تازہ ترین

ایسابھی ہوتاہے

میں نے کئی بارانکے مین گیٹ کی دائیں جانب لگے کال بیل کا بٹن دبایا مگر اندرسے کوئی جواب نہ آیا۔ یہ سوچ کرکہ یاتوبجلی کٹ گئی ہے یاپھربیل ہی خراب ہوگیا ہوگا۔ میں نے گیٹ کوپہلے آہستہ آہستہ پھرزورزورسے پیٹناشروع کیا۔لیکن کوئی جواب نہ ملا۔کافی دیرتک یہ ورزش جاری رکھی ۔مگراندرسے نہ کوئی آوازآئی نہ ہی کوئی پوچھنے والا آیا۔سوچاکہ شایدگھروالے کہیں باہرچلے گئے ہونگے اورگھرکاکام کرنے والالڑکا مزے سے سویاہوگاکہ آج کوئی کام نہیں ہے چلوآرام ہی کریں۔ پھرسوچاکہ کیوں نہ ایک بارپھربیل بجائوں،گیٹ کوٹھک ٹھک کروں مگر اب کی باربھی خاموشی ہی نے اندرسے جواب دیا۔اب مجبوراً واپس ہونے کاارادہ کرلیا۔گلی سے گزرتے دو تین آدمیوں سے انکے بارہ میں پتہ کیاکہ یہ لوگ کہیں باہرتو نہیں گئے ہیں ؟ ۔لیکن اُنہوں نے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔ایک بزرگ نے بغیرپوچھے ہی ادھرسے ہی کہاکہ میں نے آج صبح ہی انکولان میں اخبارپڑھتے دیک

شہرِ حوادث

   وہ سراپا حُسن تھی…! وہ میر کی شاعری تھی…! وہ جھیل ڈل کے کنارے بہار کی خوبصورت شام تھی…! وہ گُلّاب تھی، جس پر اوس کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے…! اُس کو دیکھ کر ابنِ آدم سارے غم بھول جاتا تھا۔ مہربان شہرِ ظلمات کی بیٹی تھی۔ والدین کے سایہ عاطفت سے وہ تب محروم ہوگئی جب وہ صرف چار سال کی ننھی سی بچی تھی۔ اب اُس کی پرورش اُس کا ماموں غُلہ خان کر رہا تھا، جو شہر کا ایک مشہور تاجر تھا۔ ماموں کے گھر میں مہربان نے کئی حسین بہاریں دیکھیں۔ اب جوان ہوچکی تھی۔ قدرت نے اُس کو ہر طرح کی نعمتوں سے مالا مال کیا تھا۔ اُس کے خیالات، جذبات، احساسات اور چاہتیں اب عروج کو پہنچ چکی تھیں۔ مہربان شباب کے ابتدائی دور سے گزر رہی تھی۔ اُس کے رخسار کشمیری عنبریں سیب کے مانند سرخ تھے۔ نظریں اُسکے چہرے پر ماند پڑ جاتی تھیں۔ اُس کے سُرخ پتلے ہونٹو

اردو کی حفاظت بھی ناگزیر پر اُس کی صحت بھی لازم

   اردو زبان کی حفاظت دین کی حفاظت ہے ۔ اس بنا پر یہ حفاظت حسب استطاعت اور واجب ہوگی اور باجود قدرت اس میں غفلت اور سستی کرنا معصیت اور موجب مواخذہ ہوگا۔۔۔۔۔ امداد الفتاویٰ اوپر درج شدہ یہ بصیرت افروز اور فکر انگیز ارشاد حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کا ہے جو انہوں نے ایک فتویٰ میں بہت مفصل اور مدلل لکھا تھا۔ دراصل تحفظ اردو کے سلسلے میں کچھ بیدار مغز اہل قلم نے ایک مہم شروع کرنے کا پروگرام بنایا تھا اور مولانا موصوف کو اس کے ابتدائی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی تو اس موقعہ پر یہ وقیع مضمون اپنے تمام تر دلائل کے ساتھ بصورت فتویٰ لکھا تھا حالانکہ حضرت مولانا تھانوی ؒ کو اردو زبان و ادب کے ساتھ براہ راست ایسی وابستگی نہیں جیسے اُن کے بہت سارے مستر شدین مثلاً علامہ سید سلمان ندوی ؒ، مولانا عبدالماجد دریا بادی، خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ ، جگر ؔمراد آبادی، بسمل ؔشاہجہانپوری

