تازہ ترین

مسکان بیٹی

تاریخ ایک ننھی سی پری جنوبی کشمیر کے گاؤں ترکانجن میں دوسری عید کو چلی ہزاروں خوشیوں کو منانے اپنی سہیلوں کے سنگ ،ننھے اَرمان ننھی خوشیاں سہیلیوں کے ساتھ دن بھر خوشیاں منانے کے بعد رات کے اندھیرے تک گھر نہ آئی  اماں نے لذیذ پکوان بنا کے رکھے، بیٹی آئے گی، بھوک محسوس کر رہی ہوگی، پر بیٹی کو نہ آنا تھا نہیں آئی  اماں نے آس پڑوس میں معلوم کیا ، وہ کہیں نہ ملی، دو دن گزرگئے، چار دن بیت گئے ، ہفتہ گزرا، دل وجگر کی طمانیت نظروں سے دور رہی ، کہیں نہ ملی اس معصوم پری کا نام مسکان جان بنت مشتاق احمد گنائی ساکن لڑی ترکانجن تحصیل بونیار  معصومہ اسکول جاتی تھی، عید تھی نانہیں گئی پڑھنے لکھنے ۔ ورنہ یہ پری روزاسکول جاتی تھی ۔ پانچویں جماعت کی ایک ہونہار طالبہ تھی، اس کی اماں گر چہ غیر ریاستی خاتون تھی مگر تھی نا ایک مامتا بھری ماں ہی۔ اپنی پری کے لئے

مقدس ماں وردھ آشرم میں؟؟؟

مجھے   لگاکہ یہ بڑھیا اُس کی ماں ہے مگر اس کے رکھ رکھائوسے وہ کوئی نوکرانی لگتی تھی، اس لیے میں نے پوچھا:’’ بہن جی کیایہ آپ کی ماں ہے؟‘‘ ’’نہیںیہ میری ساس ہے‘‘ ۔اس نے جواب دیا۔ ’’ساس بھی توماں ہی ہوتی ہے ‘‘۔میں نے جواباً کہا۔ ’’ان کوکیاتکلیف ہے ؟‘‘میں نے پھرپوچھا۔ ’’کھاناہضم نہیں ہوتاہے ،ہروقت جوکھاتی رہتی ہے ۔ڈکاریں آتی رہتی ہیں ۔اُلٹیاں کرنے کودِل کرتاہے وغیرہ وغیرہ ‘‘۔وہ لڑکی بولی  ’’یہ بہت زیادہ کمزوراورلاغر ہیں‘‘۔میں نے کہا ’’یہ کھاتی توبہت ہیں اورکام بھی کچھ نہیں ہے،ان کامنہ ہی چھوٹا ہے،پیٹ بہت بڑا ہے‘‘ ۔ اتنے میں ڈاکٹرمہیش نے اندرسے آوازدے کربلایا۔ ’’اندراد

جینے کی راہ دھوپ چھاؤں پھول کانٹے زندگی کا نام ہے

ہی ہم زندگی گزارنے اور جینے کی راہیں ڈھونڈنے کے لئے طرح طرح سے خیالات کی کھیتی میں بیج ڈال کر سوچ سے آ بیاری کرتے ہیں ۔ زمین کو ہموار کرنے کا عمل مستقبل کی اچھی فصل کی امید میں آنکھوں میں لہلاتے کھیت کا منظر بسا لیتے ہیں ۔ماضی بنجر اور سخت زمین کی طرح پہلی فصل کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے ۔کوشش میں اگر کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو اسے پورا کرنے کی حتی الوسع سعی کی جاتی ہے،مگر قدرتی آفات یا نا گہانی آفت سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا ۔بیج سے پیدا ہونے والا پودا دو بار جینے کے لیے لڑتا ہے ۔ پہلے بیج سے اور پھر زمین سے نکلتے وقت ، اس کے بعد وہ حالات کے رحم و کرم پر چلا جاتا ہے ۔بارش کی کمی بیشی اور دھوپ چھاؤں میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے میں محتاج دعا ہو جاتا ہے ، وہاں وہ کسی کو بہت زیادہ خوشی دیتا ہے تو کسی کو مایوسی ۔اسی طرح انسان بھی دو طرح سے جینے کی جنگ کرتا ہ