تازہ ترین

کامیابی

بہت دنوں پہلے کی بات ہے۔ ایک چھوٹے سے شہر میں دو بچے رہتے تھے۔ ایک کا نام راہل تھا اور دوسرے کا راج۔ راج ہمیشہ اپنے سے بڑوں کی عزت کرتا تھا۔اور ان کی بات مانتا تھا۔ راہل ہمیشہ سب کو تنگ کرتا تھا، کھیلتا کودتا رہتا تھا اور ماں باپ کی بات نہیں مانتا تھا۔ ایک دن بہت تیز بارش ہورہی تھی۔راہل نے دیکھا باہر بارش ہورہی ہے۔ وہ بھاگ کر بارش میں کھیلنے لگا۔ اس نے کہا راج تم بھی آجاؤ۔بارش میں بہت مزہ آرہا ہے۔ راج نے کہا نہیں۔ میں نہیں آسکتا۔ تم اندر آجاؤ ورنہ بیمار پڑ جاؤ گے۔ راہل نے کہا تم آجاؤ یہ تومعمولی سی بارش ہے۔ راج نے کہا نہیں میں نہیں آؤں گا۔ میں بیمار پڑ جاؤں گا۔ اگلے دن راہل بہت بیمار پڑ گیا۔کچھ دن بعد وہ ٹھیک ہوگیا لیکن پڑھنے لکھنے سے زیادہ وہ ہمیشہ کھیل کود میں مست رہتا تھا۔ پڑھائی میں دھیان دینے کی وجہ سے بیس سال بعد راج ڈاکٹر بن گیا اور راہل چپراسی۔ سبق۔ بڑوں کی بات ہمیشہ ماننی

غزل

جب بھی میں گمرہی سے ملتا ہوں ایک تشنہ لبی سے ملتا ہوں   عین اسی وقت اندھیرا ہوتا ہے جب بھی میں روشنی سے ملتا ہوں   لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں جب بڑی سادگی سے ملتا ہوں    مجھ سے ملنا اسے نہیں منظور  اور میں روز اسی سے ملتا ہوں    دشمنی خود سے کوئی خاص نہیں بس یونہی بے رخی سے ملتا ہوں    کتنے حیلوں حوالوں سے بلراجؔ ایک نیلم پری سے ملتا ہوں    بلراجؔ بخشی عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور موبائل نمبر؛09419339303  

غزلیات

سایہ میرے وجود سے آگے نکل گیا میں ہی غم حیات کے سانچے میں ڈھل گیا   اب تو نئے سفر کا نیا اہتمام ہو میں نے سنا ہے ہجر کا موسم بدل گیا   کس نے تمہیں کہا تھا ہواوں سے جا ملو میری تو جھونپڑی تھی تمہارا محل گیا   تا عمر آگ سے ہی میرا واسطہ رہا وہ طور تھا جو برق تجلی سے جل گیا   آیا خیال ان سے جدائی کا جس گھڑی سانسوں کی ڈور ٹوٹ گئی دل دہل گیا   ساقی تیری شراب میں اب وہ اثر کہاں کہتے ہیں جام پی کے دوانہ سنبھل گیا   سردار جاوید خان  مہنڈھر، پونچھ رابطہ۔ 9697440404     مل جائے مجھے رب کی عطا اور طرح سے   اب دل بھی مانگتا ہے دوا اور طرح سے میںاور طرح سے تمہیں سیراب کروں گا تو مجھ سے مانگتا ہے جزا اور طرح سے  وہ اور طرح سے تجھے

غزل

کِس قدر دیر کی ہے آنے میں کیا مِلاہے مُجھے رُلانے میں تُم وفائوں کی بات کرتے ہو اب وفائیں کہاں زمانے میں ہر زباں پر ہے اُن کا افسانہ  کیا میرا ذِکر ہے فسانے میں؟ اُن کوفُرصت نہیں کہ بات کریں  وہ ہیں مصُروف دِل جلانے میں  مُسکرانا نہیں ہے مُقّدر میں ہم ہیں مصُروف غم اُٹھانے میں دِل پہ جب کوئی چوٹ  لگتی ہے عمر لگتی ہے بھُول جانے میں میر ی دُنیا چھُپی ہوئی ہے ہتاشؔ زیرِ لب اُس کے مسُکرانے میں   پیارے ہتاشؔؔ جموں؛موبائل نمبر؛8493853607  

