تازہ ترین

غـزلـیات

 خاموش زمزمے ہیں ، مرا حرف ِ زار چپ ہر اختیار چپ ہے ، ہر اک اعتبار چپ    بادِ سموم در پئے آزار دیکھ  کر سکتے میں بے قرار ہے ، باد ِ بہار چپ   منظر نہیں ہیں بولتے، صحرا اُداس  ہے پتھرا گئی ہے آنکھ ، دل ِ داغ دار چپ   جو کچھ بھی ہو رہا ہے ، یہ مقسوم تو نہیں بس تجھ کو کھا گئی ہے تری خونخوار چپ   ہر ایک کو ہوں گوش بر آوازدیکھتا اوڑھے ہوئے ہوں جب سے میں اک با وقار چپ   حرف ِ دعا نہ دست ِ طلب، در پہ آن کر لب پر فقط ہے رقص میں اک دلفگار چپ    ذوالفقار نقوی  جموں ، انڈیا ۔9797580748       حیرت ہے، میرا گھیرے ہوئے  راستہ ہے کون اس شہر میں نیا ہوں مجھے جانتا ہے کون    گھر سے الگ ہوئے ہیں تو معلوم یہ ہ

غزلیات

دشِت امکاں میں آرہے ہیں لوگ کیسی دُنیا بسا رہے ہیں لوگ   ہےمصّور کہیںپس پردہ…! فن کی تکمیل پا رہے ہیں لوگ   خوش نصیبی کہ ان کی راہوں میں  پھول کلیاں بچھا رہے ہیںلوگ   کیسی لالی شفق یہ چھائی ہے اب کے مقتل میں جارہے ہیں لوگ   یاد بے شک عذاب دیتی ہے پھر کیوں دامن بچا رہے ہیں لوگ   خون محنت کشوں کا بہتا ہے اِک عمارت بنا رہے ہیں لوگ   کس کی آمد کا ذکر ہے سجادؔ اپنی پلکیں بچھار ہے ہیں لوگ   سجاد ؔپونچھی 338محلہ جھولا کاں جموں9419104353   (جمنا پرشاد راہیؔ کے سانحۂ ارتحال پر کہے گئے اشعار) کسی سے بجھ نہ سکے اُس کی آگہی کے چراغ ہوا کے دشت میں روشن ہیںشاعری کے چراغ ہلا گیا ہے مکانوں کو زلزلہ کوئی بجھا دئیے ہیں ہوا نے گلی گلی کے چ

غزل

ڈاکٹر شمس کمال انجم کوئی غم یا عذاب سا کچھ ہے دل میں اک اضطراب سا کچھ ہے میری آنکھوں یہ کچھ پتہ ہی نہ تھا  پیشِ منظر سراب سا کچھ ہے خیمۂ دل میں روشنی ہے بہت کیا یہاں ماہتاب سا کچھ ہے اس کے جلوؤں سے ہے جہاں روشن گویا وہ آفتاب سا کچھ ہے میں نے کچھ بھی نہیں کہا اس کو پھر بھی وہ لاجواب سا کچھ ہے بانٹتا ہے وہ خوشبوؤں کی سبیل لمس اس کا عذاب سا کچھ ہے کچھ نہ کہہ کر وہ کہہ گئے سب کچھ خامشی میں جواب سا کچھ ہے ان تیکھی نظر میں پوشیدہ میں نے دیکھا عتاب سا کچھ ہے صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی 9419103564     حاضری افسانہ   سید بشارت رسول ٹرن ٹرن ۔ ۔ ۔! ٹرن ٹرن ۔ ۔ ۔! سحری کھا کر لوگ نہ خود سوتے ہیں اور نہ دوسروں کو سونے دیتے ہیں۔ ۔ ۔! یہ اتنی صبح کون ہوگا۔

