تازہ ترین

غزلیات

جب بھی میں گمرہی سے ملتا ہوں ایک تشنہ لبی سے ملتا ہوں   عین اسی وقت اندھیرا ہوتا ہے جب بھی میں روشنی سے ملتا ہوں   لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں جب بڑی سادگی سے ملتا ہوں    مجھ سے ملنا اسے نہیں منظور  اور میں روز اسی سے ملتا ہوں    دشمنی خود سے کوئی خاص نہیں بس یونہی بے رخی سے ملتا ہوں    کتنے حیلوں حوالوں سے بلراجؔ ایک نیلم پری سے ملتا ہوں    بلراج ؔبخشی   ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی،  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  موبائل نمبر؛09419339303 email: balrajbakshi1@gmail.com     حق کی خاطر خدا کی خوشی کے لئے  جینا مرنا ہمارا اُسی کے لئے دل

غزلیات

گلوں سے شاخ ِصبا بغل گیر ہوگئی تھی کلی کلی کی زبان شمشیر ہوگئی تھی قدم قدم پر سیا ستوں کے غلام تھے گُل چمن چمن تتلیوں کی تقریر ہوگئی تھی میان میں تھی ہماری تلوار اب سے پہلے زبان خنجر نہیں تھی، زنجیر ہوگئی تھی فسانہ پڑھتے ہو کیا میری لوح ِچشم تر سے ہر اک کہانی کہاںپہ تحریر ہوگئی تھی کسی کے ہاتھوں یہ اک تحر یر تھی حنائی حنا حنا سی ہماری تقدیر ہوگئی تھی صلیب پر آنکھ کی چڑھا تھا جنون سا کچھ اُداس نسلوں کی کوئی تشہیر ہوگئی تھی صبا نے چوما تھا ریت پر نام گُل کا عادلؔ ہو ا کے ہاتھوں سے کوئی تقصیر ہوگئی تھی   اشرف عادلؔ  کشمیر یونیورسٹی،حضرت بل سرینگر موبائل:9906540315    غـــــزلــــــــیـات گلشن خنک خنک ہے بیاباں تپاں تپاں لمحہ بہ لمحہ رنگ بدلتا ہے آسماں   دیر وحرم کے قمقمے

غزل

عہدوپیمان کے دھاگے سے بندھے ہیں ہم لوگ آپ بتلائیے اچھے کہ برے ہیں ہم لوگ ہم نے سچائی کو سینے سے لگایا ہر دم اس لیے طرز تخاطب میں کھرے ہیں ہم لوگ خانۂ غم میں کہیں روشنی باقی نہ رہی اس قدر بغض وتنفُّر سے بھرے ہیں ہم لوگ ہم کسی راز کو سینے میں نہیں رکھ پاتے ایسا لگتا ہے کہ مٹی کے گھڑے ہیں ہم لوگ ہم جو احساسِ مروّت سے ہیں یکسر عاری اے خدا! کون سی مٹی سے بنے ہیں ہم لوگ ہم نے غیروں کو بھی ہمدرد ومسیحا جانا سادہ لوحی میں کئی بارلُٹے ہیں ہم لوگ اس حسیں دنیا میں احساس بہت ہوتا ہے کس خرابات میں آباد ہوئے ہیں ہم لوگ عصر حاضر میں ہمیں شمس ؔ غنیمت جانو! سیلِ جدّت میں روایت سے جڑے ہیں ہم لوگ   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری رابطہ؛9086180380  

غزل

     صحر ا دھوپ سفر سایہ اور منزل دور سانولے بادل پیاس بڑی ہے مشکل دور  تلواروں کے سائے میں سب ر ات کٹی  اس جانب ہیں سارے ڈاکو قاتل دور  آنکھوں کی ویرانی میں ہیں کیا کیا خواب خاک اڑی اور بکھری یوں پھر حاصل دور بیماروںپہ آکے کوئی دم کر لو علم کے چرچے زُہد و تقویٰ کامل دور آنکھوں سے ہے ظاہر شدت پیاس کی سب طاقت ساری فوت ہوئی ہے ساحل دور یاری بچوں کی چھوٹی ہے آنگن سے  شادؔ کہاں ہے اپنے گھر سے جاہل  دور                                                                    شادؔ سجاد عمر کالونی وشبگ پلوامہ    

