تازہ ترین

غزلیات

نگاہ بھر کے وہ اکثر نہارتا ہے مجھے  یہ کون شیشے میں اپنے اتار تا ہے  مجھے    ہے یہ بھی نفرت و قربت کا باہمی سودا  نہ جیتتا ہے کوئی اور نہ ہارتا ہے مجھے    نہ جانو تم ہو کہ یہ گردشِ زمانہ ہے  بدل کے لہجہ کوئی تو پْکارتا ہے مجھے    میں آب و گِل سے بنا پیکِرحقیر سہی  تمھارا حْسِن نظر ہی سنوارتا ہے مجھے    تو کیوں نہ سچ کے لئے یہ زبان کٹ جائے  سکوتِ لب بھی تو بے مو ت مارتا ہوا مجھے   ڈاکٹر سید شبیب ؔرضوی اندرونِ کاٹھی دروازہ ،رعناواری سرینگر  موبائل :-9906885395     سوالوں کے جوابوں میں تو آئے وہ ہم خانہ خرابوں میں تو آئے   جو امکاں سے پرے ہے ایک پیکر وہ کم سے کم سرابوں میں تو آئے   بس

غزل

 میں خوشبوؤں میں بکھرتی رہی اْسی کے لئے  اور آئینے میں سنورتی رہی اْسی کے لئے    میں جس کے قلب میں اْتری تھی چاندنی بن کر  خیال بن کے مچلتی رہی اْسی کے لئے    وْجود گْھل گیا راتوں میں سیاہی کی طرح  ہر ایک صْبح کو تکتی رہی اْسی کے لئے    کہوں تو کس سے کہوں شامِ غم کی ہجرت کو  میں شمع بن کے پگھلتی رہی اْسی کے لئے    وفا کے پھول پہ یادوں کی مہکتی شبنم  تمام رات برستی رہی اْسی کے لئے    وہ جس نے رات کی رانی اْگائی سانسوں میں  میں سانپ بن کے تڑپتی رہی اْسی کے لئے    فلک کے جس نے دکھائے تھے خواب آنکھوں کو  میں چاند بن کے اْبھرتی رہی اْسی کے لئے    محلہ جھولاکاں جموں  موبائل :- 9419104353

غزلیات

 چاردِن کی یہ زندگانی ہے  اس کی جوچیزبھی ہے فانی ہے  ہرکسی کا اُڑاتاہے وہ مذاق اُس کی عادت بڑی پُرانی ہے  جوبیاں کرتے ہیں مرے آنسو دِل پہ تحریر وہ کہانی ہے  اُس کی پلکیں ہیں جھیل سی گہری اُس کے لب ہیں کہ گُل فشانی ہے  اُس کی باتوں سے پھُول جھڑتے ہیں  کتنی رنگین یہ کہانی ہے  عُمرگذری ہے غم اُٹھاتے ہوئے  مختصریہ مری کہانی ہے  کیابھروسہ کریں ہم اس پہ ہتاشؔ جبکہ دُنیایہ آنی جانی ہے    پیارے ہتاشؔ دور درشن گیسٹ لین جانی پور،جموں رابطہ نمبر:8493853607     تشنہ لب ہوں اداس بیٹھی ہوں میں سمندر کے پاس بیٹھی ہوں تم نگاہیں چرائے بیٹھے ہو  میں سراپا سپاس بیٹھی ہوں دیکھ مجھ کو کہ تیری محفل میں  میں بھی اے غم شناس بی

غزل

میں نے جو زباں کھول دی تو اُس نے کہا چُپ صدیوں سے چلی بات یہی کیوں میں رہا چُپ صحرا میں مسیحا تھا ملا آہ و فغان کو ہونٹوں کو پلائی ہے اُسی نے یہ دوا چُپ ہے شہرِ تمنا جو مرا خون میں غلطاں نالان ہیں بندے بخدا اُن کا خدا چُپ تازہ ہیں محبت کے سبھی زخم نہ چھیڑو رہنے دو ابھی چانک نہ ہوجائے قبا چُپ موسم ہے خزاں بار، دریچے نہ کرو وا توڑے گی فضائوں کی نئی بادِ صبا چُپ ہر شخص کو ملتا ہے کہاں اذِن کلیمی اپنی ہی خموشی میں رہی اپنی صدا چُپ علی شیداؔ نجدون نی پورہ اسلام آباد کشمیر،9419045087  

