنے ساتھ نہ جانے کہاںکہاں سے قسم قسم کی چیزیں اٹھاکر بہاکے لئے جا رہا تھا ۔ میں اس کے کنارے بیٹھ کر اس کے پانیوں میں سنگ ریزے پھینک کر اپنی اداسی کو مسرت میںبدلنا چاہتاتھا ،کیونکہ دنیا کی چکا چوند، لوگوں کے اس جنگل میں ہر کسی کی ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنے کی جلدی، گاڑیوں کی آوا جاہی کے شور،اونچے اونچے مکانات اور ان کی رنگین چھتوں کے طمطراق کے خیال نے مجھے پریشان کر رہاتھا۔میں سوچ رہا تھا کہ اس حسین دنیا میں لوگوں کو کتنے عیش اور مزے حاصل ہیں۔وہ زندگی کاہر لطف اٹھارہے ہیں۔ ان کے پاس زندگی کا ہر سکھ ا ورہر سہولت میسّرہیںاور میرے پاس اپنے آپ کو راحت  پہنچانے کاتھوڑا سا سامان  بھی میسّر نہیں ۔میں  ہر جائز اور ناجائز طریقے پر غور کر رہا تھا کہ کس طرح میں زیادہ سے زیادہ روپے پیسہ حاصل کر سکو ں اور دنیا کا ہر لطف پا سکوں ۔میںسوچ رہا تھا کہ اس دنیا کی رفتار کو

افسانہ

 مجھے یہ گھر بہت پیارا  لگا۔  ہر ایک چیز سلیقے سے رکھی ہوئی ہے۔ آ ہا فانوس !اس پر تو میری نظر ہی نہیں پڑی ۔ کتنا شاندار اور خوبصورت ہے۔  کہاں سے خرید کر لائے ہیں آپ ؟ امپوٹڈ ہوگا؟۔ اور ہاں مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ آپ کی اس لائبریری میں جہاں کئی موضوعات پرمختلف زبانوں میں لکھی گئی بے شمارکتابیں موجود ہیں وہاں ان سے کئی زیادہ ڈکشنریاں نظر آئیں ۔اس کی وجہ کیا ہے؟ اوہ  ہو  میں آپ کواپنے دوستوں کے بارے میں ضروری باتیں بتانا بھول ہی گیا۔ ہاں ۔ آیان صاحب اپنی نئی نویلی دُلہن کو اپنے خاندان کے بارے میں سب کچھ بیان کر چکے تھے لیکن دوستوں کے بارے میں غائبانہ تعارف کروانے سے رہ گیا تھا۔ ویسے میرے کئی دوست ہیں لیکن دو چار ہی ہیں جن کے ساتھ میرے قریبی مراسم ہیں۔ان میں ڈاکٹر پرنس جاوید ہیں جو پیشے سے ایک کامیاب سرجن ہیں۔ پر

شہزادہ بسمل ؔکی کالم نگاری ۔۔۔ایک جائزہ

  ہمالہ کے دامن میں ابلتے ہوئے چشموں،آبشاروں،لالہ زاروں،سر سبز وشاداب کھیتوں اورزعفران زاروںکے ہوشربا و پر کشش قدرتی منظر سے بھر پور خطہ کشمیر جسے بقول علامہ اقبالؔ اہل نظر نے ایران صغیر سے تعبیر کیا ہے اور جس کی سرحدیںہندوستان،پاکستان،روس،افغانستان اور چین کے ساتھ ملتی ہیں،عہد قدیم سے ہی علم وادب کی گہوارہ رہی ہے۔یہ سرزمین ِفطری استعداد کے اعتبار سے نہایت ہی زرخیز ہے۔اس سرزمین نے ایسے ادباء‘شعراء ،علماء وفضلاء کو جنم دیا جنہوں نے تعلیم، سائنس ،سیاست،سماجیت ،اقتصادیت اور شعر وادب جیسے علو م کی تاریخ میں اَن گنت نقوش چھوڑے ہیں۔ اس فہرست میں جناب شہزادہ بسمل ؔکا نام بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ریاست کے معاصر ادبی منظر نامے پر شہزادہ بسملؔ بحیثیت کالم نویس مشہور ومعروف ہیں۔شہزادہ بسمل ؔکا اصلی نام غلام قادر خان ہے۔ان کا تعلق سرینگر کے بر برشاہ علاقے سے ہے۔میٹرک پاس کرنے کے ب