غزلیات

بہت دیکھا ہے آئینہ بدل کے  وہی ملتا رہا چہرہ بدل کے    نہ بچ پائیں گے ہم خیمہ بدل کے جلا دے گا کوئی شعلہ بدل کے   رواجِ سنگ و سر کیا  ہر جگہ ہے  چلو دیکھیں ذرا کوچہ بدل کے    بہت ہیں قصر و ایوان و مکانات  بنے اب گھر کوئی نقشہ بدل کے   مرا شوقِ بْتاں عشقِ خْدا تک  پلاتا ہے  مجھے نشّہ بدل کے   ملی بس ایک ہی منزل ہمیشہ  گئے ہم بارہا رستہ بدل کے    مزاجِ کوہ تو اب تک ہے باقی  بھلا کیا فائدہ تیشہ بدل کے    سید شبیب رضوی اندرون کاٹھی دروازہ ,رعناواری سرینگر  موبائل :- 9906685395     تیرا نہ تھا قیام میری کائنات میں لیکن نہ بدگمان رہا تا حیات میں دن ہیں نہیں نصیب میں میرے ن

کیوں جابجا مرتا ہے کشمیری؟

  کیوں جابجا مرتا ہے کشمیری؟   پھر اے خدا آہ و بُکا کر تا ہے کشمیری پھر دیکھ، کرتا ہے کوئی بھرتا ہے کشمیری   پھر امتحاں ہونے لگا ہے صبر کا اس کے پھر آگ کے دریا سے گزرتا ہے کشمیری   پربت کی برفیلی ردا تک خون آلودہ درویش ہے اور جنگ بھی کرتا ہے کشمیری   وارثِ لَلتا دتیہ وسلطاں شہاب کا کِس نے کہا عفریت سے ڈرتا ہے کشمیری   جس رہنما کی روح تک گروی ہو کہیں پر وہ کیا کہے کیوں جابجا مرتا ہے کشمیری   یہ کس نے ستی سر کو لہو  رنگ کیا ہے؟ ڈوبا تو پھر مشکل سے اُبھر تا ہے کشمیری   انظرؔ چمن میں آئے گی کب تک بہار پھر؟ مدت سے اب جھاڑے میں ٹھٹھرتا ہے کشمیری   پیر حسن انظرؔ  بمنہ سرینگر،موبائل نمبر؛9419027593  

غزلیات

طرحی غزل  یہ تو سوچا ہی نہ تھا ایسا بھی منظر ہوگا کوبکو شہر میں افواج کا لشکر ہوگا اب کسی طور بھی راحت نہیں ملنے والی خواب آنکھوں میں لییے کانٹوں پہ بستر ہوگا  اک ہری شاخ بھی مجھکو نہ کبھی دے پایا ’’وہ جو کہتا تھا کہ آنگن میں صنوبر ہوگا‘‘  قائدِ قوم سے ہر روز یہ ووٹر پوچھے کیا کوئی دن میرا اس ملک میں بہتر ہوگا عدل و انصاف کو اقدار بنالو بھئی ظلم سے باز نہ آوگے تو محشر ہوگا زن مریدی کا یہ انداز نہ دیکھا تھا کبھی  دست بستہ کھڑا دروازے پہ شوہر ہوگا  چاک وچوبند تھے جب کھاتے تھے روکھی سوکھی کس کو معلوم تھا گھی کھائیں گے شوگر ہوگا  تم بھی چپ چاپ گزر جاو یہاں سے بسملؔ حق جو بولو گے تو ہر ہاتھ میں پتھر ہوگا   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی، راجوری،9622045324 &nb

غزل

 عمارت گر چْکی لیکن ابھی آثار باقی ہیں  گئی گزرْی  محبت کے کئی اسرار باقی ہیں    صداقت پْھول سے لہجے میں ہم نے کیا بیاں کردی  ہماری راہ میں اب عْمر بھر کے خار باقی ہیں    خزانہ داد کا خالی ابھی مت کیجئے صاحب  میری زنبیل میں کچھ اور بھی اشعار باقی  ہیں    جو رنگوں سے بیاں کر دیں ستم کی ہر کہانی کو  ہمارے شہر میں ایسے کئی فنکار باقی ہیں    پرندے کر کے ہجرت اس لئے آئے ادھر شاید  ابھی کچھ آشیانوں کے لئے اشجار باقی ہیں    اگر چھت لے گئی آندھی تو اب بھی کچھ سہارا ہے  کہ سائے کے لئے گھر کے در و دیوار باقی ہیں    بنا کر دیکھ لے یوسف، مجھے مل جائے گی قیمت  خریداری کی خاطر مِصر کے بازار باقی ہیں  &nb

