ماں کی غیر مشروط محبت

ماں  کی محبت و ممتا عالم میں ایک مثال ہے،ماں کی محبت وہ گہرا سمندر ہے،جس کی گہرائی کو آج تک کوئی ناپ نہ سکانہ ناپ سکے گا۔ماں کی محبت وہ ہمالیہ پہاڑ ہے کہ جس کی بلند یوں کو کوئی آج تک چھو نہ سکانہ چھو سکے گا۔ماں کی محبت وہ سدا بہار پھول ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ماںتو اولاد پر قربان ہوجایا کرتی ہیں،اور یہ صرف انسانوں میں نہیں بلکہ پرندوں میںبھی دیکھ لیجئے،چڑیا ایک ننھی سی جان ہے،گرمی کے موسم میں اڑکر جاتی ہے،اور پسینہ پسینہ ہوجاتی ہے مگر چونچ میں پانی لاکر اپنے بچوں کو پلاتی ہے،اس کے اپنے چونچ میں پانی ہے اور وہ پیاسی بھی ہے مگر خود نہیں پیتی کہ اس کے بچے پیاسے ہیں،چھوٹی سی جان میں دیکھئے بچوں کی کتنی محبت ہے،ایک صحابی کا واقعہ ہے کہ وہ نبی کریم ـؐ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے جا رہے تھے،کہ ایک درخت پرانہوں نے ایک گھونسلہ دیکھاجس میں چڑیا کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے،چڑیا کہیں گئی ہ

خدا کی بستی

’’خدا  کی بستی‘‘ کے خالق معروف ناول و افسانہ نگار شوکت صدیقی ۲۰؍ مارچ ۱۹۲۳ء کولکھنؤمیںپیدا ہوئے ۔ امیر الدولہ اسلامیہ ہائی سکول لکھنؤ سے میٹرک پاس کیا۔ ایف اے اور بی اے بطور پرائیویٹ اُمیدوار پاس کرنے کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے سیاسیات کے مضمون میں ایم اے کیا۔ ۱۹۵۰ء میں ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان گئے اور کچھ عرصہ لاہور میں قیام کرنے کے بعد کراچی منتقل ہو گئے۔ اسی سال کراچی میں ڈاکٹر محمد سعید خان کی صاحبزادی ثریا بیگم سے شادی کر لی۔ انہیں بچپن سے ہی علم و ادب سے گہری وابستگی تھی۔ شوکت صدیقی نے عملی زندگی کا آغاز ۱۹۵۴ء میں روزنامہ Times of Karachi سے کیا۔ اس کے بعد وہ روزنامہ ’’مارننگ نیوز‘‘کراچی سے بھی منسلک رہے۔ ۱۹۶۳ء میں انگریزی صحافت سے کنارہ کشی اختیار کی اور اردو صحافت سے وابستہ ہو گئے اور’ ’روزنامہ انجام&lsquo

مسلم اقلیت سیاسی حاشیہ پر؟

 ہماری   پیاری ریاست کرناٹک سمیت پورے ہندوستان میں لوک سبھا چناؤ کو لے کر جس طرح کی گہما گہمی پائی جاتی ہے اُس کا گہرائی سے جائزہ لیجئے تو پتہ چلے گا کہ ملک میں سیاسی واقتصادی حالات خیال و گماں سے کئی گنا زیادہ بدتر ہوچکے ہیں ۔اس وجہ سے ہر باشعور انسان کوغور و فکر کرنا ہوگا کہ اگر یہی قصہ چلتا رہے توا س وشال دیش کا بھوش کیا ہوگا ۔دراصل سیاسی بازی گروں نےہندوستان کی آب و ہوا میں اپنا حقیر مفادات پانے کے لئے اس قدر زہرگھول رکھا ہے کہ آج ملک کے حکمران یا پر دھان سیوک کا چناؤ ملکی فلاح وبہبود پہ نہیں بلکہ ذات ،دھرم ،گوتھر کو فوقیت دے کر کیا جارہا ہے۔اس انوکھے طرز سیاست کے چلتے مسلمانوں اور دلتوں کے حق میں نہ کوئی سیکولر کہلانے والی سیاسی جماعت کھڑی ہے اور نہ ہی سیکولرازم کا دَم بھرنے اوراتحاد و یکجہتی کی دہائی دینے والوں پر کوئی اعتبار کے قابل ہے ۔ آج دیش بھگتی کے نام پ

وہ دوخبریں !

