تازہ ترین

کنٹریکچول مدرسین کا انوکھا احتجاج | ننگے پائوںپرتاپ پارک سے گھنٹہ گھر تک ریلی برآمد

سرینگر// پرتاپ پارک سے تاریخی گھنٹہ گھر تک کنٹریکچول مدرسین نے انکی مستقلی کیلئے جامع پالیسی مرتب کرنے اور انکی ملازمت کو جاری رکھنے کے حق میں سخت گرمی کے دوران ننگے پائوں احتجاج کیا۔سرینگر میں گزشتہ75دنوں سے کنٹریکچول اساتذہ نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھا ہے۔سنیچر کو بیسوں کنٹریکچول اساتذہ،جس میں خواتین بھی شامل تھیں،نے پرتاپ پارک سے پریس کالونی تک ننگے پائوں احتجاج کیا۔ دوپہر کے وقت سخت گرمی کے بیچ  برہنہ پائوں احتجاج کے دوران مظاہرین نے شدت کے ساتھ نعرہ بازی کی،جس کے دوران ایک خاتون ٹیچر پر غشی طاری ہوئی ،جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کیا گیا۔ بعد میں مظاہرین نے تاریخی گھنٹہ گھر تک احتجاج کیا اور نعرہ بازی کرتے ہوئے انکی ملازمت کو جاری رکھنے اور مستقلی کے حوالے سے جامع پالیسی ترتیب دینے کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں شامل انیس عبداللہ نے کہا کہ اب تک گورنر انتظامیہ سے

آرٹس مضامین کے امیدواروں کا پریس کالونی میں دھرنا

سرینگر// پنچایتوں میں اکاونٹس اسسٹنٹ اسامیوں کو پُر کرنے میں آرٹس مضامین کے امیدواروں کو اس پوسٹ کیلئے نا اہل قرار دینے کے خلاف پریس کالونی میں تعلیم یافتہ نوجوانوں نے احتجاج کیا اور نعرہ بازی کرتے ہوئے انکے ساتھ ہو رہی ’’نا انصافی‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سرکار انہیں ان اسامیوں کیلئے درخواستیں دینے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔احتجاجی امیدواروں کا کہنا تھا کہ وہ خود کو اس پوسٹ کیلئے دیگر مضامین کے امیدواروں کی طرح ہی اہل سمجھتے ہیںاور انہیں بھی اپنی قابلیت منوانے کا موقعہ فراہم کیا جانا چاہئے۔ مظاہرے میں شامل ایک امیدوار نے کہا’’ اگر آرٹس مضامین کے امیدوار سیول سروس کیلئے امتحانات دے سکتے ہیں،تو ہمیں اس اسامی کیلئے کیوں دور رکھا جا رہا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس اسامی کیلئے کسی بھی اسکول یا کالج میں کوئی مخصوص مضمون نہیں پڑھ

سیکرٹری پھولبانی کا شہر کی پارکوں کا دورہ

سرینگر//سیکرٹری فلوری کلچر پارکس اینڈ گارڈنز شیخ فیاض احمد نے کل سرینگر میں متعدد عوامی پارکوں کا دورہ کر کے وہاں جاری کاموں کا جائیزہ لیا۔ڈائریکٹر فلوری کلچر کشمیر ڈاکٹر عبدالحفیظ شاہ، ایگزیکٹو انجنیئر فلوری کلچر، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجنیئر فلوری کلچر، فلوری کلچر افسر، اسسٹنٹ فلوری کلچر افسر اور دیگر متعلقہ اہلکار بھی سیکرٹری موصوف کے ہمراہ تھے۔ باٹنیکل گارڈن کے دورے کے دوران سیکرٹری موصوف نے اس باغ کی صفائی ستھرائی کو بنائے رکھنے پر زور دیا۔ اس دوران انہیں باغ کے رکھ رکھاؤ کے حوالے سے اختراعی اقدامات کی جانکاری دی گئی۔ٹولِپ گارڈن کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ اس باغ کو مزید جاذب نظر بنایا جانا چاہئے تا کہ زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو باغ کی جانب راغب کیا جاسکے۔ انہیں ٹُو لِپ گارڈن میں ایک میوزیکل فلوارہ تعمیر کرنے کے حوالے سے امور کے بارے میں بھی جانکاری دی گئی۔بعد میں سیکرٹری نے چشمہ ش