غزلیات

نگاہ بھر کے وہ اکثر نہارتا ہے مجھے  یہ کون شیشے میں اپنے اتار تا ہے  مجھے    ہے یہ بھی نفرت و قربت کا باہمی سودا  نہ جیتتا ہے کوئی اور نہ ہارتا ہے مجھے    نہ جانو تم ہو کہ یہ گردشِ زمانہ ہے  بدل کے لہجہ کوئی تو پْکارتا ہے مجھے    میں آب و گِل سے بنا پیکِرحقیر سہی  تمھارا حْسِن نظر ہی سنوارتا ہے مجھے    تو کیوں نہ سچ کے لئے یہ زبان کٹ جائے  سکوتِ لب بھی تو بے مو ت مارتا ہوا مجھے   ڈاکٹر سید شبیب ؔرضوی اندرونِ کاٹھی دروازہ ،رعناواری سرینگر  موبائل :-9906885395     سوالوں کے جوابوں میں تو آئے وہ ہم خانہ خرابوں میں تو آئے   جو امکاں سے پرے ہے ایک پیکر وہ کم سے کم سرابوں میں تو آئے   بس

غزل

 میں خوشبوؤں میں بکھرتی رہی اْسی کے لئے  اور آئینے میں سنورتی رہی اْسی کے لئے    میں جس کے قلب میں اْتری تھی چاندنی بن کر  خیال بن کے مچلتی رہی اْسی کے لئے    وْجود گْھل گیا راتوں میں سیاہی کی طرح  ہر ایک صْبح کو تکتی رہی اْسی کے لئے    کہوں تو کس سے کہوں شامِ غم کی ہجرت کو  میں شمع بن کے پگھلتی رہی اْسی کے لئے    وفا کے پھول پہ یادوں کی مہکتی شبنم  تمام رات برستی رہی اْسی کے لئے    وہ جس نے رات کی رانی اْگائی سانسوں میں  میں سانپ بن کے تڑپتی رہی اْسی کے لئے    فلک کے جس نے دکھائے تھے خواب آنکھوں کو  میں چاند بن کے اْبھرتی رہی اْسی کے لئے    محلہ جھولاکاں جموں  موبائل :- 9419104353

غزلیات

 چاردِن کی یہ زندگانی ہے  اس کی جوچیزبھی ہے فانی ہے  ہرکسی کا اُڑاتاہے وہ مذاق اُس کی عادت بڑی پُرانی ہے  جوبیاں کرتے ہیں مرے آنسو دِل پہ تحریر وہ کہانی ہے  اُس کی پلکیں ہیں جھیل سی گہری اُس کے لب ہیں کہ گُل فشانی ہے  اُس کی باتوں سے پھُول جھڑتے ہیں  کتنی رنگین یہ کہانی ہے  عُمرگذری ہے غم اُٹھاتے ہوئے  مختصریہ مری کہانی ہے  کیابھروسہ کریں ہم اس پہ ہتاشؔ جبکہ دُنیایہ آنی جانی ہے    پیارے ہتاشؔ دور درشن گیسٹ لین جانی پور،جموں رابطہ نمبر:8493853607     تشنہ لب ہوں اداس بیٹھی ہوں میں سمندر کے پاس بیٹھی ہوں تم نگاہیں چرائے بیٹھے ہو  میں سراپا سپاس بیٹھی ہوں دیکھ مجھ کو کہ تیری محفل میں  میں بھی اے غم شناس بی

غزل

میں نے جو زباں کھول دی تو اُس نے کہا چُپ صدیوں سے چلی بات یہی کیوں میں رہا چُپ صحرا میں مسیحا تھا ملا آہ و فغان کو ہونٹوں کو پلائی ہے اُسی نے یہ دوا چُپ ہے شہرِ تمنا جو مرا خون میں غلطاں نالان ہیں بندے بخدا اُن کا خدا چُپ تازہ ہیں محبت کے سبھی زخم نہ چھیڑو رہنے دو ابھی چانک نہ ہوجائے قبا چُپ موسم ہے خزاں بار، دریچے نہ کرو وا توڑے گی فضائوں کی نئی بادِ صبا چُپ ہر شخص کو ملتا ہے کہاں اذِن کلیمی اپنی ہی خموشی میں رہی اپنی صدا چُپ علی شیداؔ نجدون نی پورہ اسلام آباد کشمیر،9419045087  

