تازہ ترین

سبیل

 ’’ چل میرے گھوڑے ٹک ٹک ٹک ۔ امی  راکا کو باہر لے چلو نا ۔ مجھے اس کی سواری کرنی ہے ‘‘  چھوٹا عامر طویلے میں بندھے گھوڑے پر بیٹھا اپنی ماں سارہ سے اپنی خواہش کا اظہار کررہا تھا۔   ’’ نہیں عامر بیٹا ابھی کیسے باہر جاسکتے ہیں۔ باہر تو سارا بند پڑا ہے۔‘‘ گھوڑے کے سامنے گھاس ڈال رہی سارہ نے بڑے پیار سے عامر کو گھوڑے  کی پیٹھ سے اتارتے ہوئے کہا۔ یہ تھوڑی ہی گھاس بچی تھی جو وہ آخری بار گھوڑے کو کھلا رہی تھی۔ اس کے بعد ان کے پاس ایک تنکابھی نہیں بچا تھا جو وہ آج شام گھوڑے کو کھلا دیتیں    سرتاج کے دل میں مایوسی اور آنکھوں میں اداسیاں ڈیرہ ڈال چکی تھیں۔ وہ اپنی ماں ،اپنی بیوی سارہ اور بچوں سے آنکھیں چرارہا تھا۔ غربت کی منحوس دیوی اس کے گھر میں ڈھیرہ ڈال چکی تھی ۔ یہ اسے ڈر کر بھاگ گیا ہوتا اگر ا

یہاں اور وہاں

’’بیٹے۔۔۔اک بار میری بات مان لے، کامیاب رہے گا۔میرے چار بیٹوں میںتو سب سے زیادہ ضدی ہے۔ضدی آدمی اکثر پریشان رہتاہے۔اب کی بار یہ تمہارا تیرہواں انٹرویو ہے۔یہ رشی ، منیوںاور پیغمبروں کا زمانہ نہیں ہے بلکہ آج کل کے دور میںتو ہرچیز اور ہر معاملہ بازاری ہو گیا ہے۔تو کئی برسوںسے اپنی ذہانت،محنت، صلاحیت اورقابلیت کی بنیاد پر اپنا مقام ومرتبہ حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن ہر بار رشوت اور سفارش سے نالائق قسم کے لوگ اونچے عہدوں پہ فائز ہوجاتے ہیںلہذا اس بار میری بات مان لیــ‘‘ عادل کے ماتھے پہ اپنے باپ قمرالدین کی باتیں سن کرشکنیں سی ابھرآئیں۔باپ کے ادب واحترام کا خیال رکھتے ہوئے وہ بولا  ’’پاپا۔۔۔کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔مجھے اللہ پہ کامل بھروسہ ہے کہ ایک دن ضرورمجھے میرا حق اللہ دلا دے گا کیونکہ اللہ کے ہاں د

دَردکا دریا

بُوڑھی اَماں بار بار مجھ سے وہی کہانی سنانے کا تقاضا کرتی تھی جو میں اس کو کئی بار سُنا چُکا تھا۔۔۔ اب وہ کہانی سُناتے سُناتے میں اُکتا گیا تھا۔۔۔ وہی کردار ! وہی پُلاٹ! وہی الفاظ! وہی کہانی! وہی افسانویت! وہی دَرد۔۔۔! ’I Should not repeat my self‘ میں نے خود سے کہا۔ بوڑھی اماں ! تمہیں اس کہانی میں کیا ملتا ہے؟ کیوں بار بار ایک ہی کہانی سُنانے کا تقاضا کرتی ہو؟ میں نے ایک دن اُس بوڑھی اماں سے پوچھا۔ ’’بیٹا! یہ کہانی میرے اندر جو ارتقاش پیدا کرتی ہے اس سے مجھے غمِ زندگی کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ میں کہانی میں سموجاتی ہوں۔ یہاں تک کہ میں خود ایک کہانی بن جاتی ہوں! کہانی ایک بوڑھی اماں کی۔۔۔! جس میں کردار مرمر کر جینا سکھا تا ہے۔۔۔جو سسِکیوں میں راہ نجات ڈھونڈتی ہے! لیکن بوڑھی اماں پھر بھی آس نہیں چھوڑتی ہے۔ وہ زندگی سے کُلیتاََ نہیں بھاگتی ہے۔

