سہ طلاق: نان اِیشو کیوں بنا یااِیشو؟

 دکنی  زبان میں ایک کہاوت بڑی مشہور ہےجب بھی کوئی بے کار بےمطلب دکھاوے کی جھوٹی فکر جتاتا ہے تو لوگ اُس کی شان میں یہی کہاوت کہتے ہیں ’’کی جی میاں دُبلے، دنیا کی فکر زیادہ‘‘ کچھ یہی حال  ہمارے وزیراعظم مودی جی کا بھی ہے۔ کوئی وکاس سے متعلق سوال کرتا ہے تو جواب یہی ملتا ہے کہ فی الحال مسلم خواتین کی فکر زیادہ ہے۔ مودی جی کو نہ جانے مسلم خواتین سے کیوں اتنی ہمدردی ہے کہ ہندوستان کے تمام اہم مسائل نظرانداز کر خود کو صرف مسلم خواتین کا مسیحا بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہیں اگر کوئی فکر ہونی بھی چاہیے تو جشودہ بین کی ہونی چاہیے ۔دراصل جب سے یہ اقتدار میں آئے ہیں اُس دن سے لے کر انہوں نے صرف بھاشن دئے ، فارن ٹور کئے ، دعوؤں کی مالاجپی ، جب کہ ملک میں لوٹ کھسوٹ ، مہنگائی ، بے روزگاری ، افراتفری ، ہجومی تشدد، فرقہ واریت کا بول بالا ہو ۔انہی’’ ا

تربیتِ اطفال

بچوں  کے تعلیم اور تربیت کیلئے اسلام نے ایسے کئی رہنما اصول بتائے ہیں جن پر عمل کرنے سے والدین اپنی اولادکو نہ صرف بہتر راستوں پر گامزن کرسکتے ہیںبلکہ انہیں ایک اچھا سچا مسلمان اور قوم و ملت کا بہترین فرد بنا سکتے ہیں ۔ بچوں کی تعلیم وتربیت کے بہترین اصولوں کے حوالے سے چند سوال یہ ہیں کہ بچے کی تعلیم و تربیت کہاں سے شروع ہو ؟بچے کی تربیتی ذ مہ داری کس پر عائدہے ؟ یہ ذمہ داری کس حیثیت سے ادا کرنی ہے ؟بہت ساری مائیں سوچتی ہیں کہ بچے کی تربیت اُس وقت شروع ہوتی ہے جب بچہ بولنے لگتا ہے ،کچھ مائیں سمجھتی ہیں کہ بچے کی تربیت اُس وقت سے شروع ہوتی ہے جب بچہ بولنے لگتا ہے، جب کہ بعض مائیں کہتی ہیں کہ بچے کی تربیت اُس وقت شروع ہوتی ہے جب بچہ رحم مادر میںپرورش پانے لگتا ہے، کئی مائیں مانتی ہیںکہ بچے کی تعلیم و تربیت اُس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ ارد گرد کے ماحول کو دیکھتا اوراچھے بُرے کی تمیز کر

حیاتِ انسانی کا مقصد

قرآن   گواہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی چیز بے کار وعبث نہیں ہے اور نہ ہی بلا وجہ تخلیق کی گئی ہے۔ذرے سے  لے کرآفتاب تک جو کچھ بھی کائنات میں موجود ہے، اس کی کوئی نہ کوئی قدروقیمت ہے۔ان تمام ترتؒیقات ِ الہٰیہ کا وجودخود ہی قدرت کی شانوں کا اظہار ہے۔قدرت نے مختلف چیزوں کو مختلف شکلیں اور صورتیں دے کر مختلف  ان میںخصوصیات وصفات پیدا کی ہیں،حسن و جمال پیدا کیا، سجایا اور سنوارا۔اس پوری کائنات کو قدرت نے صرف بنی نوع انسانی کے لیے پیدا کیا ہے۔بہ الفاظ دیگر انسان کو تمام اشیاء اور دیگر مخلوقات پر ترجیح دے کراسے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا گیا ہے۔فرشتوں کو بھی تعجب ہوا کہ کس طرح خدا نے آدم ؑکی تخلیق کی اور اسی کو پوری کائنات کی چیزوں کا علم دے دیا۔اب سوال یہ ہے کہ یہ انسان کیسے اللہ کا چہیتا بنا؟دراصل آدمؑ کو پیدا کرنے کے ساتھ ہی رب نے ان کے لیے تمام تر وسائلِ حیات بھی پ