افسانچے

   منتظر آج اس کی بے چینی اسکی نگاہوں سے عیاں تھی۔ ساحل بار بار فون کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آج اسکی محبت اسے فون کرنے والی تھی۔ قاصد کے ہاتھوں پیغام آیا تھا۔ وہ فون ہاتھ میں لئے بھٹکتا رہا اور انتظار کی یہ گھڑیاں گزارنے کی کوشش کرتا رہا۔ بار بار اسکی منتظر نگاہیں فون کی طرف دیکھ رہی تھی۔   ابھی آئے گا فون ، وہ جھوٹ تو نہیں بول سکتی' ساحل خود کو تسلی دے رہا تھا۔  پچھلے ایک سال سے اپنی محبت کا اظہار کئی طریقوں سے کرنے کے بعد آج اس نے بات کرنے کی حامی بھرلی تھی۔ وہ اسے صرف چند منٹ کی ملاقات بھیک میں مانگ کے آیا تھا۔ اسکی بے قراری ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ انکار کی وجہ پوچھے یا اقرار کی ضد کرے۔ معافی مانگے یا اسے مجبور کرے۔۔ایسے کئی سوالات اسکے چشم تصور سے پھوٹ رہے تھے۔  ان ہی خیالوں میں غرق و

وارث !

 ’’ او مائی گارڈ  ۔۔۔۔۔‘‘۔   شام کو دکان بند کرتے وقت غفور کا نسحہ اپنی میز پر دیکھ کر شاکر چونک پڑا ،اس کے دل میں کانٹے سے چبھنے لگے ۔وہ کچھ لمحے تذبذب کی حالت میں دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھتا رہا،پھر جلدی سے دکان بند کرکے غفور کے بارے میں ہی سوچتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑا ۔ غفور آج دوپہر کو نسخہ لے کر اس کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ۔ ’’شاکر بیٹا ۔۔۔۔۔۔ خدا کے لئے مجھے دوائی کی ایک دو ٹکیاں دے دو ،بلڈ پریشر سے میرا سر گھوم رہا ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ نسخہ اس کے سامنے رکھتے ہوئے وہ انتہائی لجاجت سے ہاتھ باندھ کر مریل سے لہجے میں منتیں کر رہا تھا ۔ ’’چل دفا ہو جائو یہاں سے۔۔۔۔۔۔ کیوں دھندا خراب کرتا ہے ۔۔۔۔۔ ڈراما باز کہیں کا۔۔۔۔۔۔‘‘۔ دوا فروش شاکر، جو گاہکوں کے ساتھ مصروف تھا ،نے تنگ آکر

انسان دوست افسانہ نگار اور شاعر ۔۔۔ بلراجؔ بخشی

عھدحاضرمیں اُردو افسانے کی دنیا میں بلراج بخشی کا نام ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔ ان کی شناخت ایک معتبر شاعر، ماہر لسانیات اور معروف ادیب کی ہے۔ گذشتہ چالیس برسوں سے وہ اردو شعرو ادب کی زُلفیں سنوار رہے ہیں۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ ان کی پیدائش جموں کے ایک رفیوجی کیمپ میں ہوئی۔ دراصل ان کے والد کرپا رام بخشی، پونچھ (موجودہ پاکستان) کے باشندہ تھے۔ ہجرت کا کرب انھیں بھی جھیلنا پڑا اور حالات کے پیش نظرانھیں جموں رفیوجی کیمپ میں پانچ چھ برسوں تک قیام کرنا پڑا۔ یہیں ۷ دسمبر ۱۹۴۹ء کو بلراج بخشی کی پیدائش ہوئی۔ کچھ عرصے بعد ان کا خاندان ادھم پور آ بسا اور جموں کشمیر کے ضلع ادھم پور میں یہ لوگ مستقل طور پر مقیم ہو گئے۔ انھوں نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ ان کا افسانوی مجموعہ ’ ایک بوند زندگی ‘ ۲۰۱۴ٗ میں شائع ہوا جس کی علمی و ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی ہوئی۔ ان کا شعری مجموعہ ز

