تازہ ترین

حئی علی الفلاح

میجر نیاز علی باتھ روم سے نہا کر تازہ دم ہو کر نکلا توکمرے میں پھیلی خوشبو سے اس کے مُنہ میں پانی بھر گیا،کیوں کہ ٹیبل پر بھنے تلے گوشت سے بھری پلیٹیںاور اس کی من پسند ولائیتی شراب کی بوتل اس کے منتظر تھے۔وہ من ہی من میں طئے کر چکا تھا دو تین پیک حلق سے اتار کر کچھ دیر آرام کر لے گا ،کیوںکہ رات بھر ریل گاڑی میں محو سفر رہنے کے سبب اسے شدید تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔  ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے وہ جونہی نائو نوش کی غرض سے صوفے پر بیٹھ کر بوتل کا ڈھکن کھولنے لگا تو نزدیکی مسجد شریف سے موذن نے اللہ اکبر کی منادی کردی، جسے سنتے ہی وہ رک گیا، اس کے ذہن نے نہ جانے کون سی کروٹ لی کہ چہرے پر اچانک فکر وپریشانی کے آثارنمایاں ہونے لگے۔حالانکہ نماز روزہ تو دور کی بات رنگین مزاج میجر کو مسجد کا دروازہ تک معلوم نہیں تھا۔اس کے مسلمان ہونے کے لئے صرف اتنا کافی تھا کہ اس نے ایک مسلمان گھرانے

زندگی

 کُتا بھونکا اور زندگی بدک گئی…… زندگی اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اُس نے اپنے کھلونے اپنے ارد گرد پھیلا کے رکھے تھے۔ کھلونے وہیں چھوڑ کر وہ بھاگ کھڑی ہوئی۔ کُتا اب لگاتار بھونکنے لگا۔ یہ بھونک روز مرہ کی بھونک سے کچھ ہٹ کر تھی۔ اس میں فکر، خوف اور غصہ شامل تھا۔ خوف زدہ زندگی نے سب کی طرف ایک نظر دوڑائی، تھوڑی دیر رُکی، سوچا اور پھر لپک کر باپ کی گود میں بیٹھ گئی۔ ایسا اکثر تب ہوتا ہے جب کسی جنگلی جانور کی بُوپا کر بستی کے کُتے بھونکنے لگتے ہیں۔ یہ جنگلی جانور خوراک کی تلاش میں انسانوں کی بستی کا رُخ مجبوری میں ہی کرتے ہیں۔ کُتے جہاں خود چوکنا ہوجاتے ہیں وہیں بستی کے لوگوں، یعنی اپنے مالکوں، کو بھی خبردار کردیتے ہیں۔ اُس وقت اُن پر خطرہ بھی منڈلاتا رہاہے۔ کبھی کبھی اُن کی جان بھی چلی جاتی ہے لیکن اپنے فرض سے منہ نہیں موڑتے۔ وفاداری کی نظیر ہیں یہ کُتے۔

بدلائو

  یہ جون کی تپتی دوپہر تھی۔سورج اپنے جوبن پر تھا۔اصغر کا حلق جیسے سوکھ گیا تھا۔بھوک سے اس کی ہمت جواب دے رہی تھی۔ایسے میں اصغر کو یاد آیا کہ فریج میں کولڈڈرنک اور کچھ کھانے کی چیزیں موجود ہیں۔آج تو میرا روزہ ہے وہ بھی پہلا۔نہیں نہیں۔۔۔میں ایسا نہیں کرسکتا۔ہاں تو کیا ہوا ویسے بھی یہاں کون دیکھ رہا ہے ؟لفظ ہونٹوں پرکا نپنے لگے تھے۔۔۔۔ہاں۔۔ہاں۔۔۔نہیں۔۔۔اللہ کی نگاہ ہر ایک پر ہوتی ہے۔دادی اپنے کمرے میںنماز پڑھ رہی ہے ۔امی اور با با ویسے گھر پر نہیں ہیں۔ارم ابھی بہت چھوٹی ہے اس کو کیا پتا ۔۔۔ اپنی چھوٹی بہن کا خیال آتے ہی اصغرسوچ میں پڑ گیا۔ارم کو کیا پتا روزہ کیا ہوتا ہے۔اب اصغرکے دل ودماغ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑرہے تھے۔فریج میں قسم قسم کے کھانے اور لذیذمیوے صاف نظر آرہے تھے۔یہ لذیذ میوے سوکھے حلق کو سیراب کر سکتے تھے۔آخر اللہ کی ناراضگی کے خوف کاخیال غالب آنے لگا تھا۔ اصغر ن