طلبہ وطالبات اوروالدین سے

وادیٔ ٔ کشمیرسے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے کئی سال پہلے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی غرض سے ایک نئے نویلے مضمون کا انتخاب کیا۔اس مضمون کا ہندوستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں پڑھانے کا انتظام نہیں تھا، ا س لئے نوجوان کوبیرون ملک جاکر یہ سبجکٹ پڑھنے کی ضرورت پڑی۔گھر میں وسائل کی عدم موجودگی کے باوجود بھی اُس نے ہمت نہ ہاری اور کسی نہ کسی طرح خرچہ جوڑ کر بیرون ملک حصولِ تعلیم کے لیے چلا گیا۔بڑی جانفشانی سے اور راتوں کی نیندگنوا کر جب اُس نے کورس مکمل کر لیا تو اُس کے ہاتھ کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری کا پروانہ تھما دیا گیا۔اُس کی ماہانہ مشاہرہ 90؍ ہزار روپیہ تھی۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب ایک اعلیٰ درجہ کے سرکاری ملازم کی ماہانہ تنخواہ بیس ،پچیس ہزار روپیہ سے زیادہ نہ ہوتی ۔ چونکہ روزگار کے بعد ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے کہ رشتۂ ازدواج میں بندھ کر گھر گر ہستی شروع کرے، اس نوج

سہیلیوں کے نام خدمت عبادت ہے

ہمارے سماج میں بعض گھرانے ایسے ہیں کہ جن میں خواہ مخواہ کے گھریلو جھگڑے اور فضول باتوں پر لڑائیاں روزہ مرہ کہانی ہو تی ہے ۔ اس خانگی جنگ کے مرکزی کردار ساس سسر ، دیور ننداوربہو بیٹا ہوتے ہیں جو بلا سوچے سمجھے ایک دوسرے کے خلاف سردو گرم جنگ چھیڑ کر اپنی زندگیاں اجیرن کر کے رکھتے ہیں ۔ کہیں ساس بد خوئی پرا ُترآتی ہے اور کہیں بہو ساس کی تذلیل کو اپنی فتح سمجھتی ہے، کہیں شوہر اپنی بیوی کے لئے ظالم بنتا ہے اور اپنے والدین کی غلطی کی طرف داری کرتا ہے اور کہیں بیٹا خود جورو کاغلام ہوکر والدین کی ناک میں دم کر کے رکھتا ہے ۔اسی طرح گھر کی بہو کے خلاف بسااوقات دیوار ، دیورانی ، نند وغیرہ بھی کہیں مثبت اور کہیں منفی کردار ادا کر کے اس جنگ میں الجھ جاتی ہیں ۔ اس گھر گھر کہانی کی بابت کچھ ساہ سی باتیں عرض کرنے کی جسارت کروں گی، ہمارے یہاں عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ شادی کے بعد لڑکی کے ذمے اپنے

سہیلیوں کے نام خدمت عبادت ہے

ہمارے سماج میں بعض گھرانے ایسے ہیں کہ جن میں خواہ مخواہ کے گھریلو جھگڑے اور فضول باتوں پر لڑائیاں روزہ مرہ کہانی ہو تی ہے ۔ اس خانگی جنگ کے مرکزی کردار ساس سسر ، دیور ننداوربہو بیٹا ہوتے ہیں جو بلا سوچے سمجھے ایک دوسرے کے خلاف سردو گرم جنگ چھیڑ کر اپنی زندگیاں اجیرن کر کے رکھتے ہیں ۔ کہیں ساس بد خوئی پرا ُترآتی ہے اور کہیں بہو ساس کی تذلیل کو اپنی فتح سمجھتی ہے، کہیں شوہر اپنی بیوی کے لئے ظالم بنتا ہے اور اپنے والدین کی غلطی کی طرف داری کرتا ہے اور کہیں بیٹا خود جورو کاغلام ہوکر والدین کی ناک میں دم کر کے رکھتا ہے ۔اسی طرح گھر کی بہو کے خلاف بسااوقات دیوار ، دیورانی ، نند وغیرہ بھی کہیں مثبت اور کہیں منفی کردار ادا کر کے اس جنگ میں الجھ جاتی ہیں ۔ اس گھر گھر کہانی کی بابت کچھ ساہ سی باتیں عرض کرنے کی جسارت کروں گی، ہمارے یہاں عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ شادی کے بعد لڑکی کے ذمے اپنے

