چہرے کی دلکشی کا سامان کچن میں ہے

خوب صورت نظر آنا ہر عورت کا بنیادی حق ہے اور ایک عورت کے خوب صورت نظر آنے ہی سے اس کی سلیقہ مندی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ آج کل کے جدید دور میں یوں تو کئی ذرائع ایسے دستیاب ہیں۔ جو خواتین کے حسین نظر آنے کے شوق کی تکمیل کر سکتے ہیں، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین ایسے کون سے طریقے استعمال کریں جن سے کم وقت اور کم خرچ میں وہ جاذب نظر دکھائی د یں۔ آج کل بیوٹی پارلرز بھی بہ کثرت موجود ہیں اور بازار میں کئی مہنگی، حسن افزا اشیاء دستیاب ہیں لیکن کیا کسی خاتون کی ان تک رسائی ہو سکتی ہے یقینا نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ گھریلو اور کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی کچھ اس طر ح رہنمائی کی جائے کہ وہ بھی خوب صورت نظر آسکیں۔ ہر بل طریقے نہ صرف خواتین بلکہ مہنگے ترین بیوٹی پارلرز میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ مثلاً دودھ، لیموں، شہد اور انڈے جیسی اشیا ء خواتین کے چہرے، جلد او

ماں باپ کی اہم ذمہ داری

ایک    گھروں میںحیا مندی کے حوالے سے ہمیں کیا کیا کرنا چاہیے،اس کی ایک اجمالی تصویر یوں کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے : بچوں سے حقیقی تعلق: والدین بچوں سے اپنے تعلق کو یقینی بنائیں۔بچوں کو کہانیاں سنانا سب سے اہم سرگرمی ہے۔یہ کام مائیں سب سے بہتر سر انجام دے سکتی ہیں۔ کہانیاں سناناچاہے وہ حقیقی ہوں یا تصوری—اپنے بچے کے ساتھ گھلنے ملنے کا ایک تفریحی طریقہ ہے۔کہانی سنانا جادوئی عمل ہو سکتا ہے۔ کہانیوں سے آپ کے بچے کی تخلیقی اور تخیلاتی نشو و نماکے ساتھ ساتھ اردگردکی دنیاکو سمجھنے میں مددملتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ بچے کی افسردگی کم کرنے اور ان کی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنے کے ساتھ مزید راحت کا احساس پیدا کرنے میں مدد دینے کا ایک بہترین طریقہ بھی ہے۔ اچھی کہانیاں سنانا ایک طاقت ور طریقہ ہے جس سے آپ کے بچے کو آپ کی گھریلو زبان بہتر طور پر سمجھنے میں اور بولنے میں مدد ملتی

خدمتِ خلق

ایک   مشہور مقولہ ہے کہ ـــــ’’عبادت سے صرف جنت ملتی ہے مگر خدمت سے خدا ملتا ہے‘‘۔کہتے ہیں کہ خدمت میںعظمت پنہاںہے ۔جب تک دل میں جذبہ ٔ ایثاراور خدمت ِخلق نہ بسا ہو،کوئی عبادت قابل قبول نہیں ہو سکتی۔خدمت خلق کا جذبہ دل سے جڑا ہو تا ہے۔ یہ جذبہ اسی دل میں اُگتا اور اسی جگر میںبرگ وبار لاتا ہے جو دل وجگر صاف و شفاف ہوــ،خدا کے خوف سے بھرا ہو ،انسانیت کے درد سے سرشار ہو ۔لوگوں کی خدمت کرنے کے مختلف طریقے اور سلیقے ہوتے ہیں ۔ہر فرد اپنی ایک سوچ اور اپنا ایک اندازِ فکر رکھتا ہے ،اور اسی کے مطابق وہ خدمتِ خلق کا کا م بھی انجا م دے سکتا ہے۔یوں تو خدمتِ خلق کا انمول جذبہ بھی اللہ کی ہی دین ہوتا ہے ۔کتنے ہی لوگ ہیںجو اپنی پوری زندگی کو خدمت ِخلق کے لئے وقف کرتے ہیں ۔  اسلام کی رُوسے اللہ تعالیٰ کے بندوںکی بے لوث خدمت کرنے والا خدمت گار ہی نہیں بلکہ عبا