آب حیات

نواب غیاث الدین بیگ کے پاس دولت کے انبار تو نہ تھے لیکن اب تک ان کے پاس ایک قدیم خاندانی لائبریری تھی جس میں کتابوں کے کچھ نایاب نسخے موجود تھے۔ اب وہ کسی قدر بوڑھے ہوگئے تھے اور ضعیف بھی۔ ان کا اکثر وقت لائبریری میں ہی گزرجاتا۔ اب وہ قدیم نایاب نسخوں میں ہمیشہ کچھ پانے کی جستجو میں لگے رہتے۔ نواب صاحب کے دو ہی دوست تھے۔ ایک میر علی جو ادھیڑ عمر کے خاندانی دولت مند تھے اور دولت خرچ کرنا بھی جانتے تھے۔ ان کا دوسرا دوست ایک نوجوان تھا۔ کتابوں کے مطالعہ کے شوق نے اس کو نواب غیاث الدین کے قریب کردیا تھا۔ ایک دن کا واقعہ ہے ، نواب غیاث الدین بیگ بڑے جوشیلے انداز میں لائبریری کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ڈگ بھرتے رہے اور یہ عمل بہت دیر تک جاری رہا۔ نوکر یہ سمجھنے پر مجبور ہوگئے کہ شاید ان کی مجنونانہ حرکت اپنی مرحوم بیوی کی یاد اور اس سے پیدا شدہ اضطراب کا نتیجہ ہے۔ لیکن وہ اپنے دوستوں

اُڑان

جنوری کا سرد ترین دن تھا اور صبح کے دس بج چکے تھے۔ دِلی کے بین الاقوامی ہوائی اڑے پر کافی دھند تھی۔ جسکی وجہ سے میری فلائٹ دو گھنٹے لیٹ تھی۔ میں ویٹنگ روم میں بیٹھا کتاب پڑھنے میں محو تھاکہ اچانک میں نے ایک نسوانی آواز سنی۔ "Excuse Me"یہ ایک انگیز خاتون تھی جسے دیکھ کر مجھے یوں لگا کہ شائد اُس کے گھنے بالوں میں چاند کا بسیرا ہے! اُس کے نرم ریشم جیسے سنہری بال اُس کے مغرور کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ انگیز خاتون ایک ڈیڑھ سال کی بچی کو گود میں لئے تھے۔ خدوخال سے وہ اُس کی اپنی بیٹی نہیں لگتی تھی۔ اس بچی کو دیکھ کر میں کچھ دیر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ میں نے انگیز خاتون کو بیٹھنے کے لئے کہا۔ Thank Youکہہ کر وہ میرے داہنی جانب صوفے پر بیٹھ گئی۔ "Yes! How can i Help you"ہاں! میں تمہاری کیا مدد کرسکتا ہوں؟ میں نے انگریز خاتون سے پوچھا۔ انگریز خاتون نے فوراً اپنا پ

افسانچے

  شوق مولوی صاحب نے اپنی تبلیغ میں جب ابو حنیفہؒ کایہ واقعہ سنایا کہ ابوحنیفہ ؒ عشا کے وضو پر فجر کی نماز ادا کرکے پوری رات نوافل میں گذار دیتے تھے‘‘ تو اکرم آگ بگولہ ہوگیا اور مولوی صاحب کو جھوٹا اور قصے کہانیاں گڑنے والا عالمِ سو بتایا ۔ مولوی صاحب نے بڑے صبر کے ساتھ پیار اور محبت سے اُسے سمجھایا کہ بڑی بڑی کتابوں میں یہ اور اس طرح کے سینکڑوں واقعات درج ہیں ۔یہ گڑی ہوئی کہانیاں نہیں ہیں ۔ بہرحال بات آئی اور گئی ۔ دوسرے دن وہ تقریباً آدھ گھنٹہ دیر سے دفتر پہنچا میں نے وجہ پوچھی تو کہا : ’’یار رات بھر ایک ہفتہ پہلے رلیز ہوئی تینوں فلمیں دیکھ لیں ، کیا بتائوں فلمیں ایسی تھیں کی نیند ہی غائب ہوگئی‘‘۔     سپوت  ملازم بننے کے بعد امجد نے اپنے والدین کو حج کرایا ۔ لیکن امجد کے اکثر رشتہ دار اس سے نارا

