تازہ ترین

’’دی اینڈ‘‘

موسیٰ اُس پرانی حویلی میں مُدت سے اکیلا رہتا تھا۔ شام ہوتے ہی وہ دالان پر لال ٹین کی دھیمی روشنی میں رات گئے تک شب کے سناٹے کو تکتا رہتا تھا۔ یہ اُسکا روز کا معمول تھا صبح سویرے جب سورج کی کرنیں حویلی کے در و دیوار چومنے لگتیں تھیں تو موسیٰ اپنی ڈائیری ہاتھوں میں لئے پھر دن بھر اس کی ورق گردانی کرتا تھا۔ موسیٰ زندگی سے خفا کیوں تھا!؟ موسیٰ کا اس قدر تنہائیوں میں کھوجانا اور شب کے سکوت میں ڈوبنا کس راز کا انکشاف کرتا ہے!؟ یہ جاننے کے لئے اُس رات حویلی میں چلا گیا۔ رات کے گیارہ بج چُکے تھے موسیٰ لال ٹین کی دھیمی روشنی میں کھو گیا تھا۔ مجھے اچانک اپنے روبرو دیکھ کر موسیٰ حیران ہوا اور دفعتاََ لالٹین کی لو بڑھا دی۔ مجھے کچھ کہے بغیر اُس نے اپنی ڈائیری میری طرف بڑھا دی۔ اُس کا فونٹین پین ابھی ڈائیری میں ہی تھا۔ میری نظر ڈائیری کے دسویں باب پر پڑی۔ اس باب کی عبارت اس قدر مُتاثر کن تھی کہ

سرسوں کے پھول

 گُل افروزرسوئی میں کام میں مصروف تھی کہ دفعتاً سائیرن بج اٹھنے سے اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔اس نے ڈرتے ڈرتے کھڑکی کا پٹ کھول کر باہر جھانکا تو زندگی حسب معمول رواں دواں تھی ۔لوگ باگ اپنے اپنے کھیتوں میں کام میں مشغول تھے ،خوش پوش وردیوں میں ملبوس بچے سکولوں کی جانب رواں دواں ، جب کہ بڑے میدان میں بہت سے مویشی اطمیناں سے پیٹ کی آگ بجھانے میں مصروف تھے۔چند لمحے حالات کا جائیزہ لینے کے بعد اس نے دوسری طرف کی کھڑکی کھولی جہاں سے اس گائوں بلکہ اس ملک کی آخری حدیں دکھائی دے رہی تھیں،اس طرف بھی سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا ۔حد متارکہ پر ملک کی حفاظت پر معمور فوجی چوکیاں ،جن پر ملک کے جھنڈے اونچے لہرائے ہوئے تھے ،بھی پر سکون تھیں۔باہر کانظارہ بھی کافی پر کشش تھا کیوںکہ کئی دن کی لگاتار بارشوں کے بعد آج مطلع صاف تھا ،بلند وبالا پہاڑ سورج کی روشنی میں نہائے ہوئے تھے ،اونچے اونچے درختوں کی ٹہنیا

پیرو مُرشد

عمہ کریانہ شاید ایک دہائی سے اس چھو ٹے بازار کا چھو ٹا سا دکاندار ہے،، کریانہ بیچتا ہے۔لیکن  اس کے خریدار بھی کم ہی ہیں   کیونکہ عمہ کریانہ  کے مقابلے میں دوسرے دکاندار سستے داموں پر اپنا مال بیچتے ہیں۔ اس طرح اس کی سیل بھی کم ہی ہے اور وہی گنے چنے خریدار اس سے اپنی ضرورت کی اشیاء خریدتے ہیں جنہیں معلوم ہے کہ عمہ کریانہ ملاوٹ شدہ کوئی بھی چیز اپنی دکان پر نہیں رکھتا اور بس وہی اس کے خریدار ہیں جن کا معدہ اب بھی خالص مصالحہ جات ہضم کرسکنے کی حالت میں ہیں ۔ وہ ہلدی خود پسواتا ہے اور مر چوں کی پوڈر اپنی نگرانی میں تیار کرواتا ہےاس طرح چینی اور باقی مصالحے بھی اپنے حساب سے ہی کاٹ چھانٹ کے خریدتا ہے جو اس سے بھی بڑی مشکل سے کبھی کبھی ہی ملتے ہیں اور کبھی مہینوں اس کی دکان ان اشیاء سے خالی ہی رہتی ہے۔ میں اس کا مستقل گاہک  ہی نہیں بلکہ ایک طرح سے اس کا زبردست عقیدت م