ماں کاآنچل

جاویدگھرکے باہر آنگن میں پڑی چارپائی پربس یوں ہی سستارہے تھے۔ وہ باربار اِدھرسے اُدھرکرو ٹیں بدل رہے تھے۔وہ سوناچاہتے تھے مگر ایسالگتاتھاکہ کوئی اہم خیال انہیں مسلسل ستارہاہے ۔ اس دن گھرمیں کوئی اورنہ تھا۔ صرف ہم ہی دوتھے۔ گھرکے دوسرے لوگ کسی نہ کسی کام کی وجہ سے باہرتھے۔ اس لئے گھرمیں خاموشی اورسکون کاماحول تھا۔انہوں نے لیٹے لیٹے ہی مجھ سے کہا۔ نجمہ! آج نہ جانے کیوں میرے دِل ودماغ کے دروازے پروالدہ مرحومہ کا خیال شدت سے دستک دے رہاہے ۔مجھے بارباران کی یاد آنے لگی ہے۔ان کی شفقت، محبت اورہمدردی مجھے حدسے زیادہ بے چین کررہی ہے۔ ان کے ساتھ گذاری ہوئی زندگی کی یادیں مجھے کس قدرفرحت اورسکون عطا کررہی ہیں!! ہائے وہ کیادن تھے؟ کیاسکون واطمینان تھا ان دنوں؟ کیاپیارتھا ماں کی صحبت میں اورکس قدرراحت تھی ماں کے آنچل تلے ۔ نجمہ تمہیں معلوم ہے آج مجھے ماں کی کون سی بات زیادہ یاد آرہی

معصوم

   ’’چلو ببلو اٹھو ۔۔۔۔۔۔ اٹھو اٹھو د یر ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔‘‘۔    ’’مما ۔۔۔۔۔۔ مجھے سونے دو نا پلیز ۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔    ’’نہیں بیٹا اب اٹھو بھی۔۔۔۔۔۔ مُنہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کرلو اور سکول کے لئے تیار ہوجائو‘‘۔    ماں نے کمال شفقت سے اس کے سر کے بال سہلاتے ہوئے کہا۔    ’’نہیں مما ۔۔۔۔۔۔ میں سکول نہیں جائوں گا۔۔۔۔۔۔ میں اپنے آپ کو مار ڈالونگا۔۔۔۔۔۔‘‘۔    سکول کا نام سنتے ہی وہ ایک دم جھنجھلاتے ہوئے اٹھ کر بگڑے بچے کی طرح غصے سے چیخ پڑا اور زور زور سے رونا شروع کردیا۔    ’’ اچھا بیٹا ۔۔۔۔۔۔ سکول مت جائولیکن ناشتہ تو کرلو ‘‘۔    ماں نے اس کی حالت بھانپ کر مسکراتے ہوئے نرم لہ

پروین کمار اشکؔ کی غزل اور شخصیت پر ڈاکٹریٹ

بر  ِ صغیر کے ممتاز صوفی غزل گو پروین کمار اشکؔ کی غزل کوئی اور شخصیت پر دربھنگہ یونیورسٹی (بہار) کی ایک طالبہ ناصرہ خاتون کو یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی سند تفویض کی گئی ہے۔ تقریبا ً  دو سو پچاس صفحات پر مشتمل  اِس تحقیقی مقالے میں پروین کمار اشکؔ کی غزلیہ شاعری کے امتیازی پہلوئوں کو خوب روشن کیا گیا ہے ، جس میں اشک کی صوفیانہ شخصیت کے کئی گوشے خوش ظہور ہوئے ہیں۔ دربھنگہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ اور ناصرہ خاتون کے نگران  ڈاکٹر احتشام الدین نے یہ خبر فون پر سنائی ۔  اِس خبر سے اردو ادب کے با ضمیر اور سچے پرستاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ہم سب پروین کمار اشک صاحب کو اِس ادبی فتح یابی پر ڈھیروں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔  پروین کمار اشک گذشتہ چالیس برسوں سے اپنے ممتاز صوفیانیہ غزلیہ اسلوب اور منفرد موضوعاتی پیش کاریوں کے توسط سے اردو ادب کے

البیلا تانگے والا!

