تازہ ترین

نجات

 کاش میں اسے پہچان پاتا اور میری اُلجھن سلجھ جاتی۔ انسانوں کی دیو ہیکل بھیڑ رواں دواں تھی۔ سب اپنی اپنی رفتا ر میں اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر ہل رہے تھے جیسے سب کسی بڑی مشین کے پُرزے ہوں۔ وہ اس تمام بھیڑکا حصہ ہونے کے باوجود بھی الگ تھا۔اس کے بڑھتے قدم تب چلتے چلتے رُک گئے جب اُسکی نظر بازار کی ایک بند دوکان کے شیٹر پر چسپاں ایک اشتہار پر پڑی جس کے اُوپر موٹے حروف میںلکھا تھا۔’’ اطلاع گمشدگی‘‘ ایک عام قسم کی لکھی ہوئی عبارت کے ساتھ اوپر ایک تصویر بھی چھپی ہوئی تھی عبارت کچھ یوں تھی۔ اشتہار میں چھپی تصویر ایک لاپتہ شخص کی ہے، جو چند روز قبل گھر سے کام پر نکلا تھا پر واپس نہ لوٹا۔ ہم پہلے ہی ریڈیو،ٹیلی ویژن اور اخبارت کے ذریعے اطلاع عام دے چکے ہیں اور اب بذریعہ اشتہارات بھی عوام کو مطلع کرتے ہیں کہ  اگر کسی کو اِس گمشدہ شخص کے بارے میں کوئ

مذاکرہ

میں نے سورج کے گرد آج پورے پچاس چکر مکمل کئے۔ ماں کی کوکھ سے تصورات کے سمندر تک کا سفر میرے لئے بہت ہی کٹھن تھا۔ تصورات کے سمندر میں مجھے پہلی بار بوڑھے آسمان کے ساتھ مذاکراہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ میں نے بوڑھے آسمان سے کچھ سوالات پوچھے جن کے جواب اُس نے بہت ہی خوش اسلوبی سے دئے۔! راوی: حضور آپ کی عمر کتنی ہوگی؟ بوڑھا آسمان: کم و بیش 22 ارب سال۔ راوی: جناب اس لمبی عمر میں آپ نے کیا کچھ دیکھا؟ بوڑھا آسمان: بہت کچھ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل! ، یاجوج ماجوج کا ظلم، ذوالقرنین کا عدل، نمرود کی جھوٹی خُدائی، فرعون کی گمراہی، اَبرھ اور اُس کے فوج پر اَبابیلوں کی یلغار، قیصر و کسریٰ کا عروج و زوال اور ۔۔۔ بہت کچھ۔ راوی: جناب! کوئی متاثر کُن واقعہ سنائیے۔ بوڑھا آسمان: ضرور۔ جب آخری پیغمبر نبیؐ برحق کے پایۂ نازنین میرے سینے پر پڑے! راوی: آپ کب مسرت محسوس ک

مذاکرہ

میں نے سورج کے گرد آج پورے پچاس چکر مکمل کئے۔ ماں کی کوکھ سے تصورات کے سمندر تک کا سفر میرے لئے بہت ہی کٹھن تھا۔ تصورات کے سمندر میں مجھے پہلی بار بوڑھے آسمان کے ساتھ مذاکراہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ میں نے بوڑھے آسمان سے کچھ سوالات پوچھے جن کے جواب اُس نے بہت ہی خوش اسلوبی سے دئے۔! راوی: حضور آپ کی عمر کتنی ہوگی؟ بوڑھا آسمان: کم و بیش 22 ارب سال۔ راوی: جناب اس لمبی عمر میں آپ نے کیا کچھ دیکھا؟ بوڑھا آسمان: بہت کچھ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل! ، یاجوج ماجوج کا ظلم، ذوالقرنین کا عدل، نمرود کی جھوٹی خُدائی، فرعون کی گمراہی، اَبرھ اور اُس کے فوج پر اَبابیلوں کی یلغار، قیصر و کسریٰ کا عروج و زوال اور ۔۔۔ بہت کچھ۔ راوی: جناب! کوئی متاثر کُن واقعہ سنائیے۔ بوڑھا آسمان: ضرور۔ جب آخری پیغمبر نبیؐ برحق کے پایۂ نازنین میرے سینے پر پڑے! راوی: آپ کب مسرت محسوس ک

