تازہ ترین

افرا تفری کا عالم کیوں؟

پچھلے کچھ ہفتوںسے سوشل میڈیا پر پے درپے ایسے سرکاری احکامات وائرل ہوئے ہیں جن سے ریاست بھر میں افرا تفری کا بازار گرم ہوا اور لوگوں میں اس قدر خوف اور دہشت کا ماحول پیدا ہورہا ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔پہلے تو ریاستی انتظامیہ ایسے سرکولر اور احکامات سے انکار کرتی رہی لیکن گزشتہ ایک ہفتہ سے پہلے ریلوے ملازمین اور پھر یاتریوں اور سیاحوں سے متعلق جاری ہونے والے احکامات نے سب پر خوف طاری کردیااور اس کے بعد متعددہسپتالوں کی انتظامیہ کی طرف سے ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کرنے ، این آئی ٹی اور دیگر اداروں میں زیر تعلیم طلباء کو واپس اپنے گھروں بھیجنے ،ضلع کرگل کے تمام مجسٹریٹس کو ڈیوٹی پر حاضر رہنے و دیگر ایسے حکمناموں نے ان افواہوں کو تقویت بخشی جو پہلے سے ہی سرگرم تھیں ۔قابل ذکر ہے کہ ان میں سے کئی احکامات سرکاری طور پر جاری کئے جانے کے پہلے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے جس کے نتیج

نظام ِتعلیم ۔۔۔اصلاحات ضروری کیوں ؟

   رائج الوقت نظام ِ تعلیم کے بارے میں بیک وقت دو متضاد آراء پائی ہیں : اول یہ فرسودہ ہے ، لایعنی ہے ، صرف تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی فوج بڑھا تاجارہاہے ،دوم یہ صرف قلم اور کتاب ہے جن کے بل پر ہم نے تاریک فضاؤں ا ورمایوس کن حالات میں بھی اپنی لیاقت و قابلیت کا ڈنکا بجایا ، اپنی خداداد ذہانت کی قندیلیں روشن کیں۔ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے طلبہ وطالبات میں بہترین صلاحیتوں کا فقدان ہے یا وہ ستاروں سے آگے جانے کی قوت ِ پرواز سے محروم ہیں بلکہ اصل بیماریاں یہ ہیں کہ تعلیم وتعلم کا مردم ساز مشن اپنی مقصدیت کے ساتھ اپنی جہت بھی کھو گیا ہے اور مقصدیت بھی۔ اس لئے تعلیم کا مطلب صرف ڈگر یوں کے حصول تک محدود ہے، تعلیم کے اینٹ گارے سے قوم کی اخلاقی تعمیر نو کا کام  لینے کانظریہ سرے سے نظروں سے اوجھل ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سماج میں اساتذہ کی تعظیم وتکریم کو بٹہ لگا ہے۔ اس کا واضح ثبوت

لالچوک۔۔۔۔ بار بار سیلابی صورتحال کیوں؟

ریاست میں شہر وں اور قصبوں کے اندر پانی کے نکاس کا نظام دن بہ دن تنزلی کا شکار ہو رہا ہے اور انتظامیہ کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود اس میں بہتر ی لانے کےلئے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو جمعرات  کی صبح ہوئی برساتی بوچھاڑوں سے ریاستی دارالحکومت سرینگر کے قلب لالچوک کی سڑکوں پر سیلابی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف راہگیروں کے عبور و مرور میں زبردست مشکلات پیش آگئیں بلکہ پانی دوکانوں کے اندر چلا گیا جس کی وجہ سے متعدد تاجروں کو لاکھوں روپے نقصان کا شکار ہونا پڑا۔یہ ساری صورتحال دراصل ہمارے کم و بیش سبھی شہروں اور قصبہ جات میں نکاسی آب کے ناقص نظام کا غماز ہے، جو اُسی وقت اپنا چہرہ کھل کر دکھاتا ہے، جب موسمی حالات میں تبدیلی آتی ہے۔ڈرینوں اور نالیوں کی ساری خامیاں ایسے ہی صورتحال میں کُھل کر سامنے آتی ہیں۔ آج شہر میں متعدد علاقوں میں