   اے مجید وانی احمد نگر ’’ایک سیدھا سادھا معاملہ ہے، مائی لارڈ! تانگے والے نے نہ صرف ایک بے زبان جانور کو تانگے کی زد میں لاکر ہلاک کیا ہے بلکہ ہاتھا پائی کے دوران جانور کے مالک کو بھی زخمی کر دیا ہے۔ لہذا! قانون کی رو سے اس کیلئے جو بھی سزا مناسب ہو، اُسے ملنی چاہئے‘‘ اتنا کہہ کر سرکاری وکیل واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ یہ کچھ چالیس برس پہلے کی بات ہے کہ جب ایک روز میں کالج جانے کیلئے گھر سے باہر آیا تو تھوڑی دور جنرل روڑ پر ایک تانگے کے ارد گرد لوگوں کی ایک اچھی خاصی بھیڑ دیکھ کر میں بھی اپنی سائیکل اُسی طرف بڈھائی تاکہ دیکھوں کیا معاملہ ہے۔ وہاں دیکھا کہ ایک بطخ خون میں لت پت تانگے کے نیچے مری پڑی ہے اور گریبان سے پکڑ کر ایک عورت تانگے بان کو برُ طرح پیٹ رہی ہے۔نزدیک جاکر جو دیکھا وہ اور کوئی نہیں ہمارے محلے کی حاجی صاحب، جو علا

مشتاق مہدی کی افسانویت

مشتاق مہدی کا تعلق جنت نشاں کشمیر سے ہے ۔ نہ جانے کیوں شمالی ہندوستان کے ناقدین شمالی ہند کے علاوہ ملک کی دوسری سمتوں پر نگاہ اُٹھا کر نہیں دیکھتے ہیں ۔ دورِ حاضر میں بھی کشمیر فکشن کے میدان میں کسی ریاست سے پیچھے نہیں ہے ۔ نور شاہ ، اشرف آثاری ، بلراج بخشی ، وحشی سعید کے ساتھ ساتھ مشتاق مہدی کا نام بھی فکشن کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ وہ پچاس برسوں سے برابر لکھ رہے ہیں ۔  جب ہم مشتاق مہدی کے افسانوں کو پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی دوسرے فکشن نگاروں پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ احساس ہمیں فوراََ ہو جاتا ہے کہ مشتاق مہدی کا اندازِ بیان اپنے ہم عصروں سے جدا اہمیت کا حامل ہے ۔ وہ اپنی بات کو قوتِ اظہار کے ذریعہ اس نوع سے صفحۂ قرطاس پر مرتسم کرتے ہیں کہ ایک نئے اسلوب کی اختراع ہو تی ہے ۔ زیادہ تر ان کا اسلوب ، بیانیہ پر منحصر ہو تا ہے ۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ ہر بنی نوع کے بات کرن

نقوش

 رات کا پچھلا پہر تھا اور آکاش پہ تارے تھک کر سو گئے تھے۔ دھرتی ماں گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی… کہیںکچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ صرف ذیبہ خالہ اکیلی اپنی جھونپڑی میں چھت گیر کی دھیمی روشنی میں چھت گیر سے یوں مخاطب تھی… ’’میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اندھیرا اُجالے کا دوست نہیں ہوسکتا؟‘‘ ’’روشنی کو ناش کرنے والا اندھیرا تمہارا ساتھی کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ ’’پھر اندھیرے کے ساتھ یہ کیسی ہمدردی؟‘‘ کاش تم نے میرا کہنا مانا ہوتا…آج تمہاری یہ حالت نہیں ہوتی! … تم آج روشنی کی ایک کرن کے لئے ترس رہے ہو… ابھی بھی وقت ہے مان لو… اندھیرا سراب ہے شکتی نہیں! پگلی! اندھیرے میں پرچھائیں بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہے… جس اندھیرے پر تم فریفتہ ہوئی… جسکو تم تاب

