تازہ ترین

وہ جوگی پھر آیا

حلیمہ جب چھوٹی تھی ۔ ماں کے ہر کام میں ہاتھ بٹانا اس کا معمول تھا ۔  تینوں بھائی بہن ماں کے دلارے تھے اور  ہر شام ماں کے ساتھ چپکے بیٹھے رہنے کے عادی بھی ۔ برفیلے موسم میں ماں دن بھر کے سارے کام نپٹا کر جب شام کو چرخہ کاتنا شروع کرتی تھی  تو بچوں کو اپنے پاس بٹھا کر انہیں کہانیاں سنایاکرتی تھی ۔ باہر کڑاکے کی سردی۔ اندر کمرے میں دیئے کی ٹمٹماتی روشنی ۔ اور ماں چولہے سے  دہکتے  انگارے نکال نکال کر ٹھنڈے کوئلوں کے ساتھ سماوار میں ڈالتی۔  سماوار حلیمہ کے سامنے  رکھتی جو  پھونکیں مار مار کرکوئلوں کو سرخ کر دیتی۔  سماوار میں نون چائے ابلنے لگتی ۔ کبھی کبھی شوق میں نون چائے کے بدلے قہوہ بنا لیتے ۔ حلیمہ گرما گرم قہوے کے پیالے اپنے باپ  ، ماں اور دونوں بھائی بہن کے سامنے رکھ کر اپنا پیالہ لیکرماں کے ساتھ بیٹھ جاتی ۔۔۔  ماں کہانی سناتے سنا

میرے شہر کا دوکاندار

میں سرکاری یا نجی کام کے سلسلے میں اکثری اپنی وادی سے باہر جاتا رہا ہوں۔ ابھی چند سال پہلے کی ہی بات ہے کہ میں دہلی گیا تھا۔ اپنا کام مکمل کرکے سوچا کہ حسبِ عادت گھر والوں کیلئے کچھ سوغات خرید کے لے جائوں۔ چنانچہ تھری ویلر میں بیٹھ کے دلی کے معروف شاپنگ مارکیٹ کرول باغ گیا اور مختلف دکانوں سے سب گھر والوں کیلئے فرداً فرداً تحائف خریدے، جیسے کہ بچوں کے لئے کھلونے، والد صاحب کے لئے خان سوٹ کا کپڑا، چھوٹے بھائی کیلئے ریڈی میڈ شرٹس، بیوی اور والدہ کے لئے لیڈیز سوٹس کا کپڑا وغیرہ وغیرہ… کسی بھی آئیٹم کی خریداری کے لئے بس دوکان پہ چڑھنے کی دیر تھی کہ دکاندار پسند کا اندازہ کرتے ہی سامنے چیزوں کے ڈھیر لگا دیتے تھے۔ جب میں والد صاحب کے لئے خان سُوٹ کے لئے کپڑا اور لیڈیز سوٹ خریدنے کپڑے کی دوکان میں گیا اور اپنی ضرورت اور پسند کی فرمائش کی تو دوکاندار نے کپڑوں کے تھانوں کے تھان میرے

پاگل

شہبازکے پاگل پن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور وہ اپنے آپ میں گم ہوتا جارہاہے۔وہ زیادتر خلوت نشین ہی رہتا ہے ا ور اکثربڑبڑاتااور اپنے ساتھ خود کلامی میں مصروف رہتا ہے ۔اس کی مایوسی اور پریشان خیالی میںبھی دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی صحت بھی دن بہ دن بگڑ تی ہی جارہی ہے۔اس کے ہونٹوں پر ہمیشہ سجنے والی ہنسی اسے کب کے چھوڑ کر چلی گئی ہے اور جس کی جگہ ایک عجیب تھر تھراہٹ نے لے لی ہے ۔اس کی آنکھیں بھی اب آبدیدہ ہی رہتی ہیں،جن سے اس کا اندونی کرب اور بے کلی صاف جھلکتی ہے۔اس کے قریب بیٹھنے پر محسوس ہوتا ہے کہ اس کی دھڑکنیں کتنی تیز چلتی ہیں اور معمولی پتے کی حرکت سے بھی وہ دہل جاتاہے ۔وہ ذرا سی آ ٓواز سن کرچونک پڑتاہے۔ اس کا برتاو اور اس کی عادتیں بالکل بدل چکی ہیں۔یہ بدلاو ہر ایک کیلئے متعجب ہے۔یہ بدلاو ہی نہیں بلکہ اس کی غیر معمو لی شخصیت کے زوال کے ساتھ ساتھ اس خوشنما

