تازہ ترین

غزل

سوچتا ہوں فسردگی کیوں ہے  زندگی میں یہ بے حِسی کیوں ہے    کیوں ہے یہ عادتِ  جبیں سائی  ہرکسی کی یہ بندگی کیوں ہے    رُوبہ رُو ہیں وہ جھیل سی آنکھیں پھربھی ہونٹوں پہ تشنگی کیوں ہے    اُس کوشاید مذاق ہے سوُجھا اُس کے ہونٹوں پہ یہ ہنسی کیوں ہے    دُشمن انساں کابن گیادُشمن  رسم ایسی مگر چلی کیوں ہے    اُس کی آمد میں دیر ہے شاید  دِل کی محفل میں خامشی کیوں ہے    میں کہ اکثریہ سوچتاہوں ہتاشؔ اِسقدر تم میں سادگی کیوں ہے    پیارے ہتاشؔ جموں،رابطہ نمبر:8493853607  

غزلیات

کچھ گھٹا دی گئی کچھ بڑھا دی گئی کیا کہانی تھی اور کیا بنادی گئی شہر کا شہر ہے آج خنجر بکف کیا مرے سر کی قیمت لگا دی گئی تیر باقی ہیں کیا ترکشوں میں ابھی جو ہمیں زندگی کی دُعا دی گئی آشیانوں کی بربادیوں کا سبب بجلیوں کی شرارت بتادی گئی آپ تو اِن کے حلقہ بگوشوں میں تھے آپ کو کس خطا کی سزا دی گئی روشنی گھر میں داخل نہ ہو اِس لئے ہر دریچہ کی چلمن گرا دی گئی منہ سے لبیک لبیک کہتے ہوئے   جاں نثار آگئے جب صدا دی گئی غم بھی دُنیا سے بڑھ چڑھ کے ہم کو ملے سرفرازی بھی سب سے سوا دی گئی بس اِسی پر ہے برہم زمانہ وحیدؔ اُس کو تصویر اُس کی دکھا دی گئی   وحید مسافرؔ باغات کنی پورہ، 9419064259 محبت یہ کیا ماجرا ہوگیا میں کیا تھا، کیا سے کیا ہوگیا اندھیرا میرے دل کی مشعل بنا تصور سےغم کچھ سو

داغ

 شادی کے تین سال بعد ایک تو اولاد نہ پانے کا صدمہ اور اوپر سے  اس کی بیوی نے یہ الزام لگادیا کہ وہ باپ بننے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ہزار سمجھانے بلکہ منت سماجت کے باوجود بیوی نے طلاق لے لی۔  اس کی انا اور امیج دونوں  بری طرح متاثرہوئے تھے۔گو بظاہر ناممکن تھا،لیکن وہ کسی بھی طرح  نامردی کے اس داغ کو مٹا کر اپنی ساکھ اور سکون بحال کرنا چاہتا تھا۔ بالآخر والدین اور دوستوں کی رائے اور کوششوں سے ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی ۔لڑکی نے ڈیڑھ دو سال میں ہی اولاد بھی  دے دی  اور اس پر لگے  بھدے داغ کو دھو ڈالا ۔لیکن  اب اس کے دل کے اندر جو  ایک اور داغ لگ گیا تھااسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کا ازالہ کیسے کرے۔  