پرائی ماں

 گاؤں سے آئے ہوئے اب اُس کو لگ بھگ دو تین مہینے ہو گئے تھے۔اس شہر میںاُس کا کام کرنا بہت مشکل تھا۔ایک طرف یہاں کی گرمی ااور دوسرے طرف یہاں کے ماحول سے ناواقف ہونا اُس کے لئے اور مشکلیں بڑھا رہاتھا۔لیکن اُس نے ہمت نہیں ہاری اور برابر مقابلہ کرتا گیا ۔پہلے پہل جب وہ آیا تھا تو اس کی شکل سے ایسا اندازہ ہوتا تھا کہ زندگی میں کبھی نہایا ہی نہیں ہوگا۔شاید پانی کے ساتھ اس کی دشمنی چل رہی تھی اور کپڑے بھی ایسے پہنے تھے کہ لگتا تھا کہ سالوں سے اس کے کپڑوں نے کبھی پانی ہی دیکھا ہی نہ ہوگا۔کسی سے بات نہ کرنا اور صبح نکل کر شام کو لوٹ آنا۔کپڑوںسے بھی ایسی بو آتی تھی کہ لوگ اس سے دوردور بھاگ جاتے تھے ۔پہلے پہل تو وہ ہر روز ایک ہی شرٹ پینٹ پہن کر کام پر جاتاتھا لیکن شہرکے بعد اس کی زندگی تھوڑی تھوڑی بدلنے لگی۔ایک چیز اس میں ضرور تھی وہ تھی محنت ،جو وہ بہت کیا کرتاتھا۔صبح سے شام اور کبھی کب

ہاوس ہسبنڈ

 اللہ جلہ شانہ نیک ہدایت فرمائے اُن لوگوں کو جنہوں کے کرفیو رائج کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اُن کو بھی جنہوں نے کرفیو کا توڑ کرنے کے لئے احتجاج ایجاد کردیا۔ ان دونوں ایجادات کو جدت عطا کرنے اور وقت کے تقاصوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ان میں وقتاََ فوقتاََ تر میمات اور اصلاحات ہو تی رہتی ہیں۔ کرفیو کے ساتھ دفعہ 144 ، مکانوں، دوکانوں ، گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، مکینوں کی مارپیٹ اور گرفتاری وغیرہ۔ احتجاج میں دکانیں بند، بازار بند، جلوس، اِدھر چلو، اُدھر چلو ، نعرے بازی اور پتھرائو وغیرہ۔ دونوں فریق موقع محل کے ساتھ ساتھ اپنی حکمت عملی بدلتے رہتے ہیں۔۔۔ بات بہت دنوں کی نہیں ہے کہ جب سال کا بچپن اور لڑکپن قدرے حسبِ معمول رہے لیکن جوانی جلوہ افراز ہوتے ہی چشم بد کا شکار ہوگئی، یعنی جوانی آتے ہی خزاں۔۔۔ چارسُو سناٹا اور سنسنی۔ مرد و زن، طفل شیر خوار اور کبر رسن سب کے سب محصور، چار دیواری کے اندر ق