عید

  بازاروںمیں عید کی رونق لوٹ آ ئی تھی ۔دکانداروں نے اپنی اپنی دکانیں سجا رکھی تھیں ۔کپڑوں کی دکانیں ،مٹھائی کی دکانیں ،اور کھلونوں کی دکانیں اپنی سجاوٹ سے لوگوںکی بھیڑ کو اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔لوگ طرح طرح کی چیزیں خرید خرید کر گھر لے جا رہے تھے ۔اکثر  والدین اپنے بچوں کے لئے انواع و اقسام کے کپڑے اور کھلونے خریدنے میں مصروف دکھائی دے رہے تھے ۔ہر طرف  چندہ جمع کرنے والے لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کو صدقہ و ذکوٰت دینے کے لئے ابھار رہے تھے ۔وہ عید کے اس مقدس دن پر غرباء ،مساکین اور یتیموں کو یاد رکھنے کی تلقین کر رہے تھے ۔ اسکول میں استانی صاحبہ بھی بچوں کوعید کے تہوار کے متعلق جانکاری دے رہی تھی اور سات سالہ لڑکا عاصم میڈم کے سامنے بیٹھ کر اس کی باتیں انہماک سے سن رہا تھا۔میڈم نے بچوں کو  بہت سی باتیں بتائیں مگر عاصم کو ان میںسے چند ہی باتیں یاد رہیں ۔

گداگر

میں بڑا آلسی سا لڑکا ہوں ۔ ہمیشہ اسکول دیر سے جانے پر روز ڈانٹ کھانے کا عادی ہوچکا ہوں ۔ ہمیشہ ماں سے لڑ کر اسکول جاتا ہوں کیونکہ وہ میری نیند خراب کرتی ہیں ۔ گھر سے لے کر اسکول تک میری آلسی کے قصے زبان زد عام تھے۔ آج بھی میں دیر سے اور  بے دل ہوکر اسکول کی طرف نکل گیا ۔ چہرے پر نیند کے نمایاں آثار لے کر ابھی کچھ ہی دور پہنچا تھا کہ سامنے ایک خوفناک چہرہ دیکھ کر ڈر گیا۔ کھلی آنکھ کے خواب سے باہر آکر ہوش و ہواس سنبھالے تو ایک ضعیف بزرگ میرے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا۔ میں انہیں ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا ۔ گرد آلود چہرے کی جھریوں میں دہائیوں کا تجربہ جمع تھا ۔ سفید بالوں سے صاف جھلک رہا تھا کہ زندگی کے نشیب و فراز سے کیسے گزر آئے ہونگے ۔ میلے کپڑے اپنے وقت کے مہنگے ملبوسات میں سے رہے ہونگے۔ آنکھوں میں جیسے سمندر قید تھا مگر زمانے کے خوف سے باہر آنے سے ڈرتا ہو۔  وہ میرے

مختصرافسانہ۔۔۔۔۔؟

    افسانہ ہے تو ادب ہے ‘ادب ہے تو افسانہ ہے۔ادب کو جسم سے تعبیر کیا جائے تو افسانہ اِس کی روح ہے۔جسم روح کے بغیر بے جان ہے اور روح جسم کے بغیر بے نام۔افسانہ ادب کی واحد صنف ہے جس کے ساتھ ایک عام قاری جوعلم وادب سے کچھ خاص واقف نہ ہو‘بھی اتنا انصاف کرپاتا ہے کہ وہ ادب کی روح کو محسوس کرسکے۔شائد اس لئے کہ افسانہ میں وہ پیچیدگیاں اور مشکل تراکیب نہیں پائی جاتی جن کا سامنا قاری کو دوسری اصناف ‘خاص کر شاعری میں کرنا پڑتا ہے۔اور شائد اس لئے بھی کہ افسانہ زندگی کے عام معاملات سے سروکار رکھتاہے۔یہ خصائص اگرچہ داستان اور ناول میں بھی پائے جاتے ہیں ‘لیکن قدرے طویل ہونے کے باعث عام قاری داستان یا ناول میں کم ہی دلچسپی لیتا ہے۔جبکہ افسانہ اس کے برعکس مختصر ہوتا ہے ایک عام قاری کے مزاج کے عین مطابق۔یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ افسانہ‘ ناول اور داستان میں اصل اورب