اسکولی بچوں کےلئے ٹرانسپورٹ سہولیات

تعلیمی شعبہ چونکہ ہر سماج میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتاہے، لہٰذا اس میں موجود خوبیوں اور خامیوں کو سماجی سطح پر زیر بحث ضرور لایا جانا چاہئے۔ فی الوقت ریاست میں نجی تعلیمی شعبہ کا ایک اہم رول ہے اور لاکھوں بچے اس کے توسط سے تعلیم حاصل کر کے زندگی کے ابتدائی مراحل کی تربیت میں مصروف ہیں، لہٰذا سماج کی مثبت ترقی میں اس کے رول کو نظر انداز نہیں جاسکتا، تاہم متعدد معاملات ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔پرائیوٹ سکولوں کی طرف سے فراہم کی جانی والی ٹرانسپورٹ سہولیات میں بہتری لانے کےلئے محکمہ تعلیم نے اگر چہ نجی سکولوں کے منتظمین کو واضح ہدایات دے رکھی ہیں اور اس حوالے سے ایک سرکاری ہدایت نامہ بھی موجود ہے، لیکن اسکے باوجود کئی سکولوں کی جانب سے ان ہدایات کو نظر انداز کرنے کے معاملات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اگر چہ اسکولوں کی مختلف انجمنیں بھی اپنے اراکین کو اُن ہدایات، جو اصل میں عدلیہ کے احک

غیر معیاری ادویات۔۔۔۔ مریضوں کی کون سنے؟

وادی ٔکشمیر میں برسو ں طویل سیاسی غیر یقینیت اور عوامی بے چینی کے سبب ہر شعبہ ?زندگی میں بہت سارے گھمبیر مسائل کا گھنا جنگل اْ گ آیا ہے۔ اس جنگل میں چونکہ آ دم خور درندو ں کی بو دو با ش کا بڑا اہتمام ہے، اس لئے وہ آرام سے زند گی کی ہر قیمتی شئے کو نو چ کھا رہے ہیں بلکہ یہ انسا نیت کے حسین چہرے کو بد نما بنا نے میںکو ئی کسر نہیں چھو ڑتے۔غیر معیاری ادویات کی رسو ائے زما نہ تجا رت اسی سلسلے کی ایک اہم کڑ ی ہے۔ خو د ہی اندازہ کیجئے کہ جو بد قما ش عنا صر دوا کے بدلے لو گو ں کو زہر بیچ رہے ہو ں ، جو پیشہ ٔ طب جیسے عظیم اور مقدس خد مت کو اپنی نفسانیت کی پرستش میں پا ما ل کر نے کا نا قابل معافی جرم کر رہے ہو ںاور جن کی نگا ہ میں انسانی جا نو ں یا انصاف کے قدرو ں کی رتی بھر بھی اہمیت نہ ہو، کیاان کو جنگلی جا نو رو ں میں بھی شما ر کیا جا سکتا ہے ؟ نہیں ، قطعی طور نہیں۔ ستم بالا ئے ستم یہ کہ ا

آدھی ادھوری سڑکوں کی تکمیل کب ہوگی؟

سرکار کی طر ف سے اس با ت کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں کہ گائوں گائوں کو سڑک روابط سے جوڑاگیاہے لیکن ان دعوئوں کی قلعی بارشوں کے موسم میں کھل کر سامنے آجاتی ہے جب آدھی ادھوری سڑکیں مقامی آبادی کیلئے باعث عذ اب بن جاتی ہیں اور پھسلن پیدا ہونے اور نکاسی کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے زمینوں اور گھروں کو بھی نقصان پہنچتاہے ۔ ایسی صورتحال میں ان سڑکوں پر گاڑیاں بھی نہیں چل پاتیں اور مسافرمیلوں کاسفر پیدل طے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ٍاس حوالے سے رابطہ سڑکوں کی تو بات ہی نہیں ریاست کی سب سے اہمیت کی حامل جموں ۔سرینگر شاہراہ کا حال بھی یہ ہے کہ بانہال سے لیکر اودھمپور تک جگہ جگہ پسیاں اور پتھر گرآنے کا سلسلہ جاری رہتاہے، جس سے نہ صرف مسافروں کی جان کوخطرہ لاحق رہتاہے بلکہ گاڑیاں نقصان سے دوچار ہوجاتی ہیں اور ٹریفک بھی معطل ہوکر رہ جاتاہے ۔گزشتہ روز بھی شدید بارش کے دوران شاہراہ کے اس حصے پر زبردست

