تازہ ترین

بچے کا روشن مستقبل کس کے ہاتھ؟

ایک  مسلم گھرانے کی بہو اسماء افتخار کے ہاں ماشاء اللہ خوشی آنے والی تھی۔ شادی سے پہلے ہی ان کی ساس نے کہہ دیا تھا کہ نوکری تو بہو کو کرنی پڑے گی کیونکہ میری بیٹیاں اور بڑی بہو بھی نوکری کرتی ہیں۔ شادی کی 15 دن کی چھٹیوں کے بعد ہی کپڑے دھونے کی ذمے داری اسماء پر ڈال دی گئی۔ گھر میں تین نندیں تھیں جو شادی کے انتظار میں بوڑھی اور چڑچڑی ہوچکی تھیں، ایک جیٹھ، ان کی بیوی اور چار بچے تھے۔ ساس، سسر، اسماء اور اس کا شوہر۔ گویا 13 لوگوں کے اندر باہر کے سب کپڑے دھونا اسماء کی ذمے داری تھی۔ بڑی بہو کھانا پکاتی تھیں، ایک نند صفائی کرتیں، ایک برتن دھوتیں، اور سب سے بڑی نند بیمار تھیں، پہلے کپڑے دھوتی تھیں، اب اُن پر سے ہر ذمے داری ہٹا لی گئی تھی۔اسماء نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے کچھ فروٹ وغیرہ لادیا کریں، ان دنوں میں ذرا صحت بنے گی، میری تنخواہ تو آپ کی امی لے لیتی ہیں… بس یہ کہنا تھا

ظلم وتشدد کا کوئی جنس نہیں ہوتا!

 اکیسویں صدی میں جب کہ دنیا کے ہر کونے میں مرد اور خواتین کو ہرمیدان میں برابر کے حقوق دئے جارہے ہیں، جس وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی اپنی کامیابی کا پرچم لہرارہی ہیں، پھر بھی اس کو مظلوم کا نام دے کر عورت غلط بھی ہو تو اسی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے اس کی بے جا حمایت میں ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہوجاتا ہےاور حقیقت کو جانے سمجھے بغیر مرد کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔ماناکہ عورت نازک صنف ہونے کی وجہ سے بظاہربےقصور نظر آتی ہے اور ہمدردی کی مستحق ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر جگہ ہر مرتبہ عورت ہی صحیح اور مرد غلط ہوںکیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بے چارے مرد بھی چند عورتوں کی سازشوں اور مظالم کا شکار ہو کر اپنی جان تک گنوا چکے ہیں ، اس لئے ہر مرتبہ عورت ہی مظلوم نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی عورت کے ظلم کا شکار بنے مرد بھی مظلوموں کی فہرست میں شمار ہوتے ہی

موسم گرما اور چہرے کی حفاظت

سب سے پہلے اپنے چہرے کو دھوئیے۔ پھر ہاتھ سے ہلکے ہلکے تھپ تھپا کے خشک کیجیے۔ اس کے بعد ایک ٹشو پیپر اپنے چہرے کے مختلف حصوں پر رکھ کر دبائیے۔ اگر آپ کی جلد چکنی ہے تو ٹشو پیپر پر روغنی دھبے آجائیں گے۔ اگر ٹشو پیپر چہرے کے کسی حصے پر نہ چپکے اور نہ ہی اس پر چکنے دھبے نظر آئیں تو آپ کی جلد خشک ہے۔ اگر یہ آپ کی پیشانی، ناک یا ٹھوڑی پر چپک جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جلد نارمل یا ملی جلی ہے۔ تقریباً 70 فیصد خواتین کی جلد نارمل یا ملی جلی ہوتی ہے۔ چکنی جلد: ایسی جلد دیکھنے میں کسی حد تک چمک دار معلوم ہوتی ہے اور یہ بلیک ہیڈز اور کیل مہاسوں کا اکثر شکار بنتی ہے۔ کبھی کبھی جلد میں کھنچاؤ اور سختی بھی محسوس ہوتی ہے۔ نارمل یا ملی جلی جلد: ایسی جلد کے مسام درمیانے ہوتے ہیں۔ سطح ہم وار اور ساخت اچھی ہوتی ہے اور یہ صحت مند رنگت کی حامل ہوتی ہے۔ ملی جلی یا نارمل جلد میں دونوں