ٹریفک جاموں کی مصیبت

شہر سرینگر میں ٹریفک جاموں کی شدت اپنی عروج کو پہنچتی جارہی ہے اور روزانہ اہم مقامات پر طویل ٹریفک جاموں کے بہ سبب لوگوں کے قیمتی اوقات کا ضیاع عمل میں آر ہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بے تحاشہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس کی متعد وجوہات ہیں۔ پبلک سیکٹر ٹرانسپوٹ کے تئیں ہماری حکومتوں کی منفی پالیساں جہاں اس کا ایک بڑا سبب ہے وہیں بدلتے سماج میں اُبھرنے والی نئی اقدار سے ہم آہنگی کا مزاج بھی ایک اہم سبب ہے، جس کےلئے گاڑیاں تیار کرنے والے ٹرانسپورٹ اور اُن کے حصول کےلئے قرضے فراہم کرنے والے بینکنگ سیکٹروں سے جڑے شعبوں کی ہمہ پہلو پالیساں راہ ہموار کررہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ مزاج اس وقت ساری دنیا میں روبہ فروغ ہے لیکن وہاں ٹریفک کے بڑھتے دبائو کے ساتھ ساتھ قوانین اورقواعدو ضوابط کے حوالے سے عوام کے اندر حساسیت بھی اُجاگر ہ