کو رپشن کے خلاف بھر پور جنگ!

 ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے ریاست میں کورپشن کے بڑھتے ہوئے ناسور پر پھر ایک بار اپنے خیالات کو بغیر کسی لاگ لپٹی کے اظہار کی زبان دی ۔ سچ یہ ہے کہ وہ پہلے دن سے کورپشن کو ریاست کاسب سے بڑا سنگین مسئلہ بتلا تے چلے آئے ہیں۔ ریاست کا عام آدمی چاہتا ہے کہ بدعنوان عناصر کا یوم ِ حساب جلد سے جلد آنا چاہیے ۔ اس میں کوئی رتی بھر بھی شک نہیں کہ ریاست میں بد عنوانیوں کا گھنا جنگل پھل پھول رہاہے مگر یہ جنگل کسی آسمان سے بنا بنایا نہیں اُترا بلکہ اسی سرزمین خود غرضانہ سیاست نے اس کی تخم ریزی کی ، افسر شاہی نے اس کی آب پاشی کی ، عدم جوابدہی سے معمور سیاسی کلچر نے اس کو سر سبز وشاداب رکھا اور چلتے چلتے اب یہ جنگل اپنے کڑوے کسیلے پھل کانٹوں کی صورت میں پورے سماج کی جھولی میں ڈال رہاہے ۔ کورپشن کے سمندر میں جن بڑے بڑے مگرمچھوں نے سرکاری خزانوں کونگل ڈالاوہ بقول گورنر ملک شاہانہ زندگی گزار

نکاسیٔ آب کانظام

 ریاست کے دارالحکومتی شہر سرینگر میں نکاسی آب کی صورت انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ چند گھنٹوں کی بوچھاڑوں کے ساتھ ہی سڑکیں اور گلی کوچے ندی نالوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف عام لوگوں کو عبور و مرور میں مشکلات درپیش آتی ہیں ، بلکہ لوگوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کی وجہ سے شہر کے اہم اور مقبول تجارتی مراکز میں کاروباری حلقوں کو زبردست مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ساری صورتحال دراصل ہمارے کم و بیش سبھی شہروں اور قصبہ جات میں نکاسی آب کے ناقص نظام کا غماز ہے، جو اُسی وقت اپنا چہرہ کھل کر دکھاتا ہے، جب موسمی حالات میں تبدیلی آتی ہے۔ڈرینوں اور نالیوں کی ساری خامیاں ایسے ہی صورتحال میں کُھل کر سامنے آتی ہیں۔ آج شہر میں متعدد علاقوں میں بڑی ڈرینوں کے ساتھ ملنے والی چھوٹی نالیوں کا پانی گلی کوچوں کو ندی نالوں میں تبدیل کرتا ہےکیونکہ بڑی ڈرینوں

آوارہ کتے ۔۔۔۔ ہر سُو ہر جاء!

وادی میں روزانہ کتوں کی جارجیت کا لوگ نشانہ بنتے جا رہے ہیں ، تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلدیاتی اداروں پر اسکا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے، وگرنہ شہر و دیہات میں روزانہ انکی خونچکانی کے واقعات سامنے نہیںآرہے ہوتے۔ خاص کر چھوٹےبچے بُری طرح انکی جارحیت کا شکار ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے والدین بھی بہت پریشان رہتے ہیں مگر انتظامیہ کا ضمیر کب جاگے گا ؟ یہ بتانا مشکل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کتوں کی ہلاکت پر سپریم کورٹ کی طرف سےپابندی عائید ہے تاہم، انکی آبادی کو محدود کرنے کے لئے نسبندی کا  آپشن موجود ہے ، جس کےلئے ملک کی کم و بیش ساری ریاستوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی  سے لیس ضروری انتظامات موجود ہیں۔ وادی میںبھی سرینگرکی میونسپل کارپویشن نے کتوں کی نسبندی کرانے کا ایک جدید ترین مرکز قائم کرنے کا منصوبہ مرتب کیا تھا، لیکن تا ایں دم یہ صرف کاغذات تک ہی محدود ہے اور عملی سطح پہ اس پ