چلتر

پچھلے کئی دنوں سے وہ نیند میں ایک عجیب و غریب خواب دیکھ رہی تھی جیسے راستے میں چلتے چلتے اپنی چرتی گائیو ں اور بھینسوں کو اپنے ساتھ ہانکتے ہوئے وہ گھر چلتی آتی کہ اچانک دور کہیں سے ایک آوارہ بادل کا ٹکڑا فلک پر نمودار ہو کر اس کے سامنے حائل ہوتا اور ایک مہیب اندھیرا سا پھیل جاتا، جو اسے آگے بڑھنے سے روکتا ہوا لگ رہا ہے۔  پھر جو نہی اس کی آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹ جاتا تو خون میں لت پت ایک چھوٹا سا پرندہ پھڑا پھڑا تا ہوا دکھائی دیتا، جیسے اس کو کوئوں نے چونچیں مار مار کر آدھ مرا کرکے چھوڑا ہو۔ یہ دیکھ کر وہ سہم ہو جاتی اور اس کی آنکھ کھل جاتی تھی۔ خوف کے مارے وہ ماں کی چھاتی سے لپٹ جاتی پھرا سے یاد نہیںرہتا کہ کب وہ خود بخود نیند کی آغوش میں چلی گئی۔  صبح اٹھ کر لگ بھگ وہ اس واقعہ کو بھول چکی ہوتی اور اپنی ماں کے سامنے اس کےبارے میںکچھ کہنےسے گریز کرتی، البتہ ا

افسانچے

احترام صابر علی ہیڈکلرک الطاف کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا پریشانی اس کے چہرے پر عیاں تھی۔ وہ مُفطرب تھا۔ اُس نے الطاف سے کہا ’’صاحب میری فائل آگے بڑھائیے، مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہے، میری بیٹی سخت بیمار ہے اُسے علاج کے لئے دوسرے شہر میں لے کے جانا ہے، میری جیب خالی ہے۔ ہیڈ کلرک نے لمبی داڑھی کو کنگھی سے سوارتے ہوئے کہا۔ ’’دیکھئے صابر صاحب اب تو آپ کا کام عید کے بعد ہی ہوگا، اِس مہینے میں آپ کا کام نہیں ہوسکتا ہے، ناممکن ہے۔ الطاف نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔ ’’مگر کیوں؟ عید میں تو ابھی بہت دن ہیں، تب تک میری بیٹی کا کیا ہوگا۔۔۔ صابر علی کی آنکھوں میں آنسو لرز رہے تھے۔ ’’ماہ رمضان میں کوئی کام نہیں ہوتا۔۔۔ یہ مہینہ آرام اور عبادت کا ہے۔‘‘ الطاف نے سر کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ک

دعاء

عبدالقادر کی آنکھوں کی روشنی پچھلے ایک سال سے کمزور ہوگئی تھی۔ علاج و معالجہ کرنے کے باوجود اُسے دھندلا دھندلا  دکھائی دیتا تھا۔ گھر والے پریشان تھے کہ اب کیا کیا جائے، کیونکہ اگر روشنی مزید کم ہوتی چلی گئی تو اُس کے لئے بہت مشکل ہوجائے گی۔ایک دن اس کا ایک پرانا دوست اُسے دیکھنے کے لئے آیا تو اس نے صلح دی کی حکم نواب صاحب آنکھوں کا بہت اچھا علاج کرتے ہیں اور اگر انہیں دکھایا جائے تو شائد کچھ بہتری آئے۔  گھر والوں نے بھی خیریت اسی میں سمجھی اور اس کو حکم نواب صاحب کے پاس لے چلے۔حکیم صاحب نے کچھ جڑی بوٹیاں وغیرہ دیں اور دو ہفتوں کے بعد ملاحظہ کے لئے پھر آنے کیلئے کہا۔ اب عبدالقادر نے دوائی استعمال کرنا شروع کی تو اس عرصہ میں اُسے قدرے راحت سی محسوس ہونے لگی۔ یوں تو وہ ایک سال پہلے مسجد بھی جایا کرتا تھا اور گھر کے لئے ضروری اشیاء خریدنے کے لئے بازار بھی جاتا تھا۔ لیکن

