تازہ ترین

گرتو برانہ مانے!

سپریم کورٹ نے اپنے ایک تازہ فیصلے میں غیر ازدواجی تعلقات کو قابل تعزیر نہیں مانتے ہوئے ہندوستانی قانون کی ۷۵ سال پرانی شق کو مسترد کر دیا ہے ۔اس فیصلے کے مطابق ایوان عدل نے شادی شدہ ہونے کے باوجود ناجائز تعلقات قائم کرنے والوں کو ناجائز تعلقات قائم کرنے کے لئے فری کردیا ہے ،یعنی اب کوئی بھی شادی شدہ عورت بے چون و چرا کسی بھی غیرمرد کی آغوش میں جا سکتی ہے ۔ہم ملکی عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن ایوان عدل کے فاضل جج صاحبان سے بصد ادب و احترام سوال کرتے ہیں کہ ہم کس دیش کے باسی ہیں اور کس تہذیب کو مانتے ہیں ؟مشرق کو یا مغرب کو ؟ سبھی جانتے ہیں کہ ہماراپیارا ملک کثیر المذاہب ہے ، یہاں ہندو مسلم برادران مل جل کر رہتے ہیں ،مل جل کر تیوہار مناتے ہیں۔اسلام میں تو ایسے تعلقات حرام ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے سے جنسی جرائم اور نہیں بڑھیں گے ؟ بے شرمی بے حیائی اور بے غیرتی کیا پہلے کم تھی ک

معاشرے میں مدرس کا کردار

 اس میںکوئی شک نہیں ایک مدرس سماج میں اعلیٰ مقام و مرتبہ رکھتا ہے ۔وہ سماج کے لئے ایک آئینہ ہے جسے دیکھ کر لوگ اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔استا د ہی وہ شخصیت ہے جو ہر انسان کو تاریکی سے نکال کر اجالے کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔استادکو باوقار بننے کے لئے اپنے کردار کو سلامت رکھنا پڑے گا۔چاروں اطراف سے یہ صدائیں آرہی ہیںکہ استاد ڈیوٹی نہیں دیتا ، استاد پڑھاتا نہیں، استاد اپنے طلباء کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں،استاد محنتی نہیں ہیں، استاد  مڈ ڈے میل  Mid Day Mealکھاتے ہیں،استاد اپنے شاگردوں کے ساتھ غلط تعلقا ت رکھتے ہیں۔اور کہیں جگہوں میں ایسی وارداتیں رونما ہوئیں جن کی وجہ سے ایک استاد پر کالا داغ لگا۔اگر تالاب میں ایک مچھلی گندی ہو تو ساری مچھلیاں بدنام ہو جاتی ہیں۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے کہ اگر ایک مچھلی گندی ہو تو اسے باہر نکال دیا جائے۔ بلکہ ہم سب اساتذہ

رہبر تعلیم استاد کا محنتانہ یا مذاق!

 محکمہ تعلیم میں تعینات ایس ایس اے رہبر تعلیم اساتذہ جن کو تین ماہ کے بعد ایک ماہ کی تنخواہ کئی بار کی گذارشات اور ریاست گیر احتجاجی کال کے بعد واگذار ہوئی ۔ شوکت احمد جو کہ پیشے سے رہبر تعلیم استاد ہے حسب معمول کلاس میں پڑھا رہا تھا کہ اسی دوران ساڑے تین بجے کے قریب اس کے موبائل میں وائبریشن ہوئی ۔کلاس ختم کر نے کے بعد جو وہ کلاس سے باہر آئے اور موبائل فون چیک کیا اس پر اْسے بنک کی طرف سے مسیج آیا ہوا تھا کہ آپ کے کھاتے میں پیسے جمع ہوئے ہیں ۔شوکت احمد کے چہرے پر تھوڑی رونق سی آگئی اور اس کے آنکھوں میں وہ تمام دوکانداروں آئے جنہیں اس کو پیسہ دینا تھا جس میں اشیائے خوردنی سے لیکر سبزی پھل دودھ والا اور دوائی والا شامل تھا۔ شوکت احمد جب سکول سے چار بجے فارغ ہوا تو اس نے سیدھا اپنا رخ بنک کے اے ٹی ایم کی طرف کیا جہاں پر صارفین کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی اور وہ بھی پیسے نکال