افسانچے

بیٹی   میکے کے دروازے پر پہنچتی ہو ں تو وہ میری اُنگلی چھوڑ کر ’’ نانا جی!! ۔۔نانا جی!! ۔۔‘‘ پکار اُٹھتی ہے۔اُن کے رعب دار چہرے پر نرمی اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آجاتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ماتھے کی تمام سلوٹیں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ جلدی اُسے تھام کر گود میں اُٹھاتے ہے۔ اُس کا ماتھا چومتے ہیں، پیا ر کرتے ہیں تودل میں اِک عجب سی خوشی کا احساس جنم لیتا ہے ۔۔۔ میں خوش ہو ں کہ اُن کی سوچ بدل گئی۔۔چلو جس پیار کے لئے میں تیس برسوں سے منتظر تھی، لیکن بیٹی ہونے کی وجہ سے مجھے نہ مل سکا، آج کم از کم میری بیٹی کو تو ملا…   روکھے ہاتھ  منُو کے خیال نے بس میں سوار ہوتے ہی مجھے بیٹھے بٹھائے گھر پہنچا دیا تھا۔دل ہی دل میںاُس کے ریشمی بالوں میں اپنا ہاتھ پھیر رہا تھا، اُسے پیار کر رہا تھااوراُس کے نرم نرم مخملی ہاتھوںکو چوم رہا تھا

!سرفراز۔۔۔

اوسرفراز صاحب۔۔۔اقصٰی نے پیار سے اپنے شوہر  کے بالوں میں ہاتھ  پھیرتے ہوے ایک بار پھر پکارا۔۔۔! ہوں۔۔۔! سرفراز نے آنکھیں کھولے بنا ہی جواب دیا۔۔۔! سنیں! فجر پر اْٹھاؤں گی آپ کو۔۔۔! کتنی مرتبہ کہا ہے میں نیند سے نہیں اْٹھ پاتا۔۔۔دن بھر کی بھاگ دوڑ۔۔۔تھک جاتا ہوں میں۔۔۔آخر انسان ہوں میں۔۔۔رات سکون کے لیے ہوتی ہے اور تم۔۔۔! سرفراز کی آنکھوں کا غصہ اور ماتھے پر اْبھری شکنیں  بتا رہی تھیں کہ ابھی حلق کے گرداب میں پھنسے بہت سے الفاظ نکلنے کے لئے مچل رہے ہیں۔۔۔! سب کچھ سمجھتے ہوے بھی اقصٰی نے بات کو جاری رکھا۔۔۔! پر نماز تو فرض ہے نا۔۔۔! آپکو پتہ ہے سرفراز ہم اور ہمارا خالق روز ایک چیز نظر انداز کر دیتے ہیں۔۔۔ہم اْسکی عطاؤں کو اور وہ ہماری خطاؤں کو۔۔۔ہم ناشکرے ہیں۔۔۔پر ہمارا مالک کریم ہے۔۔۔! باطنی کائنات دعاؤں کی کائنات ہوتی  ہے