نیند

کیوں انور صاحب! آج آپ نے پھر کتابیں پڑھنی شروع کردیں۔کتنی بار میں نے کہا ہے کہ آپ کو بس آرام کی ضرورت ہے۔جب تک نہ آپ کی صحت ٹھیک ہوگی تب تک خدا را آپ کتابوں کی دنیا سے دور رہیے۔ڈاکٹر کی باتیں سن کر انور صاحب دل ہی دل میں مسکرائے اور کتاب پھر ہاتھ میں اُٹھائی۔ ابا آپ ڈاکٹر صاحب کی باتوں کا مان کیوں نہیں رکھتے، خورشید نے نہایت ہی اب کے ساتھ انور صاحب کو کہا۔کل کلوں اگر آپ کو کچھ ہوا تو ہم جیتے جی مر جائینگے۔پھر آپ کا یہ گھر، جس کو کتاب گھر کہنا مناسب ہوگا، گھر نہیں لگے گا اور یہ کتابیں سدا بند الماریوں کے شیشوں سے جھانکتی رہیں گی۔ انور صاحب نے ایک آہ بھر کے کتاب بند کردی اور بیٹے سے مخاطب ہوا۔ خورشید میں کیا کروں۔ مجھ سے ایک پل بھی جیا نہیںجاتا ان کتابوں کے بغیر۔ نہ دن کو چین اور نہ رات کو قرار آتا ہے۔ عجیب لت لگی ہے ان کی۔کچھ اور بولنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ کھانسی کا د

کالا چُوہا

  حصارِوقت کے چکرویومیں پھنس کر زخمی روح کا سفر اب اُس جھیل کے کنارے پر آن پہنچا تھاجس کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہاں پر بے  چین روح کو تسکین ملتی ہے ۔برفیلی پہاڑیوں سے آرہی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں فضا کو خوشگوار بنا رہی تھیں۔جھیل کے نیلگوںپانی پر نظرپڑتے ہی طبیعت پربھی خوشگوار احساس چھا گیااورشیریںپانی کے ٹھنڈے گھونٹ حلق سے اترتے ہی گرم بھٹی برف خانہ بن گئی۔ ۔شیریں پانی سے پریشان وجود میں راحت کی مٹھاس پھیلتے ہی وہ پاؤں پسار کر سبزے پر دراز ہوا۔سوچ کے پروں کو چوہے نے کترنا چھوڑ دیا۔یہ چوہا لمبے عرصے سے ان پروں کو کترتا آیا تھا۔ مدت سے وہ بے خوابی کا شکار ہوچکا تھاکیونکہ آنکھیں بند کرتے ہی چوہا سکون کے بل میں گُھس کر سوچ کے پروں کو کترنا شروع کردیتا تھا۔ پروں کی کتر بیونت سے دماغ تو پریشانی کا جنگل بن گیا تھا۔ اس پریشانی کے جنگل سے تنگ آکر وہ اکثر سوچتا رہتا کہ نہ جانے یہ چوہ