بویا ہوا پَل

لمبی سفید داڑھی ،سر پر گول سفید ٹوپی،جسم پر سبز رنگ کا خان سوٹ ، اْس کے ذہن پر چھائے ہوئے خوف میں بتدریج اضافے کا سسب بن رہے تھے ،وہ اپنے خزاں رسیدہ لبوّں پر مصنوعی مْسکراہٹ بکھیر کر بیگم ارو دو جوان بیٹیوں کو اس خوف کا احساس نہیں ہونے دیتا تھا لیکن اندر سے وہ ہمت ہار چْکا تھا اور کسی انجانے خطرے کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار کر رہا تھا __،، وہ بیگم کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا ،اور اْس گھڑی کو کوس رہا تھا جب وہ گھر سے اس منحوس سفر کے لئے نکلے تھے __ یہ بھی بیگم کی ہی ضد تھی کہ پھوپھی کو اکلوتے بھتیجے کی شادی میں نہ دیکھ کر لوگ طرح طرح کے طعنے دے کر بھائی جان کی ناک میں دم کر دیں گے __بڑی بہن ہونے کے ناطے ان کے تئیں میری بھی تو کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں ، میں انھیں کیسے فراموش کر دوں ۔ طویل تقریر سْننے کے بعد حاجی صاحب نے مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق بیگم کے آگے سرینڈر کردیا ،

علم و ادب کا بحربیکراں…پیرفیسر شاد

سسٹم سے بے زار اور گھسی پٹی روایات کو توڑنے کا عزم رکھنے والا پروفیسر غلام محمد شادؔ 6؍اگست 2017کو اس دنیا سے رخصت ہو کر اپنے ہزاروں چاہنے والے قلم کاروں اورشاعروںکو مایوس کر گیا ہے۔ موت کے بلاوے پر کسی کی کچھ نہیں چلتی۔ مزاج میں اکثر بغاوت اور تندی سے اگرچہ ان کا حلقۂ احباب ناراض نہیں ہوتا تھا لیکن اس بڑی دنیا میں راہ چلتے لوگ کسی بھی بڑے آدمی کی تندی مزاج یا کلام کی کڑواہٹ کو کیونکر پسند کرتے ہیں؟ پروفیسر شادؔ بجبہاڑہ کی اس مردم خیز بستی میں ایسے چراغ تھے جس کی روشنی سے ان کا اڑوس پڑوس ہمیشہ فیض یاب رہاہے۔ ڈگری کالج اننت ناگ میں تاریخ کے استاد ہونے کے باوجود کالج کی ہر اسٹریم کے طالب علم ان کے ارد گرد نظر آتے تھے۔ مرحوم پروفیسر شوریدہ کاشمیری کے ہم خیال و ہم سفر بھی رہے۔ ایک بار کسی صاحب نے شادؔ صاحب کی کالج طلباء میں مقبولیت کے بارے میں پوچھا جس کے جواب میں شوریدہ صاحب نے یہ کہا

افسانچے

ڈاکٹر الیاس اب بین الاقوامی شہرت کا مالک تھا۔ آج وہ ایک ہال میں سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں لیکچر دے رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا  ۔  ۔  ۔ ’’سگریٹ میں تین ہزار سے زائد زہریلے اجزاء موجود ہیں۔ سگریٹ نوشی کرنے والا خود کشی کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ پر ظلم ڈھاتا ہے ۔ ۔ ‘‘ سننے والے تالیاں بجارہے تھے۔ اُس کی تقریر کا حاضرین پر ایسا اثر ہوا کہ 99 فیصد نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا اِرادہ کرلیا۔ ہال سے باہر نکل کر وہ اپنے پرائیویٹ کمرے میں داخل ہوا۔ چپراسی نے کافی کا مگ میز پر رکھ دیا اور جانے کے لئے مُڑا ہی تھا کہ ڈاکٹر الیاس نے اُس کی طرف دیکھا اور کہا  ۔  ۔  ۔  ’’تمہارے پاس ماچس ہے‘‘  