غزلیات

  اہلِ حل و عقد سے میری شناسائی نہیں اس لیے نالوں کی میرے کوئی شنوائی نہیں غیر کے آگے کبھی جھکنے دیا میں نے نہ سر اور درِ باطل پہ کی ہرگز جبیں سائی نہیں میں نے سچ بولا تو فرمانے لگے مجھ سے جناب! آج کی دنیا میں حق گوئی بھی دانائی نہیں آپ جاکر ڈھونڈھ لیں دنیا میں لے کر کے چراغ آپ کو مل جائے گی ہر شے، پہ سچائی نہیں ہیچ ہیں سارے مصائب سب بلائیں ناتمام مشکلیں سب ضبط کرلوں درد رسوائی نہیں کس زمانے میں ہوں میں اور کون سی محفل میں ہوں میرے کانوں سے کبھی سچائی ٹکرائی نہیں فتنہ پردازی، حسد، نفرت، عداوت اور غرور ان سے بڑھ کر آج کی دنیا میں بلوائی نہیں آج پہلی بار میرا دل ہوا ہے لخت لخت شمسؔ نے تو آج تک ایسی سزا پائی نہیں   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی ، اردو، اسلامک اسٹڈیز  بابا غلام شاہ بادشاہ یو

سلام بحضور حضرت حسین ؑ

آیئنہ ہو سامنے قرآن کی تفسیر کا  تذکرہ پیشِ نظر ہے شاہِ خیبر گیر کا لاڈلا ہے مصطفی ؐکا کربلا میں تشنہ کام  سامنا ہے تیر کا، تلوارکا، شمشیر کا کہہ رہی ہیں یہ اذانیں،یہ نمازیں، یہ طواف  "آج بھی ہے نام زندہ حضرتِ شبیرؑ کا " یہ ستم تو اب قیامت تک رہے گا یاد گار  حرُملا کا تیر سہِ شعبہ گلا بے شیر کا قصِر باطل سے صدائے حق کی آئی باز گشت  ذکر چھیڑو عا بدِؑ بیمار کی زنجیر کا  شمر ہے موجود ہر صف میں ہماری آج بھی  رخ بدل کر دیکھ لو یارو کسی تصویر کا  روضئہ شبیر ؑسے آئی صدا سجادؔ آ..! اور فرشتے بولیں کیا کہنا تری تقدیر کا    338 محلہ جھولاکاں، جموں 9419104353  

شان خاصانِ علی مرتضیٰ ؑ

تھا علی ؑ کو وہ شغف آیات قرآنی کے ساتھ ہوکے فانی ہوگئے منسوب لافانی کےساتھ واہ ! وہ ربط عبادت کیف روحانی کے ساتھ ’’کیا نماز ِ شاہ ؑ تھی ارکان ایمانی کے ساتھ دل بھی جھک جاتا تھا ہر سجدے میں پیشانی کے ساتھ‘‘ یاد رکھے گا زمانہ تا ابد تیرے اصول  ہر طرف کھلتے رہینگے بس تیری مدحت کے پھول ہو بھلا کیا تیری مدحت کہ ہے تو جان ِ بتول ؑ ’’حشر تک زندہ ہے تیرا نام اے ابن رسول ؐ کرچکا ہے تو وہ احساں نوع انسانی کے ساتھ‘‘ جہد پیہم ہو تو اک دن بالیقیں پھرتے ہیں دن عزم راسخ ہو تو پھر اے ہم نشیں پھر تے ہیں دن آہ یوں آہ و بقا سے بھی کہیں پھرتے ہیں دن ’’صرف رولینے سے قوموں کے نہیں پھرتے ہیں دن خوں فشانی بھی ہے لازم اشک افشانی کے ساتھ‘‘ ہے کشاکش ہی سراغ افتخار زندگی