ادھورا فسانہ …

 وہ ایک حسین و جمیل، میانہ قد،مناسب ڈیل ڈول کاحامل معاً شیریں گفتار،نرم روی،حْسنِ تعامل،صدق وصفا،دوست نواز،اور صلہ رحمی جیسے اوصاف حمیدہ کاآئینہ دار تھا۔ ابتدائی تعلیم سے لیکرڈگری تک نمایاں نمبرات سے کامیابی حاصل کی اس مناسبت سے اسے فوراً ایک کمپنی میں ملازمت مل گئی… کمپنی میں اچھی کارگردگی کودیکھتے ہوئے اسے سعودیہ کے ایک پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ میں بحیثیت سکریٹری طلب کیاگیا... کمپنی کے دوسرے ملازم احباب نے رئیس کو مبارکبادیاں دیں اور سب نے موقع سے فائدہ اٹھانے کامشورہ بھی دیا۔ حسبِ معمول رئیس دوسال کا ویزالئے سعودیہ پہنچ گیا،پہنچتے ہی کمپنی کے چیئرمین نے رئیس کے ضروری کاغذات ضبط کرلئے، ساتھ ہی عربی اور انگلش کے ملے جلے اسلوب میں کچھ ہدایات سے بھی نوازدیا۔ رئیس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہاتھا اسے اپنی آنکھوں پراعتبارنہیں ہورہاتھا آیایہ حقیقت ہے یاکوئی خواب…&

یوں بھی ہوتا ہے

 ہزاروں میل کی مسافت طے کرنے کے بعد جب اس نےوادئ یمبرزل میں قدم رکھا تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ واقعی وہ یہاں پہنچ گئی۔ ماہ نور بچپن سے ہی وادئ یمبرزل کی دیوانی تھی۔ اس نے اپنے والدین اور اپنے بڑے بزرگوں سے اس وادی کی خوب تعریفیں سنی تھیں۔ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی، یہاں کے خوبصورت جنگلوں، جھیلوں،آبشاروں اور ندی نالوں، چناروں، خاص کر یہاں کی زیارتوں کے بارے میں وہ بچپن سے سنتی چلی آ رہی تھی۔ اس کے بڑے بزرگوں کو یہاں کی زیارتوں سے بڑی عقیدت و محبت تھی۔اس لیے ماہ نور خوابوں اور خیالوں میں ہمیشہ یمبرزل وادی کی سیر کرنے کا ضرور سوچتی تھی۔ اس کا دل بے تہاشہ مچل جاتا تھا۔زبان سے کچھ نہ کہتی مگر دل ہی دل میں اللہ کے حضور دعا ضرور کرتی۔ وہ دعا مانگتی رہی اور اس کی دعا قبول ہو گئی۔ ماہ نور کے شہر میں شدت کی گرمی تھی اور ہرگزرنے والے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہورہا

کھیل نیا پُرانا

کہنے کوتولوگ حامدکونوکرشاہ کہتے تھے مگرخوداُس کی سمجھ میں یہ کبھی نہیں آیاتھاکہ آخرلوگ اُسے ایساکہتے ہیں توکیوں کہتے ہیں۔وہ ایک نوکرتوضرورتھا مگراس کی نوکری میں شاہی کاشائبہ تک نہیں تھا ۔البتہ اُس کی نوکری میں اقداراوروقار کاایک ملاِجلارنگ ضرورتھا۔ وہ سرکاری نوکری کو نوکری سے زیادہ خدمت ِخلق کا ذریعہ سمجھتاتھا۔اُسے نوکری میں شاہی کی نہ چاہت تھی نہ حاجت۔وہ توامیری کے راستوں میں فقیری کی خاک چھانتاپھرتاتھا ۔ کبھی کبھی ترنگ میں آکرکہابھی کرتا تھا ،’’نہ میں شاہ ہوں نہ شاہوں کانوکرہوں ۔میں توبس شاہوں کومسندِ شاہی پربٹھانے والوں (عوام) کا ادنیٰ ساخادم ہوں ‘‘۔ اُس کی زندگی کابڑاحصّہ جموں سے کشمیر اورکشمیرسے جموں سرکاری کاموں کیلئے آنے جانے میں گذراتھا ۔کوہِ پیرپنچال پر چڑھنااُترنا اُس کی زندگی کامعمول بن چکاتھا لیکن اُس سب کے باوجود اُسے کبھی بھی کشمیر میں جاڑو

