تازہ ترین

سماج

گورے گاوں کے کاکا رام کی بیوی پھولاں دیوی مویشیوں کی بڑی شوقین تھی۔ایک بھینس،کالے رنگ کی دودھ دینے والی گائے اوراس کی بچھیا،سفید رنگ کی دو بھیڑیں،ہرنی جیسی ایک بکری اور کالے رنگ کا ایک کتّا،اتنے سارے جانور پہلے ہی گھر میں موجود تھے۔نہ جانے اس کے دل میں یہ شوق کہاں سے آن ٹپکا کہ ان مویشیوں کے ساتھ ساتھ ایک گدھا بھی ہونا چاہیے۔اس سے رہا نہ گیا  ایک روزوہ اپنے گھر والے سے کہنے لگی ’’میں چاہتی ہوں  ہمارے ان ڈھور ڈنگروں کے ساتھ ایک گدھا بھی کھیتوں میں چراکرے۔اس لیے چھوٹا سا گدھا خرید کے لے آیئے ہمارے کام آئے گا‘‘ کاکارام اپنے مکا ن کی منڈیر پہ بیٹھے حُقّہ پی رہے تھے۔بیوی کی فرمائش سنی تو حقّے کی نے ہاتھ میں پکڑے حیرت سے بیو ی کا چہرہ تکنے لگے۔پھر بولے ’’گدھا خرید کے لے آوں!بھلا کس لیے ؟یہ آج تم کیا کہہ رہی ہو ۔گدھا ہمارے کس کام

ادھورے خواب

’’چلوبیٹا ۔۔۔۔۔۔ سکول جانے کی تیاری کرو‘‘۔ ’’با با ۔۔۔۔۔۔ آج بارش ہے میں نہیں جائونگا‘‘۔ ’’بارش ہے تو کیا ہوا، پڑھائی تو کرنی ہے ۔یہ لے با دام کھائوعقل آئے گی‘‘۔ ’’ قدوس نے بادام کی گریاں اس کی اور بڑھاتے ہوئے پیار سے کہا‘‘ ۔ ’’با با ۔۔۔۔۔۔ با دام کھانے سے عقل نہیں آتی ہے‘‘۔ ’’ تو پھر کیسے آتی ہے ؟‘‘ ’’دھوکہ کھانے سے ‘‘۔ ’’اس نے بگڑے بچے کی طرح قدوس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شرارتی انداز میں کہا‘‘۔ ’’عاشق ۔۔۔۔۔۔ آج کئی دنوں بعد سکول کھلنے والے ہیں ،زیادہ بک بک مت کرو دیر ہوجائے گی ‘‘۔ قدوس نے اس کے مُنھ سے یہ عجیب الفاظ سن کر جھن

بے چینی

پورے محلے میں خوف و دہشت کا عالم تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد جب طاہر گھر لوٹا تو خلاف معمول بنا کھانا کھائے اور امی سے پوچھے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔وہ عجیب بے چینی میں مبتلا تھا۔ طاہر نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا ۔ فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی لیکن اس نے فون کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ وہ کمرے کی بتیاں بجھاکر نہ جانے کن سوچوں میں گم تھا۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور وہ چونک پڑا ،دروازے پہ امی تھی۔ " بیٹا کیا ہوا ۔ طبعیت ٹھیک ہے نا"۔  ہا امی ۔ سب ٹھیک ہے ۔ وہ کیا ہے کہ بھوک نہیں ہے اور سر بھی تھوڑا بھاری ہے ۔ " طاہر نے ماں سے کہا۔  امی نے سونے کو کہا اور یاد دلایا کہ کل کالج کا پہلا دن ہے ۔ پھر وہ بھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ طاہر کو اسکے دوست کی یاد تڑپا رہی تھی جو کچھ دن پہلے شہید ہوا تھا۔  خوف و دہشت کا عالم بڑھتا جارہا تھ