۔14؍ فروری کا’’ویلنٹائن ڈے‘‘

 ’’ویلنٹائن ڈے ‘‘کے نام پر ہر سال کھلے عام اور بلا روک ٹوک سماج میں بےحیائی اور جنسی بھوک کا ننگا ناچ چلتا ہے ۔ یہ میلہ اخلاق سے عاری مغربی کلچر کا ایک جزولاینفک ہے۔ہمارے لئے اس بات کو جاننا بے حد ضروری ہے کہ آخر یہ ویلنٹائن ہے کون سی بلا ۔ مغربی تہذیب کے سنڈاس میں پیدا شدہ اس خباثت اور بےحیائی کی شروعات کہاں سے، کس وجہ سے اور کس کے ذریعے عام ہوئی ہے۔دراصل ’’ویلنٹائن‘‘ ایک یہودی پادری کا نام تھا جس نے انگلینڈ میں شادی سے پہلے لڑکے لڑکیوں کے بیچ ناجائز تعلقات اور بدکاری کو جائز قرار دے دیا تھا۔ا س وجہ سے انگلینڈ کی حکومت نے ویلنٹائن کو 14 فروری کو بد اخلاقی پھیلانے کے جرم میں پھانسی کی سزا دے دی۔ اس مردود کے مرنے کے بعد اس کے ہم خیال مریداور انگریزوں کی نئی نسل نے اسے اپنا ’’لَو گرو ‘‘مانتے ہوئے ا س کی خبیث یا

خاندانی نظام

معاشرہ اور خاندان افراد سے بنتے ہیں۔ ایک ہی گھرانے سے تعلق رکھنے والے لوگ جن کا آپس میں خون کا رشتہ ہوتا ہے مثلاً ماں، باپ، بہن، بھائی، چچا، پھوپھی، دادا، دادی، ماموں، خالہ، نانا، نانی مل کر ایک خاندان تشکیل کرتے ہیں۔ پھر ان سے وابستہ اور لوگ بھی اس میں شامل ہوتے جاتے ہیں اور خاندان کے افراد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔مشترکہ خاندانی نظام مشرقی روایات کا ایک ثبوت ہے۔ اس کی مضبوطی کو روایات کی مضبوطی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔پرانے زمانے میں خاندان سے الگ رہنا ایک طرح سے گناہ سمجھا جاتا تھا اور الگ رہنے والے یا علیحدگی کا مطالبہ کرنے والے کو ایک طرح سے مجرم۔ اس بات کا کوئی تصوّر نہیں تھا کہ الگ رہ کر بھی انسان اپنے رشتے داروں سے اچھے تعلقات رکھ سکتا ہے۔ علیحدگی کا مطلب تعلقات ختم کرنا تھا۔ جیسے جیسے معاشرے نے ترقی کی لوگوں کے خیالات اور سوچ تبدیل ہوئی لوگوں نے علیحدہ رہنے کو جائز اور وقت کی ضر

باپو اور گوڈسے

 میں  نتھو رام گوڈسے ہوں، ہندوستان کا وہ دہشت گرد و غدار جس نے بابائے ہند کہلانے والے گاندھی کو گولیاں مارکر ایک ناقابل معافی جرم کیااور ہندوستان کے گلستان میں نفرت کا زہر گھول دیا ،میرے اس کام میں میرا ساتھ دینے والے میرے ہی ہم خیال، ہمسایہ میرے گرو ساورکر اور ہندوتوا کے وہ سارے دلال تھے جو آزادی سے قبل انگریزوں کی مخبری کیا کرتے تھے۔قدم قدم پر انہی کی حوصلہ افزائی نے مجھ میں ایسی سیاہ روح پھونک دی جس نے مجھے ایک نہتے اور اَہنساوادی انسان ۔۔۔باپو۔۔۔ پر گولیاں چلانے کی ترغیب دی ۔ یہ جرم کر تے ہوئے ایک پل کے لئے بھی میرے ہاتھ کانپ نہ اُٹھے۔ میری پرورش بھی ایک حد تک میری شخصیت کی ذمہ دار تھی۔میری پیدائش 1910 میں ہوئی، میں اپنے ماں باپ کا پہلا بیٹا تھا جو زندہ رہا، مجھ سے پہلے میرے تین بھائی بچپن ہی میں مرگئے ۔اس وجہ سے میرے والدین نے میری پرورش لڑکیوں کی طرح کی کیونکہ ان کااَن