روشن قندیل

اس نے سنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔! وہ لوگ اصلی روشنی کے دعویدار ہیں۔اس کی آنکھیں بھی اصلی روشنی کے لئے ترس رہی تھیں‘کیونکہ مصنوعی روشنی کی جلن اب آنکھوں کے بعد دل کی جانب بڑھ رہی تھی۔وہ شعبہ ٔ تحقیق کا ایک سینئر سائنس داں تھا۔اس کی زیرنگرانی کئی سائنسداں تحقیق کررہے تھے۔یہ شعبہ برسوں سے کائنات کے راز پر تحقیق کررہا تھا۔تحقیق کے دوران وہ اکثر سوچتا رہتا کہ کائنات کا نظام کوئی حادثہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک منظم پلان کا ثبوت فراہم کررہا ہے۔لیکن مصنوعی روشنی کے تصور حادثہ نے تو اس کی عقل کو بھی محسوسات تک محدود کرکے ایک حادثہ ہی بنائے رکھا تھا۔وہ تو برسوں سے ریسرچ میں کھویا ہوا تھااور سکون قلب پرسوچنے کیلئے اسے کم ہی وقت ملتاتھا ۔ گھر لوٹنے کے بعد جب دماغ میں انتشار کی بھٹی گرم ہوجاتی تو وہ سکون قلب کی خاطر مطالعہ و مشاہدہ کی مصنوعی روشنی میں دوبارہ کھو جاتا لیکن مصنوعی روشنی کی چمک آنکھوں کو

افسانچے

  ملال ’’مجھے پتہ نہیں کہ میں بھی اسی کالج میں داخلہ لوں گا کہ نہیں جس میں میرے باقی دوست جائیں گے‘‘۔منان نے باپ کے سامنے حتمی لہجے میں کہا۔     دیکھو !’’بیٹے سارے حالات آپ کے سامنے ہیں۔فی الحال یہ ممکن نہیں ۔۔۔مگر میرا وعدہ رہا کہ بارویں جماعت پاس کرنے کے بعد جس کالج میں کہو گے ایڈمیشن کرا دوں گا۔۔۔ابھی میرا کاروبار خسارے میں جارہاہے کہ گھر چلانا مشکل ہے اور اتنی بڑی رقم۔۔۔‘‘ نور نے پریشانی سے پیشانی ملتے ہوئے کہا۔سارا خاموشی سے باپ بیٹے کوسن رہی تھی۔ ’’ پلیز پاپا ۔ میرے ساتھ یہ ڈرامہ مت کریں۔۔‘‘منان نے گستاخی سے کہا۔ ’’تمیز سے بات کرو منان۔تمہارے پاپا ہیں۔‘‘ سارہ نے اسے ڈانتے ہوئے کہا۔’’پلیز مما آپ تو رہنے دیں۔دنیا جہاں کے والدین اپنے بچوں ک

شمس کمال انجم

  شاعری میں مثبت سوچ اور فکر کو تمام تر لسانی، فنی اورجمالیاتی محاسن کے ساتھ برتنا آسان نہیں۔ لیکن معاصر اردو شاعری میں شمس کمال انجم کا نام اسی بنا پر اپنی ایک منفرد شناخت کا حامل ہے کہ روز مرزہ کی زندگی کی طرح شاعری میں بھی مثبت اور تعمیری قدروں کو برتنا شمس کمال انجم کی فطرت میں شامل ہے۔ شمس کمال انجم کی غزلوں کے مجموعہ ’’لولوء منثور‘‘ سے شعر بہ شعر گذرتے ہوئے بار بار یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہر چند کہ شمس کمال انجم اردو کے صف اول کے معاصر غزل گوشعراعرفان صدیقی، عالم خورشید، سلطان اختر، عبد الاحد ساز، رفیق راز، خالد بشیر اور شفق سوپوری وغیرہ کے بعد کی نسل کے شاعر ہیں لیکن شمس کمال انجم کی غزل بولتی ہے کہ صرف اس بناپر ان کے شاعرانہ انفراد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں عربی ،اردواور اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر

نعم البدل

 وہ ایک بے حد اداس اور سوگوارشام تھی۔تانیہ مخدوم برآمدے میں پڑی ہوئی کرسی پر چپ چاپ بیٹھی ہوئی تھی۔رشتہ دار اور دوست احباب اس کی نرالی و نایاب ہمت کی داد دیتے ہوئے ابھی ابھی پرسہ دے کر گئے تھے۔ اس کے ابومخدوم حیات کوگزرے آج تیسرا دن تھا۔ دریں اثناء اس کے غیر معمولی جرات مندانہ اقدام پر تعریف و توصیف پر مبنی بے شمار فون کالز بھی موصول ہوئے تھے۔ لیکن اس خلافِ دستور ارتکابِ عمل  کے نتیجے میں اس کے دل کا چین وسکون درہم برہم ہوچکا تھا۔وہ خود کواپنے ابو کی مجرم اور اپنے عجیب فیصلے کوناقابلِ معافی گردان رہی تھی ۔ ’کاشانہء مخدوم ‘ جوکل تک اسکی شادی خانہ آبادی کی تیاریوں کی گہما گہمی سے پُر ہنسی اور شادمانی کی آماجگاہ بنا ہوا ماتم کدے میں تبدیل ہوچکا تھا۔ افسوس کہ اس در پر ایک خاصے لمبے عرصے بعد خوشیوں نے دستک دی لیکن استقبال سے پہلے ہی الٹے قدموں لوٹ گئیں۔  &

گرگٹ

کیفے کے احاطے میںقرینے سے بینچ اور ٹیبل لگے ہوئے تھے۔ ان کے بیچ تراشیدہ سنگ مر مر کا واحد بینچ جاذب نظر بنا ہوا تھا،جو احاطے کے ایک سرے پر نصب تھا۔نز دیک کھڑے  چنار کے درخت چلچلاتی دھوپ میںبینچوں پرگپ شپ میں مصروف لو گوں پراپنی چھائوں بکھیر دیتے تو خوب صورت نسوانی چہرے اور زیادہ پُر کشش لگتے۔ وہیں ان کے اغل بغل میں موجودمردوں کے چہرے بھی اس ٹھنڈی چھائوںسے نکھر جاتے۔جو ن کا مہینہ تھااس مہینے کیفے میں بہت زیادہ بھیڑ رہتی تھی۔ہر عمر کے لوگ آکر یہاں گھنٹوں گزار دیتے اور کافی پیتے ہوئے پیار و محبت کی باتیں کرتے رہتے۔ بوڑھے جوڑے اپنے ماضی کی کتاب کے اوراق پلٹ پلٹ کرایک دوسرے کے ساتھ گزارے پل پل کومزے لے لے کر یاد کرتے اور ٹھاٹھیں مار مار کر ہنستے رہتے۔کیفے کے جنو ب کی طرف ایک صاف شفاف پانی کی ندی بھی بہہ رہی تھی جس کے کناروں پر بیٹھ کر کچھ لوگ پانی میں پیر ڈبوئے اپنے بدن کوٹھنڈک کا احس