امداد باہمی

 معزز قارئین! انسان کبھی کبھار تعجب میں پڑ جاتا ہے جب وہ دیکھتاہے کہ خوش نصیب لوگ وہ کام کر جاتے ہیں جو ظاہر بین نظروں میں ان کی حداستطاعت سے بعیدہوتاہے لیکن جب انسان اپنا عزم وہمت سے کچھ اچھا کر نے کا من بنا لیتا ہے اور خلوص نیت سے اندر کے انسان کو سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ نیک کام مجھ سے بھی ہوسکتا ہے، میں بھی معاشرتی فلاح و بہبود میں شریک ہوسکتا ہوں، مجھ سے بھی مفلوک الحال عوام کابھلا ہوسکتا ہے ، میں بھی کسی کے درد کا درماں ہوسکتا ہوں،میںبھی کسی ایک بے سہارا بچےکی پڑھائی لکھائی کا خرچہ اُٹھا سکتا ہوں تاکہ اُ س کی زندگی سنور جائے ، تو اللہ اس کے لئے راہیں کھول دیتا ہے ۔یہ سارے نیک جذبات اگر آپ کے قلب و ذہن میں جاگزیں ہیں تو سمجھنا چاہیے کہ آپ کے اندر ضمیر ابھی زندہ ہے جو آپ کو خوابِ غفلت سے اُٹھا کر رفاعِ عامہ کے کاموں میں لگنے کا اشارہ دے رہا ہے۔ ـ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ک

غیرت مرگئی ہے !

 جس قوم میں غیرت اور حیا کا خاتمہ ہو جائے وہ قوم کبھی اصل معنوں میں کامیاب نہیں کہلا سکتی، اگرچہ وہ کتنی بھی مالی خوش حالی اور جسمانی تنومندی ر کھتی ہو۔ بے غیرتی اور بے حیائی انسانی معاشرے کے لئے سم قاتل سے کم نہیں ہوتی۔ جس معاشرے کے مرد وزن اس بیماری کا بر وقت تدارک نہ کریں وہ دیر سویر تباہی کے دہانے پر پہنچ کر رہ جاتے۔ یہ بات اصولاً طے ہے کہ اس نوع کی تباہی انسان کی خود کی کمائی ہوتی ہے ۔ کشمیر میں مصائب و مظالم کے بیچ بے حیائی اور بے غیر تی کا بھی دور دورہ  ہورہاہے ۔ حیا سوزی اور غیرت سے تہی دامن ہو کر ہمارا انفردای واجتماعی کردار کتنا بے ڈھب اور بد نما ،اس کا ذکر کرنے سے قلم بھی تھرا اُٹھتا ہے ۔ بے غیرتی و بے مروتی کے گدلے سمند رمیں ڈوب کر ہم کہاں پہنچے ہوئے ہیں اور ہمارا مستقبل ان حوالوں سے کتنا تاریک ہے،اس کے لئے راقم الحروف اپنے صرف ایک روز مرہ تجربے کا  ذکر کر نا

جموں کشمیر کا سیاسی بحران

 جموں کشمیر میں قریب تین سال گٹھ بندھن سرکار میں رہنے کے بعد بی جے پی نے اچانک حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کیا، جس کے بعد محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا اور صدر جمہوریہ ہند کی منظوری ملتے ہی جموں کشمیر میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ بی جے پی کے اِس یک لخت فیصلہ پر تعجب نہیں ہوا کیونکہ پی ڈی پی اور بی جے پی اتحاد والی حکومت جب سے بنی ہے تب سےدونوں جماعتوں کے لیڈروں میں ٹکراؤ ہی دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ محبوبہ مفتی کا وزارت داخلہ کی طرف سے جموں کشمیر میں نافذ العمل افسپا (AFSPA) اور دیگر کالے قوانین کو ہٹانے کی مانگ کرنا، پی ڈی پی کا حریت پسند لوگوں سے بات چیت کا وعدہ کرنا اور جی ایس ٹی کے نفاذ پر بھی یہ ٹکراؤ صاف نظر آ تا رہا۔ اُس پر غضب یہ کہ پولیس، فورسز اور فوج ریاستی حکومت کے ذریعے نہیں بلکہ مرکز کے ذریعہ کنٹرول کی جاتی رہی ہیں۔ یہی تضاد بی جے پی او