گھروندے

اس کی زندگی کا سورج اب لب بام آچکا تھا۔وہ آج تھک ہار کر زندگی کے پل بھر کے لمس کو دھیرے دھیرے غیر محسوس رویہّ سے چھوڑ رہا تھا ۔ آخری بار اُس نے اب اپنی تھکی ہوئی آبدیدہ پلکوں کو بڑی مشکل سے اٹھایا تھا۔ تو اُس کا دھیان اب گردشِ ایام پر اب جا رہا تھا، جہاں اس کا بچپن ، لڑکپن اور خاص کر شبّاب کا حسین سا دور اچھلتا ،کودتا اور رقص میں مخمورایک دھندلکا سا رہ گیا تھا، جس کا بس کوئی حسین سا لمس اس کی آنکھوں سے  ٹپ ...ٹپ....کر کے برس رہا تھا۔ شایدسارا، اس کے سرہانے اس کے آخری انفاس کوبڑی کرب سے الوداع کہنے کیلئے بے قرار سی تھی، کو دیکھ کر اس کو کئی کہانیاں یاد آکے رہ گئیںتھیں...... !...وہ بچپن کی شادی ....! ...تصور ازدواج سے پرے، دونوں کا دن بھر گھر سے غائب رہ کر دریا کے کنارے گھنے پیڑوں میں گھروندوں کی آرایش میںغمِ حیات اور دنیا کے ہنگاموں سے ماورا ہوکے بے غم سرمستیاں کرناجب تک سو

درد سے بھر نہ آئے کیوں؟

 آج پہلی بار انتہائی سنجیدگی سے تجھ سے ہم کلام ہوں۔  ویسے تو روزانہ ہی کسی نہ کسی بہانے تم سے کلام کرتا رہتا ہوں۔ چاہے وہ خوشی کا مقام ہو یا پریشانی کا عالم۔ غم دوراں سے دل برداشتہ ہوں یا غم جاناں سے مضطرب۔ہر حال میں تجھے یاد کرتا رہتا ہوں،لیکن آج کچھ عجیب سے الجھن بھرے احساس نے تیری چوکھٹ پر لا کھڑا کر دیا ہے، جس احساس کو میں کوئی نام دینے سے قاصر ہوں۔ تم میری زندگی کے ہر اتار چڑھاؤ سے بخوبی واقف ہو، کیونکہ تم ہی ظاہر و باطن کے گواہ ہو۔  تیرا بہت بہت شکریہ کہ تو نے زائد از نصف صدی پر محیط عرصے سے میرا ساتھ نبھا یا ہے اور اس احسان کا احساس تک نہیں ہونے دیا ہے۔ ہاں! تیرا احساس کبھی کبھی خود بخود شدت سے ہو جاتا ہے۔ مجھے زندگی کا ہر لمحہ بخوبی یاد ہے۔ چاہے وہ مسرتوں سے بھرپور شادی کے لمحات ہوں یا غم و اندوہ میںڈوبے ہوئے وہ لمحے جب والدہ صاحبہ اس دارِ فانی سے چل بسیں۔

کار خیر

 گل محمد نے دین داری اور دنیاداری کو آج سے چالیس برس پہلے اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ جب ان کی ماں حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے پورے خاندان کو روتا بلکتا چھوڑ گئی تھیں۔گل محمد کی عمر تب اٹھارہ برس کی تھی اور وہ بارہویں جماعت کا امتحان پاس کرچکے تھے۔وہ خدا داد صلاحیتوں کے مالک تھے۔انتہائی ذہین؛خوش مزاج وخوش اخلاق؛تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ان کی کوئی بہن نہیں تھی۔ان کے والد صاحب میونسپل کمیٹی کے چیرمین تھے۔ماں جیسی عظیم نعمت کہ جس کے دل میں اپنی اولاد کے لیے صرف اور صرف محبت رہتی ہے۔آج زمین وآسمان کی حد بندیوں سے کہیں دور آگے نکل گئی تھی۔ ہمیشہ کے لیے اپنی اولاد کے دلوں میں چھوڑ گئی تھی دائمی جدائی کا غم۔ گل محمد نے اپنی آنکھوں گھرسے اپنی ماں کا جنازہ لوگوں کے ہجوم کی صورت میں نکلتے دیکھا تھا۔قبرستان پہنچ کر نمازجنازہ پڑھنے کے بعد جب انھوں نے اپنی ماں کی کھودی ہوئی قبر دیکھی