لالہ کاری

  ہے جاری یہاں خون کی لالہ کاری  ہیں معصو م ہر سُو محواشک باری  امن کا تو مفہو م معدوم ہے اب  گلوں پہ مسلسل یہاں گولہ باری  فقط خوں کے پیاسوں کی یلغار ہر سُو  یہاں آگ وآہن کی بارش ہے جاری  محو دادِ عشرت حکمراں یہاں ہیں  کرے کون مظلوم کی غم گساری  انصاف مظلوم مانگیں تو کس سے  سنگھاسن پہ بیٹھے ہوئے ہیں مداری  اظہارِ دردوکرب پہ ہے قدغن  کہ سوزاں ہے مشتاقؔ باد ِبہاری   9697621985  

غــزلـیات

 اک نئی تصویر  ہونے والی تھی   خواب کی تعبیر ہونےوالی تھی گاؤں میں خیرات بانٹی دوستو شہر میں تعمیر ہونے والی تھی آنکھ بھر کے دیکھ کیا لیتے اْسے  جو نظر سے تیر ہونے والی تھی پانیوں میں چیختا دیکھا لہو جل پری کشمیر ہونے والی تھی وصل کا جھوٹا دلاسا دے کے وہ  ہجر کی زنجیر ہونے والی تھی  پھول ہم نے دھڑکنوںمیںرکھ دیئے  آنکھ بھی شمشیر ہونے والی تھی  نظم اْس کی آندھیوں سے لڑپڑی         وہ سْخن میں میرؔ ہونے والی تھی سامنے تھی منزلوں کی چاہ اور   چوٹ بھی گھمبیر ہونے والی تھی یہ محبّت درد کی دہلیز پر    باعثِ توقیر ہونے والی تھی   محمد محمود  نجدون نی پورہ اسلام آبادکشمیر 9906874299     قربتوں سے بھی نزدیک

غزلیات

مہنگائی پہ رو رو کے میں کمزور ہوا ہوں پہلے تھا میں کچھ اور، اب کچھ اور ہوا ہوں بس ایک ہی ٹی ہے مرے گھر میں، اک بیوی دونوں کو دیکھ دیکھ بہت بور ہوا ہوں جب پھٹ گیا تو دوڑ کے مسجد کو چل دیا چپل بدل کے آیا، ذرا چور ہواہوں سترنگی شرٹ پہن کے نکلا ہوں میں دفتر کوّے سے آج دوستو میں مور ہوا ہوں ٹیڑھے سے سر یہ ٹکتی کہاںتھی مرے پگڑی دولہا میں مشقت سے کسی طور ہوا ہوں کالے بدن پہ کالے ڈیزائنر ہیں زیبِ تن آ دیکھ! گھٹا کیسی میں گھنگور ہوا ہوں تھا بیچ سڑک سکہ پڑا، دوڑ پڑا وہ لیکن اُٹھایا میں نے کہ منہ زور ہوا ہوں اُُڑتا تھا آسمان پہ بہت دیکھ فلکؔ جی کیسے کٹی پتنگ کی میں ڈور ہوا ہوں   فلک ؔریاض حسینی کالونی، چتھرگام  موبائل نمبر؛9636148112   غزل قطرہ قطرہ تیری آنکھوں سے نکلتے رہنا ہم چراغوں ک

غزلیات

 وصیت  درد کی تحریر کرنے جا رہا ہوں  تمہارے نام سب جاگیر کرنے جا رہا ہوں تمہارا نام لکھ کر سنگِ مر مر پر ابھی سے  نیا اک تاج میں تعمیر کرنے جا رہا ہوں امیرِ شہر کرنے آ گیا زخموں کا سودا  میں اپنے جسم کو کشمیر کرنے جا رہا ہوں مجھے اغوا کیا ہے آج کالی آندھیوں نے  میں سارے شہر میں تشہیر کرنے جا رہا ہوں خرابے میں تمہاری یاد کے منظر سجا کر  میں اپنے آپ کو دِلگیر کرنے جا رہا ہوں حصارِ ذات سے باہر نکل کر کس لئے میں  خیالوں کو ترے زنجیر کرنے جا رہا ہوں مکمل تھا کیا جس کو جگر کا خون دے کر  میں اب نیلام وہ تصویر کرنے جا رہا ہوں زُباں پر بات حق کی پھر سے کوئی آج لاکر  سمجھ لو اک نئی تقصیر کرنے جا رہا ہوں یزیدو زخم میرے مندمل ہو جائیں گے اب  میں خاکِ کربلا اکسیر کرنے جا ر

