تازہ ترین

گنا ہ ہر حال میں گنا ہ!

27 ستمبر ۲۰۱۸ء کو ملکی عدلیہ نے پہلی بار ایک حیران کن فیصلہ سنایا، یہ فیصلہ میرعدل کے زیر صدارت پانچ رکنی بنچ نے باتفاق رائے صادر کیا۔ اس فیصلہ کا پس منظر یہ ہے کہ ۱۸۶۰ء کے قانون تعزیرات کی دفعہ ۴۹۷؍ کی تحت ایک شخص اپنی بیوی کے رہتے ہوئے دوسری عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے تو یہ جرم ہے، اسی طرح اگر منکوحہ عورت کسی اور مرد سے تعلق قائم کرے تو یہ بھی جرم ہے، اس صورت میں وہ عورت بھی مجرم سمجھی جاتی تھی اور وہ دوسرا مرد بھی، جس نے اس حرکت کا ارتکاب کیا ہے، اس دفعہ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی کہ یہ شخصی آزادی میں مداخلت ہے؛ چنانچہ معزز جج صاحبان نے درخواست گزار کی بات کو قبول کرتے ہوئے اس عمل کو جرم کے دائرے سے باہر نکال دیا، غیر شادی شدہ بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو باہمی رضا مندی سے جنسی فعل کو انجام دینا تو قانوناً پہلے ہی سے جرم نہیں ہے، اسی طرح اگر بیوہ یا مطلقہ عورت اپنی

بچوں کا روشن مستقبل

انسان  کو اللّٰہ تعالیٰ نے بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں سے ایک عظیم نعمت اولاد بھی ہے۔نکاح کے بعد مرد و عورت ہر ایک کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے، اس کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں، اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اُسے اس نعمت سے نواز دیتا ہے، کسی کو لڑکا، کسی کو لڑکی اور کسی کو دونوں، جب کہ بعضوںکو اپنی کسی حکمت بالغہ کی بنا پر اولاد ہی نہیں دیتا۔جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:   ترجمہ:جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے۔ بیٹے عطا فرماتا ہے یا ان کو جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جس کو چاہے بے اولاد رکھتا ہے۔ (الشوریٰ49-50)      اولاد کے متعلق شریعت نے ماں باپ پر کئی ذمہ داریاں عائد کی ہیں:ارشاد الہٰی ہے:ترجمہ:اے ایمان والوں تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی)اس آگ سے بچاؤ۔‘‘  (التحریم6)     اس

حئی علی ا لصلوٰۃ

میں میں جموں سے دہلی کے لئے ہوائی جہاز میں سفر کر رہا تھا کہ اُڑان بھرنے کے تھوڑی دیر بعد جہاز کے کپتان نے اعلان کیا کہ’’ جہاز میںایک حاملہ خاتون کو شدید پیٹ درد ہو رہا ہے اور اگر کوئی ڈاکٹر موجود ہو تو وہ برائے مہربانی اس اکیلی خاتون کی مدد کرے۔‘‘ وہ جھٹ سے اپنی سیٹ سے اُٹھ کر خاتون کے پاس گیا۔خاتون دردِزہ میں مبتلا تھی،اس نے مریضہ کو تسلی دی اور کہا’’ صبر۔۔۔میں اور جہاز کا عملہ خاص کر ائرہوسٹس آپ کی ہر طرح کی مدد کریں گے،اگرڈیلیوری بھی کرنی ہو تو یہ بھی کوئی مشکل نہیں،مگرکس ڈاکٹر نے اس حالت میں جہاز کا سفر کرنے کی اجازت دی؟ خیر!کوئی بات نہیں،آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں۔‘‘   اس نے ائر ہوسٹس کی مدد سے پردے کا انتظام کرایا۔خاتون کسی قدر پردہ میں تھی۔اُسے یہ دیکھ کر بڑی مسّرت ہوئی کہ آج جب بے حجابی عام ہے، جموں سے دہلی جانے والی