تازہ ترین

کو رپشن کا خاتمہ کیجئے مگر کیسے ؟

 گزشتہ دنوںریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے کورپشن کو ریاست کاسب سے بڑا سنگین مسئلہ بتلا کر فی الواقع حق بیانی کی۔ انہوں نے اس نا سور کو ختم کر نے کا اپنا عزم بھی دہرایا ۔ اب زمانے کی نگاہیں اس عزم کو عملی جامہ پہنائے جانے کی منتظر رہیں گی ۔ اس میں شک نہیں کہ کورپشن کی جڑیں ریاست میں بہت گہری ہیں لیکن یہ آسمان سے نہیں اُتریں بلکہ اسی سرزمین میں پہلے سیاست نے انہیں اُ گایا ، پھر افسر شاہی نے ان کی آبیاری کی ۔ سچ ہے کہ کورپشن کے سمندر میں جن بڑے بڑے مگرمچھوں نے سرکاری خزانوں کونگل ڈالاوہ بقول گورنر ملک شہنشاہانہ زندگی گزار رہے ہیں اورغریب ہیں کہ غریب ترہورہے ہیں ۔ کور پشن کے جا ن لیوا ناسورکے خلاف وزیراعظم مودی نے بھی ایک حتمی جنگ لڑنے کی یقین دہانیاں دیں مگر زمانہ بڑی حیرت وحسرت سے نیرو مودی ، للت مودی ، وجے مالیہ اور اب رافیل متنازعہ سودے جیسی کہانیاں سنتارہا ۔ نوٹ بندی کامقصد بھی ک

وادی میں منشیات کا استعمال۔۔۔۔تشویشناک رُخ

ریاست جموں وکشمیر میں منشیات کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اور سرکاری افسروں کی طرف سے یہ انکشاف کہ وادی میں اس لت میں اب تک70ہزار لوگ مبتلاء ہوگئے ہیں، ایک انتہائی تشویشناک بات ہے۔10دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران حقوق انسانی کمیشن کےچیئرمین کا یہ انکشاف سنجیدہ فکر شہریوں کا دل دہلانے کے لئے کافی ہے ۔اُنکا ماننا ہے کہ منیشوں کی تعداد میں 4ہزار سے زائید خواتین بھی شامل ہیں۔ جموںوکشمیر کےسماج میں خواتین کا سماج سازی میں کلیدی رول رہا ہے اور اگر یہی صنف منشیات کے استعمال میں مبتلاء ہو تو لازمی طور پر آئندہ برسوں میں ایک ایسے سماج کی تشکیل ہوگی جو نوع انسانی کےلئے بے بیان مشکلات اور مصائب کا سبب بن سکتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے دنیا بھر میں سیاسی تصادم آرائی سے مخصوص علاقے کسی نہ کسی مرحلہ پر منشیات میں مبتلاء ہو جاتے ہیں اور ایسا 1984میںپنجاب میں بھی دیکھنے کو

صوبائی انتخابی نتائج۔۔۔ بھاجپا قیادت کےلئے امتحان

وسطی بھارت کی دو ریاستوں مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ ،شمالی بھارت کی ایک ریاست راجستھان ،جنوبی بھارت کی ریاست تلنگانہ اور شمال مشرقی ریاست میزورام میں اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ملکی سیاست کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے ۔کل تک جس بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے سٹار مہم جو وزیراعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کو ناقابل تسخیر سمجھا جارہا ہے ،آج مفروضوں پر قائم وہ عمارت ڈھہ چکی ہے اور یہ بات اب طے ہوچکی ہے کہ اس جماعت اور اس کے ہیروز کو چناوی میدان میں شکست سے دوچار کیاجاسکتا ہے ۔فی الوقت مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کانگریس کی سرکاریں بن رہی ہے جبکہ تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی اور میزو رام میں میزو نیشنل فرنٹ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونگے جو دونوں علاقائی جماعتیں ہیں۔مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان کو بھاجپا کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اوربی جے پی نے ان ریاستوں کی