روزانہ ورزش حسن و جمال کی حفاظت کا راز

بل   کھاتی نازک سی کمر کو صدیوں سے شاعری کا حصہ بنا یا جا تا رہا ہے۔کیونکہ چہرے کی دلکشی کے ساتھ جسمانی ساخت اور کشش بھی اہمیت کی حامل سمجھی جا تی ہے۔بے ڈول اوربھدی جسامت کے باعث بعض اوقات خوبصورت چہرے کا حسن ماند پڑ جاتا ہے لیکن اگر جسامت متناسب ہو تو عام سا چہرہ بھی خاص ہو جا تا ہے۔جسمانی ساخت کو متناسب بنا نے اور کمر کر پتلی رکھنے کے لیے خواتین بہت جتن کرتی ہیں اور اس کے لیے ڈائٹنگ بھی کرتی ہیں لیکن اصل حقیقت نظر انداز کر دی جا تی ہے کہ ڈائٹنگ سے جلد کی چمک اور رونق جا تی رہتی ہے مگر جسمانی ساخت میں تبدیلی نہیں آتی۔خوبصورت کمر کے لیے ضروری ہے کہ جہاں آپ اپنی خوراک کو کنٹرول میں رکھیں وہاں ورزش کو بھی اپنا شعار بنا ئیں تاکہ پیٹ اور کمر پر چربی کی تہہ سےآپ کی جسامت بے ڈھنگی نہ ہو نے پا ئے۔سوتے وقت چار انچ اونچائی کا تکیہ استعمال کریں جو نرم بھی ہو۔ میٹریس اسی وقت استعمال

کتھا دیش کی!

 انگریزکی غلامی سے ہندوستان کی آزادی کے بعد ہمارے رہنماؤں نے برطانوی پارلیمانی نظام کی تقلید میں جمہوری سسٹم نافذ کیا۔ ا س کے لئے ایک ضخیم آئین مر تب کیا گیا ۔ دستور ہند میں ہندوستان کے ہر شہری کو برابری کے حقوق فراہم کئے گئے، اُسے اپنی من مرضی کےمطابق زندگی گزارنے کی آزادی ملی، اُسے ہر طرح کے استحصال سے نجات دی گئی، اُسے تعلیمی و ثقافتی حقوق انجوائے کر نے کا حق ملا، اُسے بلا کسی روک ٹوک کے اپنے مذہبی قانون پر چلنے اور سماجی رسومات کی پیروی کرنے کی آزادی سے سرفراز کیا گیا۔ آئین کی ان عنایات کے برعکس موجودہ حالات کوئی اور ہی رام کہانی سنا رہے ہیں ۔ بی جے پی اقتدار کے پونے پانچ سال میں جمہوری نظام کی ان عنایات اور نعمتوں کوبہت بُری طریقے سے گھائل کر تی جا رہی ہے۔ اس کےجیتےجاگتے ثبوت ہر جانب بکھرے پڑے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 2017-18میں ڈیموکریسی انڈیکس کی گرتی ہوئی رینکنگ میں انڈیا

مطلوبہ رشتے غیر مطلوبہ رشتے!

’’ لڑکے کی تنخواہ محض بیس ہزار ہے۔گھر ذاتی سہی لیکن میں اتنی تنخواہ میں گزارہ نہیں کر سکتی۔ بعد میں پھر بھی خود ہی کمانا ہے تو ابھی کماتی بری ہوں؟‘‘وہ سپاٹ لہجے میں کہہ رہی تھی۔ ام سمیرہ سخت پریشان تھیں۔یہ رشتہ بھی دوسرے بیسویں رشتوں کی طرح مسترد ہونے کو تھا۔کہیں سمیرہ مسترد کر دی جاتی تھی اور کہیں سمیرہ مسترد کر دیتی تھی۔عمر 28 ،29 کے قریب، خوش شکل لیکن قد واجبی تھا۔تعلیم ماسٹرز ، پرائیویٹ سکول میں جاب کر رہی تھی۔ ’’پڑھا لکھا،خوش شکل ،امیر لڑکا۔۔۔‘‘بس یہی اس کی ڈیمانڈ تھی۔ایک جملے میں پوری ہوتی ہوئی تو دوسری جانب ’’پڑھی لکھی،اونچی لمبی خوب صورت ‘‘ لڑکی کی خواہش۔لڑکا بھی کامل چاہیے اور لڑکی بھی!! ’’دعا کیجیے گا!! لڑکے والوں نے آنا ہے‘‘اُم ماریہ فون بند کرتے ہوئے آہستگی سے بولیں

زمانے کے طوفانوں میں گھرے!