فرق

آج چونکہ یونیورسٹی میں چھٹی تھی تو تھوڑا گھومنے نکلا تھا۔ بہت دن ہوئے تھے تعلیمی مصروفیات سے میں بازار کی طرف نہ آسکا تھا ۔ آج موڑ بھی کچھ ٹھیک ہی تھا۔ وقت جب کٹے بھی نہیں کٹ رہا تھا تو سوچا کہ تھوڑا پارک میں ہی آرام کروں ۔اس نیت سے پارک میں گیا اور وہاں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ ابھی بیٹھا ہی تھا کہ ایک چھوٹا سا لڑکا اور اس کی ماں، جو میری طرف ہی آرہے تھے جیسے ہی میرے قریب سے گزرے تو ماں کی کچھ باتیں مجھے سنائی دیں جو اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہی تھی کہ دیکھ بیٹا روز روز اسکول آکر ہم تھک گئے ہیں۔ تیرے باپ کو اسی وجہ سے آفس پہنچنے میں دیر ہوتی ہے اور ان کا باس انہیں ڈانٹتا ہے کہ وہ روز کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ڈیوٹی پر آنے میں دیر کرتا ہے۔ مجھے اس کی باتیں بہت پیاری لگیں تو میں بھی ٹہلنے کے بہانے میں ان کے پیچھے پیچھے چل دیا تاکہ ان کی گفتگو سن سکوں ، ماں کہتی رہی۔ دیکھ میرے لال تجھے

اِس جہانِ خراب میں

یہ چاند اکھاڑ کر پھینک دوں۔ یہ سبھی تارے نوچ ڈالوں۔ اِس رات کو پاش پاش کروں۔ یہ سب یہ سب خُدا اور میرے بعد اُس کام کے گواہ ہیں جو میں ابھی ابھی کرکے لوٹ رہا ہوں۔ ایسا کام جو سب کی نظروں میں گناہ ہے ، بہت بڑا گناہ۔ لیکن میرے لئے تو صرف مجبوری ہے۔ گناہ بھی ایسا جو پہاڑوں سے بھی بھاری ہے بہت بھاری۔ مجھے لگ رہا ہے جیسے میرے کاندھوں پر دو پہاڑ رکھ دیئے گئے ہوں۔ پر اتنا بوجھ ہونے کے باوجود بھی پتہ نہیں میں کیسے استادہ ہوں اور چل رہا ہوں حالانکہ میرے قد م نہایت بوجھل ہیں۔ ہر قدم اُٹھانے کے بعد مجھے لگا رہا ہے جیسے میں دلدل میں دھنساجا رہا ہوں۔ ہر سُو سناٹا ہے بے حد سناٹا۔ پر اتنا سناٹا ہونے کے باوجود بھی میں اپنے قدموں کی چاپ نہیں سُن پارہاہوں۔ میں بہرہ بھی تو نہیں ہوں۔ رات کا پچھلا پہر ہے اور بستی کے لوگ سارے سوئے پڑے ہیں۔ مجھے اپنے چلنے کی رفتار اور تیز کرنی

افسانچے

  بانجھ آج شادی کے سات سال بعد بھی جب میں اولاد کی نعمت کے لئے ترس رہی ہوں تو مجھ سے بے انتہا محبت کرنے والی باجی نے اپنی چھو ٹی بیٹی قدوا کومیری گودمیں ڈال کر کہا ’’آج سے صرف تم اِس کی ماں ہو۔‘‘ میںبے حد حیران نظروں سے اُنہیں دیکھتی رہی۔ دراصل مجھے وہ دن یادآیا جب باجی اپنی بڑی بیٹی ثمراکو اِیک عورت کی گود سے کھینچ کرلائی اور زیر لب کچھ پڑھ کے اُس پر دم کیا۔مجھے اُس عورت پر بہت ترس آیا تو میں فوراََ بول پڑی’’باجی !آپ اِتنی پڑھی لکھی ہونے کے باوجود ایسی جاہلوں جیسی حرکتیں کیوں کرتی ہیں۔۔۔تھوڑی دیر کے لئے اُس کی گود میں رہنے دیتی تو کون سی آفت آجا تی؟۔۔۔اب اگر وہ بانجھ ہے تو اِس میں اُس کا کیا قصور ؟۔۔۔یہ تو اللہ کی کرنی ہے۔۔۔‘‘تو وہ جھٹ سے طیش میں آکر بولی’’تم اپنی بکواس بند کرواور اپنی عمر کے حساب سے بات