! ماہر ڈاکٹروں کی عدم تعیناتی پریشان کن

خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب میں ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی ایک پریشان کن مسئلہ بناہواہے جس کے نتیجہ میں نہ صرف طبی مراکز میںمشینری ناکارہ بنی ہوئی ہے بلکہ مریضوں اور زخمیوں کو مقامی سطح پر علاج کی سہولت بھی نہیں مل پارہی اور انہیں مجبوراًطویل مسافتیں طے کرکےجموں کے ہسپتالوں کا رخ کرناپڑتا ہے۔ماہر ڈاکٹروں کی قلت کا مسئلہ ان خطوں کے لوگوں کووقت بروقت ستاتارہتاہے اور گزشتہ دنوں پونچھ کی لورن سڑک پر پیش آئے دلدوز سڑک حادثے کے موقع پر بھی اس صورتحال کی وجہ سے زخمیوں کو پریشان ہوناپڑا اور پونچھ کے ضلع ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ نہ ہونے کے باعث ان کی طبی جانچ نہیں ہوپائی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایکسرے ، سی ٹی سکین ،الٹراسائونڈاور دیگر طبی تشخیص کیلئے ریڈیالوجسٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور پونچھ کے ہسپتال میں یہ تمام تر مشینری نصب تو کی گئی ہے لیکن اس کو چلانے کیلئے ایک ماہر ڈاکٹر تعینات نہیں کیاگیا ،نتیجہ کے

دلدوز سڑک حادثات کا سلسلہ کب تک ؟

ریاست کے پہاڑی علاقوں میں پیش آرہے خوفناک سڑک حادثات نے ٹریفک منیجمنٹ اور اسکے متعلقہ کوائف کی پول کھول کر رکھ دی ہے ۔ ابھی رام بن کے کیلا موڑ حادثہ ، جس میں 23جانیں تلف ہوئیں، کا صدمہ لوگوں کے دلوں سے مٹا بھی نہیں تھا کہ پونچھ میں لورن سڑک پر درپیش آئے حادثے میں13مسافر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس طرح گھروں کے گھر اُجڑ کر رہ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر حادثے کےبعد حکام اور انتظامیہ کے ذمہ دار اظہار افسوس کرکے مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا زبانی اور رسمی اظہار کرنے میں کوئی کسراُٹھائے نہیں رکھتے لیکن زمینی سطح پر صورتحال کو قابو کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی، جس سے یہ اخذ کرنا غالباً غلط نہ ہوگا کہ انتظامیہ حادثات کی نت نئی وجوہات کے تئیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ کیونکہ یہ حادثات کہیں پہ سڑکوں کی خستہ حالی ، کہیں پر مسافروں کی اوور لوڈنگ اور کہیں

صوبائی تشکیل نواورخطہ پیر پنچال و چناب

لداخ کو ریاست کا تیسرا صوبہ بنانے کی کوششوں کے بیچ خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کو بھی اپنے مخصوص جغرافیائی مقام اور مخصوص مسائل کی وجہ سے علیحدہ صوبوں کا درجہ دینے کی مانگ کی جارہی ہے اور ریاست میں ہر شعبے میں پسماندہ رہ جانے والے ان دونوں خطوں کے عوام نے یہ انتباہ دیاہے کہ اگر یہ فیصلہ منصفانہ بنیادوںپر نہ ہواتو اس کے نتیجہ میں عوامی سطح پر سورش برپا ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ گزشتہ دنوں پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی ان دونوں خطوں کے عوام کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر سوال اٹھایاکہ صرف لداخ کو ہی کیوں الگ صوبہ بنانے پر غور و خوض ہورہا ہے ۔ اگر ایسا کوئی اقدام ہوتا ہے تواس حوالے سے پہلا حق خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کابنتا ہے اور کسی بھی طرح کے یکطرفہ فیصلے کی صورت میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی ،کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتیں پرامن طور پر ایج