 بیٹیاں   کی عظمت سے نابلد لوگ فی زماننا بیٹی کی پیدایش سے ہی کبیدہ خاطر ہو جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے جہاں بیٹیاں اچھی تربیت اور صالح ماحول میں پروان چڑھ جائیں ، وہاں رسولِ رحمت ﷺ کے فرمان کے مطابق بیٹیاں سراسر رحمت بن جاتی ہیں ۔ اس کے برعکس اعلیٰ اخلاقی اقدار سے عاری اور شرم و حیا سے بے نیاز ماحول و معاشرہ میں پلنے بڑھنے والی لڑکیاں اورلڑکے اپنے والدین کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرہ کے لیے زحمت ہی زحمت بن جاتے ہیں۔آج کے سا ئنسی دور میں موبائل فون، ٹی وی اور نیٹ نے سماج کو بہت سارے فوائد پہنچا ئے مگر ساتھ ہی انہوں نے انسانوں کو شتربے مہار بھی بنا کے رکھ دیا ہے۔ اُن مفید بھی نفع رساں بھی ایجادات کے غلط استعمال نے سماج میں جلتی پر آگ کا کام کر دیا ہے۔ عام گھرانوں کی بات ہی نہیں بلکہ شرم و حیا کے پاسدار خانوادوں کی بیٹیاں بھی بہ استثنائے چند اپنے خاندان کے عزت ووقار کو دا غ دار

یہ کیساآیا زمانہ !

 ’’عورت باپ بھی بن سکتی ہے ‘‘ آپ کو اس عنوان پر حیرانگی ہو گی لیکن مغرب میں یہ ڈسکشن جاری ہے کہ ایک عورت کا یہ بنیادی انسانی حق ہے کہ وہ اپنے ذہنی سکون اور اطمینان کے لیے سرجری کے ذریعے اپنی جنس تبدیل کروا لے۔ اسے میڈیکل کی اصطلاح میں سیکس ری اسائنمنٹ سرجری (sex reassignment surgery) کہتے ہیں۔ باقی ڈیوڈ ریمر نے جنس تبدیل کروا کے ڈپریشن کے مارے خودکشی کر لی تھی تو خودکشی بھی تو اس کا بنیادی انسانی حق تھا نا۔ اس کی زندگی ہے، ہمیں کیا حق کہ مرے یا جیئے، مرد بن کر یا عورت ہو کر۔ ہمارے ہاں کے کندہ ٔ ناتراشوں کو ابھی یہی اعتراض ہے کہ عورت امام مسجد اور موذن کیوں نہیں بن رہی اور مغرب میں عورت، باپ بھی بن رہی ہے۔اسے کہتے ہیں ’’حقیقی مساوات‘‘۔ بس مرد کے برابر حقوق تو تبھی پورے مل سکتے ہیں نا جب عورت مرد ہی بن جائے۔ لبرل، سیکولر، ترقی پسند او