غزلیات

 جینے میں اب مزا کیا ہے ؟ خاک میں باقی رہا کیا ہے؟ پوچھتے ہیں تخت نشینانِ خاک یہ جنونِ عشق بلاکیا ہے ؟ حکم سر کوبی آیا ہے مرے نام  معلوم نہیں کہ خطا کیا ہے ؟ خلافِ طبع مری بات سہی  خلافِ قرینہ بتا کیا ہے ؟ تسکین و تشفی کے سوا نسیمؔ دلِ مرحوم کی تمنا کیا ہے؟   شبیر نسیم ؔ مدرس گرسالہ تحصیل لاٹی، ضلع ادھمپور  9018389270   ہم پر نگاہِ شفقتِ ساقی نہیں رہی جو اہمیت ملی تھی وہ باقی نہیں رہی برکت ہی اُٹھ چلی ہے زندگی کی بزم سے ناپاکیوں کی دوڑ ہے، پاکی نہیںرہی بھڑکے ہیں میری بات پر میرے ہی ہمسفر اب آبرو اس شہر میں باقی نہیں رہی کیوں شہرِ کور شب میں بڑھے جارہا ہے تو آنکھوں میں روشنی جو تھی باقی نہیں رہی بچے بھی شاد ؔاُڑ رہے ہیں آسمان میں ہمسائے کی کاکی بھی اب کاک

غزل

 اک کشمکش رہی مرے اندر تمام رات تڑپا کسی کی یاد میں اکثر تمام رات   پھر بھی مٹی نا تیرگی میرے نصیب کی وہ چاند بن کے ٹھہرا تھا چھت پر تمام رات   اک جُوئے خوں تھی آنکھوں میں سو وہ بھی بہہ گئی پیاسا تھا پھر بھی دِل کا سمندر تمام رات   اِک بوند خوں کی پائی نہ داماںِ صبح پر یوں تو چلے ہیں قلب پر خنجر تمام رات   تب جاکے عطر بیز ہوا ہے تیرا بدن ہم نے بنائے نیند میں پیکر تمام رات   محسوس تیرا لمس جو ہونے لگا مجھے سُلگا ہے تیری یاد میں بستر تمام رات   دیکھے تھے دوپہر میں کبھی ہم نے بھیڑیئے گُزرے نظر سے خوف کے منظر تمام رات   سچ بولنے سے آج میں کترا گیا تھا کیوں؟ بر سے مرے ضمیر پر پتھر تمام رات   کیسے بنا یہ سنگ صنم، سوچتے رہے تھا مبتلا عذاب میں آذر

غزلیات

  کلی  جب  مْسکرا کر بیٹھتی  ہے  مری  بیٹی بھی آکر بیٹھتی ہے    سلیقہ دیکھئے  اِس شاخِ  گْل کا  کہ چڑیا گھر بسا کر بیٹھتی ہے   جبیں پر دشت کے کرنے ہیں سجدے  محبّت آزما کر بیٹھتی ہے   اْسے آتا ہے موجوں کو ہرانا سمندر کو جُھکا کر بیٹھتی ہے   جو سر پر ہاتھ رکھ دوں شفقتوں کا وہ اپنی جاں لْٹا کر بیٹھتی  ہے   غموں کو ٹال دیتی ہے مسلسل  کہیں جھولا جھلا کر بیٹھتی ہے   تھکا  ہارا  پرندہ گھر کو لوٹوں  مْجھے کاندھے سْلا کر بیٹھتی ہے   محمد محمود  نی پورہ  اننت ناگ کشمیر  موبائل نمبر9906874299     اے زندگی بتا، میں اکرام دوں تجھے کیا میری حیات تجھ