ناخیز بچوں کے لئے تعلیمی وظائف

 گزشتہ دنوں ریاست کے ناخیز طلبہ وطالبات کے لئے تعلیمی وظائف دئے جانے کا سرکاری اعلان ہوا جواس طبقے کے لئے مژدہ ٔجاں فزا اور مستحسن اقدام ہے ۔ عوامی حلقوں میں بھی ا س اعلان کی کافی سراہنا کی جارہی ہے ۔ یہ اعلان گورنر ستیہ پال ملک نے جموں میں جسمانی طور ناخیز بچوں بچیوں کے تعلق سے منائی گئی ایک تقریب میں کیا ۔ تعلیمی وظیفے کا مقصد جسمانی طورناتواں بچوں بچیوں کو تعلیمی اور تکنیکی میدانوں میں آگے بڑھانا، انہیں زندگی کے دھارے سے جوڑنا ، انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ دینا ہے۔ ا لبتہ یہ تعلیمی وظیفہ صرف اُن سٹوڈنٹس کے حق میں منظور ہوگا جو جسمانی طور ناخیز ہونے کے باوجود میرٹ ہولڈر ہوں، یعنی اس وظیفے کا حصول اُمیدوار کی قابلیت اور اہلیت سے مشروط رکھی گئی ہے ۔ شاید ا س شرط کے پیچھے یہ نیک خیال کارفرما ہوکہ جسمانی طور ناخیز طلباء غبی نہ ہوں ،وہ اپنی قابل قدر اور معیاری تعلیمی ذہان

بستیوں میں جنگلی جانوروں کاورود!

وادی میں حالیہ برفباری کے بعد آئے روز انسانی بستیوں کی جانب جنگلی جانوروں ،خاص کر برفانی تیندوں کی نقل و حرکت کی خبر یں آرہی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ پہاڑوں پر بھاری برفباری کے بہ سبب قدرت کی ان مخلوقات کو خوردو نوش کی مشکلات درپیش ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ غذا کی تلاش میں انسانی آبادیوں کی جانب نکل آتی ہیں۔ ایسےحالات میں بعض اوقات تصادم آرائیاں پیش آتی ہیں جن کے نتیجہ میں جانوں کے نقصان کا اندیشہ ہمیشہ لگا رہتا ہے۔ حالانکہ اس کرۂ ارض پر ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کےلئے قدرت کی مختلف مخلوقات، جن میں چرند وپرند کےساتھ ساتھ درندے بھی شامل ہیں، کا تحفظ بہت ضروری ہے اور اس کےلئے سماجی سطح پر بیداری پیدا کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ جوں جوں کرۂ ارض پر انسانی آبادیاں پھیلتی جا رہی ہیں اور انکی سہولیات کے لئے دور دراز علاقے حتیٰ کہ جنگل ،پہاڑ، بیابان اور آبگاہیں مشینی عمل دخل

سیاسی مکانیت محدود کرنے کا منفی عمل !

متحدہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ہفتہ حقوق انسانی منانے کے پروگرام کے ردِ عمل میں ریاستی انتظامیہ نے گرفتاریوں ، خانہ نظر بندیوں اور داروگیر کی جو ہمہ گیر مہم شروع کر دی ہےاور جس کے تحت مزاحمتی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے درجنوں قائیدین اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے،اس پر سیاسی خیمہ زبردست برہم ہے۔اس پروگرام کے تحت  اُنکے مطابق  مختلف مقامات پر شام کے اوقات موم بتیاں جلا کر حقوق انسانی کی پامالیوں اورانکے حوالےسے سنجیدہ طرزفکر اختیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرانا مقصود تھا، جو ملکی اور عالمی سطح پر ہور ہی ایسی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کوئی غیر جمہوری معاملہ نہیں،بلکہ اگر ایسا کہا جائے کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کو مناسب مکانیت(Space) فراہم کرکے انتہا ئی سوچ سے محفوظ رہا جاسکتا ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کے تینوں خطوں کے اندر مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی

گئورکھشا کے نام پر تشدد قابل تشویش !

ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ریاست جموں و کشمیر میں بھی گئو رکھشاکے نام پر تشدد آمیز واقعات رونما ہوتے آرہےہیں، جن میں تشدد پر آماد ہ عناصر بغیر کسی تحقیقات اور پولیس کی کارروائی کے قانون اپنے ہاتھوں میں لیکر کہیں گاڑیوں کو نذر آتش کررہے ہیں تو کہیں بے گناہ شہریوں کی مارپیٹ کر رہے ہیں ۔گزشتہ دنوں جہاں یو پی(اترپردیش) کے بلند شہر میں گھائو رکھشاکے نام پر دنگا فساد کے دوران ایک پولیس افسر کو ہلاک کردیا وہیں جموں کے ضلع کٹھوعہ کے ہیرا نگر علاقے میں مویشی لے جارہے ایک ٹرک کو بغیر کسی تحقیقات کے نذر آتش کردیاگیا ۔بظاہر ان واقعات کی انجام دہی مویشیوں کی غیر قانونی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے نام پر ہوتی ہے لیکن ان واقعات میں اس قدر لاقانونیت پائی جاتی ہے جس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی اور تشددبرپا کرنے والے عناصر قانون کی ذرا برابر بھی پرواہ نہیں کرتے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کٹھو

تیز رفتار اسکولی گاڑیاں؟

 ریاست میں  سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ کے سبب ٹریفک کی آمد ور فت میں جو خوفناک نوعیت کی بے ترتیبی پھیلی ہوئی ہے، اُس سے سماج کاسنجیدہ فکر اور حساس طبقہ انتہائی پریشان ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان بے ضابطگیوں کے مرتکب ہونےوالے کوئی غیر نہیں بلکہ وہ بھی ہمارے ہی سماج کا حصہ ہیں۔ ایک دوسرے سے سبقت لینے کی فکر میں گاڑیاں ڈرائیو کرنے والے تمام ٹریفک قواعد کو بالائے طاق رکھ کر سانپ سیڑھی کی طرح گاڑیاں دوڑاتے ہیں جس سے نہ صرف تواتر کے ساتھ حادثات درپیش آتے ہیں بلکہ ٹریفک جام کی وجہ سے روزانہ ہزارں کی تعداد میں راہگیروں کو قیمتی وقت کے زیاں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ کم و بیش تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والوں کا حال یہی ہے، لہٰذا اسکولوں کی طرف سے استعمال کئے جانے والے ٹرانسپورٹ کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ نجی سکولوں کی گاڑیوں میں حساس اور

! ریلوے لائن :پیر پنچال پر توجہ کی ضرورت

مرکزی سرکارنے حال ہی میں بارہمولہ ۔کپوارہ ریلوے لائن کی تعمیر کو منظوری دی ہے جوکہ ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن ایک بار پھر حکومت کی طرف سے خطہ پیر پنچال کو نظرانداز کئے جانے پر مقامی سیاسی و عوامی حلقوں میںحکام کے تئیں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے ۔خطہ پیر پنچال کے عوام کی یہ دیرینہ مانگ رہی ہے کہ جموں سے پونچھ ریل لائن تعمیر کی جائے تاکہ اس سرحدی خطے میں سماجی و اقتصادی ترقی ہوسکے اور دوریاں کم ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیداہوں تاہم باربار کی یقین دہانیوں اور اعلانات کے باوجود معیشی اہمیت کے اس عوامی مطالبے کو تسلیم کرکے اس خطے میں ریلوے لائن بچھانے کو منظور ی نہیں دی جارہی ہے۔ اس ریلوے لائن کے حوالے سے مرکز کی پالیسی تذبذب کاشکار رہی ہے اور پہلے کانگریس کے دورحکومت میں اس پروجیکٹ کااعلان کرکے سروے کیاگیا اور ساتھ ہی رقومات بھی ریلوے بجٹ میںمختص رکھی گئیں تاہم بعد میں یہ ب

سرکاری شفا خانے سدھار کے متقاضی!

