تازہ ترین

پُکار

گہری سیاہ شام تاریک راہوں پہ ماتھا رگڑ رہی تھی۔ راستہ پرُتھکن تھا۔ دور دور سے پرُ اسرار مخلوق کی آوازیں میری وحشت میں اور اضافہ کر رہی تھیں کہ اچانک مغرب کی طرف دور سے مُجھے چراغ کی دھیمی روشنی دکھائی دی ’’ شاید کسی غریب کی جھونپڑی ہے۔کیوں نہ آج کی رات وہاں پر ہی کاٹ لوں اور صبح اپنے منزل کی طرف روانہ ہوجائوں‘‘ میں اسی ارادے کے ساتھ آگے بڑھا۔تقریباََ ایک آدھ میل کی مسافت طے کرنے کے بعد میں اُس جھونپڑی کے سونے آنگن میں پہنچ ہی گیا۔ میں چونکا۔ یہ غریب شکور کی جھونپڑی تھی۔ جو اپنی بہادوری کی وجہ سے اُس سارے علاقے میں پہلوان کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ سردی کی راتوں میں ٹھٹھرتی ٹھنڈ سے بچنے کے لئے اُس نے کھڑکیوں اور روشن دانوں پر پرانے اخبار لگائے تھے۔ پرُانے اخباروں کی بے ترتیب سُرخیاں کسی پرانے اُجڑے ہوئے اِطلاعاتی مرکز کی یاد تازہ کرتی تھیں۔ جھونپڑی کے اندر

مائیکروفکشن کیا ہے!

زندگی کا ارتقا ء نئے نئے تجربات میں مضمرہوتا ہے ۔ادب بھی زندگی کا ایک ایسا شعبہ ہے جو تجربات و مشاہدات کی فنی عکاسی کرتا ہے اور اس میں بھی نئے نئے تجربات سے نکھار آجاتا ہے۔اردو افسانہ بھی ارتقاء کی منزلیں طے کرتا ہوا جن نئی اصناف سے روشناس ہورہا ہے ‘ان میں فلیش فکشن ‘مائیکرو فکشن ‘نینو فکشن وغیرہ شامل ہیں۔اردو میں عام طور پر مختصر افسانہ اور افسانچہ پر ہی گفتگو ہوتی رہتی ہے، اس لئے فلیش فکشن ‘مائیکرو فکشن اور نینو فکشن وغیرہ کی مثالیں خال خال ہی نظر آتی ہیں۔دراصل مائیکرو فکشن ‘فلیش فکشن کی ایک ذیلی شاخ تصور کی جاتی ہے جوکہ ہیتی اعتبار سے ۱۰۰ سے ۳۰۰ الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے‘اگرچہ الفاظ کی تعداد میں اختلاف رائے بھی موجود ہے۔لیکن تکنیکی اور موضوعی طور پر مائیکروفکشن یا مائکروف کا دارومدار صرف الفاظ کی تعداد پر ہی منحصر نہیں ہے بلکہ اسلوب اور ہیت کے لحاظ

فارِن نوکر

بیگم صاحبہ چندایک روز سے اپنے بدلے ہوئے تیور دکھا نے کا مظاہرہ کچھ اَٹ پٹے انداز سے کر رہی ہیں۔۔۔ ہم سمجھ گئے کہ کوئی فرمائش مطلوب ہے۔۔۔! چونکہ فی الحال ہم کوئی بھی فرمائش پوری کرنے کے اہل نہ تھے اس لئے بوندھو بنے رہے۔ بیگم شایہ سمجھ گئی کہ کام نکلوانے کے لئے کوئی اور نسخہ آزمانا چاہئے، تو اب کھانے کے برتن پٹخ پٹخ کر صاف کئے جانے لگے۔ یہی نہیں جھاڑو پونچھہ کرنے کے ساتھ ساتھ زبان بھی چابک دستی سے چلنے لگی۔ اپنے گھر میں میدان جنگ کی سی صورت حال پیدا نہ ہونے دینے اور حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہم نے معاملہ فہمی سے مسئلے کو سلجھانے کی ترکیب نکالی۔ لیکن ابھی تک ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ بیگم کی فرمائش کیا ہے۔۔۔؟ اپنے دل کو مضبوط کرتے ہوئے ہم نے کہہ ہی ڈالا کہ یوں روٹھنا۔۔۔ میری جان پہ بن آئیگی۔۔۔ لیکن میرا یہ تیر خالی گیا۔ ماتھے پر بل، بھویں تنی ،ہوئی آنکھوں سے شعلے نکلتے ہوئے۔ پرک