جموں۔۔۔۔۔منشیات کی تباہ کاریاں تشویشناک

 پولیس کی طرف سے منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کے دعوئوں کے بیچ ریاست بھر میں اس کے گراف میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے ۔خاص طور پر جموں صوبہ میں اس کا دھندہ تیزی سے پنپ رہاہے جو تشویش کا باعث ہے ۔سال 2018کے اعدادوشمار کے مطابق ریاست بھر میں منشیات مخالف کارروائیوں کے دوران 20ہزار سے زائد کلو گرام نشہ آور اشیاء برآمد کی گئیں جس دوران 248کلو گرام چرس، 19ہزار کلو گرام فکی، 19کلو گرام برائون شوگر،21کلو گرام ہیروئن،500کلو گرام بھنگ اور119کلو گرام گانجہ برآمد ہوا۔منشیات کے کاروبار میں جموں، کٹھوعہ اور سانبہ سرفہرست ہیں۔اس دوران پولیس کی طرف سے منشیات فروشوں کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت 938معاملات درج کئے گئے ۔پولیس کارروائیوں کے باوجود یہ اعدادوشمار گزشتہ برسوں کے مقابلے زیادہ ہیں۔منشیا ت  نوجوان نسل کی تباہی کا مؤجب بنتی جارہی ہے اوراس وبا ءکی زد میں آکر ریاست کے

تجاوزات کےخلاف مہم جوئی کی ضرورت !

ریاست کا گرمائی دارالحکومت سرینگر جس طوفانی رفتار کے ساتھ پھیل رہا ہے اس کےلئے اُسی سنجیدگی کے ساتھ قواعد وضوابط پر عمل درآمد کی ضرورت ہے،لیکن مجموعی طور پر ایسا دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے کیونکہ شہر کے اندر اور قرب و جوار میں واقع آب گاہیں اور زرعی اراضی اس سے بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے حکمرانوں اور انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی تجاوزارت کے حوالے جس طرح آنکھیں بند کی گئیں ہیں وہ ایک انتہائی افسوسناک معاملہ ہے۔کیونکہ ان بستیوں کو کسی منصوبے سے ماوریٰ ہو کر آباد کیا جاتا ہے، جن میں نہ تو بنیادی شہری سہولیات موجودومیسر ہوتی ہیں اور نہ ہی انکے فروغ کی کوئی گنجائش ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شہر سرینگر کے بے ترتیب پھیلائو میںجہاں آبادی کا اضافہ ذمہ دار ہے وہیں اس کےلئے سرکاری اداروں سے لیکر زمین دلالوں تک ایک یکساں سوچ متحرک ہے۔کیونکہ گزشتہ نصف صدی کے دوران شہر سرینگر میں

محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی کارکردگی مایوس کن

محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی طرف سے گائوں گائوںکو سڑک روابط سے جوڑنے اور ہر سال ہزاروں کلو میٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کے دعوے تو کئے جاتے ہیں لیکن محکمہ کے تحت زیر تعمیر سڑکوں میں سے بیشتر قابل آمدورفت ہی نہیں ہیں ۔زیادہ تر سڑکوں کا یہ حال ہے کہ ان پر کام مکمل نہیں ہوسکا، جس کی وجہ سے آئے روز سڑک حادثات رونماہورہے ہیں ۔ محکمہ کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں چیف انجینئر پی ایم جی ایس وائی کی طرف سے متعلقہ حکام کو زیر تعمیر اور نامکمل سڑکوں پر گاڑیاں نہ چلانے کی ہدایت جاری کی گئی ۔یہ حکمنامہ کیشوان سڑک حادثے کے تناظر میں جاری کیاگیا جس میں 35افراد کی جانیں چلی گئی تھیں ۔اس حکمنامہ کے حوالے سے اگر صرف پہاڑی ضلع رام بن کا جائزہ لیاجائے تو کل 28میں سے 26پی ایم جی ایس وائی سڑکیں نامکمل ہیں اور صرف 2پروجیکٹ ہی ایسے ہیں جنہیں پایۂ تکمیل تک پہنچایاگیاہے ۔ریاست کے دیگ

