تازہ ترین

آب گاہوں کی بدحالی۔۔۔۔۔ کہاں تلک یہ کاروبار چلے!

وادی کشمیر ، جو کسی زمانے میں اپنی جھیلوں، آبگاہوں اور چشموں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھی اور کرۂ ارض کے یمین ویسار سےمشاہدۂ فطرت کےشیدائی جوق درجوق یہاں آتے تھےلیکن آج حسن فطرت کے اس سرمائے سے ہماری یہ سرزمین تیزی کے ساتھ محروم ہو رہی ہے کیونکہ ان آبگاہوں پر ایک جانب سے ناجائز تجاوزات اور دوسری جانب سے آلودگی کی جو یلغار جاری ہے وہ مستقبل میں ایک خوفناک صورتحال کا نقشہ استوار کر رہی ہے۔ اس صورتحال کےلئےجہاں ایک جانب لوگ ذمہ دار ہیں، وہیں دوسری جانب سے انتظامی صیغے ان آبگاہوں، خاص طور پر جھیل ڈل اور ولر، میں تجاوزات او ر آلودگی کےمختلف اسباب کےتئیں متواتر بےحسی کا مظاہرہ کرتےرہےہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے ذریعے  بار بار کشمیر میں جھیلوں اور آبگاہوں کی تباہی کا جو نقشہ ابھر کر سامنے آتا ہے، اس کو دیکھ کر کسی بھی ذی حس انسان کا جگر پاش پاش ہوسکتا ہے۔جھیل ڈل کا رقبہ چالیس فی