عدالت

’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ کچھ دنوں سے میرے انگ انگ سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی ہیں ،علاج معالجہ کرنے اور بہت سی دوائیاں لینے کے بعد بھی کوئی افاقہ نہیں ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ مریض نے ادویات سے بھرا لفافہ ڈاکٹر کے سامنے رکھتے ہوئے بے بسی کے انداز میں فریاد کرتے ہوئے کہا ۔ ’’گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے ۔ یہ دوائیاں لے لیجئے کچھ دنوں میں آپ بالکل ٹھیک ہو جائینگے‘‘ ۔ ڈاکٹر نے اس کا ملاحظہ کرنے کے بعد نسخہ اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا اور دوسرے مریض کی طرف متوجہ ہوا ۔    اسی لمحہ کلنک کے سامنے نئے فیشن کی ایک کوری چما چم پر کشش گاڑی رک گئی، جسے دیکھ کر ڈاکٹر کی آنکھیں چوندھیا سی گئیں۔ اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہی جب اس نے سلیم کو گاڑی سے باہر آتے ہوئے دیکھا، جو بڑی ادا سے فلمی ہیرو کی طرح چابی انگلی میں گھماتے ہوئے کلنک کے

مکھوٹا

اولڈ ایج ہوم کے ریکریشن ہال کی دیوار پر آویزاں بڑے ایل سی ڈی پر اُس کا بَدھا چہرہ صاف دکھائی دیتا تھا۔ ہال میں بیٹھی ہوئی بہت ساری بزرگ عورتیں اُس کی تقریر ہمہ تن گوش سُن رہی تھیں، شانتی نے اپنی آنکھوں پر نظر کی عینک چڑھائی اور غور سے ایل سی ڈی کو دیکھنے لگی۔ وہ کہہ رہا تھا… ’’منش کے جیون میں ماں دشبد کا مہتو کیا ہے۔ یہ بتانے کی کدا آوشکتا نہیں ہے۔ پرنتو میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ماں سنسار کا وہ پوتر شبد ہے جس پر انسانی وجود کا دارومدار ہے۔ یہی وہ دیوی ہے جس نے بڑے بڑے رشی منیوں اور اوتاروں کو جنم دیاہے۔ بدنصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر مائوں کی چھایا موجودہے، انہیں چاہئے کہ اِس موقع کا لابھ اُٹھا کر اپنی مائوں کی خوب سیوا کریں…‘‘ ’’پری جنو! آپ سوچ رہے ہوں گے میں ماں شبد پر ہی کیوں زور دے رہا ہوں۔ واستو میں میرے

اشرف عادل ؔکی شاعری میں انسانی اقدار

کچھ شعرا ء ایسے ہوتے ہیں جو جلد اپنے تمام تر امکانات ظاہر کردیتے ہیں اور پھر حاموش ہوجاتے ہیں۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جو عمر بھر ایک ہی رنگ میں شاعری کرتے رہتے ہیں۔ایسے چند شعرا ء  ہی ہوتے ہیں جوآخر تک اپنی بازیا فت و بازدید میں سر گرداں رہتے ہیں۔اشرف عادلؔ بھی ریاست جموں و کشمیر کے شعراء کی اسی صف سے ہیں ،جن کا تخلیقی سفر اب بھی جاری رہا۔اپنے تہذیبی پس منظر کی وجہ سے بہت کم عمری میں ہی شعر کہنے لگے۔زبان وبیان پر ابتداء سے قدرت حاصل رہی ہے۔ان کے ہاں نرمی ،لطافت،خوش طبعی اور جمالیاتی احساس و افر ہے۔وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیںد ھیمے دھیمے لہجے میں انتہائی روانی اور سہولیت سے کہہ جاتے ہیں،اظہار پر پوری طرح قادر ہیں۔   ؎ خار بھی مشکل سے اگتے تھے جہاں  اب وہاں خوشبو بسائی جاتی ہے جس میں عادلؔ سچ کی ہوں پر چھائیاں ایسی تحریر یں جلائی جاتی ہیں غرل میں طبع آزمائی بظ