شینا زبان

 جموںو کشمیر کے آئین میں شامل زبانوں میں ایک زبان شینا بھی ہے ۔ یوں تو یہ زبان جموںو کشمیر کے آئین میں دردی کے نام سے درج ہے، شینا زبان بولنے والوں کی سب سے بڑی آبادی پاکستان کے شمالی علاقہ جات یعنی گلگت اور اس کے گردو نواح میں آباد ہے۔اس علاقے کو باہر والے دردستان کے نام سے جانتے ہیں اور یہاں کے رہنے والوں کو درد اور یہاں کی زبان کو دردی کہا جاتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اس بات کو آج تک سمجھ نہیں پائے کہ انہیں درد اور اُن کی زبان کو دردی کیوں کہا جاتا ہے۔یہ لوگ اپنے بودوباش کے علاقے کو’ ’شناکی‘ ‘اپنی زبان کو شینا اور خود کو شین کہتے ہیں ۔یہاں سے مختلف ادوار میں لوگ ہجرت کرتے کرتے ریاست جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں ان کی زبان کو آئینی حیثیت حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسے وہ تمام حقوق مل گئے جو آئ

دیہی علاقوں میں اسکولوں کا کوئی پرسان حال نہیں

ریاست جموں وکشمیر کی سرکارجہاں آئے دن محکمہ تعلیم کے لیے نت نئی سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ کررہی ہے وہیں تعلیمی نظام دن بدن خستہ ہوتاجارہا ہے۔تمام تر اسکیمیں سرکاری دفاتر میں کاغذوں تک محدود ہیں۔زمینی سطح پر کوئی بھی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔شہروں میں اگرچہ کہیں نہ کہیں اساتذہ حاضری دینے پر مجبور ہیں اور اسکولوں میں تھوڑی بہت سہولیات بھی میسر ہیں لیکن دیہی علاقوں میں تعلیمی نظام کی حالت زار اور ابتری کا رونا ہر فرد رورہاہے۔ اسکول تعلیمی سہولیات بلکہ بیت الخلاء اور نل سے محروم ہیں۔سرکاران کی طرف بالکل توجہ نہیں دے رہی ہے۔بیشتر اسکول پچھلی ایک دہائی سے زیر تعمیر ہیں اور زیادہ تر پایہ تکمیل تک پہنچنے سے قبل ہی زیر خاک ہو چکے ہیں۔بچوں کے بیٹھنے کے لیے کوئی بندوبست نہیں ہے اور اساتذہ کو نا خوشگوار موسم کی صورت میں اسکول بند رکھنے کا بہانہ ملتا ہے۔تیز دھوپ میں جہاں ہمارے ننھے پھول دھول چھا