افسانچے

 دھماکہ گینگ لیڈر کروکوڈائل نے اپنے سامنے کھڑے تیس سالہ جوزف سے کہا ’’تم یہ کام کرو، میں تمہیں 5کروڑ روپے دوں گا‘‘، جوزف یہ سن کر سکتے میں آگیا مگر اُس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور اعتماد بھرے لہجے میں کہا’’باس میں آپ کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہوں…‘‘۔  ’’میں کمبخت، حرام خور سی ایم کا تختہ اُلٹنا چاہتا ہوں اور اس کے لئے کچھ ایسا دھماکہ کرنا پڑے گا کہ اپوزیشن اُس کا تختہ اُلٹ دے۔ اس نے میری بے عزتی کی ہے۔ اب میں اسے سبق سکھائوں گا‘‘۔ کروکوڈائل نے دائیں ہاتھ سے میز پر مکہ مارتے ہوئے کہا اور پھر جوزف کی طرف دیکھ کر کہا،’’ تم ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے مرکزی دفتر میں کسی جگہ ایک ایسا بم فٹ کرو کہ وہاں راکھ کے سوا کچھ نہ بچے۔ جب ہزاروں نوجوان لڑکیاں اور لڑکے مرجائیں گے تو سی ایم کو استعفیٰ دی

مشتاق مہدی ؔکی افسانہ نگاری

کہانی کہنے کی روایت قدیم زمانے سے قائم ہے۔ہندوستان میں وید ،پران اور اپنشدوں میں بے شمار کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔دراصل یہی کہانی کی ابتدائی شکل تھی۔پھر رامائن اور مہا تھارت کی کہانیاں ،نیر کتھا ساگر ،پنچ تنتراور جاتک کتھائوں تک آتے آتے کہانی نے اپنی ایک الگ شناخت بنالی ۔آج ہم جسے مختصر افسانہ کہتے  ہیں یوں تو اس کا موجود فارم ہم نے مغرب سے لیا ہے تاہم ہندوسنانی افسانے کی جڑیں اسی ابتدائی کہانی کی زمین سے پھوٹی ہیں جو ہزاروں برس پہلے سنسکرت اور پالی ادب میں جنم لے چکی تھیں۔جہاں تک افسانے کا تعلق ہے اس کے خمیر کو زرخیز بنانے میں مختلف ادبی دبستانوں نے اہم رول ادا کیا جن میں دبستان جموں وکشمیر بھی خاص اہمیت کا حامل ہیں۔یہاں کے جو افسانہ نگار اپنے خون جگر سے اس فن کی آبیاری کرتے نظر آتے ہیں،اُن میں جناب مشتاق مہدیؔ بھی پیش پیش نظر آتے ہیں۔جناب مشتاق مہدی ؔکشمیر کے علامتی افس

روہنگیا

شہر کے سب سے بڑے فایئو اسٹار ہوٹل کے پاس ہماری بس رکی۔گائیڈ نے ہم سب کو گاڑی سے اتار کر کہا’ ہم یہاں دو گھنٹے کے لیے رکیں گے۔ سب لوگ کھانا کھا کر پورے تین بجے یہاں پہنچ جانا‘۔اس کے بعد ہم سب الگ الگ گروہوں میں اپنی اپنی پسند کے ہوٹلوں کی تلاش میں نکل گئے۔ میں ان سب سے الگ ہوگیا۔بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ گرمی شدت کی تھی اسلئے کولڈرنگ پینے کی تمنا جگی ۔دوکان کو سامنے پاکر اس طرف چل پڑا۔ کولڈڈرنگ کا ایک گھونٹ پینے کے بعد میں پیچھے مُڑ کراس جگہ کا معائنہ کرنے لگا۔ دھوپ اپنے پورے شباب پر تھی۔لوگوں کی آمدورفت نہ کے برابر تھی مگر سڑک کی دوسری طرف جہاں کوئی دوکان نہ تھی لوگوں نے خیمے لگائے ہوئے تھے۔ان خیموں میں کروٹ یہ کروٹ بدلتے ہوئے لوگوں سے پتہ چلتا تھا کہ گرمی ان پر اپنی پوری طاقت آزما رہی ہے۔ایک ایک خیمے میں سات سات آٹھ آٹھ لوگ سوئے ہوئے تھے۔ان خیموں کے بالکل پاس ہی