نیت

   وہ بڑے اعتماد کے ساتھ جھوٹ کو سچ کا جامہ پہنا کر لوگوں سے مُخاطب تھا۔جھوٹے وعدے،جھوٹی باتیں سُن سُن کر لوگ اب عاجز آچُکے تھے۔لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں لوگ اُس کی غلط بیانی پر ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔شاید یہ اُس پُرانی عادت اور روایت کا نتیجہ تھا جو صدیوں سے چلی آرہی تھی۔بھیڑ میں سے اچانک ایک نوجوان کے مُنہ سے نکلے الفاظ نے اِس بازارِسیاست کو گرمانے والے سیاست دان کو شدید شش وپنج میں ڈال دیا ۔نوجوان زور زور سے کہہ رہا تھا،ــــ’’آج تک ہمیں جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہ ملا،بلکہ ہم اپنا قیمتی ووٹ دے کر آپ جیسے لوگوں کو اپنے سر پر چڑھاتے ہیںجن میں دور دور تک حُکمرانی کے اوصاف نظر نہیں آتے‘‘۔جب اِس شاطر سیاست دان نے دیکھا کہ یہ نوجوان لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے تو وہ بھڑک کر رعب دار لہجے میں اُس سے مُخاطب ہوا،’’کون ہمیں حکومت کرنے

میں ہوشیارپوری ہوں

    ’’میں آج تمہیں اس بوتل کو ہاتھ لگا نے نہیں دوں گی۔بہت صبر کرچکی ہوں میں۔برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔تمھاری اس حرکت کا ان بچّوں پر کیا اثر پڑے گا۔تم اسے شراب سمجھتے ہو۔میں اسے تیزاب سمجھتی ہوں۔یہ شراب تمھارے وجود کو اندر ہی اندر جلا رہی ہے‘‘ سفینہ بیگم کا یہ پُر جوش احتجاجی روّیہ دیکھ کر سیف الدّین کسی حد تک سہم سا گیا۔تین سال سے اسے سیگریٹ اور شراب نوشی کی لت پڑ چکی تھی۔ایک اچھے سرکاری عہدےپہ تعینات تھا۔رشوت خوری سے اس کا ضمیر مردہ ہوچکا تھا اور اس کے احساس کا پنچھی نہ جانے کس جانب اُڑان بھر کے کہیں دور چلا گیا تھا ۔سفینہ بیگم ایک سلیقہ شعار اور پُر بہار بیوی کی حیثیت سے اپنے دو پھول جیسےبچّوں اور پورے گھر آنگن کو سنبھالے ہوئے تھی۔عورت ذات تو دھرتی کے مانند ہوتی ہے۔سارے دُکھ درد،سارے ظلم وستم اورناانصافیاں ایک حد تک ہی برداشت کرتی ہے لی

’’دی اینڈ‘‘

موسیٰ اُس پرانی حویلی میں مُدت سے اکیلا رہتا تھا۔ شام ہوتے ہی وہ دالان پر لال ٹین کی دھیمی روشنی میں رات گئے تک شب کے سناٹے کو تکتا رہتا تھا۔ یہ اُسکا روز کا معمول تھا صبح سویرے جب سورج کی کرنیں حویلی کے در و دیوار چومنے لگتیں تھیں تو موسیٰ اپنی ڈائیری ہاتھوں میں لئے پھر دن بھر اس کی ورق گردانی کرتا تھا۔ موسیٰ زندگی سے خفا کیوں تھا!؟ موسیٰ کا اس قدر تنہائیوں میں کھوجانا اور شب کے سکوت میں ڈوبنا کس راز کا انکشاف کرتا ہے!؟ یہ جاننے کے لئے اُس رات حویلی میں چلا گیا۔ رات کے گیارہ بج چُکے تھے موسیٰ لال ٹین کی دھیمی روشنی میں کھو گیا تھا۔ مجھے اچانک اپنے روبرو دیکھ کر موسیٰ حیران ہوا اور دفعتاََ لالٹین کی لو بڑھا دی۔ مجھے کچھ کہے بغیر اُس نے اپنی ڈائیری میری طرف بڑھا دی۔ اُس کا فونٹین پین ابھی ڈائیری میں ہی تھا۔ میری نظر ڈائیری کے دسویں باب پر پڑی۔ اس باب کی عبارت اس قدر مُتاثر کن تھی کہ