سلام

مٹا یزید کا لشکر حسین ؓزندہ باد  حسین تو ہے مکرر حسینؓ زندہ باد ہماری دید کا منظر لہو لہو ہے آج  چبھا ہے درد کا نشتر حسینؓ زندہ باد  سوار ہوتے ہیں جو پشت پر محمد کی حسین جانِ پیمبر حسینؓ زندہ باد  رگوں میں دین کی داخل کیا لہو اپنا  حیات کی ہے نچھاور حسینؓ زندہ باد  ہماری آنکھ میں اشکوں کو تشنگی ہے بہت رواں رواں ہے سمندر حسینؓ زندہ باد  اسی کے دم سے ہے خوشبو میں زندگی قائم علیؓ کے گھر کا صنوبر حسینؓ زندہ باد  دلوں میں درد کی صورت وہی دھڑکتا ہے  دلوں کا درد دلاور حسین ؓزندہ باد  گُلوں نے رنگ ہے پکڑا لہو کا اب عادل ؔ بہار ہے کہ معطر حسین ؓزندہ باد    اشرف عادل  کشمیر یونیورسٹی حضرت بل ،سرینگر کشمیر  موبائل9906540315     ن

غزلیات

 رنگ چہرے پر کئی آنے لگے جانے لگے جانے کیا یاد آ گیا ان کو کہ شرمانے لگے   ہم سہارے کی انہیں کیسے نہ کرتے پیشکش وہ حیا سے یا ادا سے ایسے بل کھانے لگے   جانے کیوں یکلخت اس نے یوں نگاہیں پھیر لیں ہم اچانک بھیڑ میں تنہا نظر آنے لگے   راستہ اپنا نظر آیا نہیں دن میں جنہیں رات آئی تو ہمیں ہی راہ دکھلانے لگے   میرے بارے میں کئی لوگوں نے جو کچھ بھی کہا وہ کہ تعریفیں ہیں یا الزام، افسانے لگے   ہو گئے بلراج ہم ان کے حوالے ایک دن وار کرنے والے اتنے جانے پہچانے لگے     بلراجؔ بخشی ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر) Mob: 09419339303 email: balrajbakshi1@gmail.com         بزم میں آئے   ذکر یار کے ساتھ

آبِ حیواں کردیا تو نے

 تضمین بر اشعارِ جوشؔ ملیح آبادی سیاہ تاریخ ظلمت کو درخشاں کردیا تو نے جہاں کے کج کلاہوں کو پشیماں کردیا تو نے خدا شاہد کہ وہ کارِ نمایاں کر دیا تو نے       ’’حسین ؑابن علی ؑ دنیا کو حیراں کردیا تو نے سراب تشنگی کو آبِ حیواں کردیا تو نے‘‘ اصولِ فتح کا احساس ہر سر میں بدل ڈالا مزاج حُر ؑ کو یکسر فکرِ اطہر میں بدل ڈالا بدلنا جس کو چاہا اسکو دم بھر میںبدل ڈالا     ’’نظر ڈالی تو ذروں کو جواہر میں بدل ڈالا قدم رکھا تو شعلوں کو گلستاں کردیا تو نے‘‘ تری جانب بہتر تھے اُدھر تھا لشکر ِشیطاں اُدھر جینے کی خواہش تھی ، شہادت کا اِدھر ارماں تیری جرأت پہ سفاکی رہی انگشت بدنداں     ’’تیری کشتیٔ جاں کو غرق کرنے جب بڑھ

غزل

سوچتا ہوں فسردگی کیوں ہے  زندگی میں یہ بے حِسی کیوں ہے    کیوں ہے یہ عادتِ  جبیں سائی  ہرکسی کی یہ بندگی کیوں ہے    رُوبہ رُو ہیں وہ جھیل سی آنکھیں پھربھی ہونٹوں پہ تشنگی کیوں ہے    اُس کوشاید مذاق ہے سوُجھا اُس کے ہونٹوں پہ یہ ہنسی کیوں ہے    دُشمن انساں کابن گیادُشمن  رسم ایسی مگر چلی کیوں ہے    اُس کی آمد میں دیر ہے شاید  دِل کی محفل میں خامشی کیوں ہے    میں کہ اکثریہ سوچتاہوں ہتاشؔ اِسقدر تم میں سادگی کیوں ہے    پیارے ہتاشؔ جموں،رابطہ نمبر:8493853607  