اپنے بالوں کی حفا ظت کریں

بال مرد کے ہوں یا عورت کے، وقار اور خوبصورتی سے ان کا خاص تعلق ہے۔ بلاشبہ یہ قدرت کا بیش بہا عطیہ ہیں جو انسانی جسم کو خوبصورتی عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی گھنے اور سیاہ بال پسند کرتا ہے اور سب سے زیادہ توجہ انسان انہی پر دیتا ہے۔ شیو بناتا اور اصلاح گیسو سب اسی فطری خواہش اور توجہ کے مظاہر ہیں۔ ہمارے جسم پر تقریباً پانچ لاکھ بال ہوتے ہیں۔ صرف پاؤں کے تلوؤں اور ہاتھوں کی ہتھیلیاں ہی ایسی جگہ ہیں جن پر بال نہیں اُگتے۔ جسم میں سب سے زیادہ بال سر پر ہوتے ہیں اور ان کی تعداد تقریباً سوا لاکھ ہوتی ہے۔ بالوں کی لمبائی ایک انچ سے ایک گز تک ہوتی ہے اور عمر دو سے چھ سال تک ہوتی ہے۔ چھ سال بعد پرانا بال گر کر نیاآجاتا ہے۔ گرم آب و ہوا والے مقامات پر بال زیادہ بڑھتے ہیں۔ ظاہری طور پر بال بہت نرم معلوم ہوتے ہیں مگر بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ بالوں کی لمبائی رنگت اور ساخت کا تعلق عموماً کافی ح

بنت حوا۔۔۔مسئلوں اور حلوں کے درمیان!

 عورت معاشرے کا ایک جزء لاینفک ہے عورت کے بغیر سماج کا کوئی تصور نہیں ہے ۔اسلام نے ان دونوں کو ایک دوسرے کا لازمی جُز قرار دیا ہے ۔ اسلام نظام ِرحمت ہے ۔ اس میں جہاں اخلاقی ،سیاسی ، سماجی،تعلیمی اور معاشی رہنمائی کی گئی ہے، وہیں یہ خاندان کا نظم و نسق ،عورتوں کے حقوق اور ان کی عزت و عصمت کی حفاظت کے لیے شاہ کار نظام سے بھی آشنا کراتا ہے ۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس نے عورتوں کو صحیح مقام اور اور تمام حقوق سے نوازا ۔مرد اور عورت دونوں نسل ِ انسانی کے معمار ہیں ۔ اسلام کی نگاہ میں عورتوں کے حقوق مردوں کے مسواوی ہیں اور فطری تقاضوں کی بنیاد پر تفریق کے سوا دونوں میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھا گیا ہے ۔اسلام نے عورت کو ہر معاملے میںعزت و تکریم سے نوازا اور عورت کو تہذیبی ، معاشی ، تعلیمی اور معاشرتی حقوق عطا کئے ہیں ۔ اس نے عورتوں پر وہ احسان کیا جس کی دنیا کے کسی بھی نظریہ ، تہذیب اور