بھول

آج وہ اٹلی میں ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات ، علاج اور پیچیدگیوں اور علاج پر لیکچر دے رہا تھا۔ مختلف ممالک سے ماہرین ِطب اُس کا لیکچر سننے آئے تھے۔پانچ برسوں میں اُس نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر ہرش وردھن اُس کا نام تھا اور اب دنیا کے سبھی ڈاکٹر اس کا نام عزت سے لیتے تھے اور اُس کی تحقیقات سے استفادہ کرتے تھے۔ آج بھی ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور وہ ہائی بلڈ پریشر کی پیچیدگیوں کے بارے میں ہر سوال کا جواب بڑی باریکی سے دے رہا تھا۔ حاضرین تالیاں بجا رہے تھے۔ اچانک ڈاکٹر ہرش وردھن چکرا گیا اور دھڑام سے فرش پر گر پڑا۔اُسے پھٹاپھٹ ہسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے جانچ کرکے دیکھا کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے اُس کے دماغ میں خون کی ایک نس پھٹ گئی تھی۔ وہ پچھلے دوبرسوں سے اپنا بلڈ پریشر چیک کروانا بھول گیا تھا۔   کل اور آج صمدمیر نے کانگڑی میں سے چمٹی سے

خوشیوں کا جنازہ

وہ پی۔ ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد نیٹ اور سیٹ کے امتحان میںبھی اول آچکی تھی۔ اس کی قابلیت اور ذہانت کے چرچے ہر سو ہورہے تھے اس پر طرہ یہ کہ وہ بہت زیادہ خوبصورت بھی تھی۔ کوئی کہتا یہ چاند جیسی ہے کوئی اسے گلاب صورت کہتا ہے۔غرض ہر ایک  اپنے اپنے انداز سے فریحا کی خوبصورتی کی تعریفیں کر تا رہتا۔ وہ یونیورسٹی میں بھی  اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکی تھی۔ وہاں منعقد ہونے والی ہرایک تقریب میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتی اور ہر بار کسی نہ کسی اعزاز سے نوازی جاتی۔رحمان صاحب کو بھی قوی امید تھی کہ اس کی بیٹی بہت جلدپروفیسر ہو جائے گی کیونکہ تعلیمی اعتبار سے فریحاؔ اوروں سے آگے تھی ۔ وہ بیشتر اوقات من ہی من میں سوچتے رہتے کہ’’میری لخت جگر اب ماشاء اللہ سیانی ہو گئی ہے ہر معاملے میں اچھے اچھے مشورے دیتی رہتی ہے او ر خداکے فضل سے اب جوان بھی ہوگئی ہے میں انشاء اللہ اس کی شادی

افسانچے

 نیا قدم  جب بھی اسکی کہانیاں اخبارات میں چھپ جاتیں تو وہ خوشی سے پھولے نہی سماتا تھا۔دس سال سے وہ رسالوں اور اخبارات کے لئے لکھ رہا تھا۔ہزاروں قارئین اسکو فون پہ مبارک بادی کے  پیغامات دیتے تو شان سے اُسکا سینہ چوڑا ہونے لگتا تھا۔اسکی کہانیاں اکثر سادہ مگر سماج کے گہرے ادراک کی عکاس ہوتی تھیں۔ لیکن اگر کبھی اسکی کہانی کے ساتھ اسکا مکمل پتہ اور اسکی تصویر پرنٹ نہیں کئے جاتے تو وہ ایڈیٹر سے بہت زیادہ ناراض ہوجاتاکیونکہ اسکو شاباشی،تعریف اور نام کمانے کا چسکہ لگ چکا تھا..وہ چاہتا تھا کہ اسکی ہر تخلیق کے ساتھ اسکا پتہ اور فون نمبر ضرور ہو، تاکہ لوگ اسکی کہانیاں پڑھ کر اسکی تعریف کریں، سماج سدھار پہ مبنی اسکی کہانیوں میں جو پیغامات ہوتے خود وہ اُن پر کبھی عمل نہیں کرتا تھا۔ ایک شام وہ آفس سے گھر آیا تو،منھ ہاتھ دھوکر پڑھنے کیلئے اخبار ہاتھ میں اٹھایا کیونکہ دن

