تازہ ترین

عافیہ کی وطن واپسی!

 امریکہ  میں قید وبند خاتون عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان سے کچھ چیزیں چاہتا ہے اور ان کے عوض وہ عافیہ صدیقی کو پاکستان لوٹانے کے لیے تیار ہے۔فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس طرح کے لیے اشارے ملے ہیں تاہم امریکہ کے مبینہ مطالبات کے بارے میں تفصیلات وہ وزیر خارجہ سے ملنے سے پہلے بیان نہیں کر سکتیں۔واضح رہے کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا ہے کہ امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ایلس ویلز کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ اُٹھایا اور ایلس ویلز نے پاکستانی درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔اس کے علاوہ پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے جلد اسلام آباد میں

سرما میں جلد کا بچائو کیسے کریں؟

موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی فضا کی قدرتی نمی میں کمی آجاتی ہے۔ سرد اور خشک ہوائیں نہ صرف چہرے بلکہ ہاتھوں اور پیروں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ انتہائی حساس جلد کی حامل خواتین خشکی کے اس حملے سے فوری طور پر متاثر ہوتی ہیں۔ ان کی جلد بے رونق خشک اور کھردری ہونے لگتی ہے۔ بازار میں ملنے والے نت نئے لوشن استعمال کرنے کے باوجود فائدے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ایسی صورت میں عموماً خواتین گھبرا کر یا بے زار ہو کر لوشن استعمال کرنا ترک کر دیتی ہیں۔ ایسا کرنا صحیح نہیں ہے۔جلد کی حفاظت سب سے ضروری چیز ہے ،خصوصاً بڑھتی ہوئی عمر کی خواتین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ وہ موسمی اثرات سے اپنی جلد کا بچائو کریں۔ کوئی بھی شے جلد پر استعمال کرنے سے قبل یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ وہ چار دن کسی بھی شے کو استعمال کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے اس کیلئے مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔

علامہ اقبالؒ

عام طور پر ہم اپنی زندگی میں کوئی مقام حاصل کرنے کےلیے کسی خاص شخصیت کو اپنا آئیڈیل بناتے ہیں، خود کو اس کے طرز زندگی کے مطابق ڈھالتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو ہمارے آئیڈیل کے عمدہ اوصاف کی فہرست میں شامل ہوتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کا شمار دنیا کے نہ جانے کتنے لوگوں کی آئیڈیل لسٹ میں شامل ہے جو آج خود کو کسی بلند مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی طرح تعلیم اور شاعری کے شعبے میں اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں۔ اس کےلیے یہ علم رکھنا بہت ضروری ہے کہ کس طرح اقبالؒ نے اپنے تعلیمی دور کا آغاز کیا اور اپنا بلند مقام بنایا۔6 مئی 1893 میں اقبالؒ نے میٹرک کیا، 1895 میں ایف اے، اور مزید تعلیم کی غرض سے لاہور تشریف لے آئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کی کلاس میں داخلہ لیا اور ہاسٹل میں رہنے کو ترجیح دی۔ اپنے لیے عربی، فلسفہ اور انگریزی کے مضامین منتخب کیے۔ انگریزی اور فلسفہ گورنمنٹ کالج میں پڑھتے اور عرب

خسرہ و روبیلا کے ٹیکے

چھوٹے   بچوں میں قوتِ مدافعت بڑے افراد کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔اس وجہ سے ان پر مختلف بیماریاں جیسے ٹی۔بی، پولیو،  ڈپتھیریا، نمونیا، ڈانگے کھانسی ، خسرہ (گوبری) روبیلا، ہیموفیلیسیس، انفلوئنزہ، دماغی بخار وغیرہ جلد اثر انداز ہوجاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ۱ سے  ۵ سال کی عمر کے ۳ سے ۴ لاکھ بچے مختلف امراض میں مبتلا ہوکر جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ ان بیماریوں سے حفاظت اور ان کی روک تھام کیلئے بچوں کو بیماریوں کے حفاظتی ٹیکے لگوانا نہایت ضروری ہوتا ہے تا کہ بچے کم عمر میں بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں ۔ ترقی یافتہ ممالک میں 90%   حفاظتی ٹیکے لگوائے جاتے ہیں،ان سے متعلقہ ممالک میں بچوں کی اموات کی شرح انتہائی کم ہے ۔حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور بیماریوں سے روک تھام بھی ہوتی ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے سال میں دو تین بار بچّوں کو پولیوں ڈوز پلائے جار