سرسوں کے پھول

 گُل افروزرسوئی میں کام میں مصروف تھی کہ دفعتاً سائیرن بج اٹھنے سے اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔اس نے ڈرتے ڈرتے کھڑکی کا پٹ کھول کر باہر جھانکا تو زندگی حسب معمول رواں دواں تھی ۔لوگ باگ اپنے اپنے کھیتوں میں کام میں مشغول تھے ،خوش پوش وردیوں میں ملبوس بچے سکولوں کی جانب رواں دواں ، جب کہ بڑے میدان میں بہت سے مویشی اطمیناں سے پیٹ کی آگ بجھانے میں مصروف تھے۔چند لمحے حالات کا جائیزہ لینے کے بعد اس نے دوسری طرف کی کھڑکی کھولی جہاں سے اس گائوں بلکہ اس ملک کی آخری حدیں دکھائی دے رہی تھیں،اس طرف بھی سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا ۔حد متارکہ پر ملک کی حفاظت پر معمور فوجی چوکیاں ،جن پر ملک کے جھنڈے اونچے لہرائے ہوئے تھے ،بھی پر سکون تھیں۔باہر کانظارہ بھی کافی پر کشش تھا کیوںکہ کئی دن کی لگاتار بارشوں کے بعد آج مطلع صاف تھا ،بلند وبالا پہاڑ سورج کی روشنی میں نہائے ہوئے تھے ،اونچے اونچے درختوں کی ٹہنیا

پیرو مُرشد

عمہ کریانہ شاید ایک دہائی سے اس چھو ٹے بازار کا چھو ٹا سا دکاندار ہے،، کریانہ بیچتا ہے۔لیکن  اس کے خریدار بھی کم ہی ہیں   کیونکہ عمہ کریانہ  کے مقابلے میں دوسرے دکاندار سستے داموں پر اپنا مال بیچتے ہیں۔ اس طرح اس کی سیل بھی کم ہی ہے اور وہی گنے چنے خریدار اس سے اپنی ضرورت کی اشیاء خریدتے ہیں جنہیں معلوم ہے کہ عمہ کریانہ ملاوٹ شدہ کوئی بھی چیز اپنی دکان پر نہیں رکھتا اور بس وہی اس کے خریدار ہیں جن کا معدہ اب بھی خالص مصالحہ جات ہضم کرسکنے کی حالت میں ہیں ۔ وہ ہلدی خود پسواتا ہے اور مر چوں کی پوڈر اپنی نگرانی میں تیار کرواتا ہےاس طرح چینی اور باقی مصالحے بھی اپنے حساب سے ہی کاٹ چھانٹ کے خریدتا ہے جو اس سے بھی بڑی مشکل سے کبھی کبھی ہی ملتے ہیں اور کبھی مہینوں اس کی دکان ان اشیاء سے خالی ہی رہتی ہے۔ میں اس کا مستقل گاہک  ہی نہیں بلکہ ایک طرح سے اس کا زبردست عقیدت م

چیونٹی

  ’’مجھے دیکھ کر رُک کیوں گئے ؟۔۔۔کھلائو کھلائو۔۔۔تم جیسے ناکارہ اور نکمے نوجوانوں کی زندگیاں اِسی طرح نکل جاتی ہیں۔۔۔چیونٹیوں کو چینی کھلاتے کھلاتے ۔۔۔۔‘‘ ابا کی تندمزاجی اور بے عنوان طعنوں کا قہر یوں تو ہر دن مجھ پرپرستاتھا لیکن اس دن میں ان کے بہترین موڑ کا انتظار کرتے کرتے چیونٹیوں کو چینی کھلانے بیٹھ گیا ۔دراصل کالج کے امتحانات سر پر تھے اور اس میں شرکت کےلئے فیس جمع کرنا ضروری تھا۔لہٰذا ارادہ کر لیا تھا کہ صبح سویرے ابا کے دربار میں با ادب حاضر ہو کر اُن سے درخواست کروں گا۔شاید عرضی پر دستخط کر دے لیکن اب توابتدا ء ہی بد مز گی سے ہوچکی تھی۔اب اُن سے بات کرنا محض اپنے ہی پیروں پہ کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ویسے تو میں اُن کے کڑوے کسیلے طعنوں سے ذلیل و خوار ہونے کا عادی تھا لیکن اب افسوس صرف اِس بات کا تھا کہ بے چاری چیونٹیوں کو بھی میری وجہ سے صبح صبح