غزلیات

کچھ گھٹا دی گئی کچھ بڑھا دی گئی کیا کہانی تھی اور کیا بنادی گئی شہر کا شہر ہے آج خنجر بکف کیا مرے سر کی قیمت لگا دی گئی تیر باقی ہیں کیا ترکشوں میں ابھی جو ہمیں زندگی کی دُعا دی گئی آشیانوں کی بربادیوں کا سبب بجلیوں کی شرارت بتادی گئی آپ تو اِن کے حلقہ بگوشوں میں تھے آپ کو کس خطا کی سزا دی گئی روشنی گھر میں داخل نہ ہو اِس لئے ہر دریچہ کی چلمن گرا دی گئی منہ سے لبیک لبیک کہتے ہوئے   جاں نثار آگئے جب صدا دی گئی غم بھی دُنیا سے بڑھ چڑھ کے ہم کو ملے سرفرازی بھی سب سے سوا دی گئی بس اِسی پر ہے برہم زمانہ وحیدؔ اُس کو تصویر اُس کی دکھا دی گئی   وحید مسافرؔ باغات کنی پورہ، 9419064259 محبت یہ کیا ماجرا ہوگیا میں کیا تھا، کیا سے کیا ہوگیا اندھیرا میرے دل کی مشعل بنا تصور سےغم کچھ سو

داغ

 شادی کے تین سال بعد ایک تو اولاد نہ پانے کا صدمہ اور اوپر سے  اس کی بیوی نے یہ الزام لگادیا کہ وہ باپ بننے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ہزار سمجھانے بلکہ منت سماجت کے باوجود بیوی نے طلاق لے لی۔  اس کی انا اور امیج دونوں  بری طرح متاثرہوئے تھے۔گو بظاہر ناممکن تھا،لیکن وہ کسی بھی طرح  نامردی کے اس داغ کو مٹا کر اپنی ساکھ اور سکون بحال کرنا چاہتا تھا۔ بالآخر والدین اور دوستوں کی رائے اور کوششوں سے ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی ۔لڑکی نے ڈیڑھ دو سال میں ہی اولاد بھی  دے دی  اور اس پر لگے  بھدے داغ کو دھو ڈالا ۔لیکن  اب اس کے دل کے اندر جو  ایک اور داغ لگ گیا تھااسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کا ازالہ کیسے کرے۔  

عُریاں فاصلے

 ایک ہی کمرے میں ،ایک دوسرے سے گزبھر کی دوری پہ بیٹھے ،دونوں اپنے اپنے  فرضی ناموں سے، انٹرنیٹ پراپنے ا پنے  دوستوں کے ساتھ چیٹنگ میں مصروف تھے ۔’’مجال ہے جو ایک دوسرے سے بھی کوئی بات کر لیں ‘‘۔’’ بھائی تو پہلے سے ہی اس آفت کا مارا تھاا ب بہن کو بھی چسکا پڑ گیا ہے‘‘ ۔ فرضی ناموں  سے چیٹنگ کا یہ فائدہ  رہتا ہے کہ  سب کچھ ایک پردے میں رہتا ہے۔کل کلاں کوئی بات کہیں بگڑ جائے تو ایک دوسرے کو سرِعام گھسیٹنے کی نوبت نہیں آتی۔معروف کی دوستی نفیسہ سے تھی جب کہ عافیہ کسی ساحل سے پینگیں بڑھارہی تھی۔ بات آگے بڑھی تو اپنا اپناایڈریس بھی ایکسچینج کیا گیا۔ساحل کے میسج میں اپنے ہی شہر کا نام پڑھ کر عافیہ کو  تھوڑاسا جھٹکاضرور لگاتھاکیوںکہ ایسے تعلقات میں شہربھر کی دوری کو ترجیح دی جاتی ہے۔خیر اس نے اپنے شہر کا نا