آنکھیں

   ’’ دیکھ بیٹی ۔۔۔۔۔۔ ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں تمہاری ہی خوشی کے لئے کر رہے ہیں۔تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ اپنی ضد چھوڑ کر ہماری بات مان لے‘‘ ۔ ماں نے پیار سے اداسی میں ڈوبی نازنین ،جس کی حالت انگور سے کشمش ہو تی جا رہی تھی، کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ’’مما ۔۔۔۔۔۔وہ اس میں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ نازنین،جس کے رگ و ریشے میں ماں کی بات    سے درد کی ایک تیز ٹیس اٹھی ، نے ہمت کرکے کچھ بولنا چاہالیکن آواز جیسے اس کے حلق میں ہی اٹک گئی۔وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں گئی ،اس کی آنکھوں سے تیز تیز قطار در قطار آنسوںگر کر ایسے ٹوٹنے لگے جیسے شبنم کے قطرے چوٹ کھا کھا کر ٹوٹ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ’’ نازنین ۔۔۔۔۔۔ آنسو مت بہا، نازنین ۔۔۔۔۔۔ تمہاری غزالی آنکھوں میں یہ آنسو مجھے بالکل اچھے نہیں لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ موتی جی

کتا

میں حسب معمول صبح سویرے سیر کرنے کو نکلا.دوڑتے دوڑتے پارک میں پہنچا، لیکن آج پارک خالی تھی کیونکہ ہلکی ہلکی بارش اور سردی کی وجہ سے لوگ شاید ابھی لحافوں کے اندر ہی دبکے ہوئے تھے۔ آج میں بالکل تنہا تنہا تھا۔ان تین سالوں میں یہاں بہت سارے لوگوں سے جان پہچان ہوئی..پاس کے انور خان، سامنے والی کالونی کے لہر سنگ،انکے لنگوٹیا یار احمد جان،سشیل کمار اور میری کالونی کے رجب صاحب۔ الگ الگ شکلیں الگ الگ مزاج،لیکن سبھوں کو میری طرح کتوں کا ڈر۔چھڑی کے بغیر کوئی مارننگ واک کے لئے نہیں نکلتا۔میرے ہاتھ میں بھی میرے آنگن کے شہتوت کے پیڑ کی لچک دار چھڑی تھی۔میدان بالکل خالی تھا.اب بارش تیز ہونے لگی،تو میں نے گھر کی طرف واپس جانا مناسب سمجھا۔میں ابھی چلتے چلتے بیچ میدان میں ہی پہنچاتھا کہ میدان کے اندر دو کتے گھس آئے۔وہ ایک دوسرے کو چھیڑ رہے تھے۔کبھی ایک دوسرے کے پیچھے کبھی دوسرا پہلے کے اوپر ، کبھی د

وعدۂ خدا

وہ لائبریری میں میرے روبرو کرسی پر براجمان تھی۔اُس نے آخری مرتبہ میری آنکھوں سے آنکھیں ملائیں۔اب کی بار وہ شاید حتمی فیصلہ لینے والی تھی،اسی لئے شایداتنی گہرائی سے میری آنکھیں پڑھ رہی تھی۔پھر کچھ دیر بعد ہی اُس نے اپنی بادامی آنکھیں بند کرلیں اور یادوں کے گہرے سمندر میں ڈوب گئی۔چند منٹوں کے لئے لائبریری میں سناٹا چھایا رہا اور اور بالآخر مختصر توقف کے بعد اُس نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور ہولے سے اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر اپنا فیصلہ سُنانے لگی۔۔۔فیصلہ میرے حق میں ہی تھا۔۔۔وہ اپنی زندگی کا سفر میرے سامنے بیان کرنے کیلئے راضی ہوچکی تھی۔ اندھیری گھٹاؤں سے روشن شعاؤں تک کا سفر،عشق ِمجازی سے عشق حقیقی کا سفر،نتاشا مہتا سے فاطمہ بننے کا سفر۔۔۔۔۔۔ دل واقعی ایک نرالی بستی ہے۔اس بستی میں کب کوئی آکر آباد ہوجائے،اس بات کا انسان کو علم ہی نہیں ہوتا۔نتاشا اگرچہ یونیورسٹی پہنچنے تک&rsq