ماں بہن بیٹی

میں   یونیورسٹی سے باہر آیا تو سڑک پر ایک پژمردہ خاتون کو دیکھاجو کسی کو غمگینی کی حالت میں اپنا دُکھڑا سنارہی تھی۔جب میں  ذرا سا قریب آیاتو خاتون زور زور سے رونے لگی اور سننے والا شخض اسے تسلی دیتا رہا۔خاتون نے اپنی دبی آواز میں کچھ لفظ بولے جو میرے دل کو چھو گئے۔اُس نے اپنے اندورنی جذبات بیان کئے:’’ میری چار بیٹیاں ہیں،جس کی وجہ سے نہ تو ان کی عزت کی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی میرا احترام کرتا ہے۔وہ ہمیں مناسب دیکھ بھال نہیں کر رہے ہیں۔وہ ہم پر دبائو ڈالتے ہیں۔وہ کبھی بھی ہماری نہیں سنتے ۔اگر میں اور میری بیٹیاںکچھ کہتی ہیںہماری اَن سنی کردی جاتی ہے‘‘۔   ان دردبھرے لفظوں کو سنتے ہو ئے اُس نے اپنے آنسو کسی طرح روکے رکھے۔ اس واقعہ نے مجھے کافی جھنجھوڑ لیااور میرے ذہن میںباربار یہی سوال گونج رہاتھا کہ آخر لوگ کب خواتین کے ساتھ جان لیوا ام

سہ طلاق: نان اِیشو کیوں بنا یااِیشو؟

 دکنی  زبان میں ایک کہاوت بڑی مشہور ہےجب بھی کوئی بے کار بےمطلب دکھاوے کی جھوٹی فکر جتاتا ہے تو لوگ اُس کی شان میں یہی کہاوت کہتے ہیں ’’کی جی میاں دُبلے، دنیا کی فکر زیادہ‘‘ کچھ یہی حال  ہمارے وزیراعظم مودی جی کا بھی ہے۔ کوئی وکاس سے متعلق سوال کرتا ہے تو جواب یہی ملتا ہے کہ فی الحال مسلم خواتین کی فکر زیادہ ہے۔ مودی جی کو نہ جانے مسلم خواتین سے کیوں اتنی ہمدردی ہے کہ ہندوستان کے تمام اہم مسائل نظرانداز کر خود کو صرف مسلم خواتین کا مسیحا بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہیں اگر کوئی فکر ہونی بھی چاہیے تو جشودہ بین کی ہونی چاہیے ۔دراصل جب سے یہ اقتدار میں آئے ہیں اُس دن سے لے کر انہوں نے صرف بھاشن دئے ، فارن ٹور کئے ، دعوؤں کی مالاجپی ، جب کہ ملک میں لوٹ کھسوٹ ، مہنگائی ، بے روزگاری ، افراتفری ، ہجومی تشدد، فرقہ واریت کا بول بالا ہو ۔انہی’’ ا

تربیتِ اطفال

بچوں  کے تعلیم اور تربیت کیلئے اسلام نے ایسے کئی رہنما اصول بتائے ہیں جن پر عمل کرنے سے والدین اپنی اولادکو نہ صرف بہتر راستوں پر گامزن کرسکتے ہیںبلکہ انہیں ایک اچھا سچا مسلمان اور قوم و ملت کا بہترین فرد بنا سکتے ہیں ۔ بچوں کی تعلیم وتربیت کے بہترین اصولوں کے حوالے سے چند سوال یہ ہیں کہ بچے کی تعلیم و تربیت کہاں سے شروع ہو ؟بچے کی تربیتی ذ مہ داری کس پر عائدہے ؟ یہ ذمہ داری کس حیثیت سے ادا کرنی ہے ؟بہت ساری مائیں سوچتی ہیں کہ بچے کی تربیت اُس وقت شروع ہوتی ہے جب بچہ بولنے لگتا ہے ،کچھ مائیں سمجھتی ہیں کہ بچے کی تربیت اُس وقت سے شروع ہوتی ہے جب بچہ بولنے لگتا ہے، جب کہ بعض مائیں کہتی ہیں کہ بچے کی تربیت اُس وقت شروع ہوتی ہے جب بچہ رحم مادر میںپرورش پانے لگتا ہے، کئی مائیں مانتی ہیںکہ بچے کی تعلیم و تربیت اُس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ ارد گرد کے ماحول کو دیکھتا اوراچھے بُرے کی تمیز کر