غــزلــــیات

ذہن روشن نہ تھے دل کُشادہ نہ تھا بندکمروں میں گھر کے اُجالا نہ تھا   رنگ اپنا نہ تھا ڈھنگ اپنا نہ تھا ایک چہرہ تھا وہ بھی ہمارا نہ تھا   منظروں کا تو تھا ذکر تاریخ میں کوئی پس منظروں کا حوالہ نہ تھا   خار تو سارے آپس میں مربوط تھے پھول سے پھول کا کوئی رشتہ نہ تھا   متفق تھا زمانہ مرے قتل پر قتل کرنا مگر اُس کے بس کا نہ تھا   اُن کو گُلشن جلانا تو منظور تھا میرا گُلشن میں رہنا گوارا نہ تھا   تھا وحیدؔ اُس کے وعدوں کا ہم کو یقین احترامِ زباں جس کا شیوا نہ تھا   وحید مسافرؔ باغات کنی پورہ، 9419064259   رفتہ رفتہ ہر تمنا دل سے اب جانے لگی زندگی اپنے کئے پہ، آج شرمانے لگی   جھانک کر دیکھا چمن کا آج پھر میں نے جو حال جسم بے حس ہوگیا ا

غزل

کسی کا رنج نَے شکوہ گلہ ہے میں خوش ہوں جو ملا جتنا ملا ہے ستاروں کی زمیں ہے اور میں ہوں یہ کوئی خواب ہے یا معجزہ ہے مسائل ڈس رہے ہیں ہر قدم پر  یہ دنیا بھی نہ جانے کیا بلا ہے مقدر کی کرم فرمائی دیکھیں مجھے انعامِ تنہائی دیا ہے اکیلے جانبِ منزل رواں ہوں نہ کوئی ہمسفر ، نَے آشنا ہے مجھے بھی ایک دن منزل ملے گی میری امید کا روشن دیا ہے اسے ہی لذتِ دنیا ہے حاصل  فراقِ یار سے جو آشنا ہے جہاں والوں کو بھی تھوڑا سا دے دو سکونِ قلب جو تم کو ملا ہے خزاں سے کیوں نہیں لڑتے ہو اے شمسؔ بہاروں کا اگر تم کو گلہ ہے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری 9086180380  

غزلیات

 اس کی رنگت شراب جیسی ہے اور خوشبو گلاب جیسی ہے   اک کہانی سی ہے بدن اس کا جس کی صورت کتاب جیسی ہے   میں نے دیکھی ہے اک جھلک اس کی ہو بہو ماہتاب جیسی ہے   یوں بظاہر ہوں پُر سکون مگر کیفیت اضطراب جیسی ہے   اچھی لگنے لگی ہے دنیا بھی دلِ خانہ خراب جیسی ہے   ٹوٹ جاتا ہے راہ میں بلراجؔ زندگی ایک خواب جیسی ہے     بلراج بخشی   عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور- (جموں کشمیر)  Mob: 09419339303 alrajbakshi1@gmail.com         کرم تیرا مرے ساقی بہت ہے  مرے شیشے میں مے باقی بہت ہے   کہاں حمد و تشکر کی رسائی  خدایا تیری رزاقی بہت ہے   بساطِ گْل پہ رقصِ رنگِ شبن

غـزلـیات

 خاموش زمزمے ہیں ، مرا حرف ِ زار چپ ہر اختیار چپ ہے ، ہر اک اعتبار چپ    بادِ سموم در پئے آزار دیکھ  کر سکتے میں بے قرار ہے ، باد ِ بہار چپ   منظر نہیں ہیں بولتے، صحرا اُداس  ہے پتھرا گئی ہے آنکھ ، دل ِ داغ دار چپ   جو کچھ بھی ہو رہا ہے ، یہ مقسوم تو نہیں بس تجھ کو کھا گئی ہے تری خونخوار چپ   ہر ایک کو ہوں گوش بر آوازدیکھتا اوڑھے ہوئے ہوں جب سے میں اک با وقار چپ   حرف ِ دعا نہ دست ِ طلب، در پہ آن کر لب پر فقط ہے رقص میں اک دلفگار چپ    ذوالفقار نقوی  جموں ، انڈیا ۔9797580748       حیرت ہے، میرا گھیرے ہوئے  راستہ ہے کون اس شہر میں نیا ہوں مجھے جانتا ہے کون    گھر سے الگ ہوئے ہیں تو معلوم یہ ہ