گلابی کشتی

محبت کی دھیمی لہریں آہستہ آہستہ جھیل ڈل کے پُرسکون پانی میں ارتعاش پیدا کررہی تھیں۔کشتی جھیل کے نیلے پانی پر مچھلی کی طرح تیر رہی تھی۔جھیل ڈل کشمیر کی ایک مشہور جھیل ہے جو کئی مربع میل پر پھیلی ہوئی ہے اور جس کے کنارے کشمیر یونیورسٹی کاکیمپس بھی واقع ہے۔شام کے ساتھ ہی سیاح کشتیوں میں سوار ہوکر جھیل کے رومان پرور ماحول کا لطف اٹھانے کے لئے سیرکے لئے نکلتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ  بادشاہ شاہجہان بھی کبھی ممتاز کے ساتھ جھیل ڈل کی رومانی سیر کیا کرتا تھا۔     وہ دونوں بھی جھیل کی سیر کے دوران پھولوں سے سجی کشتی میں دوگلاب محسوس ہوتے تھے۔دونوں یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویشن کررہے تھے۔ یونیورسٹی کے بیشتر طلبہ کی طرح یہ بھی شام ہوتے ہی جھیل کے رومان پرور ماحول کا لطف اٹھانے کے لئے گلابی کشتی میں سیر کو نکل جاتے۔یہ کشتی ہمیشہ گلابی پھولوں سے سجی رہتی اسی لئے یہ گلابی کشتی کے نام س

عہدِ وفاء

وہ آج پہلی بار اپنے آنگن سے باہر نکلی تھی اور شہر کے پُرہجوم ماحول میںکہیں گُم ہو گئی تھی۔نئے اور انجان چہروں کو دیکھ کر وہ اور بھی سہم گئی تھی۔ گاڑی میں چڑھنے اور اُترنے والے مسافروں کو وہ حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی اور لوگ بھی اُسے کچھ اِسی انداز سے دیکھ رہے تھے، گویا کوئی نئی مخلوق ہو۔کیونکہ اسکے اپنے کالے کالے وں اور چونچ سے وہ بالکل مختلف نظر آرہی تھی۔اپنے مالک کے ہاتھوں میں سہمی سہمی ہر کسی کو دیکھ کر چیخ پڑتی تھی،مانو اُسے اپنے آنگن کی یاد آرہی ہو۔ہاں وہی آنگن جس میں وہ جب سے انڈے سے باہر آئی تھی تب سے اپنے لئے کھانا تلاش کیا کرتی تھی۔ایسا نہیں تھا کہ اُسے دانہ ڈالنے والے موجود نہ تھے بلکہ بوڑھی اماں جیسی نیک اور شفیق عورت کوہر وقت گھر میں موجود انسانوں سے زیادہ بے زبان پالتو جانوروں کی فکر لگی رہتی تھی۔جبھی سارے گھر والے اُس سے ناراض رہتے تھے۔وہ اُن کی اِس ناراضگی ک

بند آنکھوں کی عظمت

  قمر جہاں اور چمن آرا گہری سہیلیاں تھیں۔دونوں نے ایک ساتھ میڈیکل سبجیکٹ میں اچھے نمبرات میں گریجویشن کی تھی۔قمر جہاں زیادہ خوبصورت تھی لیکن اس کا تعلق متوسط گھرانے سے  تھا جب کہ چمن آرا امیر ماں باپ کی بیٹی تھی۔اس کا باپ ایک سٹیل فیکٹری کا مالک تھا۔دو بھائیوں کی وہ اکلوتی بہن تھی۔بڑی نٹ کھٹ قسم کی۔ مزاج میں شوخی اور  نزاکت ونفاست کی امنگ اسے زندگی میں اپنا اور اپنے والدین کا نام روشن کرنے پر آمادہ کرتی رہتی۔قمر جہاں تو چاہتی تھی کہ وہ آگے پڑھے لیکن فرقان نام کے ایک لڑکے نے اسے اپنی محبت میں کچھ اس طرح گرفتار کر لیا کہ وہ اسی کے خوابوں اور خیالوں میں رہنے لگی۔فرقان پولیس محکمے میں سپاہی تھا۔ اسکی شکل وصورت کسی حد تک اچھی تھی۔جب پیار ومحبت نے ان دونوں کے دلوں میں اضطرابی کیفیت پیدا کردی تو دونوں کے والدین  اس بات پہ راضی ہوگئے کہ  فرقان اور قمر جہاں کو  