نیلا سراب

نفرت کے بیاباں میں ،میں نے محبت کی چھوٹی سی حسین جنت بنا لی تھی۔مجھے اندیشہ تھا کہ جس شعلے کو میں اپنے اندر جگہ دے رہی ہوں وہ ایک دن مجھے خاکستر کرکے میرے لئے متاع ِغم بن جائے گا مگر یہ بات میرے وہم و گماں میں بھی نہ تھی کہ زندگی مجھے اِک نیا سبق سکھانے والی ہے۔ ایسا سبق جو میرے بابا کی لائبریری میں جمع سینکڑوں کتابوں میںبھی موجود نہ تھا ۔نہ جانے میں یہ محبت کا گناہ کیوں اور کیسے کر بیٹھی تھی؟ مگر اب جو کچھ ہونا تھا ہو چکا تھا۔ اب قدم پیچھے ہٹانا میرے لئے محال تھا۔ و یسے محبت عام دُنیا والوں کیلئے کوئی بڑا گنا ہ تو نہیں مگر میرے لئے تو تھا کیوں کہ میں ایک ایسے شخص سے دل لگا بیٹھی تھی جس کومیں صرف بغاوت کی صورت میں حاصل کر سکتی تھی۔ نہ جانے کیسے کر بیٹھی تھی میں محبت اُس نیلی آنکھوں والے سیراب نامی شخص سے، جس کے متعلق میں بابا کے منہ سے بچپن سے یہ جملہ سُنتے آر ہی تھی ’&rsqu

گلزارؔ حضرتبلی

غلام محمد خان متخلص بہ گلزار ؔحضرتبلی درگاہِ شریف حضرتبل کے ایک تاجر کے متوسط تجارت پیشہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے اسلاف محنت ومشقت کر کے گزر بسر کرتے تھے۔ نہ کوئی زمین و جائیداد تھی اور نہ کوئی دولت وجاگیر ہی۔زندگی سخت محنت اور مشقت میں گزاری اور حلال کی کمائی پر اپنی اور اپنے اہل و عیال کی پرورش کرتے رہے ۔ گلزار ۲۵؍دسمبر کی رات کو انتقال کرگئے۔ عمر ابھی زیادہ نہ تھی، یہی ستر سال کے آس پاس ہی ۔کشمیر یونیورسٹی میں ملازم تھے اور نوکری سے سبکدوش ہوچکے تھے لیکن آج بھی فعال اور متحرک زندگی گزارنے کے عادی تھے اور مصروف رہتے تھے۔چاک و چوبند بھی اور رواں دواں بھی۔ آج سے لگ بھگ نصف صدی قبل والے کشمیری معاشرے کا تصور کتنا کیف آور اور مسحور کن ہے۔آج کے کشمیری معاشرے سے ہر لحاظ سے بالکل مختلف اور بالکل الگ۔ کئی کئی کنبے ایک ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے اطمینان و سکون کے ساتھ زندگی بس

بزدل

  ’’ یہ محبت کا جنون ہے  فرہاد  ۔۔۔  میری محبت کا جنون ۔ ایسی محبت تمہیں کسی اور سے کہاں ملے گی۔۔۔ کون ہے جو اس طرح سے تیرا راستہ روکے ۔۔۔  تیر ا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سر راہ اتنا کچھ سوچے کہ بات سوچ کی انتہاتک جا پہنچے۔۔۔ اور وہ کچھ کرگزرے کہ سوچ بھی محوِ سوچ ہوکر سوچتی رہ جائے۔ ‘‘  ’’  ایسی محبت ہمارے یہاں نہیں پنپ سکتی  شیریں۔۔۔ ایسے جنون کی سزا بہت بھیانک ہے یہاں ۔‘‘ یہ دل دہلادینے والی آدھی چیخ تھی ۔ پھر موت کی سی خاموشی چھا گئی ۔ شاید عورت کا منہ سختی کے ساتھ بند کردیا گیا تھا اور باقی آدھی چیخ اس کے گلے میں ہی اٹک کر رہ گئی تھی۔ شیریں سوچ کی وادی سے ہڑ بڑا کر باہر نکلی ۔ اس نے آہستہ سے کھڑکی کے پٹ پر دبائو ڈالا ۔ چھوٹی سی جھری بنا کر باہر دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ چار آدمی کسی