احساس

 ’’ میں نے پاپا کو دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ میں شادی صرف اور صرف عامر سے کروں گی۔ مجھ پر اُن کی کسی زور زبر دستی یا دھونس دبائو کا کوئی اثر نہیں ہُوا۔میں گھر والوں کو چکمہ دیکر اور یہ معمولی سامان لیکر تمہارے پاس آئی ہوں۔ ‘‘سلمٰی نے عامر کو اپنے فرار کا جواز پیش کرتے ہُوئے کہا۔ سلمٰی کے اس غیر متوقع قدم سے عامر شش و پنج میں پڑ گیااور جھنجھلا اُٹھا۔ اُس نے اپنے آپ کو قطعی طور اس کے لئے تیار نہیں پایا نہ ایسی بات پر کبھی غور کیا تھا۔وہ ایک درمیانی درجے کے کھاتے پیتے گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔اس کے والدین چھوٹے درجے کے ملازمین ہوتے ہوئے بھی اپنی زندگی اطمینان اور سکون سے گذارتے تھے۔ گھر میں ربط و ضبط اور اقدار کا بول بالا تھا۔ شروع شروع میں اس کا سلمٰی کے ساتھ اپنے مخصوص مضمون کے بارے میں تبادلۂ خیال ہوتا رہا۔دونوں کی قابلیت کا معیار اور اپنے م

نیا مِشن

 وہ تینوں بڑے شہر کے بڑے ریئس زادے تھے۔اپنے ملک کے سب سے بڑے میڈیکل کالج میں ایم ڈی کررہے تھے۔ان کی طبعیتوں میں ہم آہنگی اور مزاج  میں چاشنی نے انھیں ایک دوسرے کے قریب کردیا تھا۔تینوں گہرے دوست بن گئے تھے۔حیرت کی بات تو یہ تھی کہ تینوں اپنے اپنے عقیدے کے پابند تھے۔لیکن اس کے باوجود جب وہ آپس میں ملتے تو یوں معلوم ہوتا کہ جیسے وہ آپس میں سگے بھائی ہوں۔ایک کا نام دل محمد ، دوسرے کانام چمن لعل اور تیسرے کانام رنگیل سنگھ تھا۔دل محمد، دماغ کا، چمن لعل دل کا اور رنگیل سنگھ معدے کا اسپیشلسٹ بننے کی تربیت حاصل کررہاتھا۔ایک ہی ہوسٹل میں الگ الگ کمر وں میں رہتے تھے۔دن بھر وہ کلاس لیکچر اور لیبارٹریوں میں مصروف رہتے لیکن شام ہونے سے پہلے وہ تینوں ہوسٹل سے نکل کے دور تک ٹہلنے چلے جاتے۔وجودیت کے نظریئے سے لے کر نئے عالمی منظر نامے تک ان کی گفتگو ان کی دلچسپی ،معلومات اور ذہانت کو آشکا

!لہو کی پکار

پورے شہرمیں رام ناتھ کے قتل کی خبرسے تہلکہ مچ گیا ۔ہرایک حیران پریشان تھاکیونکہ یہاں ایساپہلی بار ہوا تھا ورنہ یہ شہر توہمیشہ امن کاگہوارہ رہا ہے۔ عجیب بات یہ تھی کہ لاکھ کوششوں کے باوجود قاتل کاکچھ پتہ نہ چل رہاتھا۔نہ توکوئی عینی شاہد تھا اورنہ ہی آلۂ قتل ۔یہاں تک کہ پولیس بھی بے بس نظر آرہی تھی ۔معاملے کی تحقیقات کے لئے سپیشل ٹیم تعینات کی گئی نتیجہ پھربھی کچھ نہ نکلا۔مقتول کے اہل وعیال ، رشتہ دارچونکہ اثرورسوخ والے نہ تھے اورنہ ہی روپے پیسے والے اس لئے کیس کی صحیح پیروی نہ ہوسکی۔بالآخر کیس کوٹھنڈے بستے میں ڈال کرداخل دفترکردیا۔ رام ناتھ کاساتھی رحمت اللہ اسی فیکٹری میں کام کرتاتھا۔وہ سیٹھ ایشورلال کاذاتی ڈرائیورتھا۔بڑاہی وفادار اورایماندار۔سیٹھ ایشورلال بڑے دبدے والااورمغرورشخص تھا۔اس کے ہاں روپے پیسوں کی ریل پیل تھی ۔نوکرچاکر۔گاڑیاں۔بلڈنگیں بے شمار تھیں۔ وہ بڑا متکبر تھااور