ارسطوؔکی واپسی

جہاںسقراط ؔکے سفر کا اختتام ہوا ،وہیں سے ارسطوؔ کا سفر شروع ہوا۔سقراطؔ نے نظام حکومت اور زندگی کے بہترین اوصاف سے یورپ کو واقف کرایا ،اسی وراثت کی ارسطو ؔنے پذیرائی کی۔سقراطؔ سچائی کا علمبردار تھا۔ارسطوؔ ایک ایسا مفکر تھا، جس نے سیاست کو تنگ و تاریک گلیاروں سے نکال کر، عالمی منظرپر ایک نئی پہچان دی۔ ارسطو ؔ یونان کے بادشاہ ،سکندر کا مشیرِ خاص تھا۔ سکندرؔ کو، سکندر بنانے میں ارسطو ؔکا کلیدی رول تھا۔ رات کا نہ جانے کونسا لمحہ رہا ہوگا، جب میں ارسطوؔ کو تاریخ کے اوراق میں ڈھونڈ رہا تھا۔ میری یہ کھوج ایک ایسے دھماکے کی نذر ہوگئی جس نے ساری کائنات کا دل دہلا کے رکھ دیا ۔ہر طرف چیخوں اور آہ وبکا کا سماں برپا ہوگیا۔ یوںمحسوس ہوا کہ شاید ہم زندگی کے اختتامی سفر پر روانہ ہوگئے ۔ دھماکے کے بعد گولیوں کی برسات شروع ہوگئی فوجیوں کے جوتوں کی ٹاپوں سے تارکول کی سڑکیں چیخوں سے ابل پڑیں۔

وحشیؔ سعید کی کہانی ’’سزا کس جرم کی‘‘

عالمی انتہا پسندی کے نتیجے میں ہو رہے خون خرابے کے پس منظر میں لکھی گئی وحشی سعید کی طویل کہانی ’’سزا کس جرم کی‘‘۔ وطن سے محبت کے اظہار کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ انتہا پسندی کی نہ تو کوئی سرحد ہوتی ہے اور نہ مذہب۔ انسانی خون بہانے والے جنونی انتہا پسند کا تعلق کسی بھی ملک اور مذہب سے نہیں ہو سکتا ہے۔ انتہا پسندی کے نظریات کو گذشتہ نصف صدی کے دوران جو زبردست فروغ ملا ہے انسانیت اس سے خوفزدہ بھی ہیں اور شرمندہ بھی۔ خود کش حملوں اور بم دھماکوں کے نتیجے میں آج تک ہزاروں نہتے اور بے گناہ انسانوں کا خون بہایا جاچکا ہے۔ ان میں پھول جیسے معصوم بچے ، خواتین اور بزرگ لوگ شامل ہیں۔ بھارت میں تیزی سے فروغ پارہی انتہا پسندی لوگوں کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بابری مسجد کے انہدام نے انتہا پسندوں کے افسروں کوجِلا بخشی ہے اور ان کی سرگرمیوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔&

شکستہ شہر

 گھر سے بازار کُچھ خاص دوری پر نہیں ہے ،پھر بھی اپنے لختِ جگر کو وہاں بھیجتے وقت میں سینکڑوں بار سوچتی ہوں۔  اس کے جانے اور واپس آجانے کے درمیانی وقت میں، ہزارہا سوال من ہی من میںاُٹھتے ہیں۔ کتنا مشکل ہے اس شہر میں ماں ہونا۔     نوگام سوناواری موبائل نمبر 7006566516  