محمد علی جناح کی تصویر کا کیا قصور؟

 ٹیپو سلطان، اورنگ زیب عالمگیر اورمسٹر محمد علی جناح کو ہندوستان کی فرقہ پرستانہ تاریخ میں ہمیشہ منفی انداز میں یاد کیا جاتاہے ۔ اس لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح صاحب کی اسی سال تصویر پر پنگا لینا سنگھ پریوار کے لئے ایک نیا اشو ہے اور اس پر اعتدال نواز قوتوں اور انسانیت کے بہی خواہوں کو سٹپٹانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ حق یہ ہے کہ بانیٔ پاکستان کی تصویر علی گڑھ یونیورسٹی میںدیگر لیڈروں اور شخصیات کے ہمراہ بہ حیثیت لائف ممبر آٹھ دہائیوں سے آویزاں ہے ۔آج اگر بھگوا مہاپُرشوں کو یہ بُرا لگے اور وہ ہلڑ بازی پر اُتر آئیں تو اس پر کسی کو حیرانگی نہیں ہونی چاہیے  کیونکہ تاریخ کا بے عیب سچ یہ ہے کہ انہی متعصب عناصر نے بہ حیثیت متشدد فرقہ پرست قوت عوام کے اندر مذہب اور ذات پات کے نام پر زہر گھول دیا اور پھرسہانے سپنے دکھاکر جب یہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ گئے تو آمریت پسند ی کی حدی

وزیر اعظم پاکستان کے نام

      محترم ومکرم شاہدخاقان عباسی صاحب السلام علیکم   پچھلے قومی انتخابات سے پہلے جماعت مسلم لیگ (ن) کے اُس وقت کے صدر میاں نواز شریف صاحب نے امریکہ میں چھپاسی برس قید کاٹ رہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بچوں اور ان کی والدہ عصمت صدیقی سے ملاقات کر کے وعدہ دیاتھا کہ میں عافیہ کو واپس لے کر رہوں گا۔انہوں نے متعدد بار عوام کے سامنے بھی اعلان کیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی قوم کی بیٹی ہیں، وزیر اعظم بننے کے بعد قوم کی بیٹی کو وطن واپس لے آؤں گا مگر افسوس کہ وزیر اعظم بنتے ہی میاں صاحب اپنے تمام وعدے مواعید بھول گئے۔آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ امریکا کے سابق صدر باراک حسین اوبامہ نے وائٹ ہاوس سے رخصت ہوتے ہوئے بہت سارے قیدیوں کو رہا کیا ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا پروانہ بھی جاری ہوسکتا تھا لیکن اس کے لیے صدر مملکت یا وزیر اعظم پاکستان کا ایک سفارشی خط درکار تھا جسے

ٹرمپ جنونیت کا مجسمہ

اسرائیل دنیا کا ایک ایسا متنازعہ یہودی اکثریت والا ملک ہے جو انگریزوں کی عیاری ومکاری سے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت فلسطین کو تقسیم کرکے معرض وجود میں لایاگیا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعددسمبر 1917 کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کرکے یہودیوں کو یہاں آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔یہود و نصاریٰ کی رچائی گئی بدترین سازش کے تحت نومبر 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی کر کے یروشلم کو فلسطین اور عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کردیا۔ جب 14 مئی 1948  میں یہودیوں نے اسرائیل کے قیام عمل میں لایا تو پہلی عرب - اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل اپنے طاقت کے بل بوتے اور امریکیوں کے سپورٹ سے تقریباً 78 فی صد فلسطینی رقبے پر قابض ہوگیا۔تیسری عرب - اسرائیل جنگ جون 1967 میں ہوئی اور اسرائیل ظلم، جارحیت اور استبداد سے بیت المقدس پر مسلط ہوا۔یو

کمزور طلبہ کیوں ٹھکرائیں؟

 ہاتھ میں ایک بھاری بھر کم کلہاڑی لئے ،تھکی ماندی معصومیت ، میلے کچیلے کپڑے زیب ِتن ، پسینے میں شرابور بدن نوجوان لڑکابہ مشکل سترہ اٹھارہ سال عمرکا ہوگا ۔میں اس کے قریب سے گزرا تو ا س کاحال چال پوچھا تو بتایا یہ عالی شان مکان میرے چاچا کا ہے، جناب ان کی لکڑی پھاڑ رہا ہوں ، انہی کے گھر کا کام کاج کرکے زندگی گزرتی ہے۔ پریوار کے متعلق پوچھا تو بتایا والدین کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔پڑھائی لکھائی کاسوال کیا تو بتایا چاچا جی نے اسکول ضرور بھیجا تھا لیکن میں پڑھائی میں بہت کمزور تھا بس پاس بھر ہوتا اور کسی طرح آٹھویں تک پڑھا ،پھر سکول چھوڑ دیا ۔میں نے پوچھا چاچاجی نے تعلیم چھڑوادی ؟ بتانے لگا نہیں صاحب ایسا نہیں ہے، وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔ اُنہوں نے پڑھانے کی بہت کوشش کی غلطی میری تھی ۔  میرا اگلا سوال تھاکیا تعلیم کیوں چھوڑی ؟ اس نے اصل کہانی شروع کی جسے سن کر میں بہت دکھی ہ