ارتقا

 نئے تعینات ٹیچر نے بائیو کی اپنی پہلی کلاس میں ہی طلبا کو اپنا گرویدہ بنا لیاتھا۔ دوسری کلاس میں اس نے  نامیاتی ارتقا (EVOLUTION) پر مباحثہ کیا اور انھیں اس پر اپنی رائے اور تبصروں کا موقع دیا۔ دیکھو ان سب  شواہد سے یہ اب بالکل واضح ہو چکا ہے کہ ہم انسان، یا یوں کہہ لو کہ زندگی اپنی موجودہ شکل کوپہنچنے سے پہلے کئی  مرحلوں سے گزری ہے۔ اس طرح انسان جانور کی ترقی یافتہ شکل ہے اور پیچیدہ ساخت اور چالاک جانور، سادہ  اور کم عقل جانوروں کی ترقی یافتہ شکل۔  ایک بچہ جو ابھی تک صرف غور سے سن رہاتھا، پہلی بار کچھ پوچھنے کے لئے کھڑا ہو گیا، ’’سر یہ اِرتقا رِیورس (Reverse)نہیں ہوسکتا ؟‘‘  

آہ! برما

جسم چھلنی ہو رہے ہیں، ہو رہے ہیں سَر قلم آہ ! برما کے مُسلمانوں پہ یہ ظُلم و سِتم جبر و اِستحصال و قتل و خوں کے منظر ہر طرف بے گُناہوں کے لہو میں ڈُوبے خنجر ہر طرف مُنہ کو آتا ہے کلیجہ کیا کہیں کیا حال ہے ماؤں بہنوں بیٹیوں کی آبرو پامال ہے سَر پِھرے لوگوں نے کر دی ہے سِتم کی اِنتہا ہر طرف لاشیں ہی لاشیں اور لہو بہتا ہُوا لگ رہا ہے جیسے برما سارا مقتل ہو گیا ہر گلی کُوچہ سڑک چوراہا مقتل ہو گیا اُف! چراغِ زندگی یُوں بھی بُجھائے جاتے ہیں عورتیں بچّے جواں بُوڑھے جلائے جاتے ہیں حال اب برما کا جگ ظاہِرہے تشت از بام ہے لاشوں پر لاشوں کے ملبے ہیں یہ منظر عام ہے تھم نہ پائے گا کِسی صورت یہ قتلِ عام کیا بُدّھم شرنم گچّھامی میں ہے یہی پیغام کیا اندھے گُونگے بہرے دُنیا والے ہیں، ایسا نہیں آہ اِن مظلوموں کی کوئی مگر سُنتا نہیں

غزلیات

دریائے تیرگی میں بکھرنا پڑا مجھے سورج کے ساتھ ساتھ اُترنا پڑا مجھے   دو چار دن نگاہ کا مرکز رہا کوئی پھر فاصلوں کا فیصلہ کرنا پڑا مجھے   کیا جانے کس مزاج کے کتنے حبیب تھے اپنی ہی آستین سے ڈرنا پڑا مجھے   آنکھوں سے عمر بھر نہ ملاقات ہو سکی بیکار آئینے میں سنورنا پڑا مجھے   ایک زندگی کو چھوڑ دیا موت کے لئے اک زندگی کے واسطے مرنا پڑا مجھے   میٹھے سمندروں کے انھیں سے تھے سلسلے جن کھٹّے پانیوں میں ٹھہرنا پڑا مجھے   اک سچ کی آبرو کی حفاظت کے واسطے خود اپنے آپ ہی سے مکرنا پڑا مجھے   سید بصیرالحسن وفاؔنقوی ہلال ہائوس،مکان نمبر ۱۱۴/۴ نگلہ ملاح سول لائن ,علی گڑھ،یوپی موبائل:9219782014   زندگی میں وہ وقت بھی آئے  میں رہوں خوش مگر وہ پچھتائے