ماں: جاں میری قرباں تجھ پہ میری ماں

  اللہ کے رسول ﷺ کا فر مان مبارک ہے : ’’جنت ماں کے قدمو ں تلے ہے۔‘‘ یہ ماں کا مامتا بھرا وجو د ہے جو استقرارِ حمل سے وضع ِحمل تک جا ں گسل اور پُردرد مراحل طے کر تا ہے ۔ یہ ما ں کا ہی وجو د عالی ہے جو وضع ِحمل سے دودھ چھڑانے تک کے مشکل مرا حل کو بڑی خندہ پیشانی سے انگیز کر تا ہے ۔ یہ ماں کا ہی وجو د ِ ملکوتی ہے جو ہر دم ہر آن بچے کے آرام کے لئے دنیا بھر کی کلفتیں اور تکلیفیں نہایت ہی مسرت اورمصابرت سے سہہ لیتا ہے ۔ یہ ماں ہی ہے جو بچے کو صرف دینا چا ہتی ہے ، اُس سے لینے کے خیا ل سے بے نیاز ہو تی ہے۔ یہ ما ں کا ہی قلب ِاطہر ہے جس پر خا لق کائنات اپنی اَتھاہ رحمت ومحبت کا پرتو ڈال کر اسے بچے کے لئے سراسر رحمت و مودت کا پیکر بنا دیتا ہے ۔ یہ شفیق و رفیق ما ں ہی ہے جو جُوئے شیِر کی ہمہ وقت روانی سے بچے کا سفر حیات سہل و آسان بنا دیتی ہے ۔ ماں اگر اللہ کی نیک

حوا کی بیٹی غور سے سنے

  عورت ایک ایسی معطر خوشبو ہے جس کے بغیر دنیا ئے چمن کی خوبصورتی نا مکمل ہے۔عورت ایک ایسے مقدس رشتے کا نام ہے جس کے سرسے اگردوپٹہ سرک جائے تو اہل بریں کا سر شرم سے اور آنکھیں  تعظیم سے جھک جاتی ہیںلیکن جدت پسند معاشرتی بگاڑ اور ترقی کی ڈور میں کوشاں خود ساختہ معاشرتی اقدار نے عورت کے تقدس کو پامال کر دیا ہے۔اس نئی معاشرتی لغت نے عورت کے مقام و منزلت کے معانی و مفہوم کو یکسر بدل کے رکھ دیا ہے۔گھر جسے عورت کا مسکن کہا جاتا ہے،اسے آج کل کے جدیدمعاشرے کی عورت نے خیر آباد کہہ دیا ہے۔وہی گھر جو عورت کے لئے راحت وسکون عزت کی علامت اور امن کا گہوراہ ہے،آج اسی گھر میں عورت کا دم گھٹ رہا ہے،اسے بوریت محسوس ہوتی ہے،احساس کمتری ڈستاہے۔گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے جدید معاشریت،معاشرتی رجحان اور نئے طرز معاشرت نے حوا کی بیٹی کے ذہین سے انگار آبرو کو کھرچ ڈالا ہے۔ضمیر مردہ ہوچکے ہیں۔شرم