ایک سبق آموز واقعہ

ایک دفعہ حضرت جلال الدین تبریزی رحمتہ اللہ علیہ بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ سے ملنے آئے۔ آپ کو معلوم نہ تھا کہ یہ بزرگ ہستی کون ہیں ،آپ احتراما کھڑے ہوگئے۔ حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے نہایت مشفقانہ لہجے میں فرمایا :’’بیٹھ جائو فرزند! اور اپنا کام جاری رکھو‘‘حضرت بابا فرید رحمتہ االلہ علیہ حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ کے حکم سے مسجد کے فرش پر بیٹھ گئے مگر کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا۔ آپ کچھ عجیب سے اضطراب میں مبتلا تھے۔ نتیجتاً دوبارہ کھڑے ہوگئے۔ حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کا سبب پوچھا تو عرض کرنے لگے ’’آپ کی موجودگی میں بیٹھتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے‘‘حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اللہ علیہ بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کا جواب سن کر بہت مسرور ہوئے اور پھر آپ نے ایک انار نکال کر نوجوان طالب علم کودیا اور فرمایا :’’بچے اسے رکھ لو&

پنشنروں کے مسائل

   حال ہی میں وسطی ضلع بڈگام میں سٹیٹ پنشنروں کا ایک اہم اجلاس ہو ا جس میں اس طبقے کے مسائل پر سیر حاصل گفت وشنید ہوئی۔ اجلاس معروف ٹریڈ یونین لیڈر سمپت پرکاش نے وظیفہ یاب سرکاری ملازمین کے مسائل اُجاگر کئے اور ارباب ِبسط وکشاد سے مودبانہ اپیل کی کہ وہ ان روز مرہ مسائل کا حل نظر انداز کر نے سے گریز کریں۔ اجلاس میں وزیرخزانہ حسیب درابو بھی بہ نفس نفیس موجود تھے۔انہوں نے بطور سابق ملازمین ِ سرکار پنشنروں کی خدمات کا اعتراف بھی کیاا ور ان کی تعظیم وتکریم کا فرض بھی سب کویاد دلایا۔ ا س موقع پر انہوں نے پنشنروں کے حق میں ا گلے مالی سال سے صحت بیمہ رائج کئے جانے کا خوش کن اعلان بھی کیا ۔ حکومت کی طرف سے یہ ایک مبارک اعلان ہے، بالخصوص یہ فیصلہ کہ بیمہ یوجناکا پریمٔم خود حکومت بھرا کر ے گی، یہ پنشنروں کے سکونِ قلب کے لئے بہت ہی اچھا پیغام ہے۔  حکومت کی طرف سے یہ اقدام پنشنروں کے

ماسٹرجی!

 ایک عرصہ سے وہ محکمہ تعلیم میں بحیثیت ایک مدرس تعینات ہوا تھا ۔ دوردور تک شجاعت اور جرأت گفتار کے علاوہ ایک فرض شناس اور وسیع المطالعہ وہمدرد مدرس کی حیثیت سے جانا ماناجاتا تھا۔ ماسٹر جی کے ہر دل عزیز نام سے پکارا جانے وال یہ فرشتہ خصلت انسان ساتھ ہی ساتھ خیرو بھلائی کے کاموں میں بھی پہل کرتا۔ زندگی کے شب و روز میں اسلامی عقائد و نظریات کو ترویج دینا اور ان کے لئے جینا مرنا اس کی تمنا تھی ۔ اپنی شستہ زبان اور دلنشین بیان سے وہ حریفوں کے دل بھی جیت لیتا تھا ۔ نہ جانے باطل کے پرستار ماسٹر جی کے خلاف آمادہ ٔ شر کیوں ہوگئے ۔ ایک دن گاؤں کے دوسرے شریف لوگوں کی طرح اُسے بھی نزدیکی فوجی کیمپ سے حاضری کا بلاواآیا۔ حکم کی تعمیل میں اس بے باک اور سچے محب وطن شخص نے فوجی چھاونی میںقدم رکھا ۔ بے شک اس کے ذہن میں طرح طرح کے خدشات اورو سوسے تھے۔چھاؤنی کے درو دیوار  دیکھتے ہی انسان پر