زوالفقار  علی بھٹو کی پھانسی کی خبر پڑھ لیں گی آپ ؟ شعبۂ خبر سے وابستگی کے دوران دو خبریں ایسی تھیںجن میں سے ایک پڑھ کر افسوس ہوا اور ایک نہ پڑھ کر۔ ایک جمہوریت کی موت تھی اور ایک آمریت کی۔ دونوں خبریں اپنی اپنی جگہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئیں۔ ایک ملک کے منتخب وزیر اعظم کے قتل کے باب میں جس کے خون کے چھینٹے انصاف کے دامن پر بھی نظرآتے ہیں، دوسری ایک آمر کے انجام کے باب میں ۔ تو چلئے پہلے وہ خبر جسے سن کر میرے بہت سے لمحے تو بے یقینی کی کیفیت میں گزرے۔دل جیسے کہہ رہا ہویا الہٰی مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو مگر حقیت کے ادراک پر آنکھ سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے۔ یہ خبر پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان کے دن کے گیارہ بجے کے بلیٹن میں نشر ہوئی جس کے مطابق بھٹو صاحب کو ہمارے گھر سے تین میل کے فاصلے پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں رات کے دو بجے پھانسی دی جا چکی تھی۔ تاہم فوج ک

ورزش کر یئے تندرستی پایئے

صحت کا دارمدار ورزش پر ہے۔ ایک خوش گوار اور بھر پور زندگی بسر کرنے کے لیے انسان کا صحت مند ہونا انتہائی ضروری ہے ،لیکن صحت اورتندرستی ورزش کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ کئی لوگ کہتے ہیںکہ تندرست اور توانا رہنے کے لیے ہفتے میں دو مرتبہ ورزش کرنا کافی ہوتا ہے جب کہ ماہر ین صحت کا کہنا ہے کہ روزانہ کم از کم ۳۰؍ منٹ ورزش سے انسان میں قوتِ مدافعت بڑھ جاتی ہے اور وہ کافی عرصہ تک صحت وسلاامتی سے جیتا ہے۔ مختصراََ یہ کہ ہمیں اگر تندرست رہنا ہے تو کچھ نہ کچھ جسم کو حرکت دیتے رہنا ہے۔ ہمارے اسلاف کی عمریں کافی لمبی ہوتی تھیں پھربھی وہ آخری دم تک کسی جسمانی کمزوری کا رونا نہیں روتے تھے، اس کی وجہ صاف ہے کہ وہ اپنے جسم کو ہمہ و قت مشقتوں میں ڈالتے، کھیتوں میں کام کرتے، جنگوں میں حصہ لیتے وغیرہ وغیرہ۔ یوںاپنے آپ کو کبھی بوڑھا نہیں سمجھتے ۔ پہلے زمانے میں اتنی سواریاں بھی میسر نہیں تھیں اور اگر کسی ک

سوتیلی ماں

انسانی  معاشرہ رشتوں اور قرابت داریوںسے تشکیل پاتا ہے ۔ہم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو بہت سے پیارے پیارے رشتے گھرا ہوا پاتا ہے۔ ہم ان ہی کے درمیان جیتے مر تے ہیں ، ان سے خوشی محسوس کرتے ہیں، یہی ہمارے غموں اور دکھ درد کو بانٹتے ہیں اور انہی سے عبارت ہوتی ہے زندگی کا انتھک سفر۔ ان ڈھیر سارے رشتوں میں سب سے اہم رشتہ والدین اور اولاد کا ماناجاتا ہے۔والدین میں بھی ماںکے رشتے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ، اس رشتے کی گاڑی دل کے پلیٹ فارم سے شروع ہوکر جگر کے اسٹیشن تک پہنچتی ہے، بیچ میں اس کا گزر نرم ونازک جذبات اور قربانیوں کے ا ہم  پڑاؤ بھی ملتے ہیں اور ہم سب اس سفر کی آخری منزل سے بخوبی واقف ہیں ۔ کسی بھی خاندا ن میں ماں کا وجود ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔ماں گھرانے کا ایک اہم ستون ہوتی ہے ۔ کبھی قسمت ایس ابھی کھیل کھیلتی ہے ماں اپنے بچوں کو تنہا چھوڑ کر دنیا سے چلی جاتی ہے۔زندگی