عُریاں فاصلے

 ایک ہی کمرے میں ،ایک دوسرے سے گزبھر کی دوری پہ بیٹھے ،دونوں اپنے اپنے  فرضی ناموں سے، انٹرنیٹ پراپنے ا پنے  دوستوں کے ساتھ چیٹنگ میں مصروف تھے ۔’’مجال ہے جو ایک دوسرے سے بھی کوئی بات کر لیں ‘‘۔’’ بھائی تو پہلے سے ہی اس آفت کا مارا تھاا ب بہن کو بھی چسکا پڑ گیا ہے‘‘ ۔ فرضی ناموں  سے چیٹنگ کا یہ فائدہ  رہتا ہے کہ  سب کچھ ایک پردے میں رہتا ہے۔کل کلاں کوئی بات کہیں بگڑ جائے تو ایک دوسرے کو سرِعام گھسیٹنے کی نوبت نہیں آتی۔معروف کی دوستی نفیسہ سے تھی جب کہ عافیہ کسی ساحل سے پینگیں بڑھارہی تھی۔ بات آگے بڑھی تو اپنا اپناایڈریس بھی ایکسچینج کیا گیا۔ساحل کے میسج میں اپنے ہی شہر کا نام پڑھ کر عافیہ کو  تھوڑاسا جھٹکاضرور لگاتھاکیوںکہ ایسے تعلقات میں شہربھر کی دوری کو ترجیح دی جاتی ہے۔خیر اس نے اپنے شہر کا نا

ارتقا

 نئے تعینات ٹیچر نے بائیو کی اپنی پہلی کلاس میں ہی طلبا کو اپنا گرویدہ بنا لیاتھا۔ دوسری کلاس میں اس نے  نامیاتی ارتقا (EVOLUTION) پر مباحثہ کیا اور انھیں اس پر اپنی رائے اور تبصروں کا موقع دیا۔ دیکھو ان سب  شواہد سے یہ اب بالکل واضح ہو چکا ہے کہ ہم انسان، یا یوں کہہ لو کہ زندگی اپنی موجودہ شکل کوپہنچنے سے پہلے کئی  مرحلوں سے گزری ہے۔ اس طرح انسان جانور کی ترقی یافتہ شکل ہے اور پیچیدہ ساخت اور چالاک جانور، سادہ  اور کم عقل جانوروں کی ترقی یافتہ شکل۔  ایک بچہ جو ابھی تک صرف غور سے سن رہاتھا، پہلی بار کچھ پوچھنے کے لئے کھڑا ہو گیا، ’’سر یہ اِرتقا رِیورس (Reverse)نہیں ہوسکتا ؟‘‘  

آہ! برما

جسم چھلنی ہو رہے ہیں، ہو رہے ہیں سَر قلم آہ ! برما کے مُسلمانوں پہ یہ ظُلم و سِتم جبر و اِستحصال و قتل و خوں کے منظر ہر طرف بے گُناہوں کے لہو میں ڈُوبے خنجر ہر طرف مُنہ کو آتا ہے کلیجہ کیا کہیں کیا حال ہے ماؤں بہنوں بیٹیوں کی آبرو پامال ہے سَر پِھرے لوگوں نے کر دی ہے سِتم کی اِنتہا ہر طرف لاشیں ہی لاشیں اور لہو بہتا ہُوا لگ رہا ہے جیسے برما سارا مقتل ہو گیا ہر گلی کُوچہ سڑک چوراہا مقتل ہو گیا اُف! چراغِ زندگی یُوں بھی بُجھائے جاتے ہیں عورتیں بچّے جواں بُوڑھے جلائے جاتے ہیں حال اب برما کا جگ ظاہِرہے تشت از بام ہے لاشوں پر لاشوں کے ملبے ہیں یہ منظر عام ہے تھم نہ پائے گا کِسی صورت یہ قتلِ عام کیا بُدّھم شرنم گچّھامی میں ہے یہی پیغام کیا اندھے گُونگے بہرے دُنیا والے ہیں، ایسا نہیں آہ اِن مظلوموں کی کوئی مگر سُنتا نہیں

