تازہ ترین

پھر وہی کہانی!

جدید دنیا میںجہاں سیاسی ، سماجی ونظریاتی سطح پر اختلافات سےبالا تر ہو کر مذہبی آزادی کو مسلّم مان کر اسکے فروغ کی وکالت کی جارہی ہے وہیںجموںوکشمیر میں اس حوالے سے اندھیرگردی کا وہ عالم بدستور موجود ہے، جو چند دہائیوں قبل یہاں شروع ہوا ہے اور ہر حکومت کی جانب سے حالات میں بہتری لانےکے بار بار کے دعوئوں کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو8محرم الحرام کا جلوس عزاء نکالنے کی اجازت دی جاتی،جبکہ چند ہفتے قبل ہی لالچوک علاقہ میں ایک دھارمک ریلی کی اجازت دیدی گئی تھی۔ ماہ محرم شروع ہوتے ہی یہ عندیہ دیا جانے لگا تھا کہ انتظامیہ عزاءداری کے جلوس نکالنے کے متعلق مثبت انداز سے سوچ رہی ہے اور یہ اُمید پیداہو چکی تھی کہ معاملے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالا جائیگا۔ خاص کر ایسے حالات میں جب کہ انتظامیہ ریاست میں صورتحال کو مختلف اندازسے برتنے کی دعویدار ہے۔ مگر کل شہر سرین

کیا ریاست واقعی اوڈی ایف ہوگئی ؟

جموں وکشمیر کو زبانی طور پر اوپن ڈیفیکیشن فری یعنی کھلے میں رفع حاجت سے مبر اریاست قرار دیاگیاہے تاہم زمینی سطح کے حقائق حکام کے دعوئوں کے بالکل منافی ہیں اور جہاں عوامی مقامات و شاہرائوں پر بیت الخلاء کی کوئی سہولیات میسر نہیںوہیں ریاست میں اب بھی بہت بڑی آبادی ایسی ہے جو بیت الخلا ء کی انفرادی سہولیات سے محروم ہے ۔حکام نے پچھلے چار سال کے دوران سوچھ بھارت مشن (گرامین ) کے تحت ریاست بھر کے دیہی علاقوں میں 11لاکھ انفرادی بیت الخلا ء اور 1350کمیونٹی بیت الخلائوں کی تعمیر کا دعویٰ کیاہے اور یہ دعویٰ بھی کیاگیاہے کہ بیس لائن سروے (Base line Survey)کے مطابق جتنے بھی بیت الخلاء تعمیرکئے جانے تھے وہ کردیئے گئے ہیں جس کے ساتھ ہی ریاست کو دیاگیاہدف پورا ہوگیا اور یہ کھلے میں رفع حاجت سے مبراہوگئی ۔تاہم اگر زمینی سطح پر حالات کاجائزہ لیاجائے تو معلوم ہوتاہے کہ یہ دعوے مکمل طور پر حقیقت پر مبنی

انسانی بستیوں میں وحوش کی دراندازی۔۔۔ ایک لمحہ فکریہ!

موسم بہار کےا ختتام کی شروعات کے ساتھ ہی وحشی درندوں کا انسانی بستیوں میں ورود پھر شروع ہوا ہے اور رواں ہفتہ کے دوران صرف جنوبی کشمیر میں کئی دیہات میںجنگلی جانوروں اورعام شہریوں کے درمیان تصادم آرائیوں کےنتیجہ میں کئی افرادز خمی ہوگئے ہیں جن میں سے دو روز قبل ہی ایک شخص زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا۔ ایسے ہی کئی واقعات پیر پنچال اور چناب خطےکے علاقوں میں بھی پیش آئے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟۔ اس کے بارے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ وحوش کے رہائشی علاقے دن بہ دن سکڑتے جارہے ہیں اور انہیںغذا کے مسائل درپیش ہورہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ انسانی بستیوں میں گھس آتے ہیں تاکہ اپنے وجود کو برقرار رکھ سکیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ بستیوں میں انکی آمد سے خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہونے کی وجہ سے تصادم آرائیوں کی نوبت آتی ہے، جو دونوں جانب سے نقصان پر منتج ہوتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ عام شہریوں می