دعاؤں کا حصار

دودھیا رنگت، سنہرے بال اور نیلی نیلی بڑی آنکھیں جن میں سمندر کی گہرائی تھی۔ دراز قد، مکھن کی طرح نرم و ملائم ہاتھ پاؤں۔ اس کو خدا نے بے پناہ حسن سے نوازا تھا۔ اسے جو بھی دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا۔ نرگس خوبصورت بھی تھی اور خوب سیرت بھی۔ با ہمت اور ذہین بھی۔  وہ سکول کی سفید یونیفارم پہن کر کندھوں پر اسکول کا بستہ لٹکا کے سر سبز کھیتوں کے بیچ پگڈنڈیوں پر جب چلتی تھی تو ایسا لگتا تھا جیسے کوئی آسمان سے اتری ہوئی پری ہو۔ اسے پڑھنے لکھنے کا بے حد شوق تھا۔ اس لیے وہ بڑی محنت اور لگن سے پڑھا کرتی تھی۔ وہ اپنی کلاس میں ہمیشہ اول آتی تھی۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج میں ماں کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ نرگس اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک گاؤں میں کچی اینٹوں اور گاس پھوس والی چھت کے مکان میں رہتی تھی۔ دھن دولت کا نام و نشان بھی ان کے زندگی  میں نہ تھا۔ وہ لوگ سادگی سے بھر پور عزت ا

عوامی نمائندے

 میں اس بڑی عمارت کے سامنے  فٹ پاتھ پر سگریٹ بیچتا ہوں جہاں عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے منصوبے بنتے ہیں اِن میں کئی لوگ مجھ سے سگریٹ اور پان بیڑی خریدتے ہیں ،اس عمارت کے اندر اور باہر برابر اور مسلسل شور شرابہ ہوتا تھا۔ ،  ہاتھ تھا پائی ، دھینگا مشتی اور کبھی کبھی مارا ماری۔ روز یہ معمول کا تماشا تھا۔ میں ان کی قسمت پر عش عش کرتا تھا ۔کہ یہ لوگ اتنی بڑی بڑی تنخواہیں صرف شور مچانے کے لئے پاتے ہیں ،ایک روز یہ سب لوگ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے باہر آئے ۔ اس روز نہ تو کوئی دھینگا مشتی ہوئی نہ ماراماری اور نہ کوئی نعرہ بازی ،،،،،میرے خوانچے پر آکر ایک دوسرے کو پان کھلانے لگے ،، سگریٹ پلانے لگے اور شام کو کہیں دعوت اڑانے کی باتیں کرنے لگے ۔ میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ آج ماجرا کیا ہے ،،،، تو وہ قہقہہ لگا کر بولے ،’ارے گھامڑ آج ہی تو ہم  نے عوام کو زبر

شرط

 سندری ایک چرواہے کی اکلوتی بیٹی تھی۔ یوں تو اس کا اصلی نام سوندر تھا لیکن حسین اور خوبصورت ہونے کی وجہ سے لوگ اس کو سندری کے نام سے پکارتے تھے۔ اکیس سال کی سندری پورے شباب پر تھی۔ قدرت نے اُسے بے پناہ حسن سے نوازا تھا۔ نجدون کے جنگل میں جب وہ اپنی پردروآواز میں گلریز گنگناتی تھی تو آس پاس کا سار ا ماحول معطر ہوجاتا تھا۔ سال کے پانچ مہینے، جون سے اکتوبر تک، سندری اپنے ابو غفور کے ساتھ نجدون کی چراگاہ میں گزارتی تھی ۔ اس دوران سندری کی ماں جلّی اکیلے گائوں میں گھر کا کام کاج سنبھالتی تھی۔ غفور جانتا تھا کہ اس کی بیٹی سندری کے سینے میں جوانی کا لاوا پکنے لگا ہے، اس لئے دونوں میان بیوی فکر و تردد کے دوپاٹوں میں پسے جارہے تھے۔ ایک طرف بیٹی کے جوان ہونے کی پریشانی اندر ہی اندر کھائے جارہی تھی تو دوسری طرف شادی کے بعد سندری کو کھونے کا احساس دونوں میاں بیوی کو کالے سانپ کی طرح بار