غزل

 دِل سے چاہا آپ کو سارا جہاں رہنے دیا تاج و تخت اور جاہ و حشمت کا بیاں رہنے دیا   وسعتِ اِدراک سے بالا بلند تیرا مقام آپ کو بس آپ ہی کو جاوِداں رہنے دیا   میرا دانشور حریصِ تمغۂ طاغوت ہے خون میں لت پت سرِ راہ نوجواں رہنے دیا   راست گوئی پیشِ نمرودِ زماں، ایمان میرا بے خطر جیتا ہوں خوفِ جسم و جاں رہنے دیا   گرچہ سائے شفقتوں کے ہاتھ پھیلاتے رہے تیری چاہت نے مجھے بے خانماں رہنے دیا   مشتاق کاشمیری موبائیل نمبر:9596167104    

غزل

اہتمامِ رنگ و بوہے جابجا کاشمر تیرا لہو ہے جابجا بولتا شہرِ خموشاں دور تک چاک میرا ہا و ہو ہے جابجا دن تھکا ماندہ اُجالا ہار کے رات محوِ گفتگو ہے جابجا لغزشیں کیا قد سے بالا ہوگئیں گردشِ وردِ عفو ہے جابجا آنکھ میں منظر کوئی ٹھہرا نہیں سو بہ سو ہے کوبکو ہے جابجا آئنہ لیکر ہے بیٹھی حیرتی انتہائے من کہ توہے جابجا ظلمتوں کا توڑ کرنے کے لئے رقصِ شمعِ آرزو ہے جابجا کب تلک دل سے دھواں اُٹھتا رہے چاک ہے تن، بے رفو ہے جابجا رقص کرتی ہیں جنوں کی مستیاں دشت میں ہوں، بادِ ہُو ہے جابجا مسجدیں دل کی مقفل ہوگئیں محفلِ جام و صبو ہے جا بجا آؤ شیدّا دشت میں سجدہ کریں آنکھ میں تازہ وضو ہے جابجا    (نجدون ) نپورہ اسلام آباد کشمیر  9419045987  

غزلیات

میرے نصیب میںکوئی طوفان ہے شاید اس واسطے یہ زندگی سنسان ہے شاید جل بجھ رہا ہے میری محبت کا دیا جو ناشادیوں کا میری یہ سامان ہے شاید وقتِ قضا یہ جان اٹک سی گئی ہے کیوں جنت نہیں، جہان کا ارمان ہے شاید اوروں کا درد دیکھ کے دُکھتا ہے مرادل اندر مرے حیات وہ انسان ہے شاید تحریر کر رہا ہوں حوادث پہ حوادث تصویرِ زندگی مرادیوان ہے شاید اُمید ہے وفا کی تجھے کن سے مسافر اِس شہر کے مزاج سے انجان ہے شاید چہرے کے ہائو بھائو بتاتے ہیں یہ عارضؔ دشمن میر اُڑان پہ حیران ہے شاید عارض ؔارشاد نوہٹہ  سرینگر 9419060276   چاندنی رات ہے چلے آئو رس کی برسات ہے چلے آئو پھر اُسی دھج سے چاند نکلاء آئو!  پھر وہی رات ہے چلے آئو ساری بازی سنوارلی میں نے  ایک شہہ مات ہے چلے آئو فصلِ گُل جاچُکی ہے گُ