سوچتاتھا کیا؟ کیا ہوگیا؟

  یونیورسٹی سے بی ۔فارمیسی کرنے کے بعد تینوں دوست اس قدر خوش تھے کہ پھولے نہیں سماء رہے تھے۔شاید اب اُن کو اپنی منزل صاف صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ان میں سے ایک لمبے قد کا تھا جو باتوں سے شریف اور دل سے نرم لگ رہا تھا ۔یہ دونوں اس کو ’راج‘ کے نام سے پکارتے تھے ۔ایک عینک والاپتلا لڑکا تھا، جس کا نام ’رام ‘تھا اور تیسرا لمبی لمبی مونچھوں والا ’شام ‘تھا۔تینوں کی دوستی کافی گہری تھی اور تینوں سول سروس کی تیاری کے بارے میں سوچ رہے تھے ۔اور ایک دوسرے سے گفتگو میں مصروف تھے۔ راج   ...... میں آج بہت خوش ہوں کم سے کم بی ۔فارمیسی ہوہی گیا۔اب تو نوکری پکی ہے۔ شام   ...   ہاں سارے ہندوستان میں خالی ہم تین ہی تو ہیں جنہوں نے بی۔فارمیسی کیا ہے جو نوکری پکی۔!  رام   ....  ہاں یار، لڑکے تو بہت ہیں لہٰذا ہمیں کسی اور ا

مْکھوٹا

اولڈ ایج  ہوم کے ریکریشن ہال کی دیوار پر آویزاں بڑے ایل سی ڈی پر اْس کا بدھا چہرہ صاف دکھائی دیتا تھا ____،،، ہال میں بیٹھی ہوئی بہت ساری بزرگ عورتیں اْس کی تقریر ہمہ تن گوش سْن رہی تھیں ،، شانتی نے اپنی آنکھوں پر نظر کی عینک چڑھائی اور غور سے ایل سی ڈی کو دیکھنے لگی __،،وہ کہہ رہا تھا،، مْنش  کے جیون میں ماں شبد کا مہتو کیا ہے ، یہ بتانے کی کدا آؤشکتا نہیں ہے __پرنتو ، میں یہ کہے بغیر نہیں  رہ سکتا کہ ماں سنسار کا وہ پوتر شبد ہے جس سے انسانی وجْود کا دارو مدار ہے __یہی وہ دیوی ہے جس نے بڑے بڑے رشی مْنیوں اور اوتار وں کو جنم دیا ہے __ بد نصیب ہیں وہ لوگ جن کی مائیں نہیں ہیں اور خوش نصیب  ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر ماؤں کی چھایا موجْود ہے،اْنہیں چاہئے کہ اس موقعے کا لابھ اٹھا کر اپنی ماؤں کی خوب سیوا کریں ____،،، پری جنو!  آپ سوچ رہے ہونگے ،میں

پاکیزہ حقیقت

  برسہا برس کا دراز عرصہ تو ہو ہی چکا ہے ہمیں آپس میں بات چیت بھی کئے ہوئے۔ اُن دنوں ایک ایک کرکے تمہارے سبھی دوست تم سے دور ہوتے چلے گئے۔ تم سب کے ہوتے ہوئے بھی تنہا رہ گئے۔ اس کے باوجود تمہیں قطعی پرواہ نہیں تھی کہ تمہاری زندگی میں کون آرہا ہے اور کون جارہاہے۔ تم پر تو فقط جائز و ناجائز طریقوں سے اپنی آمدنی بڑھانے کا جنون سوار تھا۔ تم نے ابھی روپے کی ہلکی سی جھلک ہی دیکھی تھی کہ تم کس قدر مغرور، بدزبان، بداخلاق و بدچلن ہوگئے، تمہیں یاد ہی ہوگا۔ تم دولت کے نشے میں اس قدر غرق ہوتے چلے گئے کہ تمہیں احساس تک نہ ہوا کہ کب یہ بدعتیں تمہاری فطرت میں سرائیت کرکے لہو کی طرح تمہارے وجود و حواس میں دوڑنے لگیں۔ تمہیں لگنے لگا کہ سبھی تمہاری ترقی سے جلتے ہیں۔ تم سب سے افضل ہوگئے ہو لہٰذا تم دوسروں سے کنی کاٹنے لگے۔ تمہارا روکھا پن روزبروز بڑھتا گیا اور ایک دن تمہیں مکمل طور پر دوستی ک