تازہ ترین

زینب ۔۔۔انصاف کی منتظر بے چین روحیں

۱۷؍ ستمبر کو پاکستان کے کورٹ لکھپت جیل لاہور میںقصور کے عمران علی نامی بدنام زماں درندے کو صبح سویرے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر سات سالہ زینب کی آبروریزی اور قتل کے جرم میں پھانسی پر لٹکایا گیا ۔ مجرم کو یہ سزائے سخت سنگین جرم کے ارتکاب کے تقربیاً نوماہ بعد دئے جانے پر تمام باضمیر لوگوں نے راحت کی سانس لی ۔ اگرچہ زینب کے کم نصیب والد کی شدید خواہش تھی کہ ریاست ِمدینہ کی تقلید میں مجرم کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں مگر حکومت نے اُن کی ا س خواہش کو مصلحتاً قابل اعتناء نہ سمجھا۔یاد رہے کہ رواں سال 4؍ جنوری کو قصور پاکستان کی رہائشی7 ؍ برس کی معصومہ زینب کو23 ؍سالہ سفاک مجرم عمران علی نے پہلے اپنے ہوس کا شکار بنایا اور پھر قتل کر ڈالاتاکہ اُس کے سنگین جرم کا راز قیامت تک فاش نہ ہو ۔اس بد ترین المیہ نے تمام پاکستانیوں کا ضمیر اُسی طرح جنجھوڑ کے رکھ دیا جیسے کھٹوع

در بارکی منتقلی۔۔۔۔۔ سرما کے لئے خصوصی انتظامات کی ضرورت!

ریاست کے گرمائی دارالحکومت میں دربار مو سے منسلک دفاتر کی جموں منتقلی کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور آئندہ ہفتے سرینگر میں دفاتر بند ہو کر 5نومبر کو جموں میں کھل رہے ہیں۔اگرچہ سرینگر اور جموں میں باری باری دربار کا لگنا اور بند ہونا کوئی نہیں بات نہیں ہے بلکہ کم و بیش گزشتہ ڈیڑھ صدی  سے جاری ہے اور یہ عمل ہر دور میں ریاستی عوام کے لئے ایک مصیبت سے کم نہیں رہاہے۔کیا جموں کشمیر میںاس فرسودہ روایت کا کبھی خاتمہ ہوگا، جو اقتصادی لحاظ سے اس پسماندہ ریاست کے خزانہ عامرہ پر ایک غیر ضروری بوجھ ہے؟عقل کا تقاضا ہے کہ جس ریاست کے پاس اپنے ذرائع سے ملازمین کی تنخواہیں فراہم کرنے کی سکت بھی نہ ہو، اس میں اس طرح کی شاہ خرچیوں کا تصور کرنا بھی حماقت ہے۔ ڈوگرہ شخصی حکمرانوں کے پاس دربار مو کی روایت قائم کرنے کی ایسی وجوہات تھیں جس کا موجودہ زمینی حالات کے ساتھ ذرّہ بھر تعلق نہیں ہے۔ ایک تو وہ شخصی حک

صحافیوں پر عتاب کیوں؟

پائین شہر کے فتح کدل علاقہ میں سیکورٹی فورسز اورمحصور عسکریت پسندوںکے مابین مسلح تصادم آرائی کے دوران جس طرح ایک بار پھر صحافیوں کو عتاب کا نشانہ بنایا گیا ،اُس سے اب یہ بات تقریباً پایہ اثبات کو پہنچ چکی ہے کہ کشمیر میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح ایک مخصوص پلاٹ کے تحت صحافیوں کو زیر عتاب لایا جارہا ہے تاکہ وہ وقت کے حکمرانوںکے سامنے گھٹنے ٹیک کرانکی مرضی اور پسند کا بیانہ پیش کرنے پر ہی اکتفا کریں۔ایسا محض کسی وسوسے کی بنیاد پر نہیں کہاجارہا ہے بلکہ گزشتہ دو ایک سال کے دوران کشمیر میں جس طرح کارکن صحافیوں کوپیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران قانون نافذ کر نے والے اداروں کی جانب سے ہراسانی اور پریشانی کا سامنا رہا ہے ،وہ اس بات کا منہ بولتا ثبو ت ہے کہ جان بوجھ کر صحافیوں کیلئے زمین تنگ کی جارہی ہے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ کشمیر ایک شورش زدہ علاقہ ہے جہاں صحافیوں کو بھی اپنی

مغل شاہراہ کو سال بھر چالو رکھنا وقت کی ضرورت!