خواتین میں بانجھ پن بڑھانے کی وجہیں

 میک اَپ اور جلد کی نگہداشت کے لیے استعمال کی جانے والی مصنوعات میں اکثر ایسے کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ خواتین کو بانجھ بلکہ بریسٹ کینسر کا شکار بنا سکتے ہیں۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔جارج میسن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ان مصنوعات میں مختلف کیمیکلز جیسے parabens اور بی پی اے شامل ہیں، جو کہ نقصان دہ ہے۔اس تحقیق کے دوران 143 صحت مند خواتین کے پیشاب کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ ان کے نمونوں میں ایسٹروجن اور پروجسٹرون ہارمونز کی سطح غیرمعمولی حد تک زیادہ پائی گئی۔ایسٹروجن کی سطح میں بہت زیادہ اضافہ خواتین کے جسمانی نظام میں ایسی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے جو کہ بانجھ پن کا باعث بن جاتی ہیں۔اسی طرح پروجسٹرون ہارمون کی بہت زیادہ مقدار بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ اس سے قبل ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھ

جہیز ۔۔۔اسلام مخالف حرکت شیطانی حربہ

موجودہ  دور میں اکثر اہل اسلام رشتہ تلاش کرتے وقت یہ کوشش کرتے ہیں کہ اُنہیں اُس گھر سے رشتہ ملے جس گھر والے زیادہ سے زیادہ جہیز دے سکیں۔ بے محنت حاصل ہونے والی دولت کے یہ متلاشی عورتوں کی دینداری‘ حسن و جمال اور نسبی شرافت اور قرابت کو کچھ بھی اہمیت نہیں دیتے۔ اس لئے ایسے رشتے میں خیروبرکت کا فقدان ہوتا ہے کیونکہ میاں بیوی کو ساری زندگی ایک رشتہ میں منسلک رکھنے والے اوصاف دونوں میں موجود ہوں گے تو وہ خوشگوار زندگی بسر کرسکیںگے ورنہ ان کی زندگی وبال جان بن کر رہ جائے گی‘ خواہ کتنا زیادہ جہیز ملا ہو۔ زیادہ برکت والا نکاح :جس نکاح میں اخراجات کی کمی ہوگی‘ وہ زیادہ برکت والا ہوگا۔ لڑکی والوں کو جہیز تیار کرنے کی مصیبت جھیلنی نہیں پڑے گی۔ لڑکے والوں کو زیادہ زیورات اور مہر کی رقوم مہیا کرنے کی زحمت اٹھانی نہیں پڑے گی اور زوجین کے بے جا شادی کے اخراجات کی وجہ سے ق

والدین کی ذمہ داریاں

 جس طرح شریعت میں والدین کے حقوق کا خیال رکھنا اور پوراکرنا اولاد پرواجب ہے اسی طرح شریعت میںاولاد کے لئے بھی حقوق متعین فرمائے ہیں جن کا اہتمام کرنا والدین پر فرض ہے۔ بعض والّدین انپے بچوں کو اکثر معمولی باتوں پر سختی کرتے ہیںجس سے بچوں میں تخلیقی صلاحتیں دم توڑ جاتی ہیںاور وہ گھر کو زندان خانہ تصور کرنے لگتے ہیں۔ بچوں میں انپے گھروالوں کے تئیں جذبہ مروت ختم ہو جاتی ہے اور ان سے دور رہنے میں ہی انپی عافیت سمجھتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ سخت مزاج اور شریر بن جاتے ہیںاور بعض اوقات انتہائی سخت اقدام اُٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔حدیث شریف میں آیا ہے ــجو بڑوں کی عزت نہ کریں اور چھوٹوں پر شفقت نہ کریں وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔آج کل کے والدین مادیت پرستی کو انپے ذہن و دل پر سوار کر رکھا ہے اوراپنا ساراوقت دھن دولت جمع کرنے میں صرف کرتے ہیں، اس طرح ان مصروفیات کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو مناسب