فیڈر یا ماں کا دودھ

 بعض مائیں فکرمند ہوجاتی ہیں کہ پیدائش کے بعد دو تین دن کے اندر ان کے بچے کا وزن کم ہوگیا ہے لیکن یہ کوئی بیماری نہیں ہوتی۔ یہ فطری عمل ہوتا ہے۔ پیدائش کے بعد دو تین دن کے دوران بچے کا وزن 5 سے 20 فیصد کم ہوجاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ بچے کے جسم میں جمع شدہ مائعات پیشاب کے ذریعے خارج ہوتے ہیں۔ ننھا بچہ بڑوں کی نسبت 7 گنا زائد بار پیشاب کرتا ہے۔ وزن میں کمی کی ایک اور وجہ یہ ہوتی ہے کہ بچہ عموماً پہلے دن یا تو بالکل دودھ نہیں پیتا یا کم پیتا ہے۔ اس دوران بچہ اپنے جسم میں جمع چربی اور پروٹین پر گزارہ کرتا ہے اور عام طور پر تیسرے یا چوتھے دن اپنی بھوک کی نشانیاں ظاہر کرتا ہے اس وقت تک ماں کے جسم میں بھی دودھ صحیح مقدار میں بن چکا ہوتا ہے۔ ماں کے دودھ میں خاص قسم کے اجزا یعنی اینٹی باڈیز ہوتے ہیں جو بچے کی انتڑیوں اور دوران سانس کے اعضاءکے گرد ایسی حفاظتی دیوار تعمیر کرتے ہیں

کامیاب شوہر‘ خوشحال گھر

 ارے تم اتنی ڈری سہمی سی کیوں لگ رہی ہو؟ تمہیں کیا ہوا؟ تم تو بڑی شوخ وچنچل تھیں۔ تم سے تو بحث و مباحثے میں کوئی جیت ہی نہیں سکتا تھا‘ تم میں تو بلا کا اعتماد تھا‘ تم تو ہم دوستوں میں سب سے زیادہ بااعتماد تھیں میں ایک سال کے لیے باہر کیا گئی تم تو بالکل بدل گئی ہو۔ کہاں گئی تمہاری خوداعتماد اور شوخی؟؟؟ چھوڑو یار ماضی کی باتیں…! شادی کے بعد سب کچھ تبدیل ہوجاتا ہے۔ ماضی میں اگر میں خود اعتماد تھی تو اس کی وجہ میرے والدین کا مجھ ر اعتماد کرنا تھا۔ شوخ چنچل تھی تو اس کی وجہ والدین کا تعاون تھا۔ کوئی مجھ سے غلط بات کہتا تو دو ٹوک جواب دے کر کہنے والے کا منہ بند کردیتی تھی‘ کسی کی ہمت نہ تھی کہ مجھ سے کوئی غلط بات کہتا مگر شادی کے بعد ساری خوداعتمادی ختم ہوگئی کیونکہ میرے شوہر مجھ پر اعتماد نہیں کرتے۔ مجھ میں خامیاں اور برائیاں تلاش کرتے ہیں اور ہر ایک کے آگے م