انــجــام

 ساجد کی شادی اگلے ہفتے انہی کے آبائی گاؤں میں ایک شریف اور پاکدامن عورت سے ہونے والی تھی.اس نے ایک ہفتہ پہلے ہی اپنے عزیزواقارب اور دوست احباب کو شادی میں شرکت کے لئے دعوت نامے بھیجے تھے.اطہر کا نام بھی اس دعوت نامے میں شامل تھا.اور وہ بے صبری سے ساجد کی شادی کا انتظار کر رہا تھا. اطہر ہر روز دعوت نامہ دیکھتا اور اس کا بے صبر دل اس انتظار میں تھاکہ کب شادی کی تاریخ آپہنچے اور وہ شادی کی تقریب میں شرکت کر سکے۔ایک دن اچانک اس کا دل غمگین ہوا۔ لیکن اس کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اگر دوست کی شادی پر وہ خوش ہے،تو دوسری طرف اس کا دل غمزدہ کیوں ہے ۔اس نے اپنے دل کو تسلی دی کہ کل وہ اپنے دوست کی مہندی کی تقریب میں جائے گا،جہاں اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ ہوگی اور  بہر کیف جب مہندی کی تقریب کا دن آیا تو اطہر نے نہادھوکےنئے کپڑےپہنے,عطر ملا ...............اچانک اس کے فون کی گھنٹی

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے

 اس شہر کا چوک  ۔  ۔  ۔  ! کبھی سبز ! کبھی زرد ! اب سرخ کہلاتا ہے۔ اب اس چوک میں ایک کلاک ٹاور بھی نصب کیا گیا ہے۔ جب چوک میں کلاک ٹاور نصب کیا گیا تھا ، اُس دن سے تنومند نوجوان ٹاور کے سامنے کھڑا ہوکر  ۔  ۔  ۔ ’’بڑا بننے کے لئے راستے کے بڑے پتھروں کو ہٹانا ہوگا  ۔۔ پتھروں کو ہٹانے کے لئے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کرو۔ تم لوگوں کے دل قربانی کے جذبے سے تب معمور ہوسکتے ہیں جب آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھے بن جائو گے  ۔  ۔  آئو میرے دوستو! ہم اندھوں کی طرح ایک ایسی منزل کی جانب روانہ ہوں جس کی نشاندہی کوئی بھی نہ کرسکے‘‘ اس شہر کے ارد گردجو پہاڑوں کا سلسلہ دراز تھا وہ برف سے ڈھکا رہتا تھا۔ لیکن جب کبھی ان پہاڑوں میں ہریالی ہوتی، وہاں کی ایک بلند چوٹی پر ادھیڑ عمر کا ایک شخص کھڑا ہوکر بل

عوامی نمائندے

 میں اس بڑی عمارت کے سامنے  فٹ پاتھ پر سگریٹ بیچتا ہوں جہاں عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے منصوبے بنتے ہیں اِن میں کئی لوگ مجھ سے سگریٹ اور پان بیڑی خریدتے ہیں ،اس عمارت کے اندر اور باہر برابر اور مسلسل شور شرابہ ہوتا تھا۔ ،  ہاتھ تھا پائی ، دھینگا مشتی اور کبھی کبھی مارا ماری۔ روز یہ معمول کا تماشا تھا۔ میں ان کی قسمت پر عش عش کرتا تھا ۔کہ یہ لوگ اتنی بڑی بڑی تنخواہیں صرف شور مچانے کے لئے پاتے ہیں ،ایک روز یہ سب لوگ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے باہر آئے ۔ اس روز نہ تو کوئی دھینگا مشتی ہوئی نہ ماراماری اور نہ کوئی نعرہ بازی ،،،،،میرے خوانچے پر آکر ایک دوسرے کو پان کھلانے لگے ،، سگریٹ پلانے لگے اور شام کو کہیں دعوت اڑانے کی باتیں کرنے لگے ۔ میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ آج ماجرا کیا ہے ،،،، تو وہ قہقہہ لگا کر بولے ،’ارے گھامڑ آج ہی تو ہم  نے عوام کو زبر