تازہ ترین

جنوبی ایشیاء۔۔۔۔ مخدوش مستقبل

جب بھی بحران دوامی صورت میںسامنے آئے تو اس سے باہر نکلنے کےلئے غیر معمول کاوشوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ دائمی بحران میںجب بھی ایسا لگنے لگتا ہے کہ حالا ت بہتری کی طرف گامزن ہیں تو اچانک کسی نہ کسی سمت سے ایسا کچھ ہوتا ہے کہ صورتحال پھر بگڑ جاتی ہے اور حالات پھر مایوسی اور بے بسی کی جانب مڑ جاتے ہیں۔دنیا بھر میںموجود طویل العرصہ تنازعات کے حوالے سے یہ ایک حقیقت رہی ہے اور ان میں تب تک کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی جب تک کوئی نئی قیادت سامنے آکر بنیادی مواقف میں انقلابی تبدیلی لاکر عام لوگوں کو اسکے شدائید سے باز یاب نہ کرے۔ جنوبی ایشیا کا خطہ بھی اس وقت ایسے تنازعات میں گھرا ہوا ہے ، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ خطہ میں ان تنازعات کا حل تلاش کرنے کےلئے قیادت کا شدید فقدان ہے۔حالانکہ خطہ میں متعدد تنازعات موجود ہیں لیکن انکے فریقین کےدرمیان انہیں حل کرنے کا کوئی تصور

تلنگانہ اسمبلی تحلیل

 جیسے عام چناؤقریب ہوتا جا رہا ہے مختلف سیاسی پارٹیاں اپنے پتّے کھولتی جارہی ہیں۔اس عمل کو اُن کی وفاداری سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں دو بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں:بی جے پی اور کانگریس۔ چھوٹی اور مقامی پارٹیاںان سے اپنی وابستگی اور وفاداری کا ثبوت وقتاً فوقتاً دیتی رہتی ہیں تاکہ ان کی اہمیت برقرار رہے اور قومی سیاسی منظر نامے پرکم از کم ان کا نقش قائم رہے۔بعض اوقات ان چھوٹی پارٹیوں کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دونوں قومی پارٹیوںکو مجبور و بے بس کر دیتی ہے۔پہلی بارواجپئی کی ۱۳؍دن والی حکومت اس لئے قائم نہیں رہ سکی تھی کیونکہ مقامی پارٹیوں نے ان کی مدد نہیں کی تھی۔اسی طرح ۱۹۹۹ء میں واجپئی جی کی حکومت ۱۳؍مہینوں میں ڈھیر ہوگئی کیونکہ آل انڈیاڈی ایم کے نے اپنی حمایت واپس لے لی تھی لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ یہ حکومت نیشنل کانفرنس کے صرف ایک ووٹ سے گری تھی ۔