گمنام قبر

عید کا چاند نظر آتے ہی ہر سُو خوشی کی لہر دوڑ گئی۔بستی میں ہر ایک کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا۔لوگ آپس میں گلے ملیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔دوسری جانب جب یہ خبر شاہدہ کے گوشۂ سماعت سے ٹکرائی تو اُس کا سارا بدن لرز اُٹھا۔وہ دو کمروں پر مشتمل اپنے بوسیدہ مکان کے ایک کمرے میں سہم کر بیٹھ گئی اور یکایک اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں رواں ہوگئی۔یہ کیفیت آج اُس پر پہلی بار طاری نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ گزشتہ۲۷ سالوں سے اُس کا معمول تھا۔جب بھی عید کا ہلال نظر آتا تو اُس کے چہرے سے یکدم خوشی غائب ہوجاتی تھی۔عید کے دن ’عید‘منانا تو دور وہ اس لفظ کو بھی زباں پر لانے سے کتراتی تھی۔آج بھی حسبِ معمول عید کا چاند نظر آنے پر اُس کے چہرے کا رنگ غم و اندوہ کی وجہ سے پیلا پڑ گیا۔وہ اپنے کمرے کے ایک کونے میں سہم کر بیٹھ گئی اور پرانے زخموں کی یادوں سے اُٹھتے انگاروں کو آنسوو

یارانہ

بشیر احمد کے گھر میں چوری ہوگئی تھی۔ یہ چوری اُس وقت ہوئی تھی جب وہ اپنے بال بچوں کےساتھ دو دن کے لئے گھر سے باہر ایک شادی کی تقریب میں گیا تھا۔ چور توکوئی گھریلو سامان نہیں لے گئے تھے البتہ اُس کے کمرے میں رکھے ہوئے ایک آہنی وارڈ روب کا دروازہ توڑ کر اُس میں رکھے ہوئے اُس کی بیٹی کی شادی کے زیورات اور پچیس ہزار وپے کی نقدی لے گئے تھے ،اخروٹ کی لکڑی سے بنے ہوئے ایک ڈبے میں رکھے ہوئے تھے۔ اُس کی بیٹی کی منگنی ابھی حال ہی میں ہوئی تھی اور شادی اگلے سال ہونے والی تھی۔ کچھ زیورات اُس کی بیٹی کو اپنی سسرال کی طرف سے ملے تھے اور کچھ بشیر احمد نے بنوائے  تھے۔ چونکہ درجہ چہارم کا ایک ملازم تھا اس لئے اُس نے بڑی مشکل سے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر زیور بنوایا تھا اور رقم جمع کی تھی۔ اس واردات سے سارے گھر میں ماتم چھا گیا۔ اُس نے نزدیکی پولیس تھانے میں رپورٹ درج کی۔ اُس نے سنا تھا کہ پولیس تھا

