کو رپشن ایک مہلک ناسور!

  ریاستی گورنر ستیہ پال ملک پہلے دن سے کورپشن کو ریاست کاسب سے بڑا سنگین مسئلہ بتلا کر دُکھتی رگ پر انگلی رکھتے چلے آئے ہیں۔ انہوں نے بارہا اس نا سور کو ختم کر نے کا اپنا عزم بالجزم باندھا جس کا سنجیدہ اور مخلص لوگ ہمیشہ سراہنا کرتے ہیں۔ اب زمانے کی نگاہیں بڑی بے صبری کے ساتھ منتظر ہیں کہ کن گورنر اپنے اس نیک عزم کو مکمل طور عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ لوگ باگ چاہتے ہیں کہ بدعنوان عناصر کا یوم ِ حساب آنا چاہیے ۔ اس میں کوئی رتی بھر بھی شک نہیں کہ ریاست میں بد عنوانیوں کا گھنا جنگل پھل پھول رہاہے مگر یہ جنگل کسی آسمان سے نہیں اُترا بلکہ اسی سرزمین میں پہلے  خود غرضانہ سیاست نے اس کی تخم ریزی کی ، افسر شاہی نے اس کی آب پاشی کی ، سیاسی کلچر نے اس کو سر سبز وشاداب رکھا اور اب یہ اپنے کڑوے کسیلے پھل پورے سماج کی جھولی میں ڈالتا جارہاہے ۔ سچ مچ کورپشن کے سمندر میں جن