شوہر کی تلخ کلامی بیوی کا امتحان

عورت  کے کئی روپ ہیں۔ وہ بیٹی ہے۔۔۔ بہن ہے۔۔۔بیوی ہے….ماں ہے۔۔۔۔۔ہر لحاظ سے معزز اور محترم ٹھہری ہے۔ عورت کا فطری تقدس، پاکیزگی اور اس کی نسوائی حرمت صرف اور صرف اسلام کی مرہونِ منت ہے۔مکان تو اینٹ اور پتھروں سے بنائے جاتے ہیں لیکن ان مکانوں کو گھر بنانے کا کام عورت کا ہے اور عورت ہی کا کیوں مرد کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ مرد گھر کا منتظم ہوتا ہے۔عورت اور مرد مطلب میاں بیوی گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہیںجو مل کر کام کرتے ہیں تو ازدواجی اور معاشرتی زندگی کی گاڑی دُرست چلتی ہے۔ ازدواجی زندگی میں کئی اُتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ پر یہ رشتہ بھروسہ، اعتماد، سچائی اور محبت پر قائم ہوتا ہے۔ایک دوسرے کی کمی اور خامی کے ساتھ اپنانا ہوتا ہے ،صبر و تحمل سے کام لینا پڑتا ہے۔آج جو ہمارے معاشرے میں چل رہا ہے اس سے کوئی بھی منہ نہیں موڑ سکتا۔ہائیلی ایجوکیٹڈہونے کے باوجود آج کی جنریشن میں قوت ب

بابر کا نابینا شہزادہ

گزرے   وقتوں کی کوکھ بھی ہمیشہ بھری ہوئی ملتی ہے اور اس کوکھ کا کمال یہ ہے کہ وہاں بے ترتیب کچھ بھی نہیں ہے۔ ہر پل، دن، ماہ و سال ایک قرینے سے رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سب کتنا حیران کن ہے۔ مگر اَن گنت حقائق ایسے بھی ہیں جو ہم تک نہیں پہنچ سکے۔ بہت سارے حکمرانوں نے کتب خانوں کو آگ لگادی کہ جنگ اور قبضے کو آنکھیں نہیں ہوتی، اس لیے ہر چیز فنا کردی جاتی ہے۔ اتنی بربادیوں کے باوجود بھی ہمارے پاس تھوڑا بہت علم ضرور ہے کہ ہم جان سکیں کہ بِیتے ادوار میں، شہر کم اور جنگ کے میدان زیادہ آباد ہوتے۔ اعتماد کم اور شک کے کانٹیدار درخت زیادہ اُگتے۔ رشتوں سے محبت کی تان تخت و تاج کے سامنے آکر دم توڑ دیتی۔ کیونکہ تخت و تاج سے زیادہ مقدس اور کوئی رشتہ نہیں ہوتا تھا ان کی نظر میں۔اکتوبر 1504ء بابر کے لیے ایک اچھا وقت تھا۔ اسی برس وہ کابل اور غزنی کا بادشاہ بن گیا۔اس نے جتنی حکومت کی حاصلات کے لیے ت

عورت کیا ہے ؟

 عورت کیا ہے ؟اس سوال کا جواب ہر کوئی اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق پیش کرتاہے۔کوئی عورت کو بے وفا کہتا ہے ، کسی کے لئے یہ سراپا حسن ہے، کسی کے لئے عورت کبھی نہ سلجھنے والی پہیلی ہے۔ ہماری نظر میں عورت کے معنی ایک نایاب احساس کے ہیں جو دنیوی مطلب سے پاک ہے، وفا ہے، محبت ہے، دُعا ہے، جذبۂ ایثار ہے، خود کو بھلا کر اپنوں کے خاطر جینے والی ہستی ہے، جس کے لئے اپنی خواہشات اور اپنی خوشیوں سے بڑھ کر اپنوں کی خوشیاں اور خواہشات اہمیت رکھتی ہیں، جو اپنے وجود سے بڑھ کر اوروں کی فکر کرتی ہے۔ویسے تو دنیا میں عورت کی پہچان کئی رشتوں اور کئی ناموں سے کی جاتی ہے:ماں،بیوی، بیٹی، بہن،اور ایک باوفا دوست لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگ دوستی والے رشتے کو قبول نہیں کرتے جب کہ نفسانی خواہشات سے پرے کچھ ایسے بےنام سے پاکیزہ رشتے ہوتے ہیں جو اپنے آپ میں شرائط وحدود کےساتھ قابل احترام ہیں۔ اللہ سبحانہ و