اُجالاغم کا

   گھر میں ماتم کا ماحول تھا۔ عورتیں رہ رہ کر بین کر رہی تھیں۔ غم و اندوہ کا غبار گھر کی دیواروں پر بھی تہہ بہ تہہ جم رہا تھا۔ جوں ہی سجاد گھر میں داخل ہوا سب کچھ جیسے تھم سا گیا۔ گھر میں موجود سبھی لوگوں نے جیسے سانس لینا بھی بند کر دی۔ لیکن جوں ہی اُنہیں یوسف کے نہ ملنے کا پتہ چلا تو سبھی نے رونا پیٹنا پھر شروع کر دیا۔ اُنکی چیخوں سے لگتا تھا کہ آسمان ابھی ٹوٹ کر گرجائے گا۔ اب کی بار دلاسہ دینے کیلئے باہر سے بھی کوئی نہیں آیا کیونکہ سجاد کے گھر پہنچنے تک اندھیرے کی سیاہ چادر ساری بستی پہ تن گئی تھی اور لوگوں نے وحشی تیندئوں، جنہوں نے بستی والوں کی نیندیں اُڑا کر رکھ دی تھیں، کے خوف سے در و دریچے بند کر دئے تھے۔ کوئی اچک کر بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ بس درد و کرب اور اداسیوں کا سمندر دور دور تک پھیلا ہوا تھا، جیسے اس بستی میں اکثر ہوتا آرہاتھا۔ سجاد اپنے بیٹے یوسف کو

فیصلہ

نظام الدین جب حج بیت اللہ سے فیض یاب ہوکر گھرپہنچے تو اپنے پرائے سبھی مبارک باد دینے کیلئے آئے کہ ایک اہم فریضہ کی ادائیگی کے بعد بخیریت لوٹے ہیں۔ ان مبارکباد دینے والوں میں محمدابراہیم بھی تھا جوان کاقریبی دوست تھا۔وہ بڑے تپاک سے ان سے ملااور بغل گیرہونے کے بعدانکے قریب جاکربیٹھ گیا۔وہ اپنے دوست سے حج کے احوال کی جانکاری حاصل کررہاتھا۔ کیونکہ ایساکرنا باعث ثواب ہے ۔وہ نظام الدین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرلگاتار دیکھ رہاتھا اورایساکرکے لطف اندوز ہورہاتھا کیوں کہ ان آنکھوں نے کعبتہ اللہ اورروضہ ٔ اطہر کے دیدار کئے تھے۔ حج بیت اللہ کی تہنیت کے علاوہ اس نے بیٹے کی ترقی کی بھی مبارک دی کیونکہ نظام الدین کے بیٹے کوبڑی مدت سے رُکی پڑی ترقی حاصل ہوگئی تھی۔اسکی یہ ترقی دفتری طوالت کی وجہ سے بڑی دیرسے رُکی پڑی تھی۔اسی ترقی کے لئے بیٹے جاوید نے اپنے والد صاحب کوسفرِ محمود پر جاتے ہوئے و