بوجھ

وہ کچن میں کھڑی پیاز کاٹ رہی تھیں ....میری آہٹ سن کر مڑی تو میں نے دیکھا....؟اس کی آنکھیں بالکل سرخ تھیں اور مسلسل آنسوں بہہ رہے تھے....میں نے ہمدردی سے پوچھا...؟رو رہی ہو امّی ....؟بھیگی آنکھوں سے ہنستے ہوئے بولی....! نہیں تو....!پیاز کاٹ رہی تھی....بہت کڑوا ہے...! میں نے کہا ....!امّی بابا کی یاد آ رہی ہیں نا....؟نہیں بیٹا پیاز کاٹ رہی ہوں ...اس  نے پہلے آنکھیں صاف کیں ...دو پٹہ کو ٹھیک سے اوڑھا اور باہر کی طرف چل دی.... میں نے اس کے جانے کے بعد ٹیبل پہ پڑے پیاز کی طرف دیکھا جو اَدھا کٹا ہوا تھا....باقی بچے آدھے پیاز کو میں کاٹنے لگا...اور ایک حیرت کا جھٹکا مجھے تب لگا جب پورا پیاز کٹ گیا لیکن میری آنکھوں میں جلن ہوئی اور نہ ان میں پانی بھر آیا ....!پیاز تو بالکل بھی کڑوا نہیں ہے ....! میں نے اس کے قدموں کی آہٹ سن کر مڑ کے دیکھا ....!گو امّی نے مجھے آدھا پ

اندھا

  حالات جو پچھلے کئی مہینوں سے ناسازگار چل تھے ، اب ٹھیک ہو چکے تھے،فورسز اور نوجوانوں کے درمیان تصادم آ رائیوں میں بہت سارے لوگ ہلاک اورہزاروں میں زخمی جبکہ سینکڑوں پیلٹ لگنے سے اندھے ہو چکے تھے۔پیلٹ، وہ چھرے جن سے کبھی جنگلی جانور شکار کئے جاتے تھے لیکن اب لوگوں کو قابو کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لوگ جو سہمے ہوئے تھے تھوڑی راحت محسوس کر رہے تھے۔گرمی کا موسم نہ جانے کب کشمیر چھوڑ کر چلا گیا تھا ،خزاں بھی اب جانے کی تیاری میں تھا۔ اس لئے چناروں کے پتے سرخ ہوکر گر رہے تھے۔صبح و شام ٹھنڈ کا احساس ہورہا تھا اوربزرگ خود کو ٹھنڈ سے بچانے کے لئے فرن وکانگڑی کا استعمال کر نے لگے تھے ۔زمین خشک ہو گئی تھی ،ہر طرف گرد اڑ رہی تھی۔بچے پھر سے پنڈتوں کے مکانو ں میں کھیلنے کے لئے جارہے تھے جو ہمارے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہیں اور پچھلے کئی دہائیوں سے اپنی ویرانی کے شاہد ہیں۔کچھ تو کھنڈرا

سرکاری نوکری

شفق کی سرخی دلفریب انداز میں سورج کو ودای دے رہی تھی ۔جھیل کنارے واقع رنگ برنگے پھولوں اور شگوفوں سے مزیںممتاز محل باغ ٹمٹماتی روشنیوں میں نہلا کرستارہ سحری کی کرنوں کے ڈھیر کے مانند چمک رہا تھا ۔ میں بے چینی کے عالم میں ریسٹورنٹ کی کھڑکی سے ایک نظرباغ میں موجود لوگوں کی بھیڑ ،جو ہر لمحہ بڑھتی ہی جا رہی تھی، کو دیکھ رہا تھااور ایک نظر سے رضوان کو، جو چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے اخبار پڑھ رہا تھا۔ ’’آج بڑے خوش نظر آرہے ہو‘‘۔ تنگ آکرمیں نے رضوان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کہا۔ ’’خوش۔۔۔۔۔۔ کس بات پر؟‘‘ میری بات پر وہ چونک اٹھا۔ ’’ارے یار ۔۔۔۔۔۔اتنی اچھی نوکری ملی ہے اور چھوکری ۔۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے اب جلد ہی تمہاری شادی بھی ہونے والی ہے‘‘ ۔ میں نے رضوان کو چھیڑنے کے لئے مذاق ہی مذاق میں پھبتی

