تازہ ترین

حوّا کی بیٹی!

مرد  جب کمانے کے قابل ہوتا ہے تو سہولیات اور آسائشیں گھر میں قدم رکھ دیتی ہیں، اگر کچھ نہیں تو کم از کم مشکلوں کا خاتمہ ضرور ہو جاتا ہے۔اس کے برعکس جب ایک عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو مشکلات کا آغاز تھمنے کا نام نہیں لیتیں۔آج کل بہت سی عورتیںگھر سے باہر جاکر مردوں کے برابر ہنر مندانہ طریقے سے کام کرتی ہیں ۔ کامگار خواتین مرد کے کاندھے سے کاندھا ملا کر دس سے چار تک اور کبھی اس سے بھی زیادہ وقت کام کرتی ہے۔جب کام سے واپس لوٹتی ہے تو اس کو گھر کا، بچوں کا ،گھر کے ہر فرد کا ، رشتہ داروں کا، ہمسایوں کا اس طرح خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اس کا وجود روبرٹ(ROBOT ( کی طرح ہر وقت کام کرتا رہتا ہے۔اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ ا پنے شوہر کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے جو اس کا جیون ساتھی ہو ، میاں بیوی کی جوڑی ہی اس لیے بنتی ہے کہ زندگی کے سفر میں یہ ایک دوسرے کو ہر چھوٹے بڑے کام میںساتھ دینے والے ہم سفر ہ

ویلنٹینا ٹرشکورا

 چاند پر سب سے پہلا قدم کس نے رکھا تھا، یہ تو سب ہی جانتے ہیں۔ تاہم زمین سے باہر خلا میں جانے والا پہلا شخص اور پہلی خاتون کون تھی، اس کے بارے میں بہت کم افراد جانتے ہیں۔سنہ 1969 میں جب چاند پر پہلے انسان نے قدم رکھا، اس سے 8 سال قبل ہی روس اپنے پہلے خلا نورد کو خلا میں بھیج چکا تھا۔ یوری گگارین کو خلا میں جانے والے پہلے شخص کا اعزاز حاصل ہے۔اس کے صرف 2 سال بعد 1963 میں ایک باہمت خاتون ویلینٹیا ٹرشکوا خلا میں جانے والی پہلی خاتون کاا عزاز حاصل کر کے تاریخ میں اپنا نام درج کروا چکی تھیں۔سنہ 1937 میں سوویت یونین کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہونے والی ویلینٹینا کے والد ٹریکٹر ڈرائیور تھے ،جب کہ والدہ ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں ملازمت کرتی تھیں۔ویلینٹینا کی عمر صرف 2 سال تھی جب ان کے والد فوج کی ملازمت کے دوران مارے گئے۔ والد کی موت کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ فیکٹری میں کام کرنے لگیں۔

روسی حسینہ کا قبولِ اسلام

 اوکسانا ووئی ووڈینا نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام ریحانہ رکھ لیا ہے اور ملائیشیا کے بادشاہ شاہ محمد پنجم سے شادی رچائی۔ ریحانہ کو ملکہ اور ملک کی خاتونِ اول ہونےکا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ملائیشیا کے 49 ؍سالہ بادشاہ نے 25 سالہ سابق ’’مس ماسکو‘‘ سے روس میں یہ شادی ماسکو مینروایتی جوش وخروش سے کرلی ۔ 25 ؍سالہ ریحانہ ( سابقہ اوکسانا ووئی ووڈینا )کی شاہ محمد پنجم سے شادی ماسکو میں ہوئی ۔ اس سے قبل وہ باضابطہ طور اسلام قبول کرکے اپنا نام ریحانہ رکھ چکی تھیں۔ میڈیا تفاصیل میں میںیہ نہیں بتایا گیا کہ ان دونوں کی پہلی ملاقات کب اور کیسے ہوئی۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ماسکو کے ایک بہت بڑے ہال میں پرتکلف اور شاندار تقریبِ نکاح منعقد ہوئی جس میں مہمانوںحلال کھانا پیش کیا گیا ۔اس تقریب کی خاص یہ تھی کہ روایت سے ہٹ کر اس میں شراب نوشی کی اجازت نہیں تھی۔ اس مو

پروفیسر رفیع العماد فینان

بچوں  سے وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ نئے نئے الفاظ اور ان کے معنی پر دھیان دو۔روزانہ انگریزی اور عربی کے اخبار پڑھو۔ ٹی وی یا ریڈیو پر انگریزی اور عربی خبریں سنو۔جو نئے الفاظ پردۂ سماعت سے ٹکرائیںان کے معنی یاد کرلیا کرو۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب نہ تو ہر گھرمیں ٹی وی ہوتا تھا۔ نہ ہر کس و ناکس کو عربی اخبار میسر تھے۔ کبھی کوئی سینئراستاد کسی عرب ایمبسی سے یا کسی عرب شیخ سے عربی اخبار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا تویہ معجزہ ہی ہوتا تھا۔آج کے زمانے میں انٹر نیٹ اور یو ٹیوب نے ساری مشکل حل کردی ہے۔ عالم عرب کے اخبارات اور عرب وعجم کے ٹی وی چینل انگلیوں کی گرفت میں سمٹ گئے ہیں۔اب وہ معذرت قابل قبول نہیں کہ عجم میں بیٹھ کر عربوں سے استفادہ ممکن نہیں۔ عجمیوں کے لیے عربوں کی طرح لکھنے اور بولنے کی استطاعت کا تصور مشکل ہے۔مجھے یاد ہے فینان صاحب نے بتایا کہ وہ آج بھی نئے نئے الفاظ کے معنی یاد ک