تازہ ترین

انسانی زندگی کی قدر وقیمت نہیں ؟

ہمارے نیتا لوگ یہ خوش گفتاریاں کر تے ہیں کہ کشمیر کو جنت بنا کر ہی دَم لیں گے مگر جس’’ جنت‘‘ میںآوارہ کتوں کو انسانوں پر فوقیت ملتی ہو ، وہ بھلا قابل ستائس چھوڑیئے قابل رہائش کہلاسکتی ہے؟ یہ ایک انتہائی افسوس ناک حقیقت ہے کہ گزشتہ اٹھائیس سال سے مسلسل شہر ودیہات میں آوارہ کتوں کی آبادی بلاروک ٹوک بڑھ رہی ہے اور حکام  کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس مسئلے کا حل نکالنے میں ناکامی کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ آئے روز آوارہ کتے شہر یوں کو نوچ کھاکر واضح کرتے ہیں کہ کشمیر میں شاید سگ باش انسان مباش کا اصول اپنایا جارہاہے۔ سگ گزیدگی کا ہر واقعہ یک کالمی اخباری خبر کی جگہ ضرو رلیتا ہے مگر ایسے واقعات کا موثرا نسداد ہو اس کے لئے اصلاحِ احوال کا کو ئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ باوجود یکہ بازاری کتوں کے مسئلہ پر آج تک اتنی خامہ فرسائیاں کرنے اور کاغذ کے انبارا ور سی