جموں سرینگر شاہراہ پر بدترین ٹریفک جام نے ایک بار پھر سے تاریخی مغل روڈ کی اہمیت کو اجاگر کیاہے اور یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر اس متبادل شاہراہ پر ٹریفک کا سلسلہ جاری نہ رہے تو مسافروں کو انتہائی مشکلات کاسامنا کرناپڑے اور جموں سرینگر روڈ پر سفرکرنا اوربھی زیادہ اذیت کا باعث ثابت ہوگا۔مغل شاہراہ کی اہمیت حکام کے ساتھ ساتھ ان حلقوں پر بھی واضح ہوچکی ہے جو ہمیشہ اس کی تعمیر کے خلاف رہے اور جن کی وجہ سے آج تک اس پر ٹنل تعمیر نہیں ہوسکا اور نہ ہی اس کو قومی شاہراہ کا درجہ مل پایاہے ۔ سال 2014کے تباہ کن سیلاب سے لیکر اب تک مغل شاہراہ نے جموں سرینگر روڈ کے بھاری ٹریفک بوجھ کم کرنے میں بہت اہم رول اد اکیاہے اور آج بھی جب جموں سرینگر روڈ چٹانیں کھسک آنے کی وجہ سے کئی کئی روزتک بند رہتی ہے یاپھراس پر بدترین ٹریفک جام، جو اب روز کا معمول بن چکاہے ،کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں مال بر

نایاب ہو رہے جنگلی جانوروں کا تحفظ!

ریاست جموںوکشمیر جو صدیوں سے جنگلی جانووں کی آماجگاہ کے طور پر دنیا بھر میں مشہور و معروف رہی ہے میں انکی متعدد انواع و اقسام کو معدومیت کا خطرہ لاحق ہے اور حال ہی میں مرکزی وزارت ماحولیات نے دس ایسی انواع کی نشاندہی کی ہے ، جو معدومیت کے خطرات سے دو چار ہیںاور ان میں شہرۂ آفاق برفانی تیندوا بھی شامل ہے، جو کبھی دنیا بھر سے سیاحوں کو کشمیر کی جانب راغب کرنے کا سبب رہا ہے اور جس کے متعلق مغربی سیلانیوں نے اپنے سفر ناموں میں صفحوں کے صفحے سیاہ کئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عوامی یاداشتوں میں بسی جنگلی حیات کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات عام کرنے کےلئے ہماری حکومتیں کتراتی رہی ہیں، غالباً اسی لئے کہ وہ ہماری نظروں سے دور رہتی ہیں۔ بہر حال اس تازہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے برفانی تیندوے کی آماجگاہوں کی نقشہ سازی عمل میں لائی ہے۔ اس سلسلہ میں شیر کشمیر ایگریکلچر یونیورسٹی کی