ٹھاکرائی حادثہ۔۔۔۔۔۔ ایک خطرناک انتباہ

گزشتہ دنوں کشتواڑ کے ٹھاکرائی علاقے میں رونما ہوئے المناک سڑک حادثے نے حادثات کی روک تھام کے تئیں حکام کی غیر سنجیدہ روش کا ایک بار پھر ثبوت دیاہے ۔خطہ چناب کے پہاڑی علاقوں کی دشوار گزار اور خستہ حال سڑکوں پرہر کچھ عرصہ کے بعد دلدوز سڑک حادثے کا رونما ہونا ایک معمول بن گیاہے، جس کے نتیجہ میں آج تک درجنوں قیمتی انسانی جانوں کو ضیاں ہوچکاہے جبکہ لوگوں کی اس سے کہیں زیادہ تعداد شدید زخمی ہو کر زندگی بھر کیلئے محتاجی کی زندگی بسر کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں ۔ٹھاکرائی حادثہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں سترہ افراد لقمہ ٔاجل بن گئے جبکہ سولہ افراد موت و حیات کی کشمکش میں مبتلاءہیں ۔اس حادثے کی دو وجوہات بتائی جاری ہیں۔ ایک تیز رفتار ڈرائیونگ اور دوسری اوور لوڈنگ اور عینی شاہدین کاکہناہے کہ میٹاڈور گاڑی میں ضرورت سے زیادہ مسافر سوار تھے۔عام طور پرخطہ چناب اور خطہ پیر پنچال میں ٹریفک حکام کی

مہنگائی مار گئی!

   چار سال سے زائد عرصہ قبل نریندر مودی کی سربراہی میں بھاجپا نے مرکزمیں اقتدار سنبھالا تو لوگوں کی اُمیدیں بندھی تھیںکہ کچھ نہیں تو کم از کم انہیں مہنگائی سے چھٹکارا ملے گا، روزگار ملے گا، زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم ہوںگی۔ آج یہ سب چیزیں خواب وخیال لگتے ہیں ۔ عام جنتا کے لئے اچھے دنوں کا مدعا ومقصد اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات پاکر سُکھ چین کی زندگی گزاریں ۔ بلاشبہ بھاجپا کی کامیابی کے پیچھے اصل راز بھی یہی تھا کہ لوگوں کی اکثریت ملکی معیشت میں ایک دیرپا اور نتیجہ خیز تبدیلی کے خواہاں تھے تاکہ انہیں روز مرہ مسائل ومشکلات کے  بھنورسے گلو خلاصی ملے۔ تبدیلی کے اسی خواب کو مودی نے بروقت بھانپ کر عام لوگوں کی اس قلبی آرزو کو ایک سیاسی حقیقت میں بد لنے کی ٹھان لی تھی اور اپنی کارگر و موثر تشہیری اسٹرٹیجی وضع کرکے خودکو کانگریس کے متباد

جنوبی ایشیاء۔۔۔۔ مخدوش مستقبل

جب بھی بحران دوامی صورت میںسامنے آئے تو اس سے باہر نکلنے کےلئے غیر معمول کاوشوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ دائمی بحران میںجب بھی ایسا لگنے لگتا ہے کہ حالا ت بہتری کی طرف گامزن ہیں تو اچانک کسی نہ کسی سمت سے ایسا کچھ ہوتا ہے کہ صورتحال پھر بگڑ جاتی ہے اور حالات پھر مایوسی اور بے بسی کی جانب مڑ جاتے ہیں۔دنیا بھر میںموجود طویل العرصہ تنازعات کے حوالے سے یہ ایک حقیقت رہی ہے اور ان میں تب تک کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی جب تک کوئی نئی قیادت سامنے آکر بنیادی مواقف میں انقلابی تبدیلی لاکر عام لوگوں کو اسکے شدائید سے باز یاب نہ کرے۔ جنوبی ایشیا کا خطہ بھی اس وقت ایسے تنازعات میں گھرا ہوا ہے ، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ خطہ میں ان تنازعات کا حل تلاش کرنے کےلئے قیادت کا شدید فقدان ہے۔حالانکہ خطہ میں متعدد تنازعات موجود ہیں لیکن انکے فریقین کےدرمیان انہیں حل کرنے کا کوئی تصور