دوری

’’ ہر ایک کتنا  نزدیک ہے آج؟ یہاں بٹن دبائو وہاں بندہ  حاضر۔‘‘ میں نے بڑے فخریہ انداز میں پوچھا۔ ’’دادا ، جب آپ میری عمر کے تھے تو کتنا وقت لگتا ہوگا ایک چھوٹی سی بات کو ایک جگہ  سے دوسری جگہ پہنچانے میں۔ اتنی دور رہنا کتنا مشکل ہوتا ہوگا۔ میں تو سوچتے ہی گھبراتا  ہوں۔‘‘  میں نے مزید پوچھا۔ ’’ہائے  وقت!‘‘  دادا، سرد آہ بھر کر بولا۔ ’’کیا ہوا دادا‘‘ ’’کتنی دوری بڑھ گئی ہے؟ یوں تو ہر شخص ایک بٹن کی دوری پر ہے لیکن کہاں وہ زمانہ جب ہم  ایک دوسرے کو محسوس کیا کرتے تھے۔ وہ دوری اس نزدیکی سے ہزار درجہ اچھی تھی اور یہ دوری  اُس دوری سے ہزار درجہ بڑھ کر ہے۔‘‘ رابطہ؛نوگام  سوناواری،7006566516

توی کنارے۔۔۔

وہ آج بھی  توی کے کِنارے اُسکا انتِظار کر رہی ہے۔ مگر اُسکا انتِظار طویل سے طویل ترہوتا جا رہا ہے۔ اُنکی محبت  توی کے کِناروں پر پھلی پھولی اور پروان چڑھی ۔ تبسُم آرا ایک دِن حسب معمول توی کِنارے ٹہل رہی تھی کہ شہزاد علی کی نظر وں کی گھایٔل ہو گئ ۔ شہزاد کو  بھی یہ لڑکی بہت بھلی لگی۔نزدیک آکر اُنہوں نے علیک سلیک کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ پہچان کرلی۔ تبسُم جموں شہر کے ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی اور یونیورسٹی میں ایم۔ اے کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔شہزادعلی کشمیر کی خوبصورت وادی کا ایک ایسا گُلاب ہے جو سردیوں میں اپنے والدین کے ساتھ جموں آتا رہتا ہے۔ وہ بھی کشمیر یونیورسٹی میں اردو کے مضمون میں ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کر رہا ہے۔اُسکے والدین اچھے عہدوںپر فایٔز ہیں اور اُنکا گھر خاصا متمَوَّل گھر ہے۔ اِن دونوں کا مِلنا ایک دوسرے کے لییٔ لازم و ملزوم

زندہ لاش

اُس کربناک حادثے کے بعد اُس نے زندگی جینے کی کبھی بھی کوئی کوشش نہیں کی۔ وہ روز و شب، شام و صحر رِدائے درد اوڑھے گُم سُم رہتا تھا۔ اُس کو خموشیوں کے ساتھ اُنس تھا۔ اُس کی حرکات نرالی تھیں کبھی اچانک اُس کے منہ سے ’’ہے ربا‘‘ کی چیخ نکلتی تواُس کی آنکھوں میں آنسوئوں کے ریلے اُمڈ آتے اور کبھی زوردار قہقہے سے اُس کے پیلے دانت دکھائی دیتے تھے۔ اُس کی چلاہٹ پریشان کُن ہوتی تھی۔ اُس حادثے کو اب برابر پانچ سال بیت گئے تھے لیکن آج بھی یونس کے تن پہ وہی پرانے میلے پھٹے کپڑے ہیں، جو اُس نے تب پہن رکھے تھے جب وہ غمناک حادثہ پیش آیا تھا۔ دیکھا جائے تو یونس اُس حادثہ کو ہونی سے تعبیر کرسکتا تھا کیونکہ ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا ہے… مگر وہ ایسا نہیں کرپایا… اُس حادثہ نے یونس کو جھنجوڑ کے رکھ دیا۔ حادثہ سے قبل یونس ایک ذمہ دار پڑھا لکھا تاجر تھا۔ اُس