چیونٹی

  ’’مجھے دیکھ کر رُک کیوں گئے ؟۔۔۔کھلائو کھلائو۔۔۔تم جیسے ناکارہ اور نکمے نوجوانوں کی زندگیاں اِسی طرح نکل جاتی ہیں۔۔۔چیونٹیوں کو چینی کھلاتے کھلاتے ۔۔۔۔‘‘ ابا کی تندمزاجی اور بے عنوان طعنوں کا قہر یوں تو ہر دن مجھ پرپرستاتھا لیکن اس دن میں ان کے بہترین موڑ کا انتظار کرتے کرتے چیونٹیوں کو چینی کھلانے بیٹھ گیا ۔دراصل کالج کے امتحانات سر پر تھے اور اس میں شرکت کےلئے فیس جمع کرنا ضروری تھا۔لہٰذا ارادہ کر لیا تھا کہ صبح سویرے ابا کے دربار میں با ادب حاضر ہو کر اُن سے درخواست کروں گا۔شاید عرضی پر دستخط کر دے لیکن اب توابتدا ء ہی بد مز گی سے ہوچکی تھی۔اب اُن سے بات کرنا محض اپنے ہی پیروں پہ کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ویسے تو میں اُن کے کڑوے کسیلے طعنوں سے ذلیل و خوار ہونے کا عادی تھا لیکن اب افسوس صرف اِس بات کا تھا کہ بے چاری چیونٹیوں کو بھی میری وجہ سے صبح صبح

انــجــام

 ساجد کی شادی اگلے ہفتے انہی کے آبائی گاؤں میں ایک شریف اور پاکدامن عورت سے ہونے والی تھی.اس نے ایک ہفتہ پہلے ہی اپنے عزیزواقارب اور دوست احباب کو شادی میں شرکت کے لئے دعوت نامے بھیجے تھے.اطہر کا نام بھی اس دعوت نامے میں شامل تھا.اور وہ بے صبری سے ساجد کی شادی کا انتظار کر رہا تھا. اطہر ہر روز دعوت نامہ دیکھتا اور اس کا بے صبر دل اس انتظار میں تھاکہ کب شادی کی تاریخ آپہنچے اور وہ شادی کی تقریب میں شرکت کر سکے۔ایک دن اچانک اس کا دل غمگین ہوا۔ لیکن اس کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اگر دوست کی شادی پر وہ خوش ہے،تو دوسری طرف اس کا دل غمزدہ کیوں ہے ۔اس نے اپنے دل کو تسلی دی کہ کل وہ اپنے دوست کی مہندی کی تقریب میں جائے گا،جہاں اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ ہوگی اور  بہر کیف جب مہندی کی تقریب کا دن آیا تو اطہر نے نہادھوکےنئے کپڑےپہنے,عطر ملا ...............اچانک اس کے فون کی گھنٹی

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے

 اس شہر کا چوک  ۔  ۔  ۔  ! کبھی سبز ! کبھی زرد ! اب سرخ کہلاتا ہے۔ اب اس چوک میں ایک کلاک ٹاور بھی نصب کیا گیا ہے۔ جب چوک میں کلاک ٹاور نصب کیا گیا تھا ، اُس دن سے تنومند نوجوان ٹاور کے سامنے کھڑا ہوکر  ۔  ۔  ۔ ’’بڑا بننے کے لئے راستے کے بڑے پتھروں کو ہٹانا ہوگا  ۔۔ پتھروں کو ہٹانے کے لئے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کرو۔ تم لوگوں کے دل قربانی کے جذبے سے تب معمور ہوسکتے ہیں جب آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھے بن جائو گے  ۔  ۔  آئو میرے دوستو! ہم اندھوں کی طرح ایک ایسی منزل کی جانب روانہ ہوں جس کی نشاندہی کوئی بھی نہ کرسکے‘‘ اس شہر کے ارد گردجو پہاڑوں کا سلسلہ دراز تھا وہ برف سے ڈھکا رہتا تھا۔ لیکن جب کبھی ان پہاڑوں میں ہریالی ہوتی، وہاں کی ایک بلند چوٹی پر ادھیڑ عمر کا ایک شخص کھڑا ہوکر بل