تلنگانہ اسمبلی تحلیل

 جیسے عام چناؤقریب ہوتا جا رہا ہے مختلف سیاسی پارٹیاں اپنے پتّے کھولتی جارہی ہیں۔اس عمل کو اُن کی وفاداری سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں دو بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں:بی جے پی اور کانگریس۔ چھوٹی اور مقامی پارٹیاںان سے اپنی وابستگی اور وفاداری کا ثبوت وقتاً فوقتاً دیتی رہتی ہیں تاکہ ان کی اہمیت برقرار رہے اور قومی سیاسی منظر نامے پرکم از کم ان کا نقش قائم رہے۔بعض اوقات ان چھوٹی پارٹیوں کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دونوں قومی پارٹیوںکو مجبور و بے بس کر دیتی ہے۔پہلی بارواجپئی کی ۱۳؍دن والی حکومت اس لئے قائم نہیں رہ سکی تھی کیونکہ مقامی پارٹیوں نے ان کی مدد نہیں کی تھی۔اسی طرح ۱۹۹۹ء میں واجپئی جی کی حکومت ۱۳؍مہینوں میں ڈھیر ہوگئی کیونکہ آل انڈیاڈی ایم کے نے اپنی حمایت واپس لے لی تھی لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ یہ حکومت نیشنل کانفرنس کے صرف ایک ووٹ سے گری تھی ۔

پنچایتی وارڈ بندیوں میں ریزرویشن

ریاستی حکومت کی طرف سے پنچایتی و بلدیاتی چنائو کا اعلان کردیاگیاہے اور اب انتخابات کے عمل کو انجام دینے کیلئے ہر سطح پر تیاریاں کی جارہی ہیں ۔تاہم اس حوالے سے مرتب کی گئی نئی وارڈ بندیوں اور فہرستوں میں کہیں کہیں لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے جس پر متعلقہ عوام سراپا احتجاج ہیں ۔ان انتخابات میں درج ذیل طبقوں کیلئے کچھ وارڈوں کو مختص رکھاگیاہے لیکن اس عمل میں ہر جگہ انصاف سے کام نہیں لیاگیا اور کچھ ایسے وارڈ بھی مخصوص زمروںکیلئے مختص کردیئے گئے ہیں جن میں اکثریت دوسرے طبقوںکے لوگوں کی ہے ۔یہ معاملہ خطہ پیر پنچال میں زیادہ پریشانی کا باعث بناہواہے جہاں لوگ غیر منصفانہ طور پر کی گئی وارڈ بندی کے خلاف دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں اور انہی وجوہات کی بناپر اس خطے کا سماج پہلے سے ہی تقسیم درتقسیم ہو چکا ہے ۔ حال ہی میں اس معاملے پر تھنہ منڈی میں احتجاج بھی کیاگیا جہاں دو ایسے وارڈوں کوایک مخصوص ز

آوارہ کُتے۔۔۔۔ہر دم بگڑتی صورتحال!

وادی کے مختلف علاقوں میں حالیہ ایام کے دوران آوارہ کتوں کے حملوں میں زخمی ہونے والے شہریوں کی تعدادمیں جس تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے وہ نہایت ہی تشویشناک ہے۔ میڈیا کے توسط سے ملنے والی خبروں کے مطابق شہر اور قصبہ جات میں ایسے واقعات کی تعداد سینکڑوں میں ہے جبکہ دیہات کے اندر صورتحال زیادہ ہی خطرناک بنتی جارہی ہے، جس کی بنیادی وجہ آوارہ کتوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہے۔اس صورتحال سےیہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آئندہ برسوں کے اندر عوام کو کس بدترین صورتحال کا سامنا ہوگا، الایہ کہ ان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو کرنے کےلئے کوئی ہنگامی اور مؤثر  اقدام کیا جائے۔ لیکن فوری طور پر ایسی کوئی امید دور دور تک نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ وادی کے مرکز سرینگرکی میونسپل کارپویشن نے کتوں کی نسبندی کرانے کا ایک جدید ترین مرکز قائم کرنے کا منصوبہ مرتب کیا تھا، لیکن تا ایں دم یہ صرف کاغذات تک ہی