’’سیاہ دیوالی‘‘

 دیوالی کے مقدس تہوار کی بیحد خوشگوار و دلکش شام اپنے آخری مقام سے آگے بڑھ رہی تھی۔ اندھیرا گہرا رہا تھا۔ بچے دن بھر کے خریدے ہوئے بم پٹاخے، پُھلجھڑیاں، ہوائیاں اور چکیاں وغیرہ لیکر اپنے اپنے گھروں کی کشادہ چھتوں پر یا گلیوں چوراہوں پر پھوڑنے و آتشبازی کرنے کی غرض سے جمع ہو رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا شہر رنگ برنگی روشنیوں میں نہا کر بم پٹاخوں کے دھماکوں سے دہلنے لگا۔ جشنِ دیوالی پر لمحہ بہ لمحہ شباب آنے لگا۔ گوبند نگر محلے کی کوشلیا آنٹی کے گھر کے باہر کُھلے چوراہے پہ آس پڑوس گھروں کے بچے بھی دیوالی کی دھوم میں مشغول ہوگئے۔ کوشلیا آنٹی کی ڈیوڑھی پر کھڑی آتشبازی سے لُطف اندوز ہوتی اور بچوں کو احتیاط سے پٹاخے چلانے کی ہدایت کرتی ہوئی مقامی گرلز ہائر سکینڈری سکول کی پرنسپل سکینہ کو ثر کو ہمیشہ ہی کی طرح من ہی من شدید غصہ آرہا تھا کہ دیوالی کے مُباک موقع پر بچوں کے وا

عید

عید کی آمد آمد تھی اور لوگ باگ زور و شور سے عید کی تیاریوں میں مصروف تھے۔گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر کر صبح صبح ہی ریشما نے بھی بازار کا رخ کیا۔ اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی دروازے پر دستک ہوئی ۔عرشی، جو گھر میں اب اکیلی تھی ،نے دروازہ کھولا توباہر موجودبرقعہ پوش خاتون نے اس کو بے ساختہ گلے لگایا،کئی بار اس کا ماتھا چوما اور چاولوں سے بھرا تھیلا، جو وہ ساتھ لائی تھی، اٹھا کر عرشی کے ساتھ ہی اندر داخل ہوگئی۔ ’’ بیٹی۔۔۔۔۔۔تمہاری امی کہاں ہے؟‘‘ ’’وہ بازار گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ کون ہو؟‘‘ ’’تمہاری آنٹی ہوں نا کئی بار جو یہاں آئی ہوں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ ’’ لیکن امی کہتی ہیں کہ میری کوئی آنٹی نہیں ہے ‘‘۔ عرشی نے اس کی بات کاٹ کر معصومانہ لہجے میں کہاتو وہ ہکا بکا ہو کر رہ گئی۔ &r

ظلم

 نئی نویلی دلہن کی طرح سجی سنوری۔۔۔خوبصورت اور دل کو موہ لینے والی شکل و صورت،چھریرا بدن،جلد کی چمک۔۔۔۔حیران کن تھی۔ وہ چلا رہی تھی۔۔۔اور چلائے جا رہی تھی۔۔۔ ’’میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔۔۔‘‘ ’’میری خوبصورتی کو مسخ کرنے والو۔۔۔‘‘ میری من موہنی صورت کو داغدار بنانے والو۔۔۔‘‘ ’’میرے بدن کی خوشبو کو بدبو میں بدلنے والو۔۔۔ ’’میری چمک اور آب و تاب کو مٹانے والو۔۔۔‘‘ ’’میں تمہیں کبھی نہ بخشوں گی۔۔۔‘‘ ’’میں نے تمہیں کیا نہیں دیا۔۔۔‘‘میں نے تمہیں خوبصورتی دی‘‘ ’’میں نے تمہیں اپنی چھاتی پر چلنے کی آزادی دی۔۔۔‘‘ ’’تمہیں رہنے کے لئے گھر دیا،رہنے کی جگہ دی۔۔۔‘