غزلیات

دشِت امکاں میں آرہے ہیں لوگ کیسی دُنیا بسا رہے ہیں لوگ   ہےمصّور کہیںپس پردہ…! فن کی تکمیل پا رہے ہیں لوگ   خوش نصیبی کہ ان کی راہوں میں  پھول کلیاں بچھا رہے ہیںلوگ   کیسی لالی شفق یہ چھائی ہے اب کے مقتل میں جارہے ہیں لوگ   یاد بے شک عذاب دیتی ہے پھر کیوں دامن بچا رہے ہیں لوگ   خون محنت کشوں کا بہتا ہے اِک عمارت بنا رہے ہیں لوگ   کس کی آمد کا ذکر ہے سجادؔ اپنی پلکیں بچھار ہے ہیں لوگ   سجاد ؔپونچھی 338محلہ جھولا کاں جموں9419104353   (جمنا پرشاد راہیؔ کے سانحۂ ارتحال پر کہے گئے اشعار) کسی سے بجھ نہ سکے اُس کی آگہی کے چراغ ہوا کے دشت میں روشن ہیںشاعری کے چراغ ہلا گیا ہے مکانوں کو زلزلہ کوئی بجھا دئیے ہیں ہوا نے گلی گلی کے چ

غزل

ڈاکٹر شمس کمال انجم کوئی غم یا عذاب سا کچھ ہے دل میں اک اضطراب سا کچھ ہے میری آنکھوں یہ کچھ پتہ ہی نہ تھا  پیشِ منظر سراب سا کچھ ہے خیمۂ دل میں روشنی ہے بہت کیا یہاں ماہتاب سا کچھ ہے اس کے جلوؤں سے ہے جہاں روشن گویا وہ آفتاب سا کچھ ہے میں نے کچھ بھی نہیں کہا اس کو پھر بھی وہ لاجواب سا کچھ ہے بانٹتا ہے وہ خوشبوؤں کی سبیل لمس اس کا عذاب سا کچھ ہے کچھ نہ کہہ کر وہ کہہ گئے سب کچھ خامشی میں جواب سا کچھ ہے ان تیکھی نظر میں پوشیدہ میں نے دیکھا عتاب سا کچھ ہے صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی 9419103564     حاضری افسانہ   سید بشارت رسول ٹرن ٹرن ۔ ۔ ۔! ٹرن ٹرن ۔ ۔ ۔! سحری کھا کر لوگ نہ خود سوتے ہیں اور نہ دوسروں کو سونے دیتے ہیں۔ ۔ ۔! یہ اتنی صبح کون ہوگا۔

لالہ کاری

  ہے جاری یہاں خون کی لالہ کاری  ہیں معصو م ہر سُو محواشک باری  امن کا تو مفہو م معدوم ہے اب  گلوں پہ مسلسل یہاں گولہ باری  فقط خوں کے پیاسوں کی یلغار ہر سُو  یہاں آگ وآہن کی بارش ہے جاری  محو دادِ عشرت حکمراں یہاں ہیں  کرے کون مظلوم کی غم گساری  انصاف مظلوم مانگیں تو کس سے  سنگھاسن پہ بیٹھے ہوئے ہیں مداری  اظہارِ دردوکرب پہ ہے قدغن  کہ سوزاں ہے مشتاقؔ باد ِبہاری   9697621985  

غــزلـیات

 اک نئی تصویر  ہونے والی تھی   خواب کی تعبیر ہونےوالی تھی گاؤں میں خیرات بانٹی دوستو شہر میں تعمیر ہونے والی تھی آنکھ بھر کے دیکھ کیا لیتے اْسے  جو نظر سے تیر ہونے والی تھی پانیوں میں چیختا دیکھا لہو جل پری کشمیر ہونے والی تھی وصل کا جھوٹا دلاسا دے کے وہ  ہجر کی زنجیر ہونے والی تھی  پھول ہم نے دھڑکنوںمیںرکھ دیئے  آنکھ بھی شمشیر ہونے والی تھی  نظم اْس کی آندھیوں سے لڑپڑی         وہ سْخن میں میرؔ ہونے والی تھی سامنے تھی منزلوں کی چاہ اور   چوٹ بھی گھمبیر ہونے والی تھی یہ محبّت درد کی دہلیز پر    باعثِ توقیر ہونے والی تھی   محمد محمود  نجدون نی پورہ اسلام آبادکشمیر 9906874299     قربتوں سے بھی نزدیک