غلطی کا کفارہ سچ بولنا

اوہ! یہ تم نے کیا کردیا۔ تمہیں پتہ ہے یہ گملا دادی کا تھا، جب اُنہیں پتا چلے گا تو وہ بہت ناراض ہوں گی ، اور ڈانٹ بھی الگ پڑے گی، علی کے ہاتھ سے گملا ٹوٹنے پر خالد نے بھڑکتے ہوئے کہا۔ غلطی سے گر گیا، ہم انہیں کوئی بھی جھوٹ بول دیں گے اور بچ جائیں گے، علی نے سوچتے ہوئے کہا اور گملے کے ٹکڑے اٹھانے لگا۔ چلو پھر جلدی کرو، اگر دادی آگئی تو ہماری خیر نہیں ہوگی۔ سارہ گند ہوگیا ہے، یہ بھی صاف کرنا ہے، خالد نے بھی علی کا ساتھ دیا۔ علی اور خالد مٹی اور گملے کے ٹکڑے اُٹھا ہی رہے تھے کہ کسی کے چلنے کی آواز آئی ، خالد گھبرا کر کہنے لگا، مجھے پتا ہے یہ دادی ہی ہوں گی، جو ہماری طرف آرہی ہیں۔مجھے بھی ایسا لگتا ہے، علی نے ڈرتے ہوئے کہا۔ مٹی اُٹھاتے ہوئے اچانک علی کی چیخ نکلی ، خالد نے دیکھا تو علی کی انگلی سے خون نکل رہا تھا۔ مٹی میں پڑی سوئی اس کی اُنگلی میں چھپی تھی۔ چیخ کی آواز سن ک

حوّا کی بیٹی!

مرد  جب کمانے کے قابل ہوتا ہے تو سہولیات اور آسائشیں گھر میں قدم رکھ دیتی ہیں، اگر کچھ نہیں تو کم از کم مشکلوں کا خاتمہ ضرور ہو جاتا ہے۔اس کے برعکس جب ایک عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو مشکلات کا آغاز تھمنے کا نام نہیں لیتیں۔آج کل بہت سی عورتیںگھر سے باہر جاکر مردوں کے برابر ہنر مندانہ طریقے سے کام کرتی ہیں ۔ کامگار خواتین مرد کے کاندھے سے کاندھا ملا کر دس سے چار تک اور کبھی اس سے بھی زیادہ وقت کام کرتی ہے۔جب کام سے واپس لوٹتی ہے تو اس کو گھر کا، بچوں کا ،گھر کے ہر فرد کا ، رشتہ داروں کا، ہمسایوں کا اس طرح خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اس کا وجود روبرٹ(ROBOT ( کی طرح ہر وقت کام کرتا رہتا ہے۔اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ ا پنے شوہر کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے جو اس کا جیون ساتھی ہو ، میاں بیوی کی جوڑی ہی اس لیے بنتی ہے کہ زندگی کے سفر میں یہ ایک دوسرے کو ہر چھوٹے بڑے کام میںساتھ دینے والے ہم سفر ہ

ویلنٹینا ٹرشکورا

 چاند پر سب سے پہلا قدم کس نے رکھا تھا، یہ تو سب ہی جانتے ہیں۔ تاہم زمین سے باہر خلا میں جانے والا پہلا شخص اور پہلی خاتون کون تھی، اس کے بارے میں بہت کم افراد جانتے ہیں۔سنہ 1969 میں جب چاند پر پہلے انسان نے قدم رکھا، اس سے 8 سال قبل ہی روس اپنے پہلے خلا نورد کو خلا میں بھیج چکا تھا۔ یوری گگارین کو خلا میں جانے والے پہلے شخص کا اعزاز حاصل ہے۔اس کے صرف 2 سال بعد 1963 میں ایک باہمت خاتون ویلینٹیا ٹرشکوا خلا میں جانے والی پہلی خاتون کاا عزاز حاصل کر کے تاریخ میں اپنا نام درج کروا چکی تھیں۔سنہ 1937 میں سوویت یونین کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہونے والی ویلینٹینا کے والد ٹریکٹر ڈرائیور تھے ،جب کہ والدہ ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں ملازمت کرتی تھیں۔ویلینٹینا کی عمر صرف 2 سال تھی جب ان کے والد فوج کی ملازمت کے دوران مارے گئے۔ والد کی موت کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ فیکٹری میں کام کرنے لگیں۔