اُردو فکشن کی ملکہ ۔۔۔۔قرۃالعین حیدر

ااس میں شک نہیں کہ اردو فکشن قرہ العین حیدر کے کارناموں کے بغیر ادھورا ہے۔عینی آپا یعنی قرۃ العین کا خاندان نہٹور اترپردیش کا تھا مگر ان کی پیدائش علی گڑھ میں ۲۰ جنوری ۱۹۲۸کو ہوئی۔ایران کی مشہور شاعرہ قرۃ العین طاہر ہ کے نام پر والد سجاد حیدر نے ان کا نام قرہ العین حیدر رکھا۔لکھئنو یونیورسٹی کے ازا بیلا تھوبرن کالج سے گریجویشن کے بعد ۱۹۴۷میں پاکستان اور انگلینڈ رہنے چلی گئیں۔۱۹۶۰میں ہندوستان آگئیں اور پھر ممبئی میں قیام کے بعد آخر تک نوئیڈا میں قیام رہا۔انھوں نے شادی نہیں کی۔ملان کندیر اور گیبرئیل مارکیز ان کے معاصر ین ہیں ،جن سے ان کا موازنہ کیا جاتا ہے اور مانا جاتا ہے کہ ان کا ادب زمان ومکان کی قید سے ماوراہے۔عینی آپا کسی ازم ،تنظیم یا انجمن سے ہر گز وابستہ نہیں رہیں، جن کی در پردہ حمایت انھیں ادبی شناخت دلانے میں معاون ہوتی ،لیکن اس کے باوجود انھوں نے خود کو اس مقام پر فائز کرا

گھائل

شباش بچو، پڑھو’’ یہ سلطان ہے‘‘۔ بچے پھر جوش میں آکر اونچی آواز میں زور زور سے پڑھتے تھے’’ یہ سلطان ہے ‘‘ صرف ایک بچہ ندیم نہیں پڑھتا تھا۔۔۔۔ ندیم جونہی سلطان کا نام سنتا تھا وہ غصے سے لال ہو جاتا تھا۔ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر اور عجیب آواز یں نکالتا تھا اَوِی۔ اَوِی۔ اَتھو۔ بچے ندیم کو دانستہ طور میرے ہی پیر ڈ میں اُکساتے تھے اور ’’ یہ سلطان ہے‘‘ کی رٹ لگا کر ندیم کا غصہ ابھارتے تھے۔ سچ پوچھو تو ندیم نہ کند ذہن تھا اور نہ ہی ضدی اور شرارتی ۔ سارے مضامین کلاس روم میں بڑے دھیان دے کر پڑھتا تھا۔ بس اردو کے پیریڈ میں بھڑک اُٹھتا تھا۔حالانکہ ندیم فطرتاً ایک نتہائی پسند بچہ تھا۔ لنچ بریک میں جب سارے بچے اُدھم مچائے پھرتے تھے وہ سکول کے لان کے کسی کونے میں اکیلا بیٹھتا تھا! ’’ اس کے پیچھے کیام

منزِل

ہم نے بہت کوشش کی تھی کہ انہیں بازیاب کرالیں پر کامیابی نہ ملی۔ جب وہ چلے گئے تو انہوں نے پیچھے مڑ کربھی نہیں دیکھا ، خوبصورت رشتے کو توڑنے کے لیے رقیبوں نے پہلے سے ہی جال بچھا رکھا تھا۔ وہ رقیبوں کی باتوں میں آنے والے نہ تھے مگر بھروسہ، اعتماد، وشواس تب جواب دے گئے جب وہ ان رقیبوں کی باتیں سننے کے لیے تیار ہوگئے۔ یہ سب دیکھ کر میرا بدحال ہونا لازمی تھا۔ مجھے خوبصورت رشتہ بکھرتا ہوا نظر آنے لگا۔میںاپنی آنکھوں کے سامنے مضبوط رشتے کو کانچ کے ٹکڑوں کی طرح بکھرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ یقین اگرچہ نہیں آرہا تھا۔لیکن رشتہ آہستہ آہستہ زائل ہونے کا احساس توضرور ہو رہا تھا۔مگرحقیقت میں ایسا کچھ نہ تھا بلکہ یہ میری غلط سوچ تھی،ڈر تھااُنہیں کھونے کا اور شاید وہم بھی۔آخر وہ ماضی کی خوبصورت یادیں، حسین پل،مسرت بھر ے لمحات، غم اور خوشی میں ایک ہونے کے خوبصورت احساسات کو کیسے بھول سکتے تھے۔بچپن کے