حیاتِ انسانی کا مقصد

قرآن   گواہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی چیز بے کار وعبث نہیں ہے اور نہ ہی بلا وجہ تخلیق کی گئی ہے۔ذرے سے  لے کرآفتاب تک جو کچھ بھی کائنات میں موجود ہے، اس کی کوئی نہ کوئی قدروقیمت ہے۔ان تمام ترتؒیقات ِ الہٰیہ کا وجودخود ہی قدرت کی شانوں کا اظہار ہے۔قدرت نے مختلف چیزوں کو مختلف شکلیں اور صورتیں دے کر مختلف  ان میںخصوصیات وصفات پیدا کی ہیں،حسن و جمال پیدا کیا، سجایا اور سنوارا۔اس پوری کائنات کو قدرت نے صرف بنی نوع انسانی کے لیے پیدا کیا ہے۔بہ الفاظ دیگر انسان کو تمام اشیاء اور دیگر مخلوقات پر ترجیح دے کراسے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا گیا ہے۔فرشتوں کو بھی تعجب ہوا کہ کس طرح خدا نے آدم ؑکی تخلیق کی اور اسی کو پوری کائنات کی چیزوں کا علم دے دیا۔اب سوال یہ ہے کہ یہ انسان کیسے اللہ کا چہیتا بنا؟دراصل آدمؑ کو پیدا کرنے کے ساتھ ہی رب نے ان کے لیے تمام تر وسائلِ حیات بھی پ

طلبہ وطالبات اوروالدین سے

وادیٔ ٔ کشمیرسے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے کئی سال پہلے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی غرض سے ایک نئے نویلے مضمون کا انتخاب کیا۔اس مضمون کا ہندوستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں پڑھانے کا انتظام نہیں تھا، ا س لئے نوجوان کوبیرون ملک جاکر یہ سبجکٹ پڑھنے کی ضرورت پڑی۔گھر میں وسائل کی عدم موجودگی کے باوجود بھی اُس نے ہمت نہ ہاری اور کسی نہ کسی طرح خرچہ جوڑ کر بیرون ملک حصولِ تعلیم کے لیے چلا گیا۔بڑی جانفشانی سے اور راتوں کی نیندگنوا کر جب اُس نے کورس مکمل کر لیا تو اُس کے ہاتھ کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری کا پروانہ تھما دیا گیا۔اُس کی ماہانہ مشاہرہ 90؍ ہزار روپیہ تھی۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب ایک اعلیٰ درجہ کے سرکاری ملازم کی ماہانہ تنخواہ بیس ،پچیس ہزار روپیہ سے زیادہ نہ ہوتی ۔ چونکہ روزگار کے بعد ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے کہ رشتۂ ازدواج میں بندھ کر گھر گر ہستی شروع کرے، اس نوج

سہیلیوں کے نام خدمت عبادت ہے

ہمارے سماج میں بعض گھرانے ایسے ہیں کہ جن میں خواہ مخواہ کے گھریلو جھگڑے اور فضول باتوں پر لڑائیاں روزہ مرہ کہانی ہو تی ہے ۔ اس خانگی جنگ کے مرکزی کردار ساس سسر ، دیور ننداوربہو بیٹا ہوتے ہیں جو بلا سوچے سمجھے ایک دوسرے کے خلاف سردو گرم جنگ چھیڑ کر اپنی زندگیاں اجیرن کر کے رکھتے ہیں ۔ کہیں ساس بد خوئی پرا ُترآتی ہے اور کہیں بہو ساس کی تذلیل کو اپنی فتح سمجھتی ہے، کہیں شوہر اپنی بیوی کے لئے ظالم بنتا ہے اور اپنے والدین کی غلطی کی طرف داری کرتا ہے اور کہیں بیٹا خود جورو کاغلام ہوکر والدین کی ناک میں دم کر کے رکھتا ہے ۔اسی طرح گھر کی بہو کے خلاف بسااوقات دیوار ، دیورانی ، نند وغیرہ بھی کہیں مثبت اور کہیں منفی کردار ادا کر کے اس جنگ میں الجھ جاتی ہیں ۔ اس گھر گھر کہانی کی بابت کچھ ساہ سی باتیں عرض کرنے کی جسارت کروں گی، ہمارے یہاں عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ شادی کے بعد لڑکی کے ذمے اپنے

