سماجی خدمات رفاہی امور

 یہ  اسلام کا مابہ الامتیاز ہے کہ اس نے نہ صرف فرد کو بلکہ ریاست کو بھی عام لوگوں کی فلاح و بہبود کا پابند بنایا ہے اور حکمرانوں کو مسئول بنایا ہے کہ وہ رعایا کی ضروریات کو پیش نظر رکھیں۔اسلام ابتدا ہی سے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لیے کوشا رہا ہے ۔اس کی کاوشیں انفرادی ، اجتماعی اور ریاستی و حکومتی سطح تک پھلی ہوئی ہیں۔اسلام میں رفاہِ عامہ اور معاشرتی فلاح و بہبود کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا یہ مذہب خود قدیم ہے یعنی یہاں رفاہی عامہ کا تصور ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی تاریخ کا آغاز ظہور اسلام کے ساتھ ہی نظر آتا ہے اور مسلمان مادی منفعتوں سے بالا تر ہوکر ہر دور میں سماجی ومعاشرتی بہبود انسانی کی خاطر مسلسل مصروف عمل رہے ہیں۔ مسلمانوں کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا تھا ۔ اس تصور نے ان کی عملی زندگی ہر معاملے مین متحر ک بنا دی تھی ۔ رفاہی کاموں

بے ہودگیوں کے خلاف زیر و ٹالرنس!

ماہ قبل ایک بہن نے ہمیں اپنے گھر چائے کی پیالی پر مدعو کیا۔ یہ محترمہ اپنی بچی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف  تھی۔ باتوں باتوںمیں اُس نے اپنی بچی سے شادی کا سامان مع جیولری ، پارچہ جات اور کاسمیٹک سامان ہمیں دکھانے کے لئے لائے ۔ زیورات اورپارچہ جات دکھانے کے بعد جب کاسمیٹک اشیاء کی نمائش کی گئی جس کے ساتھ مجھے رتی بھر بھی دلچسپی نہیں ، یہ سامانِ آرائش ملٹی نیشنل کمپنیوں اور فارن ایجنسیوں سے خریدا گیا تھا ۔ میں نے دل پہ پتھر رکھ کر یہ پوچھنے کی جرأت کی کہ اس ایک دن کی مصنوعی خوبصورتی کے لئے کتنا خرچہ آیا ہوگا؟ موصوفہ نے اپنی امارت کی دھاک مجھ پر بٹھا تے کہا ’’یہی کوئی ایک لاکھ کے قریب‘‘۔ حسبنا اللہ! پائوں تلے زمین کھسک گئی اور حرف ِ شکایت زبان پر آہی گیا: بیٹا جی ! آپ کے میک اَپ کے خرچے سے ایک غریب لڑکی کی شادی خانہ آبادی ہوجاتی ، اتنی بڑی رقم آپ نے فض

عیدی ۔۔۔ بچوں کی چاندی بڑوں کی شان

 عید  کا موقع دنیا بھر میں مسلمانوں کےلیے خوشی اور مسرت کا پیغام لاتا ہی ہےمگر بچوں میں اس اسلامی تہوار کیا کہنا،اور کیوں نہ ہو ایسا کہ عید تو پہلے بچوں کی ہے، بڑے بھی بچوں کی خوشی میں خوش ہوجاتے ہیں۔ عید میں جہاں بچے نئے جوڑے، نئے جوتے اورموج مستی کرتے ہیں وہاں انہیں عیدی بھی تو دی جاتی ہے۔  مسلم معاشرہ مشرق میں ہو یا مغرب میں، شمال میں ہو کہ جنوب میں، ہر معاشرے میں عید کا تہوار منانے کا طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہےمگر پوری دنیا کے مسلم معاشروں میں یہ قدر مشترک پائی جاتی ہے کہ وہ بچوں کو عیدی ضرور دیتے ہیں۔سعودی عرب یا خلیجی ممالک ہوں، پاکستان اور انڈیا ہو یا پھر مصر وشام یا پھر مشرق بعید کے ممالک، ہر ایک میں عید کا تہوار منانے کا طریقہ کار نہ صرف مختلف ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں بھی آتی رہی ہیں مگر جوچیز زمانے کے ساتھ نہیں بدلی وہ عیدی ہے، ہاں البتہ جدی

تازہ ترین