آزادیٔ نسواں کی اصلیت

آج کل ہمارے معاشرے کے ذی ہوش طبقے کو یہ سوال بار بار ذہن وقلب کو کریدتا رہتا ہے کہ ہم مغرب سے کیوں شکست کھا ئے جار ہے ہیں ۔ مغربی تمدن جو کوئی بھی سحرسامری ایجاد کرتا ہے ،وہ ہمارے یہاں نمودار ہو تو ہم اس پر کیوں آگے بڑھ کر لپک پڑتے ہیں اور بے ساختہ بول اُٹھتے ہیں واہ کیا بات ہے ۔ کیاہمای مثال اس بچہ کی سی ہے جو ہر کھلونے کو دیکھ کر ضد کرتا ہے کہ یہ مجھے دے دو؟یہ طرزعمل ہمارے احسا س کم تری خود اعتمادی کا غماز ہونے میں دورائے نہیں۔ اب کیاہمیں اپنی ذات ،اپنے دین ،اپنے عقائد،اپنی خداداد صلاحیتوں اور اپنی صحت مند تہذیب وتمدن پر اعتماد نہیں رہا ہے؟مغربی تہذیب کی مرعوبیت سے ہم نے اپنی حقیقت اور اپنی قدرت واختیار کو بھولی بسری کہانی بناڈالا ہے ۔چاہئے تو یہ تھا کہ ہم مغرب سے اپنے مطلب کی نفع مند اور کار آمد چیزیں اختیار کرتے ہوئے صرف اُن صاف ستھرے اقدار کو اپناتے جو ہمارے عقائد ،اخلاق و اقدا

اپنے بالوں کی حفا ظت کریں

بال مرد کے ہوں یا عورت کے، وقار اور خوبصورتی سے ان کا خاص تعلق ہے۔ بلاشبہ یہ قدرت کا بیش بہا عطیہ ہیں جو انسانی جسم کو خوبصورتی عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی گھنے اور سیاہ بال پسند کرتا ہے اور سب سے زیادہ توجہ انسان انہی پر دیتا ہے۔ شیو بناتا اور اصلاح گیسو سب اسی فطری خواہش اور توجہ کے مظاہر ہیں۔ ہمارے جسم پر تقریباً پانچ لاکھ بال ہوتے ہیں۔ صرف پاؤں کے تلوؤں اور ہاتھوں کی ہتھیلیاں ہی ایسی جگہ ہیں جن پر بال نہیں اُگتے۔ جسم میں سب سے زیادہ بال سر پر ہوتے ہیں اور ان کی تعداد تقریباً سوا لاکھ ہوتی ہے۔ بالوں کی لمبائی ایک انچ سے ایک گز تک ہوتی ہے اور عمر دو سے چھ سال تک ہوتی ہے۔ چھ سال بعد پرانا بال گر کر نیاآجاتا ہے۔ گرم آب و ہوا والے مقامات پر بال زیادہ بڑھتے ہیں۔ ظاہری طور پر بال بہت نرم معلوم ہوتے ہیں مگر بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ بالوں کی لمبائی رنگت اور ساخت کا تعلق عموماً کافی ح

حجاب نسوانی حُسن کی علامت

میں  اُن وجوہات کاذکر لازم سمجھتا ہوں جن سے معاشرہ اور ہماری تہذیب دونوںمتاثر ہوتے ہیں اور ہر روز کبیرہ گناہوں کے شمار میں اضافہ ہوتا چلاجا رہا ہے۔لفظ حجاب(عربی)اور لفظ پردہ(فارسی) زبان سے تعلق رکھتے ہیں اور تقریباً ہم معنی ہیں ان جیسے کئی اور الفاظ بھی مثلاََبرقع ، گھونگٹ،پردہ،آڑ،حیا،شرم ،نقاب اور حجاب لغت میں ملتے ہیں۔مستورات کے لئے لفظ پردہ غیرمحرم مردوں سے اپنے اجسام کو چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تا کہ وہ مردشیطانی اوہام سے محفوظ رہیں اور ان عورتوں کی عزت و عصمت محفوظ رہے۔حجاب ایک وسیع المعنٰی لفظ ہے اور اس کی ضِد کشف ہے۔لفظ حجاب قرآنِ کریم میں سات بار استعمال ہوا اور (سورۃ احزاب،59)کا مفہوم ہے کہ اے نبیؐ!اپنی بیویوں ،صاحب زادی اور مسلمان عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادر کا ایک حصہ اپنی چہروں پر ڈالے رہیں۔یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ عورت کے لئے اپنے سر اور چہرہ کو چادر

ایک اَبھاگن قیدی!