سہیلیوں کے نام خدمت عبادت ہے

ہمارے سماج میں بعض گھرانے ایسے ہیں کہ جن میں خواہ مخواہ کے گھریلو جھگڑے اور فضول باتوں پر لڑائیاں روزہ مرہ کہانی ہو تی ہے ۔ اس خانگی جنگ کے مرکزی کردار ساس سسر ، دیور ننداوربہو بیٹا ہوتے ہیں جو بلا سوچے سمجھے ایک دوسرے کے خلاف سردو گرم جنگ چھیڑ کر اپنی زندگیاں اجیرن کر کے رکھتے ہیں ۔ کہیں ساس بد خوئی پرا ُترآتی ہے اور کہیں بہو ساس کی تذلیل کو اپنی فتح سمجھتی ہے، کہیں شوہر اپنی بیوی کے لئے ظالم بنتا ہے اور اپنے والدین کی غلطی کی طرف داری کرتا ہے اور کہیں بیٹا خود جورو کاغلام ہوکر والدین کی ناک میں دم کر کے رکھتا ہے ۔اسی طرح گھر کی بہو کے خلاف بسااوقات دیوار ، دیورانی ، نند وغیرہ بھی کہیں مثبت اور کہیں منفی کردار ادا کر کے اس جنگ میں الجھ جاتی ہیں ۔ اس گھر گھر کہانی کی بابت کچھ ساہ سی باتیں عرض کرنے کی جسارت کروں گی، ہمارے یہاں عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ شادی کے بعد لڑکی کے ذمے اپنے

اپنے بالوں کی حفا ظت کریں

بال مرد کے ہوں یا عورت کے، وقار اور خوبصورتی سے ان کا خاص تعلق ہے۔ بلاشبہ یہ قدرت کا بیش بہا عطیہ ہیں جو انسانی جسم کو خوبصورتی عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی گھنے اور سیاہ بال پسند کرتا ہے اور سب سے زیادہ توجہ انسان انہی پر دیتا ہے۔ شیو بناتا اور اصلاح گیسو سب اسی فطری خواہش اور توجہ کے مظاہر ہیں۔ ہمارے جسم پر تقریباً پانچ لاکھ بال ہوتے ہیں۔ صرف پاؤں کے تلوؤں اور ہاتھوں کی ہتھیلیاں ہی ایسی جگہ ہیں جن پر بال نہیں اُگتے۔ جسم میں سب سے زیادہ بال سر پر ہوتے ہیں اور ان کی تعداد تقریباً سوا لاکھ ہوتی ہے۔ بالوں کی لمبائی ایک انچ سے ایک گز تک ہوتی ہے اور عمر دو سے چھ سال تک ہوتی ہے۔ چھ سال بعد پرانا بال گر کر نیاآجاتا ہے۔ گرم آب و ہوا والے مقامات پر بال زیادہ بڑھتے ہیں۔ ظاہری طور پر بال بہت نرم معلوم ہوتے ہیں مگر بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ بالوں کی لمبائی رنگت اور ساخت کا تعلق عموماً کافی ح

بنت حوا۔۔۔مسئلوں اور حلوں کے درمیان!

 عورت معاشرے کا ایک جزء لاینفک ہے عورت کے بغیر سماج کا کوئی تصور نہیں ہے ۔اسلام نے ان دونوں کو ایک دوسرے کا لازمی جُز قرار دیا ہے ۔ اسلام نظام ِرحمت ہے ۔ اس میں جہاں اخلاقی ،سیاسی ، سماجی،تعلیمی اور معاشی رہنمائی کی گئی ہے، وہیں یہ خاندان کا نظم و نسق ،عورتوں کے حقوق اور ان کی عزت و عصمت کی حفاظت کے لیے شاہ کار نظام سے بھی آشنا کراتا ہے ۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس نے عورتوں کو صحیح مقام اور اور تمام حقوق سے نوازا ۔مرد اور عورت دونوں نسل ِ انسانی کے معمار ہیں ۔ اسلام کی نگاہ میں عورتوں کے حقوق مردوں کے مسواوی ہیں اور فطری تقاضوں کی بنیاد پر تفریق کے سوا دونوں میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھا گیا ہے ۔اسلام نے عورت کو ہر معاملے میںعزت و تکریم سے نوازا اور عورت کو تہذیبی ، معاشی ، تعلیمی اور معاشرتی حقوق عطا کئے ہیں ۔ اس نے عورتوں پر وہ احسان کیا جس کی دنیا کے کسی بھی نظریہ ، تہذیب اور

تازہ ترین