عوامی نمائندے

 میں اس بڑی عمارت کے سامنے  فٹ پاتھ پر سگریٹ بیچتا ہوں جہاں عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے منصوبے بنتے ہیں اِن میں کئی لوگ مجھ سے سگریٹ اور پان بیڑی خریدتے ہیں ،اس عمارت کے اندر اور باہر برابر اور مسلسل شور شرابہ ہوتا تھا۔ ،  ہاتھ تھا پائی ، دھینگا مشتی اور کبھی کبھی مارا ماری۔ روز یہ معمول کا تماشا تھا۔ میں ان کی قسمت پر عش عش کرتا تھا ۔کہ یہ لوگ اتنی بڑی بڑی تنخواہیں صرف شور مچانے کے لئے پاتے ہیں ،ایک روز یہ سب لوگ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے باہر آئے ۔ اس روز نہ تو کوئی دھینگا مشتی ہوئی نہ ماراماری اور نہ کوئی نعرہ بازی ،،،،،میرے خوانچے پر آکر ایک دوسرے کو پان کھلانے لگے ،، سگریٹ پلانے لگے اور شام کو کہیں دعوت اڑانے کی باتیں کرنے لگے ۔ میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ آج ماجرا کیا ہے ،،،، تو وہ قہقہہ لگا کر بولے ،’ارے گھامڑ آج ہی تو ہم  نے عوام کو زبر

نشاں

معمول کے مطابق وہ آج بھی صبح سویرے نہانے کے لئے گاؤں کی ندی کی طرف نکلا۔ کاندھے پرتولہ  لٹکائے، لوٹا ایک ہاتھ میں لئے ، بْرش سے دانتوں کی صفائی کرتے خیالوں کی دنیا میں مست مگن کوئی نغمہ گنگنا رہا تھا۔ منہ میں چونکہ صابن اور برش کا مساج چل رہا تھا جسکی وجہ سے نغمے کی آواز مدھم ہو کر فقط  ' ہمم ہمم ' کی آرہی تھی۔ زید سرستی کے اسی عالم میں کب ندی کنارے پہنچا، کب اْس نے کپڑے اْتار کر پانی میں غوطے لگانے بھی شروع کئے اُسے اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں تھا۔ وہ مد مست ہوکر " اے مری زہرا جبیں، تجھے معلوم نہیں۔۔ ہہاں ہاں ہہ ہاں"  گنگنا رہا تھاکہ اچانک اُسے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے کوئی دوسرا بھی اسکے ساتھ گنگنا رہا ھو۔ یہ احساس دھیرے دھیرے بڑھنے لگا اور پھر اچانک جب اسکی نظر کنارے پر کھڑے وردی پوش پر پڑی یکدم اسکے چہرے کا رنگ اْڑ گیا۔  " یہاں خو

افسانچے

حورِ عرش حور اپنے معصوم خوابوں کی دنیا میں مست مگن تھی۔ وہ ایک صحتمند اور خوبصورت بچی تھی۔ اپنی ہمجولیوں کے ساتھ کھل کھلا کر رنگین تتلیوں کے پیچھے پیچھے دوڑنا اس کا مشغلہ تھا۔ اور اسی میں اس کا دن گزرتا تھا۔ وہ اپنے لڑکپن اور آزادی سے بھرپور لطف اندوز ہو رہی تھی۔ وہ اور اس کی ہمجولیاں بھی بالکل معصوم اور نازک تتلیاں ہی لگتی تھیں۔ انہیں کھانے پینے کا ہوش نہ رہتا تھا۔ دن بھر تھک ٹوٹ کے شام کو اُسکی ہمت جواب دیتی تھی اور امی حور کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی تھی۔ اس کے بعد اسے گود میں بٹھا کر اس کے سنہرے بالوں میں انگلیاں پھیرتی اور ساتھ میں کوئی میٹھی سی لوری گنگناتی۔ اس طرح حور نیند کی وادیوں میں کھو جاتی۔  ہر صبح امی اسے ناشتہ کروا کے اس کے سنہرے بالوں میں تیل لگا کر کنگھی کرتی۔ اس کے بعد حور اپنی سہیلیوں کے سنگ نکل پڑتی رنگین تتلیوں کو ڈھونڈنے۔ انہیں تھکانے اور تنگ کر

