تازہ ترین

بنتِ حوا | تقدیر بدلنے کی ہے تدبیر اپنے پاس

اللہ  تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات میں بے شمار مخلوقات پیدا فرمائے ہیں اور ان سب مخلوقات میںسے انسان کو سب سے بلند مقام پر فائز کیا ہے۔اسی لیے انسان کو اشرف المخلوقات کے لقب سے نوازا گیا۔اشرف المخلوقات میں مرد اور عورت کے جنس میں عورت کو جو حیثیت اسلام نے عطا کی ہے ،دوسرے ادیان میں دور دور تک اس کا تصور بھی نہیں ملتاہے۔جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں ہمارا سابقہ جاہلیت کے مختلف پیرائیوں کے ساتھ بھی پڑ تا ہے اورہم دیکھتے ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میںخواتین کوکیسے کیسے ناقابل برداشت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔صنف نازک کے ساتھ جو استحصال ہورہا تھااس کو محسوس کر کے درد دلِ رکھنے والے انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔بچیوں کی پیدائش کو ہی عار سمجھا جاتا تھا اور اُنہیں زندہ در گور کرنے میں لوگ فخر محسوس کرتے تھے، تعددِ ازدواج کی کوئی حد مقرر نہیں تھی، فحاشی و عریانی کے عجیب و غ

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

خوف  وہراس میں مبتلا مسلم اقلیت کے لئے آرام وسکون کا ایک لمحہ بھی نصیب ہو نا اب خواب وگمان بنتا جارہا ہے۔ ۴۷ء سے آج تک جرم بے گناہی کی پاداش میں مسلمانوں پر کتنے مظالم ڈھائے گئے ،اس کا کوئی حد وحساب ہی نہیں ۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ اب  سیاسی قائدین ، حکو متی وزراء اور دیگر صلاح کار تک حکومت ِوقت سے کھلم کھلا مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ مسلمانوں کاحق رائے دہی سلب کیا جانا چاہئے ، یا جو شخص گائے کو ذبح کرتا ہے، اس کو بھی ذبح کیا جانا چاہئے۔یاد رہے کہ یوپی کے اخلاق احمد جیسے ادھیڑ عمر والے شخص ، کمسن طالب علم حافظ جنید ، مزدور افروزل کی بہیمانہ ہلاکت ، جواہر لال یونیورسٹی کے ایک طالب علم محمد نجیب کا لاپتہ کیا جانا، راجستھان میں پہلو خان کی جان لینا ، جھارکھنڈ میں متشدد ہجوم کا علیم الدین نامی شخص کا ابدی نیند سلا دینا اور اب تبریز انصاری کی ہجومی ہلاکت وغیرہ وغیرہ مسلمانوں کے دلوں

چند خطرناک غلطیاں

ہمارے معاشرے میں مردوں کو ہی کماؤ پوت اور مضبوط جنس مانا جاتا ہے جس کے اوپر پورے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت بھی کرنا ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے مرد گھر کی بنیاد ہوتا ہے تو اس کا صحت مند اور تندرست ہونا ضروری ہے۔ مرد حضرات اپنی زندگی میں جانے انجانے میں کچھ ایسی غلطیاں سر انجام دے رہے ہیں جو مستقبل میں ان کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔اگر آپ مرد ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ وہ غلطیاں کیا ہے تو یہ پڑھئے۔  ڈاکٹر سے دور بھاگنا: عام مشاہدہ ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانےسے انکاری ہونا تو مردوں کی جنیات میں شامل ہے، اگر کچھ عرصے میں چند کلو وزن بڑھ جائے تو کیا ہوا کوئی مسئلہ تھوڑی ہے تھوڑی سی ایکسر سائز کرنی ہے اور معاملہ سیٹ ۔اور اگر جسم میں درد ہے تو کیا ہوا؟ مرد کو درد تھوڑی ہوتا ہے ! ویسے یہ باتیں سننے میں تو بہت اچھی لگتی ہیں لیکن کچھ سالوں بعد یہ ہی درد