افسانچے

  مہنگائی بھتہ  محلہ کی مسجد سے مغرب کی اذان ہورہی تھی۔سبھی محلہ دار تیزتیزقدموں سے نماز کے لئے جارہے تھے۔ میں ریڈیوسے بڑے دھیان سے خبریں سن رہاتھاکیونکہ مہنگائی بھتہ کی قسط کی واگذاری کااعلان متوقع تھا۔ ابھی میں ریڈیو سن ہی رہاتھاکہ بجلی چلی گئی اور اس وجہ سے ریڈیو بھی بندہوگیا ۔جلدی میں ،میں ریڈیوکاسوئچ بندکرنا بھول گیا۔ متوقع خبر کے اعلان کے انتظار میں چونکہ دیرلگی۔ اس لئے میں نے گھرپرہی نمازادا کرنے کاارادہ کیا۔نمازتوشروع کی مگردِل ودماغ بدستورمہنگائی بھتہ کی قسط میں اٹکاہوا تھا کہ کس مہینے سے قسط ملے گی۔ کتناروپیہ ملے گا۔ اس کاکیاکیا مصرف ہوگاوغیرہ وغیرہ۔  تھوڑی دیربعدبجلی آئی تو ریڈیوبھی خودہی آن ہوا۔ ادھرمیں سجدے میں چلاگیاتھا۔ اُدھرخبریں بھی ختم ہوگئی تھیں اوراب حضرت علامہ اقبال کی شاعری پرتبصرہ چل رہاتھا اور کوئی صاحب یہ شعرپڑھ رہے تھے ۔ ہو

سزا۔۔۔کس جرم کی؟

انیس سال کا سکندرزندگی کی سنجیدگیوں سے بے نیاز تھا۔یہی وجہ تھی کہ بڑی مشکلوں سے وہ میٹرک کا امتحان پاس کر سکا۔دوستوں کے ساتھ ایودھیا کی مست ہوائوں میں مدہوش رہتا تھا۔اس کے والدفرقان اس کی شرارتوں سے نالاں تھے لیکن اکلوتی اولاد ہونے کے سبب فرقان کی والدہ اس کی ہر شرارت پر اپنے بیٹے کا ہی ساتھ دیتی۔ وہ اس دن کی بات تھی جب سورج سوا نیزے پر تھا،ا یودھیا شہر اندھیرے میں ڈوب گیا۔بابری مسجد شہید ہو گئی اور رام کا ایودھیا انسانی خون سے لالہ زار ہو گیا۔یہ وہی ایودھیا تھا جہاں دشرتھ کی ایک زبان پر انکا سب سے پیارا اور سب سے لائق بیٹا بالکل بے گناہ ہوتے ہوئے بھی چودہ برس کے لئے جلا وطن ہو گیا۔ اس دن خون کا منظر دیکھ کر سکندر پر لرزہ طاری ہو گیا۔اس نے اپنے معمولی گھر میں پناہ لی۔اس کا والد سیٹھ رام اوتار کی فیکٹری میں ساڑھی چھپائی کا کام کرتا تھا اور اپنی قابلیت ، محنت اور ایمانداری کے سبب