حقوقِ نسواں اور آزادی ٔ نسواں

 دورِ  جاہلیت میں انسان درندوں سے بھی پست تر سفلی زندگی گزارتے تھے ۔انسانیت نام کی چیز خواب وخیال تھی۔اس گھور اندھیرمیں عورت سب سے زیادہ محکوم و مجبور تھی،اسے جنسی تسکین کا سامان سمجھا جاتا تھا، اس کے صنفی حقوق سلب اور شخصی آزادیاں مفقود تھیں، لوگ بیٹی پیدا ہونے کو اپنے لیے ذلت و رسوائی تصور کرتے تھے۔ چنانچہ سورہ نحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :جب ان میں کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پرکلونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گونٹ پی کر رہ جاتا ہے، لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لئے رہے یا مٹی میں دبا دے دیکھو کیسے حکم ہیں جو یہ خدا کے بارے میں لگا تے ہیں‘‘ تاریکی کےاس دور کو اسلام کی روشنی سے بدلتے ہوئے زندگی کی کایا پلٹ ہونے کے ساتھ ساتھ عورت کو اپنا مقام ومرتبہ ملا کہ&nb

بنت ِحوا

 قدیم  جاہلیت کے دوران عورت کو غلامی، بے توقیری اور پستی کی گہرائیوں میں دھکیلاتھا، لیکن عورت کی آزادی کے نام پر جدید دور نے عورت کو جو کچھ بھی دیا، وہ بھی کاورباری امور ، فیشن کی دنیا ، آرٹ اور کلچر کے شعبے میں اس کا استحصال اور جنسی نمود ونمائش ہی ہے۔ گویا کل اگر عورت کو قدیم جاہلیت کی زنجیروں میں ا پنی ذات اور شخصیت کے ساتھ ہر ظلم وشرمندگی کو سہنا پڑتا تھا، آج اُسے جدید جاہلیت کے ساتھ ویسی ہی بے قدری سے سابقہ ہے۔ اگرچہ عورت کو مرد کی مانند اپنے فکری اور تخلیقی ارتقاء میں خالق کائنات اور کاتبِ ازل نے آزاد اور کامل  وجود بخشا ہے، لیکن جس انداز سے جدیدیت کی بے راہ رو  نے اُسے گھر کی چار دیوار ی سے نکال کر شمعِ محفل بناکے رکھ دیا ہے ، وہ واقعی ایسا بدترین استحصال ہے جو بدقسمتی سے خواتین سمجھنے میں مساوات کے نام پر ٹھوکر کھارہی ہے اور خال خال ہی اس کو محسوس ہورہا

امن کے لئے جنگ ؟؟؟

 جنگ  دو فریقوں، قبیلوں، قوموں یا ملکوں کے درمیان تنازعے کے نتیجے میں ہونے والے تصادم کو کہا جاتا ہے۔ جنگ کی بھی کئی اقسام ہیں۔ جنگ گرم بھی ہوتی ہے اور سرد جنگ بھی۔ گرم جنگوں کے دوران متحارب فریق، قبائل، قوموں یا ملکوں کی مسلح افواج اپنے ملک و قوم کے دفاع کے لیے آگے آتے ہیں اور اپنی قوم کو آنے والے خطرات سے بچاتے ہیں ۔جنگ ایسی چیز ہے جس میں ہتھیار قلم کی جگہ لے لیتے ہیں اور جس کا نتیجہ صرف خون خرابہ ہوتا ہے۔ جنگ کو ہم سیاسی حصول اور سفارتی مقاصد کو حاصل کرنا بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنگوں کے نتیجے میں بے دریغ انسانی جانوں کا زیاں ہوتا ہے، لاکھوں افراد مارے جاتے ہیں، عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوجاتے ہیں۔ملکوں میں قحط پیدا ہو جاتا ہے اور صدیوں تک پسماندگی اُن کا مقدر بن جاتی ہے۔جنگ میں فتح جس کسی کی بھی ہو،ہر جگہ نقصان انسانیت کا ہی ہوتا ہے۔   &nb