مرحوم محمد اسمٰعیل بٹ

مرحوم محمد اسمٰعیل بٹ محتاج تعارف نہیں۔انہوں نے دعوتِ دین اور اصلاحی امور کے محاذ پر جو کارہائے نمایاں انجام دئے ان کا ہر کس ناکس کو اعتراف ہے ۔مرحوم نے بحیثیت ایک ماہر تعلیم ،داعیٔ اسلام اورسماجی اصلاح کار کے طور ایسی گراں قدر خدمات انجام دیں جن کا تاریخ دعوت وعزیمت میں ہمیشہ سنہرے حروف سے ذکر ہوگا۔ان کی شخصیت میں بلند اوصاف کی شرینی ان کی مسکراہٹوں میں دل نوازی ،اُن کی تحریر وتقریر میں خلوص کی گرمی ،ان کی جلوت و خلوت میں خدا خوفی اور انسان دوستی جیسی اوصاف اس طرح گندھی ہوئی تھیں کہ آج بھی ان کے جاننے والے مرحوم کو اشک بار دعائوں سے یاد کرتے ہیں۔بظاہر وہ ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کی دینی فکر اور تحریکی خدمات آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔با لخصوص ان داعیان دین کے واسطے جو سرزمین کشمیر میںخلق خدا کو ہدایت وفلاح کے پُرامن راستے پر گامزن کرنے میں پیش پیش ہیں۔ مرحومحمد اسمٰعیل

اچھی تعلیم سے عمدہ کردار بنے

اکثر لوگ جب اپنے بچوں کی تعلیم اور کیر ئرکے بارے میں یہ خواب دیکھتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر کامیاب شخص ثابت ہوں اور یہ کہ وہ اخلاقی لحاظ سے بھی اعلیٰ کردار کے مالک شہری ہوں ۔اس ضمن میں جب ہم عصری درسگاہوں کی جانب ہماری نظریں دوڑاتے ہیں تو ہمارا مشاہدہ کہتا ہے کہ یہاں بارہ سے پندرہ سال کے ایک طویل تعلیمی سلسلے کے بعد بھی اکثربچے اخلاقی وتربیتی لحاظ سے کا فی پسماندہ ہوتے ہیں۔ اس کے مدمقابل مدارس کے طلباء اخلاقی تربیت کے میدان میں کافی سرگرم نظر آتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ سماج کا ایک بڑا طبقہ مدارس کے طلباء کو عصری علوم سے نابلد قرار دیتا ہے جو کہ قطعی حقیقت نہیں ہے بلکہ اس کی منفی سوچ کا غمازہے۔ اس غلط سوچ کا خاتمہ کرنے میں سب سے بڑی ذمہ داری ان حضرات پر بھی آتی ہے جو ان اداروں کو چلاتے ہیں ۔اس منفی سوچ کے پیچھے مذہبی علوم سے بہت دوری ہونابھی ایک اہم وجہ ہے ۔ شایداقبال نے اسی لئے ک