آدھاشوہر

پہلے وقتوں میں عام رواج تھا کہ شادی کی برات عشاء کے وقت باجے گاجے کے ساتھ دلہن کے گھر جاتی تھی۔پھر رات کاکھاناکھانے کے بعدتقریباً نصف شب کو سبھی براتی اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے تھے،کیونکہ اکثر رشتے اسی شہر یا قصبے میںہو تے تھے ۔پھر جب پوہ پھٹتے دلہن کی رخصتی ہوتی تھی تو دلہا کے ساتھ صرف چار پانچ یار دوست ہی ہوتے تھے۔آج کل تو بگڑے ماحول اور افراتفری کی وجہ سے رات کو ہی برات جاتی ہے اور کھانا کھانے کے بعدرات کو ہی رخصتی ہوتی ہے۔سبھی براتی پنی اپنی کاروں میں آتے ہیں اور کھانا کھا کے ہی واپس چلے جاتے ہیں۔ نصیر احمد کی شادی ہوئی تو کھانا کھانے کے بعد تقریباــــــسبھی باراتی اپنے اپنے گھروں کو جانے کی تیاری کرنے لگے اور پھر آہستہ آہستہ چلے گئے، صرف نصیر کے چند قریبی دوست رات بھر اس کو کمپنی دینے کے لیے وہاں ٹھر گئے۔ان میں ایک ڈاکٹر تھا،ایک ہیڈ ماسٹر،ایک بی ڈی  اواور ایک ریڈی م

مکافات

صبح پو پھٹتے ہی حسب معمول بستی کی عورتیں اور چھوٹی چھوٹی لڑکیاں ٹولیوں کی صورت میںہنستے مسکراتے مٹکے لے پانی بھرنے کی خاطر ناگراد باغ کی طرف گئیں تو خلاف توقع باغ کا پھاٹک نہ صرف مقفل تھا بلکہ وہاں کچھ چوکیدار بھی کھڑے تھے جنہوں نے سختی سے انہیں باغ کے اندر جانے سے روکا اور مستاں خانوادے کا یہ سخت پیغام بھی پہنچایاکہ آج سے یہاں کسی کو بھی پانی بھرنے یا نہانے دھونے کی ہرگزاجازت نہیں ہوگی کیوں کہ مرحوم خواجہ روشن مستان کا پوتا خواجہ جمیل مستان بنگلے میں رہنے کے لئے قدم بہ رنجہ فرمانے والا ہیں ۔بے بس عورتوں نے چوکیداروں کی بہت منت سماجت کی۔ ان کی نظر کرم حاصل کرنے کے لئے ان کے آگے گڑ گڑائیں لیکن وہ بالکل نہ پگھلے ۔بات تو ان کی کسی حد تک معقول تھی کیوں کہ کنواں بظاہر مستان خانوادے کی ملکیتی زمین میں تھا، جہاں اب ایک ایسا شاندار بنگلہ تعمیر ہو چکا تھا جس کی پوری بستی میں کوئی نظیر نہیں تھ

عقل اور شکل

علم کی روشنی سے اندھیرا مٹ جاتا ہے۔ اور روشنی کا یہ احساس اس لئے پڑھائی کے زینے طے کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا رہا۔وہ ذہین بھی تھی اور شکیل بھی اور اس کی عقل و شکل کے چرچے ہر سو ہوتے رہتے تھے۔سہیلیوں کے ہوم ورک کا ٹینشن وہ ایسے چٹکیوں میں دور کردیتی تھی کہ ہر سبجیکٹ کی باس معلوم ہوتی تھی۔لیکن قسمت کا کھیل ہی کچھ ایسانرالا نکلا کہ اس کی ہم جماعت سہیلیاںتو کچھوے کی چال چلتے چلتے مہنگے تعلیمی اداروں میں ڈاکٹری یا دوسری ڈگریاں حاصل کرنے کے لئے چلی گئیں اور خرگوش کی رفتار سے چلنے والی کی عقل کو مفلسی نے سونے پر مجبور کر دیا۔ باپ تو پہلے ہی یتیم بنا کر چھوڑ گیا تھا اور بڑا بھائی کام کرنے کے دوران بلڈنگ سے گر کر عمر بھر کے لئے اپاہج بن گیا۔جب تک ماں کی صحت ٹھیک رہی تب تک وہ دوسرے گھروں کی صفائی ستھرائی کرکے اسے گریجویشن تک پڑھا سکی لیکن اس کے بعد اسے ایک پرائیویٹ اسکول میں جاب کرنا ہی مناس