غزلیات

دریائے تیرگی میں بکھرنا پڑا مجھے سورج کے ساتھ ساتھ اُترنا پڑا مجھے   دو چار دن نگاہ کا مرکز رہا کوئی پھر فاصلوں کا فیصلہ کرنا پڑا مجھے   کیا جانے کس مزاج کے کتنے حبیب تھے اپنی ہی آستین سے ڈرنا پڑا مجھے   آنکھوں سے عمر بھر نہ ملاقات ہو سکی بیکار آئینے میں سنورنا پڑا مجھے   ایک زندگی کو چھوڑ دیا موت کے لئے اک زندگی کے واسطے مرنا پڑا مجھے   میٹھے سمندروں کے انھیں سے تھے سلسلے جن کھٹّے پانیوں میں ٹھہرنا پڑا مجھے   اک سچ کی آبرو کی حفاظت کے واسطے خود اپنے آپ ہی سے مکرنا پڑا مجھے   سید بصیرالحسن وفاؔنقوی ہلال ہائوس،مکان نمبر ۱۱۴/۴ نگلہ ملاح سول لائن ,علی گڑھ،یوپی موبائل:9219782014   زندگی میں وہ وقت بھی آئے  میں رہوں خوش مگر وہ پچھتائے

غزل

جگر کو تھام کر اظہارِ حالِ زار کرتا ہوں سُن اے بے درد دُنیا درد کا اظہار کرتا ہوں تجھے اے شامِ غم پھر خوں سے لالہ زار کرتا ہوں کہ جب تسلیم اُس تیرِ نظر کا وار کرتا ہوں دلِ صد چاک پیشِ ابروئے خمدار کرتا ہوں خود اپنی جاں نثارِ خنجرِ خونخوار کرتا ہوں ہر اک رنگِ زمانہ سے نپٹنے کیلئے یارو میں اپنے آپ کو اندر سے ہی تیار کرتا ہوں زمانہ تو بہت آگے ہے اور میں ہوں بہت پیچھے چلو اپنی ہی نااہلی کا میں اقرار کرتا ہوں غمِ دوران ہے یہ اشکِ رواں ہے آہِ سوزاں ہے یہ سب کچھ اے فلک تیری نذر یکبار کرتا ہے دلِ حساس تُو ہی تو مری خاطر مصیبت ہے میں تجھ سے دور ہی اب خلوتوں سے پیار کرتاہوں زمانہ تو بہت ہشیار ہے اور میں ہی سادہ ہوں سنبھل اے دل ذرا تجھ کو بھی اب بیدا کرتا ہوں جہاں والو بھلا کیوں سادگی میری پہ ہنستے ہو تمہاری اِس اداکاری سے کب

غزلیات

کسی کا رنج نَے شکوہ گلہ ہے میں خوش ہوں جو ملا جتنا ملا ہے ستاروں کی زمیں ہے اور میں ہوں یہ کوئی خواب ہے یا معجزہ ہے مسائل ڈس رہے ہیں ہر قدم پر  یہ دنیا بھی نہ جانے کیا بلا ہے مقدر کی کرم فرمائی دیکھیں مجھے انعامِ تنہائی دیا ہے اکیلے جانبِ منزل رواں ہوں نہ کوئی ہمسفر ، نَے آشنا ہے مجھے بھی ایک دن منزل ملے گی میری اُمید کا روشن دیا ہے اسے ہی لذتِ دنیا ہے حاصل  فراقِ یار سے جو آشنا ہے جہاں والوں کو بھی تھوڑا سا دے دو سکونِ قلب جو تم کو ملا ہے خزاں سے کیوں نہیں لڑتے ہو اے شمسؔ بہاروں کا اگر تم کو گلہ ہے   ڈاکٹر شمسؔ کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380         فقیر ہوتے ہوئے  تاجدار ہے  اب

مرحوم غلام محمد شاد ؔکی نذر

 غزل دھوپ کے اس شہر میں اب سائبان کوئی نہیں بجلیاں ہی بجلیاں ہیں آشیاں کوئی نہیں جس طرف بھی دیکھئے بڑھتی ہوئی اِک بھیڑ ہے ڈھونڈتے رہ جایئے پر مہربان کوئی نہیں پھر لبِ واعظ سے جھڑتی ہیں ہزاروں کہکشاں کاغذی سب مہرومہ ہیں ضوفشاں کوئی نہیں صُلح کے خواہان و دعویٰ دار سارے رہ نُما انتہائوں پر کھڑے ہیں درمیاں کوئی نہیں کھیلتے رہتے ہیں بچے رات دن موبائل سے دادیوں کی پوٹلی میں داستاں کوئی نہیں برف رنگ پوشاک میں ملبوس یہ اہلِ ریا مُسکرا کر مل بھی لیں تو بے گماں کوئی نہیں سربلندی طرئہ دستار سے ملتی نہیں سادگی کی بات ہو تو آسماں کوئی نہیں اُٹھ گئے بزم سخن سے شادؔ بھی مشہورؔ، اب ہم نوا کوئی نہیں، جادو بیاں کوئی نہیں   محمد یوسف مشہورؔ موبائل نمبر؛9906624123   سو گیا چاند مرا ...!!!   سو