سر کاری شفا خانے

 سر کاری شفاخانوںکے بارے میں اکثر وبیشتر لوگوں کو شکایتیں رہتی ہیں کہ ان میں مریض دوستانہ فضا پائی جاتی ہے نہ نظم وضبط نام کی کوئی چیز نظرآتی ہے ، ان میں مریضوں اور تیمار داروں کو طرح طرح سے ذہنی کوفتوں کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ ان شکایات کا ازالہ کر نا اگرچہ لازم وملزوم ہے مگر بڑی ناسپاسی ہوگی اگر ہم یہ ناقابل ِتردید حقیقت تسلیم نہ کریں کہ نوے کے دور ِ پُر آشوب کے آغازسے لے کر آج تک سرکاری ہسپتالوں میں تعینات طبی و نیم طبی عملہ جس جانفشانی اور فرض شناسی سے اپنی خدمات پیش کرتا رہا ، اس پر یہ لوگ واقعی آفرین ومرحباکے مستحق ہیں۔ بسااوقات انہوں نے ناگفتہ بہ اور ہنگامی حالات کے متاثرین کی زندگیاں بچانے میں اپنی جان جو کھم میں ڈال کر اپنے پیشے کاتقدس قائم رکھا۔ کشمیر کا شاید ہی کوئی باشعور فرد بشر ہوگا جس نے مشہورومعروف ڈاکٹر عبدالاحد گور و، ڈاکٹرفاروق عشائی اور ڈاکٹر شیخ جلال جیسی عظ

منشیات کی خوفناک وباء۔۔۔سماج کےلئے چیلینج‎

وادیٔ کشمیر میں جس رفتار کے ساتھ منشیات کے استعمال کی وباء پھیل رہی ہے وہ کسی بھی سنجیدہ فکر اور درد دل رکھنے والے شہری کےلئے المناک ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق فی الوقت وادی میں 70ہزار لوگ منشیات کی لت میں مبتلا ء ہوگئے ہیں جن میں 4ہزار سے زائید خواتین بھی شامل ہیں۔ جموںوکشمیر کےسماج میں خواتین کا سماج سازی میں کلیدی رول رہا ہے اور اگر صنف نازک  منشیات کے استعمال میں مبتلاء ہوجائے تو لازمی طور پر آئندہ برسوں میں ایک ایسے سماج کی تشکیل یقینی ہے جو نوع انسانی کےلئے بے بیان مشکلات اور مصائب کا سبب بن سکتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے دنیا بھر میں سیاسی تصادم آرائی سے مخصوص علاقے کسی نہ کسی مرحلہ پر منشیات میں مبتلاء ہو جاتے ہیں اور ایساماضی میںپنجاب میں بھی دیکھنے کو ملا ہے، جہاں اُس وقت مسلح تصادم آرائیاں ہو رہی تھیں اور اُس ریاست میں ایک منظم مافیا تیار ہوگیا، جس کی سرگرمیاں، پولیس کی

شہروں میں ٹریفک کی بدحالی عروج پر!