لگاؤ

میں نے ابھی آٹو سے چاندنی بازار اترکر نیو مارکیٹ جانے والے راستے پر قدم بڑھایا ہی تھا کہ پیچھے سے کسی نے میرا آنچل کھینچ لیا۔ پلٹ کر دیکھا تو ایک چھ سات سال کی بچی تھی۔ پھٹے پرانے کپڑے، بال بکھرے ہوئے، وہ بولی ’’آنٹی صبح سے بھوکی ہوں، کھانا کھلا دو، میری ماں نے بھی کچھ نہیں کھایا ہے۔‘‘  ’’لیکن تمہاری ماں کہاں ہے۔‘‘ میں نے اطراف میں نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔ ’’وہ سڑک کی دوسری طرف بیمار پڑی ہے۔‘‘ میں نے پرس سے پچاس کا نوٹ نکال کر اسے دیتے ہوئے کہا۔اپنے اور ماں کے لئے کھانا لے لینا۔‘‘ اور میں جلدی سے آگے بڑھ گئی۔ مجھے پہلے ہی کافی دیر ہوگئی تھی۔ ٹریزر لینڈ سے بچوں کے لئے اسکول یونیفارم لینا تھا۔ گھر میں اپنے تینوں بچوں کو چھوڑکر آئی تھی۔ بڑے دونوں بھائی بہن کو کہہ دیا تھا کہ چھوٹی بہن کا خ

ادب۔۔ ۔۔۔سراغ زندگی پانے کا نام

 ادب زندگی کا اظہار ہے ادب معاشرے کے ظاہر وباطن کا آینئہ ہوتا ہے ۔جو کچھ معاشرے کے اندر ہورہا ہے ۔جو کچھ معاشرے پر گزررہی ہے ادیب کی تحریر اس کا احاطہ کرتی ہے۔نیا احساس اور نیا شعور ادب کے وسیلے سے اجنبی بن کرداخل ہوجاتاہے لیکن آہستہ آہستہ ہمارا دوست بن جاتاہے۔ادب ہی وہ واحد وسیلہ ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنی حقیقی روح دریافت کرتا ہے۔ آگے بڑھتی زندگی کے معنی دریافت کرتا ہے عہد حاضر اور آنے والے دور کے حوالے سے نیا شعور حاصل کرتا ہے۔ ادب کا کام زندگی کو آگے بڑھانا ہے۔ اور یہی ادب اور معاشرے کا گہرا بنیادی رشتہ ہے۔ اسی رشتہ سے حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور زندہ رہتا ہے ۔ اسی حوالے سے ادیب اور مملکت کا تعلق قائم رہتا ہے۔ ادیب کی آواز معاشرے کے ضمیر کی آواز بن جاتی ہے۔بقول گوپی چند نارنگ:’’زبان کی جڑیں تہذیب میں ہیں۔ادب تہذیب کا چہرہ ہے ۔اگر واقعی ادب تہ

سایہ چنار کا

چنار کالونی شہر کی سب سے بڑی اور خوبصورت کالونی تھی۔ اس کالونی کے بیچ میں میر حمزہ کی پانچ کنال زمین کا قطعہ کھالی پڑا تھا۔ زمین کے بیچوں بیچ چنار کا ایک بہت پرانا پیڑ تھا، جس نے اپنی شاخوں کو چاروں طرف اس طرح پھیلایا تھا جیسے وہ پوری کالونی کی رکھوالی پر مامور ہو۔ شاید اسی لیے اس کالونی کا نام چنار کالونی رکھا گیا تھا۔ کالونی بہت ہی خوبصورت تھی۔ کشادہ سڑکیں، سر سبز لان اور قطار میں بنے رنگ برنگے ٹین پوش مکانات۔ شور و غل سے پاک صاف ستھرا ماحول۔ اس پر چنار کا یہ بلند و بالا پیڑ کالونی کی شان میں چار چاند لگاتا تھا۔ گرمیوں کے موسم میں یہ چنار انسانوں اور پرندوں کو تپتی دھوپ سے نجات دیتا تھا۔ اس کے نیچے لکڑی کی ایک بڑی چوکی بنی ہوئی تھی جس پر شام کے وقت کالونی کے بڑے بزرگ بیٹھ کر گپ شپ مار کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے تھے۔ بہت سے پرندوں کے آشیانے بھی تھے اس چنار پر۔  کری