افسانچے

حورِ عرش حور اپنے معصوم خوابوں کی دنیا میں مست مگن تھی۔ وہ ایک صحتمند اور خوبصورت بچی تھی۔ اپنی ہمجولیوں کے ساتھ کھل کھلا کر رنگین تتلیوں کے پیچھے پیچھے دوڑنا اس کا مشغلہ تھا۔ اور اسی میں اس کا دن گزرتا تھا۔ وہ اپنے لڑکپن اور آزادی سے بھرپور لطف اندوز ہو رہی تھی۔ وہ اور اس کی ہمجولیاں بھی بالکل معصوم اور نازک تتلیاں ہی لگتی تھیں۔ انہیں کھانے پینے کا ہوش نہ رہتا تھا۔ دن بھر تھک ٹوٹ کے شام کو اُسکی ہمت جواب دیتی تھی اور امی حور کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی تھی۔ اس کے بعد اسے گود میں بٹھا کر اس کے سنہرے بالوں میں انگلیاں پھیرتی اور ساتھ میں کوئی میٹھی سی لوری گنگناتی۔ اس طرح حور نیند کی وادیوں میں کھو جاتی۔  ہر صبح امی اسے ناشتہ کروا کے اس کے سنہرے بالوں میں تیل لگا کر کنگھی کرتی۔ اس کے بعد حور اپنی سہیلیوں کے سنگ نکل پڑتی رنگین تتلیوں کو ڈھونڈنے۔ انہیں تھکانے اور تنگ کر

زخمی

وہ زور زور سے کراہ رہا تھا۔ کچھ دیر پہلے اُس کی دلخراش چیخیں دوُر دوُر تک سنائی دے رہی تھیں لیکن شاید پاس سے گُذرنے والوں پہ اسکی چیخوں اور کراہنے کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔لگتا تھا اُن کے کان سُن ہوگئے ہیں اور آنکھوں پہ پٹی بندھی ہوئی ہے۔ کسی ایک نے بھی، پُوچھنا تو دور کنار، اُس کے قریب جانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی تھی۔ اب تو اُس کا کراہنا بھی دھیما ہوتا جارہا تھا، شاید سکت کم ہوتی جارہی تھی۔ وہ رحمت نگر کے چوراہے پر سڑک کے کنارے زخمی حالت میں پڑا ہوا تھا۔ ٹانگیں بازو اور کمر بُری طرح سے زخمی تھے۔ لگتا تھا کافی دیر سے اسی زخمی حالت میں پڑا ہے، خون کافی بہہ چکا تھا ۔زخمی شخص کے گلے سے اب ٹھیک سے آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔  رحمت نگر چوک شہر کے جنوب میں بائی پاس روڈ پہ ہے۔ اور شہر کے مصُروف ترین چوراہوں میں سے ایک ہے۔ صبح کے وقت یہاں ٹریفک کا دبائو خاصا کم ہوتا ہے۔ اِکا دُکا