روسی حسینہ کا قبولِ اسلام

 اوکسانا ووئی ووڈینا نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام ریحانہ رکھ لیا ہے اور ملائیشیا کے بادشاہ شاہ محمد پنجم سے شادی رچائی۔ ریحانہ کو ملکہ اور ملک کی خاتونِ اول ہونےکا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ملائیشیا کے 49 ؍سالہ بادشاہ نے 25 سالہ سابق ’’مس ماسکو‘‘ سے روس میں یہ شادی ماسکو مینروایتی جوش وخروش سے کرلی ۔ 25 ؍سالہ ریحانہ ( سابقہ اوکسانا ووئی ووڈینا )کی شاہ محمد پنجم سے شادی ماسکو میں ہوئی ۔ اس سے قبل وہ باضابطہ طور اسلام قبول کرکے اپنا نام ریحانہ رکھ چکی تھیں۔ میڈیا تفاصیل میں میںیہ نہیں بتایا گیا کہ ان دونوں کی پہلی ملاقات کب اور کیسے ہوئی۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ماسکو کے ایک بہت بڑے ہال میں پرتکلف اور شاندار تقریبِ نکاح منعقد ہوئی جس میں مہمانوںحلال کھانا پیش کیا گیا ۔اس تقریب کی خاص یہ تھی کہ روایت سے ہٹ کر اس میں شراب نوشی کی اجازت نہیں تھی۔ اس مو

پروفیسر رفیع العماد فینان

بچوں  سے وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ نئے نئے الفاظ اور ان کے معنی پر دھیان دو۔روزانہ انگریزی اور عربی کے اخبار پڑھو۔ ٹی وی یا ریڈیو پر انگریزی اور عربی خبریں سنو۔جو نئے الفاظ پردۂ سماعت سے ٹکرائیںان کے معنی یاد کرلیا کرو۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب نہ تو ہر گھرمیں ٹی وی ہوتا تھا۔ نہ ہر کس و ناکس کو عربی اخبار میسر تھے۔ کبھی کوئی سینئراستاد کسی عرب ایمبسی سے یا کسی عرب شیخ سے عربی اخبار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا تویہ معجزہ ہی ہوتا تھا۔آج کے زمانے میں انٹر نیٹ اور یو ٹیوب نے ساری مشکل حل کردی ہے۔ عالم عرب کے اخبارات اور عرب وعجم کے ٹی وی چینل انگلیوں کی گرفت میں سمٹ گئے ہیں۔اب وہ معذرت قابل قبول نہیں کہ عجم میں بیٹھ کر عربوں سے استفادہ ممکن نہیں۔ عجمیوں کے لیے عربوں کی طرح لکھنے اور بولنے کی استطاعت کا تصور مشکل ہے۔مجھے یاد ہے فینان صاحب نے بتایا کہ وہ آج بھی نئے نئے الفاظ کے معنی یاد ک

فہمیدہ ریاض

ممتاز  شاعرہ فہمیدہ ریاض ۲۸جوئی ۱۹۴۵ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں۔وہ ایک ترقی پسند شاعرہ تھیں۔وہ حقوق انسانی کے لیے لکھتی رہیں اور بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے انھوں نے شاعری کی۔پہلی نظم فنون لاہور میں شائع ہوئی۔پہلا مجموعہ’’ پتھر کی زبان‘‘ ۱۹۶۷ء میںسامنے آیا۔’’بدن دریدہ ‘‘۱۹۷۳ء میں ،’’امرتا پریتم کی شاعری ‘‘۱۹۸۴ء میں،’’ادھورا آدمی‘‘ ۱۹۸۶ء میں،’’آدمی کی زندگی‘‘ ۱۹۹۹ء میں،’’ان کی کتابوں میں گوداوری‘‘، ’’خطِ مرموز‘‘۲۰۰۲ء میں،’’خانۂ آب وگل‘‘،’’حلقہ مری زنجیر کا‘‘، ’’ہم رکاب‘‘،’’اپنا جرم ثابت ہے‘‘،’’میں مٹی کی م