غــزلــــیات

ذہن روشن نہ تھے دل کُشادہ نہ تھا بندکمروں میں گھر کے اُجالا نہ تھا   رنگ اپنا نہ تھا ڈھنگ اپنا نہ تھا ایک چہرہ تھا وہ بھی ہمارا نہ تھا   منظروں کا تو تھا ذکر تاریخ میں کوئی پس منظروں کا حوالہ نہ تھا   خار تو سارے آپس میں مربوط تھے پھول سے پھول کا کوئی رشتہ نہ تھا   متفق تھا زمانہ مرے قتل پر قتل کرنا مگر اُس کے بس کا نہ تھا   اُن کو گُلشن جلانا تو منظور تھا میرا گُلشن میں رہنا گوارا نہ تھا   تھا وحیدؔ اُس کے وعدوں کا ہم کو یقین احترامِ زباں جس کا شیوا نہ تھا   وحید مسافرؔ باغات کنی پورہ، 9419064259   رفتہ رفتہ ہر تمنا دل سے اب جانے لگی زندگی اپنے کئے پہ، آج شرمانے لگی   جھانک کر دیکھا چمن کا آج پھر میں نے جو حال جسم بے حس ہوگیا ا

غزل

کسی کا رنج نَے شکوہ گلہ ہے میں خوش ہوں جو ملا جتنا ملا ہے ستاروں کی زمیں ہے اور میں ہوں یہ کوئی خواب ہے یا معجزہ ہے مسائل ڈس رہے ہیں ہر قدم پر  یہ دنیا بھی نہ جانے کیا بلا ہے مقدر کی کرم فرمائی دیکھیں مجھے انعامِ تنہائی دیا ہے اکیلے جانبِ منزل رواں ہوں نہ کوئی ہمسفر ، نَے آشنا ہے مجھے بھی ایک دن منزل ملے گی میری امید کا روشن دیا ہے اسے ہی لذتِ دنیا ہے حاصل  فراقِ یار سے جو آشنا ہے جہاں والوں کو بھی تھوڑا سا دے دو سکونِ قلب جو تم کو ملا ہے خزاں سے کیوں نہیں لڑتے ہو اے شمسؔ بہاروں کا اگر تم کو گلہ ہے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری 9086180380  

غزلیات

 اس کی رنگت شراب جیسی ہے اور خوشبو گلاب جیسی ہے   اک کہانی سی ہے بدن اس کا جس کی صورت کتاب جیسی ہے   میں نے دیکھی ہے اک جھلک اس کی ہو بہو ماہتاب جیسی ہے   یوں بظاہر ہوں پُر سکون مگر کیفیت اضطراب جیسی ہے   اچھی لگنے لگی ہے دنیا بھی دلِ خانہ خراب جیسی ہے   ٹوٹ جاتا ہے راہ میں بلراجؔ زندگی ایک خواب جیسی ہے     بلراج بخشی   عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور- (جموں کشمیر)  Mob: 09419339303 alrajbakshi1@gmail.com         کرم تیرا مرے ساقی بہت ہے  مرے شیشے میں مے باقی بہت ہے   کہاں حمد و تشکر کی رسائی  خدایا تیری رزاقی بہت ہے   بساطِ گْل پہ رقصِ رنگِ شبن

غـزلـیات

 خاموش زمزمے ہیں ، مرا حرف ِ زار چپ ہر اختیار چپ ہے ، ہر اک اعتبار چپ    بادِ سموم در پئے آزار دیکھ  کر سکتے میں بے قرار ہے ، باد ِ بہار چپ   منظر نہیں ہیں بولتے، صحرا اُداس  ہے پتھرا گئی ہے آنکھ ، دل ِ داغ دار چپ   جو کچھ بھی ہو رہا ہے ، یہ مقسوم تو نہیں بس تجھ کو کھا گئی ہے تری خونخوار چپ   ہر ایک کو ہوں گوش بر آوازدیکھتا اوڑھے ہوئے ہوں جب سے میں اک با وقار چپ   حرف ِ دعا نہ دست ِ طلب، در پہ آن کر لب پر فقط ہے رقص میں اک دلفگار چپ    ذوالفقار نقوی  جموں ، انڈیا ۔9797580748       حیرت ہے، میرا گھیرے ہوئے  راستہ ہے کون اس شہر میں نیا ہوں مجھے جانتا ہے کون    گھر سے الگ ہوئے ہیں تو معلوم یہ ہ