غزلیات

جب بھی میں گمرہی سے ملتا ہوں ایک تشنہ لبی سے ملتا ہوں   عین اسی وقت اندھیرا ہوتا ہے جب بھی میں روشنی سے ملتا ہوں   لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں جب بڑی سادگی سے ملتا ہوں    مجھ سے ملنا اسے نہیں منظور  اور میں روز اسی سے ملتا ہوں    دشمنی خود سے کوئی خاص نہیں بس یونہی بے رخی سے ملتا ہوں    کتنے حیلوں حوالوں سے بلراجؔ ایک نیلم پری سے ملتا ہوں    بلراج ؔبخشی   ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی،  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  موبائل نمبر؛09419339303 email: balrajbakshi1@gmail.com     حق کی خاطر خدا کی خوشی کے لئے  جینا مرنا ہمارا اُسی کے لئے دل

غزل

عہدوپیمان کے دھاگے سے بندھے ہیں ہم لوگ آپ بتلائیے اچھے کہ برے ہیں ہم لوگ ہم نے سچائی کو سینے سے لگایا ہر دم اس لیے طرز تخاطب میں کھرے ہیں ہم لوگ خانۂ غم میں کہیں روشنی باقی نہ رہی اس قدر بغض وتنفُّر سے بھرے ہیں ہم لوگ ہم کسی راز کو سینے میں نہیں رکھ پاتے ایسا لگتا ہے کہ مٹی کے گھڑے ہیں ہم لوگ ہم جو احساسِ مروّت سے ہیں یکسر عاری اے خدا! کون سی مٹی سے بنے ہیں ہم لوگ ہم نے غیروں کو بھی ہمدرد ومسیحا جانا سادہ لوحی میں کئی بارلُٹے ہیں ہم لوگ اس حسیں دنیا میں احساس بہت ہوتا ہے کس خرابات میں آباد ہوئے ہیں ہم لوگ عصر حاضر میں ہمیں شمس ؔ غنیمت جانو! سیلِ جدّت میں روایت سے جڑے ہیں ہم لوگ   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری رابطہ؛9086180380  

غزل

     صحر ا دھوپ سفر سایہ اور منزل دور سانولے بادل پیاس بڑی ہے مشکل دور  تلواروں کے سائے میں سب ر ات کٹی  اس جانب ہیں سارے ڈاکو قاتل دور  آنکھوں کی ویرانی میں ہیں کیا کیا خواب خاک اڑی اور بکھری یوں پھر حاصل دور بیماروںپہ آکے کوئی دم کر لو علم کے چرچے زُہد و تقویٰ کامل دور آنکھوں سے ہے ظاہر شدت پیاس کی سب طاقت ساری فوت ہوئی ہے ساحل دور یاری بچوں کی چھوٹی ہے آنگن سے  شادؔ کہاں ہے اپنے گھر سے جاہل  دور                                                                    شادؔ سجاد عمر کالونی وشبگ پلوامہ    