جہلم۔۔۔کھدائی کھٹائی میں

2014ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد حکومت جموں و کشمیر نے دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ کئی چھوٹے بڑے ندی نالوں کی کھدائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ چنانچہ ا س کام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے 2015ء میں مرکز نے فنڈس واگذار کئے اورکافی زور وشور کے ساتھ کام بھی شروع کیا گیا مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ تین سال گذرنے کے بعد بھی یہ کام نا مکمل ہے ۔ان تین برسوں میںاگرچہ چند جگہوں پرکھدائی کا کام  پورا کرلیا گیا ہے تاہم بدقسمتی سے بیشتر جگہیں ایسی ہیں جو اس حوالے سے مکمل طور پر عدم دلچسپی کی شکار ہیں،جہاں پر ابھی تک متعلقہ حکام نے ہاتھ تک نہیں لگایا گیا ہے ۔اس سے یہ شبہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ کھدائی کا کام کھٹائی میں ڈال دیا گیا ہے ،خاص طور سنگھم پُل سے بجبہاڑہ تک دریائے جہلم کاسارا مشرقی کنارہ مکمل طور پس پشت ڈالا گیا ہے ۔حالانکہ اس کنارے پر بیشتر آبادی رہائش پذیر ہے جو پچھلے تین برسوں سے جہلم اور اس س

سوشل میڈیا ۔۔۔ جائز استعمال کریں

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کی وساطت سے جدیددور میں ایک عام انسان اپنے خیالات و،تصورات اور ضروری معلومات دوسروں سے شیئر کرتاہے۔سماجی برائیوں کا حل ڈھونڈنا ،اپنے اندر چھپے ٹیلنٹ کو اُبھارنا ، کسی محتاج کی ومریض کی مدد کرنا وغیرہ سوشل میڈیا کا خاصا بن رہاہے ۔آج کے مسابقتی زمانے میں سوشل میڈیا کاایک اہم رول ہے ،ہمیں گھر بیٹھے ایسا کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جو ہمارے لئے بہت معنی رکھتا ہے، مثلاًدنیا بھر کی خبریں ، کس ملک نے کیا نئی ایجاد کی،کس ملک نے کون سا نیا تجربہ کیا،اپنے ملک کی ہر قسم کی جانکاری ، ا پنے دور دور کے رشتہ دارو اور دوستوں کے ساتھ رابطہ وغیرہ بھی سوشل میڈیا کامرہون ِ منت ہے۔ اس نے پوری دنیا کو ایک گاؤں اور ایک ہی کنبے میںمیں تبدیل کیا ہے لیکن بد قسمتی سے دنیا میں اس میڈیاکا غلط استعمال بھی ہو رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے معاشرے کو خراب کر کے رکھ دیا لیکن سوچنے وا

آدھار کارڈ پر زندگی کا دارو مدار ہے؟

دسمبر ۲۰۱۲ء میں دلی میں گینگ ریپ ہوا تھاجس نے زنا بالجبر کے معاملے میں پورے ملک کو ہلا دیا تھا ۔حکومت بھی ہلی تھی اور اس نے حسب معمول سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج محترم جے ایس ورما کی سربراہی میں اس قسم کے جرائم کے تدارک کے لئے ایک کمیٹی بنا دی تھی آزادی کے بعد سے ہماری حکومتوں کا یہ وتیرہ ہے کہ وہ بندر کی بلا طویلے کے سر ڈالنے کے لئے ایک کمیٹی بنا دیتی ہے ۔اس سے ہوتا یہ ہے کہ بہت سے بے کار لوگ باکار ہو جاتے ہیں ،عوام بھی خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمارے ہلنے کا بلکہ ہلانے کا کچھ تو نتیجہ نکلا۔اتنا بھی نہ نکلتا تو ہم کیا کرلیتے۔۔خیر۔مگر آنریبل جسٹس ورما کی اس کمیٹی نے جو خود بھی ہلی ہوئی تھی، بڑی سنجیدگی کے ساتھ زانیوں کے خلاف سخت قوانین ملک کو دئے تھے۔مثلاً یہ کہ اگر کوئی مرد کسی عورت کے پیچھے چل رہا ہے تو عورت اس مرد پر یہ الزام لگا سکتی ہے کہ مرد بری نیت سے اس کا  پیچھاکر رہا ہے

تازہ ترین