غزل

جگر کو تھام کر اظہارِ حالِ زار کرتا ہوں سُن اے بے درد دُنیا درد کا اظہار کرتا ہوں تجھے اے شامِ غم پھر خوں سے لالہ زار کرتا ہوں کہ جب تسلیم اُس تیرِ نظر کا وار کرتا ہوں دلِ صد چاک پیشِ ابروئے خمدار کرتا ہوں خود اپنی جاں نثارِ خنجرِ خونخوار کرتا ہوں ہر اک رنگِ زمانہ سے نپٹنے کیلئے یارو میں اپنے آپ کو اندر سے ہی تیار کرتا ہوں زمانہ تو بہت آگے ہے اور میں ہوں بہت پیچھے چلو اپنی ہی نااہلی کا میں اقرار کرتا ہوں غمِ دوران ہے یہ اشکِ رواں ہے آہِ سوزاں ہے یہ سب کچھ اے فلک تیری نذر یکبار کرتا ہے دلِ حساس تُو ہی تو مری خاطر مصیبت ہے میں تجھ سے دور ہی اب خلوتوں سے پیار کرتاہوں زمانہ تو بہت ہشیار ہے اور میں ہی سادہ ہوں سنبھل اے دل ذرا تجھ کو بھی اب بیدا کرتا ہوں جہاں والو بھلا کیوں سادگی میری پہ ہنستے ہو تمہاری اِس اداکاری سے کب

غزلیات

کسی کا رنج نَے شکوہ گلہ ہے میں خوش ہوں جو ملا جتنا ملا ہے ستاروں کی زمیں ہے اور میں ہوں یہ کوئی خواب ہے یا معجزہ ہے مسائل ڈس رہے ہیں ہر قدم پر  یہ دنیا بھی نہ جانے کیا بلا ہے مقدر کی کرم فرمائی دیکھیں مجھے انعامِ تنہائی دیا ہے اکیلے جانبِ منزل رواں ہوں نہ کوئی ہمسفر ، نَے آشنا ہے مجھے بھی ایک دن منزل ملے گی میری اُمید کا روشن دیا ہے اسے ہی لذتِ دنیا ہے حاصل  فراقِ یار سے جو آشنا ہے جہاں والوں کو بھی تھوڑا سا دے دو سکونِ قلب جو تم کو ملا ہے خزاں سے کیوں نہیں لڑتے ہو اے شمسؔ بہاروں کا اگر تم کو گلہ ہے   ڈاکٹر شمسؔ کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380         فقیر ہوتے ہوئے  تاجدار ہے  اب

مرحوم غلام محمد شاد ؔکی نذر

 غزل دھوپ کے اس شہر میں اب سائبان کوئی نہیں بجلیاں ہی بجلیاں ہیں آشیاں کوئی نہیں جس طرف بھی دیکھئے بڑھتی ہوئی اِک بھیڑ ہے ڈھونڈتے رہ جایئے پر مہربان کوئی نہیں پھر لبِ واعظ سے جھڑتی ہیں ہزاروں کہکشاں کاغذی سب مہرومہ ہیں ضوفشاں کوئی نہیں صُلح کے خواہان و دعویٰ دار سارے رہ نُما انتہائوں پر کھڑے ہیں درمیاں کوئی نہیں کھیلتے رہتے ہیں بچے رات دن موبائل سے دادیوں کی پوٹلی میں داستاں کوئی نہیں برف رنگ پوشاک میں ملبوس یہ اہلِ ریا مُسکرا کر مل بھی لیں تو بے گماں کوئی نہیں سربلندی طرئہ دستار سے ملتی نہیں سادگی کی بات ہو تو آسماں کوئی نہیں اُٹھ گئے بزم سخن سے شادؔ بھی مشہورؔ، اب ہم نوا کوئی نہیں، جادو بیاں کوئی نہیں   محمد یوسف مشہورؔ موبائل نمبر؛9906624123   سو گیا چاند مرا ...!!!   سو