اُمید

 وہ میری انگلی تھامے چل رہی تھی لیکن اُسکی معصوم نظریں بدستور کھلونے والے کی اور تھیں۔ گھر میں بار بار پیسے کم ہونے کا ذکر ہونے سے شاید اُس معصوم سی بچی نے بھی سمجھ لیا تھا کہ اگر میں کھلونا مانگ لوں تو پا پا یہ کہہ کر منع کریں گے کہ جیب میں اتنے پیسے نہیں ہیں۔ معصوم سے دل پر پتھر رکھ کر وہ نظروں سے ہی اپنے ارمان پورے کرتی گئی جب تک کہ وہ کھلونے والا ہمارے نظروں سے اوجھل نہ ہوا۔ میری نظریں بے شک سڑک پر تھیں لیکن میرا پورا دھیان میری بیٹی حُرمت کی اور تھا جو صرف تین سال کی تھی۔ ہم بازار سے گھر آرہے تھے اور وہ معصوم سے انداز میں میرا ہاتھ تھامے چل رہی تھی۔ وہ لمحے میرے لئے قیامت سے کم نہ تھے۔ اتنے پیسے تو جیب میں تھے کہ میں اُسے ایک کھلونا خرید کے دے سکتا لیکن بس اس خیال نے روکا کہ اگلی بار اگر جیب میں اتنے پیسے نہ ہونگے اور حُرمت ضد کر بیٹھے تو کیا کرونگا۔ میری آنکھ بھر آئی،

پاگل

رات کے ساڑے دس بج چکے ہیں ۔بجلی کے کھمبے پر لگے سفید بلب کی تُند و تیز روشنی میں مسافروں کا ہجوم  صاف دکھائی دیتا ہے۔ویٹنگ روم کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ٹرین کی سریلی سیٹی سے اسٹیشن پر عجیب ہل چل نمودار ہوئی۔اناونسر کی میٹھی آواز کانوں میں گونجنے لگی۔ٹرین قریب پہنچ گئی۔ حسب معمول نیم برہنہ 16سالہ معصومہ، اپنے نازک میلے کچلے ہاتھوں میں پتھراُٹھا کرٹرین کی طرف ننگے پائوں زور سے دوڑی۔ پولیس والے چوکس تھے اور انہوں نے معصومہ کو ایسا کرنے سے باز رکھا ۔ معصومہ رُک گئی اپنے بائیں ہاتھ کو گندے لتھڑے بالوں میں گھسایا۔ پھر نکال کر انگلی کانوں میں ڈال دی۔ ایک پولیس والے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک طرف کردیا۔ کسی طرح اسے ٹرین نکل جانے تک مشغول رکھنا ضروری تھا۔ وہ پاگلوں کی طرح چلا ئی، جس پر کسی نے اور بچوں کی طرح شرارت کرتے ہوئے تیز سُر یلی آواز میں رُونے لگی۔۔۔۔۔۔ خاموش ہوئی۔ٹرین نے سیٹی ماری

وہ جوگی پھر آیا

حلیمہ جب چھوٹی تھی ۔ ماں کے ہر کام میں ہاتھ بٹانا اس کا معمول تھا ۔  تینوں بھائی بہن ماں کے دلارے تھے اور  ہر شام ماں کے ساتھ چپکے بیٹھے رہنے کے عادی بھی ۔ برفیلے موسم میں ماں دن بھر کے سارے کام نپٹا کر جب شام کو چرخہ کاتنا شروع کرتی تھی  تو بچوں کو اپنے پاس بٹھا کر انہیں کہانیاں سنایاکرتی تھی ۔ باہر کڑاکے کی سردی۔ اندر کمرے میں دیئے کی ٹمٹماتی روشنی ۔ اور ماں چولہے سے  دہکتے  انگارے نکال نکال کر ٹھنڈے کوئلوں کے ساتھ سماوار میں ڈالتی۔  سماوار حلیمہ کے سامنے  رکھتی جو  پھونکیں مار مار کرکوئلوں کو سرخ کر دیتی۔  سماوار میں نون چائے ابلنے لگتی ۔ کبھی کبھی شوق میں نون چائے کے بدلے قہوہ بنا لیتے ۔ حلیمہ گرما گرم قہوے کے پیالے اپنے باپ  ، ماں اور دونوں بھائی بہن کے سامنے رکھ کر اپنا پیالہ لیکرماں کے ساتھ بیٹھ جاتی ۔۔۔  ماں کہانی سناتے سنا