غزلیات

گلوں سے شاخ ِصبا بغل گیر ہوگئی تھی کلی کلی کی زبان شمشیر ہوگئی تھی قدم قدم پر سیا ستوں کے غلام تھے گُل چمن چمن تتلیوں کی تقریر ہوگئی تھی میان میں تھی ہماری تلوار اب سے پہلے زبان خنجر نہیں تھی، زنجیر ہوگئی تھی فسانہ پڑھتے ہو کیا میری لوح ِچشم تر سے ہر اک کہانی کہاںپہ تحریر ہوگئی تھی کسی کے ہاتھوں یہ اک تحر یر تھی حنائی حنا حنا سی ہماری تقدیر ہوگئی تھی صلیب پر آنکھ کی چڑھا تھا جنون سا کچھ اُداس نسلوں کی کوئی تشہیر ہوگئی تھی صبا نے چوما تھا ریت پر نام گُل کا عادلؔ ہو ا کے ہاتھوں سے کوئی تقصیر ہوگئی تھی   اشرف عادلؔ  کشمیر یونیورسٹی،حضرت بل سرینگر موبائل:9906540315    غـــــزلــــــــیـات گلشن خنک خنک ہے بیاباں تپاں تپاں لمحہ بہ لمحہ رنگ بدلتا ہے آسماں   دیر وحرم کے قمقمے

غزلیات

بہت دیکھا ہے آئینہ بدل کے  وہی ملتا رہا چہرہ بدل کے    نہ بچ پائیں گے ہم خیمہ بدل کے جلا دے گا کوئی شعلہ بدل کے   رواجِ سنگ و سر کیا  ہر جگہ ہے  چلو دیکھیں ذرا کوچہ بدل کے    بہت ہیں قصر و ایوان و مکانات  بنے اب گھر کوئی نقشہ بدل کے   مرا شوقِ بْتاں عشقِ خْدا تک  پلاتا ہے  مجھے نشّہ بدل کے   ملی بس ایک ہی منزل ہمیشہ  گئے ہم بارہا رستہ بدل کے    مزاجِ کوہ تو اب تک ہے باقی  بھلا کیا فائدہ تیشہ بدل کے    سید شبیب رضوی اندرون کاٹھی دروازہ ,رعناواری سرینگر  موبائل :- 9906685395     تیرا نہ تھا قیام میری کائنات میں لیکن نہ بدگمان رہا تا حیات میں دن ہیں نہیں نصیب میں میرے ن

کیوں جابجا مرتا ہے کشمیری؟

  کیوں جابجا مرتا ہے کشمیری؟   پھر اے خدا آہ و بُکا کر تا ہے کشمیری پھر دیکھ، کرتا ہے کوئی بھرتا ہے کشمیری   پھر امتحاں ہونے لگا ہے صبر کا اس کے پھر آگ کے دریا سے گزرتا ہے کشمیری   پربت کی برفیلی ردا تک خون آلودہ درویش ہے اور جنگ بھی کرتا ہے کشمیری   وارثِ لَلتا دتیہ وسلطاں شہاب کا کِس نے کہا عفریت سے ڈرتا ہے کشمیری   جس رہنما کی روح تک گروی ہو کہیں پر وہ کیا کہے کیوں جابجا مرتا ہے کشمیری   یہ کس نے ستی سر کو لہو  رنگ کیا ہے؟ ڈوبا تو پھر مشکل سے اُبھر تا ہے کشمیری   انظرؔ چمن میں آئے گی کب تک بہار پھر؟ مدت سے اب جھاڑے میں ٹھٹھرتا ہے کشمیری   پیر حسن انظرؔ  بمنہ سرینگر،موبائل نمبر؛9419027593  

غزلیات

طرحی غزل  یہ تو سوچا ہی نہ تھا ایسا بھی منظر ہوگا کوبکو شہر میں افواج کا لشکر ہوگا اب کسی طور بھی راحت نہیں ملنے والی خواب آنکھوں میں لییے کانٹوں پہ بستر ہوگا  اک ہری شاخ بھی مجھکو نہ کبھی دے پایا ’’وہ جو کہتا تھا کہ آنگن میں صنوبر ہوگا‘‘  قائدِ قوم سے ہر روز یہ ووٹر پوچھے کیا کوئی دن میرا اس ملک میں بہتر ہوگا عدل و انصاف کو اقدار بنالو بھئی ظلم سے باز نہ آوگے تو محشر ہوگا زن مریدی کا یہ انداز نہ دیکھا تھا کبھی  دست بستہ کھڑا دروازے پہ شوہر ہوگا  چاک وچوبند تھے جب کھاتے تھے روکھی سوکھی کس کو معلوم تھا گھی کھائیں گے شوگر ہوگا  تم بھی چپ چاپ گزر جاو یہاں سے بسملؔ حق جو بولو گے تو ہر ہاتھ میں پتھر ہوگا   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی، راجوری،9622045324 &nb

