بنتِ حوا | تقدیر بدلنے کی ہے تدبیر اپنے پاس

اللہ  تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات میں بے شمار مخلوقات پیدا فرمائے ہیں اور ان سب مخلوقات میںسے انسان کو سب سے بلند مقام پر فائز کیا ہے۔اسی لیے انسان کو اشرف المخلوقات کے لقب سے نوازا گیا۔اشرف المخلوقات میں مرد اور عورت کے جنس میں عورت کو جو حیثیت اسلام نے عطا کی ہے ،دوسرے ادیان میں دور دور تک اس کا تصور بھی نہیں ملتاہے۔جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں ہمارا سابقہ جاہلیت کے مختلف پیرائیوں کے ساتھ بھی پڑ تا ہے اورہم دیکھتے ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میںخواتین کوکیسے کیسے ناقابل برداشت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔صنف نازک کے ساتھ جو استحصال ہورہا تھااس کو محسوس کر کے درد دلِ رکھنے والے انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔بچیوں کی پیدائش کو ہی عار سمجھا جاتا تھا اور اُنہیں زندہ در گور کرنے میں لوگ فخر محسوس کرتے تھے، تعددِ ازدواج کی کوئی حد مقرر نہیں تھی، فحاشی و عریانی کے عجیب و غ

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

خوف  وہراس میں مبتلا مسلم اقلیت کے لئے آرام وسکون کا ایک لمحہ بھی نصیب ہو نا اب خواب وگمان بنتا جارہا ہے۔ ۴۷ء سے آج تک جرم بے گناہی کی پاداش میں مسلمانوں پر کتنے مظالم ڈھائے گئے ،اس کا کوئی حد وحساب ہی نہیں ۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ اب  سیاسی قائدین ، حکو متی وزراء اور دیگر صلاح کار تک حکومت ِوقت سے کھلم کھلا مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ مسلمانوں کاحق رائے دہی سلب کیا جانا چاہئے ، یا جو شخص گائے کو ذبح کرتا ہے، اس کو بھی ذبح کیا جانا چاہئے۔یاد رہے کہ یوپی کے اخلاق احمد جیسے ادھیڑ عمر والے شخص ، کمسن طالب علم حافظ جنید ، مزدور افروزل کی بہیمانہ ہلاکت ، جواہر لال یونیورسٹی کے ایک طالب علم محمد نجیب کا لاپتہ کیا جانا، راجستھان میں پہلو خان کی جان لینا ، جھارکھنڈ میں متشدد ہجوم کا علیم الدین نامی شخص کا ابدی نیند سلا دینا اور اب تبریز انصاری کی ہجومی ہلاکت وغیرہ وغیرہ مسلمانوں کے دلوں

چند خطرناک غلطیاں

ہمارے معاشرے میں مردوں کو ہی کماؤ پوت اور مضبوط جنس مانا جاتا ہے جس کے اوپر پورے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت بھی کرنا ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے مرد گھر کی بنیاد ہوتا ہے تو اس کا صحت مند اور تندرست ہونا ضروری ہے۔ مرد حضرات اپنی زندگی میں جانے انجانے میں کچھ ایسی غلطیاں سر انجام دے رہے ہیں جو مستقبل میں ان کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔اگر آپ مرد ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ وہ غلطیاں کیا ہے تو یہ پڑھئے۔  ڈاکٹر سے دور بھاگنا: عام مشاہدہ ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانےسے انکاری ہونا تو مردوں کی جنیات میں شامل ہے، اگر کچھ عرصے میں چند کلو وزن بڑھ جائے تو کیا ہوا کوئی مسئلہ تھوڑی ہے تھوڑی سی ایکسر سائز کرنی ہے اور معاملہ سیٹ ۔اور اگر جسم میں درد ہے تو کیا ہوا؟ مرد کو درد تھوڑی ہوتا ہے ! ویسے یہ باتیں سننے میں تو بہت اچھی لگتی ہیں لیکن کچھ سالوں بعد یہ ہی درد