افسانچے

 دہشت رات کو ٹیلی وژن پر خبروں میں دکھاے گئے خوفناک مناظر نے اسکے وجود کو جھنجھوڈ کے رکھ دیا تھا  "نہیں نہیں۔۔میرا باپ تو ایک پولیس آفیسر ہے ،بھلا مجھے کیا ڈرنا " رابعہ خود کلامی کرتے اپنے آپ کو تسلی دیکر دل و دماغ میں پیدا شدہ ڈر کو نکالنے کی سعی کر رہی تھی۔شہر بھر میں ایک عجیب قسم کی دہشت پھیلی تھی ،کچھ شرپسند لوگ عورتوں کو بے ہوشی کی دوا سنگھا کر ان کی بالوں کی چوٹیاں کاٹ دیتے تھے۔ایسے حادثات کچھ دنوں سے مسلسل رونما ہورہے تھے،رابعہ نے سر اور چہرے کو حجاب سے ڈھک لیا تھا۔ لیکن خوف اور دہشت اسکے وجود سے صاف ظاہر ہورہا تھا۔کانپتے ہاتھ بستے میں ڈال کر وہ چیزوں کو بکھیرتے ہوے ان میں چھپے موبائل فون کو اس طرح ڈھونڈنے لگی جیسے کوئی راکھ کرید رہا ہو۔کافی مشقت کے بعد اسکے ہاتھ موبائل فون لگا۔جلدی جلدی اس نے نمرا کا موبائل نمبر ٹائپ کیا،اور بڑی بے صبری سے اسکی

سامری

 دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہمالیہ پر پہلے انسانی قدم ہیلری کے پڑے تھے۔ اس مرد آہن نے دنیا کی سب سے اونچی چوٹی پر جو پہلا جھنڈا لہرایا تھا ، وہ امن کا جھنڈا تھا جس کو سفید کبوتروں کا جھنڈ چھوتے ہوئے فضائوں میں اونچی اُڑان بھرتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ اس عظیم چوٹی پر ہیلری کے ساتھی ٹین زنگ نے اپنی بانہوں کو فضائوں میں پھیلایا اور اُس کو یوں لگا کہ اُس نے اپنے اندر ساری دنیا کو جذب کرلیا۔ پون صدی پہلے شہر آسٹریامیں ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی جو دنیا کا چہرہ بدلنے والا تھا۔ اُس بچے کو اپنے آرین "Aryan"ہونے پر ناز تھا۔ خود کو تمام انسانوں سے بالاتر سمجھتا تھا۔ وہ اپنے سے بڑے بچوں پر دبدبہ بنائے رکھنے کا فن بھی جانتا تھا۔ وہ تیز اور طرار تھا۔ باتیں بنانے میں ماہر تھا۔ باتوںکے جادو میں کسی بھی عمرکے کسی بھی فرد کو شیشے میں اُتار لیتا تھا۔ اس لئے بچپن میں ہی اُس کے حل

بھرم

’’یہ تمہارا بھرم ہے، ایک لاشعوری خیال ہے! اکثر ایسا ہوتا ہے، جب کوئی انسان دولت مند بننے کے خواب دیکھنے لگتا ہے تو اُسے بار بار ایسے خیالات ستانے لگتے ہیں۔ تمہارے اندر بھی دولت مند بننے کی آرزو جاگ اُٹھی ہے اِسی لئے تمہیں اُٹھتے بیٹھے، سوتے جاگئے، کھاتے پیتے یہ خیال ستاتا ہے کہ تم ایک نہ ایک دن دولت مند بن جائو گی‘‘، ماہر نفسیات جارج ولیم نے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی مریضہ سے کہا:۔ ’’ڈاکٹر جارج… مجھے پوری اُمید ہے کہ آنے والے دنوں، مہینوں یا برسوں میں میرے نام ایک ٹیلی گرام آئے گا جس میں یہ خوشخبری ہوگی کہ میں سو ملین ڈالر کی مالکہ بن گئی ہوں… ایلیاؔ نے بڑے اطمینان سے کہا۔ ’’ہاں اِسی لئے تمہاری راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہے، کسی بھی کام میں تمہارا دل نہیں لگتا، تمہیں کسی بھی خوشی کا احساس نہیں ہوتا ہے، تم اکثر اُداس اور

