تازہ ترین

ملازمت پیشہ خواتین سے

اپنے   بچوں کے ساتھ بھرپور وقت گزاریںکہ یہی آپ کی سرمایہ کاری ہے اور بڑھاپے کا سہارا بھی’’آج آپ پانچ دفعہ پیغام بھجوانے کے بعد ملنے آئی ہیںـ‘‘۔ ’’ڈاکٹر احمد! آپ کو پتہ تو ہے کہ میری نوکری کی نوعیت ہی ایسی ہے کبھی اس شہر تو کبھی اس شہر، کبھی میٹنگ تو کبھی سیمینار، وقت ہی نہیں ملتا کہ اشعر کے اسکول آئوں۔ ویسے مجھے آنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ میرا بیٹا ہے ہی اتنا ذہین تو اس کو بھلا آپ کے پاس سیشن کے لیے آنے کی کیا ضرورت؟‘‘ ’’مگر اس بار ایسا نہیں ہے، کیا پچھلے چند ماہ سے آپ کو اس کی شخصیت میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی؟‘‘ ’’میں نے تو ایسا کچھ بھی محسوس نہیں کیاـ‘‘۔ ’’یا پھر آپ کو محسوس کرنے کا وقت ہی کہاں ملا ہوگا!!! خیر یہ ویڈیو دیکھیں۔ یوں تو ہما

جب رضائی اُٹھ گئی

جاڑے   کا سفر۔ سائیں سائیں کرنے والی رات میں شائیں شائیں کرنے والی ٹرین میں شریک سفر بھی کون؟زبان پہ بار خدایا یہ کس کا نام۔۔ ۔ مگر نہیں ٹھہرئے تو سہی نام کا بھلا ہم کو کیا پتہ؟ نام تو نام صورت تک دیکھی نہیں تھی۔ البتہ اتنا معلوم تھا کہ حسین ہے اور بے حد حسین۔ اس کی دلفریبی کی قسم بغیر دیکھئے ہوئے اسی طرح کھاسکتے تھے۔ جس طرح بغیر خدا کو دیکھے ہوئے، سچی تو سچی جھوٹی قسمیں بھی جب جی چاہے کھاسکتے ہیں۔ ارغوانی رضائی جس پر کامدانی کے ستارے بکھرے ہوئے تھے، اس پیکر ناز کے حسن کو چھپا چھپا کر چمکارہی تھی۔ یہ رضائی لکھنو کی بنی ہوئی تھی اس لئے کہ رضائی میں کامدانی بنانے کا سلیقہ اور سلیقہ سے زیادہ فرصت بھلا کسی شہر کو کہاں نصیب؟ کامنی گوٹ میں سلمیٰ ستارے کا وہ کام دیکھنے والوں کی نظروں کو جھپکائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ قسمت ہو تو ایسی کہ مقابل والی سیٹ پر ہم کو بھی نہایت کشادہ جگہ مل گئی۔