تربیتِ اطفال

 عمیمہ: علی بیٹا آخر کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ! آپ تو خوشی خوشی اسکول جاتے تھے۔ آج کل حریم بیٹا اسکول وین میں تو کوئی بچہ اسے تنگ نہیں کرتا؟ حریم: نہیں مما… میں تو اس کا وین میں بھی بہت خیال رکھتی ہوں۔ مما: پھر کیا بات ہے کہ وہ اسکول سے اتنا بیزار ہوگیا ہے! کہیں کلاس میں تو کوئی بچہ اسے تنگ نہیں کرتا؟ خیر مجھے ضرور اسکول جانا چاہیے، اس کی میڈم اور کلاس ٹیچر سے بات کرنی چاہیے۔ ٭٭٭ عمیمہ خود ایک پڑھی لکھی اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ماں تھی، وہ جانتی تھی کہ آج کل علی اسکول جانے سے جس طرح کترا رہا ہے اور صبح کو اسکول جاتے ہوئے روتا اور مچلتا ہے اس کے پیچھے ضرور کوئی وجہ ہوگی۔ علی کا ہوم ورک وہ خود اسے کرواتی ہے، علی ذہین بچہ بھی ہے، اپنا سبق بھی اچھی طرح یاد کرکے جاتا ہے، پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے! وین میں بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ٭٭٭ اگلے دن وہ اپنے اسکول س

ریما:شاہ فیصل مرحوم کی پوتی

شہزادی  ریما بنت بندر بن سلطان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ واشنگٹن میں سعودی عرب کی جانب سے ایک بڑے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی بنی خاتون ہیں۔ ان کی تقرری اس بات کی عکاسی بھی ہے کہ اب سعودی عرب میں تبدیلی کے خواشگوار جھونکے محسوس کئے جانے لگے ہیں۔ شہزادی ریما کی واشنگٹن میں بطور سفیر تقرری اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب نے اپنے اہم ترین حلیف اور سب سے  اہم ملک امر یکہ میں جس شخصیت کا تقرر کیا ہے، وہ انتہائی سوچا سمجھا اقدام ہے۔ اس سے ان سینکڑوں باصلاحیت سعودی خواتین کے سامنے بھی سرکاری عہدوں کے دروازے کھل گئے ہیںجن کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور قابلیتوں سے محض اس لئے فائدہ اٹھایا نہیں جارہا تھا کہ وہ خواتین ہیں ۔شہزادی ریما ماضی قریب تک دیگر باصلاحیت خواتین کی طرح گمنامی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اندرون ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک میں بھی ان کا ستارہ چمکنے لگا ۔ وہ

خواتینِ کشمیر

تاریخ  گواہ ہے کہ مرد جنگیں لڑتے ہیں اور دنیا اُجاڑتے ہیں لیکن خواتین گھر بسا دیتی اور بکھری ہوئی زندگیوں کو اکٹھا کرتی ہیں۔کشمیر کی خواتین بھی یہ بھاری ذمہ داریاں بخوبی انجام دیتی جا رہی ہیں ۔اس سر زمین میںجوں جوں سیاسی ہلچل بڑھتی گئی توں توں خواتین بھی خاص کر نامساعدحالات کی چکی میں پستی رہیں۔ یوںبہ حیثیت ایک ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے کشمیری خواتین معمول کی خوشیوں سے محروم ر ہیں  اوروہ ذہنی اورنفسیاتی تشدد سب کچھ برداشت کر تی رہیں اور لگاتار برداشت کرتی جارہی ہیں۔وہ اپنے عزیزوں کو خون و خرابہ کے بھینٹ چڑھتی پا تی رہیں ،اپنی دنیا کواُجڑتے دیکھتی رہیں ، اپنے حقوق کی خلاف ورزیاں سہتی رہیں، آبرداؤ پر لگتی پاتی ر ہیں مگر پھر بھی انہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے کبھی منہ نہ موڑا ۔وہ بدترین مصائب کا منہ دیکھتے ہوئے بیوہ اورنیم بیوہ اور بیوہ بنتی ر ہیں ، اور اپنے دردوکرب کاعلاج صرف ا