بالوں کی لٹ

اس دن صبح جب سے میں نے ٹیلی ویژن پر وہ خبر دیکھی تھی تب سے میرا ذہن با ربار شبینہ کی طرف جا رہا تھا اور بالوں کی وہ لٹ ناگن بن کرمجھے ڈس رہی تھی۔میں اپنے آپ کو تسلی دیناچاہتاتھا اس لئے من ہی من میںکہہ رہا تھاکہ یہ شبینہ کے بال نہیں ہوسکتے ۔ اپنے خیالوں کو منتشر کرنا چاہتا تھا مگر خیالوں کی وہ ڈورنہ جانے کیوں مجھے شبینہ کی طرف کھینچے لے جا رہی تھی،شاہد اس لئے کہ اس کی ساری زندگی میرے سامنے گزری ہے ۔میں اسے جب بھی دیکھتا  تھاتو من ہی من میں خوش ہوتا تھا اور بار بار دیکھنے کا متمنی رہتاتھا۔اس کا گول گول گورا چہرا ،وہ تیز چمکدار کالی آنکھیں اور  دا  ہنی آنکھ میں کالا تل،جو اتنا خوبصورت تھا کہ ہر حسن پرست انسان اس کو دیکھ کر عش عش کرتا ۔ مجھے وہ لمحہ بھی یاد آرہا تھا جب میں نے سکول میں ایک دن اُس سے کہا تھا  ’’شبینہ تمہاری آنکھ کا تل کتنا خوبصورت ہے&

نور شاہ ۔۔۔فکراورفکشن

مرتنب:محمد اقبال لون ضخامت:360 صفحات  قیمت:450 روپے  ناشر:میزان پبلشرز سرینگر زیر تبصرہ کتاب ’’نور شاہ فکراو رفکشن ‘‘ریاست جموں وکشمیر کے عظیم فکشن نگار پر مرکوز ہے۔نور شاہ کے فن و شخصیت کے حوالے سے محققین ،ناقدین اور مقالہ نگاروں نے بہت کچھ لکھاہے۔محمد اقبال لون نے نور شاہ کے فکرو فکشن پر بکھرئے ہوئے مضامین کو جمع کرکے ان کو کتابی صورت بہ عنوان’’نور شاہ فکراور فکشن‘‘کا روپ دے کر منصہ شہود پر لایا۔مرتب کے پیش لفظ ،نور شاہ کا سوانحی خاکہ اور نور شاہ سے ایک گفتگو کے بارہ صفحات کے علاوہ ۲۷مضامین شامل ہیں۔کتاب میں نور شاہ کی شخصیت،حیات،ڈائری،خطوط، ڈرامہ ،نظریات،ذہنی میلان،حب الوطنی ،افسانوں اور ناولوںسمیت کئی حوالوں سے مضامین کو جمع کیا گیا ہے۔مضامین پروفیسر حامدی کشمیری، پروفیسرشکیل الرحمن،محمد یوسف ٹینگ،وید راہی،پروفیس

قاسم سجاد لمحات کے ساتھ

نام کتاب: ’’لمحات کے ساتھ‘‘ مصنف: قاسم سجادؔ سنِ اشاعت: 2017؁ء صفحات: 120 قیمت: 100/-روپے شاعر، ادیب، و صحافی قاسم سجادؔ کی کتاب’’لمحات کے ساتھ‘‘ ہمارے سامنے ہے۔ کتاب میں مصنف نے اپنی ذاتی یادوں کے ساتھ 1960؁ء سے لے کر آج تک ارضِ کشمیر پر رونماہوئے کئی اہم تاریخی واقعات کے علاوہ کچھ بھولی بِسری تلخ و شیریں یادیں بھی قلم بند کیں ہیں۔ مصنف کی عمرِ رفتہ کے دوران پیش آئے حالات و واقعات پر مبنی اس ڈائری میں جہاں قارئین کو جماعت اسلامی اور الفتح نامی تنظیموں سے انکی وابستگی اور باغی کے طور قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے نوجوان قاسم سجادؔ نظر آتا ہے وہیں اُن کے دلوں میں قصبہ اسلام آباد کے سٹیڈیم میں ہفتہ بھر بغیر قیام پذیر رہے مشہور و معروف سائیکل کرتب باز افسر خان اور صاحبان کشف و کرامات سلطان صاحب بدسگامی اور  قا