آہ! فہمیدہ ریاض

شام میں کچھ مدیران حضرات نے تازہ رسالے عنایت کئے تھے۔ ایک کی جلد پر شائع تصویر میں فہمیدہ ریاض کی بھی ایک تازہ تصویر تھی، جیسے دیکھ کر ہم حیران رہ گئے تھے، اُن کی آنکھوں کے گرد گہرے گہرے سیاہ دائرے تھے۔ مشاعرے میں فاطمہ حسن صاحبہ بھی تھیں۔ انہوں نے تانیثیت کے موضوع پر اپنی کتا ب عنایت کی تھی۔( دیباچے میں ہماری کتاب’’بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب‘‘ کا اعتراف تھا ،اس موضوع پر ہم سے پہلے کسی نے تفصیلی کام ہی کیا تھا،نہ کوئی جامع حوالہ کہیں موجود تھا۔ ہمارے چھ برس لے لئے تھے اس فریضے کی ادائیگی نے) فاطمہ صاحبہ نے بتایا کہ فہمیدہ ریاض کے ساتھ ایک سانحہ پیش آیا ہے۔ سانحہ بھی ایسا کہ جینا ناممکن سا ہو جائے اور غم کم ہونے کا نا م ہی نہ لے۔ بہرحال فہمیدہ ریاض کی ممتا کا درد لئے ہم دلی آگئے۔ ایک نظم ہوئی’’ ایک تصویر ‘‘جو ایوانِ اردو میں

اے قوم! غیرت تمہاری کیا ہوئی؟

میرا  پیارا وطن کشمیر کب سے جل رہاہے، مجھے پتہ نہیں ۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا، چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آیا۔  یہاں کے حالات اتنے خراب ہیں کہ لفظوں بیان نہیں ہوسکتا۔ میں نے کوئی دن ایسا نہ پایا کہ خوشی سے دل پاگل ہوجاتا۔ نامساعدحالات کا ایک غم ابھی تازہ ہوتا ہے ، دوسر ا غم بے دھڑک دل کے دروازے سے سیدھے جگر میں پیوست ہو جاتا ہے۔  میں شہر خاص کی بیٹی ہوں۔میری ہمسائیگی میں جو لوگ رہتے ہیں وہ زیادہ تر غریب ہیں، کوئی کوئی ان میں امیر بھی ماناتا ہے ۔ ان بڑے لوگوں کے زیادہ تر بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں ، کہیو ں  کے بیٹے اور بیٹیاں انڈیا اور انڈیا سے باہر کئی ملکوں میں لاکھوں کے ڈونیشن پرڈاکٹری ، انجنیئرنگ، ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن(ایم بی اے ) وغیرہ کی ڈگریاں کر تے ہیں ۔ کشمیر کے بیٹے گھر سے باہر تعلیم کے لئے جاتے تو کسی کے ماتھے پر شکن نہیں پڑتی مگر ب

ترقی وکمال

یہ   زندگی کی بہت بڑی حقیقت ہے کہ عورت کو ماں ، بہن ، بیٹی ، بیوی کے رشتوں میں محدود نہیں کیا گیا ۔ کسی بھی قوم یا معاشرے میں عورت کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ دراصل قوم کو بنانے کے لئے صرف ماں ہی اپناکردار ادا نہیں کرتی بلکہ بیٹی ، بہن اور بیوی جیسے عظیم رشتوں میں ڈھل کر بھی اس کا کردار وہی ہوتا ہے جو قدرت اور فطرت نے اسے ازل سے ابدتک عطا کیا ہوا ہے ۔ عورت اپنے ہر رنگ اور ہر رشتے میں صبر ، برداشت ، قربانی ، محبت اور سچائی کی ضامن ہوتی ہے ۔‌کسی مفکر کا قول ہے کہ کسی قوم کی حالت دیکھنی ہو اس ملک کی ٹریفک کا انتظام دیکھو۔ سوچئے جو قوم ابتری اور افراتفری کی شکار ہو ، جو لوگ کسی کو رستہ دینا نہ جانتے ہوں ، اس قوم کی عورت پر کتنی بھاری ذمہ داری ہوگی کہ قوم کو تحمل ، برداشت ، محبت اور رواداری شائستگی کیسے سکھائے ۔ مجھے‌نپولین کا قول یاد آتاہے ’’تم مجھے اچھ