نئے کالجوں کا قیام

ریاستی انتظامی کونسل نے جموں وکشمیر میں 40نئے ڈگری کالجوں کے قیام کو منظوری دی ہے جس میں 26وہ کالج بھی شامل ہوں گے جن کو پہلے سے ہی منظوری دی جاچکی ہے ۔یہ فیصلہ ریاست میں اعلیٰ تعلیم کی فراہمی میں اہمیت کا حامل ثابت ہوگا اور اگر ان کالجوں کا قیام انصاف کے تقاضوں کو پوراکرتے ہوئے عمل میں لایاگیاتو یقینی طور پر کئی علاقوں کے طلاب کا مستقبل سنور سکتاہے ۔ریاست کے دوردراز علاقوں میں نئے ڈگری کالجوں کے قیام کی نہ صرف ضرورت ہے بلکہ کافی عرصہ سے اس کا مطالبہ بھی کیاجارہاتھا جس کو دیکھتے ہوئے سابق ادوار میں بھی کئی نئے کالجوں کا قیام عمل میں لایاگیاتاہم بدقسمتی سے بیشتر کالجوں کے معاملات میں سیاسی مصلحت سے کام لیاگیا جس سے کئی حقدار علاقے نظرانداز ہوکر رہ گئے ۔انہی سیاسی نوعیت کے فیصلوں کے خلاف خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب سمیت ریاست کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور لوگوں نے کالجوں کے قی

تعلیمی نظام نقائص کا مجموعہ کیوں؟

  رائج الوقت نظام ِ تعلیم کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ یہ فرسودہ ہے ، لایعنی ہے اور صرف تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی فوج بڑھا تاجارہاہے ۔ اس میں بھی دورائے نہیں کہ یہ صرف تعلیم کی بارگاہ ہے جس کے بل پر ہم نے تاریک فضاؤں ا ورمایوس کن حالات میں بھی اپنی خداداد لیاقت و قابلیت کا ڈنکا بجایا اور ذہانت کی قندیلیں روشن کیں ۔ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے طلبہ وطالبات میں بہترین صلاحیتوں کا فقدان ہے یا وہ ستاروں سے آگے جانے کی قوت ِ پرواز سے محروم ہیں بلکہ اصل بیماریاں یہ ہیں کہ تعلیم وتعلم کا مردم ساز مشن اپنی جہت بھی کھو گیا ہے اور مقصدیت بھی۔ اس لئے تعلیم کا مطلب صرف ڈگریوںکے حصول تک محدود ہے۔ تعلیم کے نور سے قوم کی اخلاقی تعمیر نو منور کر نے کانظریہ سرے سے ہماری نظروں سے اوجھل ہے ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ سماج میں اساتذہ کی تعظیم وتکریم کو بٹہ لگا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ کبھی اساتذہ کی

ٹریفک حادثات۔۔۔غیر طبعی ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ!