مجھےافسانہ لکھنے کی تحریک کیسے ملی

صبح سویرے دروازے پر دستک ہوئی۔میں باہر نکلا تو سامنے جناب عشرت کشمیری صاحب کھڑے تھے۔ میں نے بڑے ادب واحترام کے ساتھ سلام کرنے کے بعد انھیں اندر آنے کو کہا۔میرے اصرار کرنے پر وہ اندر آنے کے لیے مان گئے۔دراصل ان کی اہلیہ کی طبعیت ناساز تھی۔اسی لیے وہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔انھوں نے اندر آنا اس لیے بھی مناسب سمجھا کیونکہ میں نے ابھی آدھی ہی شیو کی تھی اور چہرے پر اب بھی صابن لگا ہوا تھا۔میںنےجلدی جلدی شیو ختم  کی اور منہ دھو کر کپڑے بدلنے کے لیے اندر چلا گیا۔اسی دوران عشرت صاحب کی نظر میرے شیونگ سیٹ میں موجود ایک مختصر تحریر پر پڑی جس پر میں نے ایک افسانے کا خاکہ لکھا تھا۔میں جب کمرے سے واپس آیا تو عشرت صاحب بولے    "میاں آپ کا تخیل تو بہت اچھا ہے۔آپ باقاعدگی سے لکھتے کیوں نہیں۔میں نے آپ کی اجازت کے بغیر ہی آپ کا لکھا ہوا افسانہ کا خاکہ پڑھا"

صورت، سیرت اور سراب

وہ تھکا ماندہ دُشوار اور پُر خطر راستوں سے گذرتا ہو اجب بستی میں پہنچا تو سورج ڈھل چُکا تھا۔ منزل اُسکی آنکھوں کے سامنے تھی جسکو پانے کیلئے وہ کو شاں تھا۔ کھُردری، نوکیلی اور گرم چٹانوں پہ اُس نے کئی دن اپنے پائوں متحرک رکھے تھے۔ اب اُسکو ٹِھکانے پہ پہنچنے کی مسرت تو تھی لیکن اُسکی حسِاس ناک نے کُچھ ایسا سنگھا اور آنکھوں نے کچھ ایسا دیکھا کہ بیگانگی کا احساس سا ہونے لگا۔ یہ اُس کا بھرم تھا یا حقیقت؟ کُچھ کہنا ہنوز قبل از وقت تھا۔ ’ تخیل‘ ہاں، اُسکا نام تخیل ہی تھا۔ اُس نے اور اُسکی بستی کے ہم عصر لوگوں نے معیشی ترقی کی تمام منزلیں طے کر لی تھیں لیکن وہ تھا کہ اپنے آپ کو ابھی نا مکمل ہی سمجھتا تھا۔ ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے اُسکے جسم سے روح ہی غائب تھی۔ تمام عیش و عشرت کو بھوگتے ہوئے بھی اُداس اور تنہا محسوس کر رہا تھا۔ بستی کے لوگ تخیل کو بیمار سمجھتے۔ اکژ وہ دوسری

لمس

اس روز جب میں بازار پہنچا تو ہر چیز روشن تھی۔لڑکیاں،جیولری،مہندی اور چوڑیوں کی دوکانوں پر اکھٹی ہوئی نظر آرہی تھیں۔نو جوان لڑکے گار کرتے پائجاموں کی خریداری کررہے تھے۔میں اب روڑ تک پہنچ چکا تھا، جو جہلم بازار کے نام سے شہر کی مشہورجگہ تھی۔میری نظر ایک لڑکی پر پڑی جو اپنی برقعہ پوش ماں کے ساتھ بڑی حسرت سے کپڑوں کو دیکھ وہی تھی۔اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔میں اس لڑکی کو تجسس سے دیکھ کر آگے بڑھ گیا۔آگے چلتے ہوئے میں اپنی ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ ہم کتنے خوش ہوتے تھے جب نو عمر تھے۔ عید کا ہلال دیکھ کر دیوانہ ہوجایا کرتے تھے۔نو عمری زندگی کا  ایک نادر زمانہ ہوتا ہے۔ماں باپ اپنے بچوں کو پرنس سمجھتے ہیںاور وہ جو فرمائش کرے ماں باپ اس کو پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔بچپن میں عید کا جتنا زیادہ لطف آتا تھا اب وہ نہیں رہا ہے۔اب وہ احساسات ہی ختم ہوگئے اور اب عی