’’ حُبِّ رسولؐ اور فکر اقبال ؒ ـ‘‘ ۔ایک تبصرہ

کشمیر یو نیور سٹی کے تحقیقی ادارہ اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی (اقبالیات) کے سربراہ ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی اس حقیقت سے روشناس کراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مذ کورہ کتاب بعنوا ن ’’حب رسولﷺ اور فکر اقبال‘‘دراصل جناب پروفیسر بشیر احمد نحوی صاحب( اقبا لیات کے سابق سر براہ)کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی سے مستفید ہوکر میری کاوشوں کا نتیجہ ہیںکہ موصوف پروفیسر بشیر ا حمد نحوی صا حب سیرت طیبہ ﷺ کے مو ضوع پر بیسیو ں اعلی سمینار اور کانفرنسیں منعقد کر تے رہے اور ان محافل میں راقم نے شمولیت کر کے جو مقالات پیش کیے ان ہی کو کتابی زینت بخش کر شائع کروایا ۔ ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی صاحب کی اس تصنیف کا عنوان ’’ حب رسول ﷺ اور فکر اقبال‘‘ اس متن  (text )کا انکشاف ہے جہاں  قاری کے لئے کئی سارے پہلو ں ایک ساتھ اجاگر ہوتے ہوئے نظر آ تے ہیں ۔مص

ماحول بچاو ٔ

آدم زاد کے قدموں کی آہٹ محسوس کرتے ہی ساراجنگل سائیں سائیں کرنے لگا۔خوف کے مارے پیڑپودوں کی جان ہی نکل رہی تھی۔آدم زاد کے کلہاڑے کی ضرب جب معصوم بوٹے کے تنے پر پڑی تونوجوان بوٹوںکی چیخ پکارسے بوڑھے دیودار اور کائیرو کی مضبوط شاخیں بھی خوف سے لرز اٹھیں ۔آدم زاد کے بے رحم ہاتھوں سے جنگل کا صفایا ہوتے دیکھ کر جنگل کے چرند و پرندبھی دکھی ہورہے تھے کیونکہ انہیں بھی اپنے ٹھکانے ختم ہوتے نظر آرہے تھے۔کلہاڑے کی دہشت ناک آواز سے کائیرو پر بیٹھی مینا کادل غم سے ڈوبتا جارہا تھا۔دیودار پر بیٹھے طوطے نے جب مینا کی پریشان صورت دیکھی تو وہ اس خطرے کو ٹالنے کے بارے میں سوچتے ہوئے مینا سے گفتگو کرنے لگا:  طوطا: تو کیوں بغل میں چونچ دبائے مایوس بیٹھی ہو؟               مینا:  تمہیں کیا موسم کی تبدیلی کا احساس نہیں ہورہا ہے۔ طوطا: 

سازش

موہن ٹھاکر نے پانچواں پیک حلق سے نیچے انڈیل دیا تو اُس کا نوکر مخلصانہ انداز میں ملتجی ہوا،’’سر ہماری پارٹی کئی اہم علاقوں میں الیکشن ہار گئی تو کیا ہوا۔ابھی بھی ہمارے پاس بھرپور موقعہ ہے۔زیادہ پسینے سے آپ کی صحت پر مضر اثرات پڑ سکتے ہیں۔آپ پارٹی کے سربراہ ہیں،بھگوان نہ کرے ،اگر آپ ہی ٹھیک نہ رہیں تو پھر پارٹی کا بیڑا ہی غرق ہوجائے گا۔آپ چِنتا نا کریں سر ،جو لوگ آپ کو ہرانے کے درپے ہیں اُن کی بہو بیٹیوں کو ہم اپنی لونڈیاں بنا کر رکھیں گے‘‘۔ موہن ٹھاکر نوکر کے چہرے کو گھورنے لگا۔کئی منٹوں تک وہ اُسے مسلسل گھورتا رہا،ایک بے جان موُرتی کی طرح،جیسے کسی گہری سوچ میں گم ہو۔ ’’تم ٹھیک کہتے ہو وِنود‘‘۔ کئی منٹوں بعد موہن ٹھاکر نے نوکر کو جواب دیا۔ موہن ٹھاکر ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ تھا۔وہ الفاظ کا جادوگر تھا۔وہ بخوبی ج

