تازہ ترین

سیرتِ صحابیات ؓ

روایات   میں آیا ہے کہ عرب کی سب سے امیر اور باوقار خاتون آرام فرما ہوتی ہیں ، خواب میں ایک روح پرور نظارہ دیکھتی ہیں کہ آسمان سے آفتاب ان کے گھر کے آنگن میں اُتر آیا ہے، اس کے نور سے گھر روشن ہے روشنی اور نور اتنا زیادہ ہو تا ہے کہ مکہ مکرمہ کا کوئی گھر ایسا نہیں ہوتا جو اس نور کی روشنی سے روشن نہ ہوا ہو ۔ اس خوبصورت خواب سے جب وہ بیدار ہوتی ہیں تو خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو تی ہیں کہ بہت اچھا اور عجیب و غریب خواب ہے ۔انہوں نے اپنے طور پر اِس خواب کی تعبیر نکالنے کی بہت کوشش کی مگر وہ کوئی بھی نتیجہ نہ نکال سکیں، پھر انہیں اپنے چچا زاد بھائی نو فل بن ورقہ کا خیال آیا جو اس دور کا مشہور مسیحی عالم تھا ۔ اپنے خواب کی تعبیر کے سلسلے میں آپ اپنے اِس چچا زاد عالم فاضل شخص کے پاس گئیں اور اپنا خواب سنایا ۔ ورقہ بن نوفل نے توجہ سے خواب سنا تو اس کا چہرہ خوشی سے روشن ہو گیا ۔ وہ بول

اصلاح معاشرہ!

 آج کل سوشل میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور دیگر ذرائع سے یہ تلاطم خیز خبریں آتی رہتی ہیں کہ وادی کشمیر میں کہیں کہیں معصوم بچے اور بچیاں منشیات کی لت میں بہک گئی ہیں۔ اخباری اطلاع ہے کہ ستر ہزار لڑکے اور ساڑھے چار ہزار لڑکیاں اس کربناکی میں مبتلاہے۔ ایک سنسنی خیز انکشاف بھی یوں ہوا ہے کہ ہر روز تین سے چار لاکھ روپے کی منشیات کی اشیاء شمالی کشمیر سے جنوبی کشمیر تک پہنچائی جاتی ہیں اور اسے سکولوں، کالجوں ،ہسپتالوں ، پارکوں اور پولیس اسٹیشنوں کے ارد گرد فروخت کیا جارہا ہے۔ تعجب کا مقام ہے کہ یہ زہر خریدنے والے بھی ہم ہیں اور بیچنے والے بھی ہم ہی۔ واقعی ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘ کے مصداق صورت حال بنی ہوئی ہے ۔۔ آج سے دس بیس سال قبل معاشرے میں گھرانوں کی اکثریت بہت دیندار اور بااخلاق تھی جب کہ آج ہمارے معصوم وکم سن بچے بچیاں میں  قعر مزلت میں دھنس

رمضان کے مابعد!

 ماہ  صیام کے رعنائیوں میں افطار ،سحری ،تراویح شامل ہیں ۔اس ماہ میں کلمہ خواں خشوع اور خضوع کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ۔چنانچہ یہ ایک پاکیزہ ماحول پیدا کرتا ہے ،مساجد کی رونقیں بڑ ھ جاتی ہیں، اذان سنتے ہی لوگ اپناکام دھندا چھوڑ کر مسجد کی طرف دوڑتے ہیں ، پرہیزگار ی اور نیکیوں اک سماں بندھ جاتا ہے ، اخلاق کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوششیں ہوتی ہیں ۔اس ماہ میں جو لوگ بوجوہ روزے نہیں رکھتے، وہ بھی معاشرے میں اپنے آپ کو بہتر انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو معاف کرنا ،فحش کلامی نہ کرنا ،دھوکا نہ دینا، جھوٹ نہ بولنا ،خیرات وصدقات کرنا ، یہ سب اخلاقی امور اس ماہ میں عروج پر ہوتے ہیں ۔ رمضان کا مہینہ کی برکت ہی ہے برکت ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اپنی بساط کے مطابق زکوٰۃ و خیرات کی ادائیگی کرتے ہیں،رمضان کے شب و روز کی ایک الگ ہی خو