غزل

 عمارت گر چْکی لیکن ابھی آثار باقی ہیں  گئی گزرْی  محبت کے کئی اسرار باقی ہیں    صداقت پْھول سے لہجے میں ہم نے کیا بیاں کردی  ہماری راہ میں اب عْمر بھر کے خار باقی ہیں    خزانہ داد کا خالی ابھی مت کیجئے صاحب  میری زنبیل میں کچھ اور بھی اشعار باقی  ہیں    جو رنگوں سے بیاں کر دیں ستم کی ہر کہانی کو  ہمارے شہر میں ایسے کئی فنکار باقی ہیں    پرندے کر کے ہجرت اس لئے آئے ادھر شاید  ابھی کچھ آشیانوں کے لئے اشجار باقی ہیں    اگر چھت لے گئی آندھی تو اب بھی کچھ سہارا ہے  کہ سائے کے لئے گھر کے در و دیوار باقی ہیں    بنا کر دیکھ لے یوسف، مجھے مل جائے گی قیمت  خریداری کی خاطر مِصر کے بازار باقی ہیں  &nb

غزلیات

نگاہ بھر کے وہ اکثر نہارتا ہے مجھے  یہ کون شیشے میں اپنے اتار تا ہے  مجھے    ہے یہ بھی نفرت و قربت کا باہمی سودا  نہ جیتتا ہے کوئی اور نہ ہارتا ہے مجھے    نہ جانو تم ہو کہ یہ گردشِ زمانہ ہے  بدل کے لہجہ کوئی تو پْکارتا ہے مجھے    میں آب و گِل سے بنا پیکِرحقیر سہی  تمھارا حْسِن نظر ہی سنوارتا ہے مجھے    تو کیوں نہ سچ کے لئے یہ زبان کٹ جائے  سکوتِ لب بھی تو بے مو ت مارتا ہوا مجھے   ڈاکٹر سید شبیب ؔرضوی اندرونِ کاٹھی دروازہ ،رعناواری سرینگر  موبائل :-9906885395     سوالوں کے جوابوں میں تو آئے وہ ہم خانہ خرابوں میں تو آئے   جو امکاں سے پرے ہے ایک پیکر وہ کم سے کم سرابوں میں تو آئے   بس

غزلیات

 چاردِن کی یہ زندگانی ہے  اس کی جوچیزبھی ہے فانی ہے  ہرکسی کا اُڑاتاہے وہ مذاق اُس کی عادت بڑی پُرانی ہے  جوبیاں کرتے ہیں مرے آنسو دِل پہ تحریر وہ کہانی ہے  اُس کی پلکیں ہیں جھیل سی گہری اُس کے لب ہیں کہ گُل فشانی ہے  اُس کی باتوں سے پھُول جھڑتے ہیں  کتنی رنگین یہ کہانی ہے  عُمرگذری ہے غم اُٹھاتے ہوئے  مختصریہ مری کہانی ہے  کیابھروسہ کریں ہم اس پہ ہتاشؔ جبکہ دُنیایہ آنی جانی ہے    پیارے ہتاشؔ دور درشن گیسٹ لین جانی پور،جموں رابطہ نمبر:8493853607     تشنہ لب ہوں اداس بیٹھی ہوں میں سمندر کے پاس بیٹھی ہوں تم نگاہیں چرائے بیٹھے ہو  میں سراپا سپاس بیٹھی ہوں دیکھ مجھ کو کہ تیری محفل میں  میں بھی اے غم شناس بی