غزلیات

دشِت امکاں میں آرہے ہیں لوگ کیسی دُنیا بسا رہے ہیں لوگ   ہےمصّور کہیںپس پردہ…! فن کی تکمیل پا رہے ہیں لوگ   خوش نصیبی کہ ان کی راہوں میں  پھول کلیاں بچھا رہے ہیںلوگ   کیسی لالی شفق یہ چھائی ہے اب کے مقتل میں جارہے ہیں لوگ   یاد بے شک عذاب دیتی ہے پھر کیوں دامن بچا رہے ہیں لوگ   خون محنت کشوں کا بہتا ہے اِک عمارت بنا رہے ہیں لوگ   کس کی آمد کا ذکر ہے سجادؔ اپنی پلکیں بچھار ہے ہیں لوگ   سجاد ؔپونچھی 338محلہ جھولا کاں جموں9419104353   (جمنا پرشاد راہیؔ کے سانحۂ ارتحال پر کہے گئے اشعار) کسی سے بجھ نہ سکے اُس کی آگہی کے چراغ ہوا کے دشت میں روشن ہیںشاعری کے چراغ ہلا گیا ہے مکانوں کو زلزلہ کوئی بجھا دئیے ہیں ہوا نے گلی گلی کے چ

غزل

ڈاکٹر شمس کمال انجم کوئی غم یا عذاب سا کچھ ہے دل میں اک اضطراب سا کچھ ہے میری آنکھوں یہ کچھ پتہ ہی نہ تھا  پیشِ منظر سراب سا کچھ ہے خیمۂ دل میں روشنی ہے بہت کیا یہاں ماہتاب سا کچھ ہے اس کے جلوؤں سے ہے جہاں روشن گویا وہ آفتاب سا کچھ ہے میں نے کچھ بھی نہیں کہا اس کو پھر بھی وہ لاجواب سا کچھ ہے بانٹتا ہے وہ خوشبوؤں کی سبیل لمس اس کا عذاب سا کچھ ہے کچھ نہ کہہ کر وہ کہہ گئے سب کچھ خامشی میں جواب سا کچھ ہے ان تیکھی نظر میں پوشیدہ میں نے دیکھا عتاب سا کچھ ہے صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی 9419103564     حاضری افسانہ   سید بشارت رسول ٹرن ٹرن ۔ ۔ ۔! ٹرن ٹرن ۔ ۔ ۔! سحری کھا کر لوگ نہ خود سوتے ہیں اور نہ دوسروں کو سونے دیتے ہیں۔ ۔ ۔! یہ اتنی صبح کون ہوگا۔

لالہ کاری

  ہے جاری یہاں خون کی لالہ کاری  ہیں معصو م ہر سُو محواشک باری  امن کا تو مفہو م معدوم ہے اب  گلوں پہ مسلسل یہاں گولہ باری  فقط خوں کے پیاسوں کی یلغار ہر سُو  یہاں آگ وآہن کی بارش ہے جاری  محو دادِ عشرت حکمراں یہاں ہیں  کرے کون مظلوم کی غم گساری  انصاف مظلوم مانگیں تو کس سے  سنگھاسن پہ بیٹھے ہوئے ہیں مداری  اظہارِ دردوکرب پہ ہے قدغن  کہ سوزاں ہے مشتاقؔ باد ِبہاری   9697621985  

غــزلـیات

 اک نئی تصویر  ہونے والی تھی   خواب کی تعبیر ہونےوالی تھی گاؤں میں خیرات بانٹی دوستو شہر میں تعمیر ہونے والی تھی آنکھ بھر کے دیکھ کیا لیتے اْسے  جو نظر سے تیر ہونے والی تھی پانیوں میں چیختا دیکھا لہو جل پری کشمیر ہونے والی تھی وصل کا جھوٹا دلاسا دے کے وہ  ہجر کی زنجیر ہونے والی تھی  پھول ہم نے دھڑکنوںمیںرکھ دیئے  آنکھ بھی شمشیر ہونے والی تھی  نظم اْس کی آندھیوں سے لڑپڑی         وہ سْخن میں میرؔ ہونے والی تھی سامنے تھی منزلوں کی چاہ اور   چوٹ بھی گھمبیر ہونے والی تھی یہ محبّت درد کی دہلیز پر    باعثِ توقیر ہونے والی تھی   محمد محمود  نجدون نی پورہ اسلام آبادکشمیر 9906874299     قربتوں سے بھی نزدیک