پھانسی

آج وہ دنوں بھائی بہن اُس جگہ کو بار بار دیکھ رہے تھے جہاں پر اُن کا ابا اس وقت کتاب سامنے رکھ کر مٹی کے پیالے میں چائے پیتا تھا۔حمیراگھر کی سب سے بڑی بیٹی اپنے اباکے پیالے کو بار بار دیکھ رہی تھی اور اب تو اُس کی آنکھیں بھی بھر آئی۔ ’’حمیرا بیٹی چلو دونوں بھائی بہن اسکول کے لئے تیار ہوجاو دیر ہورہی ہے‘‘۔ حمیرا نے مان کی آواز سنتے ہی جلدی جلدی آنسوں  پونچھ ڈالے اور اسکول جانے کے لئے تیار ہوئی۔ کمرے سے باہر نکلتے ہی وہ ابا کی لائبیریری والے کمرے میں گئی۔ آج بھی وہاں خدا حافظ کہنے کے لئے کوئی نا تھا۔ جواہرہ نے دروازے کے سامنے کھڑی  حمیرا کو اپنے سینے سے لگا کر کہا ـ’’ چل میری جان  اسکول کے لئے دیر ہورہی ہے رب نے چاہا تو ابا جلدی آجائینگے‘‘۔ حمیرا اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر سڑک پار کرنے والی ہی تھی کہ اخبار فر

افسانچے

تعفن زدہ وہ تعفن زدہ لوگ تھے۔ انہوں نے ساری بستی میں بدبو پھیلا رکھی تھی۔ وہ جہاں سے بھی گذرجاتے سارے راستے بساند سے بھر جاتے۔ بستی کے عام لوگ ان سے ناراض بھی نہیں تھے۔ وہ جیسے اس کے عادی ہوچکے تھے۔۔ ۔  ان سے کبھی کسی نے یہ تک نہیں کہا کہ تم یہاں اتنی ساری بدبو کیوں پھیلارہے ہو۔ ان کے گندے وجود سے اٹھ رہی بدبو انہیں پریشان بھی نہیں کرتی تھی بلکہ و ہ اس لئے بھی ان کے تماشا بین بنے رہتے کہ کبھی انہیں بھی موقع ملے تو و ہ بھی ان گندے لوگوں کے ساتھ گندی ندی میں دوچار ڈبکیاں لگا دیں یاکم از کم ایک دو بار ہاتھ ہی دھو لیں۔ اب اگرمسئلہ تھا تو وہ بستی کے شریف لوگوں کا تھا لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔انہیں یہ بدبو پریشاں تو کرتی رہتی لیکن بے بس ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ وہ صرف اپنی پکڑی اچھلنے سے بچنے کی فکر میں رہتے تھے۔ یہ لوگ عجیب قسم کی عقیدت رکھتے تھے۔ اپنے خداؤں ک

آخـری ســفر

روزانہ کی طرح آج بھی جب میں سبزی منڈی کے نکڑسے گزر رہا تھا تو اچانک ایک آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔مانو کوئی بہت بڑا حادثہ ہوگیا ہو۔میں نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔تو مظفر صاحب ہاتھوں میں ٹوکری لیے مجھے آواز دے رہے تھے۔میرے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے اور منہ پھیر کر ان کی طرف پلٹ ہی رہا تھا کہ ایک لڑکا موٹر سائکل پر سوار میرے قریب سے ایسے گزرا کہ میں گھبرا کر دوقدم پیچھے ہٹ گیا۔موٹر سائکل کے شور اور زنا ٹے دار آواز سے میں اتنا بدحواس ہوا کہ ہاتھوں میںجھول رہا تھیلا دور جاگرا۔ابھی میں اپنے حواس پوری طرح سے یکجا بھی نہ کرپا یا تھا کہ پھر سے مظفر صاحب کی آواز فضا میں گونج اٹھی۔ ’’نور چچا ہم نے سنا ہے کہ اب آپ ریٹا ئرڈ ہوگئے‘‘۔چلو اچھاہوگیا ۔روز روز جھنجھٹ سے چھٹی مل گئی۔مگر اب ہمارا ایک مشورہ ہے اب آپ گھر پر ہی آرام کیجئے گا۔بازار آنا جانا دوسروں کے لیے چھوڑ دیجئے گ