خطہ چنا ب و پیر پنچال: طبی مراکز میں ناقص بجلی سپلائی

ریاست کے دور افتادہ علاقے جدید دور کی طبی سہولیات سے بالکل محروم ہیں جبکہ حکام کی طرف سے روزانہ اس بات کے دعوے کئے جاتے ہیں کہ ہر ایک علاقے کو بنیادی طبی سہولیات بہم پہنچائی جارہی ہیں ۔ان سہولیات کے فراہمی کے دعوئوں کی حقیقت خطہ چناب کے گول علاقہ کے ایک معمولی مگر چشم کشاواقعہ سے عیاں ہوجاتی ہے جہاں ہسپتال میں ایک زخمی کے علاج کیلئے بجلی کا بھی بندوبست نہیں تھا اور طبی عملہ نے موبائل فون کی ٹارچ کا استعمال کرتے ہوئے آپریشن تھیٹر میں اس کاعلا ج کیا ۔واقعہ یوں ہواکہ چند رو ز قبل ضلع رام بن کے گول بازار میں شام کے وقت ایک موٹر سائیکل سوار نے راہگیر کو ٹکر ماردی جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہواتاہم محکمہ صحت کو اس وقت خفگی برداشت کرناپڑی جب اس زخمی شخص کو علاج و معالجہ کے لئے ہسپتال پہنچایا گیا جہاںآپریشن تھیٹر میں بجلی کاکوئی انتظام نہ تھااورطبی عملے کوموبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں اس کی

بازاری کتے : ایک نظر ادھر بھی!

   وادی بھر میںآوارہ کتوں کی دھماچوکڑیاں بلا روک ٹوک جاری ہیں اوراس صورت حال کا خمیازہ اول وآخرعام شہری متواتر اُٹھا رہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں ایک ۶۵؍ سالہ بزرگ شہری کی ہیبت ناک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔ ان کا چہرہ آوارہ کتوں نے بُری طرح نوچ ڈالا تھا کہ دیکھ کر دل بھر آتا۔ دستیاب اعداد وشمار کے مطابق پچھلے چھ سال میں صرف سری نگر میں تیس ہزار سات سو گیارہ ایسے دل دوز واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔ سال ہا سال سے جاری آوارہ کتوں کے ان حملوں کی ذمہ داری کس کے سر ڈالی جائے،؟یہ ایک اہم سوال ہے جس کا شاید کسی کے پاس جواب نہیں ۔سری نگر میونسپل کا ریوریشن کے مطابق سری نگر میں45000 آوارہ کتے موجود ہیں۔ حالانکہ سر سری طور دیکھاجائے تو آوارہ کتوں کا یہ شمار اُن کی اصل تعداد سے بہت گھٹا کر پیش کی جاتی ہے کیونکہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ آج سرینگر کی ہر بستی ، ہرگلی کوچے، میدان،مزا

منشیات کی تباہ کاریاں اور ہماری بے حسی!

ریاست جموں وکشمیر میں منشیات کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ہر دن پولیس کی جانب سے منشیات سمگلروں کو پکڑے جانے کی خبریں موصول ہورہی ہیں اور المیہ تو یہ ہے کہ کشمیر سے کٹھوعہ تک پوری ریاست اس وباء کی لپیٹ میں آچکی ہے ۔گو پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ منشیات مخالف مہم میں سرگرم ہے تاہم زمینی صورتحال یہ ہے کہ ریاست منشیات کے خریدو فروخت کی پسندیدہ جگہ بن چکی ہے۔ جہاں تک ہماری وادی کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ چند برس قبل تک کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشنا تھا بلکہ یہاں تمباکو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا تاہم اب وہ صورتحال نہیں رہی ہے۔چینیوں کو تودہائیوں قبل اس لت سے نجات مل گئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر اس دلدل میں پھنستے ہی جارہا ہے اور یہاں ہرگزرنے والے سال کے ساتھ ساتھ نہ صرف منشیات ک

کیلا موڑ حادثہ۔۔۔۔۔ وجوہات کی گہرائی کے ساتھ جانچ ہو!

کیلاموڑ رام بن میں گزشتہ دنوں پیش آئے سڑک حادثہ ،جس میں22مسافر جاں بحق ہوئے، ایک انتہا درجہ کا المناک حادثہ تھا، جس کی وجہ سے متعدد گھرانےبرباد ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس حادثہ پر جس قدر بھی غم و الم اور افسوس کا اظہار کیا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن اُس سے زیادہ ریاستی انتظامیہ کی کارکردگی پر ماتم منانے کا جی کرتا ہے، جو 21ویں صدی کے اس جدید تر دور میں بھی ایسی المناک صورتحال سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ ماضی میں جتنی بھی حکومتیں رہی ہیں وہ ٹریفک حادثات کی وجہ سے پید ا ہونے والی دلدوز صورتحال کو ایڈریس کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے  اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ فی الوقت ریاستی انتظامیہ نے اس واقع کی تحقیقات کرنے کےلئے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے ، جو زیر بحث حادثہ کے تمام پہلوئوں کی جانچ کریگی اور یہ بھی دیکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ کیا سرکاری محکمے ایسی صورتحال میں اپنی ذمہ داریوں سے عہ