غزل

پھر نہاں خانے سے لایا ہوں کہانی دوستو کچھ قلم سے کہہ چکا ہوں ،کچھ زبانی دوستو کاش! ہوتی دیر پا یہ زندگانی دوستو آج ہوتے روبرو پھر میرؔ و فانیؔ دوستو گر شریک ِبزم ہوتے ذوقؔ و غالب ؔ آج بھی کیا فضائے شعر ہوتی پھر سہانی دوستو ہیں نہیں حسرتؔ و مومنؔ اب ہمارے درمیان  حسرتا وہ ہوگئے اب اک کہانی دوستو بعدِ مُردن بھی سخن میںان کے ہے لطف ِ دوام اُنکے فن پاروں میں ہے اب بھی جوانی دوستو کر رہےہیں شاعری کیا آجکل مہمل مزاج کس کی ہمت ہے کرے کوئی منانی دوستو آئو پھر سے فکر و فن کو اک نئی تہذیب دیں تاکہ ہر جا ہو ہماری قدردانی دوستو سلطنت عشاقؔ شعروں کی ہلا دیتے ہیں جو با بصر سنتے ہیں کب اُن کی بیانی دوستو صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) شاخ کشتواڑ 9697524469     

نارو ے کے سفیر کی سرینگر آمد

 وزیر اعلیٰ کے ساتھ ماہی پروری، سولر پاور ،ڈل اور ولرجھیلوں کے تحفظ پر تبادلہ خیال سرینگر//ناروے کے سفیر نیل رگنار نے یہاں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات کی۔ملاقی کے دوران ناروے کے سفیر نے وزیر اعلیٰ کو اُن کی حکومت کی جانب سے بھارت میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر ، ماہی پروری، پون توانائی ،پن بجلی ،واٹر ٹریٹمنٹ اور مادرانہ صحت کے شعبوںمیں اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی۔ناروے کے سفیر نے وزیرا علیٰ کو جانکاری دی کہ اُن کا ملک دنیامیں مچھلی کی برآمدات میں دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔انہوںنے وزیر اعلیٰ کو ناروے میں ماہی پروری کے لئے توانائی اور ٹیکنالوجی کے فروغ اور استعمال کے بارے میں بھی جانکاری دی۔وزیراعلیٰ نے ناروے کے سفیر کو حکومت کی جانب سے آلودگی پر قابو پانے ، تعمیراتی ڈھانچے کا قائم کرنے اور کئی کلیدی شعبوں بشمول باغبانی اور سیاحت کے فروغ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے ب

غزل

 ہجر کی شب مل کر جاگے ہیں چاند ،ہوا اور میں  ہر سو تجھ کو ڈھونڈھ رہے ہیں چاند، ہوا اور میں تتلی، جگنو ،بادل، خوشبو ہمسائے اس کے  بس تنہائی میں ڈوبے ہیں چاند، ہوا اور میں کیسا سحر ہے اس کی زْلفوں میں اب تک  گجرے کی صورت اٹکے ہیں چاند، ہوا اور میں ہاتھ چھڑا کر رخ کو اس نے پھیر لیا جب سے تنہائی میں ساتھ کھڑے ہیں چاند، ہوا اور میں پھول بدن سی اک دوشیزہ گزرے گی یاں سے  کب سے راہوں میں بیٹھے ہیں چاند ،ہوا اور میں اس کی دید کی خاطر شب بھر  بام پہ بیٹھے یوں  اکثر شبنم میں بھیگے ہیں چاند ،ہوا اور میں کس کی یاد نے کوچہ کوچہ بھٹکایا ہم کو  جوگی بن کر ساتھ چلے ہیں چاند، ہوا اور میں یوں ہی تیری راہیں روشن کب ہوتیں جاناں!  دیپک بن کر خوب جلے ہیں چاند ،ہوا اور میں ہر منظر کو مہکاتے ہیں قوسِ قز