بنتِ حوا کی مظلومیت

 ماب  لنچنگ اور مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی دو متضاد چیزیں ہیں ۔ کسی شادی شدہ خاتون کو بیوہ ،بچوں کو یتیم ، بزرگوں کو بےسہارا کرنے والے درندوں کے سامنے جب قانون بھیگی بلی بن جائے تو سیاسی نیتاوں کاتین طلاق کے نام پہ مسلم خواتین سے جھوٹی ہمدردی جتانا بے معنی گفتار ہے، جس سے اس بات کا سو فیصد یقین ہوجاتا ہے کہ ایسے نوٹنکی باز نہ بالی ووڈ میں آج تک آئے ہیں نہ ہی ہالی ووڈ میں موجود ہیں۔جی ہاں، نیتاؤں نے ایک بار پھر طلاق ثلاثہ کو لے کر پارلیمنٹ میں بل پیش کیا ہے، ویسے ان کا یہ ڈرامہ آج کا کوئی نیا معاملہ نہیں ہے بلکہ پریوار بار بار تین طلاق کو مدعا بناکر مسلم خواتین سے ہمدردی کے بہانے شریعت میں جبراً مداخلت کرنے کی کوشاں رہی ہے، لیکن الحمدللہ خود مسلم خواتین اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج اور اختلاف رائے کی وجہ سے انہیں کئی دفعہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ مسلم خواتین سے ہمدردی کے

اک ماں کی کہانی

ثمینہ  جیسے ہی پہلی منزل پر پہنچی ساجدہ آنٹی کو دیکھا، جو اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر اندر جارہی تھیں۔ آواز پر پلٹیں اور اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ ثمینہ سے حال احوال پوچھنے لگیں۔ ثمینہ: السلام علیکم آنٹی! آپ کیسی ہیں؟ آنٹی ساجدہ: الحمدللہ، آپ کیسی ہیں؟ بیٹا گھر میں سب ٹھیک ہے؟ ثمینہ: جی آنٹی، آج آپ اسکول سے جلدی آگئیں؟ آنٹی: ہاں بچے تو آ نہیں رہے، امتحان ہوچکے ہیں اس لیے جلدی چھٹی ہوگئی۔ ثمینہ آنٹی کو خدا حافظ کہہ کر اوپر آگئی۔ …٭… آنٹی ساجدہ کو اس محلے میں آئے پانچ، چھ مہینے ہی ہوئے تھے۔ اسکول سے واپسی پر یا کسی شام کو آنٹی کے ساتھ ثمینہ کی مڈبھیڑ ہوجاتی۔ ثمینہ کو جلدی گھر پہنچ کر کھانا بنانا ہوتا، اس لیے وہ رسمی سلام دعا کے بعد خدا حافظ کہہ کر اوپر آجاتی۔ بس اسے اتنا ہی معلوم ہوسکا تھا کہ وہ اس اپارٹمنٹ میں تنہا رہ

مجالسِ نکاح تقاریبِ شا دی

 یہ  اللہ تعالیٰ کا ہی فضل و کرم ہے کہ سخت جان اُمت مسلمہ میں ایسے ائمہ کرام ، واعظین عظام اور اصلاح ِ معاشرہ چاہنے والے حضرات ہر دور میں موجود رہے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں اُمت مسلمہ میں پھیلی ہوئی رسومات اور بدعاتِ قبیحہ، او دیگر خرافاتِ سُغلہ کے خلاف کسی نہ کسی انداز سے اپنی ناراضگی کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں گوکہ اس طوفانِ بدتمیزی کے خلاف ان کی ایک بھی نہیں چلتی ہے۔ سماج میں رائج بدعات و خرافات کے خلاف بارہا محلہ کمیٹیاں، سدھار انجمنیں ، رضاکار ادارے بھی بنائے گئے مگر بے سود ،کہیں کہیں غیر اسلامی تقریبات سے بائیکاٹ کرنے کے فیصلے بھی لئے گئے لیکن یہ فیصلے گفتند نشستند و برخواستند تک محدود ثابت ہوتے رہے ،ان پر عمل کرنے کے لئے ماحول سازگار بنا نہ وموافقانہ عوامی رائے کی موافقت منظم ہوئی۔  ہمارے سماج کئی افراد جو شادی غمی کے مواقع پر نمود و نمائش کے مرضِ لا