سہارا

درختوں کی گھنی چھائوںمیں بیٹھ کر وہ سوچتی رہتی۔ ’’کیا میں کبھی دلہن بن پائوں گی؟کیا کوئی خوبرولڑکا میرا رفیق حیات بنے گا؟‘‘  یہ سوا ل آسیہ کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔وہ ہر وقت خدشوں کی ان کالی گھٹائوں سے یہ کہہ کر اُبھرنے کی کوشش کرتی کہ ۔۔ ’’ابو تو کہتے ہیں کہ میں گلاب جیسی ہوں۔گو میں بہت خوب صورت ہوں۔خوب صورتی انمول ہوتی ہے۔ پھر بھلا میں کیوں نہ سیج پر چڑھوں گی؟‘‘ آسیہ ہر وقت اپنے دل کو تسلی دیتی رہتی مگر ۔۔۔جوں ہی وہ اپنے جسم پر نظریںدوڑاتی تو کچھ دیر کے لئے یہ کہہ کرسکتے میں آجاتی۔ ’’میں تو اپاہج ہوں ۔مجھ سے کون شادی کرے گا۔‘‘ اور آنکھوں سے آنسوں ٹپکنے لگتے۔ پھر اپنے ابو کی نصیحت آمیز باتیں یاد کرکرکے آنسوں پونچھ لیتی۔ آسیہ بھلی چنگی لڑکی تھی

اردو کی حفاظت ناگزیر اُس کی صحت بھی لازمقسط(۲)

اردو کی حفاظت، اُس کے فروغ اور اس کی اشاعت کے سلسلے میں جو سنگین کو تاہی بلکہ مجرمانہ غفلت ہم میں سے تقریباِِ ہر طبقے سے یقینی طور پر سرزد ہورہی ہے اُس کی ایک ناقابل انکار ہماری یہ ورش بھی ہے کہ جہاں ہم خود اردو کے استعمال اور اُس کو اپنانے میں مکمل طور پر مختار و مجاز ہیں۔ وہاں بھی ہم اردو سے اعراض و احتراز کی نہ ٹوٹنے والی رسی سے اپنے آپ کو باندھ کر رکھتے ہیں اس کی ایک المناک مثال ہمارے سائن بورڈ ہیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے ، تجارتی فورم، ادبی مراکز، طبّی سہولیات مہیا کرنے والے سینٹراور عام دکاندار سائن بورڈ ضرور لگاتے ہیں مگر اکثریت بلکہ تقریباََ ننانوے فیصد بورڑ اردو کے بجائے انگریزی میں ہوتے ہیں۔ اگر ہمارے بازاروں کی ہر دُکان پر ہمارے کام ، تعلیمی، طبی،تجاری مراکز اور دفاتر میں یقینا یہی محسوس ہوگا کہ اُردو رواں دواںہے۔ غرض کہ تعلیمی ادارے کے گیٹ پر اردو سائن بورڈ آویزاں ہوں تو کیا

افسانچے

گُردہ عادلؔ کی حالت پھر سے خراب ہونے لگی تھی ۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اُس کے دونوں گردے ناکام ہوچکے ہیں۔ صرف ایک سال پہلی اسکی ماں نے اُسے اپنا یک گردہ عطیہ کیا تھا مگر اب پھر سے دونوں گردے ناکام ہوچکے تھے اور اب ایک اور گردے کی ضرورت تھی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ گردہ عطیہ کون کرے۔ عادل کے پانچ بھائی تھے پر کسی نے کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے گردہ دینے سے کنی کترائی۔ بڑے بھائی نے تجویز پیش کی کہ ایک سومو گاڑی کرایہ پر لی جائے اور عادل کو اس میں بٹھاکر گاڑی کو کسی ہسپتال یا زیارت گاہ کے سامنے کھڑا کیا جائے اور لوگوں سے چندہ کی اپیل کی جائے۔تاکہ پیسے دے کر گردے کا بندوبست ہوسکے۔  ہاں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔۔۔ ایک بھائی نے کہا… عادل کی ماں، جو دور بیٹھی تھی، اچانک اپنی جگہ سے اُٹھی اور بیمار بیٹے کے نزدیک آکر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور اعتماد بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ &rsquo