عارضی ملازمین کیساتھ انصاف ہوناچاہئے

 محکمہ بجلی اور محکمہ پی ایچ ای کے عارضی ملازمین نے ملازمت کو مستقل کرنے اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے مطالبات پر کام چھوڑ ہڑتال شروع کررکھی ہے جس سے بجلی اور پانی کی سپلائی متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیاجارہاہے ۔صوبہ جموں میں محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین نے چیف انجینئر کے دفتر کے باہر دھرنا دے رکھاہے اور انہوں نے اس بات کا انتباہ دیاہے کہ اگر جمعرات تک ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ مرحلہ وار بنیاد پر پہلے راجوری پھر پونچھ و ریاسی اوراس کے بعددیگر اضلاع کی بجلی سپلائی منقطع کردیں گے ۔محکمہ کے ان عارضی ملازمین کی تعداد 3400بتائی جارہی ہے جو پچھلے کئی برسوں سے سراپا احتجاج ہیں اور کئی مرتبہ انہوں نے دھرنے دیئے اور احتجاجی مظاہرے کئے ۔اسی طرح سے محکمہ پی ایچ ای کے ڈیلی ویجروں ، نیڈ بیس ورکروں، آئی ٹی آئی ڈپلوما ہولڈروں اور لینڈ کیس ورکروں نے بھی اپنے مطالبات پر 72گھنٹے کیلئے کا

ثالثی کے ذریعہ مصالحت ۔۔۔۔۔وقت کی اہم ضرورت!

ثالثی کے عمل سے مقدمات کا مصالحانہ حل تلاش کرنا غالبا ہمارے وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور جموںوکشمیر ہائی کورٹ کی کمیٹی برائے ثالثی و مصالحت نے گزشتہ دنوں شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونیشن سنٹر میں اس حوالے سے ایک سہ روزہ ریاست گیر ورکشاپ کا اہتمام کرکے اس ضرورت کے تئیں عدلیہ کے مثبت احساس کا پیغام فراہم کیا ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ہماری عدالتوں میں ہزاروں کی تعداد میں مقدمات زیر سماعت ہیں اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے عدالتوں پر بوجھ میں بے پناہ اضافہ ہونے کے بہ سبب مقدمات کے فصیل ہونے میں لازمی طور پر تاخیر کا عنصر داخل ہوجاتا ہے۔چنانچہ بعض اوقات معاملات برسہابرس تک زیر سماعت رہنے کے باوجود فصیل نہیں ہو پاتے اور جب فیصلے ہو جاتے ہیں تو فریقین کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کے رجحان سے سماعت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو تاہے،

خطہ پیر پنچال: منی سیکریٹریٹ پروجیکٹ تعطل کاشکار کیوں؟

عوام کو تمام دفاتر ایک ہی چھت تلے فراہم کرنے کے مقصد سے چند برس قبل حکومت کی طرف سے ضلع اور کہیں کہیں تحصیل یا سب ڈیویژن سطح پر منی سیکریٹریٹوںکی تعمیر کامنصوبہ شروع کیاگیا جس کے تحت کئی علاقوں میں اس کےلئے عمارتیں تعمیربھی ہوئی ہیں تاہم ابھی تک کئی اضلاع یا علاقے ایسےبھی ہیں جہاںیہ اہم پروجیکٹ تعطل کاشکار بنے ہوئے ہیں ۔خطہ پیر پنچال کے دونوں اضلاع راجوری اور پونچھ میں منی سیکریٹریٹ کا ایک بھی پروجیکٹ تکمیل کو نہیں پہنچ سکاجس کی وجہ جہاں ایک تو سیاسی رسہ کشی ہے تو دوسرا حکام کی غفلت ۔راجوری پونچھ میں ایسے تین پروجیکٹوں پر کام شرو ع ہواتھااور ضلع صدر مقام پونچھ و راجوری کے علاوہ سب ڈیویژن مینڈھر میں بھی منی سیکریٹریٹ کی عمارتیںبنائی جانی مطلوب تھیں تاہم افسوسناک بات ہے کہ ابھی تک ایک بھی پروجیکٹ مکمل نہیں ہوپایا۔راجوری میں منی سیکریٹریٹ کی عمارت تو سابق حکمران اتحاد کے درمیان رسہ کشی کا