لکھنا ایک فن ہے

فضول  کاموں میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہےاپنے خیالات قلم بند کریں، تخلیقی سرگرمیوں کی طرف مائل کریں۔ایک لکھاری بھی دیگر فن کاروں اور ہنرمندوں کی طرح تخلیق کارہوتا ہے، جو معاشرے کی تصویرکو اپنے خیالات، نظریات اور فکر کے ذریعے قلم کی زبان عطا کر کے الفاظ کے روپ میں ڈھالتا ہے۔ وہ جو دیکھتا اور سوچتا ہے، اسے الفاظ کے ذریعے دوسروں کے ذہن پر ثبت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے ایسا کرنے پر اس کا احساس مجبورکرتا ہے۔ لکھنے کا تعلق جبر سے نہیں، بلکہ تخلیق کار کی تمنا، آرزو، خواہش، مرضی و منشا، شوق اور اس کے جذبات و احساسات سے ہوتا ہے۔ ایک لکھاری کسی بھی معاشرے کا چہرہ ہوتا ہے، جو مشاہدے کی طاقت سے معاشرے اور اس میں ہونے والے تمام افعال کو الفاظ کی تصویر پہناتا ہے۔ لکھاریوں کی اکثریت خود کو بے لوث معاشرے کے لیے وقف کیے رکھتی ہے، جس بنا پر یقینا ان کو بہت ہی معزز اور قوم کا فخر سمجھا جاتا ہے۔لک

ماں باپ کی اہم ذمہ داری

گھروں میںحیا مندی کے حوالے سے ہمیں کیا کیا کرنا چاہیے،اس کی ایک اجمالی تصویر یوں کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے : بچوں سے حقیقی تعلق: والدین بچوں سے اپنے تعلق کو یقینی بنائیں۔بچوں کو کہانیاں سنانا سب سے اہم سرگرمی ہے۔یہ کام مائیں سب سے بہتر سر انجام دے سکتی ہیں۔ کہانیاں سناناچاہے وہ حقیقی ہوں یا تصوری—اپنے بچے کے ساتھ گھلنے ملنے کا ایک تفریحی طریقہ ہے۔کہانی سنانا جادوئی عمل ہو سکتا ہے۔ کہانیوں سے آپ کے بچے کی تخلیقی اور تخیلاتی نشو و نماکے ساتھ ساتھ اردگردکی دنیاکو سمجھنے میں مددملتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ بچے کی افسردگی کم کرنے اور ان کی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنے کے ساتھ مزید راحت کا احساس پیدا کرنے میں مدد دینے کا ایک بہترین طریقہ بھی ہے۔ اچھی کہانیاں سنانا ایک طاقت ور طریقہ ہے جس سے آپ کے بچے کو آپ کی گھریلو زبان بہتر طور پر سمجھنے میں اور بولنے میں مدد ملتی ہے – اور ا

ملازمت پیشہ خواتین سے

اپنے   بچوں کے ساتھ بھرپور وقت گزاریںکہ یہی آپ کی سرمایہ کاری ہے اور بڑھاپے کا سہارا بھی’’آج آپ پانچ دفعہ پیغام بھجوانے کے بعد ملنے آئی ہیںـ‘‘۔ ’’ڈاکٹر احمد! آپ کو پتہ تو ہے کہ میری نوکری کی نوعیت ہی ایسی ہے کبھی اس شہر تو کبھی اس شہر، کبھی میٹنگ تو کبھی سیمینار، وقت ہی نہیں ملتا کہ اشعر کے اسکول آئوں۔ ویسے مجھے آنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ میرا بیٹا ہے ہی اتنا ذہین تو اس کو بھلا آپ کے پاس سیشن کے لیے آنے کی کیا ضرورت؟‘‘ ’’مگر اس بار ایسا نہیں ہے، کیا پچھلے چند ماہ سے آپ کو اس کی شخصیت میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی؟‘‘ ’’میں نے تو ایسا کچھ بھی محسوس نہیں کیاـ‘‘۔ ’’یا پھر آپ کو محسوس کرنے کا وقت ہی کہاں ملا ہوگا!!! خیر یہ ویڈیو دیکھیں۔ یوں تو ہما