برف کا پتلا

آج نم ناک آنکھوں کے ساتھ مٹھائی کا ڈبہ اور آٹھ دس چاکلیٹ پڑوس کے اس چنچل ،شرارتی اور حاضرِ جواب بچے کے ہاتھ میں دے کر آ رہا ہوں جس نے پچھلے سال تک میرا جینا حرام کر رکھا تھا۔ٍمیری چھوٹی سی دنیا میں مجھے اگر کوئی قابلِ نفرین لگتا تھا تو صرف وہی آٹھ نو سال کا بچہ تھاجس کی حرکتیں میرے لئے جی کا جنجال بن چکی تھی۔ایسا معلوم ہوتا جیسے اُسے مجھے زچ کر نے کے پیسے ملتے ہو۔  موسم گرما کی تپتی ہوئی دھوپ میں جب میںدفتر سے واپس آتا تو پنکھا چلا کر پلنگ پر کچھ دیر آرام کرنے کے لئے لیٹ جاتالیکن میری بد قسمتی کہ یہی وہ وقت ہوتا جب وہ محلے کے تمام بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا شروع کر دیتا۔ جونہی میری آنکھ لگتی تو باہر سے متواتر چیخیں ،سیٹیاں اور طرح طرح کی آواز یں سنائی دینے لگتیں جو  میرے لئے ناقابلِ برداشت ہوتا تھا لیکن مجھے چپ چاپ لہو کے گھونٹ پینے پڑتے کیوں کہ وہ میری ماں کا لاڈل

ہم نصیب

ایک بزرگ اپنا بیگ ریل گاڑی کے ڈبے میں گھسیٹ رہا تھا لیکن زرا بھاری ہونے کی وجہ سے پریشانی ہو رہی تھی۔ اسی کی عمر کا ایک اور شخص اسی ڈبے میں چڑھ رہا تھا۔ اس نے بیگ کی ایک تنی پکڑ لی اوردونوں نے مل کر بیگ کو دو سیٹوں کے درمیان رکھ دیا اور خود ان پر بیٹھ گئے۔ گاڑی میں بھیڑ بڑھ رہی تھی، اس لئے دونوں نے سیٹ مل جانے کے اطمینان کا احساس کیا۔ بیگ کھینچنے سے ہوئی تھکاوٹ کو محسوس کرتے ہوئے ایک نے دوسرے سے کہا، ’’میرے بھائی اب عمریں نہیں رہ گئیں سفر کرنے کی‘‘ ’’درُست کہہ رہے ہو‘‘ دوسرے نے جواب دیا اور آگے کہا،’’لیکن عمروں کے ساتھ یہ دُکھ اور مصیبتوں کا بوجھ ہوتا ہے جو بندے کو بوڑھا کردیتا ہیں‘‘۔  پہلے نے متفق ہو کر پوچھا، ’’ایسا کیا ہو گیا ہے میرے بھائی؟ کیا گھر میں سب خیریت ہے؟‘‘ &rs

۔۔۔ اور انسان مرچکا!

مجھے لگ رہا تھا کہ میں خود ہی اپنی لاش اپنے کندھوں پر اٹھا کر کسی اور دیس کا سفر کر رہا ہوں۔ میرے آس پاس جو اکا دکا آدمی کسی مجبوری کی وجہ سے ہی باہر نظر آرہے تھے اُن پر بھی یہی گماں ہورہا تھا کہ کب کے مر کھپ گئے ہیں۔ ابھی سات روز پہلے میرے اس گاؤں سے صرف پچاس کلو میٹر دور میرے بڑے شہر غوطہ پر بمباری ہوئی تھی اور سینکڑوں جانیں دھواں بن کر ہواؤں میں تحلیل ہوگئیں تھیں۔ میں اب یہ سمجھا تھاکہ درد جب  حد سے بڑھ جاتا ہے تو انسان بے نیاز کیسے ہوتا ہے۔ میں آگے بڑھتا گیا کہ ناگاہ میری نظر پتھر سے ٹیک لگائے ایک آدمی پر رک گئی۔ اپنی تمام وحشتوں کے باوجود مجھے اس چہرے میں شناسی کی جھلک نظر آئی اور میں فوراً ہی اپنے لاشعور کو کھنگالنے لگا۔ یہ چہرہ ،،، یہ چہرہ ، جیسے بہت دیکھا ہے اور اسی کے ساتھ میرے ذہن میں ایک بجلی سی کوندی اور میرے شعور کی سطح پر ایک چہرہ صاف اور واضح ابھر آیا۔ الجھ