  سر کاری شفاخانوںکے بارے میں اکثر وبیشتر لوگوں کو شکایتیں رہتی ہیں کہ ان میں مریض دوستانہ فضا پائی جاتی ہے نہ نظم وضبط نام کی کوئی چیز نظرآتی ہے۔نتیجہ یہ کہ مریضوں اور تیمار داروں کو ان میں طرح طرح سے تکالیف کا سامنا کر ناپڑتا ہے۔ ان شکایات کا ازالہ کر نا اگرچہ لازمی ہے مگر بڑی ناسپاسی ہوگی اگر ہم یہ ناقابل ِتردید حقیقت تسلیم نہ کریں کہ نوے کے دور ِ پْر آشوب سے لے کر آج تک سرکاری ہسپتالوں میں تعینات طبی و نیم طبی عملہ جس جانفشانی اور فرض شناسی سے اپنی خدمات پیش کرتا رہا ہے ، اس پر یہ لوگ آفرین ومرحباکے مستحق ہیں۔ بسااوقات انہوں نے ناگفتہ بہ اور ہنگامی حالات کے متاثرین کی زندگیاں بچانے میں اپنی جان جو کھم میں ڈال کر اپنے پیشے کاتقدس قائم رکھا۔ کشمیر کا شاید ہی کوئی باشعور فرد بشر ہوگا جس نے مشہورومعروف ڈاکٹر عبدالاحد گور و، ڈاکٹرفاروق عشائی اور ڈاکٹر شیخ جلال وغیرہ جیسی عظیم ط

معصومہ حِبہّ جان .........دنیا کے پاس کیا جواب ہے؟

پیلٹ فائرنگ کی تازہ ترین متاثرہ انیس ماہ کی حِبہّ جان، جس کی ایک آنکھ کی روشنی لوٹ آنے کے بارے میں اس کے معالجین پُر امید نہیں ہیں، مہذب اور جمہوری دنیا کےلئے ایک سوال ہے کہ اس معصومہ کی خطا کیا تھی؟ جو اُسے ایسی بیدردانہ صورتحال سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ بھلے ہی ہمارے سیاستدان اورمنتظمین لمبے چوڑے دلائیل پیش کرنے کی کوشش کریں مگر حقیقت یہی ہے کہ تصادم آرائیوں کے بدترین نتائج اب ہماری اُس نسل کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جو ابھی اپنی آنکھیں کھولنے کے عمل سے بھی ناواقف ہے اور یہ سب ایسے حالات میں ہو رہا ہے، جب صاحبانِ جلالت کی جانب سے نت نئے مہلکات استعمال کرنے کی کھلے عام وکالت ہو رہی ہے۔بھلے ہی عام انسان کو اس کے کیا کیا نتائج بھگتنا پڑیں، جیسے حبّہ جان کے ساتھ ہو ا ہے، جو کمرے کے اندر ماں کی گود میں اٹھکھیلیاں کر رہی تھی کہ سڑک پر متصادم مظاہرین پر چلائے گئے پیلٹ کمرے کےدروازے کو چیرتے

بجلی سپلائی… بہتری کا نشان دور دور تک نہیں!