جب رضائی اُٹھ گئی

جاڑے   کا سفر۔ سائیں سائیں کرنے والی رات میں شائیں شائیں کرنے والی ٹرین میں شریک سفر بھی کون؟زبان پہ بار خدایا یہ کس کا نام۔۔ ۔ مگر نہیں ٹھہرئے تو سہی نام کا بھلا ہم کو کیا پتہ؟ نام تو نام صورت تک دیکھی نہیں تھی۔ البتہ اتنا معلوم تھا کہ حسین ہے اور بے حد حسین۔ اس کی دلفریبی کی قسم بغیر دیکھئے ہوئے اسی طرح کھاسکتے تھے۔ جس طرح بغیر خدا کو دیکھے ہوئے، سچی تو سچی جھوٹی قسمیں بھی جب جی چاہے کھاسکتے ہیں۔ ارغوانی رضائی جس پر کامدانی کے ستارے بکھرے ہوئے تھے، اس پیکر ناز کے حسن کو چھپا چھپا کر چمکارہی تھی۔ یہ رضائی لکھنو کی بنی ہوئی تھی اس لئے کہ رضائی میں کامدانی بنانے کا سلیقہ اور سلیقہ سے زیادہ فرصت بھلا کسی شہر کو کہاں نصیب؟ کامنی گوٹ میں سلمیٰ ستارے کا وہ کام دیکھنے والوں کی نظروں کو جھپکائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ قسمت ہو تو ایسی کہ مقابل والی سیٹ پر ہم کو بھی نہایت کشادہ جگہ مل گئی۔

سماجی خدمات رفاہی امور

 یہ  اسلام کا مابہ الامتیاز ہے کہ اس نے نہ صرف فرد کو بلکہ ریاست کو بھی عام لوگوں کی فلاح و بہبود کا پابند بنایا ہے اور حکمرانوں کو مسئول بنایا ہے کہ وہ رعایا کی ضروریات کو پیش نظر رکھیں۔اسلام ابتدا ہی سے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لیے کوشا رہا ہے ۔اس کی کاوشیں انفرادی ، اجتماعی اور ریاستی و حکومتی سطح تک پھلی ہوئی ہیں۔اسلام میں رفاہِ عامہ اور معاشرتی فلاح و بہبود کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا یہ مذہب خود قدیم ہے یعنی یہاں رفاہی عامہ کا تصور ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی تاریخ کا آغاز ظہور اسلام کے ساتھ ہی نظر آتا ہے اور مسلمان مادی منفعتوں سے بالا تر ہوکر ہر دور میں سماجی ومعاشرتی بہبود انسانی کی خاطر مسلسل مصروف عمل رہے ہیں۔ مسلمانوں کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا تھا ۔ اس تصور نے ان کی عملی زندگی ہر معاملے مین متحر ک بنا دی تھی ۔ رفاہی کاموں

بے ہودگیوں کے خلاف زیر و ٹالرنس!

ماہ قبل ایک بہن نے ہمیں اپنے گھر چائے کی پیالی پر مدعو کیا۔ یہ محترمہ اپنی بچی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف  تھی۔ باتوں باتوںمیں اُس نے اپنی بچی سے شادی کا سامان مع جیولری ، پارچہ جات اور کاسمیٹک سامان ہمیں دکھانے کے لئے لائے ۔ زیورات اورپارچہ جات دکھانے کے بعد جب کاسمیٹک اشیاء کی نمائش کی گئی جس کے ساتھ مجھے رتی بھر بھی دلچسپی نہیں ، یہ سامانِ آرائش ملٹی نیشنل کمپنیوں اور فارن ایجنسیوں سے خریدا گیا تھا ۔ میں نے دل پہ پتھر رکھ کر یہ پوچھنے کی جرأت کی کہ اس ایک دن کی مصنوعی خوبصورتی کے لئے کتنا خرچہ آیا ہوگا؟ موصوفہ نے اپنی امارت کی دھاک مجھ پر بٹھا تے کہا ’’یہی کوئی ایک لاکھ کے قریب‘‘۔ حسبنا اللہ! پائوں تلے زمین کھسک گئی اور حرف ِ شکایت زبان پر آہی گیا: بیٹا جی ! آپ کے میک اَپ کے خرچے سے ایک غریب لڑکی کی شادی خانہ آبادی ہوجاتی ، اتنی بڑی رقم آپ نے فض