غزلیات

مہنگائی پہ رو رو کے میں کمزور ہوا ہوں پہلے تھا میں کچھ اور، اب کچھ اور ہوا ہوں بس ایک ہی ٹی ہے مرے گھر میں، اک بیوی دونوں کو دیکھ دیکھ بہت بور ہوا ہوں جب پھٹ گیا تو دوڑ کے مسجد کو چل دیا چپل بدل کے آیا، ذرا چور ہواہوں سترنگی شرٹ پہن کے نکلا ہوں میں دفتر کوّے سے آج دوستو میں مور ہوا ہوں ٹیڑھے سے سر یہ ٹکتی کہاںتھی مرے پگڑی دولہا میں مشقت سے کسی طور ہوا ہوں کالے بدن پہ کالے ڈیزائنر ہیں زیبِ تن آ دیکھ! گھٹا کیسی میں گھنگور ہوا ہوں تھا بیچ سڑک سکہ پڑا، دوڑ پڑا وہ لیکن اُٹھایا میں نے کہ منہ زور ہوا ہوں اُُڑتا تھا آسمان پہ بہت دیکھ فلکؔ جی کیسے کٹی پتنگ کی میں ڈور ہوا ہوں   فلک ؔریاض حسینی کالونی، چتھرگام  موبائل نمبر؛9636148112   غزل قطرہ قطرہ تیری آنکھوں سے نکلتے رہنا ہم چراغوں ک

غزلیات

 وصیت  درد کی تحریر کرنے جا رہا ہوں  تمہارے نام سب جاگیر کرنے جا رہا ہوں تمہارا نام لکھ کر سنگِ مر مر پر ابھی سے  نیا اک تاج میں تعمیر کرنے جا رہا ہوں امیرِ شہر کرنے آ گیا زخموں کا سودا  میں اپنے جسم کو کشمیر کرنے جا رہا ہوں مجھے اغوا کیا ہے آج کالی آندھیوں نے  میں سارے شہر میں تشہیر کرنے جا رہا ہوں خرابے میں تمہاری یاد کے منظر سجا کر  میں اپنے آپ کو دِلگیر کرنے جا رہا ہوں حصارِ ذات سے باہر نکل کر کس لئے میں  خیالوں کو ترے زنجیر کرنے جا رہا ہوں مکمل تھا کیا جس کو جگر کا خون دے کر  میں اب نیلام وہ تصویر کرنے جا رہا ہوں زُباں پر بات حق کی پھر سے کوئی آج لاکر  سمجھ لو اک نئی تقصیر کرنے جا رہا ہوں یزیدو زخم میرے مندمل ہو جائیں گے اب  میں خاکِ کربلا اکسیر کرنے جا ر

غزلیات

 جینے میں اب مزا کیا ہے ؟ خاک میں باقی رہا کیا ہے؟ پوچھتے ہیں تخت نشینانِ خاک یہ جنونِ عشق بلاکیا ہے ؟ حکم سر کوبی آیا ہے مرے نام  معلوم نہیں کہ خطا کیا ہے ؟ خلافِ طبع مری بات سہی  خلافِ قرینہ بتا کیا ہے ؟ تسکین و تشفی کے سوا نسیمؔ دلِ مرحوم کی تمنا کیا ہے؟   شبیر نسیم ؔ مدرس گرسالہ تحصیل لاٹی، ضلع ادھمپور  9018389270   ہم پر نگاہِ شفقتِ ساقی نہیں رہی جو اہمیت ملی تھی وہ باقی نہیں رہی برکت ہی اُٹھ چلی ہے زندگی کی بزم سے ناپاکیوں کی دوڑ ہے، پاکی نہیںرہی بھڑکے ہیں میری بات پر میرے ہی ہمسفر اب آبرو اس شہر میں باقی نہیں رہی کیوں شہرِ کور شب میں بڑھے جارہا ہے تو آنکھوں میں روشنی جو تھی باقی نہیں رہی بچے بھی شاد ؔاُڑ رہے ہیں آسمان میں ہمسائے کی کاکی بھی اب کاک

غزل

 اک کشمکش رہی مرے اندر تمام رات تڑپا کسی کی یاد میں اکثر تمام رات   پھر بھی مٹی نا تیرگی میرے نصیب کی وہ چاند بن کے ٹھہرا تھا چھت پر تمام رات   اک جُوئے خوں تھی آنکھوں میں سو وہ بھی بہہ گئی پیاسا تھا پھر بھی دِل کا سمندر تمام رات   اِک بوند خوں کی پائی نہ داماںِ صبح پر یوں تو چلے ہیں قلب پر خنجر تمام رات   تب جاکے عطر بیز ہوا ہے تیرا بدن ہم نے بنائے نیند میں پیکر تمام رات   محسوس تیرا لمس جو ہونے لگا مجھے سُلگا ہے تیری یاد میں بستر تمام رات   دیکھے تھے دوپہر میں کبھی ہم نے بھیڑیئے گُزرے نظر سے خوف کے منظر تمام رات   سچ بولنے سے آج میں کترا گیا تھا کیوں؟ بر سے مرے ضمیر پر پتھر تمام رات   کیسے بنا یہ سنگ صنم، سوچتے رہے تھا مبتلا عذاب میں آذر