وقت

زندگی میں اگرکوئی چیز قیمتی ہے اور اگر کسی چیز کی قدر کرناچاہئے تو وہ وقت ہے۔وقت اگر ایک بار ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو وہ لوٹ کر کبھی نہیں آتا۔اسی لئے بزرگوں نے کہا ہے کہ،’’گیاوقت ہاتھ نہیں آتا‘‘۔ وقت گھنٹوں کا بھی ہے منٹوں کا بھی اور سیکنڈوں کا بھی ہے۔وقت سے ہی قدرت کے تماشے ہوتے ہیں۔ یہ قدرت کی وقت کی پابندی ہی توہے جس سے دن اور رات بنتے ہیں۔دن میں سورج اور رات میں چاند نمودار ہوتا ہے۔وقت سے ہی بیل اور بوٹے نکلتے ہیں اور وقت سے ہی ان پر پھل نگل آتے ہیں۔  یہ وقت ہی تو ہے جو موسم کے بدلنے کی آگاہی دیتا ہے اور یہ وقت ہی ہے جو مفلسی سے امیر،امیر سے شاہ اور شاہ سے گدا بنا دیتا ہے۔اسی وقت کو دیکھتے دیکھتے بچہ جوان اور جوان بوڑھا ہوجاتا ہے۔کبھی وقت کی صبح نمودار ہو جاتی ہے اور کبھی وقت کی تاروں بھری شام بھی ظاہرہوتی ہے۔یہ وقت کیسے کیسے خواب دکھاتا ہے۔کیسی ک

ٹکٹ

  رشید چائے پی کر کام پر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک انکے والد کی صحت خراب ہوگئی وہ دوڑتے ہانپتے ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف بھاگا۔ بہت منتیں کیں لیکن کسی بھی ڈرائیور نے نہیں مانا۔اِسی اثنا میں وہاں سے پولیس کے ایس ۔ایچ ۔او کی گاڑی کا گزر ہوا تو رشید نے اُسے روکنے کی کوشش کی کہ اتنے میں ایک ڈرائیور نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا آئو بھائی چلتے ہیں، تمہاری مجبوری کو دیکھتے ہوئے۔ ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی اور تیزی کے ساتھ نکل گیا۔ رشید والا کو لے کر ہسپتال پہنچا جہاں اس کامعائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے مریض کو بڑے شہر کے بڑے ہسپتال میں لے جانے کی ہدایت دی۔ اب شہر یہاں سے کئی سو کلومیٹر دور، رشید کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ والد کو کیسے لے کر جائو ں ،اتنے پیسے کہاں سے لائے۔کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد رشید نے غریبوں کی امداد و معاونت کے لئے قائم کئے گئے کئی سماجی گروپوں سے رابطہ کرکے امداد طلب

سپاری

وہ بار بار راستہ بھٹک رہا تھا اور دائرے کا سفر کرتا ہوا پھر اُسی جگہ پر پہنچ جاتا تھا جہاں سے وہ روانہ ہوا تھا۔ شہر کے گنجان ترین علاقے گجالا کی گلیاں شیطان کی آنت ثابت ہورہی تھیں۔ انجان مگر ٹیڑھے، تنگ و تاریک گلی کوچے جو کہیں کہیں کشادہ بھی تھے مگر جم غفیر اتنا کہ جیسے پورا شہر ان گلیوں میںاُتر آیا ہو۔ پھر گندو غلاظت کے چھوٹے بڑے ڈھیر۔ توبہ توبہ۔۔۔۔کشن کاملے بس چکرا سا گیا تھا۔ دو گھنٹے سے مطلوبہ پتہ اور جگہ پر پہنچنے کی تگ دو میں لگا تھا مگر اب تک بے نیل و مرام پسینے میں شرا بور ہانپ رہا تھا ’’ یہ میں کہاں آکر پھنس گیا‘‘ وہ سوچ رہا تھا اور من ہی من کُڑھ رہا تھا۔ کام مگر نہایت ہی اہم تھا اس لئے منزل تک پہنچنے کے سوا اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔  ’معاف کیجئے گا بھائی صاحب‘‘ اچانک کسی نے اُسے مخاطب کیا تو وہ چونکتا ہوا ہڑبڑا یا اور