وادی کشمیر میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ٹریفک کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے اور شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ شاید ہی کوئی ایسا قصبہ ہو جہاں ٹریفک جاموں کا طوفان بدتمیزی لوگوں کے لئے سوہان روح نہ بنا ہوا ہو۔ خاص کر صبح ، بعد دوپہر اور شام کے اوقات میں شاہراہوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی سڑکوں پر بڑی چھوٹی گاڑیوں اور ٹووہیلروںکی طویل قطاریں بعض اوقا ت گھنٹوں تک لوگوں  کے عبور و مرور میں رکاوٹوں کا سبب بنتی ہیں، جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین، تاجروں اور طلبہ کو زبردست ذہنی، روحانی اور جسمانی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس پر طرہ یہ کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزیاں اس پیمانے پر عروج پکڑ چکی ہیں جسکی ماضی میں شاید ہی کوئی مثال موجود ہو۔شہر سرینگر کے بالائی علاقہ میں جہانگیر چوک رام باغ فلائی اوور کی ٹکڑوں میں تکمیل کی وجہ سے اس علاقہ میں ابھی ٹریفک مین کوئی بہتری نہیں آرہی ہے جس کی وجہ سے سول لائنز

آدھار کی بنیاد پر راشن کی فراہمی

سپریم کورٹ کی طرف سے آدھار کارڈ کو لازمی دستاویز قرار نہ دیئے جانے کے باوجود محکمہ خوراک، شہری رسدات وتقسیم کاری کی طرف سے راشن، کھانڈ اور تیل خاکی کی فراہمی کو آدھار کارڈ سے جوڑدیاگیاہے، جس سے بڑی تعداد میں غریب کنبہ جات سرکاری راشن سے محرو م ہوکر بھکمری کاشکار ہوتے جارہے ہیں ۔راشن کارڈوں کو آدھار کارڈ سے منسلک کرنے اور آدھار کی بنیاد پر راشن کی فراہمی محکمہ میںشفافیت کیلئے کوئی برااقدام نہیں ہے لیکن یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ابھی تک سبھی لوگوں کے آدھار کارڈ نہیں بن پائے ہیں جو راشن سے بالکل محروم ہوسکتے ہیں ۔حال ہی میں راجوری کے کوٹرنکہ علاقے کے حکام نے لوگوں کو راشن کارڈ آدھار کارڈ سے منسلک کرنے کی ہدایت جاری کی اور اب ان کنبہ جات کو راشن کی فراہمی روک دی گئی ہے جنہوں نے اپنے آدھار نمبرکا اندراج متعلقہ ڈیلر کے پاس نہیں کروایا۔کئی لوگ اس وجہ سے بھی آدھار اندراج کرانے م

شجرکاری مہم کتنی مؤثر ؟

 ’گرین جموں وکشمیر ‘کے تحت ریاستی گورنرستیہ پال ملک کی طرف سے ایک ہفتہ قبل شجرکاری مہم شروع کی گئی ہے اور جسکے تحت جون 2020تک ریاست بھر میںمختلف اقسام کے 50لاکھ پیڑ پودے اگانے کا ہدف مقرر ہواہے ۔دنیا بھر کی طرح ریاست میں بھی بگڑتے ماحولیاتی توازن کودیکھتے ہوئے ایسی مہم کوقابل سراہنا اقدام سمجھاجاناچاہئے، لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ضرور ت ہے کہ ماضی میں بھی ایسی کئی مہم چلیں اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کی گئی تاہم بدقسمتی سے ان سے کوئی ثمر آور نتائج برآمد نہیں ہوئے اور صرف اور صرف خزانہ عامرہ پر اضافی بوجھ ہی پڑ گیا۔ایسی کسی بھی مہم سے زیادہ اہم اگائے جانے والے پودوں کا تحفظ ہے جس کی طرف آج تک محکمہ جنگلات کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔عام طور پر یہ دیکھاجاتاہے کہ محکمہ جنگلات کی طرف سے ہر سال بارشوں کے دوران بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم چلائی جاتی ہے اورمحکمہ ت