جوں جوں سردی کی شدت میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے، عام لوگوں کی بنیادی ضرورت بجلی کی سپلائی بدستور بدحالی کا شکار ہے ۔اگر چہ متعلقہ محکمہ کی طرف سے بجلی کٹوتی شیڈول جاری کر دیا گیا ہے لیکن اس شیڈول پر باقاعدگی کے ساتھ عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے بلکہ اکثر اوقات شیڈیول پر عملدرآمد کی بے قاعدگی کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خاص کر دور دراز علاقوں میں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ موسم سرما میں دریائوں کے اندر پانی کی سپلائی میں کمی واقع ہونے سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور صارفین کو بھی اس حقیقت کا احساس ہے مگر ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ریاستی حکومت بیرون ریاست سے اضافی بجلی کی درآمد کو ممکن بناتی لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرناپڑتا ہے، خاص کر صبح اور شام کے اوقات کے دوران، جب بجلی کی سب سےزیادہ ضرورت ہوتی ہے۔سرینگر کے میٹریاف

فلیگ میٹنگوں کے بعد گن گرج۔۔۔ چہ معنی دارد!

سکھ مذہب کے بانی گورونانک دیو جی کے یوم پیدائش کے موقعہ پر کرتارپورراہداری پوائنٹ کھولنے کے فیصلے کو ہندوپاک کے درمیان اعتمادسازی کے ایک بڑے اقدام کے طور پر دیکھاجارہاہے اورحالیہ دنوں بین الاقوامی سرحد و حد متارکہ پر دونوں ممالک کے سرحدی محافظوں کے درمیان امن برقرار رکھنے اور سیز فائر معاہدے کی پاسداری کے مقصد سے فلیگ میٹنگیں بھی منعقد ہوئی ہیں، جس سے کشیدگی میں ضرورکچھ حد تک کمی واقع ہوئی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ تشویش کی بات یہ ہے کہ گزشتہ روز رام گڑھ سیکٹر میں بی ایس ایف اور رینجرز کے درمیان ہوئی میٹنگ کے چند گھنٹوں کے بعد اسی سیکٹر میں فائرنگ اور گولہ باری کاتبادلہ بھی ہوا۔فلیگ میٹنگ کے چند گھنٹوں بعد ہی فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہونا اعتماد سازی کی کوششوں کو ٹھیس پہنچنانے کے مترادف ہے اوراس طرح کے اقدامات سے نہ صرف بین الاقوامی سرحد بلکہ حد متارکہ کی کشیدہ صورتحال پر مزید منفی اث

سرمائی و گرمائی زون اور طلبہ کی پریشان حالی

ریاست کاتعلیمی نظام گرمائی اور سرمائی زون کے مطابق چلتاہے اور اسی کے تحت تعلیمی اداروں میں امتحانات،نظام الا وقات، تعطیلات اور دیگر سبھی امور طے پاتے ہیں ۔چونکہ ریاست کے موسمی حالات ہر جگہ یکساں نہیں ہیں اس لئے کشمیر کو سرمائی جبکہ جموں کو گرمائی زون میں بانٹاگیاہے تاہم جموں صوبہ کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جن کو سرمائی زون میں شامل رکھاگیاہے ۔خاص طور پر خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کے کچھ علاقوں کو سرمائی زون میںرکھاگیاہے جبکہ زیادہ تر علاقے گرمائی زون میں ہیں جس کے نتیجہ میں ایک ہی ضلع میں تعلیمی نظام کے اوقات الگ الگ رہتے ہیں اور جہاں ایک تحصیل میں سب امور کشمیر کے نظام کے مطابق چلتے ہیں وہیں اسی ضلع کی دوسری تحصیل میں یہ امور جموں خطے میں رائج نظام کے تحت انجام پاتے ہیں ۔یہاں اگر صرف ضلع پونچھ کی ہی بات کی جائے تو سرنکوٹ اور منڈی سرمائی زون جبکہ مینڈھر اور حویلی گرمائی زون میں آتے ہیں