غزل

 لْٹ گئے دل کے خزانے کتنے مٹ گئے درد پْرانے کتنے اک حقیقت کے فسانے کتنے  لوگ ہوتے ہیں دِوانے کتنے انجمن، دشت، چمن ، تنہائی  آدمی کے ہیں  ٹھکانے کتنے چاندنی،پھول ، شفق، آئینہ  ہیں ترے رنگ نہ جانے کتنے دردِ سر ، خوف، خْدا رْسوائی  تیرے جانے کے بہانے کتنے خواب یاد آئیں تو راتوں جیسے  بھْول جائیں تو سْہانے کتنے کون محفل کو بناتا شب کو  اک نظر کے ہیں نشانے کتنے ٹوٹ جائے نہ کہیں نیند مری  خواب ہنستے ہیں سِر ہانے کتنے عشق کا حْسن کہ آباد  رہا  کر کے برباد گھرانے کتنے ایک ہی لفظ محبت تھا مگر  بن گئے اْس کے فسانے کتنے   اندرون کاٹھی دروازہ رعنا واری  سری نگر.. رابطہ: - 990685395  

غزل

یہ آدمی تو کسی وقت بھی ہمارا نہ تھا کسی بھی حال میں اس کا ہمیں سہارا نہ تھا یہ لوگ جو کہ سمندر عبور کر نہ سکے وہ اس لیے کہ انھوں نے خدا پکارا نہ تھا امیر شہر کی مجلس سے میں نکالا گیا ہر ایک حکم مجھے ماننا گوارا نہ تھا مری طرف تو وہ باتیں بھی کی گئیں منسوب مرے کلام میں جن کی طرف اشارہ نہ تھا سبھی سمجھتے تھے حق کیا ہے اور باطل کیا مگر کسی میں بھی سچ بولنے کا یارا نہ تھا ہمیں تمنا کبھی بھی رہی نہ ساحل کی ہمارے دل کو بھی حاصل کبھی کنارا نہ تھا   صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380    

غزلـیات

 کیاجانے کیسے جال بچھاجاتی ہیں نظریں  جب جب بھی میرے پاس کبھی آتی ہیں نظریں   ہوجاتی ہیں نشتر کی طرح جذب وہ اس میں  کیاکیا نہ ستِم دِل پہ میرے ڈھاتی ہیں نظریں    میں کہنا بھی چاہوں تو کبھی کہہ نہیں سکتا اب کیسے کہوں کِتنا رُلا جاتی ہیں نظریں   یہ جان وجگرکرتاہوں میں اُن پہ نچھاور  انکارنہیں مجھ کوکبھی بھاتی ہیں نظریں    ہم زندگی میں شام وسحرساتھ رہے ہیں  افسانے کئی یاددِلا جاتی ہیں نظریں    پھرنیند نہیں آتی کسِی طور بھی مُجھ کو راتوں کومجھے ایسے جگاجاتی ہیں نظریں    میں پھربھی ہتاشؔ اِس کی شکایت نہیں کرتا میرے لیے بے چینیاں بھی لاتی ہیںنظریں   پیارے ہتاشؔ جموں،رابطہ نمبر:8493853607     غُبارِ راہ

غزلـیات

 کیاجانے کیسے جال بچھاجاتی ہیں نظریں  جب جب بھی میرے پاس کبھی آتی ہیں نظریں   ہوجاتی ہیں نشتر کی طرح جذب وہ اس میں  کیاکیا نہ ستِم دِل پہ میرے ڈھاتی ہیں نظریں    میں کہنا بھی چاہوں تو کبھی کہہ نہیں سکتا اب کیسے کہوں کِتنا رُلا جاتی ہیں نظریں   یہ جان وجگرکرتاہوں میں اُن پہ نچھاور  انکارنہیں مجھ کوکبھی بھاتی ہیں نظریں    ہم زندگی میں شام وسحرساتھ رہے ہیں  افسانے کئی یاددِلا جاتی ہیں نظریں    پھرنیند نہیں آتی کسِی طور بھی مُجھ کو راتوں کومجھے ایسے جگاجاتی ہیں نظریں    میں پھربھی ہتاشؔ اِس کی شکایت نہیں کرتا میرے لیے بے چینیاں بھی لاتی ہیںنظریں   پیارے ہتاشؔ جموں،رابطہ نمبر:8493853607     غُبارِ راہ