تازہ ترین

قلم کار

میرا نام اکرم شہباز ہے ۔ وہی شہباز جسے بر صغیر کا بڑا قلم کار مانا جاتا ہے ۔ وہی شہباز جس نے چھوٹی عمر میں ہی نام کمایا ۔ میں وہی شہباز ہوں جس سے ملنے کی لوگ تمنا کرتے ہیں ۔ اگر میں حاصل شدہ انعامات کی گنتی کروں تو شائد آپ دنگ رہ جائینگے میں دو درجن کتابوں کا مصنف ہوں ۔ جن میں تین کتابیں ایسی بھی ہیں جن کی بدولت میں کروڑ پتی بنا ۔ میں نے مضامین لکھے، افسانے لکھے اور انشائیے بھی، جو بہت مقبول ہوئے۔میں نے شعرو شاعری میں بھی کوشش کی تھی لیکن کامیاب نہیں ہو پایا ۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب میں لکھ لکھ کے اپنی ڈائری بھرا کرتا تھا ۔ ایک دن میں نے ایک مقامی اخبار کے لیے کچھ لکھنا چاہا ۔ میں چاہتا تھا کہ میرا نام بھی اخباروں میں آجائے۔ اس کے لیے میں نے ایک اچھی تحریر کا انتخاب کرنا چاہا ۔ میں نے اپنی تمام تحریریں چھان لیں ۔ اور کافی کوشش کے بعد افسانہ ’لکیر‘  منتخب کیا اور مقامی

زندگی کے رنگ

وہ بچپن سے تنہا تھی۔ ساتوں رنگت، پست قد اور موٹے موٹے خد و خال۔ البتہ آنکھیں اس کی بہت خوبصورت تھیں، جن میں دنیا بھر کی معصومیت تھی۔وہ گھر میں چار بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ اسکی تینوں بہنیں بہت خوبصورت تھیں جسکی وجہ سے وہ ہمیشہ گھر اور باہر ہر جگہ توجہ کا مرکز بنتیں تھیں۔ کبھی کبھی وہ اپنے ہی گھر میں مذاق اور طنز کا نشانہ بنتی۔ جب بھی اس کا ذکر ہوتا تو اس کی بہنیں ہمیشہ ناک چڑھا کر بولتیں کہ پتہ نہیں کس پر گئی ہے، جیسے ہمارے خاندان سے ہے ہی نہیں۔ یا ماں نے کہیں سے اٹھا کے لایا ہو۔ طنز کے تیر سہہ سہہ کر اس کے دل پر کیا بیتی تھی یہ وہی جانتی تھی۔  اس کی بہنیں اس سے نفرت نہیں کرتی تھیں لیکن اسے اپنی بہنوں سے وہ اپناپن اور پیار بھی نہ ملا جس کی وہ حقدار تھی۔ اس کی شکل و صورت کی وجہ سے اس کی ہم عمر لڑکیاں بھی اس سے دور دور ہی رہتی تھیں،جس کی وجہ سے اس کی کوئی دوست بھی نہ بن پائی۔

۔100لفظوں کی کہانیاں

پیارا کتا ٹیلی فون کی رِنگ سے ڈاکٹر وکاس جین کا گھر گونج اٹھا۔ اداس چہرا لیے ڈاکٹر صاحب نے فون ریسیو کیا تو دوسری جانب سے آواز آئی: ’’ہیلو ڈاکٹر صاحب! میں ’راشٹر ماتا رانی پدماوتی وردھ آشرم‘ سے بات کر رہا ہوں۔ اخبار میں اشتہار دیکھ کر معلوم ہوا کہ آپ کا پیارا کتا دو روز سے لاپتہ ہے۔ دراصل آپ کا کتا ہمارے آشرم آ گیا ہے۔ وہ آپ کی ’ماں‘ کے ساتھ کھانا کھاتا ہے اور سوتا ہے ۔ ان کے ساتھ دن بھر کھیلتا رہتا ہے! آپ یہاں آئیں اور اپنا ’کتا‘ واپس لے جائیں۔ شکریہ!‘‘ باباسیٹھ کا چبوترا باباسیٹھ کے چبوترے پر اکثر لوگ رات کو جمع ہوتے اور گپ شپ کیا کرتے تھے۔  کئی دنوں سے سیٹھ نے محسوس کیا کہ نعیم چاچا روز دیر رات تک خاموش بیٹھتے اور باقیوں کی باتیں سنتے رہتے۔ آج سیٹھ نے پوچھا: ’’نعیم میا