عـید

 جوں جوںکتے بھونکتے جا رہے تھے یوں یوں اس کے غصے کا پارہ چڑھتا جا رہا تھا۔غصہ! جو کبھی کبھی جھنجلاہٹ میں بدل جاتا تھا ۔ دانت کھٹ کھٹ بجنے سے ایک دو با ر اپنی زبان بھی کاٹ لی تھی۔ اگر چہ اس کی آواز میں کوئی درد کوئی سوز نہ تھا پھر بھی وہ مسجد کا موذن تھا۔  جوں توں کرکے اذان تو دیتا تھا لیکن کتوں سے بہت پریشان تھا۔ وہ  اذان  شروع کرتا تھا ،کتے بھونکنا شروع کرتے تھے۔ اذان ختم، کتوں کا بھوکنا  بند۔ ۔۔ اس نئی کالونی میں آئے ہوئے اسے چھ سال ہوچکے تھے۔ یہاں آتے ہی مسجد فنڈ میں بڑی رقم کیا دی، ساری کالونی میں اس کا چرچا ہوگیا ۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے تک کبھی کبھار صبح وشام اذان دیتا تھا اور رٹائرہونے کے بعدمسجد کا سارا معاملہ ہاتھ میں لے لیا اور پانچوں وقت اذان بھی دینے لگا۔ یوں تو وہ ساری کالونی میںاب عزت دار آدمی بن چکا تھا لیکن نہ جانے اسے ایسا کیوں لگ رہا تھا کہ

ناکردہ گناہ

گذشتہ تین سالوں سے قید خانہ کی تنگ و تاریک کوٹھر ی میں میرا دہشت زدہ دل دھڑک تو رہا تھا لیکن میرے پریشان ذہن نے حالات کے آگے گٹھنے ٹیک دئے تھے اور کچھ سوچنے سمجھنے سے قاصر تھا۔اگر چہ اب یہاں سے آزاد ہونے کی کوئی اُمید نظر آئی ہے مگر ایسامعلوم ہوتا ہے کہ یہ تاریکی میرے وجودپر گہرے نقوش چھوڑ جائے گی۔ ایسے نقوش جن کو میں زندگی بھر مٹا نہ سکوں گا۔ اِس کوٹھری میںزندگی کے گذارے ہوئے اذیت ناک لمحوںسے لے کر یہاں کی اِک اِک شے کو بھلا دینے کی آرزو کرتا رہوں گا جو میرے ذہن کو چھلنی کر گئے ہیں۔ آج والد صاحب اطلاع دے گئے کہ دوتین دنوں کے اندر یہاں سے آزاد ہو جائوں گامگر سوچتا ہوںکہ احباب و اقارب،کالج کے اساتذہ اور ہم جماعتوں کا سامنا کیسے کروں ؟جب میں کلاس کا ہیرو تھا تو سارے ہم جماعت میرے آگے پیچھے گھوما کرتے تھے اور میرے دوست مجھ جیسا دوست پانے پر فخر جتا تے تھے لیکن آج حالات کچھ اِس

پاگل

’’ اٹینشن ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ دفعتاً لالچوک میں آواز گونجی اور شہزاد اپنے خاص انداز میں چھڑی ہوا میں لہراتے ہوئے نمودار ہوا ۔بازار کے سیٹھ اور ان کے دکانوں میں کام کرنے والے مزدور حیران ہو کر سڑک کی طرف دیکھتے ہوئے آپس میں باتیں کرنے لگے ۔کچھ سیٹھوں نے اپنے نوکروں کو ہدایات دیں کہ کہیں یہ پاگل ان کی دکان کی طرٖٖ ف نہ بڑھے۔بازار کے اکثر دکاندار اس کو اپنی دکانوں پر چڑھنے سے سختی سے روکتے تھے حالانکہ وہ کبھی کسی سے ایک پیس کا بھی تقاضا نہیں کرتا تھا ۔ ان کا یہ رویہ دیکھ کر شہزاد بھی اب خال خال ہی کسی دکان کا رخ کرتا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ لالچوک کو آج نئی نویلی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ، یہاں خوب گہما گہمی تھی کیوں کہ آج یہاں کسی سیاسی پارٹی کا جلسہ منعقد ہونے والا تھا اور اتفاق سے شہزاد بھی آج ایک لمبے وقفے کے بعد اچانک یہاں نمودار ہوا تھا ۔ ’’ اٹ