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اپنے وطن مالوف میں گمشدگی، پھر بگرام ائر بیس کابل میں ان کاقید وبند ،امریکہ میں عمر بھر کی جیل سزا ملنے کے نکات نے اس ہائی پروفائل کیس کو روزاول سے ہی بحث طلب بنا رکھا ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی شہر سے ہے۔ والدین اسلامی ذہن کے ہیں اور سابق صدر ضیا الحق کے حامی گنے جاتے ہیں۔ عافیہ ایک ذہین طالبہ رہیں اور سن نوے میں امریکہ چلی گئیں جہاں ان کا بھائی پہلے ہی موجود تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکہ میں نیورو سائنسز میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ سن پچانوے میں ڈاکٹر امجد خان سے عافیہ کی شادی ہوئی۔ عافیہ دوران قیام اسلامی موومنٹس اور فلسطین، بوسنیا اور کشمیر کاز کے ساتھ منسلک تھیں اور بہت ایکٹو سپورٹر تھیں۔ سن چھیانوے میں عافیہ کا پہلا بیٹا احمد پیدا ہوا۔ اگست۲۰۰۲  میں کراچی میں دونوں کی طلاق ہو گئی جب کہ عافیہ تیسرے بچے سلیمان سے حاملہ تھی جو طلاق کے دو ہفتے بعد پید

خواتین میں چھاتی کا کینسر

کینسر کی سب سے عام قسم چھاتی کا کینسر ہے اور خواتین میں کینسر سے ہونے والی اموات میں دوسری بڑی وجہ بھی ہے۔ اگرچہ حالیہ تحقیق اور تشخیص اور علاج معالجے میں جدید تبدیلیوں سے اموات میں کمی آئی ہے، لیکن ان علاج و معالجے تک رسائی حاصل کرنا اب بھی کئی خواتین کے لیے چیلنج سے کم نہیں، بالخصوص وہ خواتین جو کم آمدن والے ممالک اور دیہی اور دُور دراز علاقوں میں رہتی ہیں۔ اگر ایشیا کی بات کی جائے تو برصغیر میں سب سے زیادہ چھاتی کے کینسر کی شرح پائی جاتی ہے۔ ہر سال ہزار ہا کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جب کہ ہزاروں خواتین اس مہلک بیماری کے ہاتھوں جان کھو بیٹھتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر آٹھویں خاتون کو اس بیماری سے خطرہ لاحق ہے۔ ماہ اکتو بر کو چھاتی کے کینسر کی آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چھاتی کے کینسر کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اور علامات کی آگاہی جہاں اس بیماری سے خود کو بچانے اور اب

حوا کی بیٹی!

وہ  دل دہلا دینے والی نسوانی چیخ تھی ، جس سے ہڑبڑا کر میری آنکھ کھلی تھی۔آواز میں بہت درد تھا۔ ابھی میںآوازکی سمت کا تعین کر رہا تھا کہ ایک مردانہ دھاڑتی ہوئی آواز آئی، جس سے معاملہ کچھ سمجھ میں آیا۔ آواز سامنے والے فلیٹ سے آرہی تھی، جہاں اکثر گھریلو جھگڑے ہوتے رہتے تھے لیکن اس دن معاملہ تو تکار سے بڑھ کر شاید مار پیٹ تک اتر آیا تھا، جس کا اندازہ مسلسل دردانگیز نسوانیچیخوںسے بخوبی ہو رہا تھا۔ چند لمحات کے بعد ہی آوازیں اتنی بلند ہو گئیں کہ نیچے مجمع جمع ہو گیا۔ خاتون کی آواز میں اتنا درد تھا اور وہ ’’بچاؤ بچاؤ‘‘ کی ایسی صدا لگا رہی تھی کہ میرا چھوٹا بچہ رونے لگااور میرے دل کو بھی کچھ ہونے لگا۔ میں گھر سے نکلا تو کچھ اور لوگ سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔ اب تو یوں لگ رہا تھا کہ وہ جاہل شخص اپنی بیوی کو شاید مار ہی دے گا۔ ہمارے بیل بجانے پر کوئی رسپانس نہ