اہدافی قتل کی وارداتیں

 گزشتہ دنوں اہدافی قتل کا ایک اور دل خراش واقعہ جنوبی کشمیر اچھ بل میں پیش آیا ۔ اس واقعے میں تحریک حریت کے ایک سرکردہ عہدیدار میر حفیظ اللہ کو اپنے ہی گھر کے باہر نامعلوم بندوق برداروں نے گولیاں چلاکر ابدی نیند سلادیا۔ کہا جاتا ہے کہ نقاب پوش بندوق برداروں نے دن دھاڑے موصوف کے سر میں گولیاں پیوست کیں اور پھر جائے وقوعہ سے اپنی گاڑی میں بآسانی فرار ہوئے ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مقتول دو سال طویل جیل کاٹنے کے بعد دوماہ قبل رہائی پاگئے تھے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رہائی کے بعد سے اُنہیں مبینہ طور جان سے مارے جانے کی دھمکیاں دی جارہی تھیںاور اس بارے میں خود مقتول نے اپنی تشویش اور خدشات سے متعلقہ پولیس کو مطلع بھی کیا تھا ۔ قبل ا زیں بڈگام میں محمد یوسف ندیم ، سوپور میں تحریک حریت کے عہدیدار حکیم سلطانی اور مسرت عالم کی سربراہی والی مسلم لیگ کے ساتھ منسلک کارکن طارق احمد گنائی بھی

!جموں و کشمیربینک۔۔۔اپنوں کے ہاتھوں تباہی کی زد میں

گورنر اور اُس کی ریاستی انتظامی کونسل، جو عوام کے سامنے کسی جوابدہی سے ماوریٰ زیادہ سے زیادہ ایک عبوری انتظام ہے، کافی عرصہ سے ریاستی عوام کے بیش قیمت اور منفرد ادارے جموں وکشمیر بنک سے متعلق بڑے فیصلے لے رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلے کسی سوچ بچار کے بغیر روا روی کے عالم میں یک طرفہ اور بے قاعدہ طریقے پر لئے گئے ہیں۔زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ گورنر نے قومی ٹیلی ویژن پر اعلان کیا کہ انہوں نے بنک کے چیئرمین کو کچھ امیدواروں کو بھرتی کرنے کی ہدایت دی۔اس بات کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کو ایسے معاملات میں بنک ،جوسرکار کی طرف سے ایک تسلیم شدہ کمپنی ہے ،کو ہدایت دینے کاکوئی اختیار نہیں ہے ۔یہ کوئی سرکاری ادارہ جاتی شعبہ نہیں ہے بلکہ یہاں ایک بورڈ موجود ہے ،جو بنک کی پالیسی سازی کے فیصلے لینے کاذمہ دار ہے ۔کل پھر ریاستی انتظامی کونسل نے گورنر کی صدارت میں جموں وکشمیر بنک کے ساتھ ایک

جمہوریت کا نیا چہرہ؟

چند گھنٹوں کے دھواں دار ڈرامے کے بعدریاست کی منتخب اسمبلی کو تحلیل کئے جانے پر سیاسی صف بندیوں کے آر پار جو ردعمل سامنے آیا ہے، وہ ا س امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جموںوکشمیر، جہاں وقت وقت پر جمہوری اقدار کے چلن کا ڈھنڈورا پیٹنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا ، میں جمہوری اقدار اور اصولوںکا نفاذ نئی دہلی کی من مرضی اور مفادات کے تابع ہے اور 1953سے، جب مرحوم شیخ محمد عبداللہ کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے برطرف کر کے زینت زندان بنایا گیا تھا، سے آج تک اس مزاج اور منہاج میں کوئی نمایاں تبدیلی واقع نہیںہوئی ہے۔وگرنہ پی ڈی پی اور پیپلز کانفرنس کی جانب سے حکومت سازی کے دعوے پیش کئے جانے کے چند لمحوں کے اندر اندر اسمبلی تحلیل نہ کی جاتی۔ مرکز میں برسر اقتداربھاجپاکو چھوڑ کو کم و بیش سبھی جماعتوں نے اس اقدام کو جمہوریت کے قتل سے تعبیر کیا ہے۔ بھلے ہی گورنر صاحب کی جانب سے یہ دلیل پیش کی جائ