سزا۔۔۔کس جرم کی؟

انیس سال کا سکندرزندگی کی سنجیدگیوں سے بے نیاز تھا۔یہی وجہ تھی کہ بڑی مشکلوں سے وہ میٹرک کا امتحان پاس کر سکا۔دوستوں کے ساتھ ایودھیا کی مست ہوائوں میں مدہوش رہتا تھا۔اس کے والدفرقان اس کی شرارتوں سے نالاں تھے لیکن اکلوتی اولاد ہونے کے سبب فرقان کی والدہ اس کی ہر شرارت پر اپنے بیٹے کا ہی ساتھ دیتی۔ وہ اس دن کی بات تھی جب سورج سوا نیزے پر تھا،ا یودھیا شہر اندھیرے میں ڈوب گیا۔بابری مسجد شہید ہو گئی اور رام کا ایودھیا انسانی خون سے لالہ زار ہو گیا۔یہ وہی ایودھیا تھا جہاں دشرتھ کی ایک زبان پر انکا سب سے پیارا اور سب سے لائق بیٹا بالکل بے گناہ ہوتے ہوئے بھی چودہ برس کے لئے جلا وطن ہو گیا۔ اس دن خون کا منظر دیکھ کر سکندر پر لرزہ طاری ہو گیا۔اس نے اپنے معمولی گھر میں پناہ لی۔اس کا والد سیٹھ رام اوتار کی فیکٹری میں ساڑھی چھپائی کا کام کرتا تھا اور اپنی قابلیت ، محنت اور ایمانداری کے سبب

سبق

ایک ڈر تھا جو ُاسے اُدھر جانے سے روک رہاتھا مگر ایک تڑپ بھی تھی جو اُدھر جانے کیلئے اُکسارہی تھی اور وہ اسی ڈر اورتڑپ میں کافی دیر سے کچھ الجھا ہوا تھا۔ اس تذبذب میں ایک طرف وہ اِدھر اُدھر گھوم رہاہے تو دوسری جانب اسکا ساتھی کھائی میں تڑپ رہاہے۔ اپنی طرف سے اس نے دنیا جہاںکے جتن کئے مگر اپنے ساتھی کو باہر نکالنے میں ناکام رہا۔ کھائی کی طرف نظر دوڑائی،دیکھا مظلوم ولاچار آنکھیں کب سے اس انتظار میں تھیں کہ رہائی نصیب ہو۔ اس کا دل چھلنی ہوگیا۔ زوروں کی دھاڑ مارتے ہوئے اس نے چاروں پیر زمین پرپٹخ دیئے اور لاغر سا ہوکر گر پڑا۔بہت دیر کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ کسی آدم زاد کی مدد لئے بغیر وہ اپنے ساتھی کو آزاد نہیں کراسکتا،مگر …… کیا آدم زاد اس کی مدد کرے گا؟ یہ ایسا سوال تھا کہ جسکا کوئی معقول جواب اسکے پاس نہیں تھا۔ بھلا انسان اسکی مدد کیوں کرے گا۔ وہ تو ان

افسانچے

  نکتہ نواز  نیچے کی منزل میںرہنے والے ہمارے کرائے دار غلام احمد نے اپنی آخری سانس لیتے وقت اپنی بیٹیوں کے نکاح کی ذمہ داری میرے اباجی کے سپرد کر دی تھی۔شادی کے کچھ دن قبل اباجی نے پورے گھرکی صفائی کروائی تاکہ اُن کے مہمانوں کو کسی بھی قسم کی دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اماں، اباجی اور میںایک ہی کمرے میں شیفٹ ہو گئے۔ میں دل سے اُن کے ہر اِک حکم کو تسلیم کر رہا تھا ۔میرے اباجی میرے لئے میرے اباجی ہی نہیں بلکہ میرے رفیق و شفیق اُستاد بھی تھے ۔دینی زندگی سے لے کر دُنیاوی زندگی تک میں اپناچھوٹا سے چھوٹا فیصلہ اُن سے مشورہ لے کر کرتاتھا۔صرف میں ہی نہیں محلے کے سارے لوگ اپنے مسائل لے کر اُن کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے لیکن میرے پیروں تلے سے زمین اس وقت کھسک گئی جب اماں سے سُنا کہ یہ شادی صرف مذہبی رسوم کے ساتھ ہی نہیں ہو رہی بلکہ یہاں گانا بجانا اورشور شرابا بھی ہونے و