می ٹو مہم

’’ می ٹو مہم‘‘ کے چلتےمو دی سرکار کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ایم جے اکبر پر کئیخاتون صحافیوں نے جنسی زیادتی کے الزامات عائد کئے تو وہ کسی کو منہ دکھا نے کے قابل نہ رہے ۔ وزیراعظم مودی پر رائے عامہ کا دباؤ بڑھا کہ وہ انہیں اپنے منصب سے فارغ کریں۔ نائجریا سے واپس وطن لوٹتے ہی انہوں نے استعفیٰ پیش کیا ۔اللہ کی پناہ، کیا دبدبہ تھا ایم جے اکبر کا! اکبر جو لکھ دیں وہ پتھر کی لکیر، حرف آخر۔ جس سیاستدان کے حق میں اکبر وہ بس پارا اور اکبر جس کے مخالف وہ مٹی۔ جی ہاں،اکبر ہندوستان کے غالباً واحد صحافی رہے ہیں جن کی شہرت محض ہندوستان اور پاکستان ہی تک نہیں محدود تھی بلکہ موصوف دنیا بھر کے چند مشہور ترین صحافیوں میں سے ایک رہے ہیں۔ پھر یکایک اکبر کو سیاست کا شوق ہوا اور وہ کچھ دن کانگریس میں رہے، بعدازاں واپس میدان صحافت میں آئے اور اپنے جوہر دکھائے اور آخر مودی کی ق

خواتین ۔۔۔تحفظ صرف ا سلام میں!

ایک  زمانہ تھا جب معاشرہ میں لڑکیوں کی حیثیت منقولہ جائیداد سے زیادہ نہیں تھی ۔ اس کی مثال قدیم متمدن روم میں جاری شادی کے طریقہ سے سمجھی جاسکتی ہے۔ وہاں شادی کے وقت مرد اپنے لئے لڑکی کو عام اشیاء کی طرح خرید کر لاتا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ5 گواہ کے ساتھ وہ ایک ترازو لیکر بیٹھ جاتا اور لڑکی کے بارے میں اعلان کرتاکہ یہ میری ملک ہے،میں نے اس کو ترازو اور سکہ کے ذریعہ خریدا ہے۔ اس تقریب کے بعد لڑکی اس کی زرخرید جائیداد تصور کی جاتی۔وہ کسی عوامی عہدہ پر نہیں رہ سکتی تھی، نہ اسے سماج میںگواہ بننے اور ولی مقرر کرنے کا حق حاصل تھا۔ برطانیہ میں تو ماضیٔ قریب تک لڑکی شادی ہونے کے بعد اپنی ہستی کھودیتی تھی۔قانون کے مطابق وہ کسی جائیداد کی مالک نہیں بن سکتی تھی، یہاںتک کہ بیوی کی کمائی اور تنخواہ بھی خاوند کی ہوجاتی تھی۔ قانونی نظریہ  یہ تھا کہ شادی کے بعد عورت کی اپنی کوئی شخصیت نہیں