جھیل ڈل پر اعلیٰ اختیاری کمیٹی کے ممبران گورنر کے مشیر سے ملاقی

سرینگر//جھیل ڈل کے تحفظ کے لئے عدالت عالیہ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ممبران نے کل یہاں گورنر کے مشیر کے کے شرما کیساتھ ملاقات کر کے ڈل کے تحفظ سے متعلق اُٹھائے جارہے اقدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیاکمیٹی ممبران کی سربراہی اِی سری دھرن کر رہے تھے جبکہ نو ویتا ہرن، ایم سی مہتا اور منگو سنگھ بھی اُن کے ہمراہ تھے۔میٹنگ کے دوران ڈل باسیوں کی باز آباد کاری ، ایس ٹی پیز کو مجتمع کرنے، کوڑا کرکٹ کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے اور دیگر کئی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پرنسپل سیکرٹری مکانات و شہری ترقی دھیرج گپتا، وائس چیئرمین لاؤڈا سجاد گنائی اور دیگر سینئر افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔    

شہر خاص میں کرافٹ مارکیٹ کاقیام | صوبائی کمشنر کی ڈی پی آر تیار کرنے کی ہدایت

سرینگر//وادی میں دستکاری شعبے کے احیائے نو اور ترقی کے لئے سرکار شہر خاص میں کرافٹ مارکیٹ کا قیام عمل میںلانے کے سلسلے میں اقدامات کررہی ہے جس سے اس شعبے میں درمیانہ داری ختم ہوگی اور دستکار خود ہی اپنی مصنوعات مقامی سطح پر اورسیاحوںکو فروخت کرسکیں گے ۔کرافٹ مارکیٹ کے قیام سے شہر خاص میںنوجوانوں کے لئے روزگار کے بہتر وسائل دستیاب ہوسکتے ہیں۔صوبائی کمشنر نے کہا کہ جہلم واٹر ٹرانسپورٹ اور سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے پیش نظر کرافٹ مارکیٹ قایم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوںنے اس مقصد کے لئے ہینڈی کرافٹس اورہینڈلوم ڈیپارٹمنٹ کو ڈی پی آر تیار کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔صوبائی کمشنر نے کہا کہ ڈی پی آر 20دنوں کے اندر اندر صوبائی کمشنر کے دفتر پہنچ جانا چاہیے تاکہ اس سلسلے میں آگے کی کارروائی عمل میںلائی جاسکے۔  

ہوکر سر آبی پناہ گاہ کی حد بندی شروع

سرینگر//سرینگر انتظامیہ نے ہوکر سر آبی پناہ گاہ کی حد بندی کا عمل شروع کیا ہے جو کہ سرینگر ضلع کی حدود میں آتا ہے۔اس سلسلے میں مختلف محکموں کے آفیسران پر مشتمل ایک 88ممبری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کہ اگلے ہفتے سے کام شروع کرے گی اور کام کو ایک ہفتے کے اندر اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ان باتوں کااظہار کل ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری کی صدارت میں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران کیا گیا ۔میٹنگ میںبتایا گیا کہ ہوکر سر آبی پناہ گاہ کے جنوبی اور شمالی علاقے میں دوحدود ہیں جو کہ ضلع بڈگام اور ضلع سرینگر کے تحت آتے ہیں۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ سرینگر میں ناربل سے زینہ کوٹ علاقے تک حد بندی کا کام شروع کیا جائے گا۔سرکار کی طرف سے آبی پناہ گاہ کی حد بندی کرنے کے سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن کے تحت کام شروع کیا جارہا ہے۔دریں اثنأ ضلع انتظامیہ نے ہوکر سر جھیل کے 500میٹر کے دائر