چہرے کی دلکشی کا سامان کچن میں ہے

خوب صورت نظر آنا ہر عورت کا بنیادی حق ہے اور ایک عورت کے خوب صورت نظر آنے ہی سے اس کی سلیقہ مندی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ آج کل کے جدید دور میں یوں تو کئی ذرائع ایسے دستیاب ہیں۔ جو خواتین کے حسین نظر آنے کے شوق کی تکمیل کر سکتے ہیں، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین ایسے کون سے طریقے استعمال کریں جن سے کم وقت اور کم خرچ میں وہ جاذب نظر دکھائی د یں۔ آج کل بیوٹی پارلرز بھی بہ کثرت موجود ہیں اور بازار میں کئی مہنگی، حسن افزا اشیاء دستیاب ہیں لیکن کیا کسی خاتون کی ان تک رسائی ہو سکتی ہے یقینا نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ گھریلو اور کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی کچھ اس طر ح رہنمائی کی جائے کہ وہ بھی خوب صورت نظر آسکیں۔ ہر بل طریقے نہ صرف خواتین بلکہ مہنگے ترین بیوٹی پارلرز میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ مثلاً دودھ، لیموں، شہد اور انڈے جیسی اشیا ء خواتین کے چہرے، جلد او

ماں باپ کی اہم ذمہ داری

ایک    گھروں میںحیا مندی کے حوالے سے ہمیں کیا کیا کرنا چاہیے،اس کی ایک اجمالی تصویر یوں کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے : بچوں سے حقیقی تعلق: والدین بچوں سے اپنے تعلق کو یقینی بنائیں۔بچوں کو کہانیاں سنانا سب سے اہم سرگرمی ہے۔یہ کام مائیں سب سے بہتر سر انجام دے سکتی ہیں۔ کہانیاں سناناچاہے وہ حقیقی ہوں یا تصوری—اپنے بچے کے ساتھ گھلنے ملنے کا ایک تفریحی طریقہ ہے۔کہانی سنانا جادوئی عمل ہو سکتا ہے۔ کہانیوں سے آپ کے بچے کی تخلیقی اور تخیلاتی نشو و نماکے ساتھ ساتھ اردگردکی دنیاکو سمجھنے میں مددملتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ بچے کی افسردگی کم کرنے اور ان کی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنے کے ساتھ مزید راحت کا احساس پیدا کرنے میں مدد دینے کا ایک بہترین طریقہ بھی ہے۔ اچھی کہانیاں سنانا ایک طاقت ور طریقہ ہے جس سے آپ کے بچے کو آپ کی گھریلو زبان بہتر طور پر سمجھنے میں اور بولنے میں مدد ملتی

خدمتِ خلق

ایک   مشہور مقولہ ہے کہ ـــــ’’عبادت سے صرف جنت ملتی ہے مگر خدمت سے خدا ملتا ہے‘‘۔کہتے ہیں کہ خدمت میںعظمت پنہاںہے ۔جب تک دل میں جذبہ ٔ ایثاراور خدمت ِخلق نہ بسا ہو،کوئی عبادت قابل قبول نہیں ہو سکتی۔خدمت خلق کا جذبہ دل سے جڑا ہو تا ہے۔ یہ جذبہ اسی دل میں اُگتا اور اسی جگر میںبرگ وبار لاتا ہے جو دل وجگر صاف و شفاف ہوــ،خدا کے خوف سے بھرا ہو ،انسانیت کے درد سے سرشار ہو ۔لوگوں کی خدمت کرنے کے مختلف طریقے اور سلیقے ہوتے ہیں ۔ہر فرد اپنی ایک سوچ اور اپنا ایک اندازِ فکر رکھتا ہے ،اور اسی کے مطابق وہ خدمتِ خلق کا کا م بھی انجا م دے سکتا ہے۔یوں تو خدمتِ خلق کا انمول جذبہ بھی اللہ کی ہی دین ہوتا ہے ۔کتنے ہی لوگ ہیںجو اپنی پوری زندگی کو خدمت ِخلق کے لئے وقف کرتے ہیں ۔  اسلام کی رُوسے اللہ تعالیٰ کے بندوںکی بے لوث خدمت کرنے والا خدمت گار ہی نہیں بلکہ عبا