کامیاب شوہر، خوشحال گھر

 ارے تم اتنی ڈری سہمی سی کیوں لگ رہی ہو؟ تمہیں کیا ہوا؟ تم تو بڑی شوخ وچنچل تھیں۔ تم سے تو بحث و مباحثے میں کوئی جیت ہی نہیں سکتا تھا‘ تم میں تو بلا کا اعتماد تھا‘ تم تو ہم دوستوں میں سب سے زیادہ بااعتماد تھیں میں ایک سال کے لیے باہر کیا گئی تم تو بالکل بدل گئی ہو۔ کہاں گئی تمہاری خوداعتماد اور شوخی؟؟؟ چھوڑو یار ماضی کی باتیں…! شادی کے بعد سب کچھ تبدیل ہوجاتا ہے۔ ماضی میں اگر میں خود اعتماد تھی تو اس کی وجہ میرے والدین کا مجھ ر اعتماد کرنا تھا۔ شوخ چنچل تھی تو اس کی وجہ والدین کا تعاون تھا۔ کوئی مجھ سے غلط بات کہتا تو دو ٹوک جواب دے کر کہنے والے کا منہ بند کردیتی تھی‘ کسی کی ہمت نہ تھی کہ مجھ سے کوئی غلط بات کہتا مگر شادی کے بعد ساری خوداعتمادی ختم ہوگئی کیونکہ میرے شوہر مجھ پر اعتماد نہیں کرتے۔ مجھ میں خامیاں اور برائیاں تلاش کرتے ہیں اور ہر ایک کے آگے م

گنا ہ ہر حال میں گنا ہ!

27 ستمبر ۲۰۱۸ء کو ملکی عدلیہ نے پہلی بار ایک حیران کن فیصلہ سنایا، یہ فیصلہ میرعدل کے زیر صدارت پانچ رکنی بنچ نے باتفاق رائے صادر کیا۔ اس فیصلہ کا پس منظر یہ ہے کہ ۱۸۶۰ء کے قانون تعزیرات کی دفعہ ۴۹۷؍ کی تحت ایک شخص اپنی بیوی کے رہتے ہوئے دوسری عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے تو یہ جرم ہے، اسی طرح اگر منکوحہ عورت کسی اور مرد سے تعلق قائم کرے تو یہ بھی جرم ہے، اس صورت میں وہ عورت بھی مجرم سمجھی جاتی تھی اور وہ دوسرا مرد بھی، جس نے اس حرکت کا ارتکاب کیا ہے، اس دفعہ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی کہ یہ شخصی آزادی میں مداخلت ہے؛ چنانچہ معزز جج صاحبان نے درخواست گزار کی بات کو قبول کرتے ہوئے اس عمل کو جرم کے دائرے سے باہر نکال دیا، غیر شادی شدہ بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو باہمی رضا مندی سے جنسی فعل کو انجام دینا تو قانوناً پہلے ہی سے جرم نہیں ہے، اسی طرح اگر بیوہ یا مطلقہ عورت اپنی

بچوں کا روشن مستقبل

انسان  کو اللّٰہ تعالیٰ نے بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں سے ایک عظیم نعمت اولاد بھی ہے۔نکاح کے بعد مرد و عورت ہر ایک کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے، اس کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں، اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اُسے اس نعمت سے نواز دیتا ہے، کسی کو لڑکا، کسی کو لڑکی اور کسی کو دونوں، جب کہ بعضوںکو اپنی کسی حکمت بالغہ کی بنا پر اولاد ہی نہیں دیتا۔جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:   ترجمہ:جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے۔ بیٹے عطا فرماتا ہے یا ان کو جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جس کو چاہے بے اولاد رکھتا ہے۔ (الشوریٰ49-50)      اولاد کے متعلق شریعت نے ماں باپ پر کئی ذمہ داریاں عائد کی ہیں:ارشاد الہٰی ہے:ترجمہ:اے ایمان والوں تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی)اس آگ سے بچاؤ۔‘‘  (التحریم6)     اس