غزلیات

  کلی  جب  مْسکرا کر بیٹھتی  ہے  مری  بیٹی بھی آکر بیٹھتی ہے    سلیقہ دیکھئے  اِس شاخِ  گْل کا  کہ چڑیا گھر بسا کر بیٹھتی ہے   جبیں پر دشت کے کرنے ہیں سجدے  محبّت آزما کر بیٹھتی ہے   اْسے آتا ہے موجوں کو ہرانا سمندر کو جُھکا کر بیٹھتی ہے   جو سر پر ہاتھ رکھ دوں شفقتوں کا وہ اپنی جاں لْٹا کر بیٹھتی  ہے   غموں کو ٹال دیتی ہے مسلسل  کہیں جھولا جھلا کر بیٹھتی ہے   تھکا  ہارا  پرندہ گھر کو لوٹوں  مْجھے کاندھے سْلا کر بیٹھتی ہے   محمد محمود  نی پورہ  اننت ناگ کشمیر  موبائل نمبر9906874299     اے زندگی بتا، میں اکرام دوں تجھے کیا میری حیات تجھ

غزل

 دِل سے چاہا آپ کو سارا جہاں رہنے دیا تاج و تخت اور جاہ و حشمت کا بیاں رہنے دیا   وسعتِ اِدراک سے بالا بلند تیرا مقام آپ کو بس آپ ہی کو جاوِداں رہنے دیا   میرا دانشور حریصِ تمغۂ طاغوت ہے خون میں لت پت سرِ راہ نوجواں رہنے دیا   راست گوئی پیشِ نمرودِ زماں، ایمان میرا بے خطر جیتا ہوں خوفِ جسم و جاں رہنے دیا   گرچہ سائے شفقتوں کے ہاتھ پھیلاتے رہے تیری چاہت نے مجھے بے خانماں رہنے دیا   مشتاق کاشمیری موبائیل نمبر:9596167104    

غزل

اہتمامِ رنگ و بوہے جابجا کاشمر تیرا لہو ہے جابجا بولتا شہرِ خموشاں دور تک چاک میرا ہا و ہو ہے جابجا دن تھکا ماندہ اُجالا ہار کے رات محوِ گفتگو ہے جابجا لغزشیں کیا قد سے بالا ہوگئیں گردشِ وردِ عفو ہے جابجا آنکھ میں منظر کوئی ٹھہرا نہیں سو بہ سو ہے کوبکو ہے جابجا آئنہ لیکر ہے بیٹھی حیرتی انتہائے من کہ توہے جابجا ظلمتوں کا توڑ کرنے کے لئے رقصِ شمعِ آرزو ہے جابجا کب تلک دل سے دھواں اُٹھتا رہے چاک ہے تن، بے رفو ہے جابجا رقص کرتی ہیں جنوں کی مستیاں دشت میں ہوں، بادِ ہُو ہے جابجا مسجدیں دل کی مقفل ہوگئیں محفلِ جام و صبو ہے جا بجا آؤ شیدّا دشت میں سجدہ کریں آنکھ میں تازہ وضو ہے جابجا    (نجدون ) نپورہ اسلام آباد کشمیر  9419045987  

غزلیات

میرے نصیب میںکوئی طوفان ہے شاید اس واسطے یہ زندگی سنسان ہے شاید جل بجھ رہا ہے میری محبت کا دیا جو ناشادیوں کا میری یہ سامان ہے شاید وقتِ قضا یہ جان اٹک سی گئی ہے کیوں جنت نہیں، جہان کا ارمان ہے شاید اوروں کا درد دیکھ کے دُکھتا ہے مرادل اندر مرے حیات وہ انسان ہے شاید تحریر کر رہا ہوں حوادث پہ حوادث تصویرِ زندگی مرادیوان ہے شاید اُمید ہے وفا کی تجھے کن سے مسافر اِس شہر کے مزاج سے انجان ہے شاید چہرے کے ہائو بھائو بتاتے ہیں یہ عارضؔ دشمن میر اُڑان پہ حیران ہے شاید عارض ؔارشاد نوہٹہ  سرینگر 9419060276   چاندنی رات ہے چلے آئو رس کی برسات ہے چلے آئو پھر اُسی دھج سے چاند نکلاء آئو!  پھر وہی رات ہے چلے آئو ساری بازی سنوارلی میں نے  ایک شہہ مات ہے چلے آئو فصلِ گُل جاچُکی ہے گُ