پروازِ تخیل

 مصنف (شاعر):وحید مسافرؔ صفحات:120  ناشر:توحید پبلیی کیشن،سرینگر      زیر تبصرہ کتاب ’’پرواز تخیل‘‘شعری مجموعہ ہے، جو وحید مسافرؔکی تخلیقی بصیرت کا عکاس ہے۔وحید مسافرؔکا120صفحات پر مشتمل   شعری مجموعہ کاپہلا عنوان’’ انتساب‘‘ہے جو انھوں نے اپنے مرحوم والد اور  اپنی والدہ کے نام لکھا ہے۔اس کے بعدکتاب کی تقریظ ریاست کے مشہور شاعر جناب رفیق راز ؔنے لکھی ہے ۔ حرف چند میں شاعر نے اپنے اہل خانہ کے علاوہ ان تمام ساتھوں اور دوستوںکا شکریہ ادا کیاہے جنہوں نے یہ کتاب پایہ تکمیل تک پہنچانے میں شاعرکی قدم قدم پر معاونت کی ہے۔شعری مجموعہ نعتیہ کلام کے علاوہ غزلوں پر مشتمل ہے۔ شاعر نے مجموعہ کی ابتدا ئ دعائیہ اشعار سے کی ہے۔؎ سلیقہ عطا کر دعا مانگنے کا الہی مسافرؔ کو درد  جگر دے آج ہم جس پر آ

اولاد کی تمنّا

 انور خان کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو تنہا ایک الگ علاحدہ کمرے میںچار پائی پر لیٹے ہوئے پایا۔ اس کے جسم کا انگ انگ ٹوٹ رہا تھا۔ سانسیں لینے میں گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی اور اس کی پسلی کے قریب درد کی شدید ٹیس اٹھ رہی تھی جو اُسے کسی پل چین نہیں دے رہی تھی۔ وہ کراہنے لگا۔ اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کے پیٹ پر آرا چلادیا ہو۔ کچھ دیر تک اضطراب کے عالم میں رہنے کے بعد جب اس کے اوسان بحال ہونے لگے تو اس نے اِدھر اُدھر نگاہیں دوڑائیں اور جب کوئی شناسا ساچہرہ نظر نہ آیا تو اسکے دل کو ایک جھٹکا سا لگا۔ چہرے پر ایک رنگ آتا اور جاتا رہا اور وہ غم زدہ ہو کر چھت کی جانب تکتا رہ گیا۔ دفعتاً اس کا دھیان پاس کھڑی ایک دبلی پتلی سی خاتون کی طرف گیا۔ اُسے سفید ا پرن میں دیکھ کر وہ ایک ہی نظر میں پہچان گیا کہ نرس ہے ۔ اس نے مایوس ہو کر دکھ بھرے لہجہ میں پوچھا ۔  &r

ادھوری زندگی

 دن کی روشنی رات کے اندھیرے میں ڈھل چکی تھی،شور و غل اب مکمل سکوت میں بدل چکا تھا۔طارق اپنے نیم روشن کمرے میں بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔بیڈ پر اُس کی دائیں جانب اُس کا چھ سالہ بیٹا فرقان لیٹا تھا، جو اب گہری نیند کی آغوش میں چلا گیا تھا۔اُس کے ہاتھ میں شراب کی ایک بڑی بوتل تھی۔کمرے کی چھت کو گھورتے ہوئے وہ مسلسل شراب کے گھونٹ پی رہا تھا۔شائد وہ وقت کے دئے ہوئے زخموں سے پر شراب کا مرہم لگا رہا تھا۔اُس نے غنودگی کے عالم میں چھت سے نظریں ہٹا کر اپنے بیٹے کی جانب دیکھا،جو اب گہری نیند میں جاچکا تھا۔اُس نے بیٹے کے رخساروں پر نرمی سے اپنا ہاتھ پھیرا،ایک بار پھر فرقان کی کئی گھنٹے پہلے کہی بات اُس کے ذہن میں گونجنے لگی۔ طارق جب دفتر سے لوٹا تھا تو اُس کا چھ سالہ بیٹا فرقان الماری سے اُس کی ڈائری لے آیا اور اُس پر انگریزی میں لکھی ایک مختصر عبارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اپنے والد