حئی علی ا لصلوٰۃ

میں میں جموں سے دہلی کے لئے ہوائی جہاز میں سفر کر رہا تھا کہ اُڑان بھرنے کے تھوڑی دیر بعد جہاز کے کپتان نے اعلان کیا کہ’’ جہاز میںایک حاملہ خاتون کو شدید پیٹ درد ہو رہا ہے اور اگر کوئی ڈاکٹر موجود ہو تو وہ برائے مہربانی اس اکیلی خاتون کی مدد کرے۔‘‘ وہ جھٹ سے اپنی سیٹ سے اُٹھ کر خاتون کے پاس گیا۔خاتون دردِزہ میں مبتلا تھی،اس نے مریضہ کو تسلی دی اور کہا’’ صبر۔۔۔میں اور جہاز کا عملہ خاص کر ائرہوسٹس آپ کی ہر طرح کی مدد کریں گے،اگرڈیلیوری بھی کرنی ہو تو یہ بھی کوئی مشکل نہیں،مگرکس ڈاکٹر نے اس حالت میں جہاز کا سفر کرنے کی اجازت دی؟ خیر!کوئی بات نہیں،آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں۔‘‘   اس نے ائر ہوسٹس کی مدد سے پردے کا انتظام کرایا۔خاتون کسی قدر پردہ میں تھی۔اُسے یہ دیکھ کر بڑی مسّرت ہوئی کہ آج جب بے حجابی عام ہے، جموں سے دہلی جانے والی

ماں کا خط بیٹی کے نام

سوشل  میڈیا پر ایک امریکی خاتون کا اپنی بیٹی کے نام لکھا گیا آخری خط آج کل گردش کر رہا ہے۔ ٹوئٹر پر ہزاروں لوگوں نے اس دل کو چھو لینے والے خط کو شیئر کیا۔ پیگی سمرس (Peggy Summers)گردے کے کینسر میں مبتلا تھیں، انہوں نے مرنے سے پہلے اپنی بیٹی ہینا کے نام ایک خط لکھا، جو اُسے ان کی موت کے بعد ملنا تھا۔ درحقیقت پیگی نے اپنی فیملی کے ہر رکن کے نام الگ الگ خط لکھا۔ ہینا نے ماں کے محبت میں ڈوبے خط کو پڑھا تو وہ مسحور رہ گئی، اس نے بار بار اسے پڑھا اور آخر فیصلہ کیا کہ یہ محض ایک ذاتی خط نہیں، اس میں جو پیغام پوشیدہ ہے اور جس متاثرکن دلکش انداز میں محبت کا اظہار کیا گیا، اُسے دوسرے لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔ اس خط کو ہینا نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو غیر معمولی ردعمل ملا۔ بےشمار لوگوں کو خط پڑھ کر اپنے دنیا سے چلے جانے والے والدین یاد آئے اور انہوں نے دل گداز الفاظ میں اپنے خیالات رقم کئ

لتا منگیشکر

دلیپ  کمار نے ایک بار کہا تھا کہ قدرت نے ہندوستان کو ایک خاص تحفہ دیا ہے اور اس تحفہ کا نام لتا منگیشکر ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ تحفہ ابھی ہمارے بیچ موجود ہے۔ جادو بھری آواز، بے مثال آواز، منفرد آواز، لاجواب آواز، قابل احترام آواز، کوئل سی آواز، کانوں میں شہد گھولتی آواز، ملکہ کی آواز اور آواز کی دیوی، اس طرح کے اور جتنے بھی القاب ہو سکتے ہیں انہیں جمع کیجئے، ایک تصویر بنایئے، جو تصویر بنے گی وہ لتا منگیشکر کی ہوگی۔ کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی تشریح کرنا کسی زبان میں ممکن نہیں ہو پاتا، ایسی ہی ایک چیز لتا کی گائیکی ہے، اس کی تشریح کوئی ایک زبان نہیں کر سکتی۔28 ستمبرکو لتا منگیشکر کی یوم پیدائش پر وہ 89 سال کی ہو گئی ہیں۔ یو ں تو وہ برسوں قبل فعال گائیکی سے علیحدہ ہو چکی ہیں لیکن ان کی شہرت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ موسیقی کے پرستاروں کی ہر نسل انہیں اپنے ہی دور

تازہ ترین