عیدی ۔۔۔ بچوں کی چاندی بڑوں کی شان

 عید  کا موقع دنیا بھر میں مسلمانوں کےلیے خوشی اور مسرت کا پیغام لاتا ہی ہےمگر بچوں میں اس اسلامی تہوار کیا کہنا،اور کیوں نہ ہو ایسا کہ عید تو پہلے بچوں کی ہے، بڑے بھی بچوں کی خوشی میں خوش ہوجاتے ہیں۔ عید میں جہاں بچے نئے جوڑے، نئے جوتے اورموج مستی کرتے ہیں وہاں انہیں عیدی بھی تو دی جاتی ہے۔  مسلم معاشرہ مشرق میں ہو یا مغرب میں، شمال میں ہو کہ جنوب میں، ہر معاشرے میں عید کا تہوار منانے کا طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہےمگر پوری دنیا کے مسلم معاشروں میں یہ قدر مشترک پائی جاتی ہے کہ وہ بچوں کو عیدی ضرور دیتے ہیں۔سعودی عرب یا خلیجی ممالک ہوں، پاکستان اور انڈیا ہو یا پھر مصر وشام یا پھر مشرق بعید کے ممالک، ہر ایک میں عید کا تہوار منانے کا طریقہ کار نہ صرف مختلف ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں بھی آتی رہی ہیں مگر جوچیز زمانے کے ساتھ نہیں بدلی وہ عیدی ہے، ہاں البتہ جدی

صیام کا انعام!

قارئین  کرام ! صیام کریم کا آخری عشرہ بھی اب قریب الاختتام ہورہاہے۔ اس ماہ ِ غفران میں برکات اور رحمتوں کی روح پرور بارشیں نقطہ ٔ عروج پر آ رہی ہیں۔ خوش بخت اور خوش خصال ہیں وہ روزہ دارجس نے رمضان المبارک کا استقبال وَجد وشوق اور جذب وجنوں کے ساتھ کیا ، پھر دن کے صیام اور رات کے قیام سے بدنی عبادات کا حق اداکیا، قرب خداوندی اور خوشنودی ٔرب کالامثال ا نعام پایا، جس نے احتساب ِ نفس اور پاکی ٔ ذات میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، روزہ داری سے حا صل کردہ خلوص و محبت اور نرمی وملائمت کی سوغات آنے والے ماہ وسال میں لٹانے کا مصمم عزم کیا ، جو اشک ِندامت کی بوچھاڑیں کر کے اپنے غلطیوں اور گناہوں کا دامن دُھل کر اپنی لغزشوں کی بخشش کروانے میں کا میاب رہا ، جس نے اپنا د کشکولِ طلب صرف اور صرف اللہ کے حضور ہمہ وقت پھیلاکر اسے اجابت ِدعا سے بھر وا دیا، کام دھندے میں دیانت واَمانت برت کر آذوقہ کمایا