پیشہ وارانہ تعلیم | سنجیدہ اقدامات کرنیکی ضرورت

ریاست میں پیشہ وارانہ تعلیم کو فروغ دینے کیلئے بیشتراضلاع میں پالی ٹیکنک کالجوں کا قیام عمل میں لایاگیاہے جہاں پچھلے کئی برسوں سے مختلف کورسز کی تعلیم دی بھی جاری ہے تاہم یہ اہم ادارے بنیادی ڈھانچے اورتدریسی عملے کی عدم دستیابی کے باعث برائے نام بن کررہ گئے ہیں ۔ہر سال بورڈ آف پروفیشنل ایگزامی نیشن کی طرف سے ڈپلومہ اور ڈگری کورسز کیلئے انٹرنس ٹیسٹ منعقد کیاجاتاہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلباء منتخب ہوتے ہیں ۔اس بار بھی ڈپلومہ کورسز کیلئے منعقد ہونیوالے انٹرنس ٹیسٹ میں ڈھائی ہزار سے زائد طلاب کا انتخاب کیاگیا جن میں سے بیشتر نے کونسلنگ کے بعدمختلف پیشہ وارانہ کورسز میں داخلے بھی لئے ہیں۔پالی ٹیکنک کالجز میں داخلہ لینے والے طلاب کو ایک نہیںبلکہ کئی طرح کی مشکلا ت کاسامناکرناپڑتاہے ۔ بیشتر کالجوں میں نہ تو انہیں ہوسٹل کی سہولت ملتی ہے اور نہ ہی مناسب تعداد میں تدریسی عملہ تعینات ہوتاہ

کو رپشن ایک مہلک ناسور!

  ریاستی گورنر ستیہ پال ملک پہلے دن سے کورپشن کو ریاست کاسب سے بڑا سنگین مسئلہ بتلا کر دُکھتی رگ پر انگلی رکھتے چلے آئے ہیں۔ انہوں نے بارہا اس نا سور کو ختم کر نے کا اپنا عزم بالجزم باندھا جس کا سنجیدہ اور مخلص لوگ ہمیشہ سراہنا کرتے ہیں۔ اب زمانے کی نگاہیں بڑی بے صبری کے ساتھ منتظر ہیں کہ کن گورنر اپنے اس نیک عزم کو مکمل طور عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ لوگ باگ چاہتے ہیں کہ بدعنوان عناصر کا یوم ِ حساب آنا چاہیے ۔ اس میں کوئی رتی بھر بھی شک نہیں کہ ریاست میں بد عنوانیوں کا گھنا جنگل پھل پھول رہاہے مگر یہ جنگل کسی آسمان سے نہیں اُترا بلکہ اسی سرزمین میں پہلے  خود غرضانہ سیاست نے اس کی تخم ریزی کی ، افسر شاہی نے اس کی آب پاشی کی ، سیاسی کلچر نے اس کو سر سبز وشاداب رکھا اور اب یہ اپنے کڑوے کسیلے پھل پورے سماج کی جھولی میں ڈالتا جارہاہے ۔ سچ مچ کورپشن کے سمندر میں جن

مریضوں کو درپیش مشکلات ۔ ۔۔۔ ازالہ کرنے کی ضرورت!

 ریاست میں براجمان حکومتیں اگر چہ وقت وقت پر شعبہ ٔ صحت میں نت نئی اسکیمیں اور پروگرام متعارف کراکے یہ عندیہ دیتی رہی ہیں کہ جموںوکشمیر میں سرکاری سطح پر صحت کی نگہداشت اور علاج و معالجہ کی بھر پور سہولیات میسر ہیں، لیکن زمینی سطح کی حالت کو دیکھتے ہوئے انتہائی مایوس کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز خطوں اور پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ہسپتالوں اور طبی مراکز پرضروری سہولیات کا فقدان عام باتیں ہیں لیکن حیرت کا مقام ہے کہ سرینگر کے ہسپتالوں میںبھی  ضروری ادویات کی قلت کے بہ سبب مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ یہ ایک واشگاف حقیقت ہے کہ ان ہسپتالوں میں صرف صوبہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے آنےو الے مریضوں کا ہی دبائو نہیں ہوتا بلکہ خطہ پیر پنچال کے بیشتر علاقوں کے مریض بھی ضروری علاج معالجہ کےلئے سرینگر کے ہی ہسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر سے