سر ینگر۔۔۔ مسا ئل کا دشت وبیابان!

  شہرسری نگر بڑی تیزی کے ساتھ عوامی مسائل کے گھنے جنگل کا روپ دھارن کررہاہے ۔ شہر میں جدھر بھی جایئے بلدیاتی سہولیات کا فقدان نظر آئے گا، ٹریفک جاموں سے پالاپڑے گا ، کوڑا کرکٹ کے  انبار اور پالی تھین لفافے استقبال کر یں گے ، پورے شہر میں فٹ پاتھوں پر چھاپڑی فروش اور دوکانداروں کی تجاوزات سے سابقہ پڑے گا ، سب سے بڑھ کر آوارہ کتے غول بیابانی کی طرح ہر گلی کوچے اور شاہراہ پر فوج درفوج ملیں گے۔ اس شہر نا پرسان کے مختلف علاقوں سے روز قلت ِآب کی شکایتیں اخباری کالم بھر رہی ہیں ۔ ہاں ، اس ضمن میں یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ پانی کا مسئلہ پی ایچ ای کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہو نے کے علاوہ صارفین کی لاپروائی پر بھی دلالت کرتاہے کیوںکہ ہم میں سے اکثر لوگ مالِ مفت اور دل ِبے رحم کے مثل پینے کے صاف پانی کا غیرضروری استعمال کر کے قلت آب کا سبب بننے سے نہیںکترا تے ۔ انصاف کیجئے کہ جہاں

آبگاہوں کی تباہی۔۔۔۔۔ وقت ہے بیدار ہونے کا

 یہ المیہ ہی تو ہے کہ ہم بحیثیت قوم اخلاقی اور انسانی قدریں ہی نہیں بلکہ حس انسانیت بھی  بڑی تیزی سے کھو رہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک نہیں درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔اگر ہم صرف اس بات پر غور کریں کہ ہم پچھلی کئی دہائیوں سے اپنی خود غرضیوں اور غلط حرکتوں کی وجہ سے کس تیزی سے ماحولیات کو برباد کررہے ہیں اور اسکے نتیجے میں قدرتی وسائل کھو رہے ہیں تو  یقینا اندازہ ہوگا کہ ہم کس مقام پر کھڑے ہیں۔ ہمارے آبی وسائل اور ہماری جھیلیں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سکڑ رہی ہیںاور ہمارے جنگلات کا پھیلائو تسلسل کے ساتھ کم ہورہا ہے۔میڈیا رپورٹوں کے ذریعے  بار بار کشمیر میں جھیلوں اور آبگاہوں کی تباہی کا جو نقشہ ابھر کر سامنے آتا ہے، اس کو دیکھ کر کسی بھی ذی حس انسان کا جگر پاش پاش ہوسکتا ہے۔ایشیاء میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ولر ، جسکا رقبہ 1911میں 217مربع کلومیٹر تھا، ایک رپورٹ کے

ہر دم بڑھتے ٹریفک کے منفی اثرات!

ریاست جموںوکشمیرمیں سڑکوں پر دوڑنے والے ٹریفک میں جس پیمانے پر اضافہ ہو رہا ہے، اس سے صاف لگ رہا ہے کہ آنےو الے ایام میں راہ چلنے کےلئے شاید ہی راستہ دستیاب ہو،ا لاّ یہ کہ سڑکوں کی وسعت میں اضافہ ہو اور اگر سڑکوں میں توسیع نہیں ہوتی ہے تو بظاہر ایک ترقی یافتہ سماج کی تصویر دکھانے والی یہ صورتحال ہمارے اقتصادی محاذ کےلئے زبرست نقصان کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ روزانہ سڑکوں پر لگنے والے ٹریفک جام کے بہ سبب ہزاروں گھنٹوں کے اوقات کا ر کے زیاں کا اگر باریک بینی کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو یہ آسانی کے ساتھ کروڑوں روپے کا حامل ہوسکتا ہے۔ خاص کر وادی کشمیر میں صوتحال نہایت ہی تشویشناک بنتی جارہی ہےا ور اس میں دیہی و شہری علاقوں کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ ہر جگہ طوفان بدتمیزی کا عالم برپا ہے۔ دراصل حالیہ برسوں میں سڑکوں پر ٹریفک میں کئی گنا اضافہ ہو اہے فی الوقت کشمیر صوبہ کی سڑکوں پر 7لاکھ گاڑیاں،

جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی انہدامی کاروائی پر سوالات!

جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ناجائز تجاوزات کے نام پر انہدامی کارروائی کرتے ہوئے گالف کورس سدھرا سے ملحقہ علاقہ جات میں 22پکے مکانات سمیت 80ڈھانچوں کو مسمار کردیاہے، جس پر مقامی لوگوں میں زبردست غم وغصہ پایاجارہاہے اور انہوں نے جے ڈی اے کے اقدام پر کئی طرح کے سوالات اٹھاتے ہوئے اس کارروائی کے خلاف احتجاج بھی کیا ۔ کیونکہ مقامی آبادی کا الزام ہے کہ جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایاجارہاہے اور اس طرح سے ان کاروائیوں کو اگر جانبدارانہ ٹھہرایا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا ، حالانکہ حکام کاکہناہے کہ اس علاقے پر ناجائز قبضہ کرکے تجاوزات کھڑی کی گئی تھیں جن کو منہدم کرکے دو سو کنال اراضی بازیاب کر والی گئی ہے ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ ناجائز تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرا ت کوقانوناً جائز ٹھہرانے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ ضابطہ

ہسپتالوں میں ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے

ریاست میں براجمان حکومتیں اگر چہ وقت وقت پر شعبہ ٔ صحت میں نت نئی اسکیمیں اور پروگرام متعارف کراکے یہ عندیہ دیتی رہی ہیں کہ جموںوکشمیر میں سرکاری سطح پر صحت کی نگہداشت اور علاج و معالجہ کی بھر پور سہولیات میسر ہیں، لیکن زمینی سطح کی حالت کو دیکھتے ہوئے انتہائی مایوس کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز خطوں اور پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ہسپتالوں اور طبی مراکز پرضروری سہولیات کا فقدان عام باتیں ہیں لیکن حیرت کا مقام ہے کہ سرینگر کے صدر ہسپتال اور اس سے منسلک مختلف ہسپتالوں میں ضروری ادویات کی قلت کے بہ سبب مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ یہ ایک واشگاف حقیقت ہے کہ ان ہسپتالوں میں صرف صوبہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے آنےو الے مریضوں کا ہی دبائو نہیں ہوتا بلکہ پیر پنچال  اور چناب خطوں کے متعدد علاقوں کے مریض بھی ضروری علاج معالجہ کےلئے سرینگر کے ہی ہسپتالوں کا ر

حد متارکہ کے نزدیک آبادی۔۔۔

مواصلاتی خدمات فراہم کرنے والی سرکاری ایجنسی بی ایس این ایل (بھارت سنچار نگم لمیٹیڈ )کی طرف سے حد متارکہ کے قریب رہ رہی آبادی کیلئے ڈبلیوایل ایل ( وائرلیس لوکل لوپ)فون خدمات بند کردی گئی ہیں جس سے یہ لوگ اس جدید دور میں بقیہ دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں ۔بی ایس این ایل نے یہ قدم حال ہی میں اٹھایاہے ،جس پر مقامی لوگوں میں سخت غم وغصہ پایاجارہاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حد متارکہ کے قریبی علاقوں کے عوام کو موبائل نیٹ ورک کی خدمات میسر ہی نہیں کیونکہ تمام کمپنیاں سیکورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث ٹائور نصب نہیں کرپارہی ہیں ۔سیکورٹی وجوہات کی بناپر موبائل نیٹ ورک اور موبائل انٹرنیٹ خدمات سے محروم رکھی گئی سرحدی آبادی کے پاس مواصلات کا واحد ذریعہ یہی ڈبلیو ایل ایل کے فون تھے جن پر بندش کی وجہ سے پر مقامی لوگ بیرونی دنیا سے منقطع ہوکر رہ گئے ہیں۔یہ اقدام ایسے وقت میں کیاگیاہے جب گزشتہ دنوں ہی وزی

بحالی ٔ اعتماد کے ناگزیرا قدامات

گزشتہ دنوں وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کا یہ بیان کہ وہ کشمیر مدعے پر سب کے ساتھ گفت وشنید کر نے کو تیار ہیں ، ایک خوش آئند سوچ کاغماز ی کرتا ہے ۔ بلاشبہ یہ بیان مرکز کے رویے میں ایک خوشگوار لچک اور تازہ ہوا کے جھونکے کا تاثر دیتا ہے ۔ قبل ازیں نئی دلی نے نیویارک میں ہند پاک وزرائے خارجہ کے بیچ مجوزہ ملاقات کو مستردکر کے اپنے تیور تیکھے کئے تھے، لہٰذا’’ کشمیر پر سب سے بات‘‘ کی یہ پیش کش نرم روی کے لحاظ سے کافی دلچسپ ہے ۔ باوجود یکہ’’ کشمیر پر سب سے بات‘‘ کی گفتنی سے اسلام آباد کو بھی شامل سمجھنے کا کوئی اشارہ نہیں جھلکتا ،پھر بھی اس سے لامحالہ مترشح ہوتاہے کہ مرکز کشمیر مسئلہ پر ڈائیلاگ پروسس سے کلی اجتناب کا روادار نہیں ۔ وزیر داخلہ کے اس بیان کے پیچھے جو بھی سیاسی مقاصد کارفرما ہوں، اُن سے قطع ِنظر، کشمیر کے تند وتلخ زمینی حقائق کا تقاضا ی

تیز رفتار ڈرائیونگ کی وبا ء

 شہر سرینگر میں ٹریفک کا بحران دن بہ دن عام لوگوں کے لئے ایک بے بیاں مصیبت کی صورت اختیار کر رہا ہے، لیکن متعلقہ سرکاری ادارے ہیں کہ انکے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ آج شہر کی جس سڑک سے بھی گزرنے کا موقع ملے، ہر جانب ایک دوسرے پرچڑھ دوڑنے کی جیسے دوڑ لگی رہتی ہے اور اس ہماہمی میں ٹریفک کےمسلمہ قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا کر راہگیروں کےلئے شدید خطرات پیدا کئے جارہے ہیں۔ اگر چہ محکمہ ٹریفک کے وردیاں ڈانئے ہوئے اہلکار جابجا نظر آتے ہیں ، لیکن اسکے باوجود گاڑیاں ڈرائیو کرنے والے لوگوں کی ایک خاصی تعداد اپنے اوتاولے پن اور جلد بازی سے قواعد و ضوابط کا تمسخر اُڑانے  میں کوئی پس و پیش نہیں کرتی۔ خاص کر ٹو وہیلر سواروں کی ایک بڑی تعدا د ان خلاف ورزیوں میں پیش پیش نظر آتی ہے، لیکن انہیں روکنے ٹوکنے کے واقعات بہت ہی کم دکھنے کو ملتے ہیں۔ اور تو اور اُن سڑکوں پر بھی ،جہاں وی آئی پی م