میں کس کے ہاتھ پراپنا لہو تلاش کروں؟

ہر   روز میں بازاروں میں گھسیٹاجاتاہوں۔ ہر شام شامِ غریباں ہوتی ہے۔ ہر صبح نئی صف ِماتم بچھتی  ہے۔ زندگی یونہی تمام ہوتی ہے۔ ایک دنیا میری لاش پر افسوس منانے آتی ہے۔ کچھ  لوگ تصویر بنا کرچلے جاتے اورکچھ لوگ چشمے پہن کر افسوس کر کے چلتے بنتے ہیں۔ کچھ روز میرا نام ہر سَمت گونج اٹھتا ہے اور پھر ایک دم سب ہی بھول جاتے ہیں۔ کیا میں اس قوم کی بچہ نہیں؟ کیا میں اس مٹی سے جُڑا ہوا نہیں؟ کیا ہے میری شناخت؟ کیا تمہیں میرے لہو کی بو نہیں آتی؟ کیا میری چیخیں ایوانوں کے ستون نہیں ہلاتیں؟ کیا تم کو میرے ادھورے خواب نہیں ستاتے؟  ہر روپ میں مَرا ہوں میں۔ کبھی لڑکی بن کر تو کبھی لڑکے کےروپ میں۔ہر گلی سے اٹھایا گیا ہوں میں۔ ہر نالی سے ملی ہے میری لاش۔ اس سَر زمین میں کوئی ایسا کونہ نہیں ہے جس میں چھپ جاؤں میں، جہاں بچ جاؤں میں۔  یوں لگتا ہے کہ سارا جہاں مل ک

یتیموں کی کفالت

لفظ  ’’یتیم‘‘ کتنا عجیب وغریب ہے۔ اس لفظ کو سنتے ہی دل میں احساس محبت جنم لیتا ہے۔ یتیم بچے یا بچی کے لیے ہمارے دل میں محبت اور پیار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اللہ کرے کوئی یتیم نہ ہو۔ اس کا باپ اور ماں سلامت رہیں ۔ یتیم کون ہے؟ یتیم ہر ایسے بچے کو کہتے ہیں جس کا والد اس کے بالغ ہونے سے پہلے وفات پا جائے۔ اسی طرح جس بچے اور بچی کے والد او ر والدہ دونوں اس کے بالغ ہونے سے پہلے وفات پا جائیں انہیں بھی یتیم الابوین کہا جاتا ہے۔ یقینا یہ محبتوں کے زیادہ مستحق ہیں۔ اسی طرح اگر کسی کی والدہ بچپن میں وفات پا جائے تو اسے بھی یتیم کہا جائے گا کہ اس کی والدہ وفات پا چکی ہیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے معاشرے کے دبے کچلے اور پسے ہوئے اور محروم لوگوں کو ہمیشہ اوپر اٹھایا ہے۔ ان کے مورال کو بلند کیا ہے۔ ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اولاد سے محبت فطری چی

سیرتِ صحابیات ؓ

روایات   میں آیا ہے کہ عرب کی سب سے امیر اور باوقار خاتون آرام فرما ہوتی ہیں ، خواب میں ایک روح پرور نظارہ دیکھتی ہیں کہ آسمان سے آفتاب ان کے گھر کے آنگن میں اُتر آیا ہے، اس کے نور سے گھر روشن ہے روشنی اور نور اتنا زیادہ ہو تا ہے کہ مکہ مکرمہ کا کوئی گھر ایسا نہیں ہوتا جو اس نور کی روشنی سے روشن نہ ہوا ہو ۔ اس خوبصورت خواب سے جب وہ بیدار ہوتی ہیں تو خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو تی ہیں کہ بہت اچھا اور عجیب و غریب خواب ہے ۔انہوں نے اپنے طور پر اِس خواب کی تعبیر نکالنے کی بہت کوشش کی مگر وہ کوئی بھی نتیجہ نہ نکال سکیں، پھر انہیں اپنے چچا زاد بھائی نو فل بن ورقہ کا خیال آیا جو اس دور کا مشہور مسیحی عالم تھا ۔ اپنے خواب کی تعبیر کے سلسلے میں آپ اپنے اِس چچا زاد عالم فاضل شخص کے پاس گئیں اور اپنا خواب سنایا ۔ ورقہ بن نوفل نے توجہ سے خواب سنا تو اس کا چہرہ خوشی سے روشن ہو گیا ۔ وہ بول

اصلاح معاشرہ!

 آج کل سوشل میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور دیگر ذرائع سے یہ تلاطم خیز خبریں آتی رہتی ہیں کہ وادی کشمیر میں کہیں کہیں معصوم بچے اور بچیاں منشیات کی لت میں بہک گئی ہیں۔ اخباری اطلاع ہے کہ ستر ہزار لڑکے اور ساڑھے چار ہزار لڑکیاں اس کربناکی میں مبتلاہے۔ ایک سنسنی خیز انکشاف بھی یوں ہوا ہے کہ ہر روز تین سے چار لاکھ روپے کی منشیات کی اشیاء شمالی کشمیر سے جنوبی کشمیر تک پہنچائی جاتی ہیں اور اسے سکولوں، کالجوں ،ہسپتالوں ، پارکوں اور پولیس اسٹیشنوں کے ارد گرد فروخت کیا جارہا ہے۔ تعجب کا مقام ہے کہ یہ زہر خریدنے والے بھی ہم ہیں اور بیچنے والے بھی ہم ہی۔ واقعی ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘ کے مصداق صورت حال بنی ہوئی ہے ۔۔ آج سے دس بیس سال قبل معاشرے میں گھرانوں کی اکثریت بہت دیندار اور بااخلاق تھی جب کہ آج ہمارے معصوم وکم سن بچے بچیاں میں  قعر مزلت میں دھنس

رمضان کے مابعد!

 ماہ  صیام کے رعنائیوں میں افطار ،سحری ،تراویح شامل ہیں ۔اس ماہ میں کلمہ خواں خشوع اور خضوع کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ۔چنانچہ یہ ایک پاکیزہ ماحول پیدا کرتا ہے ،مساجد کی رونقیں بڑ ھ جاتی ہیں، اذان سنتے ہی لوگ اپناکام دھندا چھوڑ کر مسجد کی طرف دوڑتے ہیں ، پرہیزگار ی اور نیکیوں اک سماں بندھ جاتا ہے ، اخلاق کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوششیں ہوتی ہیں ۔اس ماہ میں جو لوگ بوجوہ روزے نہیں رکھتے، وہ بھی معاشرے میں اپنے آپ کو بہتر انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو معاف کرنا ،فحش کلامی نہ کرنا ،دھوکا نہ دینا، جھوٹ نہ بولنا ،خیرات وصدقات کرنا ، یہ سب اخلاقی امور اس ماہ میں عروج پر ہوتے ہیں ۔ رمضان کا مہینہ کی برکت ہی ہے برکت ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اپنی بساط کے مطابق زکوٰۃ و خیرات کی ادائیگی کرتے ہیں،رمضان کے شب و روز کی ایک الگ ہی خو

ماں تجھے سلام!

گرمیوں کی ایک دوپہر بچہ اسکول سے گھر لوٹا۔ ماں بچے کو دیکھ کر مسکرائی اور اس کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا بیٹا! جلدی سے کپڑے بدل لو، میں کھانا لاتی ہوں، میرے بیٹے کو بھوک لگی ہوگی۔ بیٹا جلدی سے کپڑے بدل کر آیا تو سامنے ہر روز کی طرح سبزی یا دال کی جگہ آج اس کی پسندیدہ ڈش تھی۔ بیٹے نے پوچھا امی! آج یہ سب کچھ کیسے؟ ماں نے کہا، بیٹا! یہ سب کچھ میں نے تمہارے لیے بنایا ہے۔ بچے نے کہا: آپ بھی میرے ساتھ کھانا کھالیں ۔ بچے کی پسند کا کھانا چونکہ کم تھا اس لیے ماں نے کہا :’’بیٹا میں نے تو کھانا کھا لیا ہے، اب تو پانی پینے کی جگہ بھی نہیں رہی ، تم اکیلے ہی کھانا کھاؤ ، تمہیں بھوک لگی ہوگی‘‘۔ یہ کہہ کر ماں پھر سے کچن میں چلی گئی۔ بیٹا روز منہ بنا کر کھانا کھاتا تھا لیکن آج پسند کا کھانا دیکھ کر جلدی جلدی سب چٹ کرگیا۔ بیٹا برتن اٹھا کر جیسے ہی کچن میں داخل ہوا تو

تازہ ترین