ریاست میں متواتر سٹرک حادثات انتہائی تشویشناک کا باعث بنتے جارہے ہیں۔ اب مشکل سے کوئی ایسا دن گزرتا ہوگا، جس دن سٹرک حادثے میں کو ئی موت واقع نہ ہوتی ہو۔ اگر چہ حکومت کی جانب سے ٹریفک حادثات کو قابوکرنے کےلئے آئے روز نت نئی حکمت عملیاں ترتیب دینے کے دعوے کئے جاتے رہے ہیں لیکن زمینی سطح پر کی صورتحال کو دیکھتےہوئے سب ٹائیں ٹائیں فش نظر آتا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی ایک سروے کے مطابق ریاست اس وقت حادثاتی اموات کے حامل علاقہ جات میں سرفہرست ہے اور پیش آنے والے حادثات میں 64 فیصد ہلاکتوں کے امکانات پائے جاتے ہیں جو دیگر ریاستوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ میّسر اعداد و شمارے کے مطابق گزشتہ تین برسوں کےد وران تواتر کے ساتھ سالانہ کم و بیش ایک ہزار کےآس پاس افراد حادثات کا شکار ہو کر لقمہ ٔ اجل ہوگئے۔ا س طرح اگر سڑک حادثات کو غیر طبعی اموات کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جائے تو یہ غلط

ترکانجن واقعہ ۔۔۔۔ اور کتنا گرے گا ہمار ا سماج؟

رواں سال کے آغار میں جب کٹھوعہ کے مضافاتی علاقہ رسانہ میں ایک کمسن لڑکی کی مبینہ اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ سامنے آیا تو نہ صرف پوری ریاست سکتے میں آگئی بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اُس بہیمانہ واقعہ کے خلاف برہمی کا اظہار کیاگیا۔احتجاجی مظاہرے ہوئے اور انسانی سماج میں اخلاقی قدروں کی تنزلی پرتشویش ظاہر کی گئی ۔گوکہ ابھی وہ کیس عدلیہ میں زیر سماعت ہے اور انسانیت سوز واقعہ میں ملوث افراد کو سزا ملنی باقی ہے تاہم اسی دوران گزشتہ دنوں کٹھوعہ سے بہت دور وادی کشمیر کے سرحدی علاقہ ترکانجن اوڑی میں9سالہ کمسن بچی کی اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کا دل دہلانے والا واقعہ منظر عام پر آگیا ۔یہ واقعہ کٹھوعہ سانحہ کے مقابلے میں زیادہ کٹھور ہے کیونکہ اس میں کوئی غیر ملوث نہیں ہیں بلکہ حیوانیت کے اس فعل میں گھر کے اپنے لوگ ملوث ہیں۔یہ اپنے آپ میں رونگٹے کھڑا کردینے والی درد ناک کہانی ہے

منشیات کازہر :سنجیدہ اقدامات کی ضرورت

ریاستی پولیس کے سربراہ نے منشیات کی لت کو نوجوان نسل کیلئے تباہ کن قرار دیاہے اور حقیقی معنوں میں یہ ایک ایسی وبا ہے جس نے کثیر تعداد میں نوجوانو ں کی زندگیاں لپیٹ میں لی ہیںاور یہ نوجوان بری صحبتوں میں مبتلا ہوکر راہ راست سے بھٹک گئے ہیں ۔یہ ایک ایسا خطرہ ہے جس سے آج کی نوجوان نسل دوچار ہے تاہم اس کی نشاندہی سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کا قلع قمع کرنے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کئے جائیں۔اس وبا کی زد میں آکر ریاست کے ہر ایک خطے میں نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہورہاہے اور حالیہ مہینوں ایسی کئی پراسرار اموات واقع ہوئی ہیں جن کیلئے منشیات کے استعمال کو ہی ذمہ دارٹھہرایاجارہاہے ۔خاص طور پرخطہ جموں میں منشیات کا استعمال تیزی سے پھل پھول رہاہے جو پریشانی کا امر ہے ۔پولیس کی طرف سے منشیات مخالف کارروائی چلاکر کروڑوں مالیت کی ہیروئن و دیگر نشیلی اشیاء برآمد کرنے کے دعوے تو کئے جاتے ہیں جب

ہسپتالوں میں ادویات کی قلت کیوں؟

ریاست میں براجمان حکومتیں اگر چہ وقت وقت پر شعبہ ٔ صحت میں نت نئی اسکیمیں اور پروگرام متعارف کراکے یہ عندیہ دیتی رہی ہیں کہ جموںوکشمیر میں سرکاری سطح پر صحت کی نگہداشت اور علاج و معالجہ کی بھر پور سہولیات میسر ہیں، لیکن زمینی سطح کی حالت کو دیکھتے ہوئے انتہائی مایوس کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز خطوں اور پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ہسپتالوں اور طبی مراکز پرضروری سہولیات کا فقدان عام باتیں ہیں لیکن حیرت کا مقام ہے کہ سرینگر کے صدر ہسپتال اور اس سے منسلک مختلف ہسپتالوں میں ضروری ادویات کی قلت کے بہ سبب مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ یہ ایک واشگاف حقیقت ہے کہ ان ہسپتالوں میں صرف صوبہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے آنےو الے مریضوں کا ہی دبائو نہیں ہوتا بلکہ مغل روڑ کے توسط سے خطہ پیر پنچال کے بیشتر علاقوں کے مریض بھی ضروری علاج معالجہ کےلئے سرینگر کے ہی ہسپتالوں ک

دور افتادہ علاقوں میں محکمہ تعلیم کاحال بے حال!

 ریاست کے دور افتادہ علاقوں میں قائم سرکاری سکولوں میں تدریسی عملے کی قلت نے پریشان کن صورتحال پیدا کردی ہے اور طلاب کا غم وغصہ اس حد تک پہنچ چکاہے کہ انہوں نے بطور احتجاج سکولوں کو ہی مقفل کرنا شروع کردیاہے ۔حالیہ کچھ دنوں کے دوران متعدد ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں طلبا اورمقامی لوگوں نے محکمہ تعلیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سکولوں کو مقفل کیاہو۔یہ سلسلہ گزشتہ ہفتے راجوری کے کالاکوٹ کے ہائی سکول متھیانی سے شروع ہواجہاں طلاب کے مطابق انہیں پڑھانے کیلئے محض چھ اساتذہ تعینات ہیں جس کے بعد پونچھ کے چھمبر کناری منڈی کے ہائی سکول میں بھی طلاب نے بطور احتجاج ادارے کو مقفل کردیا ۔چھمبر کناری کے اس ہائی سکول میں تو محکمہ تعلیم کا خدا ہی حافظ ہے جہاں صرف چار اساتذہ تعینات ہیں جن کے بارے میںبھی سکول میں حاضر نہ رہنے کی شکایات ہیں ۔اسی طرح سے راجوری کے چٹیار علاقے میں بھی ایک ہائی سکول

کشمیر:حل میں سب کی بھلائی

 پاکستان کی وفاقی وزیر برائے حقوق انسانی شریں مزاری نے حال ہی میں اپنے ایک ٹاک شو کے دوران دعویٰ کیا کہ انہوں نے کشمیر حل کے ضمن میں اپنی تجویز مرتب کی ہے جسے وہ وزیراعظم عمران خان سمیت اپنے کابینی ساتھیوں اور دیگر سٹیک ہولڈروں کے سامنے عنقریب پیش کر رہی ہیں ۔ یہ تجویز کیا ہے ،اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ قبل ازیں جنرل مشرف نے بھی اپنے دورِحکومت میں اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر اپنا آوٹ آف بکس کشمیر حل وضع کیا جسے تاریخ چار نکاتی فارمولہ سے موسوم کر تی ہے مگر یہ فارمولہ بھی حسب سابق نقش برآب ثابت ہوا ۔ وجہ ظاہر ہے کہ جب تک نئی دلی سے کشمیر حل کے کسی فارمولے یا تجویز کو پذیرائی اور قبولیت نہیں ملتی ،اس وقت تک مسئلہ کشمیر کا حتمی حل ایک خواب وسراب بن کر رہے گا ۔یہ ایک کھلا راز ہے کہ گزشتہ اٹھائیس سال سے وادی ٔ کشمیر میں کشت و خون کا باز ار مسلسل گرم ہے ۔ اس طوی

نجی اسکولوں کی تیز رفتار گاڑیاں!

ریاست میں پرائیوٹ سکول کی طرف سے فراہم کی جانی والی ٹرانسپورٹ سہولیات پر توجہ دینے کےلئے محکمہ تعلیم نے اگر چہ نجی سکولوں کے منتظمین کو واضح ہدایات دے رکھی ہیں اور اس حوالے سے ایک سرکاری ہدایت نامہ بھی موجود ہے، لیکن اسکے باوجود کئی سکولوں کی جانب سے ان ہدایات کو نظر انداز کرنے کے معاملات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اگر چہ اسکولوں کی مختلف انجمنیں بھی اپنے اراکین کو اُن ہدایات، جو اصل میں عدلیہ کے احکامات کے مطابق  مرتب کی گئی ہیں، پر عمل درآمد کیلئے زور ڈالتی رہتی ہیں،لیکن اسکے باوجود روزانہ سڑکوں پر ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، جب طلبہ کو لانے لے جانے والی یہ گاڑیاں طوفانی رفتار کے ساتھ چلتی ہوئی دیکھی جاسکتی ہیں ۔ خاص کر جن گاڑیوں میںچھوٹی کلاسوں کے بچے سوار ہوتے ہیں انہیں تیز رفتاری کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھ کر دیکھنے والوں کا دل دہل جاتا ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ سبھی کو اس میں شمار

آبگاہوں کی حفاظت۔۔۔ اولین ترجیح ہو!

 حکومت ریاست کے اندر آبگاہوں میں پیدا ہونے والی آلودگی اور ناجائز تجاوزا ت کے حوالے سے محترک ہوگئی ہے اور اس حوالے سے مؤثر اور مربوط ،کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں ہائوس بوٹوں کے بدرو کو پانی میں گھل مل جانے سے بچانے کےلئے ٹینکوں کے استعمال کاجائزہ لیا جائیگا۔ علاوہ ازیں جھیل کے داخلی حصے میں تجاوزات کو ہٹانے اور تعمیرات کو منتقل کرنے پر بھی خو ر و خوض کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے ایسے اقدام مثبت اپروچ کے حامل ہیں تاہم اس کےلئے ضروری ہے کہ اس عمل میں جن غیر سرکاری اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی ان کےلئے ضوابط کو معقول بنیادوں پر استوار کیاجانا چاہئے تاکہ ایسے اقدامات صرف کسی کی جیبیں بھرنے کا سبب نہ بنے ہمارے لئے یہ ایک المیہ سے کم نہیں کہ ہم بحیثیت قوم اخلاقی اور انسانی قدریں ہی نہیں بلکہ حس انسانیت بھی  بڑی تیزی سے کھو رہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک نہیں درجنوں

بوسیدہ پائپ لائنوں کی فوری مرمت کی ضرورت

آبی ذخائر سے مالا مال ریاست جموں وکشمیر میں قلت ِآب کا مسئلہ دن بدن سنگین رخ اختیا رکرتاجارہاہے اور اس بات کا اندیشہ پیدا ہونے لگاہے کہ اگرماحولیاتی توازن کے بگڑنے کا سلسلہ اسی طرح سے جاری رہاتو عنقریب ریاست کو قحط سالی کی صورتحال کاسامناکرناپڑسکتاہے ۔بلاشبہ ماحولیاتی توازن بگڑنے سے ریاست میں روایتی آبی ذخائر سکڑتے جارہے ہیں جو پانی کی قلت کی ایک بڑی وجہ ہے تاہم متعلقہ حکام بھی انتہائی درجہ بے حس بنے ہوئے ہیں جو دہائیوں پرانی اور بوسیدہ ہوچکی پائپ لائنوں، جن کی وجہ سے ہزاروں لیٹر پانی ضائع ہوجاتا ہے، کی مرمت کیلئے اقدامات نہیں کررہے اور نہ ہی نئی واٹر سپلائی سکیموں کی مناسب دیکھ ریکھ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ ان دنوں برسات کی وجہ سے جموں خطہ میں پانی کی قلت اتنی زیادہ نہیں لیکن لوگوں کو پینے کیلئے صاف پانی سپلائی نہیں